51 - سورة الذاريات (مکیہ)

رکوع - 3 آیات - 60

مضمون: جزاوسزا ایک حقیقت ہے جو پیش آکررہنی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

نام : پہلی  ہی آیت  سے اس کا نام ماخوذ  ہے ۔ سورۂ کے  آغاز  میں رب  ذوالجلال  نے   ہواؤں  کی قسم  کھائی  ہے جو  گرد   اڑانے  والی   ہیں۔ پانی سے لدے  ہوئے  بادل  اٹھانے  والی   ہیں  پھر  سبک  رفتار  سے چلنے  والی  ہیں  اور پھر  ایک  بڑے  کام  ( بارش )  کی تقسیم   کرنے  والی  ہیں ۔

شان نزول :  اعلان  عام  کے بعد  حضور ؐ  کے قیام  مکہ  کے  دوسرے  دور  (  4 تا  5  نبوی ) میں  نازل   ہوئی  جب  ظلم  و ستم   کا آغاز  نہیں ہوا تھا ۔

نظم کلام :  سورۂ قٓ

ترتیب مطالعہ  و اہم مضامین : (1 )ر- 1 ( جزا و سزا  کے دن  کا  بیان )  (2 )   ر-2 ( حضرت ابراھیم  ؑ  کو   فرشتوں کے ذریعے بیٹے  کی بشارت  ، قوم لوط  اورر  دیگر  قوموں  کا تذکرہ  ) (3 )  ر۔ 3 (  دلائل  توحید  و آخرت  اور  جن و انس  کی پیدائش  کا مقصد  ۔(

