50 - سورة ق (مکیہ)
| رکوع - 3 | آیات - 45 |
مضمون:سورہ ق سے سورہ تحریم تک کی سورتوں کا جامع عمود بعث اور حشرو نشر ہے۔ سورہ ق موت کے بعد کی زندگی کےاثبات میں ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون:آخرت اور رسالت محمدی ؐ کا انکار کرنیوالی قریشی قیادت کیلئے آخرت کی عقلی دلیلیں اور سابقہ امتوں کے واقعات سے استدلال - حضور ؐ کو صبر ، نماز اور حمد باری تعالی سے قوت حاصل کرکے تذکیر بالقرآن کا فریضہ انجام دیتے رہنے کی ہدایت ۔ )بیان القرآن(
نام اور تعارف: سورۂ کے آغاز میں حرف قٓ آیا ہے تو سوررۂ کانام سورۂ قٓ رکھا گیا ہے ۔ آنحضور ؐ جمعہ کے خطبے میں اور فجر و عیدین کی نماز وں میں اکثر یہ سورۂ یا اس کے بعض حصے تلاوت کیا کرتے تھے تاکہ لوگوں میں یہ زبان زد خاص و عام ہوجائے ۔
شان نزول: رسول اللہ ؐ کے قیام مکہ کے دوسرے دور ( 4 تا 5 نبوی ) میں نازل ہوئی جب ظلم و ستم کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ یہ سورت سورۂ الملک سے ملتی جلتی ہے ۔ اپنے الفاظ ، قوافی ، اسلوب اور جامعیت کے اعتبار سے ایک پر تاثیر سورت ہے ۔جس میں آخرت کی عقلی دلیلیں فراہم کی گئی ہیں ۔
نظم کلام : سورۂ قٓ سے سورتوں کا چھٹا گروپ شروع ہو رہا ہے ۔ اس میں کل 17 سورتیں ہیں جن میں سات مکی اوردس مدنی ہیں۔ قٓ ، ذاریات ، طور ، نجم ، قمر ، الرحمن ، اور واقعہ مکی ہیں ۔اور حدید ، مجادلہ حشر ، ممتحنہ ، صف ، جمعہ ، منافقون ، تغابن ، طلاق اور تحریم مدنی ہیں ۔ اس گروپ کا جامع عمود بعث بعد الموت اور حشر و نشر ہے ۔ خاص طور پر سات مکی سورتیں قیامت اور آخرت کے احوال پر خوبصورت تبصرہ ہے ۔(تدبر قرآن)
۔ اس گروپ کی مکی سوررتیں ادبی لحاظ سے قرآن کا حسین ترین حصہ ہیں ۔ صوتی آہنگ نہایت خوبصورت ، چھوٹی چھوٹی آیتیں ۔ ردھم تیز - الفاظ ایسے جیسے نگینے جڑے ہوئے ( اسی میں سورۂ رحمان عروس القرآن): فصاحت و بلاغت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر - ڈوب کر پڑھنے کے لائق ( دل کے دروازے کھول کر اور ترجمہ سمجھتے ہوئے ) ۔(بیان القرآن)
ترتیب مطالعہ و اہم مضامین : (1 ) ر- 1 ( رسالت اور قیامت پر استدلال ) (2 ) ر – 2 ( جزا و سزا یقینی امر ہے ) (3 ) ر - 3 ( عذاب آخرت سے نجات کیسے ؟ )
پہلا رکوع |
| قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ ﴿1﴾ بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ ﴿2﴾ ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ ﴿3﴾ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ ﴿4﴾ بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ ﴿5﴾ اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ ﴿6﴾ وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ ﴿7﴾ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ ﴿8﴾ وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ ﴿9﴾ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ ﴿10﴾ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ ﴿11﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ ﴿12﴾ وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ ﴿13﴾ وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ ﴿14﴾ اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ ۧ ۧ ﴿15ع ق 50﴾ |
| 1. قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)۔ 2. لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے۔ 3. بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے۔ 4. ان کے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہمیں معلوم ہے۔ اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے۔ 5. بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب ان کے پاس (دین) حق آ پہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں۔ 6. کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔ 7. اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اُگائیں۔ 8. تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں 9. اور آسمان سے برکت والا پانی اُتارا اور اس سے باغ وبستان اُگائے اور کھیتی کا اناج۔ 10. اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گابھا تہہ بہ تہہ ہوتا ہے۔ 11. (یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا۔ (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے۔ 12. ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں۔ 13. اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی۔ 14. اور بن کے رہنے والے اور تُبّع کی قوم۔ (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعید (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا۔ 15. کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ |
تفسیر آیات
1۔ " مجید " کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک، بلند مرتبہ، با عظمت، بزرگ اور صاحب عزت و شرف۔ دوسرے، کریم، کثیر العطاء، بہت نفع پہنچانے والا۔ قرآن کے لیے یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے۔ قرآن اس لحاظ سے عظیم ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب اس کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتی۔ اپنی زبان اور ادب کے لحاظ سے بھی وہ معجزہ ہے اور اپنی تعلیم اور حکمت کے لحاظ سے بھی معجزہ۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہاں قرآن کی عظمت و جلالت کی قسم ان لوگوں کی تردید میں کھائی گئی ہے جو اس کو شاعری، کہانت، سحر یا القائے شیطانی کے قسم کی چیز قرار دیتے تھے۔ (تدبرِ قرآن)
4۔ یہ آیت بھی من جملہ ان آیات کے ہے جن میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ آخرت کی زندگی نہ صرف یہ کہ ویسی ہی جسمانی زندگی ہوگی جیسی اس دنیا میں ہے، بلکہ جسم بھی ہر شخص کا وہی ہوگا جو اس دنیا میں تھا اگر حقیقت یہ نہ ہوتی تو کفار کی بات کے جواب میں یہ کہنا بالکل بےمعنی تھا کہ زمین تمہارے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے۔ اور ذرے ذرے کا ریکارڈ موجود ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، تفسیر سورة حٰم السجدہ، حاشیہ25)۔ (تفہیم القرآن)
5۔جس وقت محمد ﷺ نے اپنی دعوت حق پیش کی اسی وقت بلا تامل اسے قطعی جھوٹ قرار دے دیا۔ اس کا نتیجہ لازماً یہ ہونا تھا اور یہی ہوا کہ انہیں اس دعوت اور اس کے پیش کرنے والے رسول کے معاملہ میں کسی ایک موقف پر قرار نہیں ہے۔ کبھی اس کو شاعر کہتے ہیں تو کبھی کاہن اور کبھی مجنون۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے خود یہ چیز بنا لایا ہے، اور کبھی یہ الزام تراشتے ہیں کہ اس کے پس پشت کچھ دوسرے لوگ ہیں جو یہ کلام گھڑ گھڑ کر اسے دیتے ہیں۔ یہ متضاد باتیں خود ظاہر کرتی ہیں کہ یہ لوگ اپنے موقف میں بالکل الجھ کر رہ گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
۔یعنی ان کے زمین میں تحلیل ہونے اور منتشر ہونے والے اجزاء اللہ تعالیٰ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔(ترجمہ:مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
6۔ اوپر کی پانچ آیتوں میں کفار مکہ کے موقف کی نامعقولیت واضح کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ آخرت کی جو خبر محمد ﷺ نے دی ہے اس کی صحت کے دلائل کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔یہاں آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جسے انسان شب و روز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے۔ جس میں دن کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بےحد و حساب تارے روشن نظر آتے ہیں۔ جسے آدمی برہنہ آنکھ ہی سے دیکھے تو حیرت طاری ہوجاتی ہے، لیکن اگر دوربین لگا لے تو ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو ناپیدا کنار ہے، کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنے بڑے عظیم الشان سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم 3 ارب دوسرے تارے (ثوابت) موجود ہیں، اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی دس لاکھ کہکشاؤں کا پتہ دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشاؤں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور اس کے مشاہدہ میں آئی ہے۔ خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے، اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کرسکتے۔ ہوسکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم کار گاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق، جس کا نام انسان ہے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا، تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ کائنات کے خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہوجائے گی !۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اپنی اس حیرت انگیز وسعت کے باوجود یہ عظیم الشان نظام کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں ہے اور اس کا تسلسل کہیں جا کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ جدید زمانے کے ریڈیائی ہیئت دانوں نے ایک کہکشانی نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ منبع 3 ج (Source3c, 285) 285 کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ان کا اندازہ یہ ہے کہ اس کی جو شعاعیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ 4 ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے اس میں سے روانہ ہوئی ہونگی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر کے دراصل یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشان دہی بھی نہیں کرسکتے تو میری قدرت میں اس کمزوری کا تصور کہاں سے تمہارے دماغ میں آگیا کہ تمہاری مہلت امتحان ختم ہوجانے کے بعد تم سے حساب لینے کے لیے میں تمہیں پھر زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں گا۔ یہ صرف امکان آخرت ہی کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے۔ چار ارب سال نوری (Light Years) کی مسافت سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا، اور یہاں انسان کے بنائے ہوئے آلات کی گرفت میں آنا صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کہکشاں سے لے کر زمین تک کی پوری دنیا مسلسل ایک ہی مادے سے بنی ہوئی ہے، ایک ہی طرح کی قوتیں اس میں کار فرما ہیں، اور کسی فرق و تفاوت کے بغیر وہ سب ایک ہی طرح کے قوانین پر کام کر رہی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ شعاعیں نہ یہاں تک پہنچ سکتی تھیں اور نہ ان آلات کی گرفت میں آسکتی تھیں جو انسان نے زمین اور اس کے ماحول میں کام کرنے والے قوانین کا فہم حاصل کر کے بنائے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور حاکم و مدبر ہے۔ (تفہیم القرآن)
11۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب کی سر زمین میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں بسا اوقات پانچ پانچ برس بارش نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ مدت گزر جاتی ہے اور آسمان سے ایک قطرہ تک نہیں ٹپکتا۔ اتنے طویل زمانے تک تپتے ہوئے ریگستانوں میں گھاس کی جڑوں اور حشرات الارض کا زندہ رہنا قابل تصور نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب وہاں کسی وقت تھوڑی سی بارش بھی ہوجاتی ہے تو گھاس نکل آتی ہے اور حشرات الارض جی اٹھتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
12۔ اس سے پہلے سورة فرقان، آیت 28 میں اصحاب الرس کا ذکر گزر چکا ہے، اور دوسری مرتبہ اب یہاں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ مگر دونوں جگہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے سلسلے میں صرف ان کا نام ہی لیا گیا ہے، کوئی تفصیل ان کے قصے کی بیان نہیں کی گئی ہے۔ عرب کی روایات میں الرس کے نام سے دو مقام معروف ہیں، ایک نجد میں، دوسرا شمالی حجاز میں۔ ان میں نجد کا الرس زیادہ مشہور ہے اور اشعار جاہلیت میں زیادہ تر اسی کا ذکر سنا ہے۔ اب یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اصحاب الرس ان دونوں میں سے کس جگہ کے رہنے والے تھے۔ ان کے قصے کی بھی کوئی قابل اعتماد تفصیل کسی روایت میں نہیں ملتی۔ زیادہ سے زیادہ بس اتنی بات صحت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہ کوئی ایسی قوم تھی جس نے اپنے نبی کو کنوئیں میں پھینک دیا تھا۔ لیکن قرآن مجید میں جس طرح ان کی طرف محض ایک اشارہ کر کے چھوڑ دیا گیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے زمانے میں اہل عرب بالعموم اس قوم اور اس کے قصے سے واقف تھے اور بعد میں یہ روایات تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکیں۔ (تفہیم القرآن)
۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کفن میں دفن کردیا تھا۔ رس کنوئیں کو کہتے ہیں اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ رس کے معنی کنوئیں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لئے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)
