45 - سورة الجاثیۃ (مکیہ)

رکوع - 4 آیات - 37

مضمون: توحید و آخرت کے دلائل دیے جاچکے ۔قریش یا ان کے مشیر، یہود ان دلائل کو نہیں سمجھیں گے تو پھر فیصلہ قیامت کےروزہی ہوگا۔ (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی  مضمون :  العزیز  الحکیم ہستی  نے ایک  مقصد  کے تحت   کائنات   کی تخلیق   کی ہے  ، جس  کی وضاحت   کیلئے  قرآنی دلائل  پیش  کئے  جا رہے  ہیں  ان کا مذاق  اڑانے  کے بجائے  ، توحید  و آخرت  پر ایمان  لانا  چاہئے   اور  دنیا پرستی  سے بچنا چاہئے ۔

نام:اس سورۃ  کا  نام  آیت  نمبر  28  سے  لیا گیا  ہے  ، جہاں  ارشاد  فرمایا  " وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً  "    (  اس  وقت  تم ہر   گروہ   کو  گھٹنوں  کے بل  گرا دیکھو گے)۔

شان نزول: یہ سورۃ  ، سورۃ   الدخان  کے بعد  رسول اللہ  ؐ کے قیام  مکہ  کے تیسرے  دور  ( 6 تا 10  سن نبوی )  میں  غالبا   7 سن  نبوی  میں نازل  ہوئی  ۔ سابقہ  سورتوں  کی طرح   اس میں بھی   مکہ  کے   مخالفانہ   ماحول   میں پیش   آمدہ   مشکلات   اور ان سے عہدہ  بر آ ہونے   کیلئے   ضروری  لوازمات  کا تذکرہ   کیا گیا  ہے  ۔ آغاز  میں اللہ  کی نشانیاں  بیا ن  کی گئی  ہیں  پھر   ان متکبرین   کا ذکر  کیا گیا ہے   جو اللہ کی آیات   کو  سن کر   پورے  استکبار  کے ساتھ  اپنے  کفر  پر ڈٹے  رہنے   کا فیصلہ  کرتے  ہیں ۔

نظم کلام: سورۃ سبا

ترتیب  مطالعہ   و اہم مضامین:(1 )   ر-  1  (  اللہ  کی  آیتوں  پر ایمان  نہ لانے  پر  دردناک  عذاب  )  (2 )  ر- 2   ( توحید    کے  بعض  دلائل  او رشریعت    الٰہیہ  کا اتباع  )  (3 )  ر- 3  ( خواہشات  کی  پیروی  کا انجام )     (4 ) ر – 4 ( استہزا کرنے والوں  کا انجام  )  


پہلا رکوع

حٰمٓۚ  ﴿1﴾ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ﴿2﴾ اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ  ﴿3﴾ وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ  ﴿4﴾ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿5﴾ تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ ﴿6﴾ وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ  ﴿7﴾ یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿8﴾ وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ  ﴿9﴾ مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ  ﴿10﴾ هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠   ۧ ۧ ﴿11ع الجاثية 45﴾
1. حٰم۔ 2. اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے۔ 3. بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ 4. اور تمہاری پیدائش میں بھی۔ اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ 5. اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہٴ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ 6. یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ تو یہ خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ 7. ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے۔ 8. (کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن تو لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ 9. اور جب ہماری کچھ آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اُڑاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ 10. ان کے سامنے دوزخ ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے۔ اور نہ وہی (کام آئیں گے) جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ 11. یہ ہدایت (کی کتاب) ہے۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا۔

تفسیر آیات

2۔ سوررۃ  الاحقاف  کا جوڑ  ا  -دونوں کی پہلی   دو آیات   ایک جیسی۔۔۔۔۔   سورۃ  بقرہ  کی آیت  الآیات    ( 164 ) -  یہاں(آیات:  4 -5  اور  12 -13 ) (بیان القرآن )

ـــ لفظ تنزیل  میں  تدریج   و  اہتمام  کا مفہوم  پایا  جاتا ہے  اور نزول  قرآن  میں تدرریج  بھی  ہے  اور اہتمام  بھی ۔( تدبرقرآن)

