46 - سورة الأحقاف (مکیہ)

رکوع - 4 آیات - 35

مضمون: قرآن کی حقانیت کے شواہد موجود ہیں لیکن ایمان وہی لائیں گے جن کی طبیعت میں سلامت روی ،حق شناسی اور عاقبت بینی ہے۔ (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی  مضمون:  اس سورۃ  کا قرآنی  نام وہی  ہے جو  پچھلی  سورۃ کا ہے   ۔ اور اسکی  تمہید  بھی  بعینٖہ  وہی  ہے جو  پچھلی  سورۃ  کی ہے  ۔ اس میں   مخالفین  قرآن  کو نہایت   واشگاف  الفاظ  میں آگاہ  کیا گیا  ہے کہ قرآن  جس  روز  قیامت  سے تم  کو خبردار  کر رہا  ہے وہ  ایک امر شدنی  ہے ۔ 

 نام : سورۃ  الاحقاف        ،    سلسلہ   حوامیم  کی آخری   سورت  ( سورۃ مومن  سے الاحقاف  تک  سات  سورتیں  ) ہے      .۔ احقاف کا لفظ  آیت  نمبر  21  میں آیا  ہے ۔ جس  سے اس  سورۃ  کا نام موسوم ہے ۔  احقاف  ،  حقف  کی جمع ہے   اور اس کے معنی  ہیں  ریت کے  لمبے  لمبے  ٹیلے   ، یہ  وہ علاقہ  ہے جہاں   قوم  عاد  آباد  تھی  جو عمان  سے  یمن  تک  پھیلا  ہوا ہے ۔

تاریخی پس منظر  : (تفہیم القرآن)

شان نزول  :  یہ سورت  حضور ؐ   کے قیام  مکہ کے تیسرے  دور  (  6 تا  10  سن نبوی  )  کے آخر میں  غالباً  سورۃ  جن کے  ساتھ  سفر  طائف  سے واپسی    پر  بمقام  نخلہ  10 سن  نبوی  میں  نازل  ہوئی    جب  حضورؐپر ساحر اور  مفتری  کے الزامات  لگائے   جارہے   تھے   اور مسلمانوں   پر  بے حد  سختی  کی جارہی  تھی ۔

نظم کلام :  سورۃ  سبا  (  پانچواں گروپ   -سورۃ سبا   تاسورۃ  احقاف   (13 )  محمد  ، الفتح ، الحجرات  )     جامع عمود : توحید

ترتیب مطالعہ  و اہم مضامین : (1 )  ر- 1 (  منکر  مہلت   سے  دھوکہ  نہ  کھائیں  )  (2 )  ر- 2   ( ایمان ، استقامت ، اور   مومن  و  کافر کا حال  )    (3  )  ر – 3  ( حضرت  ھود ؑ  ( قوم عاد )  کی مثال  )  (4 )  ر – 4  (  عذاب  الٰہی  سے بچنا   ممکن  نہیں ) ۔)تعلیم القرآن(


پہلا رکوع

حٰمٓۚ ﴿1﴾ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ﴿2﴾ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ ﴿3﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿4﴾ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ ﴿5﴾ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ ﴿6﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ  ﴿7﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴿8﴾ قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿9﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّن ْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿10ع الأحقاف 46﴾
1. حٰم۔ 2. (یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ 3. ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 4. کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے۔ یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ۔ یا علم (انبیاء میں) سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)۔ 5. اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو۔ 6. اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے۔ 7. اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ 8. کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو از خود بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے میرے (بچاؤ کے) لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 9. کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے۔ 10. کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) ۔ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر آیات

۔ جب صفات کا بیان بغیر حرف عطف کے ہو جس طرح العزیز الحکیم میں ہے تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ صفات موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

یعنی واقعی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام کائنات ایک بےمقصد کھلونا نہیں بلکہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے جس میں لازماً نیک و بد اور ظالم و مظلوم کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہونا ہے، اور کائنات کا موجودہ نظام دائمی و ابدی نہیں ہے بلکہ اسکی ایک خاص عمر مقرر ہے جس کے خاتمے پر اسے لازماً درہم برہم ہوجانا ہے، اور خدا کی عدالت کے لیے بھی ایک وقت طے شدہ ہے جس کے آنے پر وہ ضرور قائم ہونی ہے۔(تفہیم القرآن)

۔یہاں ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ بات تو معقول معلوم ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنی نیکی یا بدی کی جزا یا سزا پائے لیکن اس کے لئے یہ کیا ضروری ہے کہ یہ پوری دنیا ایک معین مدت کے بعد ختم ہوجائے کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ برابر قائم بھی رہے اور جو مرتے جائیں ان کی عدالت بھی ہوتی رہے ؟ (تدبرِ قرآن)

۔ انسان کا ہر عمل اپنے اندر متعدی ہونے کی خصوصیات رکھتاہے۔ایک شخص نیکی کا تخم بوتاہے جس کی برکت سے صدیوں تک اولاد آدم مستفید ہوتی ہے۔اسی طرح ایک شخص ایک غلط اور گمراہ کن فلسفہ ایجاد کرتاہے جس سے ایک خلق کثیر گمراہ ہوجاتی ہے اور اس کی کئی نسلیں اسی گمراہی کو پروان چڑھاتی ہیں۔ اس صورت حال  کے سبب سے کسی کی نیکی یا بدی کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے تمام گواہ اور متاثرین ایک ہی وقت میں یکجا ہوں۔اس کے بغیر کامل عدل کا تقاضا پورانہیں ہوسکتا۔اسی لیے یہ ضروری ہوا کہ دنیا ایک معین مدت کے لیے ہو جس کے بعد یہ ختم ہوجائے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

