47 - سورة محمد (مدنیہ)
| رکوع - 4 | آیات - 38 |
مضمون: حق کی راہ روکنے کے لیے مشرکین اور ان کے ہمدردوں نے جو کوششیں کی ہیں وہ سب رائگاں جائیں گی اور اہل ایمان کی کوششیں اس دنیا میں تو بار آور ہوں گی ہی،آخرت میں بھی وہی سرخرو ہوں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔۔۔۔ سورۃ احقاف کی آخری آیت میں کفار کے لیے جو وعید ہے اس سورۃ میں اس کا عملی ظہور ہے۔ (تدبرِ قرآن)
مرکزی مضمون: دنیا اور آخرت کی کامیابی کیلئے ، اللہ کی راہ میں کافروں کے ساتھ مال کا جہاد ( یعنی انفاق ) اور جان کا جہاد ( یعنی قتال ) ضروری ہے ۔
نام : سورۂ محمد کے دو نام ہیں اور دونوں ہی اس سورۂ میں آئے ہیں ، ایک محمد جو آیت نمبر 2 سے لیا گیا ہے اور دوسرا القتال جو اس سورہ کا عمومی مضمون ہے اور آیت نمبر 20 میں آیا ہے ۔
شان نزول : جنگ بدر ( رمضان سن 2 ھ ) سے پہلے سن 2 ھ کے اوائل میں نازل ہوئی ۔ اس میں جنگ سے پہلے مسلمانوں کو اس کیلئے تیار کیا گیا ۔
نظم کلام: سورۂ سبا۔۔۔۔ ( پانچواں گروپ - توحید ) (سورۂ محمد ، الفتح ، الحجرات گروپ کی مدنی سورتیں )
ترتیب مطالعہ و اہم مضامین :(1 ) ر- 1 ( کفار سے اہل ایمان کا مقابلہ اور جہاد کی مصلحت ) (2 ) ر- 2 ( مومنوں کے درجات ) (3 ) ر- 3 /4 (منافقین کی بزدلی اور ان کا انجام )
پہلا رکوع |
| اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ ﴿1﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ ﴿2﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ ﴿3﴾ فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ ﴿4﴾ سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ ﴿5﴾ وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ﴿6﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ ﴿7﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ ﴿8﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ﴿9﴾ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا ﴿10﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ ۧ ۧ ﴿11ع محمد 47﴾ |
| 1. جن لوگوں نے کفر کیا اور (اَوروں کو) خدا کے رستے سے روکا۔ خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے۔ 2. اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمدﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی۔ 3. یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اس لئے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح خدا لوگوں سے ان کے حالات بیان فرماتا ہے۔ 4. جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ 5. ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کر دے گا۔ 6. اور ان کو بہشت میں جس سے انہیں شناسا کر رکھا ہے داخل کرے گا۔ 7. اے اہل ایمان! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔ 8. اور جو کافر ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔ اور وہ ان کے اعمال کو برباد کر دے گا۔ 9. یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے بھی ان کے اعمال اکارت کردیئے۔ 10. کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی۔ اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا۔ 11. یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔ |
تفسیر آیات
1۔ اصل میں " صَدُّوْا عَنْ سَبِیل اللہِ " کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ صَدّ عربی زبان میں لازم اور متعدی، دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ان الفاظ کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خود اللہ کے راستے پر آنے سے باز رہے، اور یہ بھی کہ انہوں نے دوسروں کو اس راہ پر آنے سے روکا۔ دوسروں کو خدا کی راہ سے روکنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی زبردستی کسی کو ایمان لانے سے روک دے۔ دوسری صورت یہ کہ وہ ایمان لانے والوں پر ایسا ظلم و ستم ڈھائے کہ ان کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور دوسروں کے لیے ایسے خوفناک حالات میں ایمان لانا مشکل ہوجائے۔ تیسری صورت یہ کہ وہ مختلف طریقوں سے دین اور اہل دین کے خلاف لوگوں کو ورغلائے اور ایسے وسوسے دلوں میں ڈالے جس سے لوگ اس دین سے بدگمان ہوجائیں۔ اس کے علاوہ ہر کافر اس معنی میں خدا کی راہ سے روکنے والا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کفر کے طریقے پر پرورش کرتا ہے اور پھر اس کی آئندہ نسل کے لیے دین آبائی کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہر کافر معاشرہ خدا کے راستے میں ایک سنگ گراں ہے، کیونکہ وہ اپنی تعلیم و تربیت سے، اپنے اجتماعی نظام اور رسم و رواج سے، اور اپنے تعصبات سے دین حق کے پھیلنے میں شدید رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
