52 - سورة الطور (مکیہ)

رکوع - 2 آیات - 49

مضمون:  مکذبین کے لیے تیرے رب کا عذاب واقع ہوکے رہے گا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

نام : پہلی   ہی  آیت  میں  لفظ  طور  آیا  ہے  جسکی  مناسبت  سے اس کا نام  " الطور "  رکھا گیا ہے ۔

شان نزول : حضور ؐ  کے قیام  مکہ  کے  دوسرے   دور  (  4 تا  5 نبوی  )  میں نازل  ہوئی   جب  آپ  ؐ  پر شک  و ریب   کی بوچھاڑ  ہو رہی تھی   ۔  پے درپے   سوالات   کے اسلوب  کے ذریعے   انسانی  ضمیر  کو بیدار  کیا گیا  تا کہ وہ  آخرت  اور قیامت  کا قائل  ہوسکے ۔

نظم کلام : سورۂ  قٓ

ترتیب مطالعہ و اہم  مضامین  : (1 )  ر -1  ( آخرت  کی جزا و سزا )   (2 ) ر -  2 ( حضور ؐ  کو سلسلہ  تبلیغ  جاری  رکھنے  کی ہدایت  ۔(۔


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الطُّوْرِۙ ﴿1﴾ وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ ﴿2﴾ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ ﴿3﴾ وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ ﴿4﴾ وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ ﴿5﴾ وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ ﴿6﴾ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ ﴿7﴾ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ ﴿8﴾ یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ ﴿9﴾ وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ ﴿10﴾ فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ ﴿11﴾ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ ﴿12﴾ یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ ﴿13﴾ هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ﴿14﴾ اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ ﴿15﴾ اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿16﴾ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ ﴿17﴾ فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ﴿18﴾ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ ﴿19﴾ مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ ﴿20﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ ﴿21﴾ وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ ﴿22﴾ یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ ﴿23﴾ وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ ﴿24﴾ وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ ﴿25﴾ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ﴿26﴾ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ ﴿27﴾ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿28ع الطور 52﴾
1ْ. (کوہ) طور کی قسم۔ 2. اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے۔ 3. کشادہ اوراق میں۔ 4. اور آباد گھر کی۔ 5. اور اونچی چھت کی۔ 6. اور ابلتے ہوئے دریا کی۔ 7. کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ 8. (اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گا۔ 9. جس دن آسمان لرزنے لگا کپکپا کر۔ 10. اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کر۔ 11. اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے۔ 12. جو خوض (باطل) میں پڑے کھیل رہے ہیں۔ 13. جس دن ان کو آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جائیں گے۔ 14. یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے۔ 15. تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا۔ 16. اس میں داخل ہوجاؤ اور صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے یکساں ہے۔ جو کام تم کیا کرتے تھے (یہ) انہی کا تم کو بدلہ مل رہا ہے۔ 17. جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ 18. جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ 19. اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو۔ 20. تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے۔ 21. اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے۔ 22. اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے۔ 23. وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات۔ 24. اور نوجوان خدمت گار (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی ان کے آس پاس پھریں گے۔ 25. اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے آپس میں گفتگو کریں گے۔ 26. کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے۔ 27. تو خدا نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا۔ 28. اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

2 ۔  کتاب مسطور  " سے مراد  تورات۔  اس کا  واضح  قرینہ  بعد  کا عطف   " طور "  پر ۔(تدبر قرآن)

۔ اس کتاب  سے  شاید  لوح محفوظ  مراد  ہو یا  لوگوں  کا اعمالنامہ   یا قرآن  کریم یا طور  کی مناسبت  سے تورات  یا عام  کتب سماویہ  ۔(تفسیر عثمانی)

اہل کتاب بالعموم توراۃ، زَبور، انجیل اور صُحُف انبیاء کو اسی رَقّ پر لکھا کرتے تھے تاکہ طویل مدت تک محفوظ رہ سکیں۔ یہاں کھلی کتاب سے مراد یہی مجموعہ کتب مقدسہ ہے جو اہل کتاب کے ہاں موجود تھا۔ اسے " کھلی کتاب " اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ نایاب نہ تھا، پڑھا جاتا تھا، اور بآسانی معلوم کیا جاسکتا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ (تفہیم القرآن)

