49 - سورة الحجرات (مدنیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 18 |
مضمون: نبی ؐ اور مسلمانوں کے باہمی حقوق کی وضاحت اور اصلاح معاشرہ کے لیے ہدایات۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شان نزول : فتح مکہ کے بعد 9 ہجری ( عام الوفود ) میں نازل ہوئی یہ وہ زمانہ تھا جب عرب کے تمام قبائل مدینہ کا رخ کر رہے تھے اور اسلام اور پیغمبر اسلام سے اپنی فرماں برداری و اطاعت کا اقرار و اعلان کر رہے تھے ۔ آیت نمبر 4 میں آنحضور ؐ کے حجروں کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس کانام سورۂ الحجرات رکھا گیا ۔
نظم کلام : سورۂ سبا۔۔۔ ( پانچواں گروپ - توحید )۔۔۔ سورۂ محمد ، الفتح ، الحجرات گروپ کی مدنی سورتیں ۔
مرکزی مضمون: مسلمانوں کو منافقت سے بچتے ہوئے ، اعلی اخلاق کے ساتھ اللہ تعالی ، نبی اکرم ؐ اورر مسلمانوں کے حقوق ادا کرنا چاہئے ۔
ترتیب مطالعہ و اہم مضامین: (1 ) ر- 1 ( ہر معاملہ میں اللہ اور رسول کی اطاعت ) (2 ) ر- 2 ( معاشرتی آداب اور ایمان)
اہم کلیدی الفاظ و مضامین:۔1۔ سورت میں "یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا"(1، 2، 6، 11اور 12)کے الفاظ سے کچے مسلمانوں اور منافقین کو پانچ مرتبہ خطاب کیا گیا۔اس طرح کے اسلوب کا مقصد یہ ہوتاہے کہ باربار ان کے زبانی اعلان و اقرار اسلام کے حوالے سے ان کے سامنے یہ بات رکھی جاتی ہے کہ یہ طرز عمل تمہارے اقرار و ایمان کے شایانِ شان نہیں ہے۔2۔ مسلمانوں کو نصیحت کی گئی کہ وہ کسی فاسق کی خبر کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے عجلت پسندی کے ساتھ فوراً کوئی کارروائی نہ کریں۔ مسلمانوں کو تحقیق اور تبیین کی نصیحت کی گئی،تاکہ وہ شرمندگی سے بچ سکیں۔(آیت:6)۔ 3۔ اس سورت میں"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ"کے ذریعے مسلمانوں کی عالمگیربرادری کی وضاحت کی گئی ۔یہ جمعیت رنگ و نسل ،خاندان و نسب اور وطن کی بنیاد پر نہیں بنی ہے، بلکہ اللہ اور اس کے آخری رسولؐ پر ایمان کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔(آیت:10)۔4۔مسلمانوں کو دوسرے مسلمانوں کی غیبت سے منع کردیا گیا کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں انکے عیب دوسروں پر ظاہر کریں۔مسلمان کے مرنے پر اس کو غسل اور کفن دے کر جسمانی طورپر پاک کرنا چاہیے اور نماز جنازہ میں دعائے مغفرت کرکے روحانی طورپر پاک کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔جلد از جلد تدفین کرنا چاہیے تاکہ بدبو ، تعفن اوربیماریاں نہ پھیلیں۔اسی طرح مسلمان میں کوئی عیب ہو تو دوسروں سے غیبت کرنے کی بجائے، خود اُس شخص سے بات کی جائے، اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور دعوت و تبلیغ کے بعد، اللہ سے اس کے حق میں دعا کی جائے۔یہاں" غیبت"کے لیے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے، تاکہ امتِ مسلمہ اس قبیح فعل سے مکمل اجتناب کرے۔(آیت۔11)۔5۔ "اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ"کے ذریعے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرّم اور معزّز وہ ہے ،جو زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے یعنی وہ شخص جو حرام چیزوں کے قریب نہیں جاتا۔(آیت:13)۔6۔اس سورت میں سچے مؤمنوں کی پانچ(5)صفات بیان کی گئی ہیں۔ اللہ پر ایمان ، رسول اللہؐ پر ایمان، پھر اس پر ایسا یقین،جو شک سے پاک ہو،اللہ کی راہ میں مال سے جہاد اور جان سے جہاد(آیت:14)(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