2۔ مُحَمَّد۔مسمی کی محبوبیت و مرجعیت سے قطع نظر خود یہ اسم پاک بھی کتنی خوبیوں کا جامع ہے!عرب میں چونکہ یہ روایت آپؐ کی ولادت سے قبل ہی پھیل چکی تھی کہ نبی آخر الزماں اسی اسم سے موسوم ہوں گے، اس لیے بہتوں نے اپنی اولاد کا نام اسی لالچ میں محمد رکھنا شروع کردیا تھا،چنانچہ سفیان بن مجاشع کی بابت منقول ہے کہ جب وہ ملک شام میں ایک راہب کے ہاں اترے اور راہب نے ان کی خوش تقریری اور عقل و فہم سے مسرور ہوکر ان کا نسب پوچھا ،اور انہوں نے اپنے کو قبیلۂ مضر کی جانب منسوب بتایا،توراہب نے خبردی کہ عنقریب عرب میں ایک پیمبر کا ظہور ہوگا، جن کا نام محمد ہوگا۔ اس پر سفیان نے اپنے بیٹے کانام محمد رکھ لیا۔(ابن حبیب،ص:130)۔ ابن حبیب نے اس طرح کے چھ نام اور درج کیے ہیں : (1)محمد بن بربن عتوارۃ(2)محمد بن خزاعی(3)محمد بن حمران بن مالک(4)محمد بن عقبہ بن امیہ(5)محمد بن مسلمہ انصاری(6)محمد بن الحرماز بن مالک۔اور محمد بن خزاعی کے لیے لکھا ہے کہ وہ لشکر ابرہہ میں ہاتھی لیے ہوئے تھا۔اور ابن سعد نے بھی الطبقات الکبری(جزء اول)میں ایک مستقل عنوان کے ماتحت ایسے لوگوں کے نام لکھے ہیں،جن کا نام امید نبوت محمدی میں جاہلیت میں محمد رکھ دیے گئے تھے، اس فہرست کے نام حسب ذیل ہیں:۔ (1)محمد بن خزاعی(2)محمد بن سفیان بن مجاشع(3)محمد الحیثمی(4)محمد الاسیدی(5)محمد النقمی۔(تفسیر ماجدی)
ـــــ اعمال سے مراد کفار کی وہ سرگرمیاں ہیں جو انہوں نے اللہ کے بندوں کو ایمان اور عمل صالح کی راہ سے روکنے کے لیے کیں۔'حال سنوارنے'سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ظاہرو باطن کے اور دنیا و آخرت دونوں کے تمام احوال کو درست کردےگا۔یہ وعدہ حتمی ہے گویا پورا ہوچکا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ اگرچہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہنے کے بعد اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّ لَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کہنے کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایمان لانے میں محمد ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیمات پر ایمان لانا آپ سے آپ شامل ہے، لیکن اس کا الگ ذکر خاص طور پر یہ جتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے مبعوث ہوجانے کے بعد کسی شخص کا خدا اور آخرت اور پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کا ماننا بھی اس وقت تک نافع نہیں ہے جب تک کہ وہ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ مان لے۔ یہ تصریح اس لیے ضروری تھی کہ ہجرت کے بعد اب مدینہ طیبہ میں ان لوگوں سے بھی سابقہ در پیش تھا جو ایمان کے دوسرے تمام لوازم کو تو مانتے تھے مگر محمد ﷺ کی رسالت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو گناہ ان سے سرزد ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وہ سب ان کے حساب سے ساقط کردیے۔ اب ان گناہوں پر کوئی باز پرس ان سے نہ ہوگی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ عقائد اور خیالات اور اخلاق اور اعمال کی جن خرابیوں میں وہ مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے وہ ان سے دور کردیں۔ ان کے ذہن بدل گئے۔ ان کے عقائد اور خیالات بدل گئے۔ ان کی عادتیں اور خصلتیں بدل گئیں۔ ان کی سیرتیں اور ان کے کردار بدل گئے۔ اب ان کے اندر جاہلیت کی جگہ ایمان ہے اور بد کرداریوں کی جگہ عمل صالح۔ (تفہیم القرآن)
3۔ اصل الفاظ ہیں " کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہ للنَّاسِ اَمْثَالَھُمْ "۔ اس فقرے کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ " اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں دیتا ہے "۔ لیکن اس لفظی ترجمہ سے اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح فریقین کو ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک بتائے دیتا ہے۔ ایک فریق باطل کی پیروی پر مصر ہے اس لیے اللہ نے اس کی ساری سعی و عمل کو لا حاصل کردیا ہے۔ اور دوسرے فریق نے حق کی پیروی اختیار کی ہے اس لیے اللہ نے اس کو برائیوں سے پاک کر کے اس کے حالات درست کردیے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
4۔ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کے سلسلہ میں جو پہلی آیت نازل ہوئی وہ سورہ الحج کی آیت نمبر 39 ہے پھر اس سلسلہ میں سورۃ البقرۃ کی آیات نمبر 190 تا 193 ہیں۔(تیسیر القرآن)
۔یعنی اللہ تعالیٰ کو اگر محض باطل پرستوں کی سرکوبی ہی کرنی ہوتی تو وہ اس کام کے لیے تمہارا محتاج نہ تھا۔ یہ کام تو اس کا یک زلزلہ یا ایک طوفان چشم زدن میں کرسکتا تھا۔ مگر اس کے پیش نظر تو یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو حق پرست ہوں وہ باطل پرستوں سے ٹکرائیں اور ان کے مقابلہ میں مجاہدہ کریں، تاکہ جس کے اندر جو کچھ اوصاف ہیں وہ اس امتحان سے نکھر کر پوری طرح نمایاں ہوجائیں اور ہر ایک اپنے کردار کے لحاظ سے جس مقام اور مرتبے کا مستحق ہو وہ اس کو دیا جائے۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہ امر واضح رہے کہ جہاں تک مشرکین عرب یا بالفاظ دگر مشرکین بنی اسماعیل کا تعلق ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کردی اس وجہ سے دوسرے غیر مسلموں کی طرح ان کے لئے یہ رعایت نہیں تھی کہ وہ اسلامی حکومت کے اندر ذمی یا معاہد بن کر رہ سکیں یا ان کو غلام بنایا جاسکے۔ ان کے لئے صرف دو ہی راستے تھے یا اسلام قبول کریں یا تلوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذٰلِكَ ایک جملہ کا قائم مقام ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ یہ کام ہے جو تمہارے کرنے کا ہے۔ یا یہ کام ہے جس کے لئے کمر ہمت باندھو یا یہ کام ہے جس کے لئے تمہیں ہدایت کی جاتی ہے۔ اس قسم کے اجمال کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر تفصیل بھی سما جاتی ہے اور جملہ کے اندر زور بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
