48 - سورة الفتح (مدنیہ)

رکوع - 4 آیات - 29

مضمون:  اہل ایمان کی سربلندی اور ان کے حریفوں کی پامالی کے وعدہ ایفاء کی ایک واقعاتی شہادت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی  مضمون :  مسلمانوں  کو خوشخبری  کہ صلح  حدیبیہ کے بعد   فتوحات   اور مال غنیمت  کی فراوانی   کے  دروازے  کھول  دیئے  جائنگے ۔

شان نزول :  یہ سورۂ  صلح  حدیبیہ  ( ذوالقعدہ  سن 6 ھ )  سے  واپسی  پر  غالبًا   ذوالحج  6  ھ  میں نازل  ہوئی  ۔ یہ سورت  آپؐ  کو  دنیا  اور اسکی  تمام  نعمتوں  سے زیادہ   محبوب  تھی  ۔

نظم کلام :  سورۂ  سبا۔۔۔   ( پانچواں  گروپ  - توحید )   ۔۔۔سورۂ محمد  ، الفتح  ، الحجرات  گروپ  کی مدنی  سورتیں  ۔

تاریخی پس  منظر :  ص 54 تا  66  ( غزوہ  احزاب   کے بعد  حضورؐ  نے  کہا  کہ اب قریش  تمہارے   خلاف  اقدام  نہیں  کرینگے  )  ۔)معارف القرآن(

بیعت رضوان: اس موقع پر رسول اللہؐ نے صحابہ سے ایک خصوصی حلف لیا، جسے"بیعت ِ رضوان"کے نام سے یاد کیا جاتاہے ،تاکہ حضرت عثمانؓ کے قتل کی خبر سچی ثابت ہوجانے کی صورت میں ان کے قتل کا بدلہ لیا جاسکے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

ترتیب مطالعہ  و اہم  مضامین : (1 )  ر- 1  ( صلح  حدیبیہ  ، فتح مبین  کی بشارت  )  (2 )  ر-2  ( مخلصین  اور منافقین  کا ذکر ) (3 ) ر -3   (  بیعت  رضوان  ) (4 )   ر – 4  ( اسلام  کی سرفرازی  اور صحابہ  کی شان )  ( بیعت علی الموت)


پہلا رکوع

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ  ﴿1﴾ لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ  ﴿2﴾ وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا ﴿3﴾ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ  ﴿4﴾ لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ  ﴿5﴾ وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا ﴿6﴾ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا ﴿7﴾ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ  ﴿8﴾ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا ﴿9﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠   ۧ ۧ ﴿10ع الفتح 48﴾
1. (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو فتح دی۔ فتح بھی صریح وصاف۔ 2. تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے۔ 3. اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے۔ 4. وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ 5. (یہ) اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔ اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔ 6. اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے۔ ان ہی پر برے حادثے واقع ہوں۔ اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی۔ اور وہ بری جگہ ہے۔ 7. اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے۔ 8. اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے۔ 9. تاکہ (مسلمانو) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ 10. جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔

تفسیر آیات

سفارتوں کے تبادلے اور صلح حدیبیہ:۔  دو تین دفعہ سفارتوں کے تبادلہ کے بعد بلآخر صلح کی شرائط پر سمجھوتہ ہوگیا۔یہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے لئے توہین آمیز تھیں اور بیعت رضوان کےبعد بالخصوص ایسی شرائط پر رضامند بھی نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کے باوجود رسول اللہؐ نے ان شرائط کو منظور فرمالیا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو فتح مبین قراردیا۔صلح کی شرائط یہ تھیں ۔1 ۔ آئندہ دس سال تک مسلمان اور قریش ایک دوسرے پر چڑھائی نہ کریں گے اور صلح و آشتی سے رہیں گے۔2۔ قبائل کو عام اجازت ہے کہ وہ جس فریق کے حلیف بنناچاہیں بن سکتے ہیں۔3۔ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے تو مسلمان اسے واپس کردیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔4۔ مسلمان اس دفعہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں ۔آئندہ سال وہ تلواریں نیام میں کئے ہوئے آئیں ۔تین دن تک ان کے لئے شہر خالی کردیا جائے گااور انہیں مکہ میں رہنے اور عمرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔شرائط قبول کرنے کی وجوہ:۔  مسلمانوں کو جب یہ سورۃ سنائی گئی تو وہ خود حیران ہوکر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ ایسی توہین آمیز صلح فتح مبین کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ بحث بڑی تفصیل طلب ہے جس کا یہاں موقع نہیں۔ ہم یہاں ایسی وجوہ بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں جن کی بناپر آپ نے ایسی شرائط کو مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بلکہ ان کی مرضی کے علی الرغم منظور فرمالیاتھا۔البتہ یہ بات ملحوظ رکھنا چاہئے کہ یہ سب وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق ہواتھا۔وہ وجوہ یہ ہیں:1۔ جب آپ مکہ سے مدینہ گئے تھے آپ کے دشمنوں میں  کئی گنا  اضافہ ہوگیا تھا اور مسلسل چھ سال سے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ان دشمنوں میں سب سے بڑے دشمن یہی قریش تھے۔آپؐ چاہتے تھے کہ ان کی طرف سے اطمینان نصیب ہوتاکہ دوسرے دشمنوں سے بطریق ِ احسن نمٹا جاسکے۔ چنانچہ آپ نے یہاں سے واپسی پر سب سے پہلے بنو نضیر کی سرکوبی کی اور خیبر فتح ہوا۔2۔ انہی ہنگامی حالات کی وجہ سے آپؐ کے بہت سے تبلیغی پروگرام مؤخر ہوتے جارہے تھے۔چنانچہ اس صلح کے بعد آپ نے آس پاس کے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔3۔ اس صلح نے تمام عرب پر یہ بات ثابت کردی کہ مسلمان فی الحقیقت امن پسند قوم ہے جو جنگ سے حتی الامکان گریز کرتی ہےاور مقابلہ کی قدرت رکھنے کے باوجود صلح و آشتی کو ترجیح دیتی ہے۔اسی تاثر کے نتیجہ میں اس صلح کے بعد بعض بڑے بڑے سردار خود اسلام لے آئے مثلاً خالد بن ولید سیف اللہ اور عمروبن عاص فاتح مصر وغیرہم۔۔۔۔۔2۔شرط صلح پر سیدنا عمرؓ کی بے قراری:۔  زیدبن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ ایک سفر (حدیبیہ)میں تھے اور سیدنا عمرؓ بھی آپؐ کے ساتھ تھے۔ رات کا وقت تھا۔ سیدنا عمرؓ نے آپؐ سے کچھ پوچھا توآپؐ نے جواب نہ دیا۔ سیدنا عمرؓ نے پھر پوچھا تو بھی آپؐ نے کوئی جواب نہ دیا۔پھر (تیسیری بار)پوچھا تب بھی آپؐ نے جواب نہ دیا۔آخر سیدنا عمرؓ اپنے تئیں کہنے لگے:"تیری ماں تجھ پر روئے تونے تین بار عاجزی کے ساتھ رسول اللہؐ سے پوچھا لیکن آپؐ نے ایک بار بھی جواب نہ دیا"سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑلگائی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے خطرہ تھا کہ اب میرے بارے میں قرآن نازل ہوگا۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جومجھے ہی بلارہاتھا۔میں ڈرگیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن اتراہے۔پھر میں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐکو سلام کیا۔آپؐ نے فرمایا:"آج رات مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن تک سورج کی روشنی پہنچتی ہے"پھر آپؐ نے یہ سورت پڑھی۔3۔سیدنا سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہؐ کے ساتھ موجود تھے۔جب آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کی۔اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے لڑسکتے تھے۔سیدنا عمرؓ آئے اور آپؐ سے کہا:کیا ہم حق پر اور یہ (مشرک)باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہ ہوں گے؟ "آپؐ نے فرمایا:"کیوں نہیں"سیدنا عمرؓ کہنے لگے :توپھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں؟ اور ایسے ہی مدینہ کو چلے جائیں ۔ جب تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کردے؟ آپؐ نے فرمایا:خطاب کے بیٹے !رسول میں ہوں(تم نہیں)اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا۔چنانچہ سیدنا عمرؓ غصے کی حالت میں لوٹ گئے۔مگر قرارنہ آیاتو سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آکر کہنے لگے۔کیاہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں؟ سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا :خطاب کے بیٹے ! اللہ کے رسول ؐ وہ ہیں (تم نہیں)اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اس وقت سورۂ فتح نازل ہوئی۔4۔ سیدنا عبداللہ بن مغفلؓ کہتےہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا اس وقت آپؐ یہ سورت دہرا دہرا کر خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جابر بن عبداللہ، اور حضرت براء بن عازب ؓ ، تینوں حضرات سے قریب قریب ایک ہی معنی میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ " لوگ فتح مکہ کو فتح کہتے ہیں، حالانکہ ہم اصل فتح حدیبیہ کو سمجھتے ہیں " (بخاری، مسلم، مسند احمد، ابن جریر)۔ (تفہیم القرآن)

اس آیت کی آپ کو جو خوشی ہوئی اور اس کا آپ نے جو تاثر قبول کیا وہ مندرجہ ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے:1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب آپؐ حدیبیہ سے واپس مدینہ جارہے تھے ۔آپؐ نے فرمایا: مجھ پر ایک آیت "لیَغْفِرَ لَكَ"ایسی اتری ہے جو مجھے زمین کی ساری دولت سے پیاری ہے۔۔صحابہ کہنے لگے:یارسول اللہؐ مبارک ہو،مبارک ہو! اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے تو وضاحت فرمادی مگرہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی "لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔۔۔۔فَوْزًا عَظِیْمًا"(ترمذی۔ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)

صلح حدیبیہ میں اللہ کے چار احسانات:۔ اس فتح مبین کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار چیزیں عطافرمائیں۔(1)سابقہ اور آئندہ  لغزشوں کی معافی،(2)اتمامِ نعمت ،اتمامِ نعمت سے مراد یہ ہے کہ آئندہ اب مسلمانوں پر ہنگامی فضا مسلط نہ رہ سکے گی اور وہ اپنی جگہ ہر طرح کے خوف اور بیرونی مداخلت سے محفوظ و مامون رہ کر پوری طرح اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی قوانین و احکام کے مطابق آزادنہ زندگی بسر کرسکیں گے اور اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ بجالاسکیں گے،(3)اس مقام پر آپ کو سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب آپ کو فتح و کامرانی کی راہ دکھاناہے۔یعنی اس فتح مبین کے نتیجہ میں اللہ نے آپؐ کے لئے راہ ہموارکردی جس سے تمام اسلام دشمن طاقتیں مغلوب ہوتی جائیں اور (4) "نَصْرًا عَزِیْزًا"سے مراد ایسی مدد ہے جو بظاہر دشمن کو اپنی فتح نظر آرہی ہے مگر حقیقت میں وہی اس کی جڑکاٹ دینے والی اور مغلوب کرنے والی ہے۔(تیسیر القرآن)

طاعات میں یہ خاصہ بھی ہے کہ ہرنئے امر طاعت سے نور ِ ایمان میں اور ترقی ہوتی رہتی ہے۔"اور یہ جو ہمارے امام ابوحنیفہؒ  سے منقول ہے کہ الایمان لایزداد ولاینقص(ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ بیشی )سواس سے ان کی مراد ذات ایمان یا نفس ایمان سے ہے جو قابل تجزی نہیں، باقی اس کے اوصاف و آثار میں کمی بیشی تو روزمرہ کا مشاہدہ ہے اور وہی یہاں مراد ہے"۔(تفسیر ماجدی)

وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ۔ایک بار پھر اس کا اظہار فرمادیا گیا کہ مومنین اہل جنت معصوم اور بے قصور نہ ہوں گے ،لغزشیں اور خطائیں ان سے بھی سرزد ہوئی ہوں گی،البتہ ان کے گناہوں کا کفارہ کرادیا جائے گا۔(تفسیر ماجدی)

اطراف مدینہ کے منافقین کو تو اس موقع پر یہ گمان تھا، جیسا کہ آگے آیت 12 میں بیان ہوا ہے،  کہ رسول اللہ ﷺ  اور آپ کے ساتھی اس سفر سے زندہ واپس نہ آسکیں گے۔  رہے مکہ کے مشرکین اور ان کے ہم مشرب کفار، تو وہ اس خیال میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ  اور آپ کے ساتھیوں کو عمرے سے روک  کر وہ گویا آپ  کو زک دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔  ان دونوں گروہوں نے یہ جو کچھ بھی سوچا تھا اس کی تہہ میں درحقیقت اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ بدگمانی کام کر رہی تھی کہ وہ اپنے نبی کی مدد نہ کرے گا اور حق و باطل کی اس کشمکش میں باطل کو حق کا بول نیچا کرنے کی کھلی چھوٹ دے دے گا۔ (تفہیم القرآن)

عام طور پر لوگوں نے اس سے وہ گواہی مراد لی ہے جو آپ آخرت میں دیں گے لیکن ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آخرت میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) جو گواہی دیں گے وہ اسی بناء پر تو دیں گے کہ انہوں نے اس دنیا میں لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دی ہے۔ اس گواہی پر الاحزاب کی آیات 47-45 کے تحت ہم بحث کر آئے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

9۔ بعض نے تُعَزِّرُوْهُ اور تُوَقِّرُوْهُ کی ضمیریں  رسول اللہؐ کی جانب پھیری ہیں۔۔۔۔اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ آپؐ کی سنت کے اتباع و اجرا میں جان و مال سے شریک رہو۔آپؐ کی اعانت و تعظیم کا تارک، عاصی ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

۔ رسول پر ایمان کا یہ تقاضا بیان فرمایا کہ اللہ کے دین کی اقامت کے لئے جدوجہد وہ کر رہے ہیں اس میں ان کے دست و باز و بنوا اور ان کی توقیر و تعظیم اللہ کے رسول کی حیثیت سے کرو۔ پھر اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ بیان فرمایا کہ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ (تدبرِ قرآن)

10۔ اشارہ ہے اس بیعت کی طرف جو مکہ معظمہ میں حضرت عثمان ؓ کے شہید ہوجانے کی خبر سن کر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے حدیبیہ کے مقام پر لی تھی۔ بعض روایات کی رو سے یہ بیعت علی الموت تھی، اور بعض روایات کے مطابق بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ ہم میدان جنگ سے پیٹھ نہ پھیریں گے۔ (تفہیم القرآن)

۔۔۔۔۔۔عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو بیعت رضوان سے متعلق سمجھا ہے حالانکہ اس کو بیعت رضوان سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ بیعت رضوان کا ذکر آگے آیت 18 میں آئے گا۔ یہ سمع وطاعت کی اس عام بیعت کا ذکر ہے جو ہر ایمان لانے والا رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کرتا تھا۔  یہاں اس کی عظمت و اہمیت  اور اس کی ذمہ داریاں منافقین کو غیرت دلانے کے لئے بیان کی گئی ہیں  کہ وہ رسول کے ہاتھ پر بیعت تو کر بیٹھے لیکن جب اس کے مطالبات پورے کرنے کا وقت آیا تو منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔  ان پر یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت درحقیقت اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ہے۔ اگر کوئی اس بیعت کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ سے کئے ہوئے معاہدے کو توڑتا ہے اور اس کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی ہے۔ (تدبرِ قرآن)


دوسرا رکوع

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ﴿11﴾ بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا ﴿12﴾ وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا ﴿13﴾ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴿14﴾ سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا ﴿15﴾ قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ﴿16﴾ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠   ۧ ۧ ﴿17ع الفتح 48﴾
11. جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا تھا۔آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے۔ 12. بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے۔ 13. اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔ 14. اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہےے۔ 15. جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم۔ 16. جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلہ دے گا۔ اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا۔ 17. نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے پیچھے رہ جائے) اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے برے دکھ کی سزا دے گا۔

تفسیر آیات

11۔یہ اطراف مدینہ کے ان لوگوں کا ذکر ہے جنہیں عمرے کی تیاری شروع کرتے وقت رسول اللہ ﷺ نے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی، مگر وہ ایمان کا دعویٰ رکھنے کے باوجود صرف اس لیے اپنے گھروں سے نہ نکلے تھے کہ انہیں اپنی جان عزیز تھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلم، مُزَینہ، جُہَینہ، غِفار، اَشْجع، دِیل وغیرہ قبائل کے لوگ تھے۔ (تفہیم القرآن)