سورہ کا عمود،سابق سورہ سے اس کا تعلق اور اس کا اندرونی نظم:۔ یہ سورہ ان سات سورتوں (از ق تا واقعہ)میں دوسری سورہ ہے جو آنحضرتؐ کی رسالت اور قرآن کو ایک خاص پہلو سے ثابت کرتی ہیں۔ وہ پہلو یہ ہے کہ قرآن ایک روز جزا کی خبردیتاہے اور ان لوگوں کو عذاب کی دھمکی سناتاہے جو اللہ کا کسی کو شریک بناتے ہیں یا اس کے نبیوں اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ان ساتوں سورتوں میں قرآن کے انہی دعاوی کو ثابت کیا گیاہے۔عمود (مرکزی مضمون)ان تمام سورتوں کا ایک ہی ہے لیکن اس عمود پر بحث و استدلال مختلف سورتوں میں مختلف پہلوؤں سے ہواہے۔۔۔۔۔سابق سورہ میں بعث (حشر ونشر)کو ثابت کیا گیا تھا اور اس سے متعلق مخالفین کے ذہنوں میں جو شبہات تھے ان کی تردید کی گئی تھی ۔اس سورہ میں جزاء (قیامت کے دن بدلہ دیے جانے)کو ثابت کیا گیا ہے اور اس سے متعلق شبہات کی تردید کی گئی ہے۔۔۔۔رہی یہ سورہ(ذاریات)تو چونکہ اس کا عمود جزاء و سزا کا پہلو ہے اس وجہ سے پہلے جزاء و سزاپر شہادتیں پیش کیں،اس کے بعد اصل عمود کو صاف لفظوں میں سامنے رکھ دیا۔۔۔۔۔ابروہواسے جزاء و سزا پر استدلال کا پہلو ۔ہواؤں اور بادلوں کی یہی مختلف حالتیں ہیں جن کو قرآن نے 'تقسیم ِ امر' سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کے اختیار و تصرف کی ایک عجیب شان ہے کہ وہ کبھی ہوا کی تندی اور شدت کو ایک قوم کے لیےنجات کا ذریعہ بنادیتاہے اور کبھی اس کی نرمی اور اس کے سکون سے اس کو تباہ کردیتاہے۔اس کی بہترین شہادت فرعون اور اس کے لشکر کی سرگزشت میں موجود ہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔۔۔۔۔ان آیات کا باہمی نظم اور آیات مابعد سے ان کا تعلق ۔ہواؤں کی شہادت ،جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں، اپنے اندر رحمت اور عذاب دونوں کے پہلو رکھتی ہے۔۔۔۔ان آیتوں کا باہمی نظم،ان کا مطلب ،اور ماقبل و مابعد سے ان کا تعلق۔ مقابلہ کے اصول پر کافروں کے ذکر کے بعد اہل ایمان کا بھی ذکر فرمایا اور ایجاز کلام کی خوبی یہ ہے کہ جس قدر بات کہی گئی ہے وہ آپ سے آپ ان بہت سی باتوں پر دلیل بن گئی ہے، جوکہی نہیں گئی ہیں۔ منکرین کی بابت فرمایا ہے کہ وہ غفلت کی مدہوشی میں پڑے ہوئے ہیں،اس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ اہل ایمان کے سامنے روزِ جزا کے متعلق یقین و بصیرت کی پوری روشنی موجود ہے۔۔۔۔۔اس سرگذشت کا تعلق آگے اور پیچھے سے۔زمین میں خداکی رحمت  وپروردگار ی کی بھی نشانیاں ہیں۔۔۔۔۔اور اس میں اس کے قہر و غضب کی بھی نشانیاں ہیں کیونکہ اس نے مجرموں پر جو عذاب نازل کیے ہیں ان کے آثار چپہ چپہ پر موجود ہیں۔۔۔۔چنانچہ حضرت ابرہیمؑ اور حضرت لوطؑ کی اس مشترک سرگذشت میں رحمت و بشارت اور عذاب و انذار دونوں چیزیں جمع کردی گئی ہیں۔۔۔۔علاوہ ازیں اس کے بعد حضرت موسیٰؑ وغیرہ کی جو سرگذشتیں بطور ثبوت و شہادت کے پیش کی ہیں ان کو یہاں حرف عطف کے ذریعہ سے ماسبق سے جوڑا ہے۔۔۔۔۔قومِ لوط کی ہلاکت غبار انگیز ہواکے ذریعہ سے ہوئی ۔قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے غبار انگیز ہوا بھیجی جو سخت ہو کر بلآخر حاصب(کنکر پتھر برسانے والی تندہوا)بن گئی۔اس سے اول تو ان کے اوپر کنکروں اور پتھروں کی بارش ہوئی۔پھر انہوں نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔۔۔۔۔'الْمُؤْتَفِكَاتُ' سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو زمین کو بالکل تلپٹ کردیتی ہیں جس طرح جوتنے والا زمین کو تلپٹ کردیتاہے جب کوئی بڑاسیلاب آتاہے اور وہ زمین پر مٹی اور ریت کی ایک نئی تہ جماد یتاہے تو اس کو بھی مؤتفکہ کہتے ہیں۔علیٰ ہذا القیاس جو تند ہوازمین کو ریت اور کنکر پتھر سے ڈھانک دیتی ہے وہ بھی مؤتفکۃ ہے۔۔۔۔تیز آندھی کے یہ اثرات ریگستانی علاقوں میں جس قدر نمایاں ہوتے ہیں اس کا اندازہ اچھی طرح غیر ریگستانی علاقوں کے لوگ نہیں کرسکتے اس بحث کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے یہ بھی پیش نظر رکھیے کہ یہ صحرائے عرب سے متعلق ہے۔(مترجم)۔۔۔۔۔فرعون اور اس کی قوم کی تباہی پُرواہواسے ہوئی۔یہاں ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے۔ وہ یہ کہ علماء اہل کتاب اس امر میں مختلف نظریے رکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے کس مقام پر سمندر کو عبور کیا ۔اکثروں کا خیال یہ ہے کہ انہوں نے خلیج سویز کو عبور کیا لیکن ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ انہوں نے خلیج عقبہ کو عبور کیا۔اسی طرح زمانہ حال کے بعض متکلمین کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جزر کے ذریعہ سے موسیٰؑ کو نجات دی اور مد کے ذریعہ سے فرعون اور اس کی فوجوں کو غرق کیا۔ ہم نے دوسری جگہ ان دونوں خیالات کی تفصیل کے ساتھ تردید کی ہے۔۔۔۔۔عاد اور ثمود کی ہلاکت۔جس تند ہوا کے ذریعہ سے وہ ہلاک کیے گئے اس کے ساتھ سرما کے وہ بادل بھی تھے جو ہمیشہ رعد و برق کے ساتھ نمودار ہواکرتے تھے۔۔۔۔۔بادِ صرصر کے یہ طوفان، جیساکہ ہم نے عرض کیا۔عرب میں جاڑوں میں ظاہرہوتے ہیں اور یہی زمانہ ان کے ہاں نحوست اور فاقہ کا سمجھا جاتاہے۔۔۔۔۔قوم نوح کی تباہی تند ہوا کے ذریعہ سے واقع ہوئی۔ان کی تباہی میں بھی اصل ہواکے تصرفات ہی کا رہاہے۔۔۔۔اس میں طوفان کا لفظ خاص طورپر لائق غور ہے۔طوفان کے لغوی معنی دوران یعنی گردش کرنے اور چکر کھانے کے ہیں ۔ عام استعمال میں اہل عرب اس سے وہ تند ہوامراد لیتے ہیں جو تیزی سے چکر کھاتی ہوئی اٹھتی ہے۔ایک جاہلی شاعر راعی اپنی اونٹنی کی تعریف میں کہتاہے۔۔۔۔۔دوسری زبانوں میں بھی اس قسم کی تندہوا کے لیے اسی طرح کے الفاظ ہیں مثلاً فارسی میں اس کو گردبادکہتے ہیں انگریزی میں اس کو سائیکلون (Cyclone)کہتے ہیں،ہندی میں اس کے لیے بگولے کا لفظ ہے۔مصریوں کے ہاں ہوا کاایک خاص دیوتا تھا جس کو طائفون (انگریزی میں Typhoonسمندر کے سائیکلونی طوفانوں کے لیے ایک عام مستعمل لفظ ہے۔(مترجم))کہتے تھے۔ اس ہوا کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے شدت کی بارش ہوتی ہے اور سمندر کا پانی جوش میں آجاتاہے۔میں جب کراچی میں تھا تو میں نے اس قسم کا طوفان بچشم خوددیکھا تھا۔بحرِ ہند کے مشرق سے ایک طوفان اٹھا اور مغرب کی طرف گزرگیا۔اس کے اثر سے نہایت سخت بارش ہوئی۔جہازات پہاڑوں سے جاٹکرائے اور دوسرے بھی جانی و مالی بہت سے نقصانات ہوئے۔تورات اور قرآن مجید میں طوفان نوح کے جو حالات بیان ہوئے ہیں وہ اس سے بہت ملتے جلتے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ان واقعات کی ترتیب پر ایک نظر اور مقسم بہ اور آیات مابعد سے ان کا تعلق۔حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوطؑ کی جو سرگزشت یہاں بیان ہوئی ہے اس کا ایک پہلو تو بالکل واضح ہے کہ اس میں بشارت اور انذار دونوں ساتھ ساتھ موجودہیں۔غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ بعینہٖ یہی حال ہواکا بھی ہے۔وہ بھی کبھی پیامِ رحمت بن کر ظاہرہوتی ہے اور کبھی صورت عذاب بن کر۔پس حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ کی یہ جامع حیثیت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ یہاں وہی تمہید کی جگہ پائے۔(تفسیر فراہی)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ ﴿1﴾ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ ﴿2﴾ فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ ﴿3﴾ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ ﴿4﴾ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ ﴿5﴾ وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ ﴿6﴾ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ ﴿7﴾ اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ ﴿8﴾ یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ ﴿9﴾ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ ﴿10﴾ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ ﴿11﴾ یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ ﴿12﴾ یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ ﴿13﴾ ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ﴿14﴾ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ ﴿15﴾ اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ ﴿16﴾ كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ ﴿17﴾ وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ﴿18﴾ وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ ﴿19﴾ وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ ﴿20﴾ وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ﴿21﴾ وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ ﴿22﴾ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿23ع الذاريات 51﴾
1. بکھیرنے والیوں کی قسم جو اُڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔ 2. پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔ 3. پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں۔ 4. پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔ 5. کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے۔ 6. اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا۔ 7. اور آسمان کی قسم جس میں رستے ہیں۔ 8. کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو۔ 9. اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے۔ 10. اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں۔ 11. جو بےخبری میں بھولے ہوئے ہیں۔ 12. پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟ 13. اُس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔ 14. اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ 15. بےشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے۔ 16. اور) جو جو (نعمتیں) ان کا پروردگار انہیں دیتا ہوگا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بےشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے۔ 17. رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے۔ 18. اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے۔ 19. اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا۔ 20. اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 21. اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ 22. اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے۔ 23. تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو۔