۔یہ سورۂ ، سابقہ سورۂ الفتح ، کا ضمیمہ ہے ۔ پوری سورۂ سابقہ سورت کی آیت کی تفسیر ہے ، آیت ہے : " مُحَمَّدٌرَسُولُ اللَّه وَالَّذِينَ مَعَه أَشِدَّاءُعَلَى الْكُفَّارِرُحَمَاءُبَيْنَهُمْ " ( محمد اللہ کے رسول اور جو انکے ساتھ ہیں کفار کیلئے سخت اور ایک دوسرے کیساتھ نہایت مہربان ہیں ) ۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (تدبرقرآن)
پہلا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿1﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ﴿2﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ﴿3﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ﴿4﴾ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿5﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ ﴿6﴾ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ ﴿7﴾ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿8﴾ وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ﴿9﴾ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿10ع الحجرات 49﴾ |
| 1. مومنو! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے۔ 2. اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ 3. جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزما لئے ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔ 4. جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں۔ 5. اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔ 6. مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔ 7. اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبرﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا۔ یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں۔ 8. (یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ 9. اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ 10. مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ |
تفسیر آیات
1۔خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن جن لوگوں کا رویہ اس سورة میں زیر بحث آیا ہے وہ جیسا کہ آگے کی آیات سے بالتدریج واضح ہوتا جائے گا، اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے وہ لوگ ہیں جو اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح رچا بسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ اول تو یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام کو سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے مرعوب ہو کر اس میں داخل ہوئے۔ ثانیاً مرکز سے بےتعلق رہنے کے سبب سے ان کی تربیت بھی اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ ان کے اندر ایک غلط قسم کا پندار بھی تھا کہ انہوں نے کسی جنگ کے بغیر نبی ﷺ کی اطاعت کرلی جو آپ پر ان کا ایک احسان ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ نہ کسی فرد کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو کتاب و سنت سے متصادم ہو اور نہ کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احکام شرعی کے برعکس کوئی فیصلہ کرے ۔)ضیاء القرآن(
۔اسلامی دستور کی پہلی دفعہ )بیان القرآن(
۔اس آیت میں ہمارے زمانے کے ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اسلام کی خدمت کے دعوے کے ساتھ اس کی اقدار کو مسخ اور اس کے قوانین کی تحریف کر رہے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ اور رسول نے جس شکل میں اسلام دیا ہے اس شکل میں وہ اس دور میں نہیں چل سکتا۔ ضروری ہے کہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق اس کی اصلاح کی جائے۔ چنانچہ وہ شریعت کے احکام میں اپنی رائے کے مطابق ترمیم کر رہے ہیں۔ بس یہ فرق ہے کہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے ہی سے سبقت کر کے چاہتے تھے کہ اللہ و رسول کے آگے اپنے مشورے پیش کردیں۔ اس زمانے کے مدعیان اسلام کو یہ موقع نہ مل سکا اس وجہ سے وہ اب ان غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک اللہ و رسول سے العیاذ باللہ، دین کے معاملے میں ہوگئی ہیں۔(تدبرِ قرآن)
