5 - سورة المائدة (مدنیہ)

رکوع - 16 آیات - 120

مضمون:۔ امت مسلمہ سے آخری اور کامل شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہدوپیمان اور ان اصول و ضوابط کی وضاحت جن کا اہتمام عہد الٰہی پر قائم و استوار رہنے کے لیے ضروری ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

 ۔(نظم قرآن کے مطابق )  سورتوں کے پہلے گروپ کی آخری سورت ۔شریعت اسلامی کا جامع خاکہ ،آغاز سورۂ بقرہ ،اختتام سورۂ مائدہ) اہل کتاب سے تفصیلی خطاب ۔۔۔۔دوسری منزل کا آغاز۔

زمانہ نزول :

صلح حدیبیہ کے بعد 6 سنہ ہجری کے اواخر یا سات ہجری کے اوائل میں، ماسوائے چند آیات ۔بیان کے تسلسل سے غالب گمان یہی ہوتاہے کہ یہ پوری سورت ایک ہی خطبہ پر مشتمل ہے۔(تفہیم القرآن(

- یہ سورہ مدنی اس معنی میں ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ رسول اللہؐ کے قیام  مدینہ (بلکہ آخر عمر شریف )کا زمانہ ہے ،ورنہ واقعۃً اس کے بیشتر حصہ کا نزول مکہ معظمہ میں حجۃ الوداع(ذی الحجہ 9ہجری )کے موقع پر ہواہے،اور کچھ صلح حدیبیہ (سنہ6 ہجری)سے واپسی کے وقت اور کچھ سال فتح مکہ سنہ8 ہجری میں ،ان روایتوں میں آتاہے کہ جس وقت اس کا نزول ہواہے، آپؐ اونٹنی پر سوار تھے،نزول وحی کے ثقل کو جانور تک نے محسوس کیا ،اور وہ بیٹھ گئی۔)تفسیر ماجدی(

- تکمیل دین کے مضمون پر مشتمل قرآن کی آیت"الیوم اکملت لکم دینکم"(المائدہ:3)بھی اسی سورت میں آئی ہے،جو غالبا" سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت ہے، البتہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی مکمل سورت،سورۂ النصر"اذاجاء نصراللہ والفتح"ہے۔)قرآنی سورتوں کا نظم جلی(

کتابی ربط:۔ پچھلی سورت "النساء"میں خاندانی اور ریاستی اداروں کی تنظیم کا ذکر کیا تھا۔یہاں سورت "المائدہ"میں اسلامی عدالتوں کے قیام کی طرف اشارہ ہے ،تاکہ اسلام کے فوجداری قوانین پر بھی عمل درآمد ہوسکے، چوروں کے ہاتھ کاٹے جاسکیں اور اسلامی ریاست کے دشمن "محاربین"کو سزا دی جاسکے۔)قرآنی سورتوں کا نظم جلی(

ترتیب مطالعہ:کم سے کم وقت میں تسلسل کے ساتھ۔پہلارکوع حلال و حرام اور دوسرا رکوع وضو، تیمم اور عدل و انصاف سے متعلق ہے۔ تیسرا رکوع اہل کتاب کی گمراہیوں سے بحث کرتا ہے۔ یہ بحث پانچویں رکوع تک جاری رہتی ہے۔ چھٹے رکوع میں جاری بحث کے دوران چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا ذکر آ گیا ہے۔ ساتواں رکوع: اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ تمام آسمانی کتب میں "دین" ایک ہی ہے مگر "شرع اور منہاج" الگ الگ ہیں۔ آٹھویں رکوع میں مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ مشرکین کی طرح یہود و نصاری بھی تمہارے دشمن ہیں۔ یہود و نصاری کے متعلق بحث گیارہویں رکوع تک چلتی ہے۔ بارہواں اور تیرہواں رکوع اوامر و نواہی سے متعلق ہے۔ اس میں شراب اور جوا کی حرمت کا تذکرہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ چودہویں رکوع میں مشرکین عرب کی توہم پرستی کا ذکر کیا گیا ہے اور چند معاشرتی خرابیوں کا تذکرہ ہے۔ آخری دو رکوع حضرت عیسٰی سے مکالمہ پر مشتمل ہیں۔

شانِ نزول:  جہاں جہاں یہودی آباد تھے ،سب مدینہ کی حکومت  کے  باج گذار بن گئے ۔قریش نے آخری کوشش غزوۂ خندق کے موقع پر کی اور اس میں سخت ناکام ہوئے ۔ان چند برسوں میں اسلامی اصول اور نقطہ نظر کے مطابق مسلمانوں کی اپنی ایک مستقل تہذیب وجود میں آگئی۔صلح حدیبیہ سے پہلے کفارِ قریش کے ساتھ ایک مسلسل کشمکش برپا رہی۔ مدینہ میں امن میسر ہوا اور اب ایران و روم اور مصر و عرب کے بادشاہوں اور رئیسوں کو خطوط لکھے گئے۔

مباحث: (1)مسلمانوں کی مذہبی ،تمدنی اور سیاسی زندگی کے متعلق مزید احکام و ہدایات۔اس سلسلہ میں سفر حج کے آداب مقرر کیے گئے ،شعائر اللہ کے احترام اور زائرین کعبہ سے عدم تعرض ۔۔۔۔کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال۔۔۔۔۔اہل کتاب کے ساتھ کھانے پینے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی،وضو اور غسل اور تیمم۔۔۔۔شراب اور جُوئے کو قطعی حرام کردیا گیا،(2)مسلمانوں کو نصیحت۔عدل پر قائم رہیں۔۔۔۔اپنے جملہ معاملات کے فیصلوں میں کتابِ الٰہی کے پابند رہیں، اور منافقت کی روش سے اجتناب کریں۔(3)یہودیوں اور عیسائیوں کو نصیحت۔۔۔اس لئے عیسائیوں کو بھی تفصیل کے ساتھ خطاب کرکے ان کے عقائد کی غلطیاں بتائی گئی ہیں۔۔۔۔ہمسایہ ممالک میں سے جو قومیں بُت پرست اور مجوسی تھیں ان کو براہ راست خطاب نہیں کیا گیا ،۔۔۔وہ خطابات کافی تھے جو اُن کے ہم مسلک مشرکینِ عرب کو خطاب کرتے ہوئے مکہ میں نازل ہوچکے تھے۔(تفہیم  القرآن(

پیغام کا خلاصہ:

ا۔سورۂ کاعمود:  پہلے گروپ کی آخری سورۂ ہے۔۔۔اس سے پہلے یہ عہد وپیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا لیکن وہ جیساکہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوا،اس کے اہل ثابت نہ ہوئے اس وجہ سے معزول کیے گئے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی۔

ب۔ مطالب کی نوعیت: ایک یہ کہ اس میں جو احکام و قوانین بیان ہوئے ہیں وہ دعوت اسلامی کے اس دورسے تعلق رکھنے والے ہیں جب تکمیل دین اور اتمام نعمت الٰہی کا مرحلہ سامنے آچکا تھا۔ظاہر ہے کہ عہد و پیمان لینے کیلئے سب سے زیادہ موزوں احکام یہی ہوسکتے تھے۔ان پر عہد و پیمان لینےکے معنی یہ ہیں گویا پوری شریعت پر عہد و پیمان ہوگیا۔دوسری یہ کہ ان احکام میں امتحان و ابتلاکا پہلو بہت نمایاں ہے۔تیسری یہ کہ اس میں تفصیل کے ساتھ یہود و نصاریٰ کے نقض عہد کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے۔چوتھی یہ کہ اس میں انفرادی و اجتماعی زندگی کے ان مخفی گوشوں کی خاص طورپر نشان دہی کی گئی ہے جہاں سے شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو درآنے کا موقع ملتاہے اور پھر وہ فتنے سراٹھاتے ہیں جو روکے نہ جائیں تو پوری شریعت تاراج ہوکے رہ جاتی ہے۔پانچویں یہ کہ اس میں وہ اصول و ضوابط پوری طرح واضح کردیے گئے ہیں جن کا اہتمام عہدالٰہی پر قائم و استوار رہنے کیلئے ضروری ہے۔

ج۔مطالب کا تجزیہ:اللہ سے باندھے ہوئے ہر عہد کو پورا کرنے کی تاکید ۔۔۔تعاون نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ہونا چاہئیے ،نہ کہ گناہ اور حدود الٰہی سے تجاوز کے کاموں میں۔۔۔جوچیزیں حرام ہیں ان کی تفصیل و تکمیل۔۔۔اب تمہارا دین کامل ہوگیا اور تم پر اللہ نے اپنی شریعت کی نعمت تمام کردی۔۔۔نماز کیلئے وضو کاحکم اور عذرو مجبوری کی حالت میں تیمم کی اجازت۔۔۔مسلمانوں کو مخالفوں اور دشمنوں کی شرانگیزیوں کے باوجود حق و عدل پر قائم رہنے کی ہدایت۔۔۔بنی اسرائیل سے میثاق کا حوالہ کہ اللہ نے ان سے عہد لیا ۔۔۔نصاریٰ کے میثاق کا حوالہ ۔۔۔اہل کتاب کو دعوت ۔۔۔نصاریٰ کو ملامت کہ انہوں نے مسیح ؑ کو خدا بنالیا ۔۔۔بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے ایک واقعہ کی یاددہانی ۔۔۔آدم کے دوبیٹوںکا قصّہ۔۔چوری کی سزا قطع ید ہے۔۔۔آنحضرتؐ کو تسلی کہ آپ ان لوگوں کی شرارتوں سے آزردہ نہ ہوں۔۔۔آنحضرتؐ کو خطاب کہ قرآن تمام اختلافات کے درمیان قولِ فیصل بن کر نازل ہواہے۔اب یہی تمام پچھلے صحیفوں کیلئے کسوٹی ہے۔اہل کتاب کی بدعات کی کوئی پروانہ کرو۔ہر معاملے کا فیصلہ اسی کی روشنی میں کرو۔اہل کتاب اپنی بدعات چھوڑنا نہیں چاہتے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ان کا فیصلہ قیامت میں ہوگا۔ ہوشیار رہوکہ یہ تمہیں اپنی بدعات و خواہشات کی طرف موڑنے نہ پائیں۔۔۔۔۔

مسلمانوں کو تنبیہ کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔۔۔منافقین کو دھمکی کہ یہ مرتد ہونا چاہتے ہیں تو ہوجائیں،خدا کو کوئی پروانہیں ،خدا اسلام کی حمایت کیلئے ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا جن سے خدا محبت کرے گا اور جو خدا سے محبت کرینگے۔۔۔اہل کتاب کوملامت کہ ان کی شامت ہی ہے کہ انہوں نے اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھا۔۔۔پیغمبرؐ کو ہدایت کہ تم بالکل نڈر ہوکر ان اہل کتاب کو حق پہنچادو۔۔۔خدا سے نسبت صرف ان کو حاصل ہوگی جو ایمان و عمل سے نسبت پیدا کرینگے۔۔۔نصاریٰ کے کفرکا بیان۔۔۔بنی اسرائیل پر حضرت داؤدؑ اور حضرت عیسیؑ کی لعنت کا حوالہ۔کفر دوستی اور اسلام دشمنی کے جوش میں مشرکینِ مکہ تک سے ان کی دوستی کی طرف اشارہ۔۔۔سورۂ کے شروع میں بیان کردہ احکام حلت و حرمت کے بعض پہلوؤں کی وضاحت ۔۔۔خدا کی مباح کردہ چیزوں کو اپنے جی سے حرام ٹھہرانے کی ممانعت۔۔۔شراب، جوا،انصاب و ازلام کی قطعی حرمت کا اعلان۔۔۔برائی کی کثرت برائی کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی۔۔غیر ضروری سوالات کرنے کی ممانعت۔۔۔خاتمۂ سورۂ : قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں کے باب میں شہادت دینگے کہ انہوں نے اللہ کی طرف سے لوگوں کو کیا بتایا اور سکھایا اور لوگوں سے کن باتوں کے کرنے اور کن باتوں کے نہ کرنے کا عہدو اقرار لیا تاکہ ہر امت پر حجت قائم ہوسکےکہ جس نے بھی کوئی بدعہدی کی ہے اس کی ذمہ داری تمام تراسی پرہے،اللہ کے رسول اس سے بری ہیں۔)تدبرقرآن(

-المائدہ عربی میں کھانے کے سجے ہوئے دستر خوان کو کہتے ہیں۔اس کا تذکرہ اس میں موجود ہے اس لئے اس کا نام المائدہ ہوگیاہے۔ اس سورۂ سے دوسری منزل شروع ہوتی ہے پہلی منزل سورۂ نساء پر ختم ہوگئی۔یہ سورۂ مدینہ طیبہ میں وقفے وقفے سے نازل ہوئی ،یہ آخری سورۂ ہے اس کے بعد کوئی اور سورۂ نازل نہیں ہوئی کیونکہ حجۃ الوداع کے موقع پر جو آخری آیت دین کی تکمیل کے بارے میں اتری وہ اسی میں ہے۔۔۔یہ مضامین کے اعتبار سے بہت جامع سورۂ ہے، اس سورۂ میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے آخری امت کی حیثیت سے کامل شریعت کے احکام کو قائم کرنے کیلئے عہدو پیمان لیا ہے۔ایسا ہی عہدو پیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا۔لیکن پہلی سورتوں سے واضح ہوتاہے کہ وہ اسکے اہل ثابت نہ ہوئے لہذا ان کو معزول کرکے اس کا بار امت مسلمہ پرڈالا گیا۔اس سورۃ کا خاص پیغام یہ ہے کہ جس دین کی تکمیل ہوئی ہے اور جو نعمت امت مسلمہ کو دی گئی ہے اس کے احکام و قوانین کو پابندی و استقلال سے پورا کرو۔(تعلیم القرآن)


پہلا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ  1 . اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ 2 مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 3 تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ۔ ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ  4 تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کو چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔
 اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠   ۧ ۧ  5 آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

تفسیر آیات

1۔ امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ معاہدات کی جتنی قسمیں ہیں سب اس لفظ میں شامل ہیں ۔مثلاً(i)انسان کا عہد رب کے ساتھ(عہدِالست)

(ii)انسان کا عہد اپنے نفس کے ساتھ (حلف کرکے کوئی چیز اپنے ذمہ لے لے)(iii) ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ(دوشخصوں ،

دوجماعتوں یا دوحکومتوں کے درمیان))معارف القرآن( 

- حق تعالیٰ کی ربوبیت ِ کاملہ کا وہ عہد جو عہد الست کے سلسلہ میں لیاگیاتھاجس کا نمایاں اثر انسان کی فطرت اور سرشت میں آج تک موجود ہے۔)تفسیر عثمانی(

- انعام(مویشی)کا لفظ عربی زبان میں اونٹ ،گائے ،بھیڑ اور بکری پر بولاجاتاہے اور بہیمہ(جمع بہائم) کا اطلاق ہر چرنے والے چوپائے پر ہوتاہے۔وہ چوپائے جو مویشیوں (انعام)کے برعکس کچلیاںرکھتے ہوں اور دوسرے جانوروں کو مارکر کھاتے ہوں،حلال نہیں۔اسی اشارے کو نبیؐ نے واضح کرکے حدیث میں صاف حکم دے دیا کہ درندے حرام ہیں ۔اسی طرح حضورؐ نے ان پرندوں کو بھی حرام قرار دیا جن کے پنجےہوتے ہیں اور جو دوسرے جانوروں کو شکار کرکے کھاتے ہیں یا مردار خور ہوتے ہیں۔(تفہیم القرآن)

ایفائے عہد:۔ قرآن میں کئی مقامات پر یہ صراحت موجودہے کہ یہود کی بدعہدیوں اور عہد شکنیوں کے باعث ان پر کئی ایسی چیزیں حرام کردی گئی تھیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں لہذا اس سورہ میں حلت و حرمت کے احکام بیان کرنے سے پیشتر بطور تمہید اپنے معاہدات کو پوراکرنے کی تاکید کی جارہی ہے خواہ یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ہوں یا لوگوں سے، بیع و شرا سے متعلق ہوں یا نکاح اور منگنی وغیرہ سے، اپنوں سے تعلق رکھتے ہوں یا غیر مسلموں سے، صلح سے متعلق ہوں یا جنگ سے غرض ہرطرح کے معاہدات کو پورا کرنے کا حکم دیا جارہاہے۔واضح رہے کہ عہد کو پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے جیساکہ پہلے اس ضمن میں احادیث درج کی جاچکی ہیں۔۔۔۔۔

- حلال اور حرام جانور:۔ انعام سے اہل عرب کے ہاں اونٹ،گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ مراد لیے جاتے ہیں اور بہیمۃ وہ جانورہیں جن کا گزاراگھاس پات پر ہو۔اس طرح اس قبیل میں وہ جانور بھی شامل ہوجاتے ہیں جو نباتاتی غذاؤں پر پرورش پاتے ہوں اور عرب کے علاوہ دوسرے ممالک میں پائے جاتے ہوں مثلاً گائے کے ساتھ نیل گائے،بھینس اور بکری کے ساتھ ہرن اور بارہ سنگھا وغیرہ بھی حلال ہوں گے اور جو جانور حیوانی غذا پر پرورش پاتے ہیں بالفاظ دیگر جو جانور گوشت خور ہیں وہ سب حرام ہیں جنہیں عام زبان میں درندے کہا جاتاہےچنانچہ سیدنا ثعلبہؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے ہمیں ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا(بخاری،کتاب الصید والذبائح۔باب اکل کل ذی ناب من السباع۔مسلم ۔کتاب الصید الذبائح۔ باب تحریم اکل  ذی ناب)نیز آپؐ نے ہر شکاری پرندے کوحرام قراردیا جو اپنے پنجوں سے شکار کرتاہے(حوالہ ایضاً)۔۔۔محرم کو شکار کی ممانعت۔انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نہ تو خود شکار کرسکتاہے اور نہ ہی دوسرے کو شکار کرنے میں مدد دے سکتاہےالبتہ شکار کردہ جانور سے کچھ کھالینے میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ سیدنا ابوقتادہؓ فرماتے ہیں کہ ہم(حدیبیہ کے سال)آپؐ کے ہمراہ روانہ ہوئے اور اپنے چند ساتھیوں سمیت جو احرام باندھے تھے، پیچھے رہ گئے لیکن ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔ ان احرام باندھے ہوئے ہمراہیوں نےایک گورخردیکھا جس پر ابوقتادہ کی نظرنہ پڑی۔انہوں نے بھی ابوقتادہ کو شکار کے متعلق کچھ نہ بتایا ،یہاں تک کہ ابوقتادہ کی خود اس شکار پر نظرپڑگئی۔وہ اپنے گھوڑے پر جس کانام جرادہ تھا سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا، ذرا میرا کوڑا مجھے پکڑادو۔لیکن انہوں نے انکار کردیا۔آخر ابوقتادہ نے خود اتر کر اپنا کوڑالیا اور اس گورخرپرحملہ کیا اور اس کو زخمی کرکے اسے گرادیا۔پھر ابوقتادہ نے اس شکار میں سے خود بھی کھایا اور ان  ساتھیوں نے بھی کھایا جو احرام باندھے ہوئے تھے۔پھر جب لوگ آپؐ سے جاکر ملے اور ان سے قصہ بیان کیا تو آپؐ نے پوچھا ،کیا اس شکار کا کچھ گوشت باقی ہے؟ ابوقتادہ نے کہا ہاں۔ ایک ران ہے۔چناچہ آپؐ نے وہ ران لے لی اور اس میں سے گوشت کھالیا۔"(بخاری کتاب الجہاد۔باب اسم الفرس و الحمار)پھر جس طرح احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اسی طرح مکہ میں بھی شکار کرنا حرام اور ممنوع ہے فرق صرف یہ ہے کہ حرم مکہ میں کسی وقت بھی شکار نہیں کیا جاسکتاخواہ کوئی احرام کی حالت میں ہویا نہ ہو۔جبکہ احرام باندھنے والا احرام کھولنے کے بعد حرم مکہ کے علاوہ دوسرے مقامات سے شکار کرسکتاہے اور جس طرح احرام کی چند ایک پابندیاں ہیں اسی طرح مکہ کی بھی ہیں ۔ان کی تفصیل کیلئے دیکھئے سور حج کی آیت نمبر25 کا حاشیہ۔۔۔۔۔

- حلت و حرمت کے اختیارات:۔ یعنی حلت و حرمت کے یا بالفاظ دیگر قانون سازی کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں ۔لہذا جس چیز کو وہ چاہے حلال قراردے اور جس کو چاہے حرام کردے ۔اور رسول اللہؐ نے جو چند اشیاء کی حلت و حرمت کے احکام دئیے ہیں وہ یاتو اس اختیار کے تحت آپؐ نے ایسے احکام دئیے ہیں جو اللہ نے آپ کو بحیثیت اللہ کے رسول تفویض فرمائے یا پھر وحی خفی کے ذریعہ آپ کو مطلع کیا گیا تھا ۔اہل ہنود تین چیزوں خدا، روح  اور مادہ کو ازلی ابدی قراردیتے ہیں۔ روح کو ازلی ابدی تسلیم کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتاہے کہ تمام ذی حیات یا جاندار اشیاء انسان کے ہم مرتبہ ہیں لہذا انسان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی موذی جانور کو گزند پہنچائے یا اسے مارڈالے یا اپنے ذاتی فائدے کی خاطر اسے ذبح کرکے اس کا گوشت پوست اپنے استعمال میں لائے۔ وحی الٰہی تو وحدت انسان کا تصور پیش کرتی ہے۔لیکن اس وحدت کے ٹکڑے کرکے انسان کو چار ذاتوں میں تقسیم کرڈالا۔اور یہ لوگ وحدت انسان کی بجائے وحدت حیات کا تصور پیش کرتے ہیں۔ موذی جانوروں کو دکھ نہ دینے کا نظریہ چونکہ غیر فطری ہے لہذا ان لوگوں نے اس نظریہ میں خاصی لچک پیدا کرلی ۔اور بعض دفعہ ایسے جانوروں کی کثرت عذاب سے بھی دوچار ہوئے۔رہاان کا یہ اعتراض کہ اسلام مسلمانوں کو بے زبان جانوروں کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مارڈالنے کا حکم کیوں دیتا ہے تو اس کا نقلی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو چیز بھی پیدا کی ہے انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کی ہے اور انسان شریعت کے قوانین کے تحت ان چیزوں سے انتفاع کا حق رکھتاہے اور یہی بات اس آیت سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ جو کچھ چاہے حکم دیتاہے اور عقلی جواب یہ ہے کہ روح اور جسم کے انفصال کے وقت ہرجاندار کو بہرحال تکلیف پہنچتی ہے۔ ایک جاندار جو طبعی موت مرتاہے وہ بوڑھا ہوکر اور بیماری کے دکھ سہہ سہہ کر مرتاہے اور ذبح یا شکار کی صورت میں غالباً اس سے کم عرصہ کیلئے تکلیف پہنچتی ہے۔(تیسیر القرآن)

- ایفائے عہد عقود کی تشریح:۔ایمان شرعی دوچیزوں کا نام ہے ، صحیح معرفت اور تسلیم و انقیاد ۔یعنی خدا اور رسول کے جملہ ارشادات کو صحیح و صادق سمجھ کر تسلیم و قبول کیلئے اخلاص سے گردن جھکا دینا۔اس تسلیمی جزء کے لحاظ سے ایمان فی الحقیقۃ تمام قوانین و احکام الٰہیہ کے ماننے اور جملہ حقوق اداکرنے کا ایک مضبوط عہدواقرار ہے گویا حق تعالیٰ کی ربوبیۃ کاملہ کا وہ اقرار جو عہد الست کے سلسلہ میں لیا گیا تھا جس کا نمایاں اثر انسان کی فطرت اور سرشت میں آج تک موجود ہے۔۔۔۔احرام کی حالت میں شکار کی حرمت۔محرم کو صرف خشکی کے جانور کا شکار جائز نہیں۔دریائی شکار کی اجازت ہے۔اور جب حالت احرام کی رعایت اس قدر ہے کہ اس میں شکار کرنا ممنوع ٹھہرا تو خود حرم شریف کی حرمت کا لحاظ  اس سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے۔یعنی حرم کے جانور کا شکار محرم و غیر محرم سب کیلئے حرام ہوگا۔جیساکہ لَا تُحِلُّوْا شَعَآىٕرَ اللّٰهِ کے عموم سے مترشح ہوتاہے۔(تفسیر عثمانی)

شعائر کا مفہوم:۔ شعائر ،شعیرہ کی جمع ہے۔یعنی امتیازی علامت ۔ہرمذہب اور ہرنظام کی امتیازی علامات کو شعائر کہا جاتاہے۔مثلاً اذان نماز باجماعت اور مساجدمسلمانوں کے، گرجا اور صلیب عیسائیوں کے، تلک ،زنار،چوٹی اور مندر ہندوؤں کے،کیس،کڑااور کرپان سکھوں کے۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کے اور سرکاری جھنڈے ،قومی ترانے ،فوج اور پولیس کے یونیفارم وغیرہ حکومتوں کے امتیازی نشان ہوتے ہیں ۔جن کا احترام ضروری سمجھا جاتاہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی کئی شعائر ہیں۔۔۔حرمت کے مہینے:۔اللہ تعالیٰ کے شعائر بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک کے نام اس آیت میں آگئے ہیں۔ان کی توہین یا بے حرمتی سے انسان گنہگار ہوجاتاہے۔ان میں سے سرفہرست حرمت والے مہینہ کا ذکر فرمایا۔حرمت والے مہینے چارہیں ۔ذی قعدہ،ذی الحجہ،محرم اور رجب۔اور ان کی حرمت کا مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں اہل عرب لوٹ مار اور لڑائی وغیرہ سے بازرہتے تھے۔دورجاہلیت میں پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور یہ قبیلےآپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے انہوں نے آپس میں یہ طے کیا ہواتھاکہ ان مہینوں میں کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلہ پر چڑھ کرنہ آئے گا۔دوسرے عرب قبائل ایک دوسرے کو بھی لوٹا کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو بھی ۔ان حرمت والے مہینوں میں وہ اس کام سے باز رہتے تھے اور ان چار مہینوں میں سے ذیقعدہ،ذی الحجہ اور محرم کو حرمت والے مہینے قراردینے کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں لوگ دور دور سے حج کرنے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے اور رجب حرمت والا مہینہ قراردینے کی وجہ یہ تھی کہ  اس مہینہ میں لوگ بیت اللہ کیلئے نذرانے لایا کرتے تھے اور متولیان کعبہ یہ نذرانے وصول کیا کرتے تھے۔اگربنظرغائر دیکھاجائے تویہ سب کچھ کعبہ شریف کے اعزاز کی وجہ سے تھا اور متولیان کعبہ، کعبہ کی وجہ سے کئی قسم کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی فائدے اٹھارہے تھے اور قریش مکہ کے قافلے توساراسال ہی بے خوف و خطر سفر کرسکتے تھے۔ ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھاکر دیکھتابھی نہ تھا۔ ۔۔اللہ کے شعائر:۔ اسلام میں جب زکوٰۃ فرض ہوئی تو اس کی وصولی کیلئے عمال کو ماہ رجب میں روانہ کیا جایا کرتاتھا۔اس کی وجہ بھی غالباً یہ ہوکہ اس مہینہ میں لوگ کعبہ کیلئے نذرانہ دینے کے پہلے سے عادی تھے۔دوسرے نمبر پر ہدی کا ذکر فرمایا۔۔۔تیسرے نمبر پر قلائد کا ذکر فرمایا۔۔۔تمام مناسک حج بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں۔۔۔اورامر عموماً وجوب کیلئے آتاہے لیکن یہاں یہ صیغۂ اجازت اور رخصت کے معنوں میں ہے۔یعنی جب تم احرام کھول دو توشکار کرسکتے ہوجیساکہ  ترجمہ سے واضح ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ جب تم احرام کھولوتو ضرور شکارکرو۔۔۔اور حدیبیہ کے موقع پر ان تمام شعائر اللہ کی توہین  کی تھی جن کا اس آیت میں ذکر ہواہے۔انہوں نے بیت اللہ جانے کی راہ روکی۔حرمت والے مہینہ میں لڑائی پر آمادہ ہوئے اور قربانی اور پٹے والے جانوروں کی مطلق پروانہ کی۔۔۔حرب فجار جو قیس اور قریش کے قبیلوں کے درمیان چھڑی تھی اس میں آپؐ نے بھی حصہ لیا ۔۔۔اس جنگ کے خاتمہ پر بعض صلح پسند طبیعتوں میں اصلاح کی تحریک پیدا ہوئی۔۔۔اس معاہدہ کو حلف الفضول کہا جاتاہے۔(تیسیرالقرآن)

- (جبکہ خود وہ شکار حدودِ حرم میں نہ ہو)فاصطادوا۔صیغۂ امر ہے، لیکن وجوب کے معنی میں نہیں ،بلکہ صرف اجازت کے مفہوم میں۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ محض ایک امرمباح  کیلئے صیغۂ امر کا وارد ہونا اس پر دلالت کرتاہے کہ جس مباح کے ترک سے اس کے ممنوع ہونے کا شبہ ہونے لگے،اس مباح کا کرنا ہی مطلوب ہوتاہے اور یہیں سے ان متشددین کی غلطی بھی واضح ہوجاتی ہے، جومباحات کے ترک کردینے میں حرام ہی کی طرح تشدد و غلو رکھتے ہیں۔۔۔کیسے زریں اصول کی تعلیم مل رہی ہے!نیکی میں سب کے شریک رہو،بدی اور فسق میں کسی کا ساتھ نہ دو! "مہذب"قوموں کا ساشیوہ نہ رکھو کہ اپنی قوم سب پر مقدم ،اور اپنی پارٹی بہر حال اپنی پارٹی! ادھر قاعدے اور اصول غیروں سے معاملت کے بتائے تھے،اب یہاں ارشاد آپس کی معاملت سے متعلق ہوگیا۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ یہیں سے معلوم ہوا کہ حسن و قبح میں مقدمات کو مقاصد کا حکم دیا جاتاہے،اور مشائخ اہل تربیت کے ہاں اسی قاعدے پر عمل ہے،یہیں سے وجوب ان مجلسوں میں شرکت کانکل آیا جن کا مقصد اشاعت ِ دین و نصرت دین ہے،اور حرمت ان اجتماعی اداروں میں شرکت کی نکل آئی جن سے بےدینی یا بدعملی کی تائید ہوتی ہو۔(تفسیر ماجدی)

شعائر کا احترام۔یعنی جو چیزیں حق تعالیٰ کی عظمت و معبودیت کیلئے علامات اورنشانات خاص قرار دی گئی ہیں ان کی بے حرمتی مت کرو۔ان میں حرم محترم، بیت اللہ شریف،جمرات،صفامروہ،ہدی،احرام،مساجد، کتب سماویہ وغیرہ تمام حدود و فرائض اور احکام دینیہ شامل ہیں۔ آگے ان نشانیوں میں سے بعض مخصوص چیزوں کا جو مناسک سے متعلق ہیں،ذکر فرماتے ہیں جیساکہ اس سے پہلی آیت میں بھی محرم کے بعض احکام ذکرکئے گئے تھے۔۔۔باقی دشمنان اسلام کے مقابلہ میں ہاجمانہ اقدام، تو جمہور کا مذہب یہ ہی ہے بلکہ ابن جریر نے اجماع نقل کیا ہے کہ اس کی ان مہنیوں میں ممانعت نہیں رہی اس کا بیان سورۂ توبہ میں آئیگا۔ان شاءاللہ۔۔۔۔یعنی حق پرستی انصاف پسندی اور تمام عمدہ اخلاق کی جڑ خدا کا خوف ہے۔اور اگر خدا سے ڈر کر نیکی سے تعاون اور بدی سے ترک تعاون نہ کیا گیا تو عام عذاب کا اندیشہ ہے۔(تفسیر عثمانی)

3۔ذبح علی النصب:  جن چیزوں کو اسلام نے حرام کیا ہے انہیں اس وجہ سے حرام کیا ہے کہ یا تو اخلاق پر ان کا برااثر پڑتاہے یا وہ طہارت کے خلاف ہیں یاان کا تعلق کسی فاسد عقیدہ سے ہے ۔کھانے پینے کی چیزوں میں حرام اور حلال کی جو قیود شریعت کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں ان کی  اصل بنیاد ان اشیا کے طبی فوائد و نقصانات نہیں ہوتے بلکہ ان کے اخلاقی فوائد و نقصانات ہوتے ہیں۔

- تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ۔دنیا میں اس کی تین قسمیں پائی جاتی ہیں۔(i)مشرکانہ فال گیری جس میں کسی دیوی یا دیوتاسے قسمت کا فیصلہ پوچھاجاتاہے۔(ii)توہم پرستانہ فال گیری جس  میں زندگی کا فیصلہ عقل و فکر کی بجائے کسی وہمی و خیالی چیز سے کیا جاتاہے۔(iii)جوئے کی قسم کے سارے کھیل۔قرعہ اندازی کی وہ ساری صورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے جس سے دوبرابر کے جائز کاموں یا دوبرابر کے حقوق میں فیصلہ کرنا ہو۔(تفہیم القرآن)

- تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۔علمانے فرمایا ہے کہ آئندہ کے حالات اور غیب کی چیز معلوم کرنیکے جتنے طریقے رائج ہیں خواہ اہل جفر کے زریعہ یا ہاتھ کے نقوش دیکھ کر یا فال وغیرہ نکال کر یہ سب حرام ہیں۔(معارف القرآن)

۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔ مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ  یہ آیت حجۃ الوداع کےموقع پر سنہ10ھ میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن  جس سلسلہ کلام  میں  یہ واقع ہوئی ہے وہ صلح حدیبیہ سے متصل زمانہ (سنہ6 ھ) کا ہے اور سیاقِ عبارت  میں دونوں فقرے کچھ ایسے پیوستہ نظر آتے ہیں کہ یہ گمان نہیں کیا جا سکتا  کہ ابتداء میں یہ سلسلہ کلام ان فقروں کے بغیر نازل ہوا تھا اور بعد میں جب یہ نازل ہوئے تو انہیں یہاں لا کر نصب کر دیا گیا۔ میرا قیاس یہ ہے، ولعلم عنداللہ، کہ ابتداء ً یہ آیت اسی سیاقِ کلام میں نازل ہوئی تھی اس لیے اس کی حقیقی اہمیت لوگ نہ سمجھ سکے۔ بعد میں جب تمام عرب مسخر ہو گیا اور اسلام کی طاقت اپنے شباب پر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ یہ فقرے اپنے نبی پر نازل فرمائے اور ان کے اعلان کا حکم دیا۔ (تفہیم القرآن) 

-حلت و حرمت کی علت:۔ حلت و حرمت کے قانون میں شریعت نے صرف اس بات کو ملحوظ نہیں رکھا کہ حرام چیزوں کے طبی لحاظ سے جسم انسانی پر کیا مفید یا مضر اثرات پڑتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہوتی تو سب سے پہلے سنکھیا اور دوسرے زہروں کانام لیا جاتا،بلکہ زیادہ تر اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ کہ ان حرام اشیاء کے انسان کے اخلاق پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طہارت اور پاکیزگی سے ان کا کس قدر تعلق ہے نیز ایسی تمام چیزیں بھی حرام قراردی گئیں جنہیں نیت کی گندگی اور عقیدہ کی خباثت حلال سے حرام بنادیتی ہے۔لہذایہ ضروری نہیں کہ جو چیز اللہ نے حرام کی ہے اس کی حکمت بہرحال انسان کی سمجھ میں آجائے ۔۔۔یہ آیت 9ذی الحجہ 10ہجری کو عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور اس دن جمعہ کا دن تھا جیساکہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتاہے۔(1)تکمیل کا دن:۔ یہودی لوگ(کعب احبار)سیدنا عمرؓ سے کہنے لگے: تم ایک ایسی آیت پڑھتے ہوکہ اگروہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی توہم اسے عید(جشن)کا دن مقررکرلیتے۔سیدنا عمرؓ نے کہا میں خوب جانتاہوں کہ یہ آیت کب اور کہاں اتری اور اس وقت آپؐ کہاں تشریف رکھتے تھے۔یہ آیت عرفہ کے دن اتری اور اللہ کی قسم! ہم اس وقت عرفات میں تھے۔سفیان (ایک راوی)نے کہا۔مجھے شک ہے اس دن جمعہ تھا یا کوئی اور دن۔(بخاری کتاب التفسیر)اور بخاری کی دوسری روایات مثلاً کتاب الایمان۔باب زیادۃ الایمان و نقصانہ)اور کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔نیز مسلم۔کتاب التفسیر میں وضاحت ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔(2)سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ آپ نوسال تک(مدینہ میں)رہے مگر حج نہیں کیا۔پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ آپؐ حج کرنے جارہے ہیں۔چنانچہ بہت سے لوگ آپکی ہمراہی کیلئے مدینہ آگئے۔(مسلم، کتاب الحج۔باب حجۃ النبیؐ)۔(تیسیر القرآن)

- آیت نمبر ایک میں الاّ مایتلیٰ گزرچکاہے، اب اسی کی تفصیل بیان ہورہی ہے۔۔۔الدّم ۔دم مسفوح یعنی بہتاہوا خون مرادہے۔۔۔مجاہد تابعی کے ایک قول سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ قرعہ اندازی ،فال گیری اور وہم پرستی کی یہ شکل اہلِ عرب کے ساتھ مخصوص نہ تھی، ایران اور رومہ کی بڑی بڑی مہذب و متمدن قومیں اس میں مبتلا تھیں۔مفسر تھانویؒ نے کہا ہے کہ آج کل چٹھی ڈالنے کا جو دستور نکلاہے،وہ اسی سے ملتی جلتی ہوئی ایک شکل قمار کی ہے۔(تفسیر ماجدی)

- تھوڑا ساپہلے ھدی کے ادب و احترام کا ذکر فرمایاتھا۔یعنی جو وہ جانور جو تقرب الی اللہ کی غرض سے خدائے واحد کی سب سے پہلی عبادت گاہ کی نیاز کے طورپر ذبح کیا جاتاہے اس کے بالمقابل اس جانور کا بیان فرمایا جسے خداکے سواکسی دوسرے کے نام پر یا خانہ خدا کے سواکسی دوسرے مکان کی تعظیم کیلئے ذبح کیا جائے(موضح القرآن)اس دوسری صورت میں بھی فی الحقیقہ نیت نذر غیر اللہ ہی کی ہوتی ہے گوذبح کے وقت زبان سے"بسم اللہ اللہ اکبر"کہاجائے۔اس تقریر کے موافق مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ اور مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ کا فرق واضح ہوگیا (ابن کثیر)۔۔۔جوئے کے تیر۔بعض مفسرین نے ازلام سے تقسیم کے تیر مراد لئے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں لحم ذبیحہ وغیرہ کے بانٹنے میں استعمال ہوتے تھے اور وہ ایک صورت قمار (جوئے)کی تھی جیسے آج کل چٹھی ڈالنے کی رسم ہے لیکن حافظ عمادالدین ابن کثیر وغیرہ محققین کے نزدیک راجح یہ ہے کہ ازلام سے مراد وہ تیر ہیں جن سے مشرکین مکہ کسی اشکال اور تردد کے وقت اپنے ارادوں اور کاموں کا فیصلہ کرتے تھے۔ یہ تیر خانہ کعبہ میں قریش کے سب سے بڑے بت "ہبل"کے پاس رکھتے تھے۔ان میں سے کسی پر امرنی ربی لکھا تھا (میرے پروردگار نے حکم دیا، )کسی پر نہانی ربی تحریر تھا(میرے رب نے مجھے منع کیا)اسی طرح تیر پریوں ہی اٹکل پچو باتیں لکھ چھوڑی تھیں۔جب کسی کام میں تذبذب ہوا تو تیرنکال کر دیکھ لئے ۔اگر امرنی ربی والا تیر نکل آیا تو کام شروع کردیا اور اس کے خلاف نکلا تو رک گئے وعلیٰ ہذہ القیاس۔گویا بتوں سے یہ ایک  قسم کا مشورہ اور استعانت تھی۔چونکہ اس رسم کا مبنی خالص جہل،شرک،اوہام پرستی اور افتراء علی اللہ پر تھا اس لئے قرآن کریم نے متعدد مواقع میں نہایت تغلیظ و تشدید کے ساتھ اس کی حرمت کو ظاہر فرمایا ہے اس تقریر کے موافق"ازلام"کا ذکر "نصب"کی مناسبت سے ہوا اور مردار ،خون، خنزیر وغیرہ نہایت ہی خبیث اور گندی چیزوں کی تحریم کے سلسلہ میں منسلک کرکے بتلادیا کہ اس کی معنوی اور اعتقادی نجاست و خباثت ان چیزوں سے کم نہیں جیساکہ ایک دوسری آیت میں "رجس"کے اطلاق سے ظاہر ہوتاہے۔۔۔اسی لئے بعض یہود نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔(تفسیر ماجدی)