تفسیر آیات

بارش سے تعلق رکھنے والی ہوائیں اور ان کی قسم:۔  ان ابتدائی چار آیات میں مختلف قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو بارش کے نظام پر دلالت کرتی ہیں۔پہلے کچھ گردوغبار اڑنا شروع ہوجاتاہے۔پھر آسمان کے کسی کونے سے لاکھوں اور کروڑوں ٹن پانی کا بوجھ اٹھانے والی گھٹائیں نمودار ہوجاتی ہیں۔پھر ٹھنڈی اور نرم ہوئیں چلتی ہیں جو بارش کی خوشخبری لاتی اور دلوں کو راحت و سرور بخشتی ہیں۔پھر یہی ہوائیں بادلوں کو ان علاقوں کی طرف لے جاتی ہیں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا منظور ہوتاہے اور جس قدر بارش برسانا منظور ہوتاہے بعض مفسرین نے"فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا"سے مراد کشتیاں لی ہیں جو دھیرے دھیرے چلتی ہیں اور بعض نے سیارے جو سبک رفتاری سے محوگردش رہتے ہیں ۔اسی طرح "فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا"سے بعض مفسرین نے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو رزق کی تقسیم پر مامور ہیں۔ ان کے نزدیک جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ان کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہے ۔یعنی گردوغبار اڑانے والی ہوائیں تو سطح زمین پرچلتی ہیں۔ بادل اٹھانے والی ہوائیں سطح زمین سے کافی بلندی پر ہوتی ہیں۔ستارے زمین سے بہت دور اور بلندی پر ہیں۔اور فرشتے ان سے بھی زیادہ بلندی پرہیں۔ ان دونوں تفسیروں میں اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو ہی ترجیح دی ہے۔(تیسیر القرآن)

2۔ جب صفات کا عطف"ف"کے ساتھ ہوتو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان صفات میں ترتیب ہے۔۔۔۔۔پس یہ خیال کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ یہ مختلف چیزوں کی صفتیں ہیں۔(تفسیر فراہی)

اور ہواؤں کے تصرفات اور ان کے فرق و امتیاز کی نیرنگیاں عجیب و غریب ہیں۔ایک قوم کے ساتھ ان کا معاملہ کچھ اور ہوتاہے دوسری قوم کے ساتھ کچھ اور ۔کسی قوم کے لیے یہ ابر کرم کی بشارت بن کر نمودار ہوتی ہیں،کسی قوم کے لیے طوفانِ عذاب بن کر ۔آگے چل کر ہم اس کی کسی قدر تفصیل کریں گے۔اور یہ جو ایک غیر عاقل چیز کی طرف ایک ارادی فعل کی نسبت کی گئی ہے تو یہ اسلوب کلام عرب اور قرآن مجید دونوں میں کثرت کے ساتھ پایا جاتاہے۔(تفسیر فراہی)