چونکہ مخاطب ایک مشرک قوم کے لوگ ہیں اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ احساس ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے وہ کس طرح بےسوچے سمجھے ایک نہایت غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات ماننے کے ساتھ بہت سی دوسری ہستیوں کو معبود بنائے ہوئے تھے، ان سے دعائیں مانگتے تھے، ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے، ان کے آگے ماتھے رگڑتے اور نذر و نیاز پیش کرتے تھے، اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات انہیں حاصل ہیں۔ انہی ہستیوں کے متعلق ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ انہیں آخر کس بنیاد پر تم نے اپنا معبود مان رکھا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔اس آیت میں " پہلے آئی ہوئی کتاب " سے مراد کوئی ایسی کتاب ہے جو قرآن سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ہو۔ اور علم کے " بقیہ " سے مراد قدیم زمانے کے انبیاء اور صلحاء کی تعلیمات کا کوئی ایسا حصہ ہے جو بعد کی نسلوں کو کسی قابل اعتماد ذریعہ سے پہنچا ہو۔ اور دونوں ذرائع سے جو کچھ بھی انسان کو ملا ہے اس میں کہیں شرک کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ تمام کتب آسمانی بالاتفاق وہی توحید پیش کرتی ہیں جس کی طرف قرآن دعوت دے رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔  آثار سے کیا مراد ہے؟  علمی اثر سے مراد کتاب اللہ کی وہ تفاسیرو شرح ہیں جو مستند ہوں۔ (جیسے ہمارے پاس کتاب اللہ تو قرآن کریم ہے اور عملی اثر احادیث ہیں۔جن میں سلسلہ اسناد بھی درج ہوتاہے جس سے یہ تحقیق کی جاسکتی ہے کہ فلاں حدیث کس درجہ کی ہے اور آیا وہ مقبول ہے یا مردود )اور اگر تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہو اور نہ نقلی تو پھر سمجھ لو کہ تمہارے عقائد محض ظن اور اوہام پر مبنی ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ " اَثٰرَة" اس روایت کو کہتے ہیں جو سلف سے منقول ہوتی چلی آرہی ہو۔اس کے ساتھ من علم کی قید اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ اس روایت کی بنیاد محض و ہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو۔۔۔۔مشرکین عرب اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن قرآن کے بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ یہ ثابت کرنے سے قاصر رہے کہ ان کے باپ دادا کے طریقہ کی بنیاد کسی شرعی یا عقلی دلیل پر تھی۔ آخر تک وہ یہی کہتے رہے کہ جس طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اسی پر ہم چلتے رہیں گے، اس سے بحث نہیں کہ انہوں نے یہ طریقہ کہاں سے لیا۔ (تدبرِ قرآن)

قیامت تک جواب نہ دے سکنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ دنیا باقی ہے اس وقت تک تو معاملہ صرف اسی حد پر رہے گا کہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب ان کی طرف سے نہ ملے گا، لیکن جب قیامت آجائے گی تو اس سے آگے بڑھ کر معاملہ یہ پیش آئے گا کہ وہ معبود اپنے ان عابدوں کے الٹے دشمن ہوں گے، جیسا کہ آگے کی آیت میں آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا والوں کے سلام اور ان کی دعائے رحمت پہنچا دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فرحت کے موجب ہیں، اور اسی طرح وہ مجرموں کو دنیا والوں کی لعنت اور پھٹکار اور زجر و توبیخ سے مطلع فرما دیتا ہے جیسے جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کو ایک حدیث کے مطابق نبی ﷺ کی توبیخ سنوا دی گئی، کیونکہ یہ ان کے لیے اذیت کی موجب ہے۔ لیکن کوئی ایسی بات جو صالحین کے لیے رنج کی موجب، یا مجرمین کے لیے فرحت کی موجب ہو وہ ان تک نہیں پہنچائی جاتی۔ اس تشریح سے سماع موتیٰ کے مسئلے کی حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

6۔ سماع موتیٰ کی حقیقت:۔  یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہوتاہے کہ آیا فوت شدہ حضرات دنیا والوں کی پکار سنتے ہیں یا نہیں؟ جسے عرف عام میں سماعِ موتیٰ کا مسئلہ کہا جاتاہے۔سو اس آیت میں اس بات کی مکمل نفی ہے۔کہ وہ قیامت تک بھی دنیاوالوں کی پکار نہیں سن سکتے۔تاہم بعض آیات سےاتنا اور معلوم ہوتاہے کہ اللہ جسے چاہے سناسکتاہے۔نیز صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہؐ کو امت کا سلام فرشتوں کے ذریعہ پہنچایا جاتاہے۔ اور یہ بھی قرآن میں صراحت سے مذکور ہے ۔کہ مرنے کے بعد نیک لوگوں کی ارواح علیین میں اور بدکاروں کی ارواح سجین میں ہوتی ہیں۔ اوروہا ں وہ دنیاوالوں کی کوئی آواز براہ راست اور بلاواسطہ سن نہیں سکتے کیونکہ وہ عالم ہی دوسرا ہے۔(تیسیر القرآن)