4- اس جواب میں ایک لطیف نقطہ پوشیدہ ہے۔ مذہبی طرزِ خیال کے لوگ اکثر اس ذہنیت کے شکار ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز  کو حرام سمجھتے رہے ہیں جب تک کہ صراحت کے ساتھ  کسی چیز کو حلال قرار نہ دیا جائے۔ اس ذہنیت کی وجہ سے  لوگوں پر وہمی پن اور قانونیت کا تسلط ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں حلال اشیاء اور جائز کاموں کی  فہرست مانگتے ہیں اور ہر  چیز کو یہ اس شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں وہ ممنوع تو نہیں۔ یہاں قرآن اس  ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے۔ پوچھنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ انہیں تمام حلال چیزوں کی تفصیل بتائی جائے تاکہ ان کے سوا وہ ہر چیز کو حرام سمجھیں۔ جواب میں قرآن نے حرام چیزوں کی تفصیل بتائی اور اس کے بعد  یہ عام ھدایت دے کر چھوڑ دیا  کہ  ساری پاک چیزیں حلال ہیں۔  اس  طرح قدیم مذہبی نظریہ بالکل الٹ گیا۔ قدیم نظریہ یہ تھا کہ سب کچھ حرام ہے بجز اس کے کہ جسے حلال ٹہرایا جائے۔ قرآن نے اس کے برعکس یہ اصول مقرر کیا کہ سب کچھ حلال ہے بجز اس کے جس کی حرمت کی تصریح کر دی جائے۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاح تھی جس نے انسانی زندگی کو بندشوں سے آزاد کر کےدنیا کی وسعتوں کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا۔پہلے حلت کے ایک چھوٹے سے دائرے کے سوا ساری دنیا اس کے لئے حرام تھی۔  اب حرمت کے ایک مختصر سے دائرے کو مستثنیٰ کر کے ساری دنیا اس کے لیے حلال ہو گئی۔ ۔۔۔ حلال کے لیے "پاک" کی قید اس لیے   لگائی کہ ناپاک  چیزوں  کو اس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھرانے  کی کوشش نہ کی جائے۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیاء کے "پاک" ہونے کا تعین کس طرح ہو گا  ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو چیزیں  اصولِ شرع میں سے  کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں ، یا جن چیزوں سے ذوقِ سلیم کراہت کرے، یا جنہیں مہذب انسان نے بالعموم اپنے فطری احساس ِ نظافت کے خلاف پایا ہو۔ ان کے سوا سب کچھ پاک ہے۔ (تفہیم القرآن)

- جانوروں کو سدھانے کے بارے میں:۔  یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ ۔سوال قرآن کے معروف اسلوب بیان کے مطابق اختصار کے ساتھ نقل ہواہے لیکن جواب بتارہاہے ہے کہ سوال سدھائے اور سکھلائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار سے متعلق ہے کہ اگر وہ شکار پکڑیں اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے پہلے ہی دم توڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہواہوگا کہ اوپر والی آیت میں درندے کے پھاڑے ہوئے جانورکو صرف اس صورت میں جائز بتایا ہے جب اس کو زندہ حالت میں ذبح کرلیا جائے۔۔۔ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ ، یہ جواب کا صرف ایک حصہ ہے جو ایک کلیہ کی حیثیت رکھتاہے۔۔۔طیبات کا لفظ خبائث کا ضد ہے۔۔۔جو اول تو خود اپنے مزاج ،اپنیْ سرشت اور انسان کیلئے اپنی افادیت اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اچھے اور پاکیزہ ہوں۔ثانیاًان کو اللہ کے نام پر ذبح کرلیا گیاہو۔۔۔جو اپنے مزاج اور سرشت کے اعتبار سے انسان کے صالح مزاج سے مناسبت رکھنے والے نہ ہوںمثلاً خنزیر، کتے، بندر،درندے،اور شکاری پرندے وغیرہ۔یا مزاج سے مناسبت رکھنے والے تو ہوں لیکن کسی خارجی سبب سے ان کے اندر خبث و فساد پیدا ہوگیا ہو،مثلاً جانور مرگیا یا غیر اللہ کے نام پر یا کسی استھان پر اس کو ذبح کیا گیا ہویہ سب خبائث میں داخل ہیں۔ابتداً تو یہ لفظ اسی معنی کیلئے استعمال ہوالیکن پھر اس کا استعمال شکاری جانوروں کی تربیت کیلئے عام ہوگیا، خواہ کتا ہو یا شکاری درندوں اور پرندوں میں سے کوئی اور جانور۔۔۔بلکہ ایک مسلمان کے تربیت کردہ کتے اور ایک عیسائی کے تربیت کردہ کتے کے میلان اور سلیقہ میں بھی فرق ہوجائے گا۔میرے نزدیک تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ کے الفاظ سے اسی خاص سلیقہ کی طرف اشارہ ہورہاہے۔۔۔۔۔

امرؤ القیس کی کتیا: شکار عرب میں محض ایک شوقیہ تفریح نہیں تھا بلکہ ان کے ہاں اس کو معاش کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل تھی۔ان کی معاش کا انحصار تین چیزوں پر تھا ۔گلہ بانی،تجارت،شکار۔ اس معاشی اہمیت کے سبب سے ان کے ہاں شکاری جانوروں کی تربیت کا فن بھی کافی ترقی کرگیا تھا۔امراؤالقیس جب اپنے شعروں میں اپنی کتیا کا ذکر کرتا ہے تو آدمی حیران رہ جاتاہے کہ یہ کیسی کتیا کا ذکر ہے یا کسی شعلہ صفت پُرفن قتالہ کا۔(تدبر قرآن)

-  شکاری کتے اور باز وغیرہ کے ذریعہ شکار حلال ہونے کی شرائط:۔ اول یہ کہ کتا یا باز سکھایا اور سدھایاہواہو اور سکھانے سدھانے کا یہ اصول قرار دیا ہے کہ جب تم کتے کو شکار پر چھوڑو تو وہ شکار پکڑ کر تمہارے پاس لے آئے ۔خود اس کو کھانے نہ لگے ۔اور باز کیلئے یہ اصول مقرر کیا کہ جب تم اس کو واپس بلاؤ تو وہ فوراً آجائے اگرچہ وہ شکار کے پیچھے جارہاہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ تم فوراً اپنے ارادہ سے کتے کو یا باز کو شکار کے پیچھے چھوڑ و۔یہ نہ ہوکہ وہ خود بخود کسی شکار کے پیچھے دوڑ کر اس کو شکار کرلیں ۔تیسری شرط یہ ہے کہ شکاری جانور شکار کو خود نہ کھانے لگیں بلکہ تمہارے پاس لے آئیں ۔چوتھی شرط یہ ہے کہ جب شکاری کتے یا باز کو شکار پر چھوڑ دو تو بسم اللہ کہہ کر چھوڑو جب یہ چاروں شرطیں پوری ہوں تو اگر جانور تمہارے پاس آنے تک دم توڑچکا ہو تو بھی حلال ہے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ورنہ بغیر ذبح کے تمہارے لئے حلال نہ ہوگا۔امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک ایک پانچویں شرط یہ بھی ہے کہ یہ شکاری جانور شکار کو زخمی بھی کردے۔اس شرط کی طرف لفظ جوارح میں اشارہ موجود ہے۔مسئلہ : یہ حکم ان وحشی جانوروں کا ہے جو اپنے قبضہ میں نہ ہوں، اور اگر کسی وحشی جانور کو اپنے قابو میں کرلیا گیا ہے تو وہ بغیر باقاعدہ ذبح کے حلال نہیں ہوگا۔(معارف القرآن)

- (کتے اور باز کے شکار کئے ہوئے جانوروں میں سے)یہ سوال کرنے والے منکرین نہ تھے،مؤمنین و صحابہ ہی تھے،اور حلت و حرمتِ اشیاء کے سلسلہ میں اس مسئلہ کا حل بھی ضرورتھا۔۔۔گویا یہ پہلی شرط حلت کی تفصیل ہوگئی۔۔۔فقہاء نے تعلیم و تربیت کا معیار کتے کے حق میں یہ رکھا ہے کہ سکھا یا ہوا کتا شکار کو پکڑ کر خود نہ کھاجائے اور بازکے حق میں یہ رکھا ہے کہ سدھے ہوئے باز کو جب آواز دی جائے تو وہ شکار کا پیچھا چھوڑ کر واپس چلاآئے۔(تفسیر ماجدی)

- چونکہ شکاری جانور سے شکار کرنے کے متعلق  بعض لوگوں نے خصوصیت سے سوال کیا تھا اس لئے آیت کے اگلے حصہ میں اس کو تفصیلاً بتلادیا گیا۔(تفسیر عثمانی)

5۔ حضرت شاہ ولی اللہ  دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ میں بیان فرمایا ہے کہ جتنے جانور شریعت اسلام نے حرام قرار دئے ہیں،ان سب پر غور کیا جائے تو سمٹ کر یہ سب دواصولوں کے تحت آجاتے ہیں۔ایک یہ کہ کوئی جانور اپنی فطرت و طبیعت کے اعتبار سے خبیث ہو۔ دوسرے یہ کے اس کے ذبح کا طریقہ غلط ہو،جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ذبیحہ کے بجائے میتہ یعنی مردار قراردیا جائے گا۔۔۔۔۔

-حرام جانور:۔ اور بہت سے جانور ایسے بھی ہیں کہ افعال و آثار سے ان کا خبیث ہونا عام طبائع خود بھی محسوس کرلیتی ہیں۔مثلاً درندے جانور،جن کا کام ہی دوسرے جانوروں کو زخمی کرنا، پھاڑنا کھاناہے اور سخت دلی ہے۔۔۔اسی لئے رسول کریمؐ سے بھیڑئیے کے متعلق کسی نے دریافت کیا تو فرمایا کہ کیا کوئی انسان اس کو کھا سکتاہے۔اسی طرح بہت سے ایسے جانور ہیں جن کی خصلت ایذارسانی ۔چیزوں کو اچک لیناہے۔جیسے سانپ۔ بچھو۔چھپکلی۔  مکھی۔یاچیل اور باز وغیرہ۔۔۔اسی لئے رسول کریمؐ نے ایک ضابطہ کے طورپر فرمایا کہ ہر درندہ جانور جو دانتوں سے پھاڑ کھاتاہے،جیسے شیر،بھیڑیا وغیرہ ۔اور پرندوں میں وہ جانور جو اپنے پنجے سے شکار کرتے ہیں ۔جیسے باز ،شکرہ وغیرہ یہ سب حرام ہیں یا ایسے جانور جن کی طبیعت میں خست اور ذلت یا نجاست کے ساتھ ملوث ہونا ،جیسے چوہا یا مردار خور جانور یا گدھا وغیرہ ،یہ سب چیزیں ایسی ہیں کہ ان جانوروں کے طبعی خواص اور ان کا مضر ہونا ہر انسان جو معمولی سلامت طبع رکھتاہو محسوس کرتاہے۔(معارف القرآن)

- (بشرطیکہ ذبح کرتے وقت غیراللہ کا نام نہ لے دیا گیا ہو۔)"تثلیث مقدس"کے نام پر اگر کوئی جانور ذبح ہواہوگا تو وہ محققین حنفیہ کے یہاں حلال نہیں، حرام ہوگا۔۔۔لیکن واضح رہے کہ یہ سارے اختلافات اس صورتِ حال کے موقع پر ہیں،جب جانور بہرحال ذبح ہواہو،لیکن جب ذبح ہی کی نوبت سرے سے نہ آئے مثلاً مرغ کو گردن مروڑ کرہلاک کردیا گیا تو ایسے غیر مذبوح جانور کے جواز کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،اور آج کی برائے نام مسیحی قوموں میں جوعام دستور ہے، سب پر ظاہر ہے۔۔۔اور کتابیہ حربیہ کے ساتھ نکاح کی کراہت میں توشبہ نہیں۔۔۔علامہ شامی نے فیصلہ کیا ہے کہ نکاح غیر حربیہ کے ساتھ تو محض مکروہ تنزیہی ہے ،لیکن حربیہ کے ساتھ مکروہ تحریمی ۔۔۔شیخ رشید رضا مصری نے آیت کے ذیل میں ایک تفصیلی بحث اس پر کی ہے کہ جن مشرک عورتوں سے نکاح ممنوع ہے ان سے مراد صرف مشرکات عرب تھیں ،یا عام مشرکات اور بن جریر طبری کے حوالہ سے ترجیح پہلی شق کو دی ہے۔(تفسیر ماجدی)

-غیر مسلم سے نکاح:۔مسلمان عورت کو کسی صورت میں بھی کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نْہیں دی گئی خواہ کتابی ہو یا غیر کتابی یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجازت صرف ایک اجازت ہے ۔یہ کوئی مستحسن چیز نہیں ہے۔ اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی نیک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کرلے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہل کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کے فحویٰ ،اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔یہ بات یہاں چنداں یاددلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام کے بہت سے قوانین دارالاسلام کی شرط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض رخصتیں اور اجازتیں بھی خاص ماحول اور خاص حالات کے ساتھ مشروط ہیں۔آگے اس سلسلے کی بعض اہم باتیں بیان ہونگی۔۔۔۔۔ کفر بالایمان کا مطلب:۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کے شرائط پر ہے۔جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینک مارا جائے گا اور اس قسم کے ایمان کے تحت کیے ہوئے سارے اعمال خداکے ہاں ڈھے جائیں گے۔ اس پر پیچھے بھی بحث گذرچکی ہے۔(تدبر قرآن)

-صرف نام کے یہودی و نصرانی جو درحقیقت دہریے ہیں وہ اس میں داخل نہیں۔۔۔۔۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں اس راہ سے آخری دور میں ہوئیں اور ہوتی رہتی ہیں جن کے عبرتنامے روز آنکھوں کے سامنے آتے ہیں کہ ایک لڑکی نے پوری مسلم قوم اور سلطنت کو تباہ و برباد کردیا۔(معارف القرآن)

- مگر یہ یادرہے کہ کہ ہمارے زمانہ کے"نصاریٰ"عموماً برائے نام نصاریٰ ہیں ان میں بکثرت وہ ہیں جو نہ کسی کتاب آسمانی کے قائل ہیں نہ مذہب کے نہ خدا کے،ان پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔(تفسیر عثمانی)


دوسرا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 6 مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو۔
وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 7 اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ  8 اے ایمان والو! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔
 وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ  9 جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے
 وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ 10 اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠   ۧ ۧ  11 اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہواور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

تفسیر آیات

6۔ تیمم اور غسل جنابت کے متعلق احادیث تو پہلے سور نساء کی آیت نمبر 43 کے تحت درج کی جاچکی ہیں وہاں سے دیکھ لی جائیں اور وضو اور طہارت کے متعلق احا دیث یہاں درج کی جارہی ہیں:۔وضو کے متعلق احکام: ایک دفعہ سیدنا عثمانؓ نےپانی کابرتن منگوایا ۔پھر پہلے اپنی ہتھیلیوں پر تین بار پانی ڈال کر انہیں دھویا یا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر کلی کی، پھر ناک جھاڑی،پھر تین بار اپنا منہ دھویا،پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے،پھر ایک ہی بار سرکا مسح کیا،پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے پھر کہا کہ رسول اللہؐ نے فرمایا "جوکوئی میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر(تحیۃ الوضوء کی)دورکعتیں اس طرح اداکرے کہ اس کے دل میں کوئی دنیوی خیال نہ ہو اس کے پہلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔"(بخاری،کتاب الوضوء ثلثا ثلثا)۔۔۔واضح رہے کہ اس آیت میں جن اعضاء کے دھونے کا ذکر آیا ہے۔ان کو دھونا فرض ہے یا بالفاظ دیگر وہ وضو کے فرائض ہیں جن کے بغیر وضو ناتمام رہتاہےاور وہ یہ ہیں۔(1)اپنے چہرہ کو دھونا(2)اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور کہنیاں اس میں شامل ہیں۔(3)اپنے سرکا مسح کرنا اور(4)اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا اور ٹخنے ان میں شامل ہیں۔۔۔اتمام نعمت کیا ہے؟ یعنی اتمام نعمت اسی شکل میں ہوسکتی ہے کہ نفس کی پاکیزگی کے احکام کےساتھ ساتھ جسم کی پاکیزگی کے احکام بھی دئیے جائیں ۔ایک مسلمان کیلئے جسم کی صفائی بھی اتنی ضروری ہے جتنی نفس کی پاکیزگی اور صفائی۔چنانچہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ جسمانی صفائی ایمان کا حصہ یا آدھا ایمان ہے(مسلم۔کتاب الطہارۃ باب فضل الوضوء۔)(تیسیر القرآن)

- یہاں تک کہ اس آیت کے اندر سے بعض بعض علماء اور فقہاء نے آٹھ آٹھ سو اور ہزار ہزار مسئلے مستخرج اور مستنبط کئے ہیں۔۔۔سردی لگ جانے کا خوف، بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ ،پانی لانے میں بہت دشواریاں، یہ ساری چیزیں پانی نہ ملنے ہی کے حکم میں داخل ہیں، حدیث میں تصریح موجود ہے کہ عمروبن العاصؓ نے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم کرلیا ،اس لئے کہ پانی سے انہیں سردی لگ جانے کا اندیشہ تھا،اور رسول اللہؐ نے اسے جائز رکھا۔۔۔مایرید۔یرید متکلمین نے آیت کے ان الفاظ سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ ارادہ ہے۔یہی الفاظ ان نیم مشرک ،نیم ملحد قوموں کی تردید کیلئے بھی کافی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صفتِ ارادہ سے محروم محض مشین کی طرح چند قاعدوں کا پابند ومحکوم سمجھے ہوئے ہیں۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ شرعی رخصتوں سے تنگ دل ہونا اور ان پر ہوائے نفس کا شبہ کرنا جیساکہ عمل میں غلو رکھنے والے کرتے رہتے ہیں،مزاحمت ِ حق ہے۔(تفسیر ماجدی)

- جنابت کیلئے غسل:۔ یعنی جنابت سے پاک ہونے میں صرف اعضائے اربعہ کا دھونا اور مسح کرنا کافی نہیں۔سطح بدن کے جس حصہ تک پانی بدون تضریہ کے پہنچ سکتاہووہاں تک پہنچانا ضروری ہے۔اسی لئے حنفیہ غسل میں"مضمضہ"اور "استنشاق"(کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا)کو بھی ضروری کہتے ہیں ۔وضو میں ضروری نہیں سنت ہے۔۔۔آسانیوں پر اللہ کا شکر:۔پچھلے رکوع میں جو نعمائے عظیمہ بیان ہوئی تھیں ان کو سن کر بندہ کے دل میں جوش اٹھا کہ اس منعم حقیقی کی بندگی کیلئے فوراً کھڑا ہواجائے۔اسے بتلادیاکہ ہماری طرف آؤکس طریقہ سے پاک ہوکر آؤ۔یہ بتلانا خود ایک نعمت ہوئی اور بدن کی سطح ظاہر پر پانی ڈالنے یا مٹی لگانے سے اندرونی پاکی عطا فرمادینا۔یہ دوسری نعمت ہوئی ۔بندہ ابھی پچھلی نعمتوں کا شکرادانہیں کرسکا تھا قصد ہی کررہاتھاکہ یہ جدید انعامات فائض ہوگئے ۔اس لئے ارشاد ہوا لعکم تشکرون یعنی ان پہلی نعمتوں کو یاد کرنے سے پہلے ان جدید نعمتوں کا جو "احکام وضو"وغیرہ کے ضمن میں مبذول ہوئیں شکراداکرنا چاہئے۔شاید اسی لعلکم تشکرون سے حضرت بلالؓ نے تحیۃ الوضو کا سراغ لگایا ہو۔اس درمیانی نعمت کے شکریہ پر متوجہ کرنے کے بعد اگلی آیت میں ان سابق نعمتوں اور احسانات عظیمہ کو پھراجمالاً یاد دلاتے ہیں جن کی شکر گزاری کیلئے بندہ اپنے مولا کے حضور میں کھڑا ہونا چاہتاتھا،چنانچہ فرماتے ہیں"وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ" الخ۔(تفسیر عثمانی)

7۔ یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔قبائلی عصبیتوں نے تمہیں عداوتوں اور لڑائیوں میں پھنساکر تمہاری زندگی تم پر حرام کردی تھی اور تم ان حالات سے نجات کی راہ سوچتے تھے مگر ایسی کوئی راہ تمہیں نظر نہیں آتی تھی ۔پھر اللہ نے تم پر پے در پے کئی احسانات کیے۔ تمہیں اسلام کی توفیق بخشی پھر اسی اسلام کی وجہ سے تمہاری دیرینہ اور مسلسل عداوتوں کا خاتمہ کرکے تمہیں ایک دوسرے کا مونس و غمخوار اور بھائی بھائی بنادیا۔۔۔۔بیعت عقبہ کا عہد:۔ یعنی وہ پختہ عہد جو تم نے عقبہ کی رات کو رسول اللہؐ سے کیا تھا کہ ہم ہر حال میں آپؐ کی فرمانبرداری کرینگے واضح رہے کہ آپؐ نے بیعت عقبہ کے بعد بھی جس شخص سے بیعت لی اسی عہد پر بیعت لی۔اور خلفاء الراشدین بھی اسی عہد پر بیعت لیتے رہے۔امیر کی اطاعت سے ہی جماعت کا نظم و نسق اور امت میں اتحاد قائم رہ سکتاہے اسی لیے حضورؐ نے امیر کی اطاعت کی بہت تاکید فرمائی ہے۔تفصیل کیلئے سورۂ نساء کی آیت59 کا حاشیہ نمبر 91ملاحظہ فرمایاجائے۔(تیسیرالقرآن)

- میثاقکم۔اس سے کون سا عہد مراد ہے؟ایک گروہ کا خیال ہے کہ اس سے مراد عالمِ ارواح کا وہ عہد ہے جو سارے بنی آدم سے اقرار ِ ربوبیت کی بابت لیا گیا تھا۔(تفسیر ماجدی)

- مومنوں کے عہد کی تذکیر:۔ غالباً یہ عہد وہ ہی ہے جو "بقرہ"کے آخر میں مؤمنین کی زبان سے نقل فرمایا تھا"وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر"(بقرہ رکوع40)جب صحابہؓ آنحضرتؐ کے دست مبارک پر بیعت کرتے تھے،اس وقت بھی یہ اقرار کرتے تھے کہ ہم اپنی استطاعت کے موافق آپ کی ہر بات کو سنیں گے اور مانیں گے خواہ ہمارے منشاء اور طبیعت کے موافق ہو یا خلاف ۔یہ تو عام عہدتھا اس کے بعد بعض ارکان اسلام یا مناسب حال اہم چیزوں کے متعلق خصوصیت سے بھی عہد لیا جاتاتھا۔گویا اس صورت کے شروع میں جو "اوفوا بالعقود"فرمایا تھا، درمیان میں بہت سے احسانات کا ذکرکرکے جن کو سن کر ایفائے عہد کی مزید ترغیب ہوتی ہے پھر وہی اصلی سبق یاددلایا گیا۔(تفسیر عثمانی)

عدل و انصاف سے تقویٰ حاصل ہوتاہے :۔ جو چیزیں شرعاً مہلک یا کسی درجہ میں مضر ہیں ان سے بچاؤکرتے رہنے سے جو ایک خاص نورانی کیفیت آدمی کے دل میں راسخ ہوجاتی ہے اس کا نام تقویٰ ہے۔تحصیل تقویٰ کے اسباب قریبہ و بعیدہ بہت سے ہیں۔تمام اعمال حسنہ اور خصال خیر کو اس کے اسباب و معدات میں شمار کیا جاسکتاہے۔لیکن معلوم ہوتاہے کہ "عدل وقسط" یعنی دوست و دشمن کے ساتھ یکساں انصاف کرنا اور حق کے معاملہ میں جذبات محبت و عداوت سے قطعاً مغلوب نہ ہونا،یہ خصلت حصول تقویٰ کے مؤثر ترین اور قریب ترین اسباب میں سے ہے ۔اسی لئے "ھواقرب للتقویٰ"فرمایا (یعنی یہ عدل جس کا حکم دیا گیا تقویٰ سے نزدیک ترہے) کہ اس کی مزاولت کے بعد تقویٰ کی کیفیت بہت جلد حاصل ہوجاتی ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔ ووٹ کے متعلق مفتی صاحب کی رائے کہ غلط آدمی کو ووٹ دینے والا اس کے غلط کاموں کا عذاب بھگتے گا ۔ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو  صفحہ 71،72 معارف القرآن۔  (مرتب)

-سورۂ نساء :آیت نمبر (135) وہاں بالقسط پہلے ۔(بیان القرآن :   ڈاکٹر اسرار)

دشمن قوم پر بھی گواہی میں انصاف:۔ پہلے سورۂ النساء کی آیت نمبر 135 میں اس سے ملتا جلتا مضمون گذرچکاہے کہ تم اللہ کی خاطر انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیا کرو خواہ یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف جارہی ہو یا تمہارے والدین اور اقرباء کے خلاف جارہی ہو۔یہاں اس آیت میں سمجھا یا جارہاہے کہ تم سابقہ دشمنیوں اور قبائیلی عصبیتوں سے بالکل بے نیاز ہوکر انصاف کی گواہی دیا کرو۔کسی شخص  کی یا کسی قوم کی دشمنی تمہاری گواہی پریا تمہارے  عدل و انصاف پر ہر گز اثرانداز نہ ہونی چاہیے ۔ اس کی واضح مثال تواس انصاری کا واقعہ ہے جس نے کسی مسلمان کی ایک زرہ چرالی اور ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا تھا(یہ واقعہ سورہ نساء کی آیت نمبر107کے تحت بیان ہوچکا ہے)مالک یہ مقدمہ رسول اللہؐ کی عدالت میں لے گیا چور(جو حقیقتاً منافق تھا)کی سوچ ہی یہی تھی کہ میں چونکہ مسلمان ہوں اس لیے یہودی کے مقابلہ میں یقیناً آپؐ میری حمایت کرینگے۔پھر اس چور اور اس کے خاندان والوں نے اسی قبائلی عصبیت کی بناپر اس کاساتھ دیا اور قسمیں بھی کھائیں کہ ہم اس چوری کے قصہ میں بالکل بے تعلق ہیں اور قریب تھا کہ آپؐ یہودی کےخلاف اور اس منافق کے حق میں فیصلہ بھی  دے دیتے کہ اللہ نے بذریعہ وحی آپؐ کو حقیقی صورت سے مطلع فرمادیا ۔اس آیت میں تمام مسلمانوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے کہ جس شخص کے حق میں تمہیں گواہی دینا پڑے ،گواہی بالکل ٹھیک ٹھیک دیا کروخواہ وہ تمہارادوست ہو یا دشمن قوم سے تعلق رکھتاہو۔کیونکہ تمام عدل و انصاف اور تقویٰ پیدا کرنے والے اسباب میں سے یہ ایک مؤثر ترین سبب ہے اور تمہیں شہادت دیتے وقت ہرلمحہ یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جو کچھ تم کہو گےاللہ سن رہاہے اور جوکچھ کروگے اللہ اسے دیکھ رہاہے۔اور بعض مفسرین نے "كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ"کا یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے والے بن جاؤ۔۔۔۔۔جیساکہ صحابہ کرامؓ نے اس پر عمل کرکے دکھایا ۔اسی ذمہ داری کو تمہیں بحال رکھنا چاہیے اور آگے بڑھانا چاہیےاور اس سلسلہ میں تمہیں عدل وانصاف کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ (تیسیر القرآن)

- شَنَاٰنُ قَوْمٍ ۔جس قوم یا جماعت سے مسلمانوں کو بہ حیثیت مسلمان کے دشمنی ہوگی،ظاہر ہے کہ وہ دشمنِ اسلام قوم، کافروں ہی کی ہوگی،تو گویا تاکید اس کی ہوئی کہ دشمنوں تک ادائے حقوق میں کمی نہ کرو۔اللہ اللہ! دنیا کا کون سا قانون ایساملے گا،جس نے اپنے باغیوں اور معاندوں کے حقوق کی یہاں تک رعایت رکھی ہو۔ فقہاء نے آیت سے یہ حکم نکالا ہے کہ کافر کا کفر اسے اس حق سے محروم نہیں کردیتا کہ عدل اس کے معاملہ میں کیا جائے،یا حقوق اس کے اداکئے جائیں۔۔۔اور عدل کا وجوب جب کفر کے ساتھ جمع ہوسکتاہے،تو کفر سے کمتر درجہ  کی چیزوں فسق،بدعت وغیرہ کے ساتھ اس کا وجوب کیوں کر نہ جمع ہوگا ،جب منکروں، باغیوں ،سرکشوں کے ساتھ عدل واجب ہے،توتوحید رسالت کے قائلوں کے ساتھ یہ وجوب کتنااور مؤکد ہوگا!اکابر شارحین نے اس طرف باربار توجہ دلائی ہے۔۔۔اللہ کی اس ہمہ بینی و ہمہ دانی کا استحضار ہی تقویٰ کی ہرمنزل اور ہرمرحلہ کو آسان بناسکتاہے۔اسی لئے یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں تقویٰ کا حکم ہے، اکثر اسی کے متصل ہی اس مضمون کا بیان بھی مل جاتاہے،چناچہ اسی سے ملتی جلتی ایک آیت پارہ پنجم سورۂ النساء میں بھی آئی ہے۔مفسر تھانویؒ نے خوب فرمایا کہ معاملات میں بے انصافی کے سبب عموماً دوہی ہوتے ہیں، یا تو کسی فریق کی رعایت و مروت اور یا کسی فریق کی عداوت و مخالفت سورۂ النساء میں اقامتِ عدل کا حکم سبب اول کی مناسبت سے ہے،اور یہاں سببِ دوم کی مناسبت سے ۔(تفسیر ماجدی)

9۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوطرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دوطرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اوردوسرے  اجرعظیم کا۔جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ جولوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہوجائےگی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجالاتے رہے ہوں گے۔(تیسیر القرآن)

11۔ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جسےحضرت عبداللہ بن عباس نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبیؐ اور آپ کے خاص خاص  صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور پر یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے۔ لیکن عین وقت پر اللہ کے فضل سے نبیؐ کو اس سازش کا حال معلوم ہو گیا اور آپؐ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ چونکہ یہاں سے خطاب کا رخ بنی اسرائیل کی طرف پھر رہا ہے اس  لیے تمہید کے طور پر ا س واقعہ کا ذکر فرمایا گیا ہے  (تفہیم القرآن)

۔  پہلا احسان تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ انہیں اسلام کی توفیق بخشی اور اسلام کی بدولت ان کی قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ ہوا، لڑائیاں ختم ہوئیں اور آپس میں  بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے لگے  دوسرا بڑا احسان یہ تھا کہ حدیبیہ کے مقام پر کافر یہ چاہتے تھے کہ تم پر حملہ آور ہوکر تمہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیں۔لیکن اللہ نے ایسے حالات پیدا کردئیے کہ وہ اپناارادہ پورانہ کرسکے۔(تیسیر القرآن)

-  اِذْ هَمَّ قَوْمٌ ۔یہ کون لوگ تھے؟ مخالفین و معاندین کا مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے،سوال یہ رہ جاتاہے کہ یہاں متعین طورپر کن معاندین کی جانب اشارہ ہے؟ اشارہ اگر اسلام کی ابتدائی تاریخ کی طرف سمجھا جائے تو اس وقت سب سے بڑے دشمن مشرکینِ قریش تھے،اور اربابِ تفسیر ْکا ایک گروہ اسی جانب گیاہے۔۔۔اوراگر مراد مابعد کے زمانہ سے لی جائے تو اس وقت سب سے پرقوت مخالفین یہودِ عرب تھے،چنانچہ ایک گروہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔۔۔موقع نزول کی روایتیں متعدد ہیں لیکن ان میں تعارض و تناقض کچھ بھی نہیں، اور قوم کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتاکہ کوئی جماعت ہی مراد ہو، کوئی مخصوص لیڈر یا سرغنہ بھی مراد ہوسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

-مومنوں پر اللہ کا احسان:۔عمومی احسانات یاددلانےکے بعد بعض خصوصی احسان یاددلاتے ہیں یعنی قریش مکہ اور ان کے پٹھوؤں نے حضورپرنورؐ کو صدمہ پہنچانے اور اسلام کو مٹانے کیلئے کس قدر ہاتھ پاؤں مارے مگر حق تعالیٰ کےفضل و رحمت نے ان کا کوئی داؤچلنے نہ دیا ۔اس احسان عظیم کا اثر یہ ہونا چاہئے کہ مسلمان غلبہ اور قابوحاصل کرلینے کے باوجود اپنے دشمنوں کو ہر قسم کے ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھیں اور جوش انتقام میں عدل و انصاف کا رشتہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں جیساکہ پچھلی آیات میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔ ممکن ہے کسی کو یہ شبہ گزرے کہ ایسے معاند دشمنوں کے حق میں اس قدر رواداری کی تعلیم کہیں اصول سیاست کے خلاف تو نہ ہوگی کیونکہ ایسا نرم برتاؤ دیکھ کر مسلمانوں کے خلاف شریروں  اور بدباطنوں کی جرأت بڑھ جانے کا قوی احتمال ہے اس کا ازالہ "واتقوااللہ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون"سے فرمادیا یعنی مومن کی سب سے بڑی سیاست "تقویٰ"اور "توکل علی اللہ"(خداسے ڈرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا)ہے۔خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر وباطن میں اس سے اپنا معاملہ صاف رکھو اور جو عہد واقرار کئے ہیں ان میں پوری وفاداری دکھلاتے رہو۔پھر بحمداللہ کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگلی آیت میں ہماری عبرت کیلئے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمادیا۔جس نے خدا سے نڈر ہوکر بدعہدی اور غداری کی تھی،وہ کس  طرح ذلیل و خوار ہوئی۔(تفسیر عثمانی)


تیسرا رکوع

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ 12 اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا۔
 فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَْ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ 13 تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ 14 اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔
 یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ   15 اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں ۔بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔
 یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 16 جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔
 لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 17 جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ  18 اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
 یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ 19 اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا؎۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر آیات

12۔نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل  کے بارہ قبیلے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک  ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا تا کہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے  اور انھیں بے دینی اور بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ بائبل کی کتاب گنتی میں بارہ سرداروں کا ذکر موجود ہے، مگر ان کی وہ حیثیت جو یہاں لفظ  "نقیب" سے قرآن میں بیان کی گئی ہے، بائبل کے بیان سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بائبل انہیں صرف رئیسوں اور سرداروں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور قرآن ان کی حیثیت اخلاقی و دینی نگرانِ کار کی قرار دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔  اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ معیت چار باتوں سے مشروط تھا۔ (1)بنی اسرائیل نماز کو قائم کرتے رہیں(2)زکوٰۃ اداکرتے رہیں(3)بعد میں جو رسول مبعوث ہوں ان پر ایمان بھی لائیں اور ان کی جان و مال سے مدد کریں اور(4)لوگوں کو قرضہ حسنہ دیتے رہیں ۔گویا جوذمہ داری ان نقیبوں پر ڈالی گئی تھی ان میں سے مذکورہ چار کام سب سے اہم تھے اور ان سے عہد یہ تھا کہ اگر وہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے تو یقیناً اللہ ان کے ساتھ ہوگا اور ان کی ہر معاملہ میں مدد فرمائے گا۔۔۔برائیاں دورکرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ۔ایک یہ کہ جو شخص نیکی کے مذکورہ بالا بڑے بڑے کاموں میں لگارہے اس کا ذہن برائیوں کی طرف منتقل ہوتاہی نہیں اور وہ برائیوں سے بچارہتاہے اور برائیاں اس سے دور رہتی ہیں ۔دوسرے یہ کہ اگر ان سے کچھ برائیاں سرزد ہوبھی جائیں تو وہ ایسی بڑی نیکیوں کے تلے دب جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر گرفت ہی نہیں فرماتے۔(تیسیر القرآن)

- بنی اسرائیل کے بارہ سردار:۔  بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے بارہ سردار حضرت موسیٰ ؑ نے چُن لیے تھے جن کے نام بھی مفسرین نے تورات سے نقل کئے ہیں،ان کا فرض یہ تھا کہ وہ اپنی قوم پر عہد پوراکرنے کی تاکید اور ان کے احوال کی نگرانی رکھیں۔عجب اتفاق یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے  جب "انصار" نے"لیلۃ العقبہ"میں نبی کریمؐ کے ہاتھ پر بیعت کی تو ان میں سے بھی بارہ ہی "نقیب"نامزد ہوئے ان ہی بارہ آدمیوں نے اپنی قوم کی طرف سے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔جابر بن سمرۃ کی ایک حدیث میں نبی کریمؐ نے اس امت کے متعلق جوبارہ خلفاء کی پیشین گوئی فرمائی ان کا عدد بھی"نقبائے بنی اسرائیل" کے عدد کے موافق ہے اور مفسرین نے تورات سے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماعیلؑ سے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ"میں تیری ذریت میں سے بارہ سردار پیدا کرونگا۔"غالباً یہ وہی "بارہ" ہیں جن کا ذکر جابر بن سمرہ کی حدیث میں ہے۔۔۔ خدا کو قرض دینے سے مراد اس کے دین اور اس کے پیغمبروں کی حمایت میں مال خرچ کرناہے۔۔۔"اچھی طرح"سے مراد یہ ہے کہ اخلاص سے دواور اپنے محبوب و مرغوب اور پاک و صاف مال میں سے دو۔۔۔بنی اسرائیل سے جن باتوں کے عہد لینے کا یہاں ذکرہے وہ یہ ہیں۔نماز ،زکوٰۃ،پیغمبروں پر ایمان لانا،ان کی جان و مال سے مدد کرنا۔ان میں سے پہلی عبادت بدنی ہے، دوسری مالی، تیسری قلبی مع لسانی۔چوتھی فی الحقیقت تیسری کی اخلاقی تکمیل ہے۔۔۔لیکن بنی اسرائیل نے چن چن کر ایک ایک عہد کی خلاف ورزی کی۔(تفسیر عثمانی)

13۔ بنی اسرائیل کی اپنے عہد کی ایک ایک شق کی خلاف ورزی:۔بنی اسرائیل نے اپنے اس مضبوط عہد کی چنداں پرواہ  نہ کی۔قیام صلوٰۃ اور ایتائے الزکوٰۃ میں غفلت برتی۔زکوٰۃ کے بجائے بخل کی راہ اختیار کی اور قرضہ حسنہ دینے کی بجائے سود خوری اور حرام خوری شروع کردی ۔اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا تو درکنار جی بھر کران کی مخالفت کی اور بعض انبیاء کو ناحق قتل بھی کرتے رہے غرض یہ کہ اس عہد کی ایک ایک شق کو توڑنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جس کے عوض ہم نے ان پر لعنت کی اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور دوسری سزایہ دی کہ ان کے دل سخت بنادئیے جس کی وجہ سے ایک توراہ حق قبول کرنے سے قاصر ہوگئے دوسرے آپس میں الفت و موانست کے جذبات ان میں خود غرضی ،سنگدلی اور باہمی منافرت نے راہ پالی۔(تیسیر القرآن)