۔ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔مراد وہ ہوائیں ہیں جو غبار وغیرہ اُڑاتی رہتی ہیں۔۔۔۔ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔مراد وہ بادل ہیں جو بارش سے لدے رہتے ہیں۔۔۔۔ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔مراد وہ فرشتے ہیں جو مخلوقات میں مادّی وغیرمادّی ہر طرح کی تقسیمات بامرالٰہی کرتے رہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اس قسم کا مطلب یہ ہے کہ جس بےنظیر نظم اور باقاعدگی کے ساتھ بارش کا یہ عظیم الشان ضابطہ تمہاری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، اور جو حکمت اور مصلحتیں اس میں صریح طور پر کار فرما نظر آتی ہیں، وہ اس بات پر گواہی دے رہی ہیں کہ یہ دنیا کوئی بےمقصد اور بےمعنی گھروندا نہیں ہے جس میں لاکھوں کروڑوں برس سے ایک بہت بڑا کھیل بس یونہی الل ٹپ ہوئے جا رہا ہو، بلکہ یہ در حقیقت ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہو رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

7۔ حبک کا لغوی معنی:۔حبک(الثوب)بمعنی کپڑا بننا اور حباک بمعنی جولاہااور حبک حابک الثوب بمعنی جولاہے کا کپڑے کو کاریگری سے بننا۔ عمدہ بننا ہے(المنجد)اور کپڑے بنتے وقت ایک دھاگا طول کی طرف جاتاہے اور دوسرا عرض کی طرف ۔ پھر حبک کا معنی راستہ بھی ہے۔(مفردات القرآن۔منجد)اور اس کی جمع حبک ہے۔گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس کے طول و عرض دونوں اطراف میں بے شمار راہیں ہیں جو ایک دوسرےکو کراس کرتی اور چوک بناتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے اس کا ترجمہ بعض مترجمین نے جال دار یا جالی دار آسمان بھی کیا ہے۔یعنی اس آسمان کی قسم جو سیاروں اور فرشتوں کی لاتعداد گزرگاہوں اور راستوں کی وجہ سے جالی دار بن گیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔مراد سرما کے سرخ دھاریوں والے بادل ہیں جن کو پچھلی قوموں کی تباہی میں بڑا دخل رہاہے۔ ان کے اندر مضمر تباہی جزاو سزا پر ایک واضح دلیل فراہم کرتی ہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

اس اختلاف اقوال پر متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق تم لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو اور ہر ایک بات دوسرے سے مختلف ہے۔ (تفہیم القرآن)

آیت  : 15  سے پہلے  چار  آیات  ( 11 تا 14 )  کا خلاصہ  برائے  حوالہ   ۔

10۔ الْخَرّٰصُوْنَ۔خرّاص حقیقۃً وہ شخص ہے جو بغیر کسی دلیل قطعی کے، یوں ہی ظن و تخمین سے کام لیتا ہے،خواہ اتفاق سے کبھی اس کا گمان صحیح بھی ثابت ہوجائے۔۔۔۔کثرت سے"قدیم/معقولی"اور"جدید فلسفی"بلا علم و تحقیق الٰہیات پر رائے زنی کرتے رہنے والے خرّاصون ہی کے تحت میں آتے ہیں۔(تفسیرماجدی)

۔ انسان کی زندگی سے متعلق جو امور جتنے ہی اہم اور دور رس نتائج کے حامل ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے اتنا ہی زیادہ اہتمام فرمایا ہے۔ اٹکل اور اندازوں پر وہی امور اس نے چھوڑے ہیں جن کی انجام کار کے پہلو سے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ جن امور کی خاص اہمیت ہے جو دور رس نتائج کے حامل ہیں اور جن پر انسان کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے قیاس و گمان پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان میں ہر پہلو سے اس نے حجت تمام کردی ہے تاکہ انسان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ ان امور میں اٹکل کے گھوڑے دوڑانا بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص اندھیری رات میں اللہ کی بخشی ہوئی روشنی کو گل اور اپنی آنکھیں بند کر کے محض اٹکل سے راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ (تدبرِ قرآن)

14۔ مفسر تھانویؒ نے خوب لکھا ہے کہ یہ جواب اس طرز کا ہے،جیسے کسی مجرم کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوجائے،مگروہ احمق محض اس بناپر کہ تاریخ ووقت نہیں بیان کیا گیا ہے،طنزاً یہ کہتا رہے کہ اچھا تو وہ دن کب آئے گا؟(تھانوی،ج2/ص:574)(تفسیر ماجدی)