ــــ ضَرْب ہے مصدر ،لیکن معنی امر کے دے رہاہے۔۔۔۔۔الْحَرْبُ۔ یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ قرآن مجید نے جہاں کہیں بھی حرب یا اس کے مشتقات کا استعمال کیا ہے، کافروں ہی کی جنگ کے سلسلے میں کیا ہے،مسلمانوں کی جنگ کے لیے قتال وغیرہ دوسرے الفاظ آئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔ قوانینِ جنگ کے بارے میں تفصیلی ہدایات ۔ حاشیہ نمبر 8: صفحہ 11 تا 18 (تفہیم القرآن)
6۔ یہ ہے وہ نفع جو راہ خدا میں جان دینے والوں کو حاصل ہوگا۔ اس کے تین مراتب بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ دوسرے یہ کہ ان کا حال درست کر دے گا۔ تیسرے یہ کہ ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ پہلے ہی ان کو واقف کرا چکا ہے۔ (تفہیم القرآن)
9۔ ۔۔۔۔مثلاً حرم کا اہتمام و انتظام اور حجاج کی خدمت مشرکین کو اپنی ان خدمات پر بڑا ناز تھا۔ لیکن یہ تمام دنیا داریاں خدا کی میزان میں بالکل بےوزن ثابت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول صرف وہی اعمال ہوتے ہیں جو اس کے شرائط پر انجام دیئے جائیں وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کردیا جائے وہ ممنون ہو کر اس کو قبول کرلے۔ (تدبرِ قرآن)
11۔ غزوہ احد کے اختتام پر ابوسفیان کی نعرہ بازی اور اس کا جواب:۔ یعنی کافر یہ سمجھتے ضرورہیں کہ ان کی دیویاں اور دیوتاان کی مدد کو پہنچتے ہیں حالانکہ یہ محض ان کا وہم ہوتاہے۔دورنبویؐ کے حق و باطل کے معرکوں میں صرف غزوہ احد ہی وہ جنگ ہے جس میں ابتداء مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی غلطی سے عارضی طورپر شکست سے دوچار ہونا پڑا اور آخر میں میدان برابر رہا۔ابوسفیان نے اپنی اتنی سی کامیابی کو بھی غنیمت سمجھ کر اپنے سب سے بڑے دیوتا اور بت ہبل کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ الھبل(ہبل سربلندہوا)تو رسول اللہؐ نے مسلمانوں سے کہااسے جواب یہ دو! اللہ اعلیٰ واجل(سربلند تو صرف اللہ ہے اور وہی بزرگ و برتر ہے)پھر ابوسفیان نے کہا:لناعزیٰ ولاعزی لکم(ہمارے لیے تو عزت دینے والی دیوی عزیٰ ہے اورتمہارے لیے کوئی عزیٰ نہیں)آپؐ نے مسلمانوں سےفرمایا کہ کہو: (اللہ مولٰنا ولا مولی لکم)(ہمارا تو اللہ حامی و ناصر ہے لیکن تمہارا کوئی حامی و ناصر نہیں)آپؐ کا جواب اسی آیت کی تفسیر تھا۔چنانچہ ہوابھی ایسا ہی ۔ابوسفیان جب احدکے میدان کو چھوڑ کر کئی میل مکہ کی طرف جاچکاتو اسے خیال آیا کہ اس جنگ کا فیصلہ تو کچھ بھی نہ ہوا لہذا واپس جاکر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرکے اسے نتیجہ خیز بنانا چاہئے۔لیکن اللہ نے مسلمانوں کی نصرت کا یہ سبب پیدا کردیا کہ مسلمان خود اس سے پہلے ہی ابوسفیان کے لشکر کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ جب ابوسفیان کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو اللہ نے کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور انہوں نے مکہ کی راہ لی۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ ﴿12﴾ وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ ﴿13﴾ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴿14﴾ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ ﴿15﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ ﴿16﴾ وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ ﴿17﴾ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ ﴿18﴾ فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ ۧ ۧ ﴿19ع محمد 47﴾ |
| 12. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ 13. اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں۔ ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔ 14. بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھاۓ جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں۔ 15. جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ 16. اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ 17. اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے۔ 18. اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو۔ سو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہوسکے گی؟)۔ 19. پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے۔ |
تفسیر آیات