- یہودیوں کی کلام اللہ میں تحریف:۔ یعنی خدا کے کلام میں تحریف کرتے ہیں کبھی اس کے الفاظ میں کبھی معنی میں، کبھی تلاوت میں۔تحریف کی یہ سب اقسام قرآن کریم اور کتب حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔جس کا قدرےاعتراف آج کل بعض یورپین عیسائیوں کو بھی کرنا پڑاہے ۔۔۔یہودیوں کی محرومی:۔ یعنی چاہئے تو یہ تھاکہ ان قیمتی نصیحتوں سے فائدہ اٹھاتے جو مثلاً نبی آخر الزماں کی آمد اور دوسرے مہمات دینیہ کے متعلق ان کی کتابوں میں موجود تھیں۔مگر اپنی غفلتوں اور شرارتوں میں پھنس کر یہ سب بھول گئے بلکہ نصیحتوں کا وہ ضروری حصہ ہی گم کردیا اور اب بھی جو نصیحتیں اور مفید باتیں خاتم النبیین ؐ کی زبان سے ان کو یاددلائی جاتی ہیں  ان کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔حافظ ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے کہ "نقض عہد" کے سبب سے ان میں دوباتیں آئیں۔"ملعونیت"اور "قسوۃ قلب" ان دونوں کا نتیجہ یہ دوچیزیں ہوئیں ۔"تحریف کلام اللہ" اور "عدم انتفاع بالذکر" یعنی لعنت کے اثر سے ان کا دماغ منسوخ ہوگیا ۔حتیٰ کہ نہایت بیباکی اور بدعقلی سے کتب سماویہ کی تحریف پر آمادہ ہوگئے۔دوسری طرف جب عہد شکنی کی نحوست سے دل سخت ہوگئے تو قبول حق اور نصیحت سے متاثرہونے کا مادہ نہ رہا۔ اس طرح علمی اور عملی دونوں قسم کی قوتیں ضائع کربیٹھے۔(تفسیر عثمانی)

14۔ (اور اسی بھلائے ہوئے بڑے حصہ میں توحید الٰہی بھی شامل ہے اور تصدیق رسالتِ محمدؐ بھی)یہ قرآن کا ایک عجیب معجزہ ہے کہ آج جو صحیفے انجیلوں کے نام سے مسیحی ہاتھوںمیں موجود ہیں،صدگونہ تحریفات کے بعد بشارات محمد ان میں اب تک باقی ہیں، حضرت یحیٰ کے سلسلہ میں ہے:۔"جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لادی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟تواس نے انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا میں تومسیح نہیں ہوں،انہوں نے اس سے پوچھا ،پھر کون ہے؟کیا تو ایلیاہ ہے؟اس نے کہا میں نہیں ہوں ،کیاتووہ نبی ہے؟اس نے جواب دیا کہ نہیں بس انہوں نے اس سے کہا پھر توہے کون؟"(یوحنا۔1: 19- 22)"انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیاہ۔نہ وہ نبی ۔توپھر بپتسمہ کیوں دیتاہے"؟(یوحنا۔1: 25)یہ باربار۔"وہ نبی"کے سوال کے کیا معنی؟ ضروری ہے کہ کسی معروف نبی کی پیش گوئی یہود میں مدت سے چلی آرہی ہو،اور یہ النبی یقیناً مسیح سے الگ کوئی تھے،جیساکہ اوپر کے سوالات سے ظاہر ہے۔اور آگے چلئے ،خود مسیح نے ایک بار عید کے اخیر دن کھڑے ہوکر پکارا کہ اگر کوئی پیاسا ہو تو میرے پاس آکر زندگی کا پانی پیے۔"بس بھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سن کرکہا ،بے شک یہی وہ نبی ہے،اوروں نے کہا ،یہ مسیح ہے"(یوحنا7: 40)ایک حوالہ اور ملاحظہ ہو، حضرت مسیح دنیا سے رخصت ہونے سے قبل اپنے شاگردوں کو تسلی دیتے ہیں "اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کروگے،اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا۔کہ ابدتک تمہارے ساتھ رہے"۔(یوحنا۔14: 16((مددگار کے لفظ پر انجیل کے اردو نسخہ میں"وکیل یا شفیع بھی درج ہے)اب یہ ابدتک ساتھ رہنے والا مددگار "یاشفیع یاوکیل" بجز "نبی خاتم النبینؐ" کے اور کون ہے؟ اسی کی تاکید ایک بار پھر حضرت مسیحؑ کی زبان سے ملاحظہ ہو:"میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے،کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (وکیل یاشفیع)"تمہارے پاس نہ آئے لیکن اگر میں جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا،اور وہ آکر دنیا کو گناہ اورراست بازی اور عدالت کے بارہ میں قصور وار ٹھہرائے گا۔"(یوحنا16: 817)اس کے کھلے ہوئے معنی یہ ہوئے کہ وہ نبی آکر پرانی شریعتیں منسوخ کرےگا اور نئی شریعت چلائے گا۔حَظّاً پر حاشیہ ابھی نمبر 63 میں گزرچکاہے۔صیغۂ نکرہ یہاں بھی"بڑائی"کے اظہار کیلئے ہے ۔یعنی بڑا حصہ۔(تفسیر ماجدی)

- لفظ نصاریٰ کی تشریح :۔ "نصاریٰ"کا ماخذ یا تو"نصر" ہے جس کے معنی مدد کرنے کے ہیں اور یا ناصرہ کی طرف نسبت ہے۔ جو ملک شام میں اس بستی کا نام ہے جہاں حضرت مسیحؑ رہے تھے اس لئے ان کو "مسیح ناصری" کہتے ہیں ۔جو لوگ اپنے کو نصاریٰ "کہتے تھے وہ گویا اس بات کے مدعی تھے کہ ہم خدا کے سچے دین اور پیغمبروں کے حامی و ناصر اور حضرت "مسیح ناصری" کے متبع ہیں اس زبانی دعوے اور بقی تفاخر کے باوجود دین کے معاملہ میں جورویہ تھا وہ آگے ذکر کیا گیاہے۔۔۔اہل کتاب کی آپس میں دائمی بغض و عداوت:۔یعنی باہم"نصاریٰ" میں یا "یہود"اور "نصاریٰ" دونوں میں عداوتیں اور جھگڑے ہمیشہ کیلئے قائم ہوگئے ۔آسمانی سبق کو ضائع کرنے اور بھلادینے کا جو نتیجہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوا یعنی جب وحی الٰہی کی اصلی روشنی ان کے پاس نہ رہی تو اوہام و ہواء کی اندھیریوں میں ایک دوسرے سے الجھنے لگے۔(تفسیر عثمانی)

۔ لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ نصاریٰ کا لفظ  "ناصرہ " سے ماخوز  ہے جو مسیحؑ کا وطن تھا۔ دراصل اس کا ماخذ  " نصرت"  ہے اور اس کی بنا وہ قول ہے جو مسیح ؑ کےسوال   من انصاری الی اللہ  (خدا  کی راہ میں  کون لوگ میرے مددگار ہیں؟) کے جواب میں حواریوں نے کہا تھا کہ  ، نحن انصارا للہ (ہم اللہ کے کام میں مددگار ہیں)۔ عیسائی مصنفین کو محض ظاہری مشابہت دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کی مسیحیت کی ابتداء تاریخ میں ناصریہ (Nazarenes)  کے نام سے جو ایک فرقہ پایا جاتا تھا ، اور جنہیں حقارت کے ساتھ ناصری  اور ایبونی کہا جاتا تھا، انہی کے نام کو قرآن نے تمام عیسائیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن  یہاں قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ ہم " نصاریٰ ہیں اور ظاہر ہے کہ  عیسائیوں نے اپنا نام کبھی ناصری نہیں رکھا۔ (تفہیم القرآن)

15۔۔۔جیساکہ انہوں نے رجم کی آیت کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔۔۔یاجیسے وہ رسول اللہؐ کی بعثت سے متعلق سب آیات کو چھپاجاتےتھے۔۔۔ مزید یہ کہ مفتی احمد یار صاحب بریلوی لکھتے ہیں کہ"حضورؐ کے رب کے نور ہونے کے نہ تو یہ معنی ہیں کہ(1)حضورؐ خدا کے نور کا ٹکڑا ہیں(ب)نہ یہ کہ رب کا نورحضورؐ کے نور کا مادہ ہے(ج)نہ کہ حضورؐ خدا کی طرح ازلی، ابدی، ذاتی نورہیں اور (د)نہ یہ کہ رب تعالیٰ حضورؐ میں سرایت کرگیا ہے کہ کفر اور شرک لازم آئے بلکہ آپؐ ایسے ہی نور ہیں جیسے اسلام اور قرآن نور ہیں۔"(رسالہ نور،ص7، مصنفہ مولانا احمد رضا خان بریلوی)  (تیسیرالقرآن)

- یااھل الکتاب۔اب خطاب یہود ونصاریٰ دونوں سے ہے۔(تفسیر ماجدی)

16۔ تاریکیاں اور اندھیرے کئی قسم کے ہیں ۔شرک و کفر کا اندھیرا ،گناہ و سرکشی کا اندھیرا، نفس اور بدعت پرستی کی تاریکی ،غفلت اور سستی کی ظلمت ۔اس لئے ظلمات جمع کا لفظ ذکر کیا ۔لیکن نور صرف ایک ہی اس لئے واحد کا لفظ ہی استعمال فرمایا۔یعنی صراط مستقیم۔(ضیاء القرآن)

-شاید نور سے خود نبی کریمؐ اور کتاب مبین سے مراد قرآن کریم مراد ہے ۔یعنی یہود و نصاریٰ جو وحی الٰہی کی روشنی کو ضائع کرکے اھوا و اآرا کی تاریکیوں اور باہمی خلاف و شقاق کے گڑھوں میں پڑے دھکے کھارہے ہیں جس سے نکلنے کا قیامت تک کوئی امکان نہیں ان سے کہہ دو کہ سب سے بڑی روشنی آگئی ۔(تفسیر عثمانی)

-نور سے مراد حضورؐ مگر کسی طرح بھی اللہ کے جسم کا حصہ نہیں ۔۔۔۔  مگرکبریا آسمان سے اتر مصطفیٰ ؐ کے روپ میں زمین پر آگیا (اوتار کا عقیدہ ۔اگلی آیت)۔(بیان القرآن)

17۔ قیامت کے دن حسب و نسب کچھ کام نہ آئے گا:۔چناچہ سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا اس کا نسب اسے آگے نہ کرسکے گا(مسلم کتاب الذکر۔باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن )اور جب سورۂ شعراء کی آیت "وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ"نازل ہوئی تو آپؐ نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا کہ مثلاً اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تیرے کچھ کام نہ آسکوں گا۔اے صفیہ!(رسول اللہؐ کی پھوپھی)میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔اے فاطمہ بنت محمدؐ !میرے مال میں سے جو تم چاہومجھ سے(دنیا میں)طلب کرلو۔ (آخرت میں ) میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔(بخاری،کتاب التفسیر سورۂ شعراء۔مسلم کتاب الایمان۔باب وانذر عشیرتک الاقربین)(تیسیر القرآن)

-لَقَدْ كَفَرَالَّذِیْنَ الخ۔ مسیحیت ِ موجودہ کی متعدد شاخوں کے عقیدہ تو کھلے ہوئے مشرکانہ ہیں، مثلاً(SABELLIANSIM)و(MONAR CHIANISM DOCETISM)وغیرہا،ان کیلئے ملاحظہ ہو،راقم سطور کی تفسیر انگریز ی ،اردو میں ان کی اصطلاحوں کے ترجمے بھی دشوار ہیں،اب رہی وہ مسیحیت جو مسلکِ جمہور کے مطابق ہے اور صدیوں سے دنیامیں خوب پھیلی ہوئی ہے،وہ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں،عقیدۂ اتھانیاسیس(ATHANASIN,CREED)جوکیتھولک ،پروٹسٹنٹ وغیرہ سب مشہور و مقبول فرقوں میں مشترک ہے اس میں یہ الفاظ صراحۃً موجودہیں:"باپ بیٹے اور روح القدس کی الوہیت ایک ہی ہے،جلال برابر عظمت ِ ازلی یکساں، جیسا باپ ہے،ویساہی بیٹا ،اور ویساہی روح  قدس ہے،باپ غیرمخلوق ،بیٹا غیر مخلوق اور روح قدس غیر مخلوق،باپ غیر محدود،بیٹا غیر محدود اور روح قدس غیر محدود۔باپ ازلی،بیٹا ازلی اور روح قدس ازلی، باپ قادر مطلق ،بیٹا قادر مطلق اور روح قدس قادرمطلق،ویساہی باپ خدا،بیٹا خدا اور روح قدس خدا "کھلا شرک اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتاہے۔المسیح اور مریم دونوں پر حاشیے پہلے گزرچکے ہیں ۔المسیح کے ساتھ ابن مریم کا اضافہ بجائے خود ایک ضرب کاری ہے،عقیدہ الوہیت مسیح پر، کہ جسے تم عین خدا قراردے رہے ہو،وہ تو خود ایک خاتون کا فرزند تھا۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت میں صریح رد ہے، ان لوگوں پر جو خالق و مخلوق میں اتحاد کے قائل ہیں۔(تفسیر ماجدی)

- حضرت شاہ صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں کہ "اللہ تعالیٰ "کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں کہ ان کی امت بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھا دے۔والاّ نبی اس لائق کا ہے کوہیں"کہ ان کے مرتبہ عالی اور وجاہت عنداللہ کا خیال کرتے ہوئے ایسا خطاب کیا جاتا۔۔۔جو چاہے اور جس طرح ۔مثلاً حضرت "مسیح " کو بدون باپ کے اورحضرت حوا کو بغیر ماں کے اور حضرت آدمؑ کو بدون ماں اور باپ کے پیدا کردیا۔(تفسیر عثمانی)

18۔ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ ۔ میں ابناء سے مراد حقیقی صُلبی بیٹے نہیں اور نہ ابن کےیہ معنی ہی لازمی طورپر ہیں، صلبی بیٹے کیلئے عربی میں دوسرا لفظ ہے۔ولد ۔ابن کا اطلاق مجاز ی منھ بولے لڑکوں پر پوری طرح ہوتاہے اور عربی میں اس کا یہ مجازی استعمال بہت عام ہے۔۔۔گویا حاصل تقریر یہود و نصاریٰ کا یہ تھا کہ ہم سب اونچی ذات والے ،اور خاص مقربین حق میں ہیں۔ٹھیک ویسے ہی دعویٰ جیسے ہندوستان میں برہمنوں کی اور اپنے کو چندربنسی اور سورج بنسی کہلانے والے راجپوتوں کی زبان سے سُنے جاتے ہیں۔۔۔اور اسی سے ملتی جلتی ذہنیت خود مسلمانوں کے اندربھی پیرزادگی ،مشائخ زادگی ،مخدوم زادگی کے گھمنڈسے پیدا ہوگئی ہے۔۔۔السمٰوات۔۔۔بینھما۔اصطلاح قرآنی میں اس سے مراد ساری کائنات ،ساری موجودات سے ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

- یہود و نصاریٰ کا ابناء اللہ ہونے کا دعویٰ:۔ شاید اپنے کو "بیٹے" یعنی اولاد کو اس کیلئے کہتے ہوں کہ ان کی "بائیبل" میں خدا نے اسرائیل (یعقوبؑ)،کو اپنا پہلوٹا بیٹا اور اپنے کو اس کا باپ کہاہے۔ادھر نصاریٰ حضرت مسیحؑ کو" ابن اللہ "مانتے ہیں تو اسرائیل کی اولاد اور حضرت مسیح کی امت ہونے کی وجہ سے غالباً "ابناء اللہ" کا لفظ استعمال کیا ہوگااور یہ بھی ممکن ہے کہ"بیٹا"کہنے سے مراد یہ ہوکہ ہم خدا کے خواص اور محبوب ہونے کی وجہ سے گویا اولاد ہی جیسے ہیں۔اس صورت میں "ابناء" کا حاصل وہ ہی ہوجائے گاجو لفظ "احبار" کا ہے۔(تفسیر عثمانی)

19۔ فَتْرَة  کے لفظی معنی انقطاع ِ عمل یا سکون کے ہیں۔۔۔اصطلاح میں دونبوتوں کے درمیانی زمانہ کوکہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔زمانہ فترت کی تحقیق: حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ   اور حضرت عیسیٰؑ کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا زمانہ ہے۔ اس تمام مدت میں انبیاء ؑ  کی بعثت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ اس میں  کبھی فترت نہیں ہوئی۔ صرف بنی اسرائیل میں سے ایک ہزار انبیاء اس عرصہ میں مبعوث ہوئے ۔ اور غیر بنی اسرائیل میں سے جو انبیاء ہوئے وہ ان کے علاوہ ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰؑ کی ولادت اور نبی کریم ؐ  کی بعثت کے درمیان صرف پانچ سو سال کا عرصہ ہے۔ اس میں سلسلہ انبیاء بند رہا، اس لیے اس زمانہ  کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کوئی زمانہ  اتنا انبیاء کی بعثت سے خالی نہیں رہا۔ (قرطبی مع ایضاح) (معارف  القرآن)


چوتھا رکوع

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ  20 اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔
یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ  21 تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے۔
 قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ 22 وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے۔
 قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  23 جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہاری ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو۔
 قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ 24 وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ  25 موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا ۔تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔
 قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠   ۧ ۧ  26 خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو۔

تفسیر آیات

چوتھے رکوع کاآغاز(بنی اسرائیل کی غلامانہ ذہنیت اور اس کی سزا)

20۔ حضرت موسیٰؑ کی اس تقریر کا وہ زمانہ ہے کہ جب بنی اسرائیل مصریوں کی غلامی و محکومی سے آزاد ہوکر جزیرہ نمائے سینا میں آزادی سے نقل وحرکت کررہے ہیں اور حضرت موسیٰؑ جو ایک ہی وقت میں ان کے دینی پیغمبر بھی تھے  اور دنیوی لیڈر بھی ،انہیں آمادہ کررہے ہیں کہ اپنے وطن فلسطین چلو،ظالم و غاصب قوم عمالقہ کو وہاں سے نکال دو اور خود اس پر حکمرانی کرو،تازہ ترین تاریخی اور اثریاتی تحقیق کے مطابق مصر سے خروج بنی اسرائیل کا زمانہ 1440 قبل مسیح کاہے،اور فلسطین پر اسرائیل کی فوج کشی کا زمانہ 1400 قبل مسیح کا،اس لحاظ سے حضرت موسیٰؑ کی اس تقریر کا زمانہ اسی درمیانی مدت کا ہے،عجب نہیں کہ یہ آپ کے بالکل آخری زمانہ کی ہو،جیساکہ توریت کے صحیفۂ  استثناء باب اول سے اندازہ ہوتاہے،یہ اگر صحیح ہے تو اسی صحیفۂ استثناء میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ آپ نے یہ تقریر دریائے یردن کے اسی پارموآب کے میدان میں، واقعۂ خروج مصر کے چالیسویں سال کے گیارہویں مہینہ کی پہلی تاریخ کو ارشاد کی تھی۔۔۔(اے اسرائیلیو!)یٰقوم۔خطاب یہاں قوم سے بہ حیثیت مجموعی ہے، افراد سے نہیں۔۔۔فیکم۔میں فی ۔من کے مرادف ہے۔نبوت ایک انفرادی اور شخصی منصب ہوتاہے،اسی لئے فیکم وارد ہواہے،یعنی تمہاری قوم کے اندر افرادِ انبیاء ہوتے رہے۔۔۔جعلکم ملوکاً۔ملک کے معنی عربی میں لازمی طورپر بادشاہ اور تاجدارہی کے نہیں،ہرآزاد ،خودمختار اور صاحبِ حیثیت شخص پر اس کا اطلاق ہوسکتاہے۔۔۔حدیث میں ہر ایسے شخص پر ملک کا اطلاق آیا ہے، جو اپنا ذاتی مکان اور زوجہ اور خادم رکھتاہو۔اور قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ملک سردار ، افسر یا فوجی قائد کے معنیٰ میں آچکا ہے،خود اہل فلسطین کے محاورہ میں بھی تقریباً ہر سردار بادشاہ ہی کہلاتاتھا(جیوش انسائیکلوپیڈیا،جلد 7،ص500)اسی لئے یہاں متعدد ائمہ و اکابر نے ملک کا ترجمہ مخدوم یا اور ایسے ہی مترادفات سے کیا ہے۔اسرائیلی ابھی چند سال قبل تک محکوم، مغلوب و مقہور تھے،اور اب ہر طرح آزاد و خودمختار تھے،بالکل بجاتھا کہ تقابلِ حالات کے اظہار کیلئے اب انہیں ملوک سے  تعبیر کیا جاتا۔۔۔یہ نعمت عظمیٰ نعمتِ توحید ہے،تاریخ سے ثابت ہے کہ اقوام ِ عالم میں نسلی و قومی حیثیت سے توحید اسرائیلیوں کے ساتھ مخصوص رہی ہے ،ورنہ اور قومیں من حیث القوم شرک ہی میں مبتلا رہی ہیں، ہمارے مفسرین کو اس مضمون کی آیتوں کی تفسیر میں بڑی دشواری یہ پیش آتی رہی ہے کہ اگر بنی اسرائیل کو سب سے افضل مان لیا جائے،تو پھر امت محمدیؐ کیلئے کون سامقام باقی رہ جائے گا؟اشکال اور دشوار ی کی بنیادہی سرے سے غلط ہے، یہاں مقابلہ تو دنیا کی ساری قوموں اور نسلوں کا ہورہاہے،ان میں بیشک سب سے افضل و اشرف نسل اسرائیلی ہی ہے کہ بہ خلاف دوسری قوموں کے شرک اور وہم پرستوں کے توحید اور اس کے لوازم یعنی رسالت،وحی،حشر وغیرہ عقائد صحیحہ کی حامل ، دنیا کی تاریخ میں یہی ایک قوم رہی ہے،بخلاف اس کے امتِ محمدؐ تو کسی قوم یا نسل کا نام ہی سرے سے نہیں،یہاں تو اسرائیلی ،اسماعیلی ،حبشی،چینی،روسی،جاپانی جو کوئی بھی عقائد اسلامی پر ایمان لے آئے ،وہی امتِ محمدیؐ میں داخل ہے، اس مفصل پر حاشیے"انی فضلتکم علی العالمین"کے تحت میں سورۂ بقرہ کے رکوع 5و6 میں گزرچکے۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اہل اللہ کے خاندان میں سے ہونا ایک نعمت ہے ،جس پر شکر واجب ہے کیونکہ اس تعلق سے دین اس پر سہل ہوجاتاہے،البتہ اس پر فخر اور گھمنڈروانہیں۔(تفسیر ماجدی) 

۔ یہ اشارہ ہے بنی اسرائیل کی اس عظمتِ گذشتہ  کی طرف جو حضرت موسیٰؑ سے بہت پہلے کسی زمانہ میں ان کو حاصل تھی۔ ایک طرف حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسحاقؑ، حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر ان کی قوم میں پیدا ہوئے۔ اور دوسری طرف حضرتِ یوسف ؑ کے زمانہ میں اور ان کے بعد مصر میں ان کو بڑا اقتدار نصیب ہوا۔ مدتِ دراز تک یہی اس  زمانہ کی مہذب دنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے اور انہی کا سکہ مصر  اور اس کے نواح میں رواں تھا۔ عموماً لوگ بنی اسرائیل کے عروج کی  تاریخ حضرت موسیٰؑ سے شروع کرتے ہیں لیکن قرآن اس مقام پر تصریح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کا  اصل زمانہ عروج حضرت موسیٰؑ سے پہلے گذر چکا تھا جسے خود حضرتِ موسیٰؑ اپنی قوم کے سامنے اس کے شاندار ماضی کی حیثیت سے پیش کرتےتھے۔ (تفہیم القرآن)

21۔  فلسطین کا حال معلوم کرنے والا وفد:۔جب فرعون بحر قلزم میں غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے پار ہو گئے تو ان لوگوں کی یہ ہجرت ان کے آبائی وطن فلسطین کی طرف  بتائی گئی تھی جو سیدنا ابراہیمؑ ،سیدنا اسحاق ؑ اور سیدنا یعقوبؑ وغیرہم کی تبلیغ کا مرکز رہاہے۔ موسیٰ ؑکو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی کہ ان مہاجرین کو ساتھ لے جاکرفلسطین پر چڑھائی کرو۔بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ فتح دے گااور اس طرح ان کا آبائی وطن ان کو واپس مل جائے گا۔چنانچہ سیدنا موسیٰؑ نے ان کو جہاد کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت کی بشارت بھی دی مگر ان لوگوں نے یہ سوچا کہ پہلے ہمیں فلسطین کے موجودہ حالات سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے تب ہی جنگ کی کوئی بات سوچ سکتے ہیں ۔چنانچہ ان لوگوں نے خود دشت فاران میں ڈیرے ڈال دئیے اور اپنے میں سے بارہ آدمیوں کو فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کیلئے روانہ کردیا ۔سیدنا موسیٰؑ نے ان لوگوں کو روانہ کرتے وقت تاکید کردی تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں آکر صرف مجھے بتانا۔ہرکس وناکس کے سامنے تشہیر نہ کرنا۔(تیسیر القرآن)

- الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ ۔ مقدس سرزمین سے مراد شام ہے، فلسطین (کنعان)اسی کے ایک علاقہ کا نام ہے۔توریت میں ان وعدوں کی صراحتیں موجود ہیں۔"دیکھو میں نے یہ زمین جو تمہارے آگے ہے، تمہیں عنایت کی، داخل ہواور اس زمین کو جس کی بابت خداوند نے تمہارے باپ دادوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کی کہ تم کو اور تمہارے بعد تمہاری نسل کو دوں گا،میراث میں لو"۔(استثناء۔1: 8)"تو اس سرزمین میں جس کی بابت خداوند نے تیرے باپ دادوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھاکے کہ اسے میں تمہیں دوں گا،سکونت کرے"(استثناء۔30: 30)مضبوط ہوجاؤ اور دلاور ہوخو ف نہ کھاؤاور ان سے مت ڈرو،کیونکہ خداوند تیرا خداوہی ہے جو تیرے ساتھ جاتاہے،وہ تجھ سے غافل نہ ہوگا اور تجھ کو نہ چھوڑے گا۔"(استثناء۔31: 6)۔(تفسیر ماجدی)

22۔وفد کی رپورٹ اور جہاد سے انکار:۔ لیکن ان لوگوں نےموسیٰؑ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جب فلسطین کے علاقہ کا دورہ کرکے واپس آئے ،تو اس کی رپورٹ خفیہ طورپر سیدنا موسیٰؑ کو دینے کی بجائے ہر ایک کو وہاں کے حالات بتانا شروع کردئیے ۔اور وہ رپورٹ یہ تھی کہ فلسطین کا علاقہ بڑا زرخیز و شاداب ہے ۔وہاں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں لوگوں کی معاشی حالت اچھی ہے لیکن وہ لوگ بڑے طاقتور،زور آور اور قد آور ہیں۔ہم ان کے مقابلہ میں ٹڈے معلوم ہوتے تھے اور وہ بھی ہمیں ٹڈے ہی سمجھتے تھے۔لہذا ان لوگوں پر فتح حاصل کرنا ہماری بساط سے باہر ہے اور موسیٰؑ سے کہنے لگے کہ ان طاقتور لوگوں کی موجودگی  میں ہماراوہاں داخل ہونا اور پھر مقابلہ کرکے فتح یاب ہونا ناممکنات سے ہے اور اگر اللہ نے یہ علاقہ ہمارے مقدر میں لکھا ہواہے تو وہ کوئی ایسا انتظام کردے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں تو تب ہی ہم اس میں داخل ہوسکتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

- یہ قوم عمالقہ کی تھی، جو ایک بڑی زورآور اور جنگ آزما قوم تھی، بنی اسرائیل کی پرانی حریف،توریت اور تاریخ اسرائیل اس کی خوں ریزیوں کی داستان سے رنگین ہے، توریت میں اس مقام پر بنی اسرائیل کی زبان سے یہ الفاظ اداکئے گئے ہیں:"ہمیں زور نہیں کہ ہم ان لوگوں پر چڑھیں ،کیونکہ وہ ہم سے زیادہ زور آور ہیں"۔(گنتی۔13: 33)"یہ زمین جس کی جاسوسی میں ہم گئے تھے، ایک زمین  ہے جو اپنے بسنے والوں کو نگلتی ہے اور سب لوگ جنہیں ہم نے وہاں دیکھا۔بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں جباروں کو  ,ہاں بنی عناق کو، جو جباروں کی نسل میں ہیں، دیکھا ،اور ہم اپنی نظروں میں ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے ،اور ایسے ہی ہم ان کی نظروں میں تھے۔"(گنتی ۔13: 33)(تفسیر ماجدی)

23۔فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کیلئے بارہ افراد پر مشتمل جو وفد بھیجا گیا تھا ان میں دو آدمی یوشع بن نون اور کالب بھی تھے۔اور یہ دونوں پکے مومن تھے یوشع تو غالبا وہی ہیں جنہوں نے سیدنا خضر کی تلاش میں سفر میں سیدنا موسیٰؑ کا ساتھ دیا  تھا۔اور بعد میں ان کے خلیفہ بھی بنے ۔ان دونوں نے موسیٰؑ کی ہدایت کے مطابق وہاں کے حالات کی عام لوگوں کے سامنے تشہیر نہیں کی تھی اور تمام حالات خفیہ طورپر سیدنا موسیٰ ؑ سے بیان کیے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھی بزدلی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو وہ اپنی قوم سے کہنے لگے، چونکہ اللہ نے فتح و نصرت کا ہم سے وعدہ کررکھا ہے لہذاان جباروں سے ڈرنے کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرو۔کمرہمت باندھواور دروازے میں داخل ہوجاؤ۔اگر تم نے اتنی جرأت کرلی تو یقیناً اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم ہی غالب ہوگے۔(تیسیر القرآن) 

24۔ یہ اس قوم کا مقولہ ہے جو "نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ"کا دعویٰ رکھتی تھی۔مگر یہ گستاخانہ کلمات ان کے مستمرتمرد و طغیان سے کچھ بھی مستبعد نہیں۔(تفسیر عثمانی)

۔غزوہ بدر میں نہتے اور بھوکے مسلمانوں کے مقابلہ پر ایک ہزار مسلح نوجوانوں کا لشکر آ کھڑا ہوا۔ اور  رسولِ کریم یہ دیکھ کر اپنے رب سے دعائیں فرمانے لگے۔ تو حضرت مقداد بن اسود صحابی آگے بڑھے اور عرض کیا یا رسول اللہ خدا کی قسم ہے ہم ہر گز وہ بات نہ کہیں گے جو موسیٰؑ کی قوم نے حضرتِ موسیٰؑ سے کہی تھی کہ "  فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ "۔ بلکہ ہم آپ کے دائیں اور بائیں سے اور سامنے سے اور پیچھے سے مدافعت کریں گے۔ آپ بے فکر ہو کر مقابلہ فرمائیں۔ (معارف القرآن)

25۔ حضرت موسیٰؑ کی دعا:۔ حضرت موسیٰؑ نے سخت دلگیر ہوکر یہ دعا فرمائی۔چونکہ تمام قوم کی عدول حکمی اور بزدلانہ عصیان کو مشاہدہ فرمارہے تھے۔اس لئے دعاء میں بھی اپنے اور ہارونؑ کے سوا کہ وہ بھی نبی معصوم تھے اور کسی کا ذکر نہیں کیا۔یوشع اور کالب بھی دونوں کے ساتھ تبعاً آگئے۔(تفسیر عثمانی)

26- یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے کی غرض سلسلہء بیان پر غور کرنے سے صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ قصہ کے پیرایہ میں دراصل بنی اسرائیل کو یہ جتانا مقصود ہے کہ موسیٰؑ کے زمانہ میں نافرمانی، انحراف اور پست ہمتی سے کام لے کر جو سزا تم نے پائی تھی، اب اس سے بہت زیادہ سخت سزا محمدؐ کے مقابلہ میں باغیانہ روش اختیار کر کے پاؤ گے۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس وادئ تیہ میں حضرت موسیٰؑ  و ہارون ؑ بھی اپنی قوم کے ساتھ تھے مگر یہ وادی ان کے لیے قید اور سزا  تھی اور ان دونوں حضرات کے لیے نعمائے  الٰہیہ کا مظہر ۔ ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ چالیس سالہ دور جو بنی اسرائیل پر معتوب ہونے کا گذرا  اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرتِ موسیٰؑ و ہارونؑ کی برکت سے طرح طرح کی نعمتوں سے  سرفراز  فرمایا، کھلے میدان  کی دھوپ سے عاجز آئے تو موسیٰؑ کی   دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بادلوں کی چھتری لگا دی، جس طرف یہ لوگ چلتے تھے  بادل  ان کے ساتھ ساتھ  سایہ فگن ہو کر چلتے تھے ، پیاس اور پانی کی قلت کی شکایت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت  موسیٰؑ کو ایسا    پتھر عطا فرمایا  کہ وہ ہر جگہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا تھا اور جب پانی کی ضرورت  ہوتی تھی تو  حضرت   موسیٰؑ اپنا عصا اس پر مارتے تھے  تو بارہ چشمے اس میں سے جاری ہو جاتے تھے۔ بھوک کی  تکلیف پیش آئی تو آسمانی غذا من و سلویٰ ان پر نازل کر دی گئی۔ رات کو اندھیرے کی شکایت ہوئی تو  اللہ تعالیٰ نے روشنی کا ایک مینارہ  ان کے  لیے کھڑا کر دیا  جس کی روشنی میں یہ سب کام کاج کرتے تھے۔۔۔۔ صحیح روایت کے مطابق اس  چالیس سالہ دور میں اول حضرت ہارون ؑ کی وفات ہو گئی اور اس کے ایک سال یا چھے مہینہ بعد حضرتِ موسیٰؑ  کی وفات ہو گئی۔ ان کے بعد حضرت  یوشع بن نون کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر بنی اسرائیل کی ھدایت کے لیے معمور  فرمایا اور چالیس سالہ قید ختم ہونے کے بعد بنی اسرائیل کی  باقی ماندہ قوم حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں جہاد  بیت المقدس کے لیے روانہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق ملکِ شام ان کے ہاتھوں فتح ہوا اور اس  ملک کی نا قابلِ قیاس دولت ان کے ہاتھ آئی۔  (معارف القرآن)


پانچواں رکوع

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ 27 اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔
 لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ 28 اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔
 اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ   29 میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی۔ پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
 فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ  30 مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا۔
فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ۚۛۙ  31 اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے۔ کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ پھر وہ پشیمان ہوا۔
 مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ  32 اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں ۔پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ   33 جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ ۧ  34 ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

27 ۔ بنی اسرائیل کا جہاد سے اس طرح گریز کرنے کا قصہ بیان کرنے کے بعد آدمؑ کے دوبیٹوں کا قصہ بیان کیا جارہاہے۔یہ دوبیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ ان میں سے قابیل عمر میں بڑا تھا۔کاشت کاری کرتاتھا۔جسم کا قوی اور تند مزاج تھا ۔ اس کا چھوٹابھائی ہابیل بھیڑ بکریاں پالتا اور چرایا کرتا تھا۔نیک سرشت فرمانبردار اور منکسر المزاج تھا۔ ان دونوں میں کسی بات پر تنازعہ پیدا ہوااور بلآخر قابیل نے ظلم و تشدد کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مظلوم بھائی کو جان ہی سے مارڈالا۔سابقہ آیات سے اس قصہ کا ربط یہ معلوم ہوتاہے کہ یہود بھی مظلوموں کے قتل میں بڑے دلیر واقع ہوئے تھے مگر جب جہاد کا موقعہ آیا تو ایسی بزدلی دکھائی کہ اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہ لیتے تھے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ مکروفریب کی چالوں سے مظلوموں پر ہاتھ اٹھانے والے لوگ معرکہ کارزار میں نامرد  ہی ثابت ہوا کرتے ہیں۔ دورنبوی میں بھی مدینہ کے یہودیوں کی بالکل یہی صورت حال تھی۔(تیسیر القرآن)

- علیہم۔میں ضمیر کس طرف ہے؟ اہل کتاب ، خصوصاً معاندین اہلِ کتاب کی طرف ہونا تو بالکل ظاہرہے۔۔۔قصّہ کا مقصد دوامور کی تعلیم دینا(1)ایک یہ کہ نسب کی بزرگی مطلق صورت میں کام نہیں آتی، مقبول صرف وہی ہوتاہے جو حکم کا مطیع ہوتاہے۔(2)دوسرے یہ کہ انسان حسد سے متأثرہوکرکیسی کیسی شیطانی حرکتیں کر گزرتا ہے۔۔۔محقق رازی ؒ نے ایک پہلو اور بھی رکھا ہے ،یعنی قرآنی حکایت،دوسری قرآنی حکایتوں کی طرح،ہدایت کا سبق لینے کیلئے ہے جاہلیت ِ قدیم و جاہلیت ِ جدید کی طرح قصہ محض قصہ کی غرض سے آرٹ محض آرٹ کی غرض سے ،قرآن مجید کا مقصود نہیں ہوسکتا۔۔۔ روایتوں میں آتاہے کہ چھوٹے بھائی ہابیل کی نذر مخلصانہ تھی، اس نے اپنے گلے کی بہترین بھیڑ پیش کردی تھی ، وہ قبول ہوگئی،بڑے بھائی قابیل نے اپنے کھیت کی پیداوار کا ناقص حصہ پیش کیا ،وہ قبول نہ ہوا ،قبول ِ نیاز کی علامت اس زمانہ میں یہ تھی کہ ایک آگ آسمان سے آکر نذر قبول کرکےلے جاتی تھی،توریت میں اس کے اشارے باربار آئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

- یعنی آدمؑ دستور کےموافق جو لڑکی ہابیل کے نکاح میں دینا چاہتے تھے قابیل اس کا طلبگار ہوا۔آخر حضرت آدمؑ کے اشارہ سے دونوں نے خداکیلئے کچھ نیاز کی کہ جس کی نیاز مقبول ہوجائے لڑکی اسی کو دے دی جائے۔آدمؑ کو غالباً یہ یقین تھا کہ ہابیل ہی کی نیاز مقبول ہوگی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آتش آسمانی ظاہر ہوئی اور ہابیل کی نیْاز کو کھاگئی ۔یہ ہی علامت اس وقت قبول عنداللہ کی تھی۔۔۔ ہابیل نے قابیل سے کہا توبھی اگر تقویٰ اختیار کرلے تو خدا کو تجھ سے کوئی ضد نہیں۔(تفسیر عثمانی)

28۔ (حالانکہ تیرے ارادۂ قتل پر مطلع ہوکر اور آمادگئی قتل دیکھ کر میرے پاس جواز قتل کا عذر بھی موجود ہے)فقرہ کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ تم جس طرح آغازِ قتل میں دلیر ہو،میں ابتداء بالقتل کی جرأت نہیں رکھتا،یہ مطلب نہیں کہ مدافعت میں تلوار اٹھانا جائزنہ ہو، شریعت اسلامی میں جب قرائن قوی سے یہ معلوم ہوجائے کہ قاتل حملہ کیا ہی چاہتاہے تو جواب و مدافعت میں تلوار اٹھانا باکل جائز ہے بلکہ اگر مصلحت ِ اسلامی اس کی مقتضی ہو تو ایسے موقع پر واجب ہوجاتاہے۔۔۔اصل شرعی مسئلہ تووہی ہے جو اوپر کے حاشیہ میں مذکور ہوچکا،البتہ الفاظ قرآنی کے ظاہر سے سند پکڑ کے بعض بزرگوں نے ایسے موقع پر بھی عفو و درگزر ہی کو اختیار کیا ہے، اور بعض اکابر  سے منقول ہے کہ خلیفۂ راشد حضرت عثمانؓ کا آخری وقت کا طرز عمل اسی آیت کے مطابق تھا، یعنی اپنی جان دینا گوارا کرلی اور جان کے دشمنوں سے مقابلہ و قتال قبول نہ فرمایا۔(تفسیر ماجدی) 