(جو ہم پرہوجاتاہے، یعنی حقیقت و حقانیت سے معرّا ہے)قرآن مجید کے متعلق ماضی کے"روشن خیال"کی تشخیص یہی تھی، اور حال کے"روشن خیال"کی "تحقیق"اس سے کچھ بھی زیادہ مختلف نہیں،جب وہ یہ کہتاہے کہ"موافق ماحول اور مناسب فضا نے محمدؐ کے کلام و پیام کو اس درجہ مؤثر و کامیاب بنادیا"۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات کفار مکہ کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ صاف یہ محسوس کرتے تھے کہ اس کلام کی شان انسانی کلام سے بدرجہا بلند ہے۔ (تفہیم القرآن)

کاش اس طرح کی بکثرت آیات کو وہ مسیحی اہل قلم ذرا آنکھیں کھول کے پڑھ لیتے، جنہوں نے بے دھڑک یہ لکھ دیا ہے کہ اسلام کا خدا"قہار"و"جبار"ہے!۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس سوالیہ طرز بیان میں سخت تعجب کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اتنے بےحیا ہیں کہ محمد ﷺ پر قرآن خود گھڑ لانے کا الزام رکھتے ہیں ؟   حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ یہ ان کا تصنیف کردہ کلام نہیں ہو سکتا، اور ان کا اسے سحر کہنا خود اس امر کا صریح اعتراف ہے  کہ یہ غیر معمولی کلام ہے جس کا کسی انسان کی تصنیف ہونا ان کے اپنے نزدیک بھی ممکن نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

10۔یعنی اسلام کی مخالفت کے جنون میں آج یہودی اور مسیحی جو حرکتیں چاہیں کریں لیکن بنی اسرائیل کا ایک عظیم شاہد (حضرت عیسیٰؑ)اس حق کی نہایت آشکارا الفاظ میں شہادت دے چکا اور اس پر ایمان لاچکا ہے۔۔۔۔۔انہوں نے آنحضرتؐ کا نام لے کر آپؐ کی بشارت دی۔۔۔۔۔آپؐ کی انہی تعلیمات کے زیر اثر شمعون کے پیروکاروں نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

 ۔ بنی اسرائیل کے شاہد سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں:۔  یہ بنی اسرائیل میں سے شہادت دینے والا کون تھا؟درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن سلام تھے۔عبداللہ بن سلام کے بھتیجے سے روایت ہے کہ جب باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام ان کے پاس گئے۔سیدنا عثمانؓ نے پوچھا :"کیسے آنا ہوا"عبداللہ نے کہا:"آپؐ کی مدد کو آیا ہوں"سیدنا عثمانؓ نے کہا :"تم باغیوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور رکھو۔تمہارا باہر رہنا اندر رہنے سے زیادہ مفید ہے۔"چنانچہ عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور کہا :لوگو! جاہلیت میں میرا نام فلاں (حصین)تھا تو رسول اکرمؐ نے میرا نام عبداللہ رکھا۔ اور اللہ کی کتاب میں کئی آیات میرے بارے میں نازل ہوئیں۔چنانچہ آیت "شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ"میرے بارے میں نازل ہوئی ۔نیز یہ آیت"كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا۔۔۔۔مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ"سے مراد میں ہوں۔(سنو)اللہ تعالیٰ کی ایک تلوار ہے جو تم سے پوشیدہ ہے۔اور اسی شہر میں فرشتے تمہارے ہمسایہ بنے ہوئے ہیں۔یہ وہی شہر ہے جہاں تمہارے نبی آئے تھے۔لہذا اس شخص (سیدنا عثمانؓ )کو قتل کرنے کے بارے میں اللہ سے ڈرجاؤ ۔اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے قتل کیا تو تمہارے ہمسایہ فرشتے  تمہارے ہاں سے رخصت ہوجائیں گے۔اور اگر اللہ کی چھپی ہوئی تلوار نکل آئی تو قیامت تک میان میں نہ جائے گی۔"باغیوں نے حضرت عبداللہ کی تقریر سن کر کہا :"اس یہودی کو بھی مار ڈالو اور عثمان کو بھی مار ڈالو"۔(ترمذی۔ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)

۔  مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے اس گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام کو لیا ہے جو مدینہ طیبہ کے مشہور یہودی عالم تھے اور ہجرت کے بعد نبی ﷺ پر ایمان لائے۔ یہ واقعہ چونکہ مدینہ میں پیش آیا تھا اس لیے ان مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ اس تفسیر کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص کا یہ بیان ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی تھی (بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر) ۔۔۔۔مگر دوسری طرف عکرمہ اور شعبی اور مسروق کہتے ہیں کہ یہ آیت عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ پوری سورة مکی ہے۔۔۔۔۔۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت کے ٹھیک ٹھیک مصداق ہیں اور ان کے قبول ایمان پر یہ پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔۔۔۔ ہمارے نزدیک یہ اشارہ سیدنا مسیح ؑ کی طرف ہے۔۔۔۔۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ میں آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں آپ کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ آخری نبی بھی ہیں  اور آخری رسول بھی اس وجہ سے اس آنے والے سے آنحضرت ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔  استاذ امام نے خاص اس موضوع پر انگریزی میں ایک رسالہ لکھا ہے کہ انجیلوں کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کی تعریف اور تعارف ہے۔  حضرت مسیح ؑ نے جس آسمانی بادشاہت کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس کی جو تمثلیں بیان فرمائی ہیں وہ تمام تر آنحضرت ﷺ اور قرآن کی دعوت ہی پر منطبق ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ    ۧیہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے  جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کبھی راہ یاب نہیں کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اور اس کی بخشی ہوئی روشنی کی ناقدری کرنے والے ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)