4۔ " آباد  گھر "  سے مراد   حضرت  حسن  بصری  ؒ   کے نزدیک  بیت  اللہ یعنی   خانہ کعبہ   ہے جو کبھی   حج  عمرہ  اور طواف   و زیارت   کرنے  والوں سے خالی  نہیں  رہتا  ۔بعض  مفسرین  نے  اس سے مراد  وہ بیت  معمور  لیا  ہے  جس  کا ذکر   حضور  ؐ    نے  معراج  کے  سلسلہ   میں فرمایا   جسکی  دیوار   سے حضرت  ابراھیم ؑ   کو ٹیک  لگائے  دیکھا  ( اس  سے  حضرت  ابراھیم  ؑ   کی مناسبت )  - نتیجہ بحث :   اس میں  ان تمام  کعبوں  کی قسم  شامل  ہے جو  ساری  کائنات  میں پائے  جاتے  ہیں۔(تفہیم القرآن)

ــــ بیت المعمور کونسا گھر ہے؟یعنی ہروقت آباد رہنے والا گھر ۔اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔جوہر وقت حج و عمرہ اور طواف اور عبادت کرنے والوں سے بھرارہتاہے اور کبھی خالی نہیں ہوتا۔نیز اس سے مراد ساتویں آسمان پر فرشتوں کی وہ عبادت گاہ بھی ہے جو خانہ کعبہ کے عین سیدھ میں واقع ہے۔رسول اللہؐ کو شبِ معراج میں جب آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپؐ نے سیدنا ابراہیمؑ کو اسی گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے دیکھاتھا۔(تیسیر القرآن)

اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جو زمین پر ایک قُبّے کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ اور یہاں یہ لفظ پورے عالم بالا کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)

6۔ ۔۔۔۔ان دو معنوں کو ساقط کر کے یہاں البحر المسجور کو محبوس، مخلوط، اور لبریزد موجزن کے معنی ہی میں لیا جاسکتا ہے۔(تفہیم القرآن)

۔اس کی تاریخی شہادت قوم نوح کے واقعہ میں بھی موجود ہے اور قوم فرعون کے واقعہ میں بھی۔ یہ دونوں قومیں سمندر ہی کے عذاب میں گرفتار ہوئیں جس کی تفصیلات تورات میں بھی موجود ہیں اور قرآن میں بھی۔ (تدبرِ قرآن)

۔ حضرت علی سے کسی یہودی نے پوچھا کہ جہنم کہاں ہے ؟ تو آپ نے فرمایا سمندر ہے، یہودی نے بھی جو کتب سابقہ کا عالم تھا اس کی تصدیق کی (قرطبی) اور حضرت قتادہ وغیرہ نے مسجور کے معنی مملو کے کئے ہیں، یعنی پانی سے بھرا ہوا، ابن جریر نے اسی معنی کو اختیار کیا (ابن کثیر) یہی معنی خلاصہ تفسیر میں اوپر بیان ہوئے ہیں۔(معارف القرآن)

7 -8 ۔  یہ  ہے وہ   اصل  دعویٰ  جو اوپر  کی قسموں  کے بعد   پیش  کیا گیا ہے اور  یہی  اس سورۂ  کا عمود ہے ۔( تدبر قرآن)

ــــ   یہ تمام  چیزیں  جن کی قسم  کھائی  شہادت   دیتی  ہیں  کہ وہ  خدا  بڑی  قدرت  و عظمت  والا  ہے ۔  پھر  اسکی  نافرمانی  کرنیوالوں  پر  عذاب  کیوں  نہیں آئے  گا ۔ کس کی طاقت   ہے  جو  اس کے بھیجے  ہوئے  عذاب  کو الٹا   واپس  کردے۔ (تفسیر عثمانی)

8۔ حضرت  عمر فاروق  رضی اللہ تعالی عنہ  نے ایک روز   سورۂ   طور پڑھی   جب  اس آیت  پر  پہنچے   تو ایک سرد آہ  بھری  اور  بیس  روز  تک بیمار رہے ۔ حضرت  جبیر  بن مطعم   رضی اللہ تعالی عنہ   فرماتے ہیں  کہ مسلمان ہونے   سے  پہلے   مدینہ  گئے ۔  حضور ؐ   مغرب  کی نماز   میں  سورۂ  طورکی    اس آیت   پر پہنچے   ۔لگا جیسے  میرا دل   پھٹ جائے گا ۔ فورا  ً اسلام   قبول کرلیا ۔ ( قرطبی ) (معارف  القرآن)

۔ یہ ہے وہ حقیقت جس پر ان پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔۔۔۔۔۔اب غور کیجیے کہ اس کے وقوع پر وہ پانچ چیزیں کس طرح دلالت کرتی ہیں جن کی قسم کھائی گئی ہے۔( وضاحت کے لیےصفحہ 163 سے  166) (تفہیم القرآن)

9۔    یعنی  آسمان  لرز  کر اور کپکپا کر پھٹ  پڑے  گا۔( تفسیر عثمانی)