15۔ منافقوں کی غزوہ خیبر میں شمولیت کی خواہش کیوں تھی؟۔فتح خیبر کا واقعہ غزوہ حدیبیہ کے تین ماہ بعد محرم 7 ھ میں پیش آیا ۔جلاوطن شدہ یہود یہیں اکٹھے ہوکر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف تھے۔بنونضیربھی مدینہ سے جلاوطن ہوکر یہیں مقیم ہوگئے تھے۔انہی کے سردار حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو ورغلا کر جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف عہد شکنی پر مجبور کردیا تھا۔اور وہ اتحادی کافروں سے مل گئے تھے۔حدیبیہ کی صلح کے بعد ان لوگوں کی سرکوبی ضروری تھی۔ یہ سفر نسبتاً آسان بھی تھا اور یہاں سے اموالِ غنیمت کی بھی بہت توقع تھی۔غزوہ حدیبیہ میں پیچھے رہ جانے والے منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین ماہ پہلے ہی بتادیا کہ جب تم اس سفر پر جانے لگوگے تو پھر یہ لوگ تمہارے ساتھ جانے کے لئے فوراً تیار ہوجائیں گے کیونکہ وہاں جان و مال کے ضیاع کا خطرہ کم اور بہت زیادہ اموال غنیمت مل جانے کی توقع ہوگی۔۔۔۔۔اللہ کا حکم یا فیصلہ یہ ہے کہ جولوگ اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کے بارے میں مخلص ہیں۔ اللہ انہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کرے اور مالی فائدے بھی پہنچائے ۔مگر یہ منافق یہ چاہتے ہیں کہ جان و مال کے ضیاع کا خطرہ ہو تو یہ بہانے بناکر اپنی جانیں اور مال بچالیں اور مخلص مسلمان ہی ایسے مشکل اوقات میں آگے بڑھیں اور جب جان و مال کا کوئی خوف نہ ہو اور مال ملنے کی امید ہوتو یہ بھی ان میں شامل ہوجائیں ۔ان کی اس آرزو سے اللہ کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔(تیسیر القرآن)

۔كَلٰمَ اللّٰهِ۔یعنی حق تعالیٰ کا یہ حکم کہ خیبر بجز اہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے۔۔۔۔۔اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ اللہ نے مومنین مخلصین سے یہ جو وعدہ کررکھا ہے کہ خیبر کی غنیمت صرف تمہی کو ملے گی، اسے یہ منافقین اپنی شرکت سے جھٹلا دینا چاہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔ " اللہ پہلے یہ فرما چکا ہے " کے الفاظ سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ اس آیت سے پہلے کوئی حکم اس مضمون کا آیا ہوا ہوگا جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے، اور چونکہ اس سورة میں اس مضمون کا کوئی حکم اس آیت سے پہلے نہیں ملتا اس لیے انہوں نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اسے تلاش کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورة توبہ کی آیت 84 انہیں مل گئی جس میں یہی مضمون ایک اور موقع پر ارشاد ہوا ہے۔ لیکن درحقیقت وہ آیت اس کی مصداق نہیں ہے، کیونکہ وہ غزوہ تبوک کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی جس کا زمانہ نزول سورة فتح کے زمانہ نزول سے تین سال بعد کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس آیت کا اشارہ خود اسی سورة کی آیات 18۔ 19 کی طرف ہے، اور اللہ کے پہلے فرما چکنے کا مطلب اس آیت سے پہلے فرمانا نہیں ہے بلکہ مخلَّفین کے ساتھ اس گفتگو سے پہلے فرمانا ہے۔ مخلَّفین کے ساتھ یہ گفتگو، جس کے متعلق یہاں رسول اللہ ﷺ کو پیشگی ہدایات دی جا رہی ہیں، خیبر کی مہم پر جانے کے وقت ہونے والی تھی، اور یہ پوری سورة ، جس میں آیات 18۔ 19 بھی شامل ہیں، اس سے تین مہینے پہلے حدیبیہ سے پلٹتے وقت راستے میں نازل ہوچکی تھیں۔ سلسلہ کلام کو غور سے دیکھیے تو معلوم ہوجائے گا کہ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو یہ ہدایت دے رہا ہے کہ جب تمہارے مدینہ واپس ہونے کے بعد یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر تم سے یہ عذرات بیان کریں تو ان کو یہ جواب دینا، اور خیبر کی مہم پر جاتے وقت جب وہ تمہارے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کریں تو ان سے یہ کہنا۔ (تفہیم القرآن)

16۔۔۔۔۔۔واضح رہے کہ اس آیت میں جنگجو قوم سے مراد جنگ حنین میں حصہ لینے والے قبیلے ثقیف اور ہوازن بھی ہوسکتے ہیں اور مسیلمہ کذاب کی جنگ یمامہ میں حصہ لینے والے بنو حنیفہ بھی۔۔۔۔۔اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے کبھی کسی منصب یا عہدے کی آرزو پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اس رات میرے دل میں بھی یہ خواہش مچل رہی تھی کہ کاش صبح میرا نام پکاراجائے۔(مسلم۔ کتاب الفضائل۔باب فضائل علی ابن ابی طالب)۔۔۔۔۔سیدنا علی اور مرحب کا مقابلہ:۔  چنانچہ سیدنا علیؓ فوج لے کر قلعہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے مقابلہ کے لئے یہودی سالار مرحب مقابلہ کو نکلا اور میدان میں اتر کر تین مصرعوں کا شعر پڑھا:۔"قد علمت خیبر انی مرحب۔۔۔۔شاک السلاح بطل مجرب۔۔۔۔اذا الحروب اقبلت تلھب"(سارا خیبر جانتاہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار بند ہوں اور اس وقت آزمودہ کار پہلوان ثابت ہوتاہوں۔ جب لڑائیاں شعلے اڑانے لگتی ہیں)اس کے جواب میں سیدنا علیؓ نے بھی تین مصرعے کا شعر پڑھا:۔"انا الذی سمتنی امی حیدرہ۔۔۔۔کلیث غابات کریہ  المنظرہ۔۔۔۔۔اوفیھم بالصاع کیل السندرہ "(میں وہ ہوں جس کا میری ماں نے شیرنام رکھا تھا۔میں جنگلوں کے شیر کی طرح جس کو دیکھوں سب ڈرجاتے ہیں۔اور میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیاکرتاہوں)۔۔۔۔۔حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ اسیر ہوکر آپؐ کے سامنے حاضر ہوئی تو آپؐ نے اس کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر نیز دشمنوں پر اپنے اخلاق کا اثر ڈالنے کے لئے اسے آزاد کردیا اور دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ اسے اپنے عقد میں لے لیا۔(تیسیر القرآن)