۔ کسی شخص کا اپنے آپ کو خود قاتل کے آگے پیش کر دینا اور ظالمانہ حملہ کی مدافعت نا کرنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ  اگر کوئی شخص میرے قتل کے در پے ہو اور میں جانتا ہوں کہ  وہ میری گھات میں لگا ہوا ہے، تب بھی میں اس کے قتل کی فکر نا کروں اور اسی بات کو ترجیح دوں کہ ظالمانہ اقدام اس کی طرف سے ہو نہ کہ میری طرف سے۔ یہی مطلب تھا اس بات کا جو آدم ؑ کے اس نیک بیٹے نے کہی۔  (تفہیم القرآن)

29۔فتکون من اصحاب النار:۔اس جزو سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ قابیل کافر تھا، اس لئے کہ اصحاب النار کا اطلاق قرآنی اصطلاح میں کافروں ہی پر ہوتاہے۔۔۔لیکن اہل تحقیق کے نزدیک یہ استدلال صحیح نہیں، اصحاب النار وہ سارے ہی لوگ ہیں جو کچھ دیر کیلئے بھی دوزخ میں چلے جائیں ،اور یہ سزا مومن عاصی کیلئے ممکن ہے۔۔۔اپنے عام حکیمانہ اسلوب کے مطابق قرآن مجید نے یہاں بھی ایک مخصوص واقعہ کے بیان کے معاً بعد ہی قانون ِ عام بھی سنادیا۔(تفسیر ماجدی)

- یعنی میرے قتل کا گناہ بھی اپنے دوسرے گناہوں کے ساتھ حاصل کرلے۔ابن جریر نے مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے کہ "باثمی" کے معنی یہی ہیں۔(تفسیر عثمانی)

30۔ فاصبح۔ سے یہ مراد نہیں کہ قتل رات ہی کے وقت ہوا تھا،اصبح کا اطلاق وقت مبہم کیلئے عام ہے،وقوعِ قتل و حصول خسران دن یا رات کے جس حصہ میں بھی ہواہو،اس لفظ کے اعتبار سے بے تکلف جائز ہے۔اصبح "ہوگیا"کے معنی میں اور صار کے مرادف عرب کا عام محاورہ ہے، بعضوں کو اس محاورہ کے سمجھنے میں عجب میں غلطی ہوئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

-شاید ابتداء میں کچھ جھجک ہوگی۔ شدہ شدہ نفس امارہ نے خیال پختہ کردیا اور یہ ہی کیفیت عموماً معاصی کی ابتداء میں ہوتی ہے۔۔۔ظلم اور قطع رحم کی سزا دنیا میں دنیوی خسران تو یہ کہ ایسا نیک بھائی جو قوت بازو بنتاہاتھ سے کھویا اور خودپاگل ہو کر مرا۔حدیث میں ہے کہ"ظلم"اور" قطع رحم"دوگناہ ایسے ہیں جن کی سزا آخرت سے پہلے یہاں بھی ملتی ہے۔اور اُخروی خسران یہ کہ ظلم ،قطع رحم ،قتل عمد اور بدامنی کا دروازہ دنیا میں کھول دینے سے ان سب گناہوں کی سزا کا مستوجب ہوا اور آیندہ بھی جتنے اس نوعیت کے گناہ دنیامیں کئے جائیں گے سب میں بانی ہونے کی وجہ سے اس کی شرکت رہی جیساکہ حدیث میں مصرح ہے۔(تفسیر عثمانی)

31۔ سوأۃ۔کے لفظی معنیٰ جسم کے پوشیدہ رکھے جانے والے حصہ کے ہیں، یہاں مراد نعش سے ہے۔۔۔توریت میں تو ہابیل کی تدفین کا کچھ ذکر نہیں،البتہ شارحین توریت نے ایک پرندہ کا ذکر کیا ہے کہ اس کے عمل ِ تدفین کو دیکھ کر آدمؑ و حواؑ نے بھی ہابیل کا لاشہ زمین میں دفن کیا ،لیکن پرندہ کا نام بجائے کوّے کے جنگلی فاختہ آیا ہے،(ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد اول۔ص49)(تفسیر ماجدی)

32۔ بینات سے مراد معجزات انبیاء بھی ہوسکتے ہیں۔جن سے ان انبیاء کی نبوت کی تصدیق بھی مطلوب ہوتی ہے یعنی انبیاء کی تصدیق ہوجانے کے بعد بھی بنی اسرائیل ان کا انکار ہی کرتے رہے۔ان سے دشمنی بھی رکھی۔ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے۔حتیٰ کہ انہیں ناحق قتل ہی کیا اور بینات سے مراد واضح احکام بھی ہیں یعنی ٹھیک ٹھیک احکام دئیے جانے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہی رہے۔(تیسیر القرآن)

- (اور اس طرح قتل ناحق کا مرتکب ہو)آیت سے ظاہر ہوگیا کہ جو بھی قتلِ ارادی بجز ان دوصورتوں کے کیا جائے،وہ قتل ناحق ہوگا۔نفساً بغیر نفس۔یعنی وہ قتل بہ طور قصاص یا کسی قتل کے عوض ہو۔فساد فی الارض یعنی وہ قتل کسی ایسے جرم کےپاداش میں میں ہوجس سے ملک میں بدامنی اور فساد کی بنیاد پڑرہی ہو،اور نظام ِ عالم پر اس سے ضرب لگ رہی ہو،مثلاً رہزنی ،بغاوت،حرام کاری وغیرہ۔۔۔من اجل ذلک۔یعنی ان مفاسد کے باعث جو قتل ناحق سے پیداہوتے ہیں۔ذلک سے اشارہ قصۂ قتل ہابیل کی جانب نہیں، بلکہ ان مفاسد کی جانب ہے جو قتلِ ناحق سے لازم آتے ہیں۔آیت کے اس ٹکڑے سے فقہاء نے قیاس ِ شرعی کا بھی اثبات و استناد کیا ہے۔۔۔۔حدیث نبویؐ میں بھی یہ مضمون ایک جگہ آیا ہے کہ روئے زمین پر جو بھی قتل ناحق ہوتاہے،اس کے وبال کا ایک حصہ قابیل کے نامۂ اعمال میں لکھ دیاجاتاہے کہ بانی اول اس جوروستم کا تووہی ہواہے۔موجودہ توریت میں تو جرم قتل انسانی سے متعلق صرف اس قدر ہے:"جوکوئی آدمی کا لہو بہادے آدمی ہی سے اس کا لہو بہا یا جائے گا،کیونکہ خدانے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے"(پیدائش9: 6)لیکن تالمودمیں(حسب روایت راڈول ،انگریزی مترجم قرآن)حسب ذیل مضمون بھی موجود ہے:۔"جو کوئی کسی ایک اسرائیلی کو بھی مار ڈالے گا۔اس کیلئے یوں سمجھا جائے گا کہ گویا اس نے ساری نسل اسرائیل کوقتل کردیا "۔۔۔ایک حدیث صحیح میں یہ مضمون ،ایک قاعدہ و ضابطہ کی صورت میں آیا ہے:۔(جوکوئی کسی نیک رسم کی بنیاد ڈال دے اور اس پر عمل بھی کرے اسے اجر اپنا بھی ملتاہے،اور اس کے بعد اس پر تمام عمل کرنے والوں کابھی ،بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے اجر سے کچھ کم کیا جائے، اور جوکوئی کسی رسم ِ بد کی بنیاد ڈال دے اور اس پر عمل بھی کرےاس پر گناہ اپنے کئے کا بھی پڑتاہے اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا بھی بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا گناہ کچھ ہلکا ہو۔)(تفسیر ماجدی)

- یعنی اول روئے زمین پر بڑا گناہ یہ ہی ہوا کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا ۔اس کے بعد رسم پڑگئی اسی سبب سے تورات میں اس طرح فرمایا کہ "ایک کو مارا جیسے سب کو مارا"یعنی ایک کے ناحق خون کرنے سے دوسرے بھی اس جرم پر دلیر ہوتے ہیں ۔تو اس حیثیت سے جو شخص ایک کو قتل کرکے بدامنی کی جڑقائم کرتاہے گویا وہ سب انسانوں کے قتل عام سے بدامنی کا دروازہ کھول رہاہے اور جو کسی ایک کوزندہ کرتا یعنی کسی ظالم قاتل کے ہاتھ سے بچاتاہے گویا وہ اپنے عمل سے سارے انسانوں کے بچانے اور مامون کرنے کی دعوت دے رہاہے۔۔۔مترجم رحمہ اللہ نے"بینات" سے کھلے ہوئے حکم مرادلئے ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ بینات سے وہ کھلے کھلے نشان مراد لئے جائیں جن سے کسی پیغمبر کے من عنداللہ ہونے کی تصدیق ہوتی ہو۔یعنی "بنی اسرائیل" کے بہت سے لوگ ایسے کھلے نشان دیکھ کر اور ایسے کھلے احکام سن کر بھی اپنے ظلم و طغیان اور دست درازیوں سے باز نہ آئے ۔انبیائے معصومین کو قتل اور آپس میں ناحق خون کرنا ان کا ہمیشہ سے وتیرہ رہاہے اور آج بھی خاتم الانبیاء ؐ کے (معاذ اللہ)قتل یا ایذا رسانی اور مسلمانوں کی تذلیل کیلئے ہر قسم کی ناپاک سازشیں کرتے رہتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جب حکم توراۃ کے موافق کیف مااتفق کسی ایک آدمی کا ناحق مارڈالنا اتنا بڑا جرم ہے کہ گویا اس کا قاتل تمام دنیا کے انسانوں کا قاتل ہے تو دنیاکے سب سے زیادہ کامل و اکمل انسان اور سب سےزیادہ مقبول و مقدس جماعت کے قتل و ایذا رسانی کے درپے ہونا اور ان سے لڑائی اور مقابلہ کیلئے کمرباندھنا خدا کے نزدیک کتنا بھاری جرم ہوگا۔خدا کے سفراء سے لڑائی تو درحقیقت خداہی سے لڑائی کرنا ہے۔شاید اسی لئے اگلی آیت میں ان لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جو خدا اور پیغمبر سے لڑائی کرتے ہیں یا دنیا میں طرح طرح کے فساد پھیلا کر "مسرفون فی الارض "کے مصداق بنتے ہیں۔(تفسیر عثمانی)

33۔ قتل ،ڈکیتی ،رہزنی ،آتش زنی، اغوا، زنا،تخریب اور اسی نوع کے سنگین جرائم حکومت کےلئے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیداکردیں تو اسلامی حکومت عام ضابطۂ حدود و تعزیرات کی بجائے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔1۔ مجرمین قتل کردئیے جائیں2۔انہیں سولی دے دی جائے۔3۔ ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دئیے جائیں4۔جلاوطن کردیا جائے۔

-تاریخ اسلام سے مثالیں :۔عُکل اور عرینہ والوں کو نبیؐ نے بیت المال کے اونٹوں کو ہنکا لے جانے اور ان کے چرواہوں کو قتل کرنے کے جرم میں جو عبرت انگیز سزادی ،امام بخاری ؒ نے اس کو اسی آیت کے تحت لیا ہے۔ بنو نضیر ، بنو قریضہ اور بنو قینقاع کے ساتھ جو معاملہ حضورؐ نے کیا، ہمارے نزدیک وہ بھی اسی حکم الٰہی کے تحت کیا ۔سیدنا ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کی جو سرکوبی کی وہ بھی ہمارے نزدیک اسی حکم کے تحت کی ۔مسیلمہ کذاب کا فتنہ بھی اسی محارب اللہ و رسول کے تحت آتاہے اور اس کی سرکوبی بھی اسی قانون الٰہی کے تحت ہوئی ۔حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں یہود کو عرب سے جو آخری بار نکالا وہ بھی اسی حکمِ خداوندی کی تعمیل تھی۔(تدبر قرآن)

-شرعی سزائیں:   اب سمجھئے کہ جن جرائم کی کوئی سزا قرآن و سنت نے متعین نہیں کی بلکہ حکام کی صواب دید پر رکھا  ہے، ان سزاؤں کو شرعی اصطلاح میں "تعزیرات" کہا جاتاہے،اور جن جرائم کی سزائیں قرآن و سنت نے متعین کردی ہیں وہ دو قسم پر ہیں ۔ایک وہ جن میں  حق اللہ کو غالب قرار دیا گیا ہے ان کی سزا کو "حد" کہا جاتاہے جس کی جمع "حدود" ہے ،دوسرے وہ جن میں حق العبد کو ازروئے شرع غالب مانا گیا ہے اس کو "قصاص" کہا جاتاہے۔قرآن کریم نے حدود و قصاص کا بیان پوری تفصیل و تشریح کے ساتھ خود کردیاہے۔۔۔تعزیری سزائیں حالات کے ماتحت ہلکی سے ہلکی بھی کی جاسکتی ہیں ،سخت سے سخت بھی اور معاف بھی کی جاسکتی ہیں، ان میں حکام کے اختیارات وسیع ہیں اور حدود میں کسی حکومت یا کسی حاکم و امیر کو ادنیٰ تغیر و تبدل یا کمی بیشی کی اجازت نہیں ہے ،اور نہ زمان و مکان کے بدلنے کا ان پر کوئی اثر پڑتاہے ،نہ کسی امیر و حاکم کو اس کے معاف کرنے کا حق ہے، شریعتِ اسلام میں حدود صرف پانچ ہیں، ڈاکہ، چوری،زنا، تہمتِ زنا کی سزائیں ،یہ سزائیں قرآن کریم میں منصوص ہیں، پانچویں شراب خوری کی حد ہے، جو اجماع صحابہ کرامؓ سے ثابت ہوئی ہے، اس طرح کہ پانچ جرائم کی سزائیں معین ہوگئیں، جن کو " حدود" کہا جاتاہے،یہ سزائیں جس طرح کوئی حاکم و امیر کم یا معاف نہیں کرسکتا،اسی طرح توبہ کرلینے سے بھی دنیوی سزا کے حق میں معافی نہیں ہوتی ۔ہاں آخرت کا گناہ مخلصانہ توبہ سے معاف ہوکر وہاں کاکھاتہ بیباق ہوجاتاہے۔ان میں سے صرف ڈاکہ کی سزا میں ایک استثناء ہے کہ ڈاکو اگر گرفتاری سے قبل تو بہ کرلے۔۔۔یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جن صورتوں میں حد شرعی کسی شبہ یا کسی شرط کی کمی کی وجہ سے ساقط ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ مجرم کو کھلی چھٹی مل جائے۔۔۔۔قصاص کی سزا بھی حدود کی طرح قرآن میں متعین ہے، کہ جان کے بدلہ میں جان لی جائے،زخموں کے بدلہ میں مساوی زخم کی سزا دی جائے ،لیکن فرق یہ ہے کہ حدود کو بحیثیت حق اللہ نافذ کیا گیاہے،اگر صاحب حق انسان معاف بھی کرنا چاہے تو معاف نہ ہوگا، اور حد ساقط نہ ہوگی،مثلاً جس کا مال چوری کیا ہے وہ معاف بھی کردے تو چوری کی شرعی سزا معاف نہ ہوگی۔بخلاف قصاص کے کہ اس میں حق العبد کی حیثیت کو قرآن و سنت نے غالب قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ قاتل پر جرم قتل ثابت ہوجانے کے بعد اس کو ولی مقتول کے حوالہ کردیاجاتاہے وہ چاہے تو قصاص لے لے ، اور اس کو قتل کرادے اور چاہے تو معاف کردے۔۔۔اسی طرح زخموں کے قصاص کا بھی یہی حال ہے ،یہ بات آپ پہلے معلوم کرچکے ہیں کہ حدود یا قصاص کے ساقط ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتاکہ مجرم کو کھلی چھٹی مل جائےبلکہ حاکم وقت تعزیری سزاجتنی اور جیسی مناسب سمجھے دے سکتاہے۔۔۔ولی مقتول کا حق تھا وہ اس نے معاف کردیا ،لیکن دوسرے لوگوں کی جانوں کی حفاظت حکومت کا حق ہے، وہ اس حق کے تحفظ کیلئے اس کو عمر قید کی یا دوسری قید کی سزائیں دے کر اس خطرہ کا انسداد کرسکتی ہے۔(معارف القرآن)

۔ ارتداد کی سزا کو ملا کر اکثر فقہا نے حدود  کی تعداد چھ بیان کی ہے۔ (مفتی تقی عثمانی) (معارف القرآن ۔ج 3،ص 117)

- اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کی صورتیں اور سزائیں اس آیت میں اللہ اور رسول سے جنگ سے مراد عموماً حرابہ یعنی ڈکیتی یا راہزنی سمجھا جاتاہے۔پھر اس آیت میں چار قسم کی سزاؤں کو جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے اس طرح متعلق کیا جاتاہے کہ:(1)اگر مجرم نے قتل کردیا ہو مگر مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا اور(2)اگر قتل بھی کردیا ہواور مال بھی لوٹ لیا ہوتو اسے سولی پر لٹکایا جائے گا اور(3)صرف مال ہی چھینا ہو قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹے جائیں گے اور (4)اگر ابھی قتل بھی نہ کیا اور مال بھی چھیننے سے پہلے گرفتار ہوجائے تو اسے جلاوطن کیا جائے گا۔نیز قاضی جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ان سزاؤں میں سے کسی دو کو اکٹھا بھی کرسکتاہے اور کسی ایک میں کمی بیشی بھی کرسکتاہے۔(تیسیر القرآن)

- یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا ۔مسلمان تو خیر مسلمان ہی ہیں،ان کے ساتھ ذمیوں کے بھی مال اور جان دونوں اللہ اور اس کے رسول کے بخشے ہوئے حفظ و امن میں ہوتے ہیں،اب جو کوئی ان پر بلاعذرحملہ کرتاہے وہ پوری طرح سعیٰ فساد فی الارض کا مرتکب ہوتاہے اور یہی اللہ اور رسول سے محاربہ بھی ہے۔۔۔فقہاء حنفیہ نے یہاں یہ قید لگائی ہے کہ جس رہزنی کا یہاں ذکر ہے اور جس کی سزا یہاں درج ہے، یہ شہر اور یا قرب شہر میں معتبر نہیں ،شہر اور قرب شہر صرف تعزیر و قصاص کا محل ہے،یہاں حد جاری نہ ہوگی ۔۔۔چارسزائیں یہاں مذکور ہوئیں اور چاروں الگ الگ موقعوں کیلئے ہیں، قول ِ صحیح و معتبر یہی ہے نہ یہ کہ امام کو ان چار سزاؤں میں سے ہر ایک موقع کیلئے اختیار دے دیا گیا ہے،اگرچہ بعض اکابر اس طرف بھی گئے ہیں۔۔۔عبرت و موعظت کیلئے سزاؤں کا محض سخت یا جسمانی حیثیت سے تکلیف دہ ہونا ہی کافی نہیں ،تفضیح و رسوائی ،دماغی و قلبی تکلیف کا پہلو بھی ان میں نمایاں ہونا چاہئیے،فقہاء نے یہ بھی طے کردیا ہے کہ رہزنی اور ڈکیتی کا ارتکاب اگر غول یا جتھے نے کیا ہے تو فرداً فرداً ہرایک کے تعین جرم کے ثبوت کی حاجت نہیں، محض اس گروہ سے وقوع جرم کا ثبوت کافی ہے ، اس لئے کہ جتھے کے کسی فرد نے بھی جو کچھ کیا ہے، جتھے ہی کی قوت و بھروسہ پر کیا ہے، چنانچہ قتل بالفرض رہزنوں کی جماعت میں سے کسی ایک نے بھی کیا ہے تو محاربہ میں بہرحال پورا جتھاشریک ہوا اور قصاص میں قتل سب ہوں گے۔(تفسیر ماجدی)

ـــــ بدامنی پھیلانے والوں کی سزا   :۔ یعنی بدامنی کرنے کو اکثر مفسرین نے اس جگہ رہزنی اور ڈکیتی مراد لی ہے مگر الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہوجاتاہے۔آیۃ کی جو شان نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوئی وہ بھی اسی کو مقتضی ہے کہ الفاظ کو ان کے عموم پر رکھا جائے۔"اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا"یا زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا" یہ دولفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے ،ارتداد کا فتنہ، رہزنی، ڈکیتی،ناحق قتل و نہب،مجرمانہ سازشیں اور مغویانہ پروپیگنڈا سب داخل ہوسکتے ہیں اور ان میں ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنیوالا ان چارسزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں کسی نہ کسی سزا کا ضرور مستحق ٹھہرتاہے۔۔۔ڈاکوؤں کے احوال چار ہوسکتے تھے۔(1)قتل کیا ہو مگر مال لینے کی نوبت نہ آئی (2)قتل بھی کیا اور مال بھی لیا۔(3)مال چھین لیا مگر قتل نہیں کیا (4)نہ مال چھین سکے نہ قتل کرسکے قصد اور تیاری کرنے کے بعد ہی گرفتار ہوگئے۔چاروں حالتوں میں بالترتیب یہ ہی چار سزائیں ہیں جواسی آیت میں بیان ہوئیں۔(تفسیر عثمانی)

آیات 33 تا 50:۔۔تورات کے قانونِ قصاص کا ذکر کرکے"شرک فی التحکیم"کے مرتکب افراد کو کافر اور فاسق کہا گیا۔(آیات:44،45 اور47)"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ۔۔۔الظالمون۔۔۔الفاسقون"رسول اللہ ؐ کو اہل کتاب کی خواہشات نفس کے مطابق فیصلہ کرنے اور یہودیوں کے دباؤ میں آنے سے روکا گیا۔"وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ"(آیت:48) )قرآنی سورتوں کا نظم جلی(

34۔ توبہ سے حقوق اللہ کی معافی:۔یعنی مذکورہ بالا سزائیں جو حدود اللہ کے طورپرتھیں وہ گرفتاری سے قبل توبہ کرلینے سے معاف ہوجاتی ہیں۔حقوق العباد معاف نہیں ہونگے۔ مثلاً اگر کسی کا مال لیا تھا تو ضمان دینا ہوگا،قتل کیا تھا تو قصاص لیا جائے گا۔ہاں ان چیزوں کے معاف کرنے کا حق صاحبِ مال اور ولی مقتول کو حاصل ہے (تنبیہ)اس حد کے سوا باقی حدود  مثلاً حد زنا، حدشرب خمر، حد سرقہ،حد قذف توبہ سے مطلقاً ساقط نہیں ہوتیں۔(تفسیر عثمانی)

ـــــ (اس لئے وہ توبہ کرنے والوں سےحد بھی ساقط کئے دیتاہے)اب نہ ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے،نہ سولی اور نفی فی الارض (حبس)کا اختیار باقی رہے گا ،یہ متعین حدود اللہ کی مقرر کی ہوئی تھیں ،توبہ کے بعد ساقط ہوجائیں گی،اور کوئی دعوئے اور مطالبے اب حکومت اسلامی کی طرف سے خواہ خون کے بدلہ میں خون کا مطالبہ کریں ،اب معاملہ صرف بندوں کے درمیان رہ گیا۔۔۔۔ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ۔توبہ کے تحقق کیلئے یہ شرط ضروری ہے کہ اس کا وجود مجرموں پر قابوپائے جانے سے پہلے پایا جائے،بغیر اس کے صدقِ توبہ اور اخلاص ثابت نہ ہوگا، فقہاء نےیہ بھی کہاہے کہ توبہ محض زبانی و لفظی کافی نہیں، عملی علامتیں بھی اصلاحِ حال اور صدق توبہ کی ظاہر ہونی چاہئیے۔(تفسیر ماجدی)


چھٹا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 35 اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 36 جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا۔
 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ 37 (ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔
 وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ 38 اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے اور خدا زبردست (اور) صاحب حکمت ہے۔
فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 39 اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
 اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 40 کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ 41 اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ۔ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔
سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ 42 (یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
 وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠   ۧ 43 اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے۔ (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

تفسیر آیات

5۔ وسیلہ کی تعریف۔۔۔ایک یہ کہ اللہ کے نام اور اس کی صفات کے حوالے سے مانگنا دوسرےیہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنی دعا کی قبولیت کیلئے وسیلہ بنایاجائے۔۔۔سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں جب قحط پڑتا تو سیدنا عباسؓ کے وسیلے سے دعا کرتے ۔۔۔تیسری صورت اپنے ہی نیک اعمال کو وسیلہ بناناہے اور اس کی دلیل وہ طویل حدیث ہے  جو بخاری پر بھی متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کے تین شخص ایک دفعہ سفر میں جاتے ہوئے طوفانِ باد و باراں میں گھِر گئے تو ایک غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے ایک بڑا پتھر پہاڑ کے اوپر سے لڑھکتاآیا جس نے غار کا منہ بند کردیا۔ اور اب وہ تینوں اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے ۔انھوں نے سوچا کہ اس وقت صرف اللہ سے دعا ہی کام کر سکتی ہے لہٰذا  ہم میں سے ہر شخص اپنے کسی ایک نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے  دعا کرےجو اس نے خالصتاً اللہ کی رضا مندی کے لیے کیا ہو ۔ چنانچہ پہلے شخص نے اپنے عمل کا واسطہ دے کر دعا کی تو  تیسرا حصہ پتھر غار کے منہ سےسرک گیا۔ دوسرے نے دعا کی تو پتھر مزید تیسرا حصہ سرک گیا۔ پھر تیسرے نے  اپنے عمل کے وسیلہ سے دعا کی تو  سارا پتھر غار  کے منہ سے ہٹ گیا اور وہ باہر نکل آئے۔۔۔۔ نیز وسیلہ جن/ت میں عرش رحمان کے نزدیک ایک مقام کا نام بھی ہے۔)تیسیر القرآن(

۔ دوسرا  ارشاد ہے  "وابتغو الیہ الوسیلۃ" یعنی اللہ کا قرب تلاش کرو، لفظ وسیلہ  وسل مصدر سے  مشتق ہے، جس کے معنے ملنے اور جڑنے  کے ہیں، یہ لفظ سین اور صاد دونوں سے تقریباً ایک ہی معنی میں آتا ہے، فرق اتنا ہے کہ  وصل با لصاد مطلقاً ملنے اور جوڑنے کے معنی میں ہے اور وسل با لسین رغبت اور محبت کے ساتھ ملنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔۔۔۔اور مسند احمد کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا کہ وسیلہ ایک اعلیٰ درجہ ہے جنت کا جس کے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے۔ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ درجہ مجھے عطا فرما دے۔۔۔۔اور صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ  جب مؤذن اذان کہے تو تم بھی وہی  کلمات  کہتے رہو جو مؤذن کہتا ہے، اس کے بعد مجھ پر  درود پڑھو اور میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو۔۔۔۔لفظ وسیلہ کی لغوی تشریح اور صحابہ و تا بعین کی تفسیر سے جب یہ معلوم ہو گیا کہ ہر وہ  چیز جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کا  زریعہ  بنے وہ انسان کے لیےاللہ کےقریب ہونے کا  وسیلہ ہے ۔ اس میں جس طرح ایمان اور عملِ صالح داخل ہیں اسی طرح انبیاء اور صالحین کی صحبت و  محبت بھی داخل ہے کہ وہ بھی رضائے الٰہی کے اسباب میں سے ہے، اور اسی لئے ان کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا درست ہوا جیسا کہ حضرت عمر نے قحط کے زمانہ میں حضرت عباس کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ (معارف القرآن )

۔ اصل لفظ " جاھدوا" استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم محض "جدو جہد " سے  واضح نہیں ہوتا۔ مجاہدہ کا لفظ  مقابلے کا مقتضی ہےاور اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ  جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم  ہیں ، جو تمہیں خدا کی مرضی سے چلنے سے روکتی ہیں اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں، جو تم کو پوری طرح خدا کا بندہ بن کر  نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بن کر رہنے پر مجبور کرتی ہیں ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدو جہد کرو۔ اسی جدو جہد پر تمہاری فلاح و کامیابی کا اورخدا سے  تمہا رےتقرب کا انحصار ہے۔ ۔۔۔ اسی طرح یہ آیت بندہ مومن  کو ہر محاذ پر چو مکھی  لڑائی لڑنے کی ہدایت کرتی ہے۔ ایک طرف  ابلیسِ لعین  اور اس کا شیطانی لشکر  ہے۔ دوسری طرف آدمی کا  اپنا نفس اور اس کی سرکش خواہشات ہیں۔ تیسری طرف خدا سے پھرے ہوئے بہت سے انسان ہیں جن کے ساتھ آدمی ہر قسم کے  معاشرتی، تمدنی اور معاشی تعلقات میں بندھا ہوا ہے۔ چوتھی طرف وہ غلط مذہبی، تمدنی اور سیاسی نظام ہیں  جو خدا سے بغاوت پر قائم  ہوئے ہیں اور بندگئ حق کی بجائے بندگئ باطل پر  انسان کو مجبور کرتے ہیں۔ ان سب کے حربے مختلف ہیں مگر سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ آدمی کو خدا کے بجائے اپنا مطیع بنائیں۔ بخلاف اس کے آدمی کی ترقی کا اور تقربِ خداوندی کے مقام تک  اس کے عروج کا انحصار با لکلیہ اس پر ہے کہ  وہ سراسر خدا کا مطیع اور باطن سے لے کر ظاہر تک  خالصتاً   اس کا بندہ  بن جائے۔ لہٰذا  اپنے مقصود تک اس کا پہنچنا بغیر  اس کے ممکن نہیں ہے کہ  وہ ان تمام مانع و مزاحم قوتوں کے خلاف  بیک وقت جنگ آزما ہو۔ ہر وقت ہر حال میں ان سے کشمکش کرتا رہےاور ان ساری رکاوٹوں کو پامال کرتا ہوا خدا کی  راہ میں بڑھتا چلا جائے۔ (تفہیم القرآن)

۔" ان الذین کفرو" سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے فلاح  کی اس راہ سے الگ راہ اختیار کی جو اوپر والی آیت میں  بیان ہوئی ہے۔ یعنی انھوں نے خداہی سے ڈرنے ، خدا ہی کا قرب تلاش کرنے اور اسی کی راہ میں سرگرم  رہنے کے بجائے بے بنیاد سہاروں اور خیالی سفارشوں کے اعتماد پر  زندگی گزاری اور یہ توقع  کیے بیٹھے رہے کہ آخرت کی تمام کامرانیاں انہی کا حصہ ہیں۔(تدبرِ قرآن)

37۔ بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ کافروں کو بھی کبھی نہ کبھی دوزخ سے نجات مل جائےگی۔صرف مشرکین ہی وہ لوگ ہونگے جنہیں کبھی بھی دوزخ سے نجات حاصل نہ ہوگی۔(تیسیر القرآن)

38۔ قطع ید کی سزا کےلئے شرطیں: ۔فقہاء نے چوری پر قطع ید کی سزا نافذ کرنے کیلئے مندرجہ ذیل قیدیں عائد کی ہیں:1۔ چوری کسی قدر و قیمت رکھنے والی چیز کی کی گئی ہو،بے قیمت یا کسی چھوٹی موٹی چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی گئی ۔قدر و قیمت کے اندازے کے باب میں فقہاء کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں اختلاف کی گنجائش ہے۔حنفیہ کے نزدیک ایک دینار سے کم قیمت کی چیز پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جائے گی۔2۔چوری محفوظ کیے ہوئے مال کی کی گئی ہو ۔اگر کسی نے اپنا مال یوں ہی کہیں ڈال دیا یااپنے مویشی یوں ہی جنگل میں آوارہ چھوڑدیے تو ان کی چوری اس قانون کے تحت نہیں آئے گی۔3۔ جس مال میں چوری کرنے والے کا اشتراک ہو یا وہ مال اس کی حفاظت یا امانت میں ہو اس کی چوری بھی اس قانون کے دائرہ سے باہر ہے۔4۔ مجنون اور نابالغ کی چوری پر بھی اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔5۔ کسی کے بیوی بچے اور اس کے گھریلو ملازم اگر اس کے مال میں سے کچھ چوری کرلیں تو یہ چیز بھی اس قانون کے دائرے سے الگ ہے۔6۔ اضطرار کا شائبہ ہو جب بھی یہ سزا نافذ نہیں کی جائے گی۔مشہور ہے کہ حضرت عمرؓ نے علم الرمادہ کے قحط کے موقع پر قطع ید کی سزا روک دی تھی۔7۔اس سزا کے نفاذ کیلئے دارالاسلام ہونا بھی شرط ہے۔حدود وتعزیرات کا تعلق اول تو بااختیار حکومت سے ہے،ثانیاً ان کا تعلق دارالکفر یا دارالحرب سے نہیں بلکہ دارالاسلام سے ہے اس لیے کہ یہ احکام و حدود ایک مجموعی نظام کا جزو ہیں، اس نظام سے الگ کرکے ان کو نافذ کرنا ایسا ہی ہے جیسے گول خانے میں ایک چوکھٹی چیز ۔ان احکام کا زمانۂ نزول خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نفاذ کیلئے دارالاسلام شرط ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نازل ہی اس وقت فرمائے جب دارالاسلام عملاً قائم ہوچکا۔(تدبرقرآن)

ـــــ بنی امیہ کے ایک خلیفہ ہشام کو بھی تہذیب و شائستگی کا دورہ پڑا تھا اور اس نے بھی ہاتھ کاٹنے کی سزا منسوخ کردی تھی ۔لیکن جب چوری کی وارداتیں آئے دن بڑھنے  لگیں اور کوئی دوسرا حیلہ کا رگرنہ ہوسکا تو    دوسال کے عرصہ کے بعد پھر اسے قرآنی سزا نافذ کرنا پڑی ۔(ضیاء القرآن)

ــــ چوری اور زنا میں عورت اور مرد کا تقدم :۔ الزانیہ والزانی ،السارق والسارقۃ:یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چوری میں جوالفاظ قرآن کریم کے آتے ہیں وہی زنا کی سزا میں ہیں ،مگر چوری کے معاملہ میں مرد کا ذکر پہلے عورت کا بعد میں ہے،اور زنامیں اس کے برعکس عورت کا ذکر پہلے کیا گیا،چوری کی سزا میں ارشاد ہے السارق والسارقۃ اور زنا کی سزا میں فرمایا ہے الزانیۃ والزانی ،اس عکسِ ترتیب کی حکمتیں حضرات مفسرین نے کئی لکھی ہیں ،ان میں زیادہ دل کو لگنے والی بات یہ ہے کہ چوری کا جرم مرد کیلئے بہ نسبت عورت کے زیادہ شدید ہے ،کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے کسب معاش کی وہ قوت بخشی ہے جو عورت کو حاصل نہیں ،اس پر کسب معاش کے اتنے دروازے کھلے ہونے کے باوجود چوری کے ذلیل جرم میں مبتلا ہو،یہ اس کے جرم کو بڑھادیتاہے،اور زنا کے معاملہ میں عورت کو حق تعالیٰ طبعی حیاء و شرم کے ساتھ ایسا ْماحول بخشتاہے کہ ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے اس بے حیائی پر اترنا اس کیلئے نہایت شدید جرم ہے،اس لئے چوری میں مرد کا ذکر مقدم ہے اور زنا میں عورت کا۔(معارف القرآن)

- امام رازیؒ نے اس مقام پر اصمعی کے حوالہ سے یہ حکایت نقل کی ہے کہ میں ایک روز ایک بدوی عرب کے سامنے سورۂ مائدہ زبانی پڑھ رہاتھا ،یہ آیت آئی ،اور یہاں سہواً میری زبان سے غفوررحیم نکلا، بدوی نے کہا یہ کس کا کلام ہے؟ میں نے کہا کلام الٰہی اس پر وہ بولا کہ اسے دوبارہ پڑھو،میں نے پھر پڑھا اور مجھے تنبیہ ہوگئی کہ بجائے عزیز حکیم کے میری زبان سے غفور رحیم نکل گیا تھا،بدوی نے کہا بیشک اب ٹھیک پڑھا ،میں نے کہا تمہیں کیسے پتہ چلا اس نے جواب دیا کہ سیاق کلام سے یہاں جب ذکر سزاوعقاب کا ہے، تو عین مقتضائے بلاغت یہی ہے کہ صفات بجائے غفور رحیم کے عزیز حکیم ہی لائی جائیں۔(تفسیر ماجدی)

۔"نکال من اللہ" اس میں دو لفظ ہیں " نکال اور  من اللہ۔  لفظ  نکال  کے معنے عربی لغت میں ایسی سزا کے ہیں جس کو دیکھ کر دوسروں کو بھی سبق ملے اور اقدامِ جرم سے باز آئیں، اس لیے  نکال کا ترجمہ  ہمارے محاورہ کے موافق عبرت خیز سزا کا ہو گیا، اس میں اشارہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا خاص حکمت پر مبنی ہے، کہ ایک پر سزا جاری ہو جائے  تو سب کے سب کانپ اٹھیں ۔ (معارف القرآن) 

39۔ امام شافعی ؒ اور چند علماء کا خیال ہے کہ اگر چور بھی گرفتار ہونے سے پہلے تائب ہوجائے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔لیکن جمہور علماء اور احناف کا یہی مذہب ہے کہ چوری کے بعد حد تو ضرور لگے گی لیکن اگر اس نے توبہ کی تو قیامت کا عذاب معاف کردیا جائے  گا۔اور توبہ کی صورت یہ ہے کہ اگر اس کے پاس چوری کا مال موجود ہو تو اس کے مالک کو واپس کردے نہیں تو اس کی قیمت اداکرے اور اگر یہ دونوں نہیں کرسکتا تو پھر مالک سے معاف کرالے۔(ضیاء القرآن)

۔ اورسب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ان اسلامی سزاؤں پر اعتراض کے لیے ان لوگوں کی زبانیں اٹھتی ہیں جن کے ہاتھ ابھی  تک ہیرو شیما کے لاکھوں بے گناہ، بے قصور انسانوں کے خون سے رنگین ہیں، جن کے دل میں شاید کبھی  مقاتلہ  اور مقابلہ کا تصور بھی نا آیا ہو۔  (معارف القرآن)

41۔ یاایھاالرسول ،قرآن مجید کی سی قیامت تک باقی رہنے والی کتاب میں رسول اللہؐ کا ذکر صیغۂ غائب میں صر ف الرسول والنبی سے ،اور صیغۂ حاضر میں ایھا الرسول ،ایھاالنبی سے بغیر صفات کے لانا بجائے خود اس امر کی طرف مشیر ہے کہ اب کوئی دوسرا شخص وصف نبوت و رسالت میں شریک ہوکر آنے والا نہیں،جس سے تعین ِ وصف میں اشتباہ پیدا ہوسکے ۔۔۔امام رازیؒ نے کہا ہے کہ یاایھاالنبی تو قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے لیکن یاایھا الرسول سے مخاطبت صرف دوہی جگہ وارد ہوئی ہے ،ایک یہاں اور دوسری جگہ یا ایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک میں اور یہ طرز خطاب شرف و تعظیم کیلئے ہے۔مرشدتھانویؒ نے فرمایا کہ آیت سے اہل طریق کی اس عادت کی اصل نکلتی ہے کہ اہل ِ اغراض کی بدحالی پر کچھ زیادہ فکر نہیں کرتے۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت سے اس شخص کی مذمت نکل رہی ہے جو اہل علم کی طرف رجوع اس غرض سے نہیں کرتا کہ مسئلہ پر عمل کرے گا بلکہ اس امید پر کرتاہے کہ اگر اس کی مرضی کے موافق قول مل گیا تو اس کو اپنی بدنامی کی سپر بنالے۔(تفسیر ماجدی )

۔ اللہ کی طرف سے کسی فتنہ میں ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر اللہ تعالیٰ کسی قسم کے برے میلانات پرورش پاتے دیکھتا ہے اس کے سامنے پے در پے ایسے مواقع  لاتا ہےجن میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص ابھی برائی کی طرف پوری طرح نہیں جھکا ہے تو ان آزمائشوں سے سنبھل جاتا ہے اور اس کے اندر بدی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیکی کی جو قوتیں موجود ہوتی ہیں وہ ابھر آتی ہیں۔ لیکن اگر وہ برائی کی طرف پوری طرح جھک چکا ہوتا ہے   اور اس کی نیکی  اندر ہی اندر اس کی بدی سے شکست کھا چکی ہوتی ہے تو ہر ایسی آزمایش کے موقع پر وہ اور زیادہ  بدی کے پھندے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا  اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں نہیں ہوتا۔ اور اس فتنہ میں  صرف افراد ہی نہیں ڈالے جاتے بلکہ قومیں بھی ڈالی جاتی ہیں۔ ۔۔۔ اس لیے کہ انھوں نے خود پاک ہونا نا چاہا۔ جو خود پاکیزگی کا خواہش مند ہوتا ہےاور اس کے لیے  کوشش کرتا ہے اسے پاکیزگی سے محروم کرنا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ پاک کرنا صرف اسی کو  نہیں چاہتا جو  خود  پاک ہونا نہیں چاہتا۔ (تفہیم القرآن)