۔ دنیا کی ہرمادی نعمت فناپذیر ہوتی ہے۔پانی سڑجاتاہے،دودھ بگڑ جاتاہے،شراب میں تلخی ہوتی ہے،شہد میں گدلاپن شامل رہتاہے۔۔۔۔ایک مورخ ہیتی (Hitie) نے اپنی تاریخ عرب (طبع پنجم،ص :102)میں لکھا ہے کہ قرآن نے یہ جو نقشہ جنت کا کھینچا ،اس کا دنیوی مصداق عرب کا شہر طائف ہے۔
۔ حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اس شراب کو " انسانوں نے اپنے قدموں سے روند کر نہ نچوڑا ہوگا "۔ یعنی وہ دنیا کی شرابوں کی طرح پھلوں کو سڑا کر اور قدموں سے روند کر کشید کی ہوئی نہ ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی چشموں کی شکل میں پیدا کرے گا اور نہروں کی شکل میں بہا دے گا۔ پھر اس کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ " وہ پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی "، یعنی دنیا کی شرابوں کی طرح وہ تلخ اور بو دار نہ ہوگی جسے کوئی بڑے سے بڑا شراب کا رسیا بھی کچھ نہ کچھ منہ بنائے بغیر نہیں پی سکتا۔ سورة صافات میں اس کی مزید تعریف یہ کی گئی ہے کہ اس کے پینے سے نہ جسم کو کوئی ضرر ہوگا نہ عقل خراب ہوگی (آیت 47) ، اور سورة واقعہ میں فرمایا گیا ہے کہ اس سے نہ درد سر لاحق ہوگا نہ آدمی بہکے گا (آیت 19)۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ شراب نشہ آور نہ ہوگی بلکہ محض لذت و سرور بخشنے والی ہوگی۔۔۔۔ حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ " وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا ہوا شہد نہ ہوگا "۔ یعنی وہ بھی چشموں سے نکلے گا اور نہروں میں بہے گا۔ اسی لیے اس کے اندر موم اور چھتے کے ٹکڑے اور مری ہوئی مکھیوں کی ٹانگیں ملی ہوئی نہ ہوں گی، بلکہ وہ خالص شہد ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہوا ہے ان کے خالص اور بےآمیز ہونے کو خاص طور پر نمایاں فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں سب کا اصلی منبع جنت ہی ہے لیکن اس عالم ناسوت میں جب ہمیں وہ ملتی ہیں تو اتنے مراحل اور اتنے وسائل و وسائط سے گزر کر ملتی ہیں کہ ان کی حقیقت و ماہیت بھی بالکل بدل جاتی ہے اور ان کی شکل و صورت بھی بالکل مسخ ہو کے رہ جاتی ہے۔۔۔۔ علی ہذا القیاس دودھ کو لیجیے اس دنیا میں یہ جن راستوں سے گزر کر ہمیں ملتا ہے اس کے متعلق خود قرآن کا بیان ہے کہ وہ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ (النحل :66) یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ ۔۔۔۔۔آیت 14 کے ساتھ اس آیت کے ربط پر اگر اچھی طرح تدبر کیجیے تو یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں، ان کی اصل شکل میں، اپنے ان بندوں کے لئے خاص کر رکھی ہیں جو اپنی فطرت کو جس کو اللہ تعالیٰ نے فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا(الروم :30) سے تعبیر فرمایا ہے، ہر قسم کے غلل و فساد سے محفوظ رکھیں گے اور قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ ۔۔۔۔۔عسل کے ساتھ مصفی کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس دنیا میں جو شہد میسر آتا ہے وہ بہر حال مکھیوں ہی کے واسطہ سے میسر آتا ہے جو ان کے غل و غش سے پاک نہیں ہوسکتا۔ جنت کا شہد اپنے اصل منبع سے نکلا ہوا ہوگا۔ اس پر کوئی مگس کی قے ہونے کی پھبتی چست نہ کرسکے گا۔ ۔۔۔۔وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لئے کہ خدا کی مغفرت اور خوشنودی ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن بھی ہوگی اور اسی سے آگے کے مدارج کی راہیں بھی کھلیں گی۔ (تدبرِقرآن)
17۔ یعنی جس تقویٰ کی اہلیت وہ اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کی توفیق انہیں عطا فرما دیتا ہے۔(تفہیم القرآن)
18۔ قیامت کی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی آمد کا وقت اب قریب آ لگا ہے ان میں سے ایک اہم علامت خدا کے آخری نبی کا آجانا ہے جس کے بعد پھر قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں ہے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
19۔لِذَنْۢبِكَ۔ذنب کا لفظ رسولؐ سے متعلق قرآن کریم میں جابجا آیا ہے۔ایک اصولی بات ہمیشہ یادرہے کہ ذنب معصوم کے سلسلے میں جب بھی آئے گا، مراد اس سے صرف ذنب صوری یا اجتہادی ہوگا (ورنہ کلام میں صریح تناقض واقع ہوگا)اس کے بعد ان شاء اللہ کوئی اشکال نہ رہے گا۔(تفسیر ماجدی)
۔ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمام بندگان خدا سے بڑھ کر جو بندہ اپنے رب کی بندگی بجا لانے والا تھا، اس کا منصب بھی یہ نہ تھا کہ اپنے کار نامے کے فخر کا کوئی شائبہ تک اس کے دل میں راہ پائے، بلکہ اس کا مقام بھی یہ تھا کہ اپنے ساری عظیم القدر خدمات کے باوجود اپنے رب کے حضور اعتراف قصور ہی کرتا رہے۔ اسی کیفیت کا اثر تھا جس کے تحت رسول اللہ ﷺ ہمیشہ بکثرت استغفار فرماتے رہتے تھے۔ ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد کی روایت میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہوا ہے کہ " میں ہر روز سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں "۔ (تفہیم القرآن)