14۔ اگرچہ ہر قوم نے صرف اس رسول کو جھٹلایا جو اس کے پاس بھیجا گیا تھا، مگر چونکہ وہ اس خبر کو جھٹلا رہی تھی جو تمام رسول بالاتفاق پیش کرتے رہے ہیں، اس لیے ایک رسول کو جھٹلانا در حقیقت تمام رسولوں کو جھٹلا دینا تھا۔ علاوہ بریں ان قوموں میں سے ہر ایک نے محض اپنے ہاں آنے والے رسول ہی کی رسالت کا انکار نہ کیا تھا بلکہ وہ سرے سے یہی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھیں کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آسکتا ہے، اس لیے نفس رسالت کی منکر تھیں اور ان میں سے کسی کا جرم بھی صرف ایک رسول کی تکذیب تک محدود نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔آخرت کا جو عقیدہ تمام انبیاء (علیہم السلام) پیش کرتے رہے ہیں وہی حقیقت کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا انکار جس قوم نے بھی کیا وہ شدید اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو کر رہی اور آخر کار خدا کے عذاب نے آ کر اس کے وجود سے دنیا کو پاک کیا۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے تو جب کبھی وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر دنیا میں کام کرتا ہے، اس کی پوری زندگی تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ﴿16﴾ اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ ﴿17﴾ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ﴿18﴾ وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ ﴿19﴾ وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ ﴿20﴾ وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ ﴿21﴾ لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ ﴿22﴾ وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ ﴿23﴾ اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ ﴿24﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ ﴿25﴾ اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ ﴿26﴾ قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ ﴿27﴾ قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ ﴿28﴾ مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ ۧ ۧ ﴿29ع ق 50﴾ |
| 16. اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں۔ 17. جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں۔ 18. کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔ 19. اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ 20. اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے۔ 21. اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا۔ 22. (یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔ 23. اور اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ 24. (حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو۔ 25. جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا۔ 26. جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے۔ تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو۔ 27. اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا۔ 28. (خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو۔ ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے۔ 29. ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے۔ |
تفسیر آیات
16۔ قرب سے مراد قرب علمی اور احاطہ علمی ہے ، قرب مسافت نہیں ۔(معارف القرآن)
ـــ ورید ، رگ جان ( شاہ رگ ) کو کہتے ہیں یہ عربی زبان کا ایک معروف محاورہ ہے جو غایت درجہ قرب کے اظہار کیلئے آتا ہے ۔(تدبر قرآن)
ـــ اس کا کوئی قول اور عمل ہم سے مخفی نہیں ۔ حتٰی کہ وہ وسوسے جو اس کے نہاں خانہ دل میں پیدا ہوتے ہیں ہم انکو بھی جانتے ہیں ہم اسکی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں وہ خود اپنے بعض احوال سے بے خبر ہو سکتا ہے ۔ ہم نہیں ۔ (ضیا ء القرآن)
18۔ اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے کہ اللہ تعالی آخرت کی عدالت میں کسی شخص کو محض اپنے ذاتی علم کی بنا پر سزا نہ دے گا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کرکے اسکو سزا دے گا ۔ اسی لئے ہر شخص کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرایا جارہا ہے تا کہ اسکی کار گزاریوں کا پورا ثبوت نا قابل انکار شہادتوں سے فراہم ہوجائے ۔ (تفہیم القرآن)
۔ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آدمی کے وساوس و خطرات قلب ان فرشتوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ اس کی ستاری ہے کہ اس نے بندوں کے دلوں کے بھیدوں کا علم اپنے ہی تک محدود رکھا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