- خیر اور شر کا خالق اللہ ہی ہے:۔ ہدایت و ضلالت ،خیر و شر کوئی چیز بھی بدون ارادۂ خداوندی کے عالم وجود میں نہیں آسکتی یہ ایک ایسا اصول ہے کہ جس کا انکار کرنا اس کے تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔فرض کرو کہ ایک شخص چوری کرنے کا ارادہ کرتاہے لیکن خدا کا ارادہ یہ ہے چوری نہ کرے اب وہ شخص اگر اپنے ارادہ میں کامیاب رہا تو لازم آتاہے کہ خدا اس کے مقابلہ میں معاذاللہ عاجز ہو۔اور اگر خدا ہی کا ارادہ بندہ کے ارادہ پر غالب رہتاہے تو لازم آتاہے کہ دنیا میں کہیں چوری وغیرہ کسی شرکا وجود نہ رہے اور اگر خدا تعالیٰ خیر و شر میں سے کسی کا بھی ارادہ نہیں کرتا تو اس سے معاذ اللہ اس کا تعطل یا غفلت و سفاہت لازم آتی ہے ۔ان تمام شقوں پر غور کرنے کے بعد ناچار وہ ہی مانناپڑیگا کہ کوئی چیز بھی اس کے ارادہ تخلیق کے بدون موجودنہیں ہوسکتی ۔ یہ مسئلہ نہایت مہم اور طویل الذیل ہے۔ ہمارا قصد ہے کہ اس قسم کے مسائل کے متعلق مستقل مضمون لکھ کر فوائد کے ساتھ ملحق کردی جائے۔۔۔یہود کی دائمی گمراہی و ذلت:۔ اول منافقین اور یہود کا طرز عمل بیان فرمایا جس میں یہ چند اعمال بالخصوص ذکر کئے گئے ۔ہمیشہ جھوٹ اور باطل کی طرف جھکنا ۔اہل حق کے خلاف جاسوسی کرنا بدباطن اور شریر جماعتوں کو مدد پہنچانا۔ہدایت کی باتوں کو تحریف کرکے بدل ڈالنا۔اپنی خواہش اور مرضی کےخلاف کسی حق بات کو قبول نہ کرنا۔جس قوم میں یہ خصال پائی جائیں اس کی مثال ایسے مریض کی سمجھو،جو نہ دوا استعمال کرے نہ مہلک اور مضر چیزوں سے پرہیز قائم رکھ سکے،اطباء اور ڈاکٹروں کا مذاق اڑائے،فہمائش کرنیوالوں کو گالیاں دے،نسخہ پھاڑ کر پھینک دے، یا اپنی رائے سے اس کے اجزاء بدل ڈالے اور یہ عہد بھی کرلے کہ جو دوامیری خواہش اور مذاق کےخلاف ہوگی کبھی استعمال نہ کرونگا۔ان حالات کی موجودگی میں کوئی ڈاکٹر یا طبیب خواہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو اگر معالجہ سے دست بردار ہوکر یہ ہی ارادہ کرلے کہ ایسے مریض کو اب اس کی بے اعتدالیوں ، غلط کاریوں، ضد اور ہٹ دھرمی کا خمیازہ بھگتنے دو تو کیا یہ طبیب کی  بے رحمی یا بے اعتنائی کا ثبوت ہوگا یا خود مریض کی خودکشی سمجھی جائے گی۔۔۔(تفسیر عثمانی)

۔یہاں خاص طور پر ان کے مفتیوں اور قاضیوں کی طرف اشارہ ہے  جو جھوٹی شہادتیں لے کر اور جھوٹی رودادیں سن کر ان لوگوں کے حق میں انصاف کے خلاف فیصلے کرتے تھے جن سے انہیں رشوت پہنچ جاتی تھی یا جن کے ساتھ  ان کے ناجائز مفاد وابستہ ہوتے تھے۔  (تفہیم القرآن)

۔  "اکلون للسحت" کے معنی کسبِ حرام کے ہیں۔ کسبِ حرام کی یوں تو مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں لیکن اس لفظ کا غالب استعمال رشوت کے لیے ہے۔ اسی معنی میں یہاں بھی استعمال ہوا ہے اور قرآن میں جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔فیصلہ میں انصاف کا حکم:۔ ابن عباس ،مجاہد اور عکرمہ وغیرہ اکابر سلف سے منقول ہے کہ حضور کو یہ اختیار ابتداء میں تھا، آخر میں جب اسلام کا تسلط اور نفوذ کامل ہوگیا تو ارشاد ہوا"وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّہ"یعنی ان کے نزاعات کا فیصلہ قانون شریعت کے موافق کردیا کرو ۔مطلب یہ کہ اعراض اور کنارہ کشی کی ضرورت نہیں۔۔۔قرآن کریم نے باربار اس پر زور دیاہے کہ کوئی شخص کتناہی شریر ظالم اور بدمعاش کیوں نہ ہو مگر اس کے حق میں بھی تمہارا دامن عدالت ناانصافی کے چھینٹوں سے داغدار نہ ہونے پائے۔یہ ہی وہ خصلت ہے جس کے سہارے زمین و آسمان کا نظام قائم رہ سکتاہے۔(تفسیر عثمانی)

43۔ یہودی اس وقت تک اسلامی حکومت کی باقاعدہ رعایا نہیں بنے تھے بلکہ اسلامی حکوت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے ۔ ان معاہدات کی رو سے یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی اور ان کے مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یا آپ کے مقرر کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کے لیے وہ ازروئے قانون مجبور نہ تھے ۔ لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے ان کا فیصلہ کرانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کے لیے کوئی دوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے مذہبی قانون کی پیروی سے بچ جائیں۔۔۔۔۔ یہاں خاص طور پر جس مقدمہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ تھا کہ خیبر کے معزز یہودی خاندانوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ناجائز تعلق پایا گیا ۔ توراۃ کی رو سے ان کی سزا رجم تھی ، یعنی یہ کہ دونوں کو سنگسار کیا جائے ( استثناء – باب ۲۲ – آیت ۲۳ - ۲٤ ) لیکن یہودی اس سزا کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ اس لیے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مقدمہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پنچ بنایا جائے ۔ اگر وہ رجم کے سوا کوئی اور حکم دیں تو قبول کر لیا جائے اور رجم ہی کا حکم دیں تو نہ قبول کیا جائے ۔ چنانچہ مقدمہ آپ کے سامنے لایا گیا ۔ آپ نے رجم کا حکم دیا ۔ انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا ۔ اس پر آپ نے پوچھا تمہارے مذہب میں اس کی کیا سزا ہے؟ انہوں نے کہا کوڑے مارنا اور منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرنا ۔ آپ نے ان کے علماء کو قسم دے کر ان سے پوچھا ، کیا توراۃ میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی یہی سزا ہے؟ انہوں نے پھر وہ جھوٹا جواب دیا ۔ لیکن ان میں سے ایک شخص ابن صوریا ، جو خود یہودیوں کے بیان کے مطابق اپنے وقت میں توراۃ  کا  سب سے بڑا عالم تھا ، خاموش رہا ۔ آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھے اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تم لوگوں کو فرعون سے بچایا اور طور پر تمہیں شریعت عطا کی ، کیا واقعی توراۃ میں زنا کی یہی سزا لکھی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ”اگر آپ مجھے ایسی بھاری قسم نہ دیتے تو میں نہ بتاتا ۔ واقعہ یہ ہے کہ زنا کی سزا تو رجم ہی ہے مگر ہمارے ہاں جب زنا کی کثرت ہوئی تو ہمارے حکام نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بڑے لوگ زنا کرتے تو انہیں چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹے لوگوں سے یہی حرکت سرزد ہوتی تو انہیں رجم کر دیا جاتا ۔ پھر جب اس سے عوام میں ناراضی پیدا ہونے لگی تو ہم نے توراۃ کے قانون کو بدل کر یہ قاعدہ بنا لیا کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور انہیں منہ کالا کر کے گدھے پر الٹے منہ سوار کیا جائے ۔ “ اس کے بعد یہودیوں کے لیے کچھ بولنے کی گنجائش نہ رہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانی اور زانیہ کو سنگسار کر دیا گیا ۔۔۔۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کی بد دیانتی کو با لکل بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ مذہبی لوگ جنہوں نے تمام عرب پر اپنی دینداری اور اپنے علمِ کتاب کا سکہ جما رکھا تھا، ان کی حالت یہ تھی کہ جس کتاب کو وہ خود کتاب اللہ مانتے تھے اور جس پر ایمان رکھنے کے مدعی تھے اس کے حکم  کو چھوڑ کر نبیؐ کے پاس اپنا مقدمہ لائے تھے جن کے پیغمبر ہونے سے  ان کو بشدت انکار تھا۔اس سے یہ راز فاش ہو گیا کہ یہ کسی چیز پر صداقت کے ساتھ ایمان نہیں لاتے۔ در اصل ان کا ایمان اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر ہے۔ جسے کتاب اللہ مانتے ہیں اس سے صرف اس لیے منہ موڑتے ہیں کہ اس کا حکم ان کے نفس کو ناگوار ہے، اور معاذ اللہ جسے جھوٹا نبی کہتے ہیں اس کے پاس صرف اس امید پر جاتے ہیں کہ شاید وہاں سے کوئی ایسا فیصلہ حاصل ہو جائے جو ان کی منشا کے مطابق ہو۔ (تفہیم القرآن)

۔جس خاص حکم کا یہ ذکر برابر چل رہاہے اور یہود نے اسے رسول اللہؐ سے چھپاڈالنا چاہاتھا، وہ حکم رجم یا سنگ ساری ہے۔اور قرآن کے اعجاز کیلئے یہ دلیل بھی بجائے خود اکفی اور قوی ہے کہ یہود کی ہزار کوشش اخفاء کے باوجود شادی شدہ  زناکاروں کیلئے حکم  قتل و رجم کسی نہ کسی صورت میں آج تک توریت میں باقی ہے ،اور موجودہ توریت سے پیہم تحریفات بھی اُسے یکسر اور تمام تردور نہ کرسکیں ،چند حوالے ملاحظہ ہوں:۔ "اور وہ شخص جو دوسرے کو جوروکے ساتھ یا اپنے پڑوسی کی جورو کے ساتھ زنا کرے  ،وہ زنا کرنے والا اور زنا کرنے والی دونوں قتل کئے جائیں گے(احبار۔20: 1)"اور وہ مردیا عورت کا یاردیوہے یا جادوگرہو تو دونوں قتل کیے جائیں اور چاہئیے کہ تم ان پر پتھراؤ کرو ،ان کا خون بھی ان ہی پر ہووئے۔ "(احبار۔ 20: 27)"اگر کوئی جورو کرے اور اس سے خلوت کرے ،اور کہے کہ میں نے اس عورت سے بیاہ کیا ،جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے اُسے کنواری نہ پایا،اگر یہ بات سچ نکلے اور لڑکی کے کنوارے پن کی نشانیاں پائی نہ جائیں ،تووہ اس لڑکی کو اس کے ماں باپ کے گھر کے دروازہ پر نکال لائیں اور اس کے بستی کے لوگ اس پر پتھراؤ کریں کہ وہ مرجائے۔"(استثناء۔20: 13۔ 20، 21)"اگر کوئی مرد شوہر والی عورت سے زناکرتے پایا جائے تو وہ دونوں مارڈالے جائیں ،مرد جس نے اس عورت سے صحبت کی، اور عورت بھی"(استثناء 22، 23)اور انجیل کے واسطہ سے جو گواہی پہنچی ہے وہ اس سے بھی زیادہ کھلی ہوئی ہے:۔"فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی،اور اسے بیچ میں کھڑا کرکے یسوع سے کہا کہ اے استاد یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے،توریت میں موسیٰؑ نے ہم کو حکم دیا کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں،پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتاہے؟"(یوحنا۔8:4، 6)۔(تفسیر ماجدی)


ساتواں رکوع

 اِ نَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44 بیشک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔
وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 45 اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے۔ لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔
وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ   46 اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔
 وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ  47 اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں۔
 وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ   48 اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ۔ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے۔ سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا۔
 وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ  49 اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔
 اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠   ۧ ۧ 50 کیا یہ زمانہٴ جاہلیت کے حکم کے خواہش مند ہیں؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے؟

تفسیر آیات

۔اہم۔ ساتواں رکوع ان کے خلاف دھمکی ہے جو ایمان تو لائے مگر اپنے معاملات میں اسلام پر عمل نہیں کرتے۔ (بیان القرآن)

44۔ (یعنی جلی احکامِ الٰہی درج ہیں)۔ ھُدیٰ۔یعنی عقائد اور مسائل سے متعلق ہدایات و احکام تھے۔نور۔یعنی وضوح تھا احکام ِ عملی سے متعلق۔التوراۃ پرحاشیہ سورۂ آل عمران کے شروع میں گزرچکاہے۔انّاانزلنا التورٰۃ۔اس میں رد آگیا یہود کے موجودہ عقیدہ کا کہ توریت صاحب الہام انبیاء کی مرتب کی ہوئی ایک انسانی کتاب ہے، توریت اسلامی عقیدہ کے مطابق ،خدا کے ہاں سے نازل شدہ کتاب ہے، سوا اس صورت کے کہ خود لفظ "انزال"میں اتنی وسعت اور لچک پیدا کردی جائے کہ خالص وحی الٰہی کا درجہ پیغمبروں کے کشف و الہام  کو بھی دے دیا جائے۔۔۔النبیون الذین اسلموا۔یہود کی اصطلاح میں"نبوت"اسلامی نبوت سے بالکل الگ ایک مفہوم رکھتی ہے، ان کے ہاں یہ ہرگز ضروری نہیں کہ نبی کا تعلق اللہ کے ساتھ جڑا ہواہواور مستحکم ہویا نبی کی نسبت مع اللہ قوی ہو، وہ "نبی"یا "نبوت"کے قائل صرف ان الفاظ کے لفظی معنی میں تھے،نبی ان کے ہاں پیش گوئی کرنے والا تھا، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ صاحبِ کشف بھی تھا جیسے مشرک قوموں میں کاہن ہوتے تھے ،خود یہود کے ہاں نبی اور کاہن کی اصطلاحیں ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔عہد عتیق میں ایک جگہ نہیں ،متعدد مقامات پر جعلی اور جھوٹے نبیوں کا ذکر آیا ہے، جو کفر وشرک کی دعوت دینے والے تھے،صرف چند بہ طور نمونہ کے ملاحظہ ہوں:۔"اگر تمہارے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہوا اور تمہیں کہے آؤ ہم غیر معبودوں کی جنہیں تم نے نہیں جانا، پیروی کریں،تو ہرگز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات پر کان مت دھریو،وہ نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے گا۔"(استثناء۔13: 1- 3، 5)"وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔"(استثناء 18: 20۔ 22)"انبیاء میرانا م لے کر جھوٹی نبوت کرتے ہیں،میں نے انہیں نہیں بھیجا اور حکم نہیں دیا،نہ انہیں کہا، یہ نبی تلوار اور کال سے ہلاک کئے جائیں گے۔"(یرمیاہ14: 13: 16)قرآن مجید نے ان ہی عقائد کے مدنظر الذین اسلموا۔کی قید لگاکربتادیا کہ النبیوں سے مراد جھوٹی اور شیطانی نبوت کرنے والے نہیں، بلکہ سچے اور وحی الٰہی سے مشرف نبی ہیں۔الربانیون ۔مراد اہل اللہ و مشائخ و علماء باطن ہیں۔الاحبار مراد علماء ظاہر و فقہاء ہیں۔۔۔(کہ غیر شرعی احکام کو شرعی احکام قراردے رہے اور انسانی قانون کو خدائی قانون کہہ کر چلا رہے ہیں)مقتدایانِ یہود کا اصلی اور سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ اپنے گڑھے ہوئے قانون اور مسائل کو خدائی قوانین و مسائل کہہ کر چلاتے تھے، فتویٰ خود اور اپنی طرف سے دیتے اور کہتے کہ یہی دین و مذہب کا حکم ہے، اور یہی تفسیر بعض اکابر تابعین سے منقول ہے۔۔۔آیت سے خوارج نے بڑے زور و دعوے کے ساتھ استدلال کیا ہے کہ مسلمان فاسق بھی کافر کے حکم میں داخل ہے، جب اس نے غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ شروع کردیا تو وہ کفر میں داخل ہوگیا، لیکن یہ استدلال (خوارج کے دوسرے استدلالات کی طرح)تمام تر سطحی ہے، اس لئے کہ جس فیصلہ کا یہاں ذکر ہے اس کا تعلق عمل سے نہیں، بلکہ عقیدہ سے ہے،اور وہ شخص کافر یقیناًہوجاتاہے،جوعقیدۃً بھی اللہ کے قانون کو غلط اور اپنے قانون کو صحیح سمجھتاہے۔۔۔کفر کی دفعہ اگر کسی غیر خدائی قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے مسلمان پر عائد ہوگی بھی تو صرف اس صورت میں جب وہ بین و صریح حکم کی خلاف ورزی دیدۂ و دانستہ کرے، نہ اس وقت جب کہ حکم کی دلالت ہی خفی ہو اور غلط تعبیر وہ نادانستہ یا غیر شعوری طورپر کررہاہو۔۔۔عکرمہ تابعی نے کہا ہے اور امام رازیؒ نے بھی اس قول کی تصویب کی ہے کہ جب تک کوئی کسی حکم الٰہی کو دل سے مان رہاہے،اور زبان سے اس کا اقرار کررہاہے،اس وعید کے تحت میں آکیوں کرسکتاہے؟عمل اس کا اس کے مخالف ہی ہو، جب بھی وہ محض عاصی یا تارک کہا جائے گا نہ کہ منکر یا باغی۔۔۔اس خاص مسلک میں خارجیوں کے مذہب کی ہمارے زمانہ میں پھر زبردست تجدید شروع ہوئی ہے بڑے بڑے خوشنما القاب و خطابات کے ساتھ، اور اس دعایۃ میں خاص کام اسی آیت سے لیا جاتاہے،اس لئے ضروری معلوم ہواکہ آیت کی تفسیر مذہب اہل سنت کے مطابق ذراتفصیل سے کردی جائے۔(تفسیر ماجدی)

- یعنی تورات کی حفاظت کا ان کو ذمہ بنایا گیا تھا۔قرآن کریم کی طرح"انا لہ لحافظون" کا وعدہ نہیں ہوا۔تو جب تک علماء و احبار نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا"تورات"محفوظ و معمول رہی آخر دنیا پرست علمائے سوء کے ہاتھوں سے تحریف ہوکر ضائع ہوئی۔۔۔اللہ کے کلام میں تحریف نہ کرو:۔ یعنی لوگوں کے خوف یادنیوی طمع کی وجہ سے آسمانی کتاب میں تبدیل و تحریف مت کرو۔اس کے احکام و اخبار کو مت چھپاؤ اور خدا کی تعذیب و انتقام سے ڈرتے رہو۔تورات کی عظمتِ شان اور مقبولیت جتلانے کے بعد یہ خطاب یا تو ان رؤسا وعلماء یہود کو کیا گیا ہے جو نزولِ قرآن کے وقت موجود تھے کیونکہ انہوں نے حکم "رجم" سے انکار کردیا تھا اور نبی کریمؐ کے متعلق پیشین گوئیوں کو چھپاتے اور ان کے معنی میں عجیب طرح کے ہیر پھیر کرتے تھے ۔اور یا   درمیان میں امت مسلمہ کو نصیحت ہے کہ تم دوسری قوموں کی طرح کسی سے ڈر کر یاحُب  مال و جاہ میں پھنس کر اپنی آسمانی کتاب کو ضائع مت کرنا چنانچہ اس امت نے بحمداللہ ایک حرف بھی اپنی کتاب کا کم نہیں کیا اور آج تک اس کو مبطلین کی تغییر و تحریف سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے اور ہمیشہ رہیں گے۔(تفسیر عثمانی)

45۔سابقہ شریعتوں کے احکام اورشریعت محمدی :۔ یہاں ایک بنیادی بات یادرکھنا چاہیے کہ کوئی حکم جوتورات میں یہود کو دیا گیا ہواور قرآن اس کو یوں بیان کرے کہ اس میں کسی ترمیم و تنسیخ کا ذکرنہ کرے اور نہ ہی آپؐ نے تنکیر فرمائی ہوتو وہ حکم بعینہ ہوتو وہ حکم مسلمانوں کیلئے بھی قابل عمل ہوگا اگرچہ قرآن اسے مسلمانوں کیلئے الگ سے بیان کرے نہ کرے اس کی ایک مثال تویہی آیت ہے اور دوسری مثال رجم کا حکم ہے اور اس آیت میں قصاص کی جو صورت بیان ہوئی ہے احادیث اسی کی تائید و تشریح کرتی ہیں چناچہ درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔۔۔احکام قصاص:۔آپؐ نے فرمایا"جان کی دیت سواونٹ ہیں۔"(نسائی۔کتاب القسامۃ والقود والدیۃ ۔باب ذکر حدیث عمرو بن حزمفی العقول)۔۔۔۔۔۔قصاص میں یہودی قبائل کی ایک دوسرے پر برتری کا تصور:۔مدینہ میں یہود کے تین قبائل آباد تھے۔بنوقینقاع۔بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ان میں سے بنو نضیر اور بنو قریظہ کی آپس میں چپقلش رہتی تھی۔بنونضیر طاقتور اور مالدار تھے اور بنو قریظہ ان کی نسبت کافی کمزور تھے اسی وجہ سے ان کے درمیان رسم یہ چل نکلی تھی کہ اگر بنوقریظہ کے ہاتھوں بنونضیر کا کوئی آدمی قتل ہوجاتاتو اس کے بدلے بنو نضیر بنوقریظہ سے دوگنا دیت وصول کرتے تھے جبکہ خود اس سے  نصف دیتے تھے اس طرح وہ تورات کے دوحکموں کیخلاف ورزی کرتے ایک یہ کہ تورات میں قصاص کا قانون تو تھا لیکن دیت نہیں تھا۔دوسرے بنو نضیر کے خون کی دیت بنو قریظہ کے خون کی دیت سے دوگنا تھی۔ایک دفعہ بنو نضیر کا ایک آدمی بنوقریظہ کے کسی آدمی کے ہاتھوں قتل ہوگیا تو انہوں نے دوگنی دیت کا مطالبہ کردیا۔بنوقریظہ نے جواب دیاکہ اب وہ وقت گئے جب تم ہم سے دگنی دیت وصول کیا کرتے تھے ۔اب ہم مقدمہ محمدؐ کی عدالت میں پیش کریں گے۔کیونکہ یہود آپؐ کو جھوٹا نبی کہنے کے باوجود یہ یقین رکھتے تھے کہ آپؐ انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے چناچہ آپؐ نے حکم الٰہی کے مطابق برابر دیت کا فیصلہ دیا۔( تیسیرالقرآن)

۔ اس ارشاد کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ یہود کے چند علماء  آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور پیشوا ہیں، اگر ہم مسلمان ہو گئے تو وہ بھی سب مسلمان ہو جائیں  گے لیکن ہماری ایک شرط ہے کہ  ہمارا ایک مقدمہ  آپ ؐ  کی قوم کے لوگوں کے ساتھ ہے۔ ہم یہ مقدمہ آپ کے  پاس لائیں گے۔ آپ اس میں فیصلہ ہمارے موافق فرما دیں تو ہم مسلمان ہو جائیں گے۔ حق تعالیٰ نے اس پر متنبہ فرمایا کہ  آپؐ ان لوگوں کے مسلمان ہو جانے کے پیشِ نظر عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے خلاف فیصلہ ہر گز نہ دیں اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ  یہ مسلمان ہوں گے یا نہیں۔  (معارف القرآن)

47۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے  کون؟اللہ کی طرف سے نازل شدہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے آیت نمبر 44 کی روسے کافر ہیں آیت نمبر 45 کی روسے ظالم اور آیت 47 کی روسے فاسق قرار دیئے گئے ہیں۔اگرچہ ان آیات کے مخاطب یہود و نصاریٰ ہیں تاہم یہ حکم عام ہے اور مسلمانوں کو بھی شامل ہے اور ان تینوں آیات میں جو مختلف درجات بیان کیے گئے ہیں ان کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ احکام الٰہی کے خلاف فیصلہ کرنے والا فاسق بھی ہوتاہے،ظالم بھی  اور کافر بھی ۔کیونکہ یہ سب انحراف کے ہی درجات ہیں۔یعنی ابتدا میں فاسق ہوتاہے جب اس گناہ سے آگے بڑھ جائے تو ظالم اور جب اسے معمول بنالے تو کافر ہوجاتاہے اور دوسرا مطلب جرم کی شدت کی نوعیت کے اعتبار سے ہے جیسے یہود نے رجم کے حکم پر عمل نہ کیا پھر اسے چھپایا تویہ کفر ہوا اور بنو نضیر نے بنو قریظہ سے دوگنی دیت لی تو یہ عدل و انصاف کیخلاف ہے پس یہ ظلم ہوا۔اور اگر اس سے بھی کم تر درجہ کا گناہ ہوگا تو وہ فسق ہوگا اور کبھی جرم کی نوعیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ مجرم ان تمام صفات کا حامل قرار پاتاہے جیسے بنی اسرائیل کے بعد کئی بادشاہ بت پرست تھے اور رعایا کو بھی اللہ کے بجائے اپنا حکم تسلیم کرواتے تھے۔(تیسیر القرآن)

یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں ، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں ، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے ، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ اوّلاً اس کا یہ فعل حکم خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے ۔ ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے ، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہو سکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا ، اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا ۔ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے ۔ یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں ۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں تینوں چیزیں موجود نہ ہوں ۔ البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے ۔ جو شخص حکم الہٰی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے ۔ اور جو اعتقاداً حکم الہٰی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگرچہ خارج از ملت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر ، ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے ۔ اسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکم الہٰی سے انحراف اختیار کر لیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر ، ظالم اور فاسق ہے ۔ اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے ۔ بعض اہل تفسیر نے ان آیات کے اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ مگر کلام الہٰی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیا ہے ۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں ۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر ، وہی ظالم اور وہی فاسق ہے ۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نعم الاخرۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّ ۃ ولکم کل حلوۃ کلّا واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک ۔ ” کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے ! ہرگز نہیں ، خدا کی قسم تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے (تفہیم القرآن)

۔ "فاسق" کا لفظ یہاں فقہی مفہوم  میں نہیں ہےبلکہ، جیسا کہ ہم مختلف مقامات میں واضع کرتے آئے ہیں، خدا سے غداری، عہد شکنی، اور سرکشی کے مفہوم  میں ہے۔ گویا جو لوگ جانتے بوجھتے اور آزادی و اختیار رکھتے ہوئے  اللہ  کے احکام و قوانین کے خلاف فیصلے کرتے اور کراتے ہیں وہ کافر  ، ظالم اور فاسق ٹھہریں گے۔ (تدبرِ قرآن)

- ظاہر ہےکہ آیت کا خاص تعلق  اہل انجیل ہی سے ہے ،مسیحیوں ہی کو حکم مل رہاہے کہ جب دعویٰ انجیل کے ماننے کا ہے، تو عمل بھی، اسی کتاب الٰہی کے مطابق و ماتحت ہونا چاہئیے۔۔۔آیت کو آج مسلمانوں پر چسپاں کرنا، خوارج کی دعایت کا نادانستہ یا دانستہ شکار ہوجاناہے۔(تفسیر ماجدی)

- اہل انجیل سے خطاب:۔ یا تو عیسائی جو نزول انجیل کے وقت موجود تھے ان کو یہ حکم دیا گیا تھا اسی کو یہاں نقل فرمارہےہیں اور ہوسکتاہے کہ نزول قرآن کے وقت جو عیسائی مخاطب تھے ان سے کہا گیا ہوکہ جو کچھ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اس کے موافق ٹھیک ٹھیک حکم کریں۔ یعنی ان پیشین گوئیوں کو چھپانے یا لغو و مہمل تاویلات سے بدلنے کی کوشش نہ کریں جو انجیل میں پیغمبرآخرالزمان اور مقدس "فارقلیط" کی نسبت حضرت مسیح کی زبانی کی گئی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی سخت نافرمانی ہوگی کہ جس ہادی جلیل اور مصلح عظیم کے متعلق حضرت مسیحؑ یہ فرمائیں کہ جب وہ روح حق آئیگی تو تمہیں سچائی کی ساری راہیں بتائے گی ۔اُسی کی تکذیب پر کمربستہ ہوکر اپنے لئے ابدی خسران قبول کرو۔کیا مقدس مسیح اور اس کے پروردگار کی فرمانبرداری کے یہ ہی معنی ہیں۔(تفسیر عثمانی)

ــــ ان آیات میں اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرنے کا یہ مضمون تین مرتبہ بیان ہواہے۔یہ اگر چہ ہے تو یہوداور نصاریٰ سے متعلق لیکن بعینہٖ یہ جرم اگر مسلمانوں کے کسی گروہ سے صادر ہو کہ وہ اختیار و آزادی رکھتے ہوئے کتاب الٰہی کے مطابق معاملات کا فیصلہ نہ کریں بلکہ علی الاعلان اس سے انحراف اختیار کریں، جس کی شہادت ہر مسلمان ملک میں موجود ہے تو ان کا حکم بھی یہی ہوگا کیونکہ خدا کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔کتاب الٰہی کا اصل مقصد یہی ہے کہ وہ زندگی کے معاملات و نزاعات میں امر و حکم اور فیصلہ و قضاء کا ذریعہ بنے اور تمام اجتماعی و سیاسی اور قانونی معاملات اسی کی روشنی میں انجام پائیں۔اگر کتاب الٰہی کی حیثیت تسلیم نہ کی جائے تو یہ اس کے ساتھ مذاق ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ھم الکافرون(44)

ھم الظالمون(45)

ھم الفاسقون(47)

48۔قرآن سابقہ کتب پر مہیمن کیسے؟ مھیمن کے معنی ہیں محافظ اور نگران ۔حفاظت اور نگرانی کی بھی کئی قسمیں ہیں۔مھیمن سے مراد ایسی حفاظت اور نگرانی ہے جیسے ایک مرغی اپنے سب بچوں کو اپنے پروں کے نیچے سمیٹ لیتی ہے تاکہ کوئی پرندہ جیسے چیل وغیرہ ان پر حملہ آور نہ ہوسکے یا وہ اپنے بچوں کو سردی سے بچاسکے۔یہاں قرآن کو باقی سب کتب سماوی پر مھیمن کہنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں پہلے کی تمام کتب سماویہ کے مضامین آگئے ہیں۔نیز قرآن ان سب کتابوں کیلئے ایک کسوٹی کے معیار کاکام دیتاہے وہ اس طرح کہ: (1)انجیل و تورات میں جو مضمون قرآن کے مطابق ہوگا وہ یقیناً اللہ ہی کا کلام ہوگا۔(2)اور جو مضمون قرآن کیخلاف ہوگا وہ ہرگز اللہ کا کلام نہیں ہوسکتا۔وہ یقیناً لوگوں کا کلام ہے ۔جو کتاب اللہ میں شامل کردیا گیا ہے۔جیسے موجودہ اناجیل میں عقیدہ تثلیث اور الوہیت مسیح اور کفارۂ مسیح کے عقائد پائے جاتے ہیں اور بائیبل میں انبیاء کی توہین کے علاوہ کئی ایسے مضامین پائے جاتے ہیں جن سے واضح طورپر معلوم ہوجاتاہے کہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہوسکتے۔(3)اور جو مضمون قرآن کے نہ مطابق ہو نہ مخالف اس کے متعلق مسلمانوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ اس کی تصدیق کریں اور نہ تکذیب۔۔۔شریعتوں کا فرق:۔ یعنی سب انبیاء اور ان کی امتوں کا دین تو ایک تھا لیکن شریعتیں الگ الگ تھیں۔دین سے مراد بنیادی عقائد و نظریات ہیں مثلاً صرف اللہ کو ہی خالق و مالک اور رازق سمجھنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا اور صرف اسی اکیلے کی عبادت کرنا۔ اللہ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح اطاعت کرنا اور آخرت کے دن پر اور اپنے کیے کی جزا و سزا بھگتنے پر ایمان لانا وغیرہ اور شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو اس دور کے تقاضوں کے مطابق دئیے جاتے رہے۔مثلاً تمام امتوں کو نماز، زکوٰۃ اور روزہ کا حکم تھا۔مگر نمازوں کی تعداد اور ترکیب نماز میں فرق تھا اسی طرح نصاب زکوٰۃ اور شرح زکوٰۃ میں بھی فرق تھا اور روزوں کی تعداد میں بھی۔یا مثلاً آدمؑ کی اولاد میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا اور یہ ایک اضطراری امر تھا ۔بعد میں حرام ہوگیاجب اس کی ضرورت نہ رہی ۔امت مسلمہ سے پہلے بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہ تھی جیساکہ سیدنا سلیمانؑ کی سوبیویاں تھیں وغیرہ وغیرہ اور ایسے مسائل بے شمار ہیں اور زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

- قرآن مہیمن ہے۔ مہیمن کی تشریح:۔ "مہیمن "کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں۔ امین، غالب،حاکم،محافظ و نگہبان اور ہرمعنی کے اعتبار سے قرآن کریم کا کتب سابقہ کیلئے "مہیمن"ہونا صحیح ہے۔خدا کی جو امانت تورات و انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں ودیعت کی گئی تھی وہ مع شے  زائد قرآن میں محفوظ ہے۔ جس میں کوئی خیانت نہیں ہوئی۔۔۔۔۔یہودیوں کے نزاعات میں رسول اللہ کا فیصلہ :۔ یہود میں باہم کچھ نزاع ہوگئی تھی۔ایک فریق جس میں ان کے بڑے بڑے مشہور علماء اور مقتداشامل تھے آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فصل نزاع کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عموماً قوم یہود ہمارے اختیار و اقتدار میں ہے ۔اگر آپ فیصلہ ہمارے موافق کردیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گےاور ہمارے اسلام لانے سے جمہور یہود اسلام قبول کرلیں گے۔نبی کریمؐ نے اس رشوتی اسلام کو منظور نہ کیااور ان کی خواہشات کی پیروی سے صاف انکار فرمادیا۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔(ابن کثیر)(تفسیر عثمانی)

ـــــ  آیت میں قرآن مجید کے لیے مھیمن کا لفظ استعمال ہواہے جس کے معنی محافظ و نگران کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قرآن کتاب الٰہی کا اصل معتمد نسخہ ہے اس لیے وہ دوسرے صحیفوں کے حق و باطل میں امتیاز کے لیے کسوٹی ہے ۔جو بات اس کسوٹی پر کھری ثابت ہوگی وہ کھری ہے،جو اس پر کھوٹی ثابت ہوگی وہ محرف ہے۔۔۔۔۔۔آیت میں شرعۃ اور منھاج کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ان سے مراد شریعت کا وہ ظاہری ڈھانچہ اور قالب ہے جو دین کے حقائق کو بروئے کار لانے کے لیے ہر مذہب میں اختیار کیا گیا ہے۔بعض حقائق کے لیے قالب خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا اور بعض کے لیے نبیؐ نے۔شریعت کے ظواہر و رسوم ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس لیےالگ الگ مقرر فرمائے ہیں کہ یہ چیزامتوں کے امتحان کا ذریعہ بنے اور وہ دیکھے کہ کون ظواہر و رسوم کے تعصب میں گرفتار ہوکر حقائق سے منہ موڑ لیتاہے اور کون حقیقت کا طالب بنتا اور اس کو ہر اس شکل میں قبول کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے جس میں وہ خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس کے سامنے آتی ہے۔(ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

50۔ (حالانکہ اس دور سے خود ہی پناہ مانگتے ہیں)یہودونصاریٰ کو قائل کیا جارہاہے کہ تم جو اسلام کے قانون سے گریز کررہےہوتو یہ عمداً دور جاہلیت ہی کی طرف واپس جانا ہوا،جس قانون کی بنیاد تمام ترعدل اور ہر جہتی انصاف پر ہے ،وہ تو اسلام ہی کا خدائی قانون ہے،ورنہ جاہلی قوموں کے قانون کا عملدرآمد تواسی اصل اصول پر رہاہے (اور جاہلیت عرب اس سے مستثنیٰ نہ تھا)کہ زبردست کا ساتھ دو، جو قوی ہے اُسے قوی ترکردو،اور زیردستوں کی کوئی پروانہ کرو،خود یہود اہلِ کتاب و صاحبِ شریعت ہونے کے باوجوداس فضا سے اس حدتک متاثر ہوچکے تھے کہ ان کے دو قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ جو حوالی مدینہ میں آباد تھے، ان میں بنونضیر چونکہ زبردست تھے اس لئے انہوں نے قاعدہ یہ مقرر کرلیا تھا کہ قتل وغیرہ کے معاملات میں دیت کی جتنی رقم خود دیتے ،اس کی دوگنی شرح سے بنو قریظہ سے وصول کرتے !۔۔۔الجاھلیۃ ۔۔۔۔رومی قانون ،انگریزی قانون، ہندوقانون ،کسی بھی غیر اسلامی قانون کی گنجائش اسلامی حکومت میں نہیں۔۔۔شریعتِ الٰہی سے بڑھ کر عادلانہ و حکیمانہ صحیح و مناسب قانون اور کون ہوسکتاہے،لیکن اتنی موٹی سی بات بھی محسوس وہی کرتے ہیں جن کی عقلیں شرک و الحاد کے زنگ سے صاف اور ایمان و ایقان کی روشنی سے منور ہوتی ہیں۔بڑی حیرت اور بڑی عبرت کے قابل آج کی ان آزاد "مسلم" قوموں کی حالت ہے، جو فرنگی قوموں کے اثر سے طلاق ،خلع، تعدد ازواج،ترکہ وغیرہ معاملات و فقہیات کے متعدد شعبوں میں فرنگی قانون کو دھڑا دھڑ اپناتے چلے جاتے ہیں ، اور جوشِ تقلید ِ فرنگ میں ان شدید مفاسد کو بھی نظر کے سامنے نہیں لاتے جو ان بشری اور محدود دماغوں سے نکلے ہوئے قوانین کے نفاذ سے معاشرے میں پیدا ہوجانے لازمی ہیں، یورپ اور امریکہ کی صِنفی انارکی اور خانگی ابتری کو دیکھ کر مسلمان بجائے اس کے کہ فرنگیت سے بچتے اور جھجکتے ،الٹے خود اس کے خیرمقدم کیلئے بیتاب رہنے لگے ہیں،عدم توازن اور معاشرے میں اختلال و انتشار انسان کی خود ساختہ شریعت پر چلنے کا وہ لازمی نتیجہ ہے، جس سے مفر کی کوئی صورت ہی نہیں۔(تفسیر ماجدی)


آ ٹھواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ 51 اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
 فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ   52 تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے)۔ پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ 53 اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ  54 اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔
 اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ 55 تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں۔
 وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠   ۧ ۧ  56 اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔

تفسیر آیات

52۔ مدینہ اور نواح مدینہ میں یہود کی حیثیت مہاجنوں ، صرافوں اور بینکرز کی سی تھی ،اور عرب آبادی اپنی ہرمالی اُفتاد و مصیبت کے وقت سہاراانہی  کا ڈھونڈتی تھی۔۔۔الذین فی قلوبھم مرض سے مراد منافقین مدینہ ہیں، یہی ان احکامِ امتناعی کے باوجود یہودی مہاجنوں ، ساہوکاروں سے برابر رشتۂ موالات قائم کئے ہوئے تھے۔۔۔اور شرمندگی بھی کیسی ،دہری بلکہ تہری تہری شرمندگی اٹھانا پڑے،پہلی کھسیاہٹ تو اسی کی کہ سمجھے کیا تھے،اور ہواکیا،دوسری جھنجھلاہٹ اپنی رسوائی پر جو نفاق کمبخت کی بدولت ظہور میں آئی ،تیسرا غصہ اپنی اس ناکامی پر کہ ادھر کافروں سے دوستی کچھ آڑے نہ آئی اور ادھر مسلمانوں سے بھی برے بنے!۔۔۔(تفسیر ماجدی)