۔یہاں نبی ﷺ کی طرف ذنب کی نسبت اول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ براہ راست اس کے ذمہ دار کی حیثیت سے۔ پھر انبیاء (علیہم السلام) سے جو خطائیں صادر ہوتی ہیں وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتیں بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اتباع حق میں اس کے متعین حدود سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس قسم کا تجاوز بجائے خود کوئی معصیت نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لئے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
تیسرا رکوع |
| وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ ﴿20﴾ طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ ﴿21﴾ فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ ﴿22﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ ﴿23﴾ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَْمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا ﴿24﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ ﴿25﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ ﴿26﴾ فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ ﴿27﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ ۧ ۧ ﴿28ع محمد 47﴾ |
| . اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے۔ 21. (خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا۔ 22. (اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو۔ 23. یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔ 24. بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔ 25. جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھر گئے۔ شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا۔ 26. یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اُتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے۔ اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے۔ 27. تو اُس وقت (ان کا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے اور ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے جائیں گے۔ 28. یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اُس نے بھی ان کے عملوں کو برباد کر دیا۔ |
تفسیر آیات
20 ۔ سورۂ محمد ؐ ، سورۂ بقرہ کا ضمیمہ ہے ۔ جسے اقدام قتل کو نمایاں کرنے کیلئے رکھا گیا اور قتال کی اجازت دی گئی۔ جب جہاد کا حکم ہوا تو منافقین پر بہت بھاری ہوا اور وہ صلح کے حق میں دلائل دینے لگے۔ اس آیت میں صلح جو اور صلح کن منافقین کو اور انکی بزدلی کو ننگا کردیا گیا ( آیت : 20 ) ۔ مشرکین مکہ کو مرعوب کرنے کے لیے حضور ؐ نے چھوٹے چھوٹے آٹھ اقدام کئے جن میں سے چار میں حضور ؐ خود شریک ہوئے - قریش کی تجارتی لائف لائن کے قرب و جوار میں حضور ؐ نے قبائل سے دو طرح کے معاہدات کیے (i) ساتھ دینے کا (ii)یا کسی کا بھی ساتھ نہ دینا ۔ (بیان القرآن)
21۔ طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ مبتداء کے محل میں ہے اور خبر یہاں بر بنائے قرینہ و بتقاضائے بلاغت محذوف ہے۔ ہم جگہ جگہ عربیت کے اس اسلوب کا حوالہ دیتے آ رہے ہیں کہ جب مخاطب کی توجہ پوری طرح مبتداء پر مرکوز کرانی ہو تو خبر کو حذف کردیتے ہیں۔ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ سے مراد سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کا کلمہ ہے۔ اللہ و رسول کے معاملے میں یہی کلمہ دستور اور اہل ایمان کی روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
22۔اس ارشاد کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر اس وقت تم اسلام کی مدافعت سے جی چراتے ہو اور اس عظیم الشان اصلاحی انقلاب کے لیے جان و مال کی بازی لگانے سے منہ موڑتے ہو جس کی کوشش محمد ﷺ اور اہل ایمان کر رہے ہیں، تو اس کا نتیجہ آخر اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ تم پھر اسی جاہلیت کے نظام کی طرف پلٹ جاؤ جس میں تم لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہے ہو، اپنی اولاد تک کو زندہ دفن کرتے رہے ہو، اور خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھرتے رہے ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب تمہاری سیرت و کردار کا حال یہ ہے کہ جس دین پر ایمان لانے کا تم نے اقرار کیا تھا اس کے لیے تمہارے اندر کوئی اخلاص اور کوئی وفاداری نہیں ہے، اور اس کی خاطر کوئی قربانی دینے کے لیے تم تیار نہیں ہو، تو اس اخلاقی حالت کے ساتھ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں اقتدار عطا کر دے اور دنیا کے معاملات کی باگیں تمہارے ہاتھ میں آجائیں تو تم سے ظلم و فساد اور برادر کشی کے سوا اور کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ آیت اس امر کی صراحت کرتی ہے کہ اسلام میں قطع رحمی حرام ہے۔ دوسری طرف مثبت طریقہ سے بھی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کو بڑی نیکیوں میں شمار کیا گیا ہے اور صلح رحمی کا حکم دیا گیا ہے۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو البقرہ، 83۔ 177۔ النساء، 8۔36 ، النحل، 90۔ بنی اسرائیل، 26۔ النور، 22 )۔ رحم کا لفظ عربی زبان میں قرابت اور رشتہ داری کے لیے استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک شخص کے تمام رشتہ دار، خواہ وہ دور کے ہوں یا قریب کے، اس کے ذوی الارحام ہیں۔ جس سے جتنا زیادہ قریب کا رشتہ ہو اس کا حق آدمی پر اتنا ہی زیادہ ہے اور اس سے قطع رحمی کرنا اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔ صلہ رحمی یہ ہے کہ اپنے رشتہ دار کے ساتھ جو نیکی کرنا بھی آدمی کی استطاعت میں ہو اس سے دریغ نہ کرے۔ اور قطع رحمی یہ ہے کہ آدمی اس کے ساتھ برا سلوک کرے، یا جو بھلائی کرنا اس کے لیے ممکن ہو اس سے قصداً پہلو تہی کرے۔ حضرت عمر ؓ نے اسی آیت سے استدلال کر کے ام ولد کی بیع کو حرام قرار دیا تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس سے اتفاق فرمایا تھا۔ حاکم نے مستدرک میں حضرت بریدہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک روز میں حضرت عمر ؓ کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ یکایک محلہ میں شور مچ گیا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک لونڈی فروخت کی جا رہی ہے اور اس کی لڑکی رو رہی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اسی وقت انصار و مہاجرین کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ جو دین محمد ﷺ لائے ہیں کیا اس میں آپ حضرات کو قطع رحمی کا بھی کوئی جواز ملتا ہے ؟ سب نے کہا نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا پھر یہ کیا بات ہے کہ آپ کے ہاں ماں کو بیٹی سے جدا کیا جا رہا ہے ؟ اس سے بڑی قطع رحمی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لوگوں نے کہا آپ کی رائے میں اس کو روکنے کے لیے جو صورت مناسب ہو وہ اختیار فرمائیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے تمام بلاد اسلامیہ کے لیے یہ فرمان جاری کردیا کہ کسی ایسی لونڈی کو فروخت نہ کیا جائے جس سے اس کے مالک کے ہاں اولاد پیدا ہوچکی ہو، کیونکہ یہ قطع رحمی ہے اور یہ حلال نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ اس دین کو مستحکم کرنے کے لئے جی جان کی بازی لگاؤ جو شرک اور قبائلی و گروہی عصبیات جاہلیت کو ڈھاکر تمام بنی آدم کو اللہ کی بندگی و اطاعت اور وحدت آدم کے عقیدے پر مجتمع کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ اپنی اسی منافقانہ پالیسی کی وجہ سے اپنےآپ کو مصلح اور امن پسند کہتے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ مسلمان ان کی یہ پالیسی اپنا لیں تاکہ ان کے نفاق پر پردہ بھی پڑا رہے اور اسلام کے دشمنوں کا مقصد بھی پورا ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
۔کیونکہ ام الولد کی فروخت کی تحریم سنت نبوی سے ثابت ہے۔اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:۔(1)سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ"جس شخص نے اپنی لونڈی سے مباشرت کی۔پھر اس سے اس کا بچہ پیدا ہوگیا تو وہ لونڈی اس کے مرنے کے بعد آزاد ہوگی"(احمد۔ابن ماجہ۔بحوال نیل الاوطارج6/ص:231)(2)سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کے پاس ام ابراہیم(ماریہ قبطیہ)کا ذکر کیا۔تو آپ نے فرمایا: "اس کا بچہ اس کی آزادی کا سبب بن گیا"(ابن ماجہ،دارقطنی بحوالہ ایضاً)(3)سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبیؐ نے اولاد والی لونڈیوں کو بیچنے سے منع فرمایا اور کہا کہ وہ نہ بیچی جاسکتی ہیں نہ ہبہ کی جاسکتی ہیں اور نہ ترکہ میں شمار ہوسکتی ہیں۔ جب تک ایسی لونڈی کا مالک زندہ ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتاہے اور جب وہ مرجائے تو وہ لونڈی آزاد ہے"(مؤطا امام مالک،دارقطنی بحوالہ ایضاً)۔ان احادیث میں موطاامام مالک اول درجہ کی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ابن ماجہ درجہ دوم اور دار قطنی درجہ سوم میں۔تاہم یہ سب احادیث ایک دوسرے کی تائید کررہی ہیں اور مرفوع ہیں۔ اور اس مسئلہ کے جملہ پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی ہیں یعنی ایسی لونڈی کا مالک خود بھی اپنی زندگی میں اسے نہ فروخت کرسکتاہے اور نہ ہبہ کرسکتاہے۔(تیسیر القرآن)
24 ۔ اگر قرآن سمجھنے کی توفیق ملتی تو بآسانی سمجھ لیتے کہ جہاد میں کس قدر دنیوی و اخروی فوائد ہیں ۔(تفسیر عثمانی)
۔فرمایا کہ دلوں کو زندہ کرنے والی چیز قرآن ہے بشرطیکہ یہ اس پر تدبر کرتے لیکن یہ ناقدرے لوگ کبھی اس پر غور نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دلوں جو جو زنگ لگتے ہیں وہ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گئے ہیں کہ جس طرح قفل سے دروازے بند ہوجاتے ہیں اسی طرح ان کے دل بھی اس زنگ سے بند ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔لفظ قلوب کی تنکیر یہاں اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے۔۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