دوسرا رکوع

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ ﴿11﴾ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ  ﴿12﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ  ﴿13﴾ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿14﴾ وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ﴿15﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ﴿16﴾ وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿17﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ ﴿18﴾ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿19﴾ وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿20ع الأحقاف 46﴾
11. اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔ 12. اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت۔ اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے۔ 13. جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ 14. یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے۔ 15. اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا۔ اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے۔ اور میرے لئے میری اولاد میں صلاح (وتقویٰ) دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔ 16. یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) ۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے۔ 17. اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کم بخت ایمان لا۔ خدا کا وعدہ تو سچا ہے۔ تو کہنے لگا یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ 18. یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔ 19. اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے۔ 20. اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے۔

تفسیر آیات

۔ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سے قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کفار کے اغنیاء مراد ہیں جن کے استکبار کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، سے یہاں غربائے مسلمین مراد ہیں اور ل یہاں فی کے مفہوم میں ہے یہ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ، سے یہ بات نکلتی ہے کہ جب انہوں نے ایک بالکل واضح حق کا انکار کیا ہے تو اپنے ضمیر کو تسلی دینے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے انہیں اور بھی باتیں بنانی پڑیں گی چنانچہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ جھوٹ تو بہت پرانا جھوٹ ہے۔ اس کو پرانا جھوٹ قرار دینے میں دلیل کا پہلو، ان کے زعم کے مطابق یہ ہے کہ اس کا جھوٹ ہونا بالکل ثابت ہوچکا ہے۔ اگر قیامت آنے والی ہے تو آخر وہ کہاں غائب ہے ۔ایک مدت دراز سے اس کا چرچا ہے لیکن جہاں تک اس کے ظہور کا تعلق ہے ہنوز روز اول ہے۔ (تدبرِ قرآن)

12۔ ۔۔ لِیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یہ اس کتاب کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لئے اتارا ہے کہ جن لوگوں نے شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو اس کے انجام سے آگاہ کردیا جائے تاکہ جو اپنی اصلاح کرنی چاہیں وہ آخری نتائج کے سامنے آنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلیں۔۔۔۔۔۔۔ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَ یہ اس کتاب کا دوسرا مقصد بیان ہوا ہے اور چونکہ اصل مقصود یہی ہے اس وجہ سے اس کا ذکر بشکل اسم ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم اور دائمی خوش خبری ہے خوب کاروں کے لئے مُحْسِنِیْنَ یہاں الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا کے مقابل میں ہے جس کے لفظ کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کی حفاظت کی اور اپنی زندگی کو اپنے خالق کی حدود وقیود کے اندر رکھا۔ (تدبرِ قرآن) 

13 ۔ رَبُّنَا اللّٰهُ کا اقرار  پورا  ایمان  ہے اور  اسپر  استقامت  میں  ایمان  پر  تادم  قیامت قائم رہنا  بھی شامل  ہے ۔ ( کلمہ  پر  موت کی  دعا  )  اور  اسکے  مقتضیات   پر پورا  پورا عمل  بھی ۔(معارف القرآن)

-  ( حم  السجدہ   (فصلت)  میں یہی  الفاظ :آیت  نمبر 30 ( تعلیم القرآن : ص 357 )  

ـــ   "أَلَاإِنَّ أَوْلِيَاءَاللَّهِ لَاخَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ "  (  ۔۔ بقرۃ   :  112 ) 

۔ یہ اس بشارت کی وضاحت بھی ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا اور ”محسنین“ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ بھی فرمایا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن کی دعوت حق قبول کر کے یہ اعلان کردیا ہے کہ ہمارا رب بس اللہ ہی ہے اور اپنے اس اقرار پر وہ تمام مخالفتوں سے بالکل بےخوف ہو کر ڈٹ گئے ہیں ان کے لئے ابدی جنت کی بشارت ہے نہ ان کو مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی غم۔ وہی جنت کے مالک ہوں گے ہمیشہ کے لئے اور یہ چیز ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گی۔ (تدبرِ قرآن)

15۔   قرآن میں کئی جگہ اللہ  کے حق  کے ساتھ  والدین کے حق کا ذکر فرمایا-  اگر والدین  مشرک  ہوں  تب  بھی  ان کے ساتھ  دنیا  میں  معاملہ  اچھا  رکھنا  چاہیے  خصوصاً  ماں  کی خدمت  گزاری  کہ  بعض وجوہ  سے  اس کا حق  باپ  سے بھی  فائق  ہے ۔  آیت ہذا میں  والد   کا ذکر   ایک دفعہ  لفظ   والدیہ  جبکہ  والدہ  کا تین  بار  یعنی   والدیہ ، حملتہ  امہ  اور  وضعتہ  ۔۔۔۔۔ کم از کم مدت حمل چھ مہینے ہے اور دو برس میں عموماً بچوں کا دودھ چھڑا دیا جاتا ہے اس طرح کل مدت تیس مہینے ہوئے۔ مدت رضاع کا اس سے زائد ہونا نہایت قلیل و نادر ہے۔ (تفسیر عثمانی)