19۔ سکرات الموت: وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، سکرة الموت کے معنی موت کی شدت اور غشی جو موت کے وقت پیش آتی ہے، ابوبکر بن الانباری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مسروق سے روایت یہ کی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر پر موت کے آثار شروع ہوئے تو صدیقہ عائشہ کو بلایا، وہ پہنچیں تو یہ حالت دیکھ کر بےساختہ ایک شعر زبان سے نکلا۔ اذا حشرجت یوما و ضاق بھا الصدر۔ ”یعنی جب روح ایک دن مضطرب ہوگی اور سینہ اس سے تنگ ہوجائے گا“ حضرت صدیق اکبر نے سنا تو فرمایا کہ تم نے فضول یہ شعر پڑھا، یوں کیوں نہ کہا (وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ) رسول اللہ ﷺ کو جب یہ حالت پیش آئی تو آپ پانی میں ہاتھ ڈال کر چہرہ مبارک پر ملتے اور فرماتے تھے لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات، یعنی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ موت کی بڑی شدتیں ہوتی ہیں۔ بِالْحَقِّ، اس میں حرف باء تعدیہ کے لئے ہے، معنی یہ ہیں کہ لے آئی شدت موت امر حق کو یعنی موت کی شدت نے وہ چیزیں سامنے کردیں جو حق و ثابت ہیں اور کسی کو ان سے فرار کی گنجائش نہیں (مظہری) (معارف القرآن)
۔ حق لے کر آ پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلنی شروع ہوجاتی جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء (علیہم السلام) نے دی تھی۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
ــــ موت پر سب حقائق کا انکشاف:۔ اس کے دومطلب ہیں یعنی موت، اس کی بے ہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرامؑ اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ جس سے محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہرہونے لگیں گی۔(تیسیر القرآن)
21۔ انسان کو میدان حشر میں لانے والے دو فرشتے ۔ بعض کے نزدیک سائق فرشتہ اور شہید انسان کا عمل مگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کےنزدیک دونوں فرشتے - دونوں کراماً کاتبین بھی ہوسکتے ہیں اور دو الگ فرشتے بھی۔ قیامت کا اہتمام ملاحظہ کریں ۔(معارف القرآن)
ـــ اس سے مراد غالباً وہی دوفرشتے ہیں جو اس کا ریکارڈ ثبت کررہے ہیں۔ان میں سے ایک تو اسے پیچھے سے ہانک کر اللہ کے سامنے پیش کردے گا اور کہے گا کہ مجرم حاضر ہے۔دوسرا اس کا پوری زندگی کا ریکارڈ سامنے لاحاضر کرے گا۔ یعنی مجرم بھی حاضر اور گواہی بھی حاضر۔(تیسیر القرآن)
ــــ نفخ صور کے بعد ہر شخص کی پیشی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اس طرح ہوگی کہ ایک فرشتہ اس کے پیچھے پیچھے اس کو ہانکنے کے لیے ہوگا اور دوسرا اس کے آگے آگے اس کا دفتر عمل لیے ہوئے گواہی دینے کے لیے ہوگا۔'ساتھی'سے مراد وہ فرشتہ ہے جو مجرم کو پیش کرے گا۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
22۔مرنے کے بعد آنکھیں وہ سب کچھ دیکھیں گی جو زندگی میں نہ دیکھ سکتی تھیں ۔(معارف القرآن)
ــــ "فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ" یہ فقرہ طنز کے انداز میں ہوگا ، کہ آج تو تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں جس چیز کا امکان تمہیں کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہا تھا آج اس کا ہر گوشہ تمہارے آگے بے نقاب ہے ۔(تدبر قرآن)
23۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ گواہ فرشتہ مجرم کو پیش کرکے کہے گاکہ مجرم بھی حاضر ہے اور گواہی بھی حاضرہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ اللہ کے دربار میں حاضر ہوکر کہے گا کہ جو مجرم میری سپردگی میں تھا۔پیشی کے لئے حاضر ہے۔(تیسیر القرآن)
26۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات گِن کر بتادی ہیں جو انسان کو جہنم کا مستحق بنانے والی ہیں، (1) انکار حق، (2) خدا کی ناشکری، (3) حق اور اہل حق سے عناد، (4) بھلائی کے راستے میں سدِّ راہ بننا، (5) اپنے مال سے خدا اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرنا، (6) اپنے معاملات میں حدود سے تجاوز کرنا، (7) لوگوں پر ظلم اور زیادتیاں کرنا، (8) دین کی صداقتوں پر شک کرنا، (9) دوسروں کے دلوں میں شکوک ڈالنا، اور (10) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو ْخدائی میں شریک ٹھہرانا۔ (تفہیم القرآن)
27۔ اس ساتھی سے مراد غالباً اس کا وہ شیطان ساتھی ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا تھا یا اس پر مسلط کردیا گیا تھا۔ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا کہ مجھ میں ایسی کوئی طاقت نہ تھی کہ میں اسے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے سرکش بناسکتا۔ہوا صرف یہ تھا کہ میں نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تو یہ پہلے ہی مجرم ضمیر تھا۔اس نے فوراً میری آواز پر لبیک کہی۔ میرا وسوسہ گویا اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔لہذا وہ گمراہی کے کاموں میں خود ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔(تیسیر القرآن)