۔ "اَقْفَالُهَا" سے مراد وہ چیزیں ہیں جو دلوں کو روگ یا زنگ کی طرح لگتی ہیں ۔ مثلا دنیا کی محبت ، موت کا ڈر ، بخل ، بزدلی ، کینہ ، حسد ، نفاق ، کبر و غرور۔ اگر ریاست اور امارت حاصل ہو توکبر و غرور کا بھی اضافہ ہو جاتا ہےاور قساوت بھی اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہو جاتی ہے۔(تدبرقرآن)
25 ۔ نفاق کاارتداد ہونا قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی واضح ہے۔ سورة مائدہ آیت 54 میں انہی منافقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ “ (اے ایمان لانے والو جو تم میں سے اپنے دین سے برگشتہ ہونا چاہتا ہے وہ برگشتہ ہوجائے، خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور جو اس سے محبت کریں گے)۔۔۔۔۔ املٰی کا فاعل یہاں اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن میں یہ فعل اللہ تعالیٰ ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور اسی کے لئے اس کا استعمال موزوں ہے۔ شیطان کی طرف اس کی نسبت کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ قرینہ موجود ہو تو مجر د فعل ہی بتا دیتا ہے کہ اس کا فاعل کون ہے۔ اس کی متعدد نظیریں قرآن میں موجود ہیں۔ سورة یوسف کی آیت 110 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ (تدبر قرآن)
27۔ موت سے فرار ناممکن ہے اور عذاب قبر کا ثبوت :۔ یعنی آج تو جہاد سے گریز کی راہ اختیار کرکے اپنی جانوں کو بچانے کی فکر میں لگے ہوئےہیں مگر اس دن اپنے آپ کو کیسے بچاسکیں گے جب فرشتے ان کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے اور لوہے کےگرزوں سے انہیں خوب ماررہے ہوں گے۔یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے عذاب قبر یا عذاب برزخ ثابت ہوتاہے ۔نیز یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ یہ عذاب قیامت کے دن کے عذاب سے پہلے ْہوگا۔ قیامت کے عذاب کی نسبت سے ہلکا ہوگا اور مرنے کے ساتھ ہی شروع ہوجائے گا۔(تیسیر القرآن)
28۔ اعمال سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے۔ ان کی نمازیں، ان کے روزے، ان کی زکوٰۃ، غرض وہ تمام عبادتیں اور وہ ساری نیکیاںْ جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے اعمال خیر میں شمار ہوتی تھیں۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ ﴿29﴾ وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ ﴿30﴾ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ ﴿31﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ ﴿32﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ ﴿33﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ﴿34﴾ فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ ﴿35﴾ اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ ﴿36﴾ اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ ﴿37﴾ هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ ۧ ۧ ﴿38ع محمد 47﴾ |
| 29. کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا؟ 30. اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے! اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے۔ 31. اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں۔ اور تمہارے حالات جانچ لیں۔ 32. جن لوگوں کو سیدھا رستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے۔ اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کردے گا۔ 33. مومنو! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو۔ 34. جو لوگ کافر ہوئے اور خدا کے رستے سے روکتے رہے پھر کافر ہی مرگئے خدا ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ 35. تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ اور تم تو غالب ہو۔ اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا۔ 36. دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا۔ اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا۔ 37. اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کرکے رہے۔ 38. دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو۔ تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے۔ |
تفسیر آیات
30۔(اس لیے مومنین کے لیے ایمان پر جزا اور منافقین کے لیے نفاق پر سزا یقینی ہے) وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ۔یعنی باوجود ہمارے مفصل نہ بتانے کے آپ اپنی فراست ایمانی کی مدد سے ان کے لب و لہجہ پر غور کرنے سے اب بھی انہیں پہچان لیں گے۔صوفیۂ عارفین نے کہاہے کہ یہ آیت اصل ہے فراست کی،لیکن فراست کی بناپر جزم جائز نہیں۔(تفسیر ماجدی)
31۔ جہاد آزمائش کیلئے ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ کون اللہ کے راستے میں لڑنے والے اور امتحانات میں ثابت قدم رہنے والے ہیں اور کون ایسے نہیں ۔ علاوہ ازیں تاکہ سب کے اندرونی حالات کی خبر یں عملاً محقق ہوجائیں ۔ (تفسیرعثمانی)
32۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہ ان منافقین کے بارے میں ہے جنکے بارہ آدمیوں نے غزوہ بدر کے موقع پر پورے لشکر قریش کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا تھا ۔ ہر روز ایک آدمی انکے کھانے کا انتظام کرتا ۔(معارف القرآن)