2۔ ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید اینجا (ضیاء القرآن)
ـــ آواز مقابلتاً پست ہونی چاہئے:۔ اس کا دوسراپہلو یہ ہے کہ اگر نبی سے بات کرنا ہو تو بھی نبی کی آواز سے تمہاری آواز بلند نہ ہونا چاہئے۔نیز مسجد نبوی میں کوئی بات عام آواز سے زیادہ اونچی آواز سے نہ کی جائے۔اس بے ادبی کی تمہیں یہ سزا مل سکتی ہے کہ تمہارے نیک اعمال برباد کردئیے جائیں ۔اس آیت کا جو اثر صحابہ کرامؓ پر ہوا وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے:سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ثابت بن قیس (بن شماس)کو (کئی روز تک اپنی صحبت میں )نہ دیکھا ۔ایک شخص (سعد بن معاذؓ )کہنے لگے : یارسول اللہؐ ! میں اس کا حال معلوم کرکے آپ کو بتاؤں گا"چنانچہ وہ گئے تو ثابت بن قیسؓ کو اپنے گھر سرجھکائے دیکھا اور پوچھا :"کیا صورت حال ہے؟"ثابت کہنے لگے براحال ہے میری تو آواز ہی نبیؐ سے بلند ہوتی تھی میرے تو اعمال اکارت گئے اور اہل دوزخ سے ہوا"سعدؓ نبی اکرمؐ کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ "تو یہ کچھ بتاتاہے"موسیٰ بن انسؓ کہتے ہیں۔پھر ایسا ہواکہ سعد بن معاذ ایک بڑی بشارت لے کر دوسری بار ثابت بن قیس کے ہاں گئے۔ آپؐ نے خود سعد کو ثابت کے ہاں بھیجا اور کہا کہ اسے کہہ دو کہ :تم اہل دوزخ سے نہیں بلکہ اہل جنت سے ہو"(بخاری۔کتاب التفسیر)یہ ثابت بن قیسؓ خطیب انصارتھے۔جب مسیلمہ کذاب مدینہ میں آپؐ سے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت سمجھوتہ کرنے کی غرض سے آیا تھا تو رسول اللہؐ نے انہی ثابت بن قیسؓ کو اس سے گفتگو کے لئے مامور فرمایا تھا۔ان کی آواز قدرتی طورپر بھاری اور بلند تھی۔ اس لئے آپ اس حکم سے ڈرگئے۔آپؐ نے انہیں اس لئے اس حکم سے مستثنیٰ قراردیا کہ وہ بے ادبی یا عدم احترام کی وجہ سے آواز بلند نہیں کرتے تھے۔بلکہ قدرتی طورپر ہی ان کی آواز بلند تھی۔(تیسیر القرآن)
3۔ اس آیت کے دومطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ نبی کا ادب و احترام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پہلے تقویٰ کی بناپر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا امتحان دے چکے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی کا ادب و احترام کرنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں تقویٰ موجود ہے اور ان کے اس عمل سے اللہ ان کے تقویٰ کو مزید بڑھاتاچلاجائے گا۔ اس آیت اور مذکورہ بالا حدیث سے صحابہ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔(تیسیر القرآن)
5۔ گھر سے بلانے میں ادب کے تقاضے ،نبی سے انداز گفتگو شائستہ ہونا چاہئے:۔ بنو تمیم کے کچھ لوگ عین دوپہر کے وقت آپؐ کے ہاں آئے جب آپؐ آرام فرمارہے تھے۔اور زور سے چلانے لگے: یا محمدؐ ! باہر ہمارے پاس آئیے ۔ہماری بڑی اچھی شہرت ہے اور ہماری بڑائی بڑی ہے"۔(تیسیر القرآن)
ــــ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ معارف قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے حضرت ابی رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر جاتے تو دروازہ نہ کھٹکھٹاتے ۔ ۔۔۔۔۔آج کے بدنصیب شاگرد اور مغربی تہذیب کا اثر ۔(ضیا ءالقرآن)
۔ یعنی اب تک جو کچھ ہوا سو ہوا، آئندہ اس غلطی کا اعادہ نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ پچھلی غلطیوں سے در گزر فرمائے گا اور اپنے رحم و کرم کی بنا پر ان لوگوں سے کوئی مواخذہ نہ کرے گا جو اس کے رسول کو اس طرح اذیت دیتے رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