۔ " سورة لقمان میں فرمایا " اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ " اور سورة احقاف میں فرمایا " اس کے حمل اور اس کا دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگے "۔ اب اگر تیس مہینوں میں سے رضاعت کے دو سال نکال دیے جائیں تو حمل کے چھ مہینے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس عمر کے بعد اگر کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو تو وہ اس کی رضاعی ماں قرار نہیں پائے گی اور نہ وہ احکام رضاعت اس پر مترتب ہوں گے جو سورة نساء آیت 23 میں بیان ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں امام ابوحنیفہ نے بر سبیل احتیاط دو سال کے بجائے ڈھائی سال کی مدت تجویز کی ہے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

ـــ بَلَغَ اَشُدَّهٗ  سے مراد  اٹھارہ سال  عمر ہے ( ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ )  ۔ چالیس  سال کی عمر  ایک  مستقل  عمر ہو گی جب  عادات  پختہ ہو جاتی ہیں  ۔ (معارف القرآن)

ـــ  ماں  کی جان  بازیاں  اپنی  اولاد  کیلئے  :۔  "حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا"۔یہ ان چند جاں بازیوں اور قربانیوں کی طرف اشارہ ہے جو ہر ماں کو اپنی اولاد کے لیے لازماً کرنی پڑتی ہیں۔اس اشارے سے مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلاناہے کہ کوئی اولاد خواہ کچھ ہی کرڈالے لیکن وہ اپنے ماں باپ کے احسان کا حق ادانہیں کرسکتی۔فرمایا کہ اس کی ماں مہینوں نہایت دکھ کے ساتھ اس کو اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے ،پھر وہ جان کی بازی کھیل کر اس کو جنتی ہے۔اس کے بعد اس کی رضاعت کا دور آتاہے اور پورے دوسال وہ اپنے خون کو دودھ بناکر اس کو پلاتی اور پرورش کرتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کون ہے جو اس کے لیے اتنے دکھ خوشی خوشی جھیل سکے؟ پھر یہ کتنی بڑی ناسپاسی ہوگی اولاد کی اگروہ اس احسان کو بھول جائے اور جب ماں باپ اس کے احسان کے محتاج ہوں تو ان سے بے پروائی برتے!یہاں ایک بات قابل توجہ ہے کہ حسنِ سلوک کا مطالبہ تو ماں باپ دونوں ہی کے لیے کیا گیا ہے لیکن تین قربانیاں جو مذکور ہوئی ہیں وہ صرف ماں ہی کی ہیں ، باپ کی کسی قربانی کا ذکر نہیں ہوا۔اس کے وجوہ ہمارے نزدیک مندرجہ ذیل ہیں۔پہلی وجہ تو یہ  ہے کہ فی الواقع اولاد کی ابتدائی پرورش و پرداخت میں جو حصہ ماں کا ہوتاہے وہ باپ کا نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتاہے کہ نبیؐ نے خدمت کے معاملہ میں ماں کا حق باپ کے بالمقابل تین گنارکھا ہے۔یہ حدیث اسی آیت پر مبنی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ماں کا تعلق جنسِ ضعیف سے ہے ۔اس کا یہ پہلو بھی متقاضی ہے کہ اولاد اس کی خدمت و اطاعت باپ سے زیادہ کرے۔تیسر ی وجہ یہ ہے کہ باپ سے بالعموم اولاد کا مادی مفاد وابستہ ہوتاہے ۔ان کو اس سے جائداد اور املاک وراثت میں ملنے والی ہوتی ہیں!اس سبب سے اس کے معاملے میں کوتاہی یا نافرمانی کا اندیشہ کم ہے برعکس اس کے ماں سے عام حالات میں اس طرح کی توقع کم ہی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ لوگ ماں کی حقیقی قدر نہیں کرتے جن کے اندر اس کی قربانیوں کا صحیح شعور نہیں ہوتا۔(تدبر قرآن)

ـــ عمر  رشد  متعین  نہیں  کی جاسکتی  ۔ چالیس  سال  آخری  حد  -  اس  عمر  کو پہنچ  کر بھی  اگر  کسی  سلیم الفطرت  انسان  کے اندر  یہ  شعور  نہیں   بیدار  ہوتا  تو  یہ علامت  ہے اس  بات  کی کہ اس شخص  نے  اپنی فطرت   بگاڑلی ۔(تدبر قرآن)

 ــــ  "وَ اَصْلِحْ لِیْ" ( اصلاح  میرے  لئے  ۔ اس  کا فائدہ  مجھے  پہنچے  )  (بیان القرآن)

17۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ ذکر کرچکے ہیں کہ الذی جب تمثیل کے لئے آتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس سے لازماً کسی خاص شخص ہی کو مراد لیا جائے بلکہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہوگا جس پر تمثیل منطبق ہو۔۔۔۔۔۔۔وَیْلَكَ اٰمِنْ لفظ "ویل" اگرچہ لعنت کے الفاظ میں سے ہے لیکن بعض مواقع میں یہ دل سوزی، شفقت اور درد مندی کے اظہار کے لئے بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ یہاں بھی یہ اسی طرح کے محل میں ہے۔ بعض ماں باپ نہایت دل سوزی کے ساتھ اس کو سمجھاتے ہیں کہ تیرا ناس ہو ! ضد نہ کر، بےراہ روی چھوڑ، ایمان کی راہ اختیار کر اور آخرت سے ڈر۔ لیکن وہ ان کی اس شفقت کی قدر کرنے کی بجائے نہایت نفرت کے ساتھ ان کو جھڑک دیتا ہے۔ (تدبر قرآن)

18۔ یہ ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ یہاں اشارے، ضمیریں اور افعال سب جمع استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ الذِی یہاں الَّذِینَ ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اوپر والی آیت میں ذکر کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ ایک خاص قماش کے لوگوں کا تھا۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات پوری ہوگئی۔ اللہ کی بات، سے مراد وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھر دوں گا۔ (تدبر قرآن)

19۔ كُلّ‘ سے مراد یہاں وہی دونوں گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ فرمایا کہ ان دونوں گروہوں کو ان کے اعمال کے اعتبار سے درجے ملیں گے۔ جنہوں نے اپنے ماں باپ اور اپنے رب کے حقوق پہچانے اور ادا کئے وہ جنت کے مدارج حاصل کریں گے اور جنہوں نے شتر بےمہار زندگی گزاری وہ اپنے اعمال کے اعتبار سے دوزخ کے جس طبقہ کے مستحق ہوں گے، اس میں جائیں گے۔ لفظ دَرَجٰتٌ یہاں علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے۔ (تدبر قرآن)

20۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت سے دلالت زُہد پر نکلتی ہے، نیز اس طرف  اشارہ کہ لذات ِ دنیوی میں توسع موجب خطر ہے، مگر مطلقاً نہیں بلکہ حب معاصی کے ساتھ۔(تھانوی،ج2/ص: 522)(تفسیر ماجدی)


تیسرا رکوع

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿21﴾ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿22﴾ قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ ﴿23﴾ فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ  ﴿24﴾ تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ﴿25﴾ وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿26ع الأحقاف 46﴾
21. اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے۔ 22. کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو۔ اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ۔ 23. (انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو۔ 24. پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) ان کے میدانوں کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے۔ 25. ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ 26. اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا۔

تفسیر آیات

21۔ احقاف قوم عاد کا مسکن:۔  اَحْقَاف،حقف کی جمع ہے۔ بمعنی ریت کے بڑے بڑے میلوں میں پھیلے ہوئے ٹیلے ۔یہی علاقہ قوم عاد کا مسکن تھا۔ جو کسی زمانہ میں سرسبز اورشاداب علاقہ تھا۔ قوم عادنے اسی جگہ زمین دوز مکان بنارکھے تھے۔ یہ علاقہ جنوبی عرب میں حضرموت کے شمال میں واقع ہے۔ اور آج کل وہاں ریت کے ٹیلے ہیں جو سینکڑوں میل تک پھیلتے چلے گئے ہیں۔اس علاقہ کو آج کل ربع خالی بھی کہتے ہیں۔ کوئی شخص اس صحرا میں داخل ہونے کی جرأت نہیں کرتا۔ اور جو چیز اس ریت میں گرپڑے وہ بھی ریت میں دھنس کر ریت ہی بن جاتی ہے۔جیسے کوئی چیز نمک کی کان میں گر پڑے تو وہ بھی نمک ہی بن جاتی ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ یہ سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ ہے۔ نذُر یہاں نذیر کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ کا انذار کوئی انوکھا انذار نہیں تھا، آگے اور پیچھے کے علاقوں میں بھی اسی طرح کے منذر آ چکے تھے۔  (تدبرِ قرآن)

23۔ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ۔ جہل و جہالت کا اردو میں ایک مفہوم یہ بھی چلا ہواہے کہ وہ ناخواندگی کا مُرادف اور حرف شناسی کی ضد  ہے،عربی کے تجھلون کو اس مفہوم سے کوئی واسطہ نہیں، عربی میں اس کا مفہوم ہے نادانی اور بے مغزی کی باتیں کرنا، ضد یا نفسانیت کی بناپر قبولِ حق سے اغماض کرنا، اور جاہلی مشرکانہ طریق زندگی پر اَڑے رہنا۔(تفسیر ماجدی)

26۔ اس سے حقیقت سامنے آئی کہ کان، آنکھ اور دل کے اندر بھی حقیقی روشنی اللہ تعالیٰ کی آیات ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ آیات الٰہی کے نور سے یہ منور نہ ہوں تو ان کی ساری رسائی صرف محسوسات تک محدود رہتی ہے اور ان محسوسات پر بھی وہ اپنا سارا زور محسوس فوائد ہی کے حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ اس محسوس پرستی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی یہ ساری اصلی صلاحیتیں بالکل کند ہو کے رہ جاتی ہیں۔ (تدبرِ قرآن)


چوتھا رکوع

 وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿27﴾ فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ﴿28﴾ وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ ﴿29﴾ قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿30﴾ یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿31﴾ وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿32﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿33﴾ وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ﴿34﴾ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿35ع الأحقاف 46﴾
27. اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں۔ 28. تو جن کو ان لوگوں نے تقرب (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افتراء کیا کرتے تھے۔ 29. اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں۔ 30. کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے۔ 31. اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔ 32. اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ 33. کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں۔ وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 34. اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو۔ 35. پس (اے محمدﷺ) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ (یہ قرآن) پیغام ہے۔ سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے۔