3۔۔۔۔پھر یہ جو فرمایا کہ " یہ نشانیاں ایمان لانے والوں کے لیے ہیں " اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بجائے خود تو یہ نشانیاں سارے ہی انسانوں کے لیے ہیں، لیکن انہیں دیکھ کر صحیح نتیجے پر وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو ایمان لانے کے لیے تیار ہوں غفلت میں پڑے ہوئے لوگ، جو جانوروں کی طرح جیتے ہیں، اور ہٹ دھرم لوگ، جو نہ ماننے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں، ان کے لیے ان نشانیوں کا ہونا اور نہ ہونا یکساں ہے۔ چمن کی رونق اور اس کا حسن و جمال تو آنکھوں والے کے لیے ہے۔ اندھا کسی رونق اور کسی حسن و جمال کا ادراک نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے چمن کا وجود ہی بےمعنی ہے۔ (تفہیم القرآن)

(قدرتِ الٰہی اور توحید الٰہی کی)مطلب یہ ہے کہ کائنات کے جتنے بھی شعبے ہیں، طبیعی ،نفسیاتی،حیوانی،فضائی وغیرہ  سب میں غور کرنے والے اور انصاف کی طلب رکھنے والے انسان کے لیے دلائل و شواہد حق تعالیٰ کی توحید اور قدرت کاملہ ہی کے ملتے ہیں۔۔۔۔پہلے مُؤْمِنِیْنَ،پھر قَوْمٌ یُّوْقِنُوْنَ اور پھر قَوْمٌ یَّعْقِلُوْنَ۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)

بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ سے مراد بعد آیت اللہ ہی ہے۔الفاظ جس ترتیب و ترکیب کے ساتھ قرآن مجید میں آئے ہیں،اس نے کلام میں زور و تاکید پیدا کردی ہے۔۔۔۔۔ بَعْدَ اللّٰهِ سے مراد بعض نے بعد کتاب اللہ لی ہے اور کتاب محذوف سمجھا ہے ۔۔۔۔۔امام رازیؒ نے آیت سے یہ نکتہ بھی اخذ کیا ہے کہ ایمان میں تقلید کافی نہیں ہے، ہرمکلّف کو ]دین الٰہی کے دلائل پر غور و تفکر بھی کرنا چاہیے۔(تفسیر ماجدی)

اس حالت میں بالعموم وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن کے اندر تین صفات موجود ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے صداقت ان کو اپیل نہیں کرتی۔ دوسرے یہ کہ وہ  بدعمل ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایسی تعلیم و ہدایت کو مان لینا انہیں سخت ناگوار ہوتا ہے جو ان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتی ہو۔ تیسرے یہ کہ وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں ہمیں کوئی کیا سکھائے گا، اس لیے اللہ کی جو آیات انہیں سنائی جاتی ہیں ان کو وہ سرے سے کسی غور و فکر کا مستحق ہی نہیں سمجھتے اور ان کے سننے کا حاصل بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو نہ سننے کا تھا۔ (تفہیم القرآن) 

مشرکین کن  آیات کا تمسخر اڑاتے ہیں:۔ قریشی سردار نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو قرآن کی ایک بھی آیت سننا گوارانہیں کرتے تھے۔مگرایسی آیات کی ٹوہ ضرورلگائے رکھتے تھے جن میں انہیں کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے کہ وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑاسکیں۔ان کا نشانہ تضحیک پہلے نمبر پر تو وہ آیات تھیں جن میں دوبارہ  جی اٹھنے اور روز آخرت اور حشرو نشر کا ذکر ہوتا۔سیدنا خباب بن ارتؓ نے عاص بن وائل سہمی سے اپنی کچھ مزدوری لینا تھی۔ انہوں نے مزدوری کا مطالبہ کیا تو کہنے لگا محمدؐکا دین چھوڑدو تو مزدوری مل جائے گی۔سیدنا خبابؓ کہنے لگے:"وہ تو میں تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک بھی نہیں چھوڑ سکتا"عاص کہنے لگا اچھا پھر جب میں دوبارہ جی اٹھوں گا تو تمہارا حساب بےباق کردوں گا"پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ نے ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی " تو کفار نے آسمان سر پر اٹھالیا اور کہنے لگے بتاؤ اب اس کی دیوانگی میں کیا کسر رہ گئی۔اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اہلِ دوزخ کا کھانا زقوم کا درخت ہوگا تو بھی کفار نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جہنم پر انیس داروغے مقرر ہیں۔ تو ایک پہلوان صاحب اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ "اٹھارہ کو تو میں اکیلا سنبھال لوں گا،تم سب مل کر ایک کو بھی نہ سنبھال سکوگے"اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرک اور ان کے معبود سب دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو عبداللہ بن الزبعریٰ کہنے لگا تو سیدنا عیسیٰؑ بھی جہنم میں جائیں گے۔ ان سے تو پھر ہمارے معبود ہی اچھے ہوئے "اور ایسی آیات اور بھی بہت ہیں اور کفارمکہ ایسی ہی آیات معلوم کرنے کے درپے رہتے تھے جن کا مذاق اڑایاجاسکے۔(تیسیر القرآن)