17۔  تقویٰ  اور احسان  کی بعض  علامات  :  ( 1 )  یہ لوگ  راتوں کو کم سوتے تھے ۔  یعنی   بے فکروں  اور  لاابالیوں  کی طرح اپنی   راتیں  عیش  کے  بستروں  میں  نہیں  بلکہ  روز  حساب  کی تیاریوں  میں  گزارتے  تھے ۔  انکی  راتوں  کا زیادہ  حصہ  خدا کے حضور  سجود   و قیام اور ذکر  و فکر  میں  بسر  ہوتا۔۔۔۔۔۔اس  تفصیل  سے  یہ بات  واضح  ہوئی   کہ شب  بیداری  ان اہل  تقویٰ   کی خاص  علامات  میں سے ہے ۔ جو مرتبہ  احسان  پر فائز   ہیں۔  جو لوگ  اس مرتبہ  کے حصول  کی تمنا  رکھتے  ہیں  وہ اس کا اہتمام  بھی  کرتے  ہیں ۔ (تدبرِ قرآن)

18۔  یہ ان کی تمام شب خیزی اور تمام رکوع و سجود کی غایت بیان ہوئی ہے ۔  ۔۔۔۔ اسلام میں عبادت و ریاضت کا مقصود دوسرے  مذاہب   سے  بالکل  مختلف ہے   جہاں  عبادت  و ریاضت  کا اصل   مقصود  کشف  مشاہدہ   ، تجلی   ذات  ،  ذات  خداوندی  میں  انضمام  وغیرہ ۔  جوگیوں  ، راہبوں  اور سنیاسیوں  کا مقصود بھی یہی چیزیں ہوتی ہیں ۔  ۔۔۔قرآن  و حدیث  دونوں  سے   ثابت    ہے کہ  استغفار   کیلئے   سب  سے زیادہ   سازگار  وقت  آخر  شب  اور سحر  کا ہے ۔  رحمت   باری تعالی  استغفار  کرنیوالوں  کی منتظر ہوتی ہے ۔(تدبرقرآن)

ــــ کیا ٹھکانا ہے خشیت ِ قلب کا !رات کا بیشتر حصہ جاگ جاگ کر عبادت میں کاٹ دیتے ہیں،اور سحر کے وقت استغفار اس طرح کرتے ہیں کہ گویا رات عبادت میں نہیں،جرم و معصیت میں گزاری ہے!(تفسیر ماجدی)

۔ جواب یہ ہے کہ ان حضرات کو چونکہ حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کو پہچانتے ہیں اور اپنی ساری عبادت کو اس کے شایان شان نہیں دیکھتے، اس لئے اپنی اس تقصیر و کوتاہی سے استغفار کرتے ہیں (مظہری) (معارف القرآن)

19۔  یہ  محسنین  جس طرح  خدا  کا حق  پہچاننے  والے  ہیں  اسی طرح   اس کے بندوں  کے حقوق  بھی  ادا کرنے   والے  ہیں  ، وہ  اپنے  مالوں  میں صرف  اپنے  نفس  کا حق  ہی نہیں  بلکہ  سائلوں  اور  محروموں  کا حق  بھی  سمجھتے  ہیں۔   محروم  سے مراد   خاص  طور  پر  وہ لوگ  جو پہلے  سے  مال دار  ( غارمین  )  تم  انکو  چہرے   بشرے  سے  پہچان سکتے  ہو ۔ وہ  لوگوں  سے لپٹ  کر سوال نہیں  کرتے   ( البقرۂ :  273 )(تدبر قرآن)

ــــ  یہ تین  صفات  ہیں  جن کی بنا پر  اللہ  تعالی  انکو  متقی  اور  محسن  قرار  دیتا ہے ۔ ( 1 )  آخرت  پر ایمان  (2 )  اللہ کی بندگی  کا حق  اپنی  جان  لڑا کر (3 ) اللہ کے بندوں  کا حق  ) – سائل  اور محروم  کے جس  حق  کا یہاں  ذکر  کیا گیا  ہے ۔  ( ضیا القرآن  میں بھی  یہی  رائے )   (تفہیم القرآن)

ــــ یعنی جس طرح قرض اداکرنا ایک حق اور ضروری امر ہے۔اور قرضہ اداکرکے کوئی احسان نہیں جتلاتا کہ میں نے تمہارا قرضہ اداکردیا۔اسی طرح مالدارلوگوں کے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہوتاہے۔اگر وہ ادانہ کرے گا تو اس کے اپنے سرپر بوجھ رہے گا۔(تیسیر القرآن)

20۔ ۔۔اوپر جزا و سزا کی جو نشانیاں مذکور ہوئی ہیں اس آیت کا عطف انہی پر ہے۔۔۔۔۔(تدبر قرآن)