29۔ یہ جہنم میں جھونکے جانے کے بعد کا ماجرا ہے جب ہر شخص اپنی گمراہی کا الزام شیطان پر تھوپناچاہے گا۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
تیسرا رکوع |
| یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ ﴿30﴾ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ﴿31﴾ هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ ﴿32﴾ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ ﴿33﴾ اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ﴿34﴾ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ ﴿35﴾ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ ﴿36﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ ﴿37﴾ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ﴿38﴾ فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ ﴿39﴾ وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ ﴿40﴾ وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ ﴿41﴾ یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ ﴿42﴾ اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ ﴿43﴾ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ ﴿44﴾ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ ۧ ۧ ﴿45ع ق 50﴾ |
| 30. اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ 31. اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی۔ 32. یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے۔ 33. جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا۔ 34. اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ 35. وہاں وہ جو چاہیں گے ان کے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے۔ 36. اور ہم نے ان سے پہلے کئی اُمتیں ہلاک کر ڈالیں۔ وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے۔ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے؟ 37. جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔ 38. اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی۔ 39. تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ 40. اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہ کیا کرو۔ 41. اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا۔ 42. جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے۔ 43. ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ 44. اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔ 45. یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو۔ |
تفسیر آیات
30۔ قیامت کو جہنم کا کلام کرنا:۔ جہنم اگر زبانِ حال کی بجائے زبانِ قال سے بھی اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب دے تو اس میں بھی حیرت کی کوئی بات نہیں۔ اللہ جس چیز کو چاہے قوت گویائی عطاکرسکتاہے ۔جہنم کے اس جواب سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ جہنم اس قدر بڑی اور وسیع ہوگی کہ تمام مستحقین جہنم کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد بھی اس میں جگہ بچ رہے گی خواہ یہ دوزخی انسانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوں اور شیطانوں سے اور یہی بات درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے:۔"سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا :"دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دے اس وقت وہ کہے گی ،بس بس (میں بھر گئی)"(بخاری۔ کتاب التفسیر) (تیسیر القرآن)
31۔ گویا وہ جنت میں پہنچایا نہیں گیا ہے بلکہ خود جنت ہی اٹھا کر اس کے پاس لے آئی گئی ہے۔ اس سے کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے تصورات ہماری اس دنیا کے تصورات سے کس قدر مختلف ہوں گے۔ جلدی اور دیر اور دوری اور نزدیکی کے وہ سارے مفہومات وہاں بےمعنی ہوں گے جن سے ہم اس دنیا میں واقف ہیں۔ (تفہیم القرآن)
33۔ اصل الفاظ ہیں " قلبِ مُنِیب " لے کر آیا ہے۔ مُنیب انابت سے ہے جس کے معنی ایک طرف رخ کرنے اور بار بار اسی کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ جیسے قطب نما کی سوئی ہمیشہ قطب ہی کی طرف رخ کیے رہتی ہے اور آپ خواہ کتنا ہی ہلائیں جلائیں، وہ ہِر پھر کر قطب ہی کی سمت میں آ جاتی ہے۔ پس قلبِ منیب سے مراد ایسا دل ہے جوہر طرف سے رخ پھیر کر ایک اللہ کی طرف مڑ گیا اور پھر زندگی بھر جو احوال بھی اس پر گزرے ان میں وہ بار بار اسی کی طرف پلٹتا رہا۔ (تفہیم القرآن)
36۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ ان کو بڑی قوت و شوکت حاصل ہے، اپنی جگہ سے ہلائے نہیں جاسکتے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزری ہیں جو قوت و عظمت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ ان میں سے اگر کچھ ہلاک ہونے سے بچ بھی رہے تو وہ مختلف ملکوں میں، جدھر جس کا سینگ سمایا، وہ ادھر کو کسی جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کی پوری عذاب الٰہی سے تباہ ہوگئیں، مثلاً قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ، بعض قوموں کا حال یہ ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو تباہ ہوگئے، رہے ان کے اتباع و عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ وہ خود تو اپنے اعیان اور پوری فوج سمیت دریا میں غرق کردیا گیا۔ باقی جو پیچھے رہ گئے تھے وہ حکومت کی تباہی اور اپنے حریفوں کے ڈر سے پناہ کی تلاش میں تتر بتر ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو اس سیلاب ہی کی نذر ہوگئے جو ان پر آیا۔ جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر اور معاشی حالت بالکل ابتر ہوجانے کے باعث مجبور ہوئے کہ پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کریں۔ یہود پر جو تباہیاں آئیں ان کی نوعیت بھی یہی تھی۔ جو قتل و نہب سے بچے وہ دنیا کے کونے کونے میں آوارہ ہو کر پھرے ۔خود ہماری تاریخ میں بھی اس کی نہایت عبرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔ بغداد پر، قرطبہ پر، دلی پر جو تباہیاں آئیں کیا ان کے احوال تاریخ میں مذکور نہیں ہیں ؟ ان کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں صرف قریش ہی کو تنبیہ نہیں ہے بلکہ خود ہمارے لئے بھی اس میں بڑا درس ہے بشرطیکہ ہم اس سے سبق حاصل کریں !۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض لوگوں نے "نَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ" کے یہ معنی لئے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور عروج میں اپنی فاتحانہ ترک تازیوں سے دنیا کا کونا کونا چھان مارا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ لفظ تنقیب، عربی میں فاتحانہ جو لانیوں کے لئے نہیں آتا بلکہ ڈر اور خوف سے، جائے پناہ کی تلاش میں، زمین میں نقب لگانے کے لئے آتا ہے۔ اہل لغت نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
39۔"اور بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے تین ہی نمازیں تھیں۔فجر کی نماز،عصر کی نماز اور تہجد کی نماز اور بعض علماء اس آیت سے پانچوں نمازیں ثابت کرتے ہیں۔ان کے نزدیک طلوع آفتاب سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب آفتاب سے پہلے سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں اور رات کی نمازوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں"۔۔۔۔۔نمازوں کے بعد نوافل اور ذکر و اذکار:۔ اس کے بھی دومطلب ہیں ایک یہ کہ ہر نماز کے بعد کچھ سنت اور نوافل اداکئے جائیں۔واضح رہے کہ رسول اللہؐ نے جو نماز بطور نفل اداکی وہی ہمارے لئے سنت ہے اور ہمارے ہاں جو رکعات بطور نوافل اداکی جاتی ہیں وہ ان نوافل سے زائد ہیں جو آپؐ نے اداکئے اور جسے ہم سنت نماز کہتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد کچھ ذکر اذکار اور تسبیح و تہلیل بھی کیا کیجئے۔جیساکہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس نے مجھے حکم دیا کہ ہر(فرض)نماز کے بعد تسبیح پڑھا کروں۔آپؐ نے کہا "أدبار السجود"کا یہی مطلب ہے(بخاری۔ کتاب التفسیر)ایسے بہت سے اذکار صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔(تیسیر القرآن)
۔سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ یہ نماز کی تعبیر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے پہلو سے ہے۔ یہ ذکر دو عنصروں سے مرکب ہے۔ ایک تسبیح، دوسرا حمد، تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے پاک ومنزہ قرار دینا جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ حمد میں اثبات کا پہلو نمایاں ہے یعنی اس کو ان صفات سے متصف قرار دینا جو اس کے شایان شان ہیں۔ یہ نفی اور یہ اثبات دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے صحیح تصور کو دل میں راسخ کرتے ہیں اور اسی رسوخ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق قائم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ (تدبرِقرآن)