6۔ اسی دوران بنی مصطلق کے سردارحارث بن ضرار (ام المؤمنین سیدہ جویریہؓ کا والد)اتفاق سے آپؐ کے ہاں آئے۔تو انہوں نے بتایا کہ ولید بن عقبہ ؓ تو ہمارے ہاں گئے ہی نہیں تو ان کے قتل کا سوال کیسے پیدا ہوسکتاہے؟ ہم مسلمان ہیں اور زکوٰۃ دینے کو تیار ہیں۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔(تیسیر القرآن)
۔ فاسق سے مراد شریعت کے حدود و قیود سے بے پرواہ لوگ ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
8۔یہاں "حَبّبَ" کے مفعول کی حیثیت سے تو صرف ایمان کا ذکر ہے لیکن "کَرَّہَ" کے ساتھ کفر، فسق اور عصیان تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے کردار پر تبصرہ ہو رہا ہے وہ ابھی جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ ان باتوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے جو ایمان کی ضد ہیں یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان کو وضاحت سے یہ بات بتائی جائے کہ صرف کفر ہی ایمان کے منافی نہیں ہے بلکہ فسق و عصیان کے قسم کی ساری باتیں بھی اسی شجرہ ملعونہ کے برگ و بار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی مبغوض ٹھہرایا۔۔۔۔۔۔ آیت 6 کے تحت ہمارے مفسرین نے، اپنی عادت کے مطابق، ایک شان نزول کا بھی ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ولید بن عقبہ کو تحصیل زکٰوۃ کے لئے بنی مصطلق کے پاس بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو بنی مصطلق کے لوگ بشکل جلوس ان کے خیر مقدم کے لئے نکلے۔ ولید نے گمان کیا کہ یہ لوگ ان سے لڑنے کو نکلے ہیں۔ وہ ڈر کر فوراً وہاں سے واپس آگئے اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ وہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں اور زکوۃ ادا کرنے سے انہوں نے انکار کردیا۔۔۔۔۔۔۔میرے نزدیک یہ شان نزول روا فض کی ایجادات میں سے ہے جس سے انہوں نے صرف ولید ہی کو بدنام کرنا نہیں چاہا بلکہ حضرت عثمان کو بھی مطعون کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص فاسق ہے محض از راہ کنبہ پروری اس کو کوفہ کا گورنر بنا دیا ہے۔ پھر کوفہ کی گورنری کے دوران میں ان ظالموں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ ان کے فسق کے ایسے واقعات کی روایت کی ہے جن کو سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی ان ظالموں کی ذہانت پر آتی ہے اور رونا اپنے مفسرین کی سادگی پر کہ اس قسم کی بےسروپاروایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کردیتے ہیں حالانکہ آیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سبا ق سے ان کو کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ (تدبرِ قرآن)
9۔ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا۔یہ امر بہت زیادہ قابل لحاظ ہے کہ ان دوجنگ و جدل کرنے والے گروہوں کو ایک کے ناحق پر ہونے کے باوجود قرآن مجید "مومن"ہی کہتاہے۔قتال اور پھر بغاوت سے بڑھ کر شدید جرم اور کونسا ہوسکتاہے؟ اس کے باوجود بھی باغی بہرحال مومن ہی رہتاہے ، دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوجاتا۔اکابر اہل سنت نے یہیں سے یہ مسئلہ (خوار ج و معتزلہ کے برعکس)نکالا ہے کہ بڑے سے بڑے گناہ سے بھی مومن دائرۂ اسلام و ایمان سے خارج نہیں ہوجاتا۔۔۔۔فقہاء نےکہا ہے کہ جو مسلمان فریق شکست کھائے، نہ اس کا مال مالِ غنیمت سمجھا جائے گا اور نہ اس کے قیدی لونڈی غلام بنائے جائیں گے،البتہ توبہ کے وقت تک وہ قید رہیں گے اور ان کا مال قرق ۔بعد توبہ انہیں بھی رہائی مل جائے گی اور ان کا مال بھی انہیں واپس دےدیا جائے گا۔مزید تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی۔(تفسیر ماجدی)