22۔یعنی قیامت کا۔۔۔۔۔ وَ فِی السَّمَآءِ۔ یعنی لوح محفوظ میں۔اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رزق کا، مقدر کا اور قیامت کا،سب کاعلم لوحِ محفوظ میں مندرج ہے۔لیکن عام طورپر مفسرین نے معنی یہ لیے ہیں کہ اسبابِ رزق(مثلاً بارش)وغیرہ کا اصل نزول آسمان ہی سے ہوتا ہے۔(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ ﴿24﴾ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ ﴿25﴾ فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ ﴿26﴾ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ ﴿27﴾ فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ﴿28﴾ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ ﴿29﴾ قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ ﴿30﴾ پارہ:27 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ ﴿31﴾ قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ ﴿32﴾ لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ ﴿33﴾ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ﴿34﴾ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ﴿35﴾ فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ ﴿36﴾ وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ ﴿37﴾ وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ﴿38﴾ فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ ﴿39﴾ فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ ﴿40﴾ وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ ﴿41﴾ مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ ﴿42﴾ وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ ﴿43﴾ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ ﴿44﴾ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ ﴿45﴾ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿46ع الذاريات 51﴾
24. بھلا تمہارے پاس ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟ 25. جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان۔ 26. تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے۔ 27. (اور کھانے کے لئے) ان کے آگے رکھ دیا۔ کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟ 28. اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی ۔ 29. تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ۔ 30. (انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے۔ وہ بےشک صاحبِ حکمت (اور) خبردار ہے۔ 31. ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟ 32. انہوں نے کہا کہ ہم گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ 33. تاکہ ان پر کھنگر برسائیں۔ 34. جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں۔ 35. تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا۔ 36. اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ 37. اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی۔ 38. اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا۔ 39. تو اس نے اپنی جماعت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ۔ 40. تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا۔ 41. اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی۔ 42. وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی۔ 43. اور (قوم) ثمود (کے حال) میں (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔ 44. تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ سو ان کو کڑک نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔ 45. پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ ہی کرسکتے تھے۔ 46. اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بےشک وہ نافرمان لوگ تھے۔

تفسیر آیات

24۔ اب یہاں سے رکوع دوم کے اختتام تک انبیاء (علیہم السلام) اور بعض گزشتہ قوموں کے انجام کی طرف پے در پے مختصر اشارات کیے گئے ہیں جن سے دو باتیں ذہن نشین کرانی مقصود ہیں۔ ایک یہ کہ انسانی تاریخ میں خدا کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکوکاروں کے لیے انعام اور ظالموں کے لیے سزا کی مثالیں مسلسل پائی جاتی ہیں۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ دنیا کی اس زندگی میں بھی انسان کے ساتھ اس کے خالق کا معاملہ صرف قوانین طبیعی (Physical Law) پر مبنی نہیں ہے بلکہ اخلاقی قانون (Moral Law) اس کے ساتھ کار فرما ہے۔۔۔۔۔۔دوسری بات جو ان تاریخی اشارات سے ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جن قوموں نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی بات نہ مانی اور اپنی زندگی کا پورا رویہ توحید، رسالت اور آخرت کے انکار پر قائم کیا وہ آخر کار ہلاکت کی مستحق ہو کر رہیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ سیدنا ابراہیمؑ کے ہاں فرشتوں کا سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دینے کا ذکر پہلے سورۂ ہود کی آیت 69 تا76،سورۂ حجرات آیت51 تا 60 اور سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر 31،32 میں گذرچکا ہے وہ حواشی بھی دیکھ لیے جائیں۔۔۔۔۔سیدنا ابراہیمؑ کے ہاں فرشتوں کی آمد:۔  یہ معزز مہمان فرشتے تھے اور مفسرین کے نزدیک یہ تین فرشتے تھے ۔سیدنا جبرائیل ،سیدنامیکائیل اور سیدنا اسرافیل جو انسانی شکلوں میں آئے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ۔امام احمد بن حنبلؒ  اور بعض فقہاء نے آیت سے مہمانوں کی مہمان داری کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

25۔ فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ، فرشتوں نے سلاماً کہا تھا، خلیل اللہ نے جواب میں سلام رفع کے ساتھ کہا کیونکہ مرفوع ہونے کی صورت میں یہ جملہ اسمیہ بنا جس میں دوام و استمرار اور قوت زیادہ ہے، تو جیسا قرآن کریم میں حکم ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے والے کے الفاظ سے بہتر الفاظ میں ہو اس کی تعمیل فرمائی۔  (معارف القرآن)

28۔  سیدنا ابراہیمؑ کے خوف کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں قبائلی دستور یہ تھا کہ اگر مہمان کھانا نہ کھائے تو یہ سمجھا جاتاتھا کہ یہ کسی بُری نیت سے آیا ہے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے سے سیدنا ابراہیمؑ کو معلوم ہوگیا ہو کہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔اس صورت سے ڈرنے کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے غیرمعمولی حالات کے سوا انسانی شکل میں نہیں آیا کرتے لہذا آپ کو خوف لاحق ہوا کہ غالباً کوئی خوفناک معاملہ درپیش ہے۔(تیسیر القرآن)

29۔یعنی ایک تو میں بوڑھی، اوپر سے بانجھ۔ اب میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ بائیبل کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر سو سال، اور حضرت سارہ کی عمر 90 سال تھی (پیدائش، 1817) (تفہیم القرآن)

34۔ اس کے دومطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ پتھر صرف مجرم قوم کے افراد ہی کو ہلاک کریں گے۔اگر کسی دوسرے کو لگ بھی جائیں تو اسے ہلاک نہیں کریں گے۔اور دوسرے یہ کہ ہر پتھر پر نشان کردیا گیا تھا کہ وہ فلاں شخص کو ہلاک کرے گا۔(تیسیر القرآن)