10۔   پہاڑ   اپنی  جگہ   چھوڑ دیں گے  اور روئی  کے گالوں  کی طرح  اڑتے  پھریں گے  ۔ (تفسیر عثمانی)

21۔ یہاں " رہن " کا استعارہ بہت معنی خیز ہے۔ ایک شخص اگر کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی ادائیگی کے لیے ضمانت کے طور پر اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لے تو جب تک وہ قرض ادا نہ کر دے اس وقت تک فکِّ رہن نہیں ہو سکتا، اور اگر مدت مقررہ گزر جانے پر بھی وہ فکِّ رہن نہ کرائے تو شئے مرہونہ ضبط ہوجاتی ہے۔ انسان اور خدا کے درمیان معاملہ کی نوعیت کو یہاں اسی صورت معاملہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ خدا نے انسان کو جو سرو سامان، جو طاقتیں اور صلاحیتیں اور جو اختیارات دنیا میں عطا کیے ہیں وہ گویا ایک قرض ہے جو مالک نے اپنے بندے کو دیا ہے، اور اس قرض کی ضمانت کے طور پر بندے کا نفس خدا کے پاس رہن ہے۔ بندہ اس سرو سامان اور ان قوتوں اور اختیارات کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے اگر وہ نیکیاں کمائے جن سے یہ قرض ادا ہوسکتا ہو تو وہ شئے مرہونہ، یعنی اپنے نفس کو چھڑا لے گا، ورنہ اسے ضبط کرلیا جائے گا۔ پچھلی آیت کے معاً بعد یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے کہ مومنین صالحین خواہ بجائے خود کتنے ہی بڑے مرتبے کے لوگ ہوں، ان کی اولاد کا فکِّ رہن اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ وہ خود اپنے کسب سے اپنے نفس کو چھڑائے۔ باپ دادا کی کمائی اولاد کو نہیں چھڑا سکتی . البتہ اولاد اگر کسی درجے کے بھی ایمان اور اتباع صالحین سے اپنے آپ کو چھڑا لے جائے تو پھر یہ اللہ کا فضل اور اس کا کرم ہے کہ جنت میں وہ اسکو نیچے کے مرتبوں سے اٹھا کر اونچے مراتب میں باپ دادا کے ساتھ لے جا کر ملا دے۔ باپ دادا کی نیکیوں کا یہ فائدہ تو اولاد کو مل سکتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے کسب سے اپنے آپ کو دوزخ کا مستحق بنا لے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ باپ دادا کی خاطر اسے جنت میں پہنچا دیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اس آیت سے نکلتی ہے کہ کم درجے کی نیک اولاد کا بڑے درجے کے نیک آباء سے لے جا کر ملا دیا جانا دراصل اس اولاد کے کسب کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ان آباء کے کسب کا نتیجہ ہے۔ وہ اپنے عمل سے اس فضل کے مستحق ہوں گے کہ ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان کی اولاد کو ان سے لا ملایا جائے۔ اسی وجہ سے اللہ ان کے درجے گھٹا کر انہیں اولاد کے پاس نہیں لے جائے گا بلکہ اولاد کے درجے بڑھا کر ان کے پاس لے جائے گا، تاکہ ان پر خدا کی نعمتوں کے اتمام میں یہ کسر باقی نہ رہ جائے کہ اپنی اولاد سے دوری ان کے لیے باعث اذیت ہو  ۔ (تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ ﴿29﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ﴿30﴾ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ ﴿31﴾ اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ ﴿32﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ ﴿33﴾ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ ﴿34﴾ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ ﴿35﴾ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ ﴿36﴾ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ ﴿37﴾ اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ ﴿38﴾ اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ ﴿39﴾ اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ ﴿40﴾ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ ﴿41﴾ اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ ﴿42﴾ اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿43﴾ وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ ﴿44﴾ فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ ﴿45﴾ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ ﴿46﴾ وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿47﴾ وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ ﴿48﴾ وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ ۧ ۧ ﴿49ع الطور 52﴾
29. تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے۔ 30. کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں۔ 31. کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ 32. کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر۔ 33. کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از خود بنا لیا ہے بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے۔ 34. اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں۔ 35. کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں۔ 36. یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے۔ 37. کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟ 38. یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے۔ 39. کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹے۔ 40. (اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ 41. یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں۔ 42. کیا یہ کوئی داؤں کرنا چاہتے ہیں تو کافر تو خود داؤں میں آنے والے ہیں۔ 43. کیا خدا کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے؟ خدا ان کے شریک بنانے سے پاک ہے۔ 44. اور اگر یہ آسمان سے (عذاب) کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو کہیں کہ یہ گاڑھا بادل ہے۔ 45. پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ روز جس میں وہ بےہوش کردیئے جائیں گے، سامنے آجائے۔ 46. جس دن ان کا کوئی داؤں کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ ان کو (کہیں سے) مدد ہی ملے۔ 47. اور ظالموں کے لئے اس کے سوا اور عذاب بھی ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے۔ 48. اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو۔ تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور جب اُٹھا کرو تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو۔ 49. اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی اس کی تنزیہ کیا کرو۔