آنحضرت ؐ کے غلبہ کی پیشین گوئی:۔ یعنی وہ وقت نزدیک ہے کہ حق تعالیٰ اپنے نبیؐ کو فیصلہ کن فتوحات اور غلبہ عطافرمائے اور مکہ معظمہ میں بھی جو تمام عرب کا مسلمہ مرکز تھا حضورؐ کو فاتحانہ داخل کرے یا اس کے ماسوا اپنی قدرت اور حکم سے کچھ اور امور بروئے کار لائے جنہیں دیکھ کر ان  منافقین کی ساری باطل توقعات کا خاتمہ ہو اور انہیں منکشف ہوجائے کہ دشمنان اسلام کی موالات کا نتیجہ دنیوی ذلت اور رسوائی اور اخروی عذاب الیم کے سوا کچھ نہیں۔جب فضیحت و خسران کے یہ نتائج سامنے آجائیں گے اس وقت بجز پچھتانے اور کف افسوس ملنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ الاٰن قدندمت وماینفع  الندم چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اسلام کے عام غلبہ اور فتح مکہ وغیرہ کو دیکھ کر تمام اعدائے اسلام کے حوصلے پست ہوگئے ۔بہت سے یہود مارے گئے ۔بہت سے جلاوطن ہوئے۔منافقین کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ۔مسلمانوں کے سامنے صریح طورپر جھوٹے ثابت ہوئے، موالات یہود میں جو کوششیں کی تھیں وہ اکارت گئیں اور خسران دنیوی اور ہلاکت ابدی کا طوق گلے میں پڑا ۔اگلی آیت میں اسی مضمون کو بیان فرمایا گیاہے۔(تفسیرعثمانی)

53۔اسلام کی بقا اور حفاظت کی پیشنگوئی:۔اس آیت میں اسلام کی ابدی بقا اور حفاظت کے متعلق عظیم الشان پیشنگوئی کی گئی ہے۔۔۔آج بھی ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جب کبھی چند جاہل اور طامع افراد اسلام کے حلقہ سے نکلنے لگتے ہیں تو ان سے زیادہ اور ان سے بہتر تعلیم یافتہ اور محقق غیر مسلموں کو اسلام فطری کشش سے اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور مرتدین کی سرکوبی کیلئے خدا ایسے وفادار اور جان نثار مسلمانوں کو کھڑا کردیتا ہے جنہیں خدا کے راستہ میں کسی کی ملامت اور طعن و تشنیع کی پروانہیں ہوتی۔(تفسیر عثمانی)

54۔ یرتد ۔پھر جائے ،میدان ِ جنگ سے بھاگ جائے، مرتد اوپر سے مسلم مگر اندر سے بزدل ہوتا ہے۔(بیان القرآن)

- مجاہدین ِ اسلام کے اوصاف(i) وہ اللہ کے پیارے اور وہ ان کا محبوب (ii)اہل ِ ایمان کےلئے نرم ،مشفق اور سراپا لطف و عنائیت اور کفار کےلئے سخت۔

ع۔ جس سے جگر ِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم                                دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

ہوحلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم                                                                رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔علامہ اقبال۔(ضیاء القرآن)

-مسیلمہ کذاب، یمن میں قبیلہ مذجج کے سردار اسود عنسی (جس رات اس کو قتل کیا گیا اٰسی رات حضورؐ کا وصال)قبیلہ بنو اسد کا سردار طلیحہ بن خویلد ۔ان تین قبیلوں  کی جماعتیں تو حضورؐ کے مرضِ وفات ہی میں مرتد ہوچکی تھیں۔فتنۂ ارتداد ایک طوفانی شکل میں اٹھ کھڑا ہوا۔ عرب کے سات قبائل منحرف ہو گئے اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔(معارف القرآن)

- سب سے پہلے مرتدین ۔مسیلمہ کذاب اور اس کی امت:۔واپس جاکر مسیلمہ اس معاملہ پر غور کرتا رہا۔بلآخر اس نے خود نبوت کا دعویٰ کردیا اور کہا کہ مجھے کاروبار نبوت میں رسول اللہؐ کے ساتھ شریک کیا گیا ہے ۔اس نے اپنی قوم کیلئے زنا اور شراب کو حلال کردیا تاہم آپؐ کی رسالت کی شہادت بھی دیتا رہایعنی اس نے بھی ظلی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ان مراعات سے قوم میں اس کی خوب قدر ومنزلت ہوئی اور اسے یمامہ کا رحمان کہا جانے لگا۔پھر رسول اللہؐ کو ایک خط لکھا کہ "مجھےآپ کے ساتھ اس کام میں شریک کردیا گیاہے آدھی حکومت ہمارے لیے ہے اور آدھی قریش کیلئے ۔"آپؐ نے اسے جواب لکھا کہ "زمین اللہ کیلئے ہے جسے چاہتا ہے اسے اس کا وارث بنادیتاہے اور انجام متقین کیلئے ہے۔"پھر مسیلمہ نے آپؐ کی طرف دو قاصد ابن نواحہ اور ابن اثال بھی بھیجے تھے۔ آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا تھا"کیا تم گواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔"وہ کہنے لگے"ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔آپؐ نے فرمایا "میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔اگر قاصد کو قتل کرنا جائز ہوتاتو میں تم دونوں کو قتل کردیتا۔"(مسند احمد۔ بحوالہ مشکوٰۃ ج 2، ص374)۔۔۔یہی مسیلمہ اور اس کو ماننے والوں کی سب سے پہلی مرتدین کی جماعت تھی۔چناچہ ربیع الاول 11ہجری کے آغاز میں ان لوگوں پر فوج کشی کی گئی ۔بنوحنیفہ بڑے جنگجو اور دلیر لوگ تھے وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور بڑے گھمسان کا رن پڑا۔اگرچہ اس جنگ میں جو جنگ یمامہ کے نام سے مشہور ہوئی ،مسلمانوں کے بھی بہت سے قاری شہید ہوئے اور کافی جانی نقصان ہوا تاہم میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ مسیلمہ کذاب خود وحشی بن حرب کے ہاتھوں اپنے کیفرکردار کو پہنچ گیا۔یہ وہی وحشی بن حرب ہے جس نے جنگ احد میں آپؐ کے چچا سیدنا حمزہؓ کو حربے سے شہید کیا تھا۔ اس جنگ میں اس نے کفارہ کے طورپر اسی حربہ سے مسیلمہ کو قتل کیا ۔(بخاری کتاب المغازی۔باب غزوۃ احد)۔۔۔تیسرامرتد قبیلہ بنو اسد تھے جن کے سردار طلیحہ بن خویلد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔اس پر بھی لشکر کشی کی گئی اور شکست کھا کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔بعدازاں اس نے پھر سچے دل سے اسلام کو اختیار کرلیا ۔یہ تین قبائل تو وہ تھے جنہوں نے رسول اللہؐ کی زندگی کے آخری ایام میں ارتداد اختیار کیا تھا اور ان کی بروقت سرکوبی بھی کردی گئی تھی۔۔۔۔عہد صدیقی میں مرتد ہونے والے قبائلسات قبیلے ایسے تھے جنہوں نے آپؐ کی وفات کے بعد ارتداداختیار کیا تھا:(1)فزارہ۔عینیہ ابن حصن کی قوم (2)غطفان۔قرۃبن سلمہ قشیری کی قوم(3)فجارہ بن عبدیالیل کی قوم (4)بنویربوع مالک بن نویرہ کی قوم(5)بنو تمیم کے بعض لوگ جو سجاح بنت منذر کے مرید ہوگئے ۔اس عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسیلمہ سے نکاح کرلیا تھا(6)کندہ ۔اشعث بن قیس کی قوم اور(7)بحرین میں بنو بکر وائل بن وائل ،حظم بن زید کی قوم۔(تیسیر القرآن)

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ  ۔   اول یہ کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب و شرائط  کے ساتھ پابندی سے ادا کرتے ہیں ، دوسری یہ کہ اپنے مال میں سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ لوگ متواضع اور فروتنی کرنے والے  اپنے اعمالِ خیر  پر ناز اور تکبر نہیں کرتے۔۔۔۔ اس آیت کا تیسرا جملہ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ  ، میں لفظ رکوع کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، اسی لیے آئمہ تفسیر میں سے بعض نے  فرمایا کہ  رکوع سے مراد اس جگہ  اصطلاحی  رکوع ہے جو نماز کا ایک رکن ہے اور  یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ کے بعد  وَ هُمْ رٰكِعُوْن کا  جملہ اس مقصد سے لایا گیا ہے کہ  مسلمانوں کی نماز کو دوسروں کی نمازوں سے ممتاز  کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ نماز تو  یہودو نصاریٰ بھی پڑھتے   ہیں،مگر اس میں رکوع نہیں ہوتا، رکوع صرف  اسلامی  نماز کا امتیازی وصف ہے۔  ۔۔۔اور بعض روایات میں ہے کہ یہ جملہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوا ہے، وہ یہ کہ ایک روز حضرت علی مرتضیٰ نمازمیں مشغول تھے، جب آپ  رکوع میں گئے تو کسی سائل نے آ کر سوال کیا ، آپ نے اسی حالت میں اپنی  ایک انگلی سے انگوٹھی نکال کر اس کی طرف پھینک دی، غریب فقیر کی حاجت روائی میں اتنی دیر کرنا  بھی پسند نہیں فرمایا کہ نماز سے فارغ ہو کر اس کی ضرورت پوری کریں، یہ مسابقت فی الخیرات اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند آئی اور اس جملہ کے ذریعہ اس کی قدر  افزائی فرمائی۔  (معارف القرآن)

56۔  کفار کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت عدد کو دیکھتے ہوئے ممکن تھا کہ کوئی ضعیف القلب اور ظاہر بین مسلمان اس تردد میں پڑجاتا کہ تمام دنیا سے موالات منقطع کرنے اور چند مسلمانوں کی رفاقت پر اکتفاء کرلینے کے بعد غالب ہونا تو درکنار ،کفار کے حملوں سے اپنی زندگی اور بقاء کی حفاظت بھی دشوار ہے۔ایسے لوگوں کی تسلی کیلئے فرمادیا کہ مسلمانوں کی قلت اور ظاہری بے سروسامانی پر نظر مت کرو۔جس طرف خدا اور اس کا رسول اور سچے وفادار مسلمان ہونگے وہ ہی پلہ بھاری رہے گا ۔یہ آیتیں خصوصیت سے حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی منقبت میں نازل ہوئی ہیں۔یہود بنی قینقاع سے ان کے بہت سے زیادہ دوستانہ تعلقات تھے۔مگر خدا اور رسول کی موالات اور مومنین کی رفاقت کے سامنے انہوں نے اپنے سب تعلقات منقطع کردیے۔(تفسیر عثمانی)


نواں رکوع

 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 57 اے ایمان والوں! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔
 وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ  58 اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ 59 کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔
قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ  60 کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں۔
وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ  61 اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے۔
 وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 62 اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔
 لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ 63 بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔
 وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَْیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ 64 اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہی کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
 وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ 65 اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔
 وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠   ۧ ۧ  66 اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔

تفسیر آیات

57۔ دین کا مذاق اڑانے والوں سے دوستی :۔ اب یہ ان کے جذبۂ غیرت و حمیت کو ابھارا ہے کہ جو اہل کتاب اور کفار تمہارے دین کا مذاق اڑاتے اور تمہارے شعائر دین کو کھیل تماشہ بناتے ہیں ۔حیف ہے اگر تم ان کو اپنا دوست بناؤ۔انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز اس کی طرف منسوب ہو یا جس کی طرف وہ منسوب ہو اس کی توہین و تذلیل وہ برداشت نہیں کرتا،اگر کوئی اس کو گواراکرلےتویہ اس کی بے حمیتی کی دلیل ہے۔عرب کے لوگ اس معاملے میں بڑے حساس تھے۔دین تو بڑی چیز ہے وہ اپنے خاندان یا اس کے کسی فرد کی توہین و تذلیل پر بھی آگ بگولہ ہوجاتے اور تلواریں سونت لیتے   (انہیں اب کیا ہوا؟)۔اس انسانی فطرت کے پہلو سے قرآن نے ان کو ملامت کی ہے کہ جو لوگ تمہارے دین کامذاق اڑاتے ہیں آخر کس دل و جگر سے تم ان کو دوست بناتے ہو۔اس کے بعد نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو،یعنی اگر تم سچ مچ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو خداسے ڈرو کہ اس بے حمیتی پر تمہارا ایمان نہ سلب ہوجائے اور خدا کا غضب نہ نازل ہوجائے۔(تدبرِقرآن)

ــــ یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں،تمسخر کےلئے اس کے الفاظ بدلتے اور مسخ کرتے ہیں اور اس پر آواز ے کستے ہیں۔(تفہیم القرآن)

ــــ من الذین میں من تبیین و تشریح کیلئے ہے، انتخاب و تبعیض کیلئے نہیں۔ من للبیان(جلالین)اس لئے یہ معنی نہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک طبقہ اس قسم کا ہے، بلکہ مراد ہے اہل کتاب جو سب کے سب اسی قماش کے ہیں۔شاہ عبدالقادر دہلویؒ اور مفسر تھانویؒ دونوں نے اپنے اپنے ترجمہ میں یہی پہلو اختیار کیا ہے۔؎۔۔والکفار۔کفار سے مراد کا فر غیر کتابی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

58۔یہودی اشرار جس طرح مجلس نبوی میں بدتمیزیاں کرتے تھے اسی طرح ان کے اراذل اذان کی بھی نقلیں اتارتے اور اس پر ہنستے ۔اذان اللہ کی بندگی کی دعوت ہے۔ اس کا مذاق اڑانا خود خداکی تحقیر اور اس کا مذاق اڑانے کے ہم معنی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے جذبۂ غیرت و حمیت کو ابھارا ہے کہ یہ لوگ تو تمہارے شعائر دین کو کھیل تماشا بناتے ہیں ،حیف ہے اگر تم ان کو اپنا دوست بنا ؤ!۔(ترجمہ،مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

60۔ ۔۔البتہ جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ قردۃً بننے والوں سے مراد یہود بلکہ ان میں سے بھی اصحاب السبت ہیں جن کا ذکر سورۂ بقرہ پارہ اول میں آچکا ہے،اور خنازیر سے مراد مسیحی اصحاب المائدہ ہیں،جن کا ذکر اسی سورت میں آگے آرہاہے۔۔۔اس نامۂ سیاہ کو اس آیت کی تفسیر کے باب میں خاص طورپر تردد تھا، مسودۂ اول کی تحریر کے وقت(اپریل 1942ءمیں)۔۔۔شیخ رشید رضامصری نے کہا ہے کہ اگر چہ عامۂ مفسرین مسخ جسمانی کے قائل ہیں ،لیکن سیوطی کی درمنثور میں محدّث ابن المنذر و محدث ابن ابی حاتم کے حوالہ سے ہے کہ مسخ صرف معنوی ہواتھا نہ کہ صوری ،اور سورۂ بقرہ میں اس مضمون کی آیت کی تفسیر کے ذیل میں ظاہر ہوچکاہے کہ ترجیح اسی معنی کو ہے اور مجاہد تابعی کا قول لغت و زبان کے اعتبار سے بھی بعید نہیں۔۔۔طاغوت ۔طغیان سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا اطلاق باطل و منکر کی ہرشکل پر ہوسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

61۔ذکر اب منافقین کا ہے، خصوصاً منافقین یہود کا، جو اپنے عقائد کفر کے باوجود اپنے کو مسلمان آبادی کے درمیان چالاکی سے ملے جلے رکھتے تھے۔(تفسیر ماجدی)

62۔غالباً "اثم"سے لازمی اور عدوان سے متعدی گناہ مراد ہیں۔یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ بہت شوق اور رغبت سے ہر قسم کے گناہوں کی طرف جھپٹتے ہیں۔خواہ ان کا اثر اپنی ذات تک محدود ہو یا دوسروں تک پہنچے ۔جن کی اخلاقی حالت ایسی زبوں ہواور حرام خوری ان کا شیوہ ٹھہرگیا ہو،ان کی برائی میں کسے شبہ ہوسکتاہے۔یہ تو ان کے عوام کا حال تھا۔آگے خواص کا بیان کیا گیا ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیک عمل ہو یا بد جب کوئی انسان اس کو بکثرت کرتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ ایک ملکہ راسخہ اور عادت بن جاتی ہے۔ پھر اس کے کرنے میں اس کو کوئی مشقت اور تکلیف باقی نہیں رہتی، بری خصلتوں میں یہود اسی حد پر پہنچے ہوئے تھے۔ اس کو ظاہر کرنے کے لئے ارشاد فرمایا: يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ، اور اسی طرح اچھی خصلتوں میں انبیاء و اولیاء کا حال ہے۔ ان کے بارے میں بھی قرآن کریم نے (آیت)  یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ کے الفاظ استعمال فرمائے۔۔۔۔اصلاحِ اعمال کا سب سے زیادہ  اہتمام کرنے والے حضرات صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ ہیں، ان حضرات نے انہی ارشادات قرآنیہ سے یہ اہم اصول اخذ کیا  ہے کہ جتنے برے یا بھلے اعمال انسان کرتا ہے اصل میں ان کا اصل سرچشمہ وہ مخفی ملکات اور اخلاق ہوتے ہیں جو انسان کی طبیعتِ  ثانیہ بن جاتے ہیں، اسی لیے برے اعمال اور جرائم کی روک تھام کے لیے ان کی نظر انہی مخفی ملکات پر ہوتی ہے  اور ان کی اصلاح کر دیتے ہیں، تو تمام اعمال خود بخود درست ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً کسی کے دل میں مال ِ دنیا کی حرص کا غلبہ ہے، وہ اس کے نتیجہ میں رشوت بھی لیتا ہے، سود بھی کھاتا ہے، اور موقع ملے تو چوری اور ڈاکہ تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے، حضراتِ صوفیہ ان جرائم کا الگ الگ علاج کرنے کی بجائےوہ نسخہ استعمال کرتے ہیں جس سے ان سب جرائم کی بنیاد منہدم ہو جائے اور وہ ہے  دنیا کی نا پائیداری اور اس کی عیش و عشرت  کے زہر آلود ہونے کا استحضار۔  ۔۔۔ اسی طرح کسی کے دل میں تکبر، غرور ہے یا وہ غصہ میں مغلوب ہے اور دوسروں کی تحقیر و توہین کرتا ہے۔ دوستوں اور پڑوسیوں سے لڑتا ہے۔ یہ حضرات فکر آخرت اور خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو مستحضر کرنے والا نسخہ استعمال کرتے ہیں۔ جن سے یہ اعمال بد خودبخود ختم ہوجاتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآنی اشارہ سے معلوم ہوا کہ انسان میں کچھ ملکات ہوتے ہیں جو طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں یہ ملکات خیر اور بھلائی کے ہیں تو نیک عمل خود بخود ہونے لگتے ہیں، اسی طرح ملکات برے ہیں تو برے اعمال کی طرف انسان خودبخود دوڑنے لگتا ہے، مکمل اصلاح کے لئے ان ملکات کی اصلاح ضروری ہے۔ (معارف القرآن)

63۔کسی کے دل میں مالِ دنیا کی حرص کا غلبہ ہے،وہ اس کے نتیجہ میں رشوت بھی لیتاہے،سود بھی کھاتاہے،اور موقع ملے تو چوری اور ڈاکہ تک بھی نوبت پہونچ جاتی ہے،حضرات صوفیائے کرام ان جرائم کا الگ الگ علاج کرنے کے بجائے وہ نسخہ استعمال کرتے ہیں جس سے ان سب جرائم کی بنیاد منہدم ہوجائے ،اور وہ ہے دنیا کی ناپائیداری اور اس کی عیش و عشرت کے زہر آلود ہونے کا استحضار۔۔۔اسی طرح کسی کے دل میں تکبر ،غرور ہے یا وہ غصہ میں مغلوب ہے اور دوسروں کی تحقیر و توہین کرتاہے،دوستوں اور پڑوسیوں سے لڑتاہے،یہ حضرات فکر آخرت اور خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو مستحضر کرنے والا نسخہ استعمال کرتے ہیں ،جن سے یہ اعمال ِ بد خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔۔۔۔گناہوں پر اظہار نفرت نہ کرنے پر وعید :۔مالک بن دینار ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو تباہ کردو،فرشتوں نے عرض کیا اس بستی میں توآپ کا فلاں عبادت گذاربندہ بھی ہے ،حکم ہواکہ اس کو بھی عذاب چکھاؤ،کیونکہ ہماری نافرمانیوں اور گناہوں کو دیکھ کر اس کو بھی غصہ نہیں آیا،اور اس کا چہرہ غصہ سے کبھی متغیر نہیں ہوا۔۔۔۔۔ حضرت یوشع ابن نون (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے ایک لاکھ آدمی عذاب سے ہلاک کئے جائیں گے، جن میں چالیس ہزار نیک لوگ ہیں اور ساٹھ ہزار بدعمل۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ رب العالمین بدکرداروں کی ہلاکت کی وجہ تو ظاہر ہے، لیکن نیک لوگوں کو کیوں ہلاک کیا جا رہا ہے ؟ تو ارشاد ہوا کہ یہ نیک لوگ بھی ان بدکرداروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ کھانے پینے اور ہنسی دل لگی کے شریک رہتے تھے، میری نافرمانیاں اور گناہ دیکھ کر کبھی ان کے چہروں پر کوئی ناگواری کا اثر تک نہ آیا (یہ سب روایات بحر محیط سے منقول ہیں)۔ (معارف القرآن)

۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ مشائخ و علماء کے لئے پورے قرآن میں اس آیت سے زیادہ سخت تنبیہ کہیں نہیں، اور امام تفسیر ضحاک نے فرمایا کہ میرے نزدیک مشائخ علماء کے لئے یہ آیت سب سے زیادہ خوفناک ہے (ابن جریر و ابن کثیر)۔۔۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ اس آیت کی رو سے ان کا جرم تمام چوروں، ڈاکوؤں اور ہر طرح کے بدکاروں کے جرم سے بھی زیادہ سخت ہوجاتا ہے (العیاذ باللہ) مگر یاد رہے کہ یہ شدت اور وعید اسی صورت میں ہیں جبکہ مشائخ وعلماء کو اندازہ بھی ہو کہ ان کی بات سنی اور مانی جائے گی۔ (معارف القرآن)

64۔شماس یہودی کا فتنہ جنگ بھڑکانا:۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو منافقوں کے علاوہ یہود کے بھی تن بدن میں آگ لگ گئی۔ایک بوڑھے یہودی شماس نے چند یہودی نوجوانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ جہاں کہیں اوس و خزرج کے لوگ مل کر مجلس جمائے بیٹھے ہوں تو وہاں جاکر جنگ بعاث کے متعلق فریقین کے کہے ہوئے اشعار پڑھنا چنانچہ جب ان کے کسی نوجوان یہودی نے ایسی مجلس میں یہ اشعار پڑھے تو اوس و خزرج دونوں کی قبائلی عصبیت عود کر آئی اور وہ پھر سے اٹھے اور لڑنے کو تیار ہوگئے۔لڑائی کا میدان طے پاگیا اور لوگ ہتھیار بند ہوکر وہاں جمع ہونے لگے ۔قریب تھا کہ سب انصار ایک خوفناک جنگ کی زد میں آجاتے کہ اتنے میں رسول اللہؐ کو خبر ہوگئی ۔آپؐ فوراً موقع پرپہنچ گئے اور فرمایا ۔"میری موجودگی میں ایسی جاہلیت کی باتیں؟"اس پر انصار چونک اٹھے اور فوراً احساس ہوگیا کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آگئے تھے۔ پھر وہ آپس میں گلے مل کر رونے لگے اور یہود تو ایسی فتنہ انگیزیوں پر ہروقت آمادہ رہتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ ان کی ایسی کوششیں بار آور نہ ہونے پاتی تھیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کی لگائی ہوئی آگ کو فوراً بجھا دیتاتھا۔(تیسیر القرآن)

ــــ  یعنی  اللہ کے ہاں کریمی اور رزاقی بدستور جاری ہیں۔۔۔  یداہ مبسوطتٰن۔اردو میں بھی غایت فیاضی کے اظہار کے موقع پر بولتے ہیں کہ کوئی ایک ہاتھ سے خرچ کرتاہے،فلاں دونوں ہاتھوں لٹاتاہے، عربی میں بھی دونوں ہاتھوں کا لازماً زور وتاکید کیلئے ہے۔۔۔یہ بھی کہا گیاہے کہ تثنیہ کا صیغۂ دُہری نعمت کے اظہار کیلئے ہے، ایک نعمت دنیا کی اور دوسری آخرت کی۔(تفسیر ماجدی)

۔ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ‌  ، اوپر دین اور شعائر دین کے ساتھ  ان کے مذاق کا ذکر ہو چکا ہے۔ اب یہ اسی قسم کی ایک اور گستاخی  (قول اثم) کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ " ہاتھ بندھے ہوئے ہیں" یعنی تنگ ہیں۔یہ وہی بات ہے جو سورۃ آل عمرآن کی آیت 181 میں گذر چکی ہے۔ لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِيَآءُ۔ (اللہ نے  ان لوگوں کی بات سن رکھی ہے جو کہتے ہیں کہ  اللہ غریب ہے اور ہم امیر ہیں)۔ (تدبرِ قرآن)

66۔ مسیحیوں میں نجاشی شاہ حبشہ اور ان کے رفقاء اور یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کی جماعت یہ سب اسی امت مقتصدہ کے افراد ہوئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔ سورۃ اعراف میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے   وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ (اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمیں کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے) (تدبرِ قرآن)


دسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ 67 اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
 قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ  68 کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے(اس سے) ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ  69 جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے۔
 لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ   70 ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے۔
وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ 71 اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی۔ تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
 لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یْٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 72 وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
 لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 73 وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے۔
 اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  74 تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔
 مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ 75 مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔
 قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 76 کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے۔
 قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠   ۧ ۧ  77 کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے۔

تفسیر آیات

67۔۔ ۔۔عموماً یہ تجربہ ہوا ہے کہ فریضہ تبلیغ اداکرنے میں انسان چند وجوہ سے مقصر رہتاہے یا تو اسے اپنے فرض کی اہمیت کاکافی احساس اور شغف نہ ہو یا لوگوں کی عام مخالفت سے نقصان شدید پہنچنے یا کم از کم بعض فوائد کے فوت ہونے کا خوف ہو اور یا مخاطبین کے عام تمرد و طغیان کو دیکھتے ہوئے جیساکہ پچھلی اور اگلی آیات میں اہل کتاب کی نسبت بتلایا گیاہے، تبلیغ کے مثمر اور منتج ہونے سے مایوسی ہو،پہلی وجہ کا جواب یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ سے  فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ تک، دوسری کا وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ میں اور تیسری کا اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ میں دے دیا گیا۔یعنی اپنا فرض اداکئے جاؤ خدا تعالیٰ آپ کی جان اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھائیگا،باقی ہدایت و ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔۔ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌ میں "النَّاسِ" اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ  یہاں مراد اہلِ کتاب با لخصوص یہود ہیں۔ ۔۔۔ اِنَّ اللّٰهَ ْلَا يَهۡدِىۡ الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۔ اللہ ان کی کسی چال کو بھی تمہارے خلاف با مراد نہیں ہونے دے گا۔ ھدٰی يَهۡدِىۡ کا لفظ ہم دوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بتا چکے ہیں کہ کسی کو اس کی کوششوں اور تدبیروں  میں با مراد کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔پھر زندگی کے آخری دور میں تین مختلف اوقات میں ہزاروں صحابہ کرامؓ کے مجمع میں ان سے گواہی لی۔۔۔آپؐ پر قریش مکہ ،یہود اور منافقوں کی طْرف سے تقریباً سترہ بارقاتلانہ حملے ہوئے۔۔۔آپؐ کی جان بچانے والے کی شہادت:۔کوہ صفا پر اپنے اقربین کو دعوت دینے کے بعد جب آیت" فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ "نازل ہوئی تو آپؐ نے حرم کعبہ میں جاکر توحید کا اعلان فرمایا۔آپؐ کا یہ اعلان مشرکین مکہ کی سب سے بڑی توہین کے مترادف تھا۔چنانچہ دفعتاً ایک ہنگامہ بپاہوگیا اور ہرطرف سے لوگ آپؐ پر پل پڑے۔آپؐ کےربیب (سیدہ خدیجہؓ کے پہلے خاوند سے بیٹے)حارث بن ابی ہالہ گھر میں موجود تھے انہیں خبرہوئی تو دوڑتے ہوئے آئے اور آپؐ کو بچانا چاہا۔ اب ہرطرف سے ان پر تلواریں پڑنے لگیں اور وہ شہید ہوگئے۔اسلام کی راہ میں یہ پہلا خون تھا جو بہایا گیا(الاصابہ فی تمییز الصحابہ ذکر حارث بن ابی ہالہ بحوالہ سیرت النبیؐ ج1، ص314)۔۔۔چندقریش سردار مکہ کے رئیس اعظم ولید بن مغیرہ کے بیٹے عمارہ کوہمراہ لے کر ابوطالب کے پاس آئےاور کہا "یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے آپ اسے اپنی کفالت میں لے لیں اور اپنا متبنیٰ بنالیں۔اس کی دیت اور نصرت کے آپ حقدار ہونگے اور اس کے عوض آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالہ کردیں۔۔۔)تیسیر القرآن(

- اور حقیقۃً یہ ہے بھی مرتبۂ رسالت سے بہت ہی گری ہوئی چیز کہ پیمبر ساعبد کامل بھی کوئی حکم شریعت کسی مروت یا کسی خوف سے چھپا جائے، حضرت عائشہ صدیقہؓ نے کیسی لطیف اور سچی بات اس موقع پر کہی ہے کہ اگر آپ ؐ نے کوئی سابھی جزوقرآن کریم کا چھپایا ہوتا تو وہ یہی جزہوتا!۔(تفسیر ماجدی)

68۔ اہلِ کتاب کو بنی اسماعیل پر غصہ تو پہلے سے تھا کہ آخری رسول کی بعثت ان کے اندر ہونے والی ہے لیکن یہ غصہ دبا ہوا تھا۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ چیز واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوگئی تو ان کی حسد کی آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔(تدبرقرآن)

- بائبل میں دوقسم کی عبارات۔ یہودی اور عیسا ئی مصنفین کی اپنی تحریریں اور دوسری قسم کی کہ اللہ نے فرمایا یا فلاں نبی نے ایسا کہا ۔(تفہیم القرآن)

69۔ صابئین کون تھے:۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح اور قوی قول یہ ہے کہ صابئین عراق میں ایک فرقہ تھا جن کے مذہبی اصول عموماً حکمائے اشراقیین اور فلاسفہ طبیعین کے اصول سے ماخوذ تھے۔۔۔۔۔یہ لوگ روحانیت کے متعلق نہایت غلو رکھتے بلکہ ان کی پرستش کرتے تھے۔ان کا خیال یہ تھا کہ ارواح مجردہ اور مدبرات فلکیہ وغیرہ کی استعانت و استمداد سے ہی ہم رب الارباب (یعنی بڑے معبود) تک پہنچ سکتے ہیں۔لہذاریاضات شاقہ اور کسر شہوات سے روح میں تجرد اور صفائی پیدا کرکے "عالم روحانیات" کے ساتھ ہم کو اپنا رشتہ پیدا کرنا چاہئیے۔پھر ان کی خوشنودی اور دستگیری سے خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔اتباع انبیاء کی ضرورت نہیں۔کواکب کی ارواح مدبرہ اور اسی طرح دوسری روحانیات کو اپنے سے خوش رکھنے کیلئے ہیاکل بناتے تھے اور انہی ارواح کیلئے نماز، روزہ اور قربانی وغیرہ کرتے تھے۔خلاصہ یہ کہ حنفاء کے مقابلہ میں صابئین کی جماعت تھی۔ جن کا سب سے بڑا حملہ نبوت اور اس کے لوازم و خواص پر ہوتا تھا ۔حضرت ابراہیمؑ حنیف  علیہ الصلاۃ و السلام کی بعثت کے وقت نمرود کی قوم صابی العقیدہ تھی جس کے ردو ابطال میں خدا کے خلیل ؑ نے جانبازی دکھلائی۔(تفسیر ِعثمانی)

-یہ آیت بعینہ سورۂ بقرہ میں گذرچکی (62)بس دونوں میں فرق یہ ہے کہ وہاں صابئین ہے اور یہاں صابئون وہاں نصاریٰ کا لفظ صابئین پر مقدم ہے یہاں مؤخر ۔یہ محض اسلوب کا تنوع ہے صابئون یہاں محل پر عطف  ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہوگیا ہے۔۔۔۔۔اگر مسلمان بھی ایمان باللہ ،ایمان بالآخرت اور عمل ِ صالح سے بے نیاز ہوکر اپنی گروہی نسبت ہی کو نجات کا ضامن سمجھ بیٹھیں تو ان کے لئے بھی یہی حکم ہے بلکہ سرِ فہرست ان ہی کا نام ہے۔(تدبر قرآن)

71۔ بخت نصر کے بعد سیدنا زکریا ویحیٰ کو قتل کروانا:۔  انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا ہم جو کچھ کرلیں ہم پر عذاب الٰہی نہیں آسکتا۔اس عقیدہ نے انہیں ہر طرح کے جرائم پر دلیر بنادیاتھا۔پھر ان پر بخت نصر کی صورت میں قہر الٰہی نازل ہوا۔جس نے ان کی سلطنت کو تہس نہس کردیا اور بے شمار افراد کو قیدی بناکر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔مدتوں وہ قید و بند کی سختیاں جھیلتے رہے۔ آخر اللہ کی طرف رجوع کیا تو اللہ نے پھر ان کی خطائیں معاف کردیں اور ملوک فارس کی مدد سے انہیں بخت نصر کی قید سے رہائی ملی ۔پھر جب اللہ نے ان پر مہربانی کی اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگے تو پھر کفرو عصیان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے ۔سیدنا زکریاؑ اور سیدنا یحیٰؑ دونوں کو قتل کردیا اور سیدنا عیسیٰؑ کو صلیب پر چڑھوانے کی مقدور بھرکوشش کی اور بزعم خودانہیں سولی پر چڑھاکے چھوڑا۔(تیسیر القرآن)

۔یہ اسلوب ملحوظ رہے کہ  ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ  اللہ نے ان کو پکڑا تو انھوں نے توبہ و اصلاح کی جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ پہلی پکڑ  کے بعد  تو انھوں نے توبہ و اصلاح کی لیکن دوسری پکڑ کے بعد  وہ بدستور اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔یہ  ان کی تاریخ کی دو بڑی تباہیوں کی طرف اشارہ ہے جن میں وہ اپنی بد اعمالیوں کے سبب سے شاہِ اسورسلمنسر اور شاہِ بابل  نبو خذ نضر کے ہاتھوں مبتلا ہوئے۔ سورۃ بنی اسرائیل  آیت 6سے 8 میں ان حوادث کی طرف اشارہ ہے۔  (تدبرِ قرآن)

72۔نصاریٰ کا کفر و شرک:۔یہاں سے نصاریٰ کے ایمان باللہ کی کیفیت دکھلائی گئی ہے کہ وہ کہاں تک حقانیت کے اس معیار پر پورے اترے۔ان کے ایمان باللہ کا حال یہ ہے کہ عقل کےخلاف فطرت سلیمہ کے خلاف اور خود حضرت مسیح کی تصریحات کے خلاف مسیح ابن مریم کو خدا بنادیا۔"ایک تین اور تین ایک"کی بھول بھلیاں تو محض برائے نام ہیں۔حقیقۃً سارا زورو قوت صرف حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے پر صرف کیا جاتاہے۔حالانکہ خود حضرت مسیحؑ خداکے رب ہونے اور دوسرے آدمیوں کی طرح اپنے مربوب ہونے کا علانیہ اعتراف فرمارہے ہیں۔اور جس شرک میں ان کی امت مبتلا ہونے والی تھی اس کی برائی کس زور و شور سےبیان کررہے ہیں۔پھر بھی ان اندھوں کو عبرت نہیں ہوتی۔(تفسیر عثمانی)

75۔۔۔جب عقیدہ تثلیث وضع کیا گیا تو اس کے تین ارکان یا عیسائیوں کی اصطلاحی زبان میں تین اقنوم باپ، بیٹا اور روح القدس تھے لیکن کچھ مدت بعد ان میں سے روح القدس کو خارج کرکے اس کی جگہ مریم کو داخل کیا گیا گویا نئے عقیدہ تثلیث کے مطابق اس کے تین اقنوم ۔باپ،بیٹا اور ماں قرار پاگئے۔(تیسیر القرآن)

۔لیکن یہ انسانی ذہن کی ضلالت پذیری  کا ایک عجب   کرشمہ ہے کہ عیسائی خود اپنی مذہبی کتابوں میں مسیح کی زندگی کو صریحاً ایک انسانی زندگی پاتے ہیں  اور پھر بھی اسے خدائی سے متصف قرار دینے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔   حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس تاریخی مسیح کے  قائل ہی نہیں ہیں جو عالمِ واقعہ میں ظاہر ہوا تھا۔  بلکہ انھوں نے خود اپنے وہم و گمان سے  ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اسے خدا بنا لیا تھا۔(تفہیم القرآن)

76۔ اسی طرح انجیلوں میں خود حضرتِ عیسیٰؑ کے متعلق ہےکہ جب ان کے شاگرد ان کو ایک روح سمجھ کر  ان سے ڈرے تو انھوں نے بھنی ہوئی مچھلی کا ایک قتلہ ان کے سامنے کھا کر ان کو اطمینان دلایا  کہ وہ کوئی روح نہیں بلکہ آدمی ہیں۔  (تدبرِ قرآن)

77۔ غلو کا مفہوم یہ ہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ و مرتبہ یا جو وزن و مقام ہے اس کو بڑھا کر کچھ سے کچھ کردیا جائے ۔(دیکھیے:النساء۔4: 171)۔یہ غلو ہی کا کرشمہ ہے کہ نصاریٰ نے حضرت مسیحؑ کو رسول سے خدا بناڈالا ،پھر ان کی ماں اور روح القدس کو بھی خدائی میں شریک کردیا۔۔۔یہ اشارہ پال اور اس کے ساتھیوں کی طرف ہے جنہوں نے نصرانیت کا حلیہ بگاڑا اور تثلیث کا ڈھونگ رچایا۔فرمایا کہ تم جس چیز کو دین بنائے بیٹھے ہو یہ تمہارے اپنے گھر کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر بت پر ست قوموں سے درآمد کردہ چیز ہے جو تم پر لاد دی گئی ہے۔(ترجمہ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


گیارہواں رکوع

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ  78 جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔
 كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 79 (اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے۔
تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ  80 تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے۔
 وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ  81 اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں۔
 لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ  82 (اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ  83 اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے۔
 وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ 84 اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔
فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ  85 . تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔
 وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠   ۧ ۧ 86 . اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

تفسیر آیات

78۔۔۔۔۔بعض علماء کا خیال ہے کہ داؤد ؑ کی بعثت سے قبل ہفتہ کے دن کی بے حرمتی کرنے والے لوگ بندر بنائے گئے تھے اور یہ اسی دور کا واقعہ ہے، اور جن لوگوں نے سیدنا عیسیٰؑ سے آسمان سے دستر خوان اتارنے کا مطالبہ کیا تھا پھر دسترخوان اترنے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے تھے انہیں خنزیر بنایا گیا تھا۔واللہ اعلم بالصواب(تیسیر القرآن)