۔سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی ہو۔ (تدبرِ قرآن)

11۔ رجز کے الفاظ اس عذاب کی نوعیت واضح کر رہے ہیں۔ رجز اس سزا یا عذاب کو کہتے ہیں جو کپکپی پیدا کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی عذاب نہیں ہوگا بلکہ نہایت درد ناک ہوگا۔ جو دلوں کو لرزا  دے گا۔(تدبرِ قرآن)

۔ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ۔ اٰیات رب سے یہاں مراد قرآن بھی لی گئی ہے۔۔۔۔وہ کتاب جو کیا تشریعی اور کیا تکوینی سارے ہی مصالح و منافع کی جامع ہے۔(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ  ﴿12﴾ وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿13﴾ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿14﴾ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ ﴿15﴾ وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ  ﴿16﴾ وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿17﴾ ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿18﴾ اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ ﴿19﴾ هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ﴿20﴾ اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿21ع الجاثية 45﴾
12. خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو۔ 13. اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔ 14. مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے کے لئے مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلے دے۔ 15. جو کوئی عمل نیک کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ 16. اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور اہل عالم پر فضیلت دی۔ 17. اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ بےشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا۔ 18. پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر (قائم) کر دیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا۔ 19. یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے۔ 20. یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 21. جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوگی۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں۔

تفسیر آیات

14۔ اَیَّامُ اللّٰهِ ، سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جس میں اس نے رسولوں کے مکذبین کو صفحہ ارض سے نیست و نابود کیا ہے۔ قرآن میں قوموں کی جو تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی ان کی تفصیل آئے گی۔ لِیَجْزِیَ قَوْمًامیں قوم سے مراد یہی مخالفین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اس لفظ کی تنکیر اظہار نفرت و بیزاری کے لئے ہے جس طرح اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا میں لفظ قلوب کی تنکیر ہے جن لوگوں نے اس سے مسلمانوں کو مراد لیا ہے انہوں نے سیاق وسباق کی دلالت اور اسلوب کی بلاغت پر غور نہ کیا۔ (تدبرِ قرآن)

۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس آیت کا حکم جہاد کے احکام نازل ہونے کے بعد منسوخ ہو گیا ۔ لیکن بیشتر محقق مفسرین کا کہنا ہے کہ آیت کا جہاد کے حکم سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ تو عام معاشرت  میں چھوٹی  چھوٹی باتوں  کا انتقام  نہ لینے کی تعلیم ہے جو ہر زمانے کے لئے  عام ہے اور آج بھی اس کا حکم باقی ہے۔لہٰذہ اسے منسوخ قرار دینا درست نہیں ، خصوصاً اگر اس کا شانِ نزول  غزوہ  بنو  المصطلق  کا واقعہ ہو تو آیاتِ جہاد اس کے لئے ناسخ نہیں بن سکتیں کیونکہ آیاتِ جہاد اس سے پہلے نازل ہو چکی تھیں۔ (معارف القرآن)

16۔ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ۔اس پر مفصل حاشیہ سورۃ البقرہ ،آیت 47 میں گزر چکا۔(تفسیر ماجدی)