۔ محض صلح کرا دینے کا حکم نہیں ہے بلکہ عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانے کا حکم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ صلح کوئی قابل قدر چیز نہیں ہے جو حق اور باطل کے فرق کو نظر انداز کر کے محض لڑائی روکنے کے لیے کرائی جائے اور جس میں برسر حق گروہ کو دبا کر زیادتی کرنے والے گروہ کے ساتھ بےجا رعایت برتی جائے۔ صلح وہی صحیح ہے جو انصاف پر مبنی ہو۔ ۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
10۔ اِخْوَةٌ۔ اخ کی جمع،اخوۃ تو حقیقی بھائیوں کے لیے ہے، رشتے ناتے کے بھائیوں کے لیے اخوان آتی ہے۔قرآن نے یہاں اخوۃ لاکر گویا بتادیا کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے تعلق و رشتہ بالکل بھائیوں کا ہے۔۔۔۔انما کے کلمہ حصر نے اسے صاف کردیا کہ یہ رشتۂ اخوت صرف مومن و مومن کے درمیان ہے، مومن و کافر کے درمیان نہیں ہوسکتا۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿11﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ ﴿12﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ ﴿13﴾ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿14﴾ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ ﴿15﴾ قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿16﴾ یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿17﴾ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿18ع الحجرات 49﴾ |
| 11. مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں۔ اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام (رکھنا) گناہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔ 12. اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ 13. لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے۔ 14. دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 15. مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ 16. ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے۔ اور خدا ہر شے کو جانتا ہے۔ 17. یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو۔ بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو۔ 18. بےشک خدا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے۔ |
تفسیر آیات
11۔ منافی ایمان باتوں سے اجتناب کی تاکید:۔ ۔۔۔۔یہاں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر بھی خاص اہتمام سے ہواہے۔۔۔۔غیبت اور عیب جوئی کی بیماری:۔جن عورتوں کے اندر اپنی خاندانی، نسبی اور مالی برتری یا اپنے ظاہری حسن و جمال کا غرور ہوتاہے ان کا اندازِ خطاب و کلام ان عورتوں کے ساتھ حقارت آمیز ہوتاہے جن کو وہ اپنے مقابل میں فروتر خیال کرتی ہیں۔۔۔۔شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے جو فتنے ایجاد کیے ہیں ان میں ایک بہت بڑا فتنہ نسل و نسب ، خاندان، برادری،کنبہ اور قبیلہ کے شرف و امتیاز کا بھی فتنہ ہے۔۔۔۔چنانچہ ہندوں میں برہمنوں نے، یہود میں بنی لاد ی نے اور عربوں میں قریش نے اسی طرح تقدس کا ایک ایسا مقام اپنے لیے پیدا کرلیا جس کو چیلنج کرنا دوسروں کے لیے ممکن نہیں رہ گیا ۔۔۔۔طنز اور پھبتی کی ممانعت:۔ وَ لَا تَلْمِزُوْا اَنْفُسَكُمْ۔لمزکے معنی کسی پر طعن کرنا، آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اس پر کوئی طنز آمیز فقرہ چست کردینا ہے۔۔۔۔۔انفسکم یہاں اسی طرح استعمال ہواہے جس طرح النسآ کی آیت 29 میں لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ(اپنے آپ کو قتل نہ کرو)آیاہے۔