تفسیر آیات

29۔ بعثت محمدی ﷺ سے قبل جنوں کو کچھ آسمانی خبریں معلوم ہوجاتی تھیں۔  جب حضور ﷺ پر وحی آنا شروع ہوئی وہ سلسلہ تقریباً بند ہوگیا اور بہت کثرت سے شہاب کی مار پڑنے لگی۔ جنوں کو خیال ہوا کہ ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمانی خبروں پر بہت سخت پہرے بٹھلائے گئے ہیں۔ اسی کی جستجو کے لیے جنوں کے مختلف گروہ مشرق و مغرب میں پھیل پڑے۔ ان میں سے ایک جماعت " بطن نخلہ " کی طرف گزری۔ وہاں اتفاق سے اس وقت حضور پرنور ﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ نماز فجر ادا کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کی اس ٹکڑی کا رخ قرآن سننے کے لیے ادھر پھیر دیا۔ قرآن کی آواز انہیں بہت عجیب اور موثر و دلکش معلوم ہوئی اور اس کی عظمت وہیبت دلوں پر چھا گئی۔ آپس میں کہنے لگے کہ چپ رہو اور خاموشی کے ساتھ یہ کلام پاک سنو۔ آخر قرآن کریم نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ ہی نئی چیز ہے جس نے جنوں کو آسمانی خبروں سے روکا ہے۔۔۔۔۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ حضور ﷺ کو ان کے آنے جانے اور سننے سنانے کا پتہ نہیں لگا۔ ایک درخت نے باذن اللہ کچھ اجمالی اطلاع آپ ﷺ کو دی اور مفصل حال اس کے بعد وحی کے ذریعہ سے معلوم کرایا گیا۔ کما قال تعالیٰ (قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا) الجن، رکوع 1 )بعدہ بہت بڑی تعداد میں جن مسلمان ہوئے اور حضور ﷺ سے ملاقات کرنے اور دین سیکھنے کے لیے ان کے وفود حاضر خدمت ہوئے۔ خفاجی نے روایات کی بناء پر دعویٰ کیا ہے کہ چھ مرتبہ آپ ﷺ نے جنوں سے ملاقات کی۔(تفسیر عثمانی)

۔ اور ایک روایت میں ہے کہ یہ جنات مقام نصبین کے رہنے والے تھے اور کل نو یا بعض روایات کے مطابق سات تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو یہ خبر سنائی اور ایمان لانے کی ترغیب دی تو پھر ان میں سے تین سو اشخاص اسلام لانے کے لئے حاضر خدمت ہوئے (رواہ ابو نعیم والواقدی عن کعب الاحبار والروایات کلہا فی الروح) اور دوسری حدیثوں میں جنات کے آنے کی روایت دوسری طرح کی بھی آئی ہیں مگر چونکہ یہ متعدد واقعات مختلف اوقات میں پیش آئے ہیں اس لئے کوئی تعارض نہیں اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو طبرانی نے اوسط میں اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ جنات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بار بار حاضر ہوئے۔ (معارف القرآن)

ــــ یہ امر  واضح  رہے  کہ  کسی  اچھی  اور سچی  بات  پر  واہ واہ  کردینے   والے  تو  بڑے،  برے  زمانے  میں بھی  نکل  آتے  ہیں  لیکن   اس واہ واہ  کی اس وقت   تک  کوئی  قیمت  نہیں  جب تک  زندگی  کے اندر  اس سے کوئی   عملی  تبدیلی   واقع   نہ ہو  ۔ قرآن  کی فصاحت  و بلاغت  پر سر دھننے  والے   اور اسکی  تعریف  میں زمین  و آسمان  کے قلابے  ملانے  والے  اس زمانے    میں  بھی بہت  ہیں لیکن   اس  پر  عمل  کرنے  والے  اور اسکی  دعوت  کو پھیلانے  والے  عنقا  ہیں ۔  اسکے برعکس  جنات   کلام   سنتے  ہی اسکی  دعوت   پھیلانے  کیلئے   چل پڑے ۔(تدبر قرآن)

ـــ انسان سے پہلے زمین پر جنوں کی آبادی:۔ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سے دونوع ایسی ہیں جو شریعت الٰہی کی مکلف ہیں۔ایک جن، دوسرے انسان۔پھر انسانوں کی پیدائش سے پہلے جن ہی اس زمین پر آباد تھے۔اور ان کی طرف بھی پیغمبر مبعوث ہوتے تھے۔اور جس طرح انسانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی نافرمان رہی ہے۔ اسی طرح جنوں کی اکثریت بھی نافرمان ہی تھی اوراب بھی ہے۔۔۔۔جو روایات  حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مختلف کتب احادیث میں مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ جنوں کی پہلی حاضری کا یہ واقعہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے وادی نخلہ میں پیش آیاتھا۔اور ایک دوسری روایت کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ اہل طائف سے مایو س ہوکر مکہ معظمّہ کی طرف واپس آرہے تھے۔ راستہ میں آپ نے وادئ نخلہ میں قیام فرمایا۔ وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرأت سننے کے لیے وہاں ٹھہر گیا۔اس موقعہ پر جن رسول اللہؐ کے سامنے نہیں آئے تھے۔نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس کیا تھا بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبردی جیساکہ سیدنا ابن عباسؓ کی روایت یا مذکورہ حدیث نمبر 1 سے معلوم ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