۔ حکم سے مراد تین چیزیں ہیں۔ ایک، کتاب کا علم و فہم اور دین کی سمجھ۔ دوسرے، کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت۔ تیسرے، معاملات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ (تفہیم القرآن)

۔ "حُكْم" سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ وہ حکومت مراد ہے جو بنی اسرائیل کو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہا السلام) کے دور میں حاصل ہوئی اور ایک طویل مدت تک قائم رہی۔۔۔۔۔ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ سے رزق و فضل اور نعمت و رفاہیت کی اس فراوانی کی طرف اشارہ ہے جس کا آغاز ارض فلسطین پر ان کے قبضہ کے بعد سے ہوا اور حضرت سلیمان ؑ کے دور میں یہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ (تدبرِقرآن)

17۔ اَمْر سے مراد یہاں دین و شریعت ہے۔ فرمایا کہ مزید برآں ہم نے یہ کیا کہ شریعت کے احکام ان کو نہایت واضح قطعی اور غیر مشتبہ شکل میں دیے تاکہ ان میں کسی اختلاف یا ان سے فرار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن اس سارے اہتمام کے باوجود انہوں نے اختلاف کیا۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اسی اختلاف کی محرک اگر باہمی چشمک و رقابت اور ایک دوسرے کو زک پہنچانے اور پچھاڑنے کی خواہش ہو تو یہ چیز بلاشبہ سارے دین کا تیا پانچا کر کے رکھ دیتی ہے۔ اسی نوعیت کے اختلاف نے اہل کتاب کو اللہ کی روشنی سے محروم کیا اور اسی قسم کے اختلافات نے مسلمانوں کو تباہی میں ڈالا۔ (تدبرِقرآن)

18۔بنی اسرائیل سے امت محمدیہ کو اقامت دین کی پیشوائی:۔ اس آیت میں امر سے مراد اقامت دین ہے۔یعنی اے نبی! ہم نے پہلے  اہل عالم کی رہنمائی کے لئے بنی اسرائیل کو اقامت ِ دین کا علمبردار بنایا تھا۔وہ آپس میں ہی کئی فرقوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ اس حال میں وہ اقامتِ دین کا فریضہ کیا سرانجام دے سکتے تھے ۔بلکہ اس قابل ہی نہ رہ گئے تھے۔اب ہم نے آپ کو اقامت دین کی پیشوائی کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔اور جو تمہیں شریعت دی جارہی ہے اس میں اقامت دین کے لیے مکمل اور واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ بس ان احکام و ہدایات کے مطابق عمل کرتے جائیے۔بنی اسرائیل کا ہر فرقہ آپ سے یہ توقع رکھے گا کہ آپ اس کے مؤقف کی حمایت کریں۔ آپ ان میں سے کسی کی بات نہ مانئے کیونکہ ان لوگوں نے یہ فرقے علم کی بناپر نہیں بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی وجہ سے بنائے تھے۔(تیسیر القرآن)

ــــ اب جن لوگوں نے اس شریعت معروف سے الگ ہوکر اور ایک دوسری شریعت طریقت کے نام سے نکالی ہے وہ ذرا اپنے انجام پر غورکرلیں!۔مرشدتھانویؒ نے فرمایا کہ شریعت کی مخالفت کرکے قرب و کمال کا دعویٰ کرنا تمام تر دعوئے باطل کرنا ہے۔(تھانوی،ج2/ص: 507)(تفسیر ماجدی )

19۔ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ۔ نافرمانوں اور سرکشوں کی باہمی نصرت و معاونت کی ایک تازہ اور نمایاں مثال عین اس تفسیر کی تحریر کے وقت پیش نظر ہے! دشمنانِ مسیح (یہود)اور پرستار انِ مسیح (عیسائیوں )کے درمیان جو عداوت اور بیزاری رہی ، وہ تاریخ کے اوراق سے ظاہر ہے،لیکن اس وقت فلسطین میں جو یہود کی آبادی اور مستقل حکومت ہوگئی ہے اس کی تہ میں تمام تر بعض مسیحی سلطنتوں کا ہاتھ کام کررہاہے!۔(تفسیر ماجدی)