اس سے یہ بات نکلی کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر طعن کرتاہے وہ گویا اپنے ہی اوپر طعن کرتاہے اس لیے کہ تمام مسلمان آپس میں"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ"کے اصول پر بھائی بھائی ہیں تو جس نے اپنے کسی بھائی کو اپنے کسی طعن و طنز کا ہدف بنایا اس نے گویا اپنے ہی سینہ کو اپنے تیر کا نشانہ بنایا اور اپنے ہی کو مجروح کیا۔۔۔۔۔"وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ"کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر بُرے القاب چسپاں کرنا ہے۔اچھے القاب سے ملقب کرنا جس طرح کسی فرد یا قوم کی عزت افزائی ہے اسی طرح بُرے القاب کسی پر چسپاں کرنا اس کی انتہائی توہین و تذلیل ہے۔ہجویہ القاب لوگوں کی زبانوں پر آسانی سے چڑھ جاتے ہیں اور ان کا اثر نہایت دُور رس اور نہایت پائدار ہوتاہے۔ان کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہیں اور اگر معاشرے میں یہ ذوق اتنا ترقی کرجائے کہ ہر گروہ کے شاعر، ادیب، ایڈیٹر اور لیڈر اپنی ذہانت اپنے حریفوں کے لیے بُرے القاب ایجاد کرنے میں لگادیں تو پھر اس قوم کی خیر نہیں ہے۔اس کی وحدت لازماً پارہ پارہ ہوکے رہتی ہے ۔یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دورِ جاہلیت میں عربوں کے اندر یہ ذوق بدرجۂ کمال ترقی پر تھا۔قبیلہ کا سب سے بڑا شاعر اور خطیب وہی مانا جاتا جو دوسروں کے مقابل میں اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے اور حریفوں کی ہجو و تحقیر میں یکتاہو۔ان کے ہجویہ اشعار پڑھیے تو کچھ اندازہ ہوگا کہ اس فن ِ شریف میں انہوں نے کتنا نمایاں مقام حاصل کرلیاتھا۔ ان کی اس چیز نے ان کو کبھی ایک قوم بننے نہیں دیا۔وہ برابر اپنوں ہی کو گرانے اور پچھاڑنے میں لگے رہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام نے ان کو انسانی وحدت اور ایمانی ہم آہنگی سے آشنا کیا جس کی بدولت وہ دنیا کی ہدایت و قیادت کے اہل بنے ۔قرآن نے یہاں ان کو دورِ جاہلیت کے انہی فتنوں سے آگاہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان و اسلام کی برکات سے نوازا ہے تو اس کی قدر کرو ۔شیطان کے ورغلانے سے پھر انہی لاف زنیوں اور خاک بازیوں میں نہ مبتلا ہوجانا جن سے اللہ نے تمہیں بچایا ہے۔"بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ"۔بئس اور نعم کے اندر فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتاہے ۔اس کا ٹھیک معنی خیز ترجمہ یہ ہوگا کہ نہایت ہی برالفظ ہے فسق ایمان کے بعد۔یہ اسی طرح کی بات ہے جس طرح کہیں "الشریر کاسمہٖ"شریر کا تو لفظ بھی براپھر شریر کے برے ہونے کا کیا ٹھکانا ہے!۔ہماری زبان میں بھی کسی شے کی انتہائی برائی کے اظہار کے لیے یہ اسلوب موجود ہے۔مثلاً ۔کہتے ہیں بھائی اس چیز کے تو نام سے بھی گھن آتی ہے۔۔۔۔۔بدگمانی:۔ ۔۔۔نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضاہے جس پر اسلام نے معاشرے کی بنیادرکھی ہے۔۔۔۔اگر کوئی شخص اس کے برعکس یہ اصول ٹھہرالے کہ جو رطب و یابس گمان اس کے دل میں پیدا ہوتے جائیں ان سب کو سینت کے رکھتاجائے تو گمانوں کے ایسے شوقین کی مثال اس شکاری کی ہے جو مچھلیاں پکڑنے کے شوق میں ایسا اندھا ہوجائے کہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے سانپ بھی پکڑ لے۔۔۔۔اندیشہ ہے کہ اسی شوق میں کسی دن وہ اپنی زندگی ہی گنوابیٹھے گا۔۔۔۔ایک مومن کو بدگمانیوں کا مریض نہیں بن جانا چاہیے بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں سے حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔۔۔۔تجسس:۔ ۔۔۔اس زمانے میں اس نے ایک پیشہ کی شکل بھی اختیار کرلی ہے جس کو جدیداخبار نویسی نے بہت ترقی دی ہے۔