17۔جہاد فرضِ عین نہیں:۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافق تو محض حیلے بہانے کرتے ہیں۔اصل معذور لوگ جنہیں جہادسے رخصت ہے وہ ہیں جو جسمانی طورپر تندرست نہ ہوں۔ مثلاً اندھے،لنگڑے،اپاہج ،بیمار،نابالغ،بچے اور ضعیف و ناتواں بوڑھے بزرگ مجنون اور فاترالعقل قسم کے لوگ۔ علاوہ ازیں کچھ اور عذر بھی شریعت کی نگاہ میں مقبول ہیں۔ مثلاً غلام یا ایسا تندرست جو تنگدستی کی وجہ سے سامان جنگ بھی مہیانہ کرسکتاہو۔یا مثلاً ایسا شخص جس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو اور وہ اپنے بیٹے کی خدمت کا محتاج ہو۔واضح رہے کہ اگر والدین مسلمان ہوں تو کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر جہاد میں شامل نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر والدین کافر ہوں تو پھر ان سے اجازت کی ضرور ت نہیں۔(تیسیر القرآن)


تیسرا رکوع

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ  ﴿18﴾ وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا ﴿19﴾ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ  ﴿20﴾ وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا ﴿21﴾ وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا ﴿22﴾ سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا ﴿23﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا ﴿24﴾ هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ﴿25﴾ اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠   ۧ ۧ ﴿26ع الفتح 48﴾
18. (اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔ 19. اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔ 20. خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا کہ تم ان کو حاصل کرو گے سو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے۔ غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہو اور وہ تم کو سیدھے رستے پر چلائے۔ 21. اور (غنیمتیں دیں) جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 22. اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو دوست نہ پاتے اور نہ مددگار۔ 23. (یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے۔ 24. اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ 25. یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے۔ 26. جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے۔

تفسیر آیات

۔صحابہ کرام پر طعن کرنے والے؟ اس آیت کا آغاز "لقد رضی اللہ"سے ہواہے۔اسی وجہ سے اس بیعت کا نام بیعت رضوان پڑگیا یعنی ایسی مخلصانہ اور سرفروشانہ بیعت جس پر اللہ نے ان لوگوں کو اپنی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ دے دیا۔اور بعض احادیث میں صراحت سے یہ مذکور ہے کہ اس بیعت میں حصہ لینےوالے سب جنتی ہیں۔۔۔۔۔درخت جس کے نیچے بیعت کی گئی تھی:۔جس درخت کے نیچے رسول اللہؐ نے بیعت لی تھی اور اس کے متعلق دو طرح کی روایات ملتی ہیں۔طبری کی روایت کے مطابق مسلمان اس درخت کی زیارت کو جانے لگے۔وہ وہاں جاکرنمازیں اور نوافل وغیرہ اداکرتے تھے۔سیدنا عمرؓ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے اپنے دور ِ خلافت میں کٹوا دیا۔اس کے مقابلہ میں صحیح اور معتبر روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگلے ہی سال خود بیعتِ رضوان میں شامل ہونے والے بعض صحابہ وہاں گئے تو وہ خود بھی اس درخت کو پہچان نہ سکے جس کے نیچے بیعت لی گئی تھی۔۔۔۔۔قریبی فتح سے مراد فتح خیبر ہے جو صلح نامہ حدیبیہ کے صرف تین ماہ بعد وقوع پذیر ہوئی تھی۔(تیسیر القرآن)

ــــ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ ۔اسی بیعت کا ذکر ہے جو آپؐ نے مقام حدیبیہ میں مسلمانوں سے عزمِ جہاد پر حضرت عثمانؓ کی خبر شہادت سن کرلی تھی،اسی بیعت کا مشہور نام بیعت الرضوان ہے۔(تفسیر ماجدی)

19۔ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَاْخُذُوْنَهَا۔ مشہور مسیحی سیرت نگار سرولیم میور نے لکھا ہے کہ اتنا مال غنیمت اس سے قبل کبھی مسلمانوں کو نہیں ملا تھا۔کھجور ،تیل،شہد،جوکے عظیم الشان ذخیرے،بھیڑوں کے گلے،اونٹوں کی قطاریں،اور ان سب کے علاوہ بکثرت نقدی اور زیورات یہ سب ہاتھ لگے۔ ابن ہشام نے بھی اس تقسیم غنیمت کی تفصیل لکھی ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔یہ اشارہ فتح خیبر اور ان غنائم کی طرف ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد معاً مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور جن سے مسلمانوں کے دلوں کے اندر یہ اعتماد راسخ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح و نصرت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ پورے ہوں گے اور حدیبیہ کا معاہدہ ان کی شکست نہیں بلکہ فتح مبین ہے اور یہ فتح مبین انشاء اللہ فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہوگی۔(تدبرِ قرآن)