20۔ بَصَآىٕرُ۔ بعض محققین نے کہاہے کہ بصائر بصیغۂ جمع لانے میں نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید سارے ہی مہمات کے لئے کافی ہے،ایک دو کے لیے نہیں۔(تفسیر ماجدی)

21۔۔۔۔ ہر دور میں انسانوں نے جو قوانین جاری کئے ہیں ان میں یہ اصول عدل بنیادی طور پر ملحوظ رہا ہے تو جو اصول عدل انسانوں کے اندر اس طرح مسلم ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس سے عاری ہے ؟ اگر نیک و بد دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں تو اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ یا تو نعوذ باللہ ظالم اور نا منصف ہے یا نیکی اور بدی کے معاملہ میں بالکل بےحس۔۔۔۔۔ایک ایسے دن کا ظہور اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ دنیا آزمائش کے قانون پر چل رہی ہے۔ (تدبرِقرآن)


تیسرا رکوع

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿22﴾ اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ﴿23﴾ وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ ﴿24﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿25﴾ قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ﴿26ع الجاثية 45﴾
22. اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 23. بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟ 24. اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔ 25. اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ۔ 26. کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر آیات

23۔خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن کر رہ جائے۔ جس کام کو اس کا دل چاہے اسے کر گزرے، خواہ خدا نے اسے حرام کیا ہو، اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہے اسے نہ کرے، خواہ خدا نے اسے فرض کردیا ہو۔ جب آدمی اس طرح کسی کی اطاعت کرنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا معبود خدا نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کی وہ اس طرح اطاعت کر رہا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ زبان سے اس کو اپنا اِلٰہ اور معبود کہتا ہو یا نہ کہتا ہو، اور اس کا بت بنا کر اس کی پوجا کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

۔ وَ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً؛  بعینیہ یہی مضمون سورة بقرہ آیت 7 میں  ان یہود ہی کے بارے میں گزر چکا ہے وہاں ہم ختم قلوب کی حقیقت پر وضاحت سے بحث کرچکے ہیں۔ اس صفت کے ساتھ قرآن نے صرف یہود ہی کا ذکر کیا ہے۔(تدبرِقرآن)

24۔ دہریوں کی فریب خوردگی،دہر تو اللہ ہے:۔ دہریہ لوگ دراصل فریب خوردگی میں مبتلا ہوتے ہیں اور اسی میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ "ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتاہے۔حالانکہ زمانہ تو گردشِ لیل و نہار کا ہی دوسرا نام ہے۔جس میں نہ حس ہے نہ شعور ،نہ تصرف نہ اختیار پھر وہ ہمیں ہلاک کیسے کرتاہے؟لامحالہ ان کے ذہن میں کوئی اور چیز ہوتی ہے جو حس شعور،تصرف اختیار رکھتی ہو مگروہ اس کا نام نہیں لینا چاہتے اور اس کے بجائے زمانہ کا نام لے لیتے ہیں اور جس چیز کا وہ نام نہیں لینا چاہتے وہ اللہ ہے۔ جس کا وجود اور علی الاطلاق تصرف واضح دلائل سے ثابت ہے اور زمانہ کا الٹ پھیر اور گردش ِ لیل و نہار بھی اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔چنانچہ سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ: "ابن آدم مجھے دکھ پہنچاتاہے جب وہ دہر (زمانہ)کو گالی دیتاہے۔حالانکہ دہر میں خود ہوں۔تمام معاملات میرے ہی ہاتھ میں ہیں۔میں ہی رات اور دن پھیر کرلاتاہوں"(بخاری۔کتاب التفسیر۔تفسیر سورۃ الجاثیہ۔زیر آیت مذکورہ)(تیسیر القرآن)

26۔ یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ موت گردش ایام سے آپ ہی آپ آجاتی ہے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ نہ تمہیں زندگی اتفاقاً ملتی ہے، نہ تمہاری موت خود بخود واقع ہوجاتی ہے۔ ایک خدا ہے جو تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی اسے سلب کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)