ـــــ ان دونوں نعمتوں کا ذکر عہد عتیق کے صحیفۂ زبور اور عہد جدید کے صحیفۂ متی میں علی الترتیب موجود ہے، چناچہ حضرت داؤدؑ کی زبان سے:۔ "خداوند نے سنا اور نہایت غصہ ہوا،اس لئے یعقوب میں ایک آگ بھڑکائی گئی ،اور اسرائیل پر قہر بھی اٹھا،کیونکہ انہوں نے خدا پر اعتماد نہ کیا، اور اس کی قیامت پر اعتماد نہ رکھا۔"(زبور۔78: 21، 22، 23)اور حضرت عیسیٰؑ مسیح کی زبان سے:۔ "غرض اپنے باپ دادوں کا پیمانہ بھردو،اے سانپو،اے افعی کے بچو،تم جہنم کی سزا سے کیوں کر بچوگے"!(متی۔23: 31، 32)(تفسیر ماجدی)

79۔بنی اسرائیل پر اس لعنت کے لیے ملاحظہ ہو:زبور،باب:12: 1۔ 3، باب 28: 3۔6،باب40: 10۔17، باب50: 16۔22،باب68: 1۔4، باب109: 6۔11 اور انجیل متی، باب23: 14۔39۔حقیقت میں حضرت داؤدؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک ہر نبی نے بنی اسرائیل پر لعنت کی ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ خدا اور اس کی شریعت اور بندوں کے تمام حقوق ان کے ہاتھوں بری طرح پامال ہوئے اور نبیوں اور راست بازوں کی کسی اصلاح کی کوشش کو وہ خاطر میں نہ لائے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

 ۔ایے ریاکار فقیہو اور فریسیو ! تم پر افسوس تم  بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو  اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو، کہ ایک مریدکرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو، اور جب وہ مرید ہوچکتاہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنادیتے ہو۔۔۔۔۔ اے اندھے راہ بتانے والو! جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس کہ پیالے اور رکابی کو اوپر سے صاف کرتے ہو مگر وہ اندر سےلوٹ اور نا پرہیزگاری سے بھرے ہیں۔ اے اندھے فریسی پہلے پیالے  اور رکابی کو اوپر سے صاف کر تا کہ اندر سے بھی صاف ہو جائیں۔ ۔۔۔۔ اے ریا کار فقیہواور فریسیو! افسوس ہے کہ تم سفیدی پھری قبروں کی مانندہو۔ جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندرمُردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائ دیتے ہو مگر باطن میں ریا کاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو۔ ۔۔۔۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ دو نبیوں کا ذکر صرف ابتدا اور  انتہا کو واضح  کرنے کےلیے ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ داؤدؑسے لے کر مسیحؑ  تک ہر نبی نے اس بد بخت  قوم  پر لعنت کی ہے۔ حضرت داؤدؑ سے بنی اسرائیل  کی سیاسی عظمت  کی ابتدا ہوئی ہے، یہود کو ان پر بڑا   فخر رہا  ہے اور حضرت مسیحؑ  اسرائیلی  سلسلہ نبوّت  کی آخری کڑی ہیں اس لیے ان دونوں ناموں سے گویا پوری تاریخ سامنے آ گئی۔ (تدبرِ قرآن)

82۔ مومنوں سے دشمنی کرنے والے یہودی اور دوستی کرنے والے نصاریٰ ۔(تعلیم القرآن)

ـــــ آیت پر اشکال متعدد وارد ہوئے ہیں،اور جوابات بھی متعدد دیے جاچکے ہیں، مثلاً ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مراد صرف رسول اللہؐ کے معاصر مسیحی ہیں،یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن بنیادی اشکال صرف اس لئے پیدا ہواہے،کہ آیت کے لفظ نصاریٰ پر پورا غور نہ کیا گیا اور اسے "مسیحیوں"کا مرادف سمجھ لیا گیا، آیت میں مسیحی یا عیسائی سرے سے مراد ہی نہیں، بلکہ نصاریٰ سے مراد نصاریٰ ہی ہیں، جوکہ حضرت عیسیٰؑ کو نبی ماننے والا، نہ کہ انہیں ابن اللہ قراردینے والا ایک قدیم فرقہ ہواہے،اور اس کا شمار ہزار ڈیڑھ ہزار سال سے ارباب کلیسا"ملحدوں"میں کررہے ہیں،اور قدیم مفسروں میں بھی کوئی کوئی اس نکتہ تک پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔یہاں نصاریٰ کے اسلام سے نسبۃً قریب تر ہونے کے دووجوہ بھی بیان کردیے،ایک یہ کہ ان کی جماعت میں علم دوست ،شب بیدار علماء اور تارک الدنیا درویش ہوتے ہیں، دوسرے یہ کہ ان کے قلوب میں تواضع کی نرمی ہوتی ہے،ان دوخصوصیات نے اس حقیقت کو اور زیادہ روشن و مؤکد کردیا کہ مراد عام مسیحی ،خصوصاً فرنگی قومیں ہوہی نہیں سکتیں کہ یہاں ان دونوں اوصاف کا قحط ہے،بلکہ مراد اسی قدیم فرقۂ نصاریٰ سے ہے، ظہور اسلام کے وقت تک اس فرقہ کا زور ٹوٹ چکا تھا،تاہم اس کے کچھ آثار تو باقی ہی رہ گئے تھے۔(تفسیر ماجدی)

۔قسیس اور رھبان کے الفاظ عرب کے نصاریٰ اپنے علماء اور زاہدوں کے لیے بولتے تھے جس طرح  یہود اپنے علماء اور فقہاء کے لیے ربی، ربانی اور احبار  استعمال کرتے تھے۔ یہ الفاظ اہلِ کتاب ہی کے واسطہ سے عربی میں آئے۔چونکہ عرب کے یہود و نصاریٰ کی عام زبان عربی تھی ، ان میں بڑے بڑے شاعر اور ادیب تھے اس وجہ سے ان کی دینی اصطلاحیں  عربی ادب میں معروف و مقبول ہو گئیں۔ اس آیت میں یہود کو اسلام دشمنی کے اعتبار سے مشرکین مکہ کا ہم پلہ قرار دیا ہے اور یہ گویا اوپر والی بات '' تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا '' کی تصریح مزید ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ اسلام دشمنی کے معاملے میں ان دونوں گروہوں کی ہم مشربی و ہم آہنگی کو نمایاں کیا ہے اور مقصود اس سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہود کے زعم برتری و تقدس کی تردید ہے کہ دیکھو جن کو اپنی برتری کا یہ دعویٰ ہے وہ کس گڑھے میں جا کے گرے ہیں اور اسلام دشمنی کے جوش میں کن سے یارانہ انہوں نے گانٹھا ہے۔ حامل کتاب ہو کر، مکہ کے بت پرستوں سے یارانہ، وہ بھی اسلام کی دشمنی میں، ایمانی و اخلاقی انحطاط کی آخری حد ہے۔۔۔۔۔ ان کے مقابل میں نصاریٰ کی تعریف فرمائی ہے کہ وہ مسلمانوں سے قریب ہیں۔ یہاں قرائن دلیل ہیں کہ اس سے مراد یہ عام مسیحی نہیں ہیں جو پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کے پیرو، تثلیث و کفارہ وغیرہ کے قائل اور اسلام دشمنی میں تمام اعدائے اسلام کے سرخیل ہیں بلکہ اس سے مراد سیدنا مسیح کے خلیفہ راشد شمعون صفا کے پیرو ہیں جو پال کی تمام بدعات سے بالکل الگ حضرت مسیح کی اصل تعلیم پر قائم رہے اور جن کے باقیات صالحات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد آپ کی دعوت پر اسلام لائے۔ نجاشی وغیرہ اسی باایمان گروہ سے تعلق رکھنے والے تھے۔ یہاں جو قرائن ہمارے اس نظرییے کی تائید میں ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی نسبت فرمایا ہے کہ  الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى (جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقہ کو اس وقت تک نہ صرف یہ کہ اپنے اس نام کی اہمیت و معنویت کا احساس تھا بلکہ ان کو اس پر فخر بھی تھا۔ یہ فرقہ، جیسا کہ نصاریٰ کی تاریخ سے ثابت ہے، صرف شمعون صفا کے پیروؤں کا تھا، پال کے ماننے والوں کی نسبت ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں کہ وہ اپنے کو نصاریٰ کہلانا حقیر سمجھتے تھے چناچہ انہوں نے اس کو بدل کر ' مسیحی ' نام اختیار کرلیا تھا۔ ولیم بلیکی اپنی بائیبل ہسٹری میں لکھتا ہے۔ " بارنباس اور پال انطاکیہ میں ایک سال تک غیر خدا پرستوں کو نصرانی بنانے میں مصروف رہے، معلوم ہوتا ہے اسی سال (44 ء میں) پہلی بار نصرانیت اختیار کرنے والوں کو مسیح (Christian) کا نیا اور شاندار نام دیا گیا " (بائیبل ہسٹری۔ ولیم بلیکی ص 397) ۔ اس عبارت میں " مسیحی کا نیا اور شاندار نام " کے الفاظ نگاہ میں رہیں۔ اس سے صاف واضح ہے کہ پال اور اس کے پیرو ' نصاریٰ ' کے لفظ کو اپنے لیے حقیر خیال کرتے تھے اور موجودہ مسیحیت تمام تر اسی پال کی ایجاد ہے۔ دوسرا یہ کہ اس گروہ کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان میں علماء اور زاہد ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ یہ صفت موجودہ عیسائیوں پر صادق نہیں آتی۔ علماء اور زہاد کے الفاظ یہاں نہایت اچھے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ موجودہ کلیسائی نظام کے پروہتوں کے لیے کسی طرح بھی موزوں نہیں ہیں۔ پھر ان کے باب میں فرمایا ہے کہ ' وہ تکبر نہیں کرتے ' مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ یہ سیدنا مسیح کی اس بات کی طرف اشارہ ہے جو انجیلوں میں ہے کہ ' مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے " موجودہ مسیحی جن کی رعونت کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے اصلی نام کو بھی حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی جگہ انہوں نے اپنے لیے ایک نیا نام پسند کیا ہے وہ اس صفت کے مصداق کس طرح قرار دیے جاسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس گروہ کے متعلق آگے کی آیات میں صاف تصریح ہے کہ یہ سب لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دلی جوش و خروش کے ساتھ ایمان لائے اور قرآن کا انہوں نے اس طرح والہانہ خیر مقدم کیا گویا وہ مدتوں سے اس کے لیے سراپا شوق و انتظار تھے۔ (تدبرِ قرآن)

ــــــ یہاں نصاریٰ سے وہ لوگ مراد ہیں  جوشمعون صفا کے پیرو تھے،پال کی بدعات سے بچے ہوئے تھے اور اپنے کو نصاریٰ کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے،جبکہ پال کے متبعین کی نظروں میں یہ نسبت حقیر تھی۔نصاریٰ نے قرآن مجید کا اس طرح والہانہ خیر مقدم کیا گویا وہ مدتوں سے اس کے لیے سراپا شوق و انتظار تھے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

83۔ یہ تصدیق کرنے والے کون لوگ تھے؟ حدیث و سیر کی کتابیں اس پر متفق ہیں کہ اس سے مراد نجاشی(شاہ حبشہ متوفی سنہ9 ہجری)اور اس کے درباری ہیں، یہ لوگ سچے مسیحی تھے،اور قبل ہجرت نبوی جب آپؐ نے ہجرت ِ مدینہ سے قبل صحابیوں کی ایک جماعت کی ہجرت ملک حبشہ کوکرائی تھی،تو ایک موقع پر حضرت جعفر طیارؓ نے نجاشی کی فرمائش پر سرِ دربار سورۂ مریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں ،اس پر نجاشی اور اہل دربار متاثر ہوکر روپڑے۔(تفسیر ماجدی)

ـــــ گواہی دینے والوں میں لکھ،کہنے کا ایک خاص موقع ہے۔حضرت مسیحؑ نے جب یہود پر اتمام حجت کیا تو ان سے رخصت ہونے سے قبل فرمایا کہ'دیکھو!تمہارا گھر تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتاہے کیونکہ میں تم سے کہتاہوں کہ اب سے مجھے پھر ہر گزنہ دیکھوگے جب تک نہ کہوگے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتاہے'۔آپ کے اس قول میں یہ خبر تھی کہ اب آخری نبی کی آمد تک دوسرا کوئی نبی نہ آئے گا اور آخری نبی کے حق میں گواہی اور ان پر ایمان ہی کے نتیجہ میں اب دنیا و آخرت کی تمام سرفرازیاں حاصل ہوسکیں گی۔نبیؐ کے زمانہ کے نصاریٰ نے اس قدیم عہد کا اقرار کیا جس کے وہ پچھلے  نبیوں کی امانتوں اور ان کی سپرد کردہ ذمہ داریوں کے حامل ہونے کی وجہ سے پابند تھے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

- ۔۔۔چناچہ قیصر روم ،مقوقس مصر اور نجاشی ملک حبشہ نے جو کچھ برتاؤنبی کریمؐ کے پیغام رسالت کے ساتھ کیا وہ اس کا شاہدہے کہ اس وقت نصاریٰ میں قبول حق اور مودۃ مسلمین کی صلاحیت نسبۃً دوسری قوموں سے زائد تھی۔۔۔عیسائیوں کے وفد پر قرآن کی اثرانگیزی:۔انجام کار ہجرت کے کئی سال بعد ایک وفد جو ستر نومسلم عیسائیوں پر مشتمل تھا نبی کریمؐ کی خدمت اقدس میں روانہ ہوا یہ لوگ جب مدینہ پہنچے اور قرآن کریم کے سماع سے لذت اندوز ہوئے تو کلام الٰہی سن کر وقف گریہ وبکا ہوگئے۔آنکھوں سے آنسواور زبان پر"ربنا آمنا" الخ یہ کلمات جاری تھے۔۔۔۔۔(تفسیر عثمانی)

ــــ  ہجرت حبشہ اور نجاشی کا کردار:۔مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر 5ہجری نبوی میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔۔۔اس واقعہ کے کئی سال بعد نجاشی نے ستر نومسلم عیسائیوں پر مشتمل ایک وفد مدینہ میں رسول اللہؐ کی خدمت میں روانہ کیا۔ یہ لوگ جب قرآن سنتے تو ان پر رقت طاری ہوجاتی، وفور جذبات سے آنسوبہنے لگتے اور زبان سے "ربنا آمنا"۔۔۔کہنا شروع کردیتے ۔اس آیت میں انہی لوگوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ (تیسیر القرآن)


بارہواں رکوع

 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ 87 مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
 وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ  88 اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو۔
 لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 89 خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تْم شکر کرو۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 90 اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔
 اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ 91 شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے۔
 وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ  92 اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے۔
 لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠   ۧ ۧ  93 جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے۔

تفسیر آیات

87۔یہاں سے آگے آخر سورہ تک خاتمہ کی آیات ہیں جن میں بعض وضاحتیں سورہ کے ان احکام و مضامین کے بارے میں ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ اس آیت میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختار نہ بن جاؤحلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا ہے اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا ۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کرو گے تو قانونِ الہٰی کے بجائے قانونِ نفس کے پیرو قرار پاؤ گے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں ، ہندو جوگیوں، بودھ  مذہب کے بھکشوؤں اور اشراقی متصوفین کی طرح رہبانیت اور قطع لذات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ رُوحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا، اپنے نفس کو دُنیوی لذّتوں سے محرُوم کرنا، اور دُنیا کے سامانِ زیست سے تعلق توڑنا ، بجائے خود ایک نیکی ہے اور خدا کا تقرب اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔ صحابہ کرام میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کے اندر یہ ذہنیت پائی جاتی تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بعض صحابیوں نے عہد کیا ہے کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے ،راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے ، گوشت اور چکنائی استعمال نہ کریں گے، عورتوں سے واسطہ نہ رکھیں گے۔ ۔۔۔۔حضورؐ کا ارشاد(تفہیم القرآن)

88۔ کلوا۔ کے امر و اجازت کا دائرہ صرف کھانے کی چیزوں تک محدود نہیں، کھانے پینے،پہننے اوڑھنے، سواری،مکان غرض برتنے کی ساری ہی چیزیں اس کے اطلاق میں داخل ہیں۔۔۔ابن عباسؓ صحابی نے فرمایا کہ جو چاہو کھاؤ،جو چاہوپہنو،بس لحاظ صرف اس کا رکھو کہ اسراف اور فخر و نمائش کے حدود تک نہ پہنچ جاؤ۔(تفسیر ماجدی)

- اسلام کا بے نظیر اعتدلال:۔ آغاز سورت میں"ایفائے عہود"کی تاکید کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہواتھا۔ اسی ضمن میں خاص خاص مناسبات سے جن کا ذکر موقع بہ موقع ہم کرچکے ہیں، دوسرے مفید مضامین کا سلسلہ شروع ہوگیا۔"الشئ بالشئ یذکر" بات میں سے بات نکلتی رہی۔تمام استطرادی مضامین کو تمام کرکے اس پارہ کے پہلے رکوع سے پھر اصل موضوع بحث کی طرف عود کیا گیا ہے۔۔۔۔(تفسیر عثمانی)

89۔قسم کی حفاظت کے کئی مفہُوم ہیں: ایک یہ کہ قسم کو صحیح مَصْرف میں استعمال کیا جائے، فضول باتوں اور معصیت کے کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی بات پر آدمی قسم کھائے تو اسے یاد رکھے، ایسا نہ ہو کہ اپنی غفلت کی وجہ سے وہ اُسے بھُول جائے۔ اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے۔ تیسرے یہ کہ جب کسی صحیح معاملہ میں بالارادہ قسم کھائی جائے تو اسے پُورا کیا جائے اور اگر اس کی خلاف ورزی ہو جائے تو اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔ (تفہیم القرآن)

90۔ شراب کی حرمت : اس آیت میں چار چیزیں قطعی طورپر حرام کی گئی ہیں ۔ایک شراب ۔دوسرے قماربازی، تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے یا خدا کے سوا کسی اور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کیلئے مخصوص کیے گئے ہوں۔چوتھے پانسے ۔مؤخر الذکر تینوں چیزوں کی ضروری تشریح پہلے کی جاچکی ہے۔شراب کے متعلق احکام کی تفصیل حسب ذیل ہے:شراب کی حرمت کے سلسلہ میں اس سے پہلے دوحکم آچکے تھے ،جو سورۂ بقرہ آیت219 اور سورۂ نساء آیت43 میں گذرچکے ہیں۔ اب اس آخری حکم کے آنے سے پہلے نبیؐ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے،لہذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کردیں ۔اس کے کچھ مدت بعدیہ نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہے وہ نہ اسے پی سکتے ہیں، نہ بیچ سکتے ہیں،بلکہ وہ اسے ضائع کردیں۔چنانچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہادی گئی۔بعض لوگوں نے پوچھا ہم یہودیوں کو تحفۃً کیوں نہ دے دیں؟آپ نے فرمایا"جس نے یہ چیز حرام کی ہے اس نے تحفۃً دینے سے بھی منع کردیا ہے"۔بعض لوگوں نے پوچھا ہم شراب کو سرکے میں کیوں نہ تبدیل کردیں؟ آپ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ "نہیں،اسے بہادو"۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دواء کے طورپر استعمال کی تو اجازت ہے؟ فرمایا "نہیں وہ دواء نہیں ہے بلکہ بیماری ہے" ایک اور صاحب نے عرض کیا یارسول اللہؐ ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جو نہایت سرد ہے،اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے ۔ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔آپ نے پوچھا جو چیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔فرمایا تو اس سے پرہیز کرو۔انہوں نے عرض کیا مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے۔فرمایا "اگروہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو"۔ابن عمرؓکی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا "لعن اللہ الخمر وشاربھا وساقیھا وبائعھاومبتاعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ"اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والنے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھوکر لے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کیلئے وہ ڈھوکرلے جائی گئی ہو"۔ایک اور حدیث میں ہے کہ نبیؐ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جارہی ہو۔ابتداً آپ نے ان برتنوں تک کے استعمال کو منع فرمادیا تھا جن میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی ۔بعد میں جب شراب کی حرمت کا حکم پوری طرح نافذ ہوگیا تب آپ نے برتنوں پر سے یہ قید اٹھادی۔خمر کا لفظ عرب میں انگوری شراب کیلئے استعمال ہوتاتھا ،اور مجازاً گیہوں، جو ،کشمش ،کھجور اور شہد کی شرابوں کیلئے بھی یہ لفظ بولتے تھے، مگر نبیؐ نے حرمت کے اس حکم کو تمام ان چیزوں پر عام قراردیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں حضورؐ کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ" کل مسکر خمر وکل مسکر حرام"،"ہرنشہ آور چیز خمر ہے اور ہرنشہ آور چیز حرام ہے"کل شراب اسکر فھوحرام"ہروہ مشروب جونشہ پیدا کرے حرام ہے" وانا انھی عن کل مسکر"اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتاہوں"حضرت عمرؓ نے جمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ الخمر ماخامرالعقل"خمر سے مراد ہروہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے"نیزنبی اکرمؐ نے یہ اصول بھی بیان فرمایا کہ "ما سکر کثیرہ فقلیلہ حرام"جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے اور" مااسکر الفرق منہ فملء الکف  منہ حرام"جس چیز کاایک پورا قرابہ نشہ پیدا کرتاہواس کا ایک چلو پینا بھی حرام ہے"۔۔۔۔۔ نبیؐ کے زمانہ میں شراب پینے والے کیلئے کوئی خاص سزا مقرر نہ تھی۔جو شخص اس جرم میں گرفتار ہوکر آتاتھا،اسے جوتے ،لات ،مکے،بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجور کے سنٹے مارے جاتے تھے۔زیادہ سے زیادہ 40 ضربیں آپ کے زمانہ میں اس جرم پر لگائی گئی ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں 40 کوڑ ے مارے جاتے تھے۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی ابتداً 40 کوڑوں ہی کی سزا رہی ۔پھر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اس جرم سے باز نہیں آتے تو انہوں نے صحابہ کرام کے مشورے سے 80 کوڑے سزا مقرر کی۔اسی سزا کو امام مالکؒ اور امام ابوحنیفہؒ،اور ایک روایت کے بموجب امام شافعیؒ بھی ، شراب کی حد قراردیتے ہیں۔مگرامام احمد ابن حنبلؒ اور ایک دوسری روایت کے مطابق امام شافعیؒ 40 کوڑوں کے قائل ہیں، اور حضرت علیؓ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے۔شریعت کی روسے یہ بات حکومتِ اسلامی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ شراب کی بندش کےاس حکم کو بزور وقوت نافذ کرے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بنی ثقیف کے ایک شخص رویشد نامی کی دوکان اس بناپر جلوادی گئی کہ وہ خفیہ طورپر شراب بیچتاتھا۔ایک دوسرے موقع پر ایک پورا گاؤں حضرت عمرؓ کے حکم سے اس قصور پر جلاڈالا گیا کہ وہاں خفیہ طریقہ سے شراب کی کشید اور فروخت کا کاروبار ہورہاتھا۔(تفہیم القرآن)

- شراب کی لعنت:عرب میں شراب کا عام رواج تھا۔ گنتی کے چند آدمیوں کے علاوہ سب اس کے متوالے تھے۔ شراب جوان گنت جسمانی اور روحانی بیماریوں کا سبب ،اخلاقی اور معاشی خرابیوں کی جڑ اور فتنہ و فساد کی علت ہے اسلام کے پاکیزہ نظام حیات میں اس کی کیوں کر گنجائش ہوسکتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اسے قطعی حرام کردیا لیکن حرمت کا حکم آہستہ آہستہ اور تدریجاً نازل ہواتاکہ لوگوں کو اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے چنانچہ سورۂ بقرہ میں اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیاکہ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘ ۔اس کے کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی  لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى۔کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھا کرو۔یہ آیت اس آخری حکم کا پیش خیمہ تھی۔ اگرچہ شراب کی حرمت کا صراحۃً ان میں ذکر نہ تھا لیکن کئی سلیم طبیعتوں نے اس وقت ہی شراب چھوڑدی تھی۔حضرت فاروق اعظمؓ  بارگاہ الٰہی میں اس کی قطعی حرمت کیلئے التجائیں کیا کرتے۔اللھم بین لنا بیانا شافیاً ۔اس اثناء میں چند ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جس سے شراب پینے کے مفاسد اور نقصانات کا صحابہ کرامؓ کو زیادہ سے زیادہ احساس ہونے لگا ۔جب ایمان پختہ ہوگئے، تعلیمات اسلامیہ قلب و روح کی گہرائیوں میں بس گئیں ،اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی عادت فطرت بن گئی تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔حضور رحمتِ عالمﷺ نے ایک خادم کو حکم دیا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں پھر کر بلند آواز سے ان آیات کا اعلان کرے جب وہ منادی کرنے والا اعلان کرنے نکلا تو کئی جگہ شراب کی محفلیں آراستہ تھیں ۔میخوار جمع تھے پیمانے گردش میں تھے جو نہی کان میں فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ کی آواز پہنچی ہاتھوں پر رکھے ہوئے پیالے زمین پر پٹخ دئیے گئے  ۔ ہونٹوں سے لگے ہوئے جام خود بخود الگ ہوگئے۔جام و سبو توڑدئیے گئے ۔مشکوں اور مٹکوں میں بھری ہوئی مئے ناب انڈیل دی گئی ۔وہ چیز جو انہیں ازحد عزیز تھی اب گندے پانی کی طرح گلیوں میں بہہ رہی تھی ۔حیرت یہ ہے کہ اس کے بعد کسی صحابی نے شراب پینے کی خواہش کا اظہار تک نہ کیا ۔قرآن کی اثر آفرینی ،حضورؐ کے فیض تربیت ،صحابہ کرام کی کامل ترین اطاعت و فرمانبرداری اور اسلام کی انقلاب آفرین قوت کا یہ وہ عدیم النظیر مظاہرہ ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں۔شراب کے زہریلے اثرات دیکھ کر یورپ و امریکہ کے ڈاکٹر اور دانشور لرزہ براندام ہیں ۔اس مصیبت سے اپنی قوم کو چھٹکارا دلانے کیلئے بڑی بڑی مخلصانہ اور حکیمانہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ حکومت امریکہ نے پورے چودہ سال تک شراب کےخلاف زور و شور سے جہاد جاری رکھا ۔اور اس جہاد میں نشرواشاعت اور پروپیگنڈے کے جدید ترین اور قوی ترین وسائل اختیار کیے ۔اخبارات ،رسالے، لیکچرز،تصاویر اور فلمیں سبھی شراب سے نفرت دلانے کیلئے برسرپیکار رہے۔ اس عظیم مہم پر حکومت نے تقریباً چھ کروڑ ڈالر خرچ کیے ۔پچیس کروڑ پونڈ کا خسارہ برداشت کیا۔تین سو افراد کو تختہ دار پر لٹکایا ۔پانچ لاکھ  سے زائد لوگوں کو قید و بند کی سزائیں دیں۔ بھاری جرمانے کیے ۔بڑی بڑی جائدادیں ضبط کی گئیں لیکن یہ ساری چیزیں بیکار ثابت ہوئیں۔ آخر کار حکومت کو اپنی شکست فاش کا اعتراف کرنا پڑا اور اس نے شراب نوشی جس کے خلاف عرصہ دراز تک وہ معرکہ آرارہی تھی کو 1933 میں قانوناً جائز قرار دے دیا"(ماخوذ ماذا خسر العالم ) (ضیاء القرآن)

- مغربی ملک: خمر ،میسر، انصاب ،ازلامیہاں چار چیزوں کا ذکر کیا جارہاہے۔خمر ،میسر، انصاب اور ازلام ۔اگر چہ ان کے متعلق توضیحی نوٹ گزرچکے ہیں لیکن مختصراً یہاں بھی کچھ عرض کرنا مناسب ہے۔خمر:کل شراب مسکر وھذہ التسمیۃ لغویۃ وشرعیۃ ہرمدہوش کردینے والی شراب کو خمر کہتے ہیں۔عصیر عنب سے اس کی تخصیص تعسف ہے۔کیونکہ مدینہ طیبہ میں جوشراب استعمال ہوتی تھی وہ انگور ،گندم،جو ،کھجور اور شہد سے کشید ہواکرتی تھی۔اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو کسی صحابی نے بھی یہ نہیں سمجھا کہ صرف انگوری شراب ہی حرام ہے حالانکہ وہ اہل زبان تھے۔میسر :مطلقاً جوا کوکہتے ہیں خواہ اس کی صورت کیسی ہو۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ الشطرنج من المیسر کہ شطرنج بھی جوا ہے ۔انصاب: ان پتھروں کو انصاب کہاجاتاتھاجو حرم میں کعبہ کے ارد گرد نصب تھے اور کفار ان کیلئے جانور ذبح کرتے اور ان کا خون ان پتھروں پر مل دیتے ۔ازلام : وہ تیر جن کے ذریعہ فالیں نکالی جاتی تھیں نیز وہ تیر جن کے ساتھ جوا کھیلا جاتاتھا۔ اس آیت میں مقصود تو شراب اور جوا کی حرمت قطعی بیان کرناہے لیکن انصاب اور ازلام کوان کےساتھ ذکر کرکے ان کی قباحت کو اور زیادہ عیاں کردیا۔ چناچہ حضرت عمرفاروقؓ نے فرمایا۔اے شراب! تیرا ذکر تو جوئے اور انصاب و ازلام کے ساتھ ملاکر کیا گیا ہے بعداً لک سحقا! تیراستیاناس ہو۔تیراخانہ خراب ہو۔(ضیاء القرآن)

- حرمت شراب میں تدریج:۔ سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی یااللہ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان واضح فرما تو سورۂ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی" یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ"چنانچہ سیدنا عمرؓ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔پھر سیدنا عمرؓ نے دعاکی :یا اللہ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان نازل فرما"تو سورۂ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى)چناچہ سیدنا عمرؓ کو بلاکر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ آپ نے پھر دعاکی یا اللہ ہمارے لیے شراب کے بارے میں شافی بیان واضح فرما۔تو سورۂ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی" اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ ۔۔۔ مُّنْتَهُوْنَ "تک، چنانچہ سیدنا عمرؓ کو بلاکر ان پر یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا"ہم باز آئے۔ہم باز آئے۔"(ترمذی۔ابواب التفسیر۔بخاری کتاب الاشربۃ باب نزول تحریم الخمر)۔۔۔انگور، کھجور، شہد،گیہوں اور جوکے مشروب سے عقل میں فتور آئےوہ خمر(شراب)ہے۔"(بخاری۔کتاب التفسیر)۔۔۔شراب اور جوئے سے متعلق اگرچہ اس آیت میں تحریم یا حرام ہونے کا لفظ صراحت سے مذکور نہیں ہوا تاہم انداز بیان سے سب صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ یہ چیزیں حرام ہوگئی ہیں۔ (1)اس انداز بیان میں"انما"حصر کا لفظ لاکر شراب، جوئے کو الانصاب اور ازلام کے ساتھ ملا یاگیا ہےجن کی حرمت کی کئی مقامات پر وضاحت ہے(2)ان چیزوں کو ناپاک کہاگیا(3)انہیں شیطانی عمل قراردیا گیا(4)ان سے اجتناب کا حکم دیا گیا(5)انہیں باہمی عداوت کا پیش خیمہ قرار دیا گیا(6)اور اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزیں قرار دیا گیا اور آخرمیں(7)طنزیہ اور سوالیہ انداز میں پوچھا گیا کہ آیا ان تمام تر قباحتوں کے باوجود بھی تم باز آتے ہو یا نہیں؟ جس کے جواب میں سیدنا عمرؓ نے فرمایا تھا کہ "ہم باز آئے"۔۔۔اور جو لوگ اسے تعزیر نہیں بلکہ حد سجھتے ہیں اور اکثریت کا یہی مذہب ہے ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے سناہے کہ اللہ کی حد وں کے سوا کسی کو بھی دس کوڑوں سے زیادہ سزانہ دی جائے۔(مسلم ، کتاب الحدود۔باب قدر اسواط التعزیر)اور چونکہ دور نبویؐ میں بھی شرابی کی سزا چالیس کوڑے مارنا ثابت ہے لہذا یہ حد ہے تعزیر نہیں۔۔۔مثلاً لاٹری،معمہ بازی، ریفل ٹکٹ ،انعامی بانڈ،ریس کورس اور بیمہ کی بعض شکلیں ۔نیز چوسر اور شطرنج وغیرہ بھی قمار ہی کی قسمیں ہیں۔(تیسیر القرآن)

-محض رجس ہی نہیں ،بلکہ من عمل الشیطٰن کی صراحت کے بعد عجیب طفلانہ سوال حال میں بعض حلقوں کی طرف سے پیش ہواہے کہ قرآن میں شراب کی "حرمت"مذکور نہیں۔۔۔اور 'فلاح' ،دینی و دنیوی،مادی و روحانی،جسمانی و دماغی،انفرادی و اجتماعی ہرقسم کے سود وبہبود پر شامل ہے، مفسر زمخشری نے لکھا ہے کہ حرمتِ خمرو میسر کے متعدد طریقے قرآن نے اس آیت میں جمع کردئیے۔(1)آیت کی ابتداء کلمہ حصر انما سے کی ،یعنی ان چیزوں کی بس یہی کل حقیقت ہے،اس کے سواکچھ نہیں۔(2)ان دونوں چیزوں کا ذکر انصاب و ازلام جیسی مسلم گندی چیزوں کے ساتھ کیا۔(3)انہیں رجس قراردیا۔(4)انہیں عملِ شیطان ٹھہرایا۔(5)صاف صاف ان سے اجتناب کا حکم دیا۔(6)ان سے احتراز کو موجبِ فلاح بتلایا۔(7)ان کی مضرتوں کا ذکر کیا۔(تفسیر ماجدی)

- شراب کی حرمت :۔ اس آیت سے پہلے بھی بعض آیات خمر(شراب)کے بارہ میں نازل ہوچکی تھیں ۔اول یہ آیت نازل ہوئی: (بقرہ رکوع27)۔۔۔اس لئے حضرت عمرؓ نے سن کر کہا "اللھم بین لنا بیانا شافیا"۔۔۔دوسری آیت نازل ہوئی: (نساء رکوع6)۔۔۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس دوسری آیت کو سن کر پھر وہی لفظ کہے ۔۔۔آخر کار "مائدہ"کی یہ آیتیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں " یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا "سے " فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ "تک نازل کی گئیں۔۔۔سنتے ہی چلاّاٹھے"انتھینا انتھینا(تفسیر عثمانی)

91۔ شراب اور جواباہمی عداوت اور بغض کا سبب بنتی ہے ۔(تیسیر القرآن)

- شیطانی کام:۔ شراب پی کر جب عقل جاتی رہتی ہے تو بعض اوقات شرابی پاگل ہوکر آپس میں لڑپڑتے ہیں حتیٰ کہ نشہ اُترنے کے بعد بھی بعض دفعہ لڑائی کا اثر باقی رہتاہے اور باہمی عداوتیں قائم ہوجاتی ہیں۔یہ ہی حال بلکہ کچھ بڑھ کر جوئے کا ہے اس میں ہارجیت پر سخت جھگڑے اور فساد برپا ہوتے ہیں۔جس سے شیطان کو اودھم مچانے کا خوب موقع ملتاہے۔یہ تو ظاہری خرابی ہوئی اور باطنی نقصان یہ ہے کہ ان چیزوں میں مشغول ہوکر انسان خدا کی یاد اور عبادت الٰہی سے بالکل غافل ہوجاتاہے اس کی دلیل مشاہدہ اور تجربہ ہے۔شطرنج کھیلنے والوں ہی کو دیکھ لو۔نماز تو کیا ،کھانے پینے اور گھربار کی بھی خبر نہیں رہتی ۔جب یہ چیز اس قدر ظاہری و باطنی نقصانات پر مشتمل ہے تو کیا ایک مسلمان اتنا سن کر بھی باز نہ آئیگا۔(تفسیر عثمانی)

93۔سیدنا انسؓ فرماتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی میں ابوطلحہ کے گھر میں لوگوں کو(ساقی بن کر)شراب پلا رہا تھا۔جب شراب کی حرمت کی منادی ہوئی تو ابو طلحہ نے کہا کہ جاکر سب شراب بہادو۔میں نے بہادی جو مدینہ کی گلیوں میں بہتی چلی گئی۔پھر بعض لوگ کہنے لگے کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ شہید ہوگئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔(بخاری۔کتاب التفسیر)۔۔۔ایمان کے مختلف درجے:۔ اس آیت میں تین بار ایمان اور تقویٰ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کیونکہ ایمان اور تقویٰ کے مختلف درجات ہیں۔ایک شخص جب ایمان لاتاہے تو اس کا تقویٰ کم تردرجہ کا ہوتاہے پھر جب صالح اعمال کرتاہے تو اس کا ایمان بھی مضبوط ہوتاجاتاہےاور تقویٰ میں بھی اضافہ ہوتارہتاہے بالفاظ دیگر ایمان اور تقویٰ معلوم کرنے کا معیار صالح اعمال کی کمی بیشی ہوتاہےاور صالح اعمال کی بجاآوری سے ایمان اور تقویٰ میں اضافہ ہوتاہے گویا یہ دونوں ایک دوسرے کے ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں ایمان اور تقویٰ کا بلندتردرجہ احسان ہے۔(تیسیرالقرآن)

- جصاص رازی نے کہا ہے کہ تقویٰ کا ذکر آیت میں تین مرتبہ آیا ہے،اور ہرمرتبہ ایک نئی مراد ہے،پہلے تقویٰ سے اشارہ ماضی کی طرف ہے اور دوسرے سے مستقبل کی طرف، اور تیسرے سے مراد بندوں پر ظلم و زیادتی سے بچنا ہے۔(تفسیر ماجدی)

- ۔۔۔ذخیرۂ احادیث صحیحۃ میں دومواقع ایسے ہیں جہاں صحابہؓ نے اس قسم کا سوال کیا ہے۔ایک موقع تو یہی "تحریم خمر"کے متعلق ہے اور دوسرا تحویل قبلہ کے وقت سوال کیا گیا تھا کہ رسول اللہؐ جو لوگ حکم تحویل سے پہلے وفات پاگئے۔۔۔۔(تفسیر عثمانی)


تیرہواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 94 مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ 95 مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے۔
 اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 96 تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے۔ اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو۔
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ 97 خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے۔
 اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ  98 جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے۔
 مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ  99 پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔
 قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠   ۧ ۧ  100 کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو۔

تفسیر آیات

94۔۔۔یہ آزمائش اس لحاظ سے تھی کہ حدیبیہ کے سفر میں راستہ میں شکار کی بڑی افراط تھی اور مسلمانوں کی خوراک کیلئے اس کی ضرورت بھی تھی حتیٰ کہ بعض جانور اور پرندے صحابہ کے خیموں اور ڈیروں میں گھس آتے تھے ۔تاہم مسلمان اس آزمائش میں پورے اترے جبکہ بنی اسرائیل کے سمندر کے کنارے بسنے والے ماہی گیر ایسے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہوئے اور مکرو فریب سے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی جس کی پاداش میں وہ بندر بنادئیے گئے تھے۔(تیسیر القرآن)

- ۔۔۔"اصحاب سبت"کا قصّہ سورۂ بقرہ میں گذرچکا،کہ ان کو حق تعالیٰ نے خاص شنبہ کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت فرمائی تھی۔مگر انہوں نے مکاری اور حیلہ بازی سے اس حکم کی مخالفت کی  اور حد سے تجاوز کرگئے۔خدانے ان پر نہایت رسواکن عذاب ناز ل فرمایا اسی طرح حق تعالیٰ نے امت ِ محمدیہ کا تھوڑا ساامتحان اس مسئلہ میں لیا کہ حالت احرام میں شکار نہ کریں۔حدیبیہ کے موقع پر جب یہ حکم بھیجا گیا تو شکار اس قدر کثیر اور قریب تھا کہ ہاتھوں اور نیزوں سے مارسکتے تھے۔مگر اصحاب رسول اللہؐ نے ثابت کردکھایا کہ خدا کے امتحان میں ان کے برابردنیا کی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوسکی۔(تفسیر عثمانی)