20۔اس سے مراد ہے صلح حدیبیہ جس کو سورة کے آغاز میں فتح مبین قرار دیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس سے مراد فتح مکہ، حنین کے اموال غنائم ہیں۔ بلکہ صلح حدیبیہ کے بعد وہ کثیر مقدار میں اموال غنیمت بھی جو پے درپے فتوحات کے نتیجہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوتے رہے ۔۔۔۔۔حدیبیہ کے مقام پر جنگ نہ ہونے کی حکمتیں:۔اللہ تعالیٰ یہ بات بطور احسان مسلمانوں سے فرمارہے ہیں اور اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ تمہاری پوزیشن اتنی مضبوط نہ تھی کہ کفر کے سب سے بڑے  مرکز میں تم دشمن کی تاب لاسکتے،لہذا اللہ نے جنگ کی صورت پیدا ہی نہ ہونے دی۔اور یہ بھی ایک طرح سے اللہ کی مدد تھی۔دوسرے یہ کہ تم مدینہ کا مرکز چھوڑ کر بہت دورنکل آئے تھے۔جنگ کی صورت میں یہ بھی ممکن تھا کہ تمہارے دوسرے دشمن تمہاری غیرحاضری میں مدینہ پر چڑھ آتے ۔اللہ نے انہیں بھی تم سے روک دیا۔(تیسیر القرآن)

۔۔۔۔۔وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا۔یعنی اللہ کے وعدوں پر اعتماد اور قوی ہوگیا۔۔۔۔یہ ایک خالص عملی و اخلاقی نفع ہوا۔گویا علاوہ مادی و مالی نفع کے یہ دینی نفع بھی دو دو حاصل ہوکررہے۔(تفسیر ماجدی)

21۔ اغلب یہ ہے کہ یہ اشارہ فتح مکہ کی طرف ہے۔ یہی رائے قتادہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے۔ ارشاد الہی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تو مکہ تمہارے قابو میں نہیں آیا ہے مگر اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور حدیبیہ کی اس فتح کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضے میں آجائے گا۔ (تفہیم القرآن)

22۔یعنی حدیبیہ میں جنگ کو اللہ نے اس لیے نہیں روکا کہ وہاں تمہارے شکست کھا جانے کا امکان تھا، بلکہ اس کی مصلحت کچھ دوسری تھی جسے آگے کی آیتوں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ مصلحت مانع نہ ہوتی، اور اللہ تعالیٰ اس مقام پر جنگ ہوجانے دیتا تو یقیناً کفار ہی کو شکست ہوتی اور مکہ معظمہ اسی وقت فتح ہوجاتا۔ (تفہیم القرآن)

۔ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا۔ اشارۂ خصوصی یہود خیبر کی طرف ہے۔انہی کو مدد کی بڑی توقعات مشرکین عرب کے قبائل بنوغطفان وغیرہ سے تھیں، انہوں نے عین اس وقت پر صاف جواب دے دیا۔۔۔۔۔ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے الفاظ میں:"فزارہ و غطفان خیبر کے حلیف تھے۔راستے میں آنحضرتؐ نے انہیں ناطرفدار رہنے کا حکم دیا،مدینے کی کھجور کا لالچ بھی دیا جو بے سود رہا، اور جب انہوں نے نہ مانا تو فوجی نقل و حرکت میں آنحضرتؐ نے ایسی تبدیلی کی کہ ان عرب قبائل کو اپنی بستیوں اور بیوی بچوں کی حفاظت ہی ضروری ہوگئی،اور خیبر کی پوری معرکہ آرائی میں پھر انہوں نے کوئی حرکت نہیں کی۔"(رسول اکرمؐ کی سیاسی زندگی،ص: 265-266) (تفسیر ماجدی)

23۔ اس جگہ اللہ کی سنت سے مراد یہ ہے کہ جو کفار اللہ کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اللہ ان کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔ اور اپنے رسول کی مدد فرماتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

24۔ مَكَّة۔یہ لفظ پہلی بار، اور اسی ایک بار قرآن مجید میں آیا ہے، اگرچہ اس کے دوسرے ذاتی صفاتی ناموں سے اس کا ذکر قرآن مجید میں باربار آیاہے: بکَّہ اور البَلَدُ الحَرَامُ ،اور البَلَدُالأَمِینُ وغیرہا۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)

۔ بطن مکہ سے اشارہ حدیبیہ کی طرف ہے۔ یہ بالکل مکہ کے دامن میں ہے اس وجہ سے اس کو بطن مکہ سے تعبیر فرمایا۔ (تدبرِ قرآن)

25۔مکہ میں ایسے بہت سے اہل ایمان تھےجن سے مسلمان ناواقف تھے۔ اندیشہ تھا کہ اگر مسلمان مکہ پر حملہ آور ہوتے تو کفار کے ساتھ ساتھ یہ مظلوم اہل ایمان بھی نادانستہ ان کی زد میں آجاتے۔ اسی طرح بعض لوگ ایمان لانے کے قریب تھے،اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو بھی اپنے دامن ِ رحمت میں لے لے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

۔ یہ تھی وہ مصلحت جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں جنگ نہ ہونے دی۔ اس مصلحت کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ معظمہ میں اس وقت بہت سے مسلمان مرد و زن ایسے موجود تھے جنہوں نے یا تو اپنا ایمان چھپا رکھا تھا، یا جن کا ایمان معلوم تھا، مگر وہ اپنی بےبسی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور ظلم و ستم کے شکار ہو رہے تھے۔ (تفہیم القرآن)

26۔ جاہلانہ حمیت سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص محض اپنی ناک کی خاطر یا اپنی بات کی پچ میں جان بوجھ کر ایک ناروا کام کرے۔ کفار مکہ خود جانتے اور مانتے تھے کہ ہر شخص کو حج اور عمرے کے لیے بیت اللہ کی زیارت کا حق حاصل ہے، اور کسی کو اس مذہبی فریضے سے روکنے کا حق نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)


چوتھا رکوع

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا ﴿27﴾ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ  ﴿28﴾ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠   ۧ ۧ ﴿29ع الفتح 48﴾
27. بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی۔ 28. وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے۔ 29. محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔

تفسیر آیات

27۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ان کی مشیت پر نہیں بلکہ ہماری مشیت پر موقوف ہے۔ اس سال عمرے کا نہ ہو سکنا اس لیے نہیں ہوا کہ کفار مکہ نے یہ چاہا تھا کہ وہ نہ ہو، بلکہ یہ اس لیے ہوا کہ ہم نے اس کے نہ ہونے دینا چاہا تھا۔(تفہیم القرآن)

28۔ دین اسلام کو سب دینوں پر غالب  کرنا: سورۂ  توبہ  ( 32 – 33 )  سورۂ  صف (8 -9 )(بیان القرآن)

ــــ سورۂ  توبہ  کی آیات  : 32 -3 3  پر  نظر   ڈالئے  تو  یہ  بات  صاف    نظر آئے گی  کہ اوپر  والی  آیت  میں اہل  کتاب کو چیلنج  ہے  اور نیچے  والی  آیت  میں مشرکین  عرب  کو ۔ تاریخ  شاہد    ہے کہ  جب  تک مسلمان  اسلام  کے  حامل   رہے   ہر جگہ   اللہ  نے  ان کے دین کو غالب  کیا ۔(تدبر  قرآن)

ــــ  "رَسُوْلَهٗ"میں اضافت غور طلب ہے۔ سارے رسول اسی نے بھیجے ہیں ،لیکن اس رسول کو جو نسبت ہے اس کی شان ہی نرالی ہے۔برقِ غضب بن کر باطل کو خاکستر کرنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ ابرِ رحمت بن کر پیاسی دنیا کو سیراب کرنے کے لیے آیاہے۔فرمایا اسے ہدایت اور دینِ حق دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ ہدایت سے مراد قرآن، دینِ حق سے مراد شریعت یا ہدایت سے مراد علم، دین سے مراد عمل۔دِیْنِ الْحَقِّ میں اضافت موصوف الی الصفۃ ہے۔یعنی الدین الحق ۔ایسا دین جو حق ہے۔(ضیاء القرآن)

ــــ لِیُظْهِرَهٗ۔ضمیر"ہُ"رسول کی طرف بھی سمجھی گئی ہے اور دین حق کی طرف بھی، اور حاصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔(تفسیر ماجدی)

29 ۔ كُفَّار   کا ایک  مطلب   کسان  بھی  ہے یعنی خراب  کھیتی  والے  ۔(بیان القرآن)

ــــ ایک گروہ اس آیت میں مِنھُم کی مِن کو تبعیض کے معنی میں لیتاہے اور آیت کا ترجمہ یہ کرتاہے کہ "ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑا اجر کا وعدہ فرمایاہے"۔اس طرح یہ لوگ صحابہ پر طعن کا راستہ نکالتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آیت کی رُوسے صحابہ میں سے بہت سے لوگ مومن و صالح نہ تھے۔لیکن یہ تفسیر اسی سورۃ کی آیات4۔5۔18 اور26 کے خلاف پڑتی ہے۔اور خود اس آیت کے ابتدائی فقروں سے بھی مطابقت نہیں رکھتی ۔آیات 4-5 میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام صحابہ کے دلوں میں سکینت نازل کیے جانے اور ان کے ایمان میں اضافہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے جو حدیبیہ میں حضورؐ کے ساتھ تھے، اور بلا استثناء ان سب کو جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی ہے۔آیت 18 میں اللہ تعالیٰ نے ان سب لوگوں کے حق میں اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایاہے جنہوں نے درخت کے نیچے حضورؐ سے بیعت کی تھی ،اور اس میں بھی کوئی استثناء نہیں ہے۔آیت 26 میں بھی حضورؐ کے تمام ساتھیوں کے لیے مومنین کا لفظ استعمال کیا ہے، ان کے اوپر اپنی سکینت نازل کرنے کی خبردی ہے ،اور فرمایا ہے کہ یہ لوگ کلمۂ تقویٰ کی پابندی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل ہیں۔یہاں بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان میں سے جو مومن ہیں صرف انہی کے حق میں یہ خبردی جارہی ہے۔پھر خود اس آیت کے بھی ابتدائی فقروںمیں جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ ان سب لوگوں کے لیے ہے جو محمد رسول اللہؐ کے ساتھ تھے ۔الفاظ یہ ہیں کہ جو لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں وہ ایسے اور ایسے ہیں۔اس کے بعد یکایک آخری فقرے پرپہنچ کر یہ ارشاد فرمانے کا آخر کیا موقع ہوسکتاتھاکہ ان میں سے کچھ لوگ مومن صالح تھے اور کچھ نہ تھے۔اس لیے یہاں من کو تبعیض کے معنی میں لینا نظمِ کلام کے خلاف ہے۔درحقیقت یہاں من بیان کے لیے ہے جس طرح آیت"فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ"(بتوں کی گندگی سے بچو)میں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ لازماً بیان ہی کے لیے ہے،ورنہ آیت کے معنی یہ ہوجائیں گے کہ "بتوں میں سے جو ناپاک ہیں ان سے پرہیز کرو"اس سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ کچھ بت پاک بھی قرار پائیں گے جن کی پرستش سے پرہیز لازم نہ ہوگا۔(تفہیم القرآن)

ــــ یہاں سے آپ کے  صحابہ کرام رضی اللہ تعالی ٰعنہم  کے فضائل  کا بیان  : (1 ) کفار  کے مقابلے  میں سخت   اور آپس  میں مہربان  ،۔

ہو حلقہ یاراں  توبریشم کی طرح  نرم                                                  رزم  حق  و باطل  ہو تو  فولاد  ہے مومن     (علامہ اقبال)

( مواخات  ، رشتے  ناطے  اسلام  پر قربان  ، ذات  برادری  کی تنگ نظری  ختم   ، کفار  اگر  دشمن  نہ  ہوں  تو  ان سے حسن سلوک ) (2 )  رکوع  و سجود  اور نماز میں  مشغول   ۔( پہلا  وصف  کمال ایمان  کی علامت  ، دوسرا  کمال عمل،   چہروں  پر آثار  نمایا ں)  ۔