چوتھا رکوع

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ ﴿27﴾ وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿28﴾ هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿29﴾ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ ﴿30﴾ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ﴿31﴾ وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ ﴿32﴾ وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿33﴾ وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ﴿34﴾ ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ﴿35﴾ فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿36﴾ وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠   ۧ  ﴿37ع الجاثية 45﴾
27. اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے۔ 28. اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا۔ اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب (اعمال) کی طرف بلائی جائے گی۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ 29. یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں۔ 30. تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا۔ یہی صریح کامیابی ہے۔ 31. اور جنہوں نے کفر کیا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے۔ 32. اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا۔ 33. اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اُڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا۔ 34. اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا۔ اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں۔ 35. یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مخول بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔ 36. پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک اور تمام جہان کا پروردگار ہے۔ 37. اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لئے بڑائی ہے۔ اور وہ غالب اور دانا ہے۔

تفسیر آیات

31۔ یعنی اپنے گھمنڈ میں تم نے یہ سمجھا کہ اللہ کی آیات کو مان کر مطیع فرمان بن جانا تمہاری شان سے فروتر ہے، اور تمہارا مقام بندگی کے مقام سے بہت اونچا ہے۔ (تفہیم القرآن)

32۔  اس  طرح  کی چیزوں  میں اصل  اہمیت  یقین  کامل  کو ہے  مگر  دانا لوگ  ظن  غالب  کو بھی  یقین  جیسی  اہمیت  دیتے  ہیں  ۔ فرض   کریں ایک عظیم بند جس میں شگاف پڑنے سے پورا شہر خطرہ میں پڑ سکتا ہو ہماری توجہ کا طالب اسی وقت نہیں ہوگا جب اس میں شگاف پڑجائے بلکہ عاقل لوگ اس طرح کے معاملات میں بہت پہلے سے چوکنے رہتے ہیں۔ آخرت کا معاملہ ایک نہایت اہم بلکہ اس پوری کائنات کا سب سے اہم معاملہ ہے۔   ۔(تدبر قرآن)

۔ اس سے پہلے آیت 24 میں جن لوگوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ آخرت کا قطعی اور کھلا انکار کرنے والے تھے۔ اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین نہیں رکھتے اگرچہ گمان کی حد تک اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں لازماً  وہ خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے احساس سے خالی ہوگا، اور یہ عدم احساس اس کو لازماً فکر و عمل کی گمراہیوں میں مبتلا کر کے رہے گا۔ صرف آخرت کا یقین ہی دنیا میں آدمی کے رویے کو درست رکھ سکتا ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو شک اور انکار، دونوں اسے ایک ہی طرح کی غیر ذمہ دارانہ روش پر ڈال دیتے ہیں۔ اور چونکہ یہی غیر ذمہ دارانہ روش آخرت کی بد انجامی کا اصل سبب ہے، اس لیے دوزخ میں جانے سے انکار کرنے والا بچ سکتا ہے، نہ یقین نہ رکھنے والا۔ (تفہیم القرآن)

33۔ یعنی وہاں ان کو پتہ چل جائے گا کہ اپنے جن طور طریقوں اور عادات و خصائل اور اعمال و مشاغل کو وہ دنیا میں بہت خوب سمجھتے تھے وہ سب ناخوب تھے۔ اپنے آپ کو غیر جوابدہ فرض کر کے انہوں نے ایسی بنیادی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات ہی غلط ہو کر رہ گیا۔ (تفہیم القرآن)

35۔ اس ٹکڑے میں اسلوب کی اچانک تبدیلی قابل توجہ ہے اوپر کے ٹکڑے میں اسلوب خطاب کا تھا اس میں دفعتًہ غائب کا اسلوب آگیا گویا نظر انداز کئے جانے کی جو دھمکی ان کو دی گئی تھی اس کا عمل شروع ہوگیا یہاں تک کہ وہ اس قابل بھی نہیں رہے کہ ان کو خطاب کر کے کوئی بات کہی جائے۔ یہاں ملحوظ رہے کہ غائب کا اسلوب نظر انداز کئے جانے کے مواقع میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ (تدبرِ قرآن)