تفسیر آیات

( پورا  دوسرا  رکوع  سوالیہ  فصاحت  و بلاغت  کا شاہکار  ہے ، (  آیات :  30 – 43 )

36۔مزید غور کیجئے تو یہ حقیقت بھی آپ کے سامنے آئے گی کہ عدم یقین کی اس بیماری میں جس طرح قریش مبتلا تھے اسی طرح اس زمانے کے بہت سے مسلمان بھی مبتلا ہیں، ان کو قیامت اور جزاء و سزا سے انکار تو نہیں ہے لیکن ان کی زندگی شاہد ہے کہ ان کو اس کا یقین نہیں ہے اور ان کے اس عدم یقین کے اسباب کا تجزیہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ بھی اسی طرح کی کسی نہ کسی غلط فہمی کے شکار ہیں جس طرح کی غلط فہمیوں میں مشرکین مبتلا تھے۔ (تدبرِ قرآن)

47۔ یہ اسی مضمون کا اعادہ ہے جو سورة السجدہ، آیت 21 میں گزر چکا ہے کہ " اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں "۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کر کے ہم انہیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اوپر بالا تر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے۔  (تفہیم القرآن)

48۔  جو شخص   رات  کو بیدار   ہوا  اور اس نے  یہ  کلمات  پڑھے   ۔ چوتھا  کلمہ  ( لا الہ الا اللہ  ) اور  تیسرا کلمہ  ( سبحان اللہ و الحمدللہ  ) تو  جو دعا   مانگے  قبول  ہوگی  اور نماز  پڑھے  تو   قبول  ہوگی ۔ (  ابن کثیر )۔۔۔۔۔۔ حین تقوم  سے مراد  یہ ہے  کہ جب  آدمی  اپنی  کسی  مجلس  سے  اٹھے  تو  یہ کہے   " سبحانک اللھم  و بحمدک  ، سبحان ربک رب العزۃعما  یصفون  و سلام علی المرسلین  و الحمدللہ  رب العالمین" ۔ (معارف القرآن)

۔  اس ارشاد  کے کئی  مفہوم  ہوسکتے  اور بعینہ  نہیں  کہ  سب  مراد  ہوں  ۔(1 )  کسی  مجلس  سے اٹھو تو  اللہ  کی حمد  و تسبیح  کرکے   اٹھو  (  تمام باتوں  کا کفار ہ )  ۔ حضرت  ابو ھریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت  کہ  اٹھنے  سے  پہلے  یہ الفاظ  سبحانک اللھم و بحمدک  ، اشھد  ان لا الہ  الا انت  استغفر  ک و اتوب  الیک " ۔ (2 )  جب  تم نیند  سے بیدار  ہو کر  بستر  سے  اٹھو  تو اپنے  رب کی تسبیح  کرو ۔  ( چوتھا اور تیسرا  کلمہ  بالترتیب  پڑھنا ) ۔(3 )  نماز  کیلیئے  اٹھو تو  اللہ  کی حمد  و تسبیح  کرو (   جیسے   نماز  میں ثنا سبحانک  اللھم  و بحمدک )  ۔(4 ) اللہ کی  طرف  دعوت   دینے   کیلئے   اٹھو تو  اللہ  کی حمد و تسبیح  - حضورؐ  ہمیشہ  اپنے  خطبوں   کا آغاز  حمد و ثنا سے  ۔  (5 )  مفسر ابن  جریر  ؒ  نے  اس کا ایک اور مفہوم  یہ بیان  کیا ہے  کہ جب  تم دوپہر  کو قیلولہ  کرکے   اٹھو  تو  نماز  پڑھو  ، یعنی  نماز  ظہر  ۔(تفہیم القرآن)

49۔ رات  کے حصہ  سے مراد  شاید  تہجد  کا  وقت   ہو  اور  تاروں کے  پھرنے  کا وقت  صبح کا وقت  ہے  کیونکہ  صبح  کا  اجالا  ہوتے  ہی  ستارے    غائب  ہونا  شروع  ہوجاتے  ہیں۔(تفسیر عثمانی)

۔ اس سے مراد مغرب و عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہیں، اور تلاوت قرآن بھی، اور اللہ کا ذکر بھی۔ ۔(تفہیم القرآن)