30۔  کیا  حضور ؐ  جنات  کے بھی  اسی طرح  رسول  ہیں     جس طرح   ہمارے  ہیں؟  ۔۔۔۔رسولوں کے باب میں سنتِ الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ اسی قوم کے اندرسے مبعوث ہوئے ۔۔۔۔۔رسول کی ساری زندگی اس کے متبعین کے لیے نمونہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔لازماً جنوں اور انسانوں دونوں کی سرشت ،دونوں کے مزاج، دونوں کی معاشرتی،سماجی اور تمدنی ضروریات اور دونوں کے احکام و شرائع میں بڑا فرق ہوگا۔۔۔۔آنحضرتؐ کو جنوں کے مذکورہ بالا تاثرات کا علم وحی الٰہی کے ذریعہ سے ہوا۔۔۔۔۔بعض مرتبہ جنوں کے وفود آپؐ سے ملے یا ایک آدھ بار آپؐ ان کی دعوت پر ان کے پاس گئے۔۔۔۔۔جہاں تک کلیات ِ دین کا تعلق ہے وہ انسانوں اور جنوں کے درمیان بالکل مشترک ہیں۔۔۔۔۔جس طرح حضرت داؤدؑ کے نغماتِ حمد میں پرندے اور پہاڑ ان کی ہمنوائی کرتے تھے اسی طرح جنوں کے صالحین کی اس پارٹی نے قرآن سنا توعش عش کر اٹھی اور اس نے اپنی قوم کو بھی توحید اور آخرت پر ایمان لانے اور خدا کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی دعوت دی۔۔۔۔۔قرآن کی بنیادی دعوت انسانوں اور جنوں دونوں کے لیے یکساں ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ نبیؐ جنوں کے لیے بھی اسی طرح رسول تھے جس طرح انسانوں کے لیے تھے۔ جن لوگوں نے یہ بات کہی ہے ان کی بات اس سنت الہی کے خلاف ہے جو قرآن میں رسالت سے متعلق نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔۔۔۔۔امام ابوحنیفہؓ سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہ صالحین ِ جن کے لیے دخولِ جنت کے قائل نہیں تھے۔۔۔۔۔امام صاحب نے اگر فرمائی تو یہ بات فرمائی ہوگی  کہ صالحینِ جن اس جنت میں نہیں جائیں گے جو انسانوں کے لیے ہے۔(تدبر قرآن)

۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہی جن پہلے سے حضرت موسیٰ اور کتب آسمانی پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ قرآن سننے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ یہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لیے وہ اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول ﷺ پر بھی ایمان لے آئے۔ (تفہیم القرآن)

ـــ حضرت موسی پر نزول تورات شریعت ہے اور حضرت عیسی پر شریعت کی بجائے حکمت کا نزول ہوا۔(بیان القرآن)

31۔آیت اس باب میں تو صاف و صریح ہے کہ جنات ایمان لے آنے کے بعد عذابِ الٰہی سے بچ جائیں گے، لیکن اس باب میں ناطق و صریح نہیں کہ ایمان لانے پر جنت میں بھی داخل ہوجائیں گے ،ان کے دخولِ جنت کے باب میں خاموشی ہے، امام ابوحنیفہؒ سے اسی غایت احتیاط کی بناپر جنات کے دخولِ جنت کے بارے میں سکوت و توقف منقول ہے۔(تفسیر ماجدی) 

۔ ایک اور موقع پر بھی رات کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور مکہ معظمہ میں حجون کے مقام پر جنوں کے ایک مقدمہ کا آپ نے فیصلہ فرمایا۔ اس کے سالہا سال بعد ابن مسعود نے کوفہ میں جاٹوں کے ایک گروہ کو دیکھ کر کہا حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا وہ ان لوگوں سے بہت مشابہ تھا۔ (ابن جریر) (تفہیم القرآن)

35۔ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ۔  اس میں مِنَ الرُّسُلِ کا حرف مِن محققین کے نزدیک بیانیہ ہے تبعیض کے لئے نہیں۔ معنی یہ ہیں کہ تمام رسول جو صاحب عزم و ہمت ہی ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ صاحب عزم و ہمت ہونا سبھی انبیاء کی صفت ہے۔ البتہ رسولوں کے درمیان صفات کے درجات میں تفاضل اور کمی بیشی خود قرآن کے ارشاد سے ثابت ہے۔ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ۔  اس لئے جو انبیاء (علیہم السلام) صفت عزم و ہمت میں دوسروں سے زیادہ امتیاز رکھتے ہیں خاص ان رسولوں کے لئے یہ لقب کے طور پر مشہور ہوگیا اور ان کی تعیین میں بھی اختلاف ہے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ لقب اولو العزم جن کو دیا گیا ہے یہ وہ حضرات ہیں جن کا ذکر سورة احزاب کی اس آیت میں ہے۔  وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ ۪ الخ۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی عیش و عشرت اور تنعم محمد اور آل محمد کے شایان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اولو العزم سے بجز صبر کے اور کسی چیز پر راضی نہیں اور مجھے یہی حکم دیا ہے کہ فاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ۔ (معارف القرآن)