ـــــ حالت احرام میں شکار نہ کرنے کا حکم آزمائش کے طورپر ہے۔یہ آزمائش بنی اسرائیل کے اس امتحان سے مشابہ ہے جو ان کو سبت کے معاملے میں پیش آئی۔ اس طرح کے ابتلائی احکام کا اصل مقصود خدا کے ساتھ بندوں کی وفاداری کو جانچنا ہوتاہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔تم احرام باندھے ہوئے ہوگے اور تمہیں نظر آئے گا کہ ہرنوں یا نیل گائے کی پوری ڈار کی ڈار ہے جو بالکل تمہارے نیزوں کی زد میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آزمائش کے ان مواقع پر اپنے عزم و ایمان کی حفاظت کرنا، اس طرح پھسل نہ جانا جس طرح بنی اسرائیل سبت کے معاملے میں پھسل گئے۔ اس تنبیہ کی اہمیت : اس تنبیہ کی اہمیت اچھی طرح سمجھنے کے لیے چند باتیں ذہن میں مستحضر کرلیجیے۔ ایک تو یہ کہ شکار بجائے خود بڑی رغبت کی چیز ہے بالخصوص اہل عرب کے لیے جن کی تفریح اور معاش دونوں چیزوں کا انحصار بڑی حد تک اس زمانے میں شکار ہی پر تھا۔ دوسری یہ کہ جب کسی مرغوب چیز پر کوئی پابندی عائد ہوجائے تو اس کی رغبت اور زیادہ قوی ہوجاتی ہے۔ عربی میں مثل ہے الانسان حریص علی ما منع انسان جس چیز سے روک دیا جائے اس کا بڑا حریص ہوجایا کرتا ہے۔ اس حرص کا نفسیاتی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جس طرح ساون کے اندھے کو ہر جگہ ہرا ہرا نظر آتا ہے، اسی طرح اس کو بھی ہر جگہ وہی چیز نظر آتی ہے جس سے وہ اپنے کو محروم پاتا ہے۔ تیسری یہ کہ یہ مناہی جب اصلاً امتحان کے لیے ہوئی ہے تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پیدا فرمائے کہ اس امتحان کا مقصد پورا ہو۔(تدبرِ قرآن)

95۔ شکار کرنے کا کفارہ: ۔۔۔۔۔البتہ پانچ جانور ایسے ہیں حالت احرام میں بھی اور حرم میں بھی مارا جاسکتا ہے۔چنانچہ عبداللہ بن عمرؓ سیدہ حفصہؓ ام المؤمنین سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مار ڈالنے میں کوئی قباحت نہیں۔کوا۔چیل۔چوہا ۔بچھو اور کاٹنے والا کتا۔"(بخاری ۔ابواب العمرۃ۔باب مایقتل المحرم من الدواب)۔(تیسیر القرآن)

97۔ کعبہ کا وجود لوگوں کے قیام کا ذریعہ کیسے ہے؟ الناس سے مراد اس دور کے اور اس سے پہلے اور پچھلے قیامت تک کے سب لوگ مراد لیے جائیں۔اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کعبہ کا وجود کل عالم کے قیام اور بقا کا باعث ہے اور دنیا کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک خانہ کعبہ اور اس کا احترام کرنے والی مخلوق موجود ہے۔جب اللہ کو یہ منظور ہوگاکہ یہ کارخانہ عالم ختم کردیا جائے تو اس وقت بیت اللہ کو اٹھالیا جائے گاجیساکہ سب سے پہلے اس زمین پر یہ مکان بنایا گیا تھا امام بخاری نے اس معنیٰ کو ترجیح دی ہے اور اسی آیت کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں۔سیدنا ابوہریرۃؓ  کہتے  ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ کہ(قیامت کے قریب)ایک چھوٹی پنڈلیوں والا (حقیر ) حبشی کعبہ کو ویران کرے گا(بخاری ۔کتاب المناسک ۔باب قول اللہ تعالیٰ جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاماً للناس۔۔۔)اس حدیث سے ضمناً دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کوئی مضبوط سے مضبوط اور طاقتور دشمن کعبہ کو منہدم کرنے کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکے گا۔اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح اصحاب الفیل(ابرہہ)کو ذلیل اور ناکام بنادیا تھا ایسے ہی  ہراس شخص کو یاقوم کو یاحکومت کو ہلاک کردے گاجوکعبہ کی تخریب کی مذموم حرکت کرے گی۔الناس سے مراد صرف عرب کے لوگ لیے جائیں۔جو حرمت والے مہینوں میں بڑی آزادی سے سفر کرتے تھے بالخصوص جب وہ قربانی کے پٹہ والے جانور بغرض قربانی ساتھ لیے جارہے ہوں۔کیونکہ سب قبائل عرب ایسے جانوروں کا احترام کرتے تھے اور یہ سب کچھ کعبہ کےتقدس کی بناپرہوتاتھا۔حج و عمرہ کرنے والے اور تجارتی قافلے تہائی سال نہایت اطمینان سے سفرکرتے۔اس طرح کعبہ پورے ملک کی تمدنی اور معاشی زندگی کا سہارا بناہوا تھا۔الناس سے مراد مکہ اور اس کے اردگردکے لوگ لیے جائیں ۔اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ بے آب و گیاہ وادی میں کعبہ کا وجود مکہ اور آس پاس کے تمام لوگوں کی معاش کا ذریعہ ہے۔ اقصائے عالم سے حج و عمرہ کیلئے آنے والے لوگوں کو قیام طعام اور نقل و حرکت کی خدمات مہیا کرنے کے عوض ان لوگوں کو اتنی آمدنی حاصل ہوجاتی ہے جس سے وہ سال بھر گزارہ کرسکیں بلکہ اس سے بہت زیادہ بھی۔نیز انہیں دوسرے بھی بہت سے معاشرتی اور سیاسی فوائد حاصل ہورہے ہیں۔(تیسیر القرآن)

- تمام شعائر کے احترام کی تاکید۔ذلک لتعلموا میں ذلک کا اشارہ مذکورہ بالا شعائر کی طرف اور "یہ اس لئے ہے کہ"۔خدا کا علم ماضی ،حال ،حاضر ،مستقبل ،ظاہر ،باطن ،غائب ،موجود، مضمر سب پر محیط ہے اور انسان کا خدا کے متعلق یہی عقیدہ ہے جو اس کے اندر خشیت بالغیب پیدا کرتاہے۔-اعلمو۔۔۔ رحیم: یہ تنبیہ اور بشارت دونوں ساتھ ساتھ مطلب یہ کہ جو لوگ خدا سے بے خوف ہو کر شعائر کی بے حرمتی کریں گے اللہ ان کو سخت سزادے گا اور جولوگ غیب میں رہتے ،اس سے ڈرتے رہیں گے اور اس کے شعائر کا احترام کماحقہ کریں گے ان کے لئے وہ بخشنے ولا مہربان ہے۔(تدبر قرآن)

100۔خبائث کی کثرت: اس کے بعد وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ    کہہ کر اس راہ کے سب سے بڑے فتنہ سےآگاہ فرمادیا۔وہ یہ کہ بہت سے نادانوں کیلئے کسی برائی کی کثرت نہ صرف اس کی تقلید کیلئے محرک بلکہ اس کے جواز و استحسان کی ایک دلیل بن جاتی ہے۔جو فتنہ عام ہوجاتاہے اور جو بدی فیشن میں داخل ہوجاتی ہے وہ اپنے دروازے بھی اس کیلئے چوپٹ کھول دیتے ہیں۔اول تو ان کا ضمیر اس سے کوئی انقباض محسوس ہی نہیں کرتا اور اگر شروع شروع میں کچھ محسوس کرتابھی ہے تو وہ اس کو اس طفل تسلی سے مطمئن کرلیتے ہیں کہ بھلا اس زمانے میں کوئی اپنے آپ کو اس چیز سے کس طرح الگ رکھ سکتا ہے؟ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دوسروں کو حمام میں ننگا دیکھ کر وہ خود بھی ننگے ہوجاتے ہیں۔اس طرح آہستہ آہستہ پورا معاشرہ ننگوں کا معاشرہ بن جاتاہے اور پھرحالت یہ ہوجاتی ہے کہ شریف اور مہذب وہ نہیں کہلاتاجو کپڑے پہن کر نکلتاہے بلکہ وہ کہلاتے ہیں جو اپنی عریانی کی نمائش کرتے یا کرتی ہیں۔ اگر ان سے ان کے اس رویہ کے جواز کی دلیل پوچھیے تو وہ اس کے حق میں جو سخن سازی بھی کریں اس کی تہہ میں صرف یہ چیز نکلے گی کہ کیا کیا جائے، یہی زمانہ کا چلن اور یہی وقت کا فتویٰ ہے یعنی اکثریت کا عمل ان کیلئے دلیل راہ بن جاتاہے اور دانش  فروشی کی تمام لن ترانیوں کے ساتھ جس ڈگر پر سارا گلہ چل رہاہوتاہے وہ بھی اس پر چل پڑتے ہیں ۔قرآن کے الفاظ سے یہاں یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اگرچہ کسی برائی کا غلبہ اور خبیث کی کثرت اپنے اندر کشش تو رکھتی ہے لیکن اس کشش سے مغلوب ہوکر جو اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیتے ہیں وہ سب سفہا اور حمقا میں داخل ہیں ،اولوالالباب اور اہل عقل وہ ہیں جو اس وبائے عام میں بھی اس کے اثرات سے محفوظ اور تقویٰ کی راہ پر گامزن رہتے ہیں یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اس لیے کہ خدا کے ہاں نہ خبیث و طیب دونوں یکساں ہونگے اور نہ خبیث اس لیے طیب بن جائے گا کہ اس کی مقدار بہت زیادہ ہے۔(تدبر قرآن)


چودھواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ 101 مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔
 قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ 102 اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے۔
 مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ  103 خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔
 وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ 104 اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ  105 اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ  106 مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔
 فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ  107 پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔
ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠   ۧ ۧ  108 اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر آیات

101۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ بیٹھے کہ ” میرا اصلی باپ کون ہے ؟ “ اسی طرح بعض لوگ احکام شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے، اور خواہ مخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعین کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معین رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ” کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر خاموش ہوگئے۔ تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ہاں نکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کرسکو گے اور نافرمانی کرنے لگو گے “۔ ایسے ہی لایعنی اور غیر ضروری سوالات سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ،  یعنی مسلمان ہونے کی ایک خوبی یہ ہے کہ آدمی فضول باتوں کو چھوڑ دیتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے مسلمان جو بالکل فضول چیزوں کی تحقیق میں لگے رہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا کیا نام تھا، اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا طول و عرض کیا تھا جن کا کوئی اثر انسان کے عمل پر نہیں، ایسے سوالات کرنا مذموم ہے، خصوصاً جبکہ یہ بھی معلوم ہو کہ ایسے سوالات کرنے والے حضرات اکثر ضروری اور اہم مسائل دین سے بیخبر ہوتے ہیں۔ (معارف القرآن)

۔ جس طرح ہمارے ملک میں گائے، بیل اور بکرے خدا کے نام پر یا کسی بت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انہیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے، اسی طرح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو پن کرکے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔ بحیرہ : اس اونٹنی کو کہتے تھے جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا، نہ اسے ذبح کیا جاتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا۔ اسے حق تھا کہ جس کھیت اور جس چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے۔ سائبہ : اس اونٹ یا اونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی منت کے پورا ہونے یا کسی بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرے سے بچ جانے پر بطور شکرانہ کے پن کردیا گیا ہو۔ نیز جس اونٹنی نے دس مرتبہ بچے دیے ہوں اور ہر بار مادہ ہی جنی ہو اسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ وصیلہ : اگر بکری کا پہلا بچہ نر ہوتا تو وہ خداؤں کے نام پر ذبح کردیا جاتا، اور اگر وہ پہلی بار مادہ جنتی تو اسے اپنے لیے رکھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اگر نر اور مادہ ایک ساتھ پیدا ہوتے تو نر کو ذبح کرنے کے بجائے یونہی خداؤں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس کا نام وصیلہ تھا۔ حام : اگر کسی اونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہوجاتا تو اس بوڑھے اونٹ کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نیز اگر کسی اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوجاتے تو اسے بھی آزادی مل جاتی۔(تفہیم القرآن)

103۔بحیرہ ،سائبہ،وصیلہ ،حام کی رسوم:۔  سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرۃؓ نے کہا کہ آپؐ نے فرمایا "میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھرتاہے۔سانڈکی رسم سب سے پہلے اسی نے نکالی تھی۔"(بخاری۔کتاب التفسیر)جس عمروبن خزاعی کا نام اس حدیث میں آیا ہے ایک دوسری روایت میں اس کا نام عمر بن لحی خزاعی بھی مذکورہے۔یہ شخص آپؐ کی بعثت سے تقریباً تین سوسال پہلے مکہ کا فرمانراو بن گیا تھا۔اس نے دین ابراہیمی میں بہت سی خرافات شامل کردیں۔بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال کردیا۔مکہ مکرمہ میں بت پرستی کوبھی اسی نے رواج دیاتھا۔اور ہوتایہ ہے کہ امراء و سلاطین یا بڑے لوگ  بد رسمیں ایجاد کرتے ہیں اور ان کے زیر لوگ انہیں قبول وپسند کرنے لگتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہی بد رسوم دین کا حصہ سمجھی جانے لگتی ہیں۔مزید ستم ظریفی یہ تھی کہ ایسی مشرکانہ رسوم کی ایجاد تو ان کے بڑے بزرگ کرتے تھے مگر ان کے پچھلے اسے اللہ سے منسوب کردیتے کہ اللہ نے ایسا حکم دیا ہے اور جہلاء جن کی ہر معاشرہ میں عموماً اکثریت ہوتی ہے ان کے اس افتراء کو تسلیم کرلیتے تھے اس طرح ایسی رسوم رواج پاجاتی تھیں۔اسی بات کی تردید میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔(تیسیر القرآن)

ــــ (اور ہمیں کسی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں)تقلیدِ جامد جاہلوں کا سہارا ہرملک اور ہر دور میں رہاہے ،کسی صاحب علم کی تقلید اگر اس اعتماد پر کی جائے کہ وہ احکامِ شریعت کا ماہر ہے تو یہ ممنوع نہیں بلکہ عین مطلوب ہے، لیکن آنکھ بند کرکے اپنے اسلاف کی راہ پر اس لئے چلتے رہنا کہ وہ اسلاف تھے، یہ اندھی تقلید محض معصیت ہی نہیں بلکہ بعض اوقات شرک تک پہنچادیتی ہے اور اسی کا نام رسم پرستی ہے۔آج ہندوستان کی بڑی آبادی کے پاس نہ کوئی "کتاب"ہے،نہ کسی رسول کی تعلیم محفوظ ،بس صرف رسوم کا ایک مجموعہ ہے، جو سیکڑوں ہزاروں برس ہوئے ہاتھ آگیا تھا،اور اسی طرح اندھادھند اس کی پوجا ہوتی چلی آرہی ہے۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت میں ابطال ہے جاہل صوفیہ کے اس طریقہ کا کہ جب ان کے سامنے شریعت پیش کی جاتی ہے تو اس کے بجائے وہ اپنے مشائخ کے معمولات سے تمسک کرنا کافی سمجھتے ہیں۔(تفسیر ماجدی/تفسیر عثمانی)

۔ خلاصہ یہ ہوا کہ جس شخص کو مقتداء بناؤ تو پہلے یہ دیکھو کہ جس مقصد کے لئے اس کو مقتداء بنایا ہے وہ اس مقصد اور اس کے طریق سے پوری طرح واقف بھی ہے یا نہیں، پھر یہ دیکھو کہ وہ اس کی راہ پر چل بھی رہا ہے ؟ اور اس کا عمل اپنے علم کے مطابق ہے یا نہیں ؟ غرض کسی کو مقتداء بنانے کے لئے علم صحیح اور عمل مستقیم کے معیار سے جانچنا ضروری ہے، محض باپ دادا ہونا یا بہت سے لوگوں کا لیڈر ہونا، یا صاحب مال و دولت ہونا یا صاحب حکومت و سلطنت ہونا ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو معیار اقتداء سمجھا جائے۔ (معارف القرآن)

105۔یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہروقت یہ دیکھتاہے کہ فلاں کیا کررہاہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا برائی ہے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کررہاہے ۔اسے فکر اپنے خیالات کی اپنے اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں۔ اگر آدمی خود اللہ تعالیٰ کی اطاعت کررہاہے ،خدا اور بندوں کے جوحقوق اس پرعائد ہوتے ہیں انہیں اداکررہاہے اور راست روی و راست بازی کے مقتضیات پورے کررہاہے ،جن میں لازماً امر بالمعروف ونہی عن المنکر بھی شامل ہے، یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس کیلئے نقصان دہ نہیں ہوسکتی۔اس آیت کا یہ منشاء ہرگزنہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر  کرے،دوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔حضرت ابوبکرؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:"لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہواور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا حال یہ ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں ،ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ،توبعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔خدا کی قسم تم کو لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کردے گا جوتم میں سب سے بدتر ہونگے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں گے، پھرتمہارے نیک لوگ خداسے دعائیں مانگیں گے مگروہ قبول نہ ہوں گی۔(تفہیم القرآن)

ـ جب تم سیدھی راہ (صراط مستقیم) پر چل رہے ہو تو دوسروں کی گمراہی تمہارے لئے مضر نہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص امر بالمعروف کے فریضہ کو ترک کردے  وہ  سیدھی راہ پر نہیں چل رہا۔(معارف القرآن)

107ـ آیات وصیت کی شانِ نزول:۔ یعنی اگر قرائن و آثار سے اوصیاء کی قسم کا جھوٹ ہونا معلوم ہو اور وہ بذریعہ شہادت شرعی اپنی سچائی ثابت نہ کرسکیں تو میت کے وارثوں کو قسم دی جائے گی کہ ان کو اوصیاء کے دعوئے کی واقعیت کا کوئی علم نہیں اور یہ کہ ان کی گواہی و اوصیاء کی گواہی سے زیادہ احق بالقبول ہے۔ان آیات کی شان نزول یہ ہے کہ ایک شخص بدیل نامی بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا۔ شام پہنچ کر بدیل بیمار پڑگیا۔اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کراسباب میں رکھ دی اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی۔مرض جب زیادہ بڑھا تو اس نے دونوں نصرانی رفقا کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچادینا ۔انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ  کردیا،مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کا ملمع یا نقش و نگار تھے اس میں سے نکال لیا۔وارثوں کو فہرست اسباب میں سے دستیاب ہوئی۔انہوں نے اوصیاء سے پوچھا کہ میت نے کچھ مال فروخت کیا تھا یا کچھ زیادہ بیمار رہاکہ معالجہ وغیرہ میں کچھ خرچ ہوا ہو۔ان دونوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔آخر معاملہ نبی کریمؐ کی عدالت میں پیش ہوا۔چونکہ وارثوں کے پاس گواہ  نہ تھے تو ان دونوں نصرانیوں سے قسم لی گئی کہ ہم نے میت کے مال میں کسی طرح کی خیانت نہیں کی نہ کوئی چیز اس کی چھپائی۔آخر قسم پر فیصلہ ان کے حق میں کردیا گیا۔کچھ مدت کے بعد ظاہرہوا کہ وہ پیالہ ان دونوں نے مکہ میں کسی سنار کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔جب سوال ہواتو کہنے لگے کہ ہم نے میت سے خرید لیا تھا۔چونکہ خریداری کے گواہ موجود نہ تھے اس لئے ہم نے پہلے اس کا ذکر نہیں کیا۔مبادا ہماری تکذیب کردی جائے۔میت کے واثوں نے پھر نبی کریمؐ کی خدمت میں مرافعہ کیا اب پہلی صورت کے برعکس اوصیاء خریداری کے مدعی اور وارث منکر تھے شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے وارثوں میں سے دوشخصوں نے جو میت سے قریب ترتھے ،قسم کھائی کہ پیالہ میت کی ملک تھا اور یہ دونوں نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں، چناچہ جس قیمت پر انہوں نے فروخت کیا تھا،(ایک ہزاردرہم)وہ وارثوں کو دلائی گئی۔(تفسیر عثمانی)


پندرہواں رکوع

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ 109 (وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔
 اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ 110 جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (یعنی جبرئیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا جب تم ان کے پاس کھلے نشان لے کر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے۔
 وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ 111 اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں۔
 اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  112 (وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو۔
قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ  113 وہ بولے کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔
 قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ 114 (تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔
 قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠   ۧ ۧ  115 خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔

تفسیر آیات

آخری دو رکوع حضرت مسیح سے مکالمہ

109۔ امام رازیؒ نے سچ کہا ہے کہ قرآن مجید کا ایک عام اسلوب بیان یہ  ہےکہ احکام و شرائع کے مفصل بیان کے معاً بعد یا تو ذکر صفاتِ الٰہی کا شروع کردیا جاتاہے،یا حالات انبیاء کا،یا احوال قیامت کا، اور مقصود ان سب صورتوں میں ان احکام کی تعمیل کیلئے قلب کو زیادہ آمادہ کردینا ہوتاہے،چنانچہ یہاں بھی یہی صورت ہے۔(تفسیر ماجدی) 

- یہ سوال محشر میں امتوں کے روبرو پیغمبروں سے کیا جائےگا کہ دنیا میں جب تم ان کے پاس پیغام حق لے کر گئے تو انہوں نے کیا جواب دیا اور کہاں تک دعوت الٰہی کی اجابت کی ؟ گذشتہ رکوع میں بتلایا تھا کہ خدا کے یہاں جانے سے پہلے بذریعہ وصیت وغیرہ یہاں کا انتظام ٹھیک کرلو۔اب متنبہ فرماتے ہیں کہ وہاں کی جوابدہی کیلئے تیار رہو۔۔۔ابن جریج کے نزدیک  لَا عِلْمَ لَنَا  سے یہ مراد ہے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ ہمارے پیچھے انہوں نے کیا کچھ کیا۔ ہم صرف ان ہی افعال و احوال پر مطلع ہوسکتے ہیں جو ہمارے سامنے ظاہری طورپر پیش آئے تھے۔بواطن و سرائر کا علم علام الغیوب ہی کو ہے ۔آئندہ رکوع میں حضرت مسیحؑ کی زبانی جو جواب نقل فرمایا ہے" وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا "اس سے آخری معنی کی تائید ہوتی ہے۔اور صحیح حدیث میں ہے کہ جب حوض پر بعض لوگوں کی نسبت حضور فرمائیں گے ھٰؤلاء اصحابی تو جواب ملے گا لاتدری مااحدثوا بعدک یعنی آپ کو خبر نہیں کہ آپ کے پیچھے انہوں کیا حرکات کیں۔(تفسیر عثمانی)

ـــــ قیامِ عدل و قسط اور شہادتِ حق کی ذمہ داری سورہ مائدہ میں مرکزی مضمون کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے تعلق سے یہ شہادت کی تفصیل بیان ہورہی ہے جو حضرات انبیاء علیھم السلام قیامت کے دن اللہ کے حضور میں دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو یہ حق بے کم و کاست پہنچادیاتھا جس کے پہنچادینے کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی تھی۔رہا بعد میں امتوں کا رویہ تو اس سے وہ اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے، کیونکہ ان کا علم صرف دنیا میں اپنی موجودگی کے زمانے تک ہی محدود ہوگا۔(ترجمہ ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

110۔ غالباً یہ پورا رکوع آنے والے رکوع کی تمہید ہے۔ احسانات یاددلاکر وہ سوال ہوگا جوآئندہ رکوع میں مذکورہے۔(تفسیر عثمانی)

ــــ ان آیات میں" میرے حکم سے" کی تکرار نہایت بلیغ ہے۔گویا نصاریٰ پر یہ حقیقت واضح کردی جائے گی کہ حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ ماجدہ پر جو انعام بھی ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا، انہوں نے جو معجزے بھی دکھائے سب اللہ کے اذن سے دکھائے ،تو نصاریٰ نے کس چیز کی بناپر ان کو خدا بنا ڈالا؟(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ادھیڑ عمر کو پہنچنےسے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیے گئے، اب یہاں کے انسانوں سے ان کا کلام کرنا ادھیڑ عمر کو پہنچنے کے بعد جب ہی ہوسکتا ہے جب وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں، جیسا کہ مسلمانوں کا اجتماعی عقیدہ ہے، اور قرآن و سنت کی تصریحات سے ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں کلام کرنا معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمر میں کلام کرنا بھی، بوجہ اس دنیا میں دوبارہ آنے کے، معجزہ ہی ہے۔ (معارف القرآن)

111۔ عیسائیوں کے مختلف نام۔۔۔حواری کون تھے؟یہ حواری ہی دراصل سیدنا عیسیٰؑ کی امت تھے جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمان کہا ۔عیسائی یا ناصری یا مسیحی نہیں کہا۔یہ الفاظ بہت بعد کی پیداوار ہیں ۔اور ان کیلئے یہ نام ان کے دشمنوں یعنی یہود نے ان کیلئے تجویز کیے تھے۔عیسیٰؑ ناصرہ بستی میں پیدا ہوئے اور یہ بستی فلسطین کے ضلع گلیل میں واقع تھی ۔اس لحاظ سے یہود انہیں ناصری یا گلیلی بدعتی فرقہ کہتے تھے اور مسیحی بھی دشمنوں کا رکھا ہوا نام تھا جسے بعد میں عیسائیوں نے نہ صرف گوارا کرلیا بلکہ بعد میں اس نسبت پر فخر کرنے لگے اور آج تک مسیحی کہلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مسلمان یا انصار یا نصاریٰ کے ناموں سے ذکر کیا ہے۔(تیسیر القرآن)

112۔ اس میں اختلاف ہے کہ مائدہ نازل ہوایا نہیں ،بعض کہتے ہیں کہ نازل ہوامگر انہوں نے اگلے دن کےلئے بچاکررکھا اور بندر اور خنزیر بنادئیے گئے (العیاذباللہ)(معارف القرآن)

- اس کے بعد حواریین ( اللہ کے نیک بندے اور اصحابِ عیسیٰ) اپنی اس درخواست سے باز آگئے ۔اہل ِ تاویل میں سے بھی ایک گروہ کاخیال یہی ہے کہ اس کا نزول نہیں ہوا۔انجیلوں میں بھی اس کا ذکر نہیں ۔(تدبر قرآن)

حواری کی تعریف:۔ وحی کے مختلف معانی کی تحقیق پہلے گزرچکی ہے ۔اگر یہ حواری انبیاء تھے جیسےبعض علماء کا خیال ہے تو وحی سے مراد وہ وحی ہوگی جو اللہ تعالیٰ انبیاء پر نازل فرماتاہے اور اگر یہ نبی نہ ہوں تو وحی سے مراد الہام اور القاء ہوگا۔حواریون جمع حواری کی۔اس کا لغوی معنی سفید و براق رنگ والا ہے۔ظاہر وباطن میں جو مخلص ہو اس کو بھی حواری کہتے ہیں۔خصوصاً انبیاء کے ممتاز اور جانثاردوستوں اور اطاعت گذاروں کو حواری کہا جاتاہے۔(ضیاء القرآن)

- یہ مکالمہ روز قیامت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اس دنیا کا اور عیسیٰ ؑ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جسے موقعہ کی مناسبت اور جملہ معترضہ کے طور پر یہاں بیان کیا جارہاہے۔(تیسیر القرآن)

- یعنی ایماندار بندہ کو لائق نہیں کہ ایسی غیر معمولی فرمائشیں کرکے خدا کو آزما ئے خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی مہربانی کا اظہار ہو، روزی ان ہی ذرائع سے طلب کرنا چاہئے جو قدرت نے اس کی تحصیل کیلئے مقرر فرمادیے ہیں۔بندہ  جب خدا سے ڈرکر تقویٰ اختیار کرلے اور اسی پر ایمان و اعتماد رکھے تو حق تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کو رزق پہنچائیگا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔(تفسیر عثمانی)

113۔ ۔۔بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے وعدہ فرمایا تھا کہ تم خدا کیلئے تیس دن کے روزے رکھ کر جو کچھ طلب کروگے وہ دیا جائے گا۔حواریین نے روزے رکھ لئے اور مائدہ طلب کیا ،ونعلم ان قد صدقتنا (اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا)سے یہی مراد ہے واللہ اعلم۔(تفسیر عثمانی)

ــــ حواریوں کا یہ سوال خدا کی قدرت سے متعلق نہیں، بلکہ اس کی حکمت سے متعلق تھا۔یعنی یہ کہ اس قسم کی کھلی ہوئی نشانی دکھانا کیا اس کی حکمت کے مطابق بھی ہوگا؟حواری باایمان لوگ تھے،وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوسکتے تھے کہ ان کی یہ درخواست مشابہ ہے اس مطالبہ سے جو یہود نے خدا کو دیکھنے کے لیے کیا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے بھی ان کو اس سوال سے روکا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

115۔خوان نعمت کا مطالبہ کرنے والوں کا انجام :۔ عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ"جو دسترخوان آسمان سے اتاراگیا تھا اس میں روٹی اور گوشت تھا اور انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اس میں نہ خیانت کرینگے اور نہ کل کیلئے ذخیرہ کریں گے ۔پھر ان لوگوں نے خیانت بھی کی اور کل کیلئے بھی اٹھارکھا۔لہذاانہیں بندر اور سور بنادیا گیا۔"(ترمذی ۔ابواب التفسیر۔زیر آیت مذکور)اس حدیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ایسا دسترخوان صرف ایک دن نہیں بلکہ عرصہ تک نازل ہوتارہا مطالبہ کرنے والوں نے کہا تھا کہ اس دسترخوان سے غریب، نادار، معذور اور بے کس لوگ کھایا کریں گے مگر بعد میں کھاتے پیتے لوگ بھی اس دسترخوان میں شریک ہونے لگے ۔یہ ان کی خیانت تھی۔علاوہ ازیں کل کیلئے سٹور بھی کرنا شروع کردیا اور ان کے بے جا طمع اور اللہ پر عدم توکل کی دلیل تھا اور اس سے انہیں روکا بھی گیا تھا۔دیگر بھی کئی نافرمانیاں کیں جن کی پاداش میں ان میں اسی کے قریب آدمیوں کی صورتیں مسخ کرکے بندر اور سورکی سی بنادی گئیں۔امام ترمذیؒ کی تصریح کے مطابق یہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے اسی لیے بعض علماء نے  اس واقعہ سے اختلاف کیا ہے۔ان کا قول یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا معجزہ طلب کرنے سے ڈرایا تو وہ فی الواقع ڈرگئے اور اپنے مطالبہ سے باز آگئے۔لہذا دسترخوان اتراہی نہیں تھا لیکن ایسے اقوال کے علی الرغم ہم موقوف حدیث کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ قرآن میں اسی انداز سے مذکور ہے۔(تیسیر القرآن)

۔حواریوں کی دوبارہ درخواست پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اتارنے کو تو میں ایک خوان اتاروں گا،لیکن جو لوگ اتنی کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد کفر میں مبتلا ہوں گے تو ان کو سزا بھی وہ دوں گا جو کسی اور کو نہ دوں گا۔معلوم ہوتاہے اس کے بعد حواری اپنی درخواست سے باز آگئے کیونکہ انجیلوں میں نزول مائدہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ناشکروں کیلئے عذاب کی دھمکی:۔ جب نعمت غیرمعمولی اور نرالی ہوگی تو اس کی شکر گزاری کی تاکید بھی معمول سے بڑھکر ہونی چاہئے۔اور ناشکری پرعذاب بھی غیرمعمولی اور نرالا آئیگا۔موضح القرآن میں ہے"بعضے کہتے ہیں وہ خوان اتراچالیس روز تک پھر بعضوں نے ناشکری کی یعنی حکم ہواتھا کہ فقیر اور مریض کھاویں۔محظوظ اور چنگے بھی لگے کھانے۔پھر قریب اسی آدمی کے سور اور بندر ہوگئے۔یہ عذاب پہلے یہود میں ہواتھا۔پیچھے کسی کو نہیں ۔اور بعضے کہتے ہیں کہ نہیں اترا۔یہ تہدید سن کر مانگنے والے ڈرگئے ،نہ مانگا،لیکن پیغمبر کی دعاء عبث نہیں اور اس کلام میں نقل کرنا بے حکمت نہیں۔شاید اس دعاء کا اثریہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی امت میں آسودگی مال ہمیشہ رہی جو کوئی ان میں ناشکری کرے یعنی دل کے اطمینان سے عبادت میں نہ لگے بلکہ گناہ میں خرچ کرے تو شاید آخرت میں سب سے زیادہ عذاب پاوے۔اس میں مسلمان کو عبرت ہے کہ اپنا مدعا"خرق عادت"کی راہ سے نہ چاہے کہ پھر اس کی شکر گزاری بہت مشکل ہے۔ اسباب ظاہری پر قناعت کرے تو بہتر ہے۔اس قصّہ میں بھی ثابت ہواکہ حق تعالیٰ کے آگے حمایت پیش نہیں جاتی۔(تفسیر عثمانی)


سولہواں رکوع

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ 116 . اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا ۔بےشک تو علاّم الغیوب ہے۔
 مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ 117 میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا ۔جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔
 اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ 118 اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔
 قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ  119 خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے۔
 لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ 120 آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر آیات

116۔ مریم کی خدائی کا آغاز کب ہوا؟ سیدہ مریم کو خدائی مقام عطاکرنا اور اس کی پوجا پاٹ کا عقیدہ ، عقیدہ تثلیث سے بھی بعد کی پیداوار ہے۔ عقیدہ تثلیث میں خدایہ تھے۔اللہ، عیسیٰ اور روح القدس اور یہ عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں سرکاری طورپر رائج ہوا۔جبکہ سیدہ مریم کے خدا ہونے کا عقیدہ پانچویں صدی عیسوی کی ایجاد ہے۔ سیدہ مریم کو مادر خدا ہونے کے لقب سے نوازا گیااور یہ عقیدہ اتنا عام ہواکہ پہلے تین خداؤں پرچھاگیا۔سیدہ مریم کو دیوی کا درجہ دے کر ان کے مجسمے اور تصویریں بنائی گئیں جو آج تک عیسائیوں کے گرجوں کی زینت بنی ہوئی ہیں اور عیسائی حضرات اس کے آگے سرنیاز خم کرتے ہیں۔عیسائی حکومتوں کے قومی جھنڈے پر سیدہ مریم کی تصویر بنائی جاتی ہے۔دورنبویؐ میں جو ہرقل شاہ روم تھا اس کے جھنڈے پر بھی یہ تصویر موجود تھی اور جنگ کے دوران اسی کے وسیلہ سے فتح ونصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں۔۔۔قیامت کے دن سیدنا عیسیٰؑ سے ان کی الوہیت کے متعلق تین سوال :َ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰؑ کو مذکورہ بالااحسانات یاددلانے کے بعد ان سے یہ پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کی بجائے مجھے اور میری ماں کو الٰہ بنالینااور اپنی تمام حاجات ہم سے طلب کرنا۔کیا میرے احسانات کا یہی بدلہ ہے؟عیسیٰؑ نہایت عاجزی سے جواب دیں گے کہ یا اللہ میں ایسی بات کیوں کرکہہ سکتاتھا جو میرے لیے سزاوار ہی نہ تھی علاوہ ازیں توتوچھپی اور علانیہ سب باتوں کو خوب جانتاہے اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو یقیناً تیرے علم میں ہوتی ۔واضح رہے کہ قیامت کے دن کا یہ مکالمہ اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہوجائےبلکہ یہ سیدنا عیسیٰؑ کے ان پیروکاروں کی تہدید وسرزنش کیلئے بیان کیا جارہاہے جنہوں نے آپ کے بعد انہیں اور ان کی والدہ کو الٰہ بنالیا تھاتاکہ ان کے خلاف ان کے رسول ہی کی شہادت قائم ہوجائےجس کی وہ پرستش کرتے رہے۔(تیسیر القرآن)

- حق تعالیٰ کا حضرت عیسیٰؑ سے سوال:۔ پچھلا رکوع حقیقۃً اس رکوع کی تمہید تھی۔پچھلے رکوع کی ابتداء میں " یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ الخ"فرماکر آگاہ کیا تھا کہ قیامت کے دن تمام مرسلین سے ان کی امتوں کے مواجہ میں علی رؤس الاشہاد سوال و جواب ہونگے۔پھر ان میں سے خاص حضرت مسیحؑ کا ذکر فرمایا جن کو کروڑوں آدمیوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا ہے کہ ان سے بالخصوص اس عقیدہ باطلہ کی نسبت دریافت کیا جائے گا لیکن اول وہ عظیم الشان احسان اور ممتاز انعامات یاددلائیں گے جو ان پر اور ان کی والدہ ماجدہ پر فائض ہوئے۔بعدہ ارشاد ہوگا، " ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ ۔۔ الخ"(کیا تونے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی خدا کے سوا معبود مانو)حضرت مسیحؑ اس سوال پر کانپ اٹھیں گے اور وہ عرض کرینگے جو آگے آتاہے۔آخر میں ارشاد ہوگا" هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ"(ہذا)کا اشارہ اسی یوم کی طرف ہی جو یوم یجمع اللہ الرسل میں مذکور تھا۔بہرحال یہ سب واقعہ روزقیامت کا ہے۔ جسے متیقن الوقوع ہونے کی وجہ سے قرآن و حدیث میں بصیغہ ماضی (قال)تعبیر فرمایاہے۔(تفسیر عثمانی)

117۔ انبیاء کو بھی غیب کا علم نہیں:۔ تونے مجھے حکم دیا تھا کہ میں خود بھی تیری بندگی اور عبادت کروں اور لوگوں سے بھی تیری ہی بندگی اور عبادت کراؤں اور اسے میں بجالاتارہا اور جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا اس وقت تک تو میں نے تیرے حکم کا پوری طرح دھیان رکھا البتہ میرے مرنے کے بعد کے حالات کا مجھے کچھ علم نہیں۔بعد کے حالات تو توہی جانتا ہے کہ ان لوگوں نے کب اور کس طرح یہ غلط روش کی تھی اور کیوں کی تھی؟۔(تیسیر القرآن)

ــــ ۔۔۔اس قسم کی تشبیہات سے یہ نکالنا کہ حضور کی اور حضرت مسیح کی"توفی" بھی  بہمہ وجوہ یکساں اور ہمرنگ ہونی چاہئیے،عربیت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔(تفسیر عثمانی)

118۔ ضمناً حضرت مسیحؑ کے اس کلام سے تردید بھی مسیحیوں کے اس عقیدہ کی نکل آئی کہ قیامت میں عدالت کا کام خدا کے نہیں، خدا کے بیٹے کے ہاتھ میں ہوگا،جیساکہ موجودہ انجیل میں ہے:"باپ کسی کی بھی عدالت نہیں کرتا ،بلکہ اس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے۔"(یوحنا:23)(تفسیر ماجدی)

ــــ سیدنا مسیحؑ کے اس فقرے کی بلاغت کی تعبیر نہیں ہوسکتی۔اگر وہ یوں کہتے کہ 'اگر تو ان کو معاف کردے تو یہ تیرے بندے ہیں،تو یہ فقرہ واضح الفاظ میں نصاریٰ کے لیے شفاعت بن جاتا، اور انبیاء علیھم السلام کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ مشرکین کے لیے سفارش نہیں فرمائیں گے۔اس لیے سیدنا مسیحؑ کی بات کا اسلوب ایسا ہے کہ بات سچی بھی ہے اور دربار الٰہی کے شایانِ شان بھی ہے،دردمند انہ بھی ہے اور اس سے حضرت عیسیٰؑ نے اپنے آپ کو مشرکین کی شفاعت کی ذمہ داری سے بھی بری کرلیا ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

119۔ ابنِ حیان فرماتے ہیں کہ اللہ کی رضا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس نعمتِ عظمٰی کے سامنے جنت اور نعیم ِ جنت کی کیا وقعت ۔

-رضی اللہ عنھم ورضو عنہ ،ذلک الفوز العظیم۔(ضیاء القرآن)