بعض اخبار نویس رات دن کسی نہ کسی اسکینڈل کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہر شریف پڑوسی کے لیے یہ نہایت نیکی کاکام ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے حالات و مسائل سے آگاہ رہے تاکہ ان کی مشکلات میں ان کی مدد کرسکے ۔۔۔غیبت:۔ ۔۔۔بعض خوش فہم کسی کی برائی کے ذکرکی ہر صورت کو غیبت قراردیتے ہیں۔ ان کے نزدیک محدثین کا راویوں پر جرح کرنا، کسی کے خلاف عدالت میں گواہی دینا، کسی کے منکر پر نکیر کرنا، کسی کے خلاف تھانے میں رپٹ لکھوانا، کسی کے باب میں کسی مشورہ چاہنے والے کو اس کے کسی واقعی عیب سے آگاہ کرنا اور اس قبیل کی ساری ہی باتیں ہیں تو داخل غیبت ،لیکن یہ غیبتیں حکمتِ عملی کے تحت جائز کردی گئی ہیں۔۔۔۔ان دونوں آیتوں (11-12)میں جن چھ باتوں سے روکا گیا ہے ان پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے اوپر کی تین باتیں ۔مذاق اڑانا، طعن کرنا اور برے القاب چسپاں کرنا۔۔۔ان برائیوں میں سے ہیں جن کا ارتکاب انسان علانیہ پبلک میں کرتاہے ۔باقی تین برائیاں سوء ظن،تجسس اور غیبت۔ انسان کی پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھنے والی ہیں جن کو وہ دوسروں سے چھپا کریا اپنے محرمان راز کے اندر محدود رکھ کر کرتاہے۔(تدبر قرآن)
ـــ یعنی مندرجہ سب کام فسق کے کام ہیں۔ کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ ایمان لانے کے بعد بھی ایسے کام کرتارہے۔ اور اگر کوئی ایسی باتوں میں نامور اور مشہور بھی ہوجائے تو یہ بہت ہی بری بات ہے۔(تیسیر القرآن)
12۔ایک شخص کے متعلق اگر آپ یہ علم رکھتے ہیں کہ اس نے اپنے گھر میں شراب کی بھٹی بنا رکھی ہے یا حشیش کا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے یا اسلحہ چھپا رکھا ہے یا چکلہ قائم کر رکھا ہے اور آپ پولیس اور حکومت کو اطلاع دے سکنے کے پوزیشن میں ہونے کے باوجود اس خیال سے اس پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کے گناہوں پر پردہ ڈالے گا تو میرے نزدیک یہ محض خوش فہمی ہے۔ اس طرح کی خوش فہمی میں پڑے ہوئے لوگ ثواب کمانا تو درکنار اپنے ایمان ہی گنوا بیٹھیں گے۔(تدبرِ قرآن)
13۔ ۔۔۔۔کوئی شخص اسلام کا دعویٰ کررہاہو تو جزم کے ساتھ اس کی تکذیب(جیسی کہ یہاں وارد ہوئی ہے)کا حق صرف حق تعالیٰ عالم الغیب ہی کو پہنچتاہے،ورنہ بندوں کا کام تو عام طورپر اس مدعی کے بیان کو تسلیم ہی کرلینا ہے۔(تفسیر ماجدی)
مسلمان معاشرےْ کے آٹھ احکام :۔
دو بڑے : (1 ) خبر کی تحقیق (2 ) بھائیوں کے درمیان صلح
بارہ آیات میں پانچ دفعہ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
چھ چھوٹے : (1 ) تمسخر ( 2 ) ایک دوسرے کو عیب لگانا (3 ) برے القاب (4 ) بدگمانی (5 ) جاسوسی ( ٹوہ ) (6 ) غیبت (بیان القرآن)
14۔ اعراب سے مراد اطراف مدینہ کے وہی دیہاتی لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ یہ لوگ نبی ﷺ سے بات کرتے ہیں تو آپ کو اس طرح خطاب کرتے ہیں جس طرح کوئی شخص اپنے برابر کے آدمی کو خطاب کرتا ہے۔ اگر کبھی آپ سے ملنے آتے ہیں تو آتے ہی ان کی خواہش ہوتی ہے بلاتاخیر آنحضرت ﷺ ان سے ملاقات کریں۔ یہاں تک کہ اگر آپ گھر کے اندر تشریف فرما ہوتے ہیں تو یہ انتظار کی زحمت اٹھاناگوارا نہیں کرتے بلکہ گھر کے باہر ہی سے آپ کو نام لے کر پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے اس گنوار پن میں جہاں تربیت سے محرومی کو دخل تھا وہیں اس بات کو بھی دخل تھا کہ یہ لوگ اس وہم میں مبتلا تھے کہ انہوں نے بغیر کسی جنگ وجدال کے اسلام میں داخل ہو کر آپ ﷺ کے اوپر احسان کیا ہے جس کا صلہ ان کو یہ ملنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ ان کو اپنا اور اسلام کا محسن سمجھیں اور ہر موقع پر ان کی ناز برداری فرمائیں۔ ان لوگوں کی اسی ذہنیت پر یہاں ضرب لگائی جا رہی ہے۔ (تدبرِ قرآن)