ـــ اس آیت کی تشریح کے لئے سورہ توبہ کی آیت نمبر 33 کا حاشیہ نمبر 33 ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)

۔"ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ"  ایک وقت  میں  صرف  تین مسلمان  ( حجۃ الوداع  کے  موقع   پر تقریبا  ڈیڑھ  لاکھ )  صحابہ  کی مثال  انجیل  میں  اس کھیتی  یا درخت  کی ہے   جو شروع  میں نہایت   کمزور  اور رفتہ  رفتہ  قوی  اور  تناور ہو جاتا ہے   - حضرت  امام مالک   ؒ   نے فرمایا  کہ تنقیص   صحابہ   کرنیوالوں کو وعید   صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم   سب کے سب  اہل جنت  ہیں  انکی  تنقیص  گناہ  عظیم  ہے ۔  (معارف القرآن)

ــــ میرے نزدیک   رسول اللہ ؐ   یہاں  صفت  اور بیان  کے حکم  میں  ہے  ۔  خبر اسکی آگے  "اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ"  الآیۂ ہے ۔  زمرۂ مومنین  کی تصویر   اس طرح  پیش کی گئی  ہے کہ رسول اللہ  ؐ  کو اس میں  گل سر سبد  کی  حیثیت  حاصل ہے ۔   (تدبر قرآن)

ــــ یہ انکی توجہ  الی اللہ  انکی شب  بیداری  اور انکی   تہجد  گزاری  کی تصویر  سے مطلب  یہ ہے  کہ  جو  بھی  انکو دیکھے  گا  اس پر   پہلی  ہی  نظر   میں  یہ بات  واضح   ہوجائیگی  کہ دنیا  کے عام  انسانوں  سے  بالکل  مختلف  یہ ایسے  قدسی  صفت  لوگوں  کی  ایک  جماعت  ہے جن  کی زندگی  کا اصل  نصب العین  خدا کی رضا طلبی  ہے ۔  یعنی  خلق  کے ساتھ   بھی  ان کا تعلق   صحیح بنیاد  پر  قائم  ہے کہ  وہ   اہل  باطل  کے مقابلے  میں  نہایت   سخت  اور اہل  حق  کیلئے  نہایت   نرم  خو  ہیں  ۔ اور  خالق  کے ساتھ  بھی  انکا  نہایت   محکم  و  استوار  ربط  ہے کہ کسی وقت  بھی  اس سے  غافل  نہیں ہوتے  ۔(تدبرقرآن)

۔ اس سے مراد    پیشانی  کا وہ   گٹہ نہیں   ہے جو سجدے کرنے کی وجہ سے بعض نمازیوں کے چہرے پر پڑجاتاہے۔بلکہ اس سے مرادخدا ترسی ،کریم النفسی، شرافت اور حسنِ اخلاق کے وہ آثارہیں جو خدا کے آگے جھکنے کی وجہ سے فطرۃً آدمی کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے ہیں۔انسان کا چہرہ ایک کھلی کتاب ہوتاہے جس کے صفحات پر آدمی کے نفس کی کیفیات بآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ایک متکبر انسان کا چہرہ ایک متواضع اور منکسر المزاج آدمی کے چہرے سے مختلف ہوتاہے۔ایک بداخلاق آدمی کا چہرہ ایک نیک نفس اور خُوش خلق آدمی کے چہرے سے الگ پہچانا جاتاہے۔ ایک لفنگے اور بدکار آدمی کی صورت اور ایک شریف اور پاکباز آدمی کی صورت میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ محمدؐ کے یہ ساتھی تو ایسے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہی ایک آدمی بیک نظریہ معلوم کرسکتاہے کہ یہ خیر الخلائق ہیں، کیونکہ خدا کا نُور ان کے چہروں پر چمک رہاہے۔یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق امام مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ جب صحابہ کرام کی فوجیں شام کی سرزمین میں داخل ہوئیں تو شام کے عیسائی کہتے تھے کہ مسیح کے حواریوں کی جوشان ہم سنتے تھے یہ تو اُسی شان کے لوگ نظر آتے ہیں۔(تفہیم القرآن)

ــــ کھیتی کی مثال اور صحابہ کرام:۔ حضرت شاہ صاحب  ؒ  کھیتی  کی مثال  کی تقریر کرتے  ہوئے لکھتے ہیں"یعنی اول اس دین پر ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر آہستہ آہستہ قوت بڑھتی گئی حضرت کے وقت میں پھر خلفاء کے عہد میں"بعض علماء کہتے ہیں کہ"اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ"میں عہد صدیقی "فَاٰزَرَهٗ"میں عہد فاروقی"فَاسْتَغْلَظَ"میں عہد عثمانی اور "فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ"میں عہد مرتضوی کی طرف اشارہ ہے جیساکہ بعض دوسرے بزرگوں نے"وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا"کو علی الترتیب خلفائے اربعہ پر تقسیم کردیا ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام جماعت صحابہؓ کی بحیثیت مجموعی مدح و منقبت پر مشتمل ہے۔خصوصاً اصحاب بیعۃ الرضوان کی جن کا ذکر آغاز سورت سے برابر چلاآرہاہے۔واللہ اعلم۔ (تفسیرعثمانی )

ــــ اسلام کا پورا کلمہ لاالہ الا اللہ،محمد رسول اللہ ہے۔یہ جزء ثانی قرآن میں یہیں آیاہے،جزء اول متعدد مقامات پر ملتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔۔۔۔۔پورے قرآن میں صرف چار جگہ آپ کا نام مبارک محمد ذکر فرمایا ہے۔ (معارف القرآن)