33۔ ہر طرح کے حالات میں اپنے ذاتی مفادات و مصالح سے بے پروا ہوکر ، اللہ اور رسول ؐ کے ہر حکم کی اطاعت کرو ۔ اللہ تعالی کے ہاں ایمان صرف وہی قبول ہوتا ہے جو اسکی شرائط کے مطابق ہو ۔ جو لوگ اپنی شرائط پر ایمان لانا اور صرف اپنے مفادات کی حد تک اسکی اطاعت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی دینداری ان کے منہ پر ماری جاتی ہے تو اس طرح کی کوئی بات کرکے اپنے اعمال رائگاں نہ کرو۔(تدبر قرآن)
ــــ پھر اسے یہ بھی چاہئے کہ اپنے نیک عمل کی حفاظت کرے اور کوئی ایسا کام نہ کربیٹھے جس سے اس کے عمل کے برباد ہونے کا خطرہ ہو۔ مثلاً ارتداد، شرک ،اپنے کئے ہوئے کام پر فخر کرنا یا صدقہ کی صورت میں احسان جتلانا ایسے کام ہیں جو نیک اعمال کو برباد کردیتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
34۔ بعض علماء کی رائے کے مطابق اس سے مراد وہ کافر ہیں جو بدر کے میدان میں قتل ہوئے اور بدر کے کنوئیں میں پھینکے گئے۔(تیسیر القرآن)
۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، یہ آیت بھی منافقین اور یہود بنی قریظہ و بنی نضیر کے متعلق نازل ہوئی ہے اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ ان منافقین کے متعلق ہے جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش کی امداد اس طرح کی کہ ان میں سے بارہ آدمیوں نے ان کے پورے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا تھا اور ہر روز ان میں سے ایک آدمی لشکر کفار کے کھانے کا انتظام کرتا تھا۔ (معارف القرآن)
35۔یہاں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہ ارشاد اس زمانے میں فرمایا گیا ہے جب صرف مدینے کی چھوٹی سی بستی میں چند سو مہاجرین و انصار کی ایک مٹھی بھر جمیعت اسلام کی علمبرداری کر رہی تھی اور اس کا مقابلہ محض قریش کے طاقتور قبیلے ہی سے نہیں بلکہ پورے ملک عرب کے کفار و مشرکین سے تھا۔ (تفہیم القرآن)
۔ سَلمُ کے معنی صلح اور سمجھوتے کے ہیں ۔ منافقین چونکہ جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے ( مسلمانوں اور قریش دونوں سے ) ۔ ورنہ یہاں بھائیوں کا خون بھائیوں کے ہاتھوں بہے گا اور پوری قوم کا شیرازہ ابتر ہوجائیگا ان کی یہ پالیسی مبنی تو تھی تمام تر انکی بزدلی اور مفاد پرستی پر لیکن وہ اسکی دعوت صلح پسندی اور امن دوستی کے روپ میں دیتے اور ان لوگوں کو متاثر کرلیتے جن کے اندر نفاق کے جراثیم ہوتے ۔ اس آیت میں انکی اسی کمزوری سے پردہ اٹھایا گیا ہے ۔ اور عزم و ایمان کی صورت میں رب ذوالجلال کا وعدہ نصرت۔(تدبرقرآن)
36۔ بعض حضرات نے اس آیت کا مفہوم یہ قرار دیا ہے کہ لَا یَسْــٴَـلْكُمْ سے مراد پورا مال طلب کرلینا ہے (وہو قول ابن عیینہ قرطبی) اس کا قرینہ اگلی آیت ہے جس میں فرمایا ہے اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ کیونکہ یحف احفاء سے مشتق ہے جس کے معنی مبالغہ اور کسی کام میں آخر تک پہنچ جانے کے ہیں۔ اس دوسری آیت کا مفہوم سب کے نزدیک یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے اموال پورے طلب کرتا تو تم بخل کرنے لگتے اور اس حکم کی تعمیل تمہیں ناگوار ہوتی یہاں تک کہ ادائیگی کے وقت تمہاری یہ ناگواری ظاہر ہوجاتی۔ (معارف القرآن)
37۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں لایسئلکم سے مراد یہی ہے جو دوسری آیت میں فیحفکم کی قید کے ساتھ آیا ہے تو مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مالی فرائض زکوٰة وغیرہ تم پر عائد کئے ہیں اول تو وہ خود تمہارے ہی فائدہ کیلئے ہیں اللہ تعالیٰ کا کوئی اپنا فائدہ نہیں، دوسرے پھر ان فرائض میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے مال کا اتنا تھوڑا سا جزو فرض کیا ہے جو کسی طرح بار خاطر نہ ہونا چاہئے زکوٰة میں چالیسواں حصہ۔(معارف القرآن)
ــــ حضور ؐ نے کبھی ایمرجنسی فنڈ نہیں لگایا بلکہ رضا کارانہ انفاق ۔(بیان القرآن)
38۔ تم اگر بخل کروگے اور اسکے حکم سے روگردانی کروگے تو وہ تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم کھڑی کردے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہو۔ دوسری قوم کون ہے ؟ کے سوال پر حضور ؐ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی رعنہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : " اسکی قوم " اور فرمایا : خدا کی قسم اگر ایمان ثریا پر جا پہنچے تو فارس کے لوگ وہاں سے بھی اسکو اتار لائیں گے ۔ (تفسیرعثمانی )
ــــ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور ؐ نے صحابہ سے پوچھا تم میں کون شخص ہے جسکو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو۔ صحابہ نے عرض کیا : کوئی نہیں ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ انسان کا اپنا مال وہ ہے جو اس نے راہ خدا میں خرچ کردیا اور جو پیچھے چھوڑ گیا وہ اس کا مال نہیں ، اسکے وارث کا مال ہے ۔ (ضیاء القرآن)
ــــ دوسری کونسی قوم؟ اس کی مثال یہ ہے کہ 13 ویں صدی میں مسلمانوں کی ہلاکو کے ہاتھوں ہلاکت ہوئی اور پھر تاتاریوں کا مسلمان ہونا ۔ (بیان القرآن)