37۔ لوگوں کے لئے نشانی بحیرہ مردار:۔ وہ نشانی یہ تھی کہ جب فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اٹھا کر اور بلندی پر لے جاکر پھر اس کو الٹا کر زمین پر دے مارا تو یہ پورا خطہ زمین کے اندر دھنس گیا اور سطح سمندر سے چارسو کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اس کے اوپر کالاپانی چڑھ آیا ۔جو ایک سمندر کی شکل اختیار کرگیا۔پانی کے اس ذخیرہ کو بحر میت یا بحیرۂ مردار یا غرقاب ِ لوطی کہا جاتاہے۔اس بحیرۂ مردار(Dead Sea)کا جنوبی علاقہ آج بھی عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کررہاہے۔(تیسیر القرآن)

38۔ 'سلطَان'کا لفظ ان ساری چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو از قبیل دلائل نبوت اور از قسم غلبہ و کامیابی ورعب و ہیبت عطافرمائی تھیں۔(تفسیر فراہی)

40۔سلطان کا اطلاق واحد  و جمع دونوں پر آتاہے۔(تفسیر ماجدی)

41۔۔۔۔عربی میں بارش لانے والی ہواؤں کو الوَاقِح (بادآور) کہتے ہیں اور بےفیض ومضر ہواؤں کے لئے عَقِیْمُ(بانجھ) کی صفت آتی ہے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

42۔ یہ بانجھ ہوابادصرصر تھی، اولوں کی طرح ٹھنڈی یخ اور آندھی سے بھی زیادہ تیز ۔جو بے قابوہوئی جارہی تھی۔ یہ طوفانی ہوا ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلی ۔ان کے مکانوں کے اندر داخل ہوکر ہرچیز کو فنا کررہی تھی۔اس کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر پہلے بھی گزرچکا ہے اور بعد میں بھی آئے گا۔(تیسیر القرآن)

43۔ مفسرین میں اس امر پر اختلاف ہے کہ اس سے مراد کون سی مہلت ہے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ یہ اشارہ سورة ہود کی اس آیت کی طرف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ثمود کے لوگوں نے جب حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کردیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کردیا گیا کہ تین دن تک مزے کرلو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا۔ بخلاف اس کے حضرت حسن بصری کا خیال ہے کہ یہ بات حضرت صالح ؑ نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی قوم سے فرمائی تھی اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم توبہ و ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہو سکے گی اور اس کے بعد تمہاری شامت آجائے گی۔ ان دونوں تفسیروں میں سے دوسری تفسیر ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بعد کی آیت فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ (پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی) یہ بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے وہ سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنبیہ کے بعد کی۔ اس کے برعکس سورة ہود والی آیت میں تین دن کی جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان ظالموں کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہوجانے کے بعد دی گئی تھی۔ (تفہیم القرآن)

44۔ ایک تو یہ کہ یہ عذاب کھلم کھلا آیا اور یہ لوگ اس کو دیکھتے رہے۔۔۔۔۔دوسرا یہ کہ یہ عذاب آناً فاناً نمودار ہوا اور لوگوں کو ذرابھی مہلت نہ مل سکی۔۔۔۔۔تیسرا یہ کہ وہ بالکل حیران و سراسیمہ رہ گئے، کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں۔(تفسیر فراہی)

۔گرنے والی بجلی کا عذاب:۔ صٰعِقَةُ آسمان سے گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں اور وہ جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر خاکستر بنادیتی ہے۔قوم ثمود ْکا قصہ بھی پہلے بہت سے مقامات پر گزرچکاہے۔ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کے لیے کہیں صَیحَۃ(زبردست چیخ،کڑک،دھماکہ)کا لفظ آیاہے اور کہیں رَجفَۃ (زلزلہ)کا۔گویا ان پر زمین سے عذاب آیا تھا اور آسمان سے بھی اور ہرمقام پر کسی ایک پہلو کا ذکر کردیا گیاہے۔(تیسیر القرآن)

45۔یعنی جب انہوں نے آسمان سے کڑک سنی تو ان پر دہشت اور کپکی طاری ہوگئی اور وہ کھڑے نہ رہ سکے بلکہ زمین پر گرپڑے ۔(تفسیر فراہی)


تیسرا رکوع

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ﴿47﴾ وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ ﴿48﴾ وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ﴿49﴾ فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ ﴿50﴾ وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ ﴿51﴾ كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ ﴿52﴾ اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ ﴿53﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍۗ ٘ ﴿54﴾ وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿55﴾ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ﴿56﴾ مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ ﴿57﴾ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ ﴿58﴾ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ ﴿59﴾ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿60ع الذاريات 51﴾
47. اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم کو سب مقدور ہے۔ 48. اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ 49. اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ 50. تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں۔ 51. اور خدا کے ساتھ کسی اَور کو معبود نہ بناؤ۔ میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں۔ 52. اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو پیغمبر آتا وہ اس کو جادوگر یا دیوانہ کہتے۔ 53. کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں۔ 54. تو ان سے اعراض کرو۔ تم کو (ہماری) طرف سے ملامت نہ ہوگی۔ 55. اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔ 56. اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔ 57. میں ان سے طالب رزق نہیں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں۔ 58. خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے۔ 59. کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہیئے۔ 60. جس دن کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے ان کے لئے خرابی ہے۔

تفسیر آیات

47۔اصل الفاظ ہیں وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔ موسع کے معنی طاقت و مقدرت رکھنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں اور وسیع کرنے والے کے بھی۔۔۔۔دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم بس ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ مسلسل اس میں توسیع کر رہے ہیں اور ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہو رہے ہیں۔ ایسی زبردست خلاق ہستی کو آخر تم نے اعادہ خلق سے عاجز کیوں سمجھ رکھا ہے ؟ (تفہیم القرآن)

49۔ مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات کا تزویج کے اصول پر بنایا جانا، اور دنیا کی تمام اشیاء کا زوج زوج ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو آخرت کے وجوب پر صریح شہادت دے رہی ہے۔ اگر تم غور کرو تو اس سے خود تمہاری عقل یہ نتیجہ اخذ کرسکتی ہے کہ جب دنیا کی ہر چیز کا ایک جوڑا ہے، اور کوئی چیز اپنے جوڑے سے ملے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوتی، تو دنیا کی یہ زندگی کیسے بےجوڑ ہو سکتی ہے ؟ اس کا جوڑا لازماً آخرت ہے۔ وہ نہ ہو تو یہ قطعاً بےنتیجہ ہو کر رہ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)

 56 ۔   یہی  چیز  انکی   خلقت  کی غایت  اور انکی  زندگی  کا نصب العین  ہے ۔ (تدبرقرآن)

ـــ           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی  آمد  برائے  بندگی                               زندگی   بے بندگی  شرمندگی

                            ڈھونڈھنے  والا  ستاروں کی گزر گاہوں  کا                        اپنے  افکار   کی دنیا  میں سفر  کر نہ  سکا

۔ یعنی میں نے ان کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری بندگی تو ان کو اس لیے کرنی چاہیے کہ میں ان کا خالق ہوں۔ دوسرے کسی نے جب ان کو پیدا نہیں کیا ہے تو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اس کی بندگی کریں، اور ان کے لیے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ ان کا خالق تو ہوں میں اور یہ بندگی کرتے پھریں دوسروں کی۔۔۔۔۔۔پھر یہاں صرف جنوں اور انسانوں ہی کے متعلق کیوں فرمایا گیا کہ میں نے ان کو اپنے سوا کسی کی بندگی کے لیے پیدا نہیں کیا ہے ؟ حالانکہ مخلوقات کا ذرہ ذرہ اللہ ہی کی بندگی کے لیے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زمین پر صرف جن اور انسان ایسی مخلوق ہیں جن کو یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا چاہیں تو کریں۔ (تفہیم القرآن)

ـــ حالانکہ   مخلوقات  کا ذرہ  ذرہ  اللہ ہی کی  بندگی  کیلئے   ہے  پھر   صرف   جنوں  اور انسانوں  کیلئے   کیوں ؟ صرف انہی  کو اختیار   کہ وہ   بندگی  کریں  یا بغاوت  - اس  کا مطلب  یہ  بھی    نہیں  کہ جن   اور انسان  صرف  نماز  ،  روزے   اور تسبیح  و تحلیل  کیلئے   پیدا  کئے   گئے  ۔بلکہ   عبادت  کا وسیع   تر مفہوم  - ان کے علاوہ   اطاعت  ، فرمانبرداری   نیازمندی  ، دین  الٰہی   کی پیروی   کرنا  اور صرف  اللہ سے  دعا  کرنا اور اس  کا  تقویٰ  اختیار  کرنا ۔  جن  اور انسان  الگ الگ  مخلوق ۔(تفہیم القرآن)

ــــ یہ تینوں آیتیں (56 تا  58)  نہایت اہم مطالب پر مشتمل ہیں۔ ان میں ہماری پیدائش کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔پھر اس مقصدسےجو جزاو سزا لازم آتی ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔نیز اس میں اہل ایمان کے لیے خوش خبری اور منکرین کے لیے دھمکی بھی ہے ۔چنانچہ ہم اس فصل میں ان باتوں کا بعض دوسری اہم حقیقتوں کے ساتھ ذکر کریں گے۔۔۔۔۔انسان کی خلقت کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس کے لیے کمال کی راہیں کھولی جائیں ۔یہ کمالات خود اس کے وجودکے اندر ودیعت ہیں جو اس کی خلقت سے ظہور میں آتے ہیں اور پھر وہ درجہ بدرجہ قوت سے فعل کی صورت اختیار کرتے ہیں پھر ان سے دوسرے کمالات ظہور میں آتے ہیں یہاں تک کہ انسان آہستہ آہستہ ترقی اور کمال کے آخری نقطہ تک پہنچ جاتاہے۔(تفسیر فراہی)

59۔ ظلم سے مراد یہاں حقیقت اور صداقت پر ظلم کرنا، اور خود اپنی فطرت پر ظلم کرنا ہے۔ (تفہیم القرآن)