55 - سورة الرحمن (مدنیہ)

رکوع - 3 آیات - 78

مضمون:  قرآن کی تعلیم اور آفاق و انفس کی ان نشانیوں پر غور کی دعوت جو آخرت کی جزائے اعمال کو ثابت کرتی ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

 شان نزول:  اعلان  عام کے بعد  حضور ؐ  کے قیام  مکہ  کے  دوسرے   دور   (  4 تا 5  سن نبوی )  میں  نازل   ہوئی  ۔ جب   حضور ؐ   نے   صحابہ  کرام  رضی اللہ تعالی ٰعنہم  کے سامنے   اسکی تلاوت    کی تو   ان  پر    اس کا بہت   اثر  ہوا   ۔  تلاوت   مکمل     کرنے    کے بعد    آپ ؐ  نے فرمایا   کہ    جنوں نے  تم سے   بہتر  انداز   میں  اسے  سنا  اور  جواب  دیا  -  فبای آلاء   کے  جواب   میں  وہ کہتے   تھے   لا بشیء من  نعمۂ  ربنا   نکذب " ( ہم  اپنے  رب  کی کسی بھی  نعمت  کو نہیں  جھٹلاتے )

حضرت  عبداللہ  بن مسعود  رضی اللہ تعالی عنہ   نے  ، بعض  صحابہ  کے  منع   کرنے    کے   باوجود   ، قریش  کی مجلس  میں  مقام   ابراھیم  پر   اسے   بلند  آواز  میں  سنایا   ۔ نتیجتاً انہیں شدید  مار پیٹ ہوئی۔ اس کے بعد آپ  نے فرمایا کہ  آج    سے   بڑھکر    یہ  میرے   لئے    کبھی   اتنے    ہلکے  نہ  تھے  ۔  تم  کہو  تو  کل پھر    سناؤں۔۔۔۔۔   حضرت   علی رضی  اللہ تعالی عنہ  نے  اسے  " عروس  القرآن  "   بھی  کہا  ہے ۔ ) ضیا القرآن(

نظم کلام :  سورۂ  قٓ 

ترتیب   مطالعہ  و اہم  مضامین:  (1 )  ر  -1    ( اللہ  کی نعمتوں  کا تذکرہ     )     (2 )  ر-  2   (  جزا  و سزا   اور مجرموں   کی بے بسی  )  (3 )   ر – 3  (   جنت  کے مناظر ) 

چند تعارفی  کلمات:  سب  سے   اعلےٰ   صفت   رحمٰن    ،  سب  سے   اعلٰی   کلام   ( قرآن  )  سب  سے   اعلےٰ  تخلیق    ، انسان  ،  انسان  کی اعلیٰ   ترین    صلاحیت   ، بیان   ( انسانی  ذہن  کے  کئی  حصے )     سب  حصوں   سے  بڑا  اور دو  حصوں  میں  بٹا  ہوا ۔ ایک  حصے   میں  جو دیکھا   سنا  ، اس کا تجزیہ    اور  دوسرا   حصہ   قوت   بیان  - آیات   کی ترتیب   -  اللہ  کی اطاعت   و عبادت    (    بہترین   مثال  تقدیر   شمس   و قمر   -  بہترین    عبادت   سجدہ )  نظام  عدل  و   قسط  اور  میزان  ۔ (بیان  القرآن)

آیات  ترجیع:  31  دفعہ     " فَبِأَيِّ آلَاءِرَبِّكُمَاتُكَذِّبَانِ "   اس  کا  ترجمہ   : (  تم اپنے   رب  کی کن  نعمتوں  کو  جھٹلاؤگے )۔

عنایتوں  ، قدرتوں  ، عظمتوں   ، کرشموں،   نیرنگیوں    ، عجائب     ،   شانوں  ، رحمتوں  ،  نوازشوں   ، احسانوں ۔ (تدبر قرآن)

عجائب  ،قدرت   ، قدرت  کے کمالات   ،  احسانات   ،  رب  کے کمالات    ، صفات     حمیدہ   ،  انعامات  (  تیسرے  رکوع  میں   انعامات   جنت )

کتابی ربط:پچھلی سورۃ القمر جلالی تھی، یہاں سورۂ الرحمٰن میں جلال و جمال کا امتزاج ہے اور جمال غالب ہے۔ دوزخ اور اُس کے احوال کا ذکر صرف چار(4)آیات میں ہوا،جبکہ آخری اکتیس (31)آیات میں انعامِ جنت کی تفصیل ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

کلیدی مضمون: 1۔ اس سورت میں تیس سے زیادہ مرتبہ ،آیت ترجیع"فبایّ اٰلآء ربکماتکذِّبان"کے ذریعے،انسانوں اور جنات کے مردہ ضمیر کو "تکذیب"یعنی جھٹلانے سے بچنے اور شکر گذاربننے کی دعوت دی گئی ہے۔2۔ لفظ "اٰلآء "کا مطلب:مولانا حمید الدین فراہیؒ نے اس لفظ کی لغوی تحقیق کرکے یہ بات ثابت کی ہے کہ اس لفظ کا مفہوم صرف نعمتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں نعمت، قدرت، طاقت، عجائباتِ قدرت، کمالاتِ قدرت، عنایتیں،مہربانیاں ، خوبیاں،اوصافِ حمیدہ،کمالات اور فضائل کا مفہوم بھی پایا جاتاہے۔سیاق و سباق سے معلوم ہوجاتاہے کہ یہ کس معنی میں استعمال ہواہے۔تفہیم القرآن میں مولانا مودودیؒ نے اپنے ترجمہ میں اس بات کو ملحوظ رکھاہے۔3۔ اللہ کی دو صفات "ذوالجلال"اور ذوالاکرام کا استعمال اس سورت میں دومرتبہ ہواہے اور صرف اسی سورۃ الرحمٰن میں ہواہے،کسی اور سورت میں نہیں ہوا ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلرَّحْمٰنُۙ ﴿1﴾ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ ﴿2﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ ﴿3﴾ عَلَّمَهُ الْبَیَانَ ﴿4﴾ اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ ﴿5﴾ وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ﴿6﴾ وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ ﴿7﴾ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ﴿8﴾ وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ﴿9﴾ وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ ﴿10﴾ فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ ﴿11﴾ وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ ﴿12﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿13﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ ﴿14﴾ وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ ﴿15﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿16﴾ رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ ﴿17﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿18﴾ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ ﴿19﴾ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ ﴿20﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿21﴾ یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ ﴿22﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿23﴾ وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ ﴿24﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ ۧ ۧ ﴿25ع الرحمن 55﴾
1. (خدا جو) نہایت مہربان۔ 2. اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی۔ 3. اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ 4. اسی نے اس کو بولنا سکھایا۔ 5. سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں۔ 6. اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔ 7. اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی۔ 8. کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ 9. اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور تول کم مت کرو۔ 10. اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔ 11. اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں۔ 12. اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول۔ 13. تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 14. اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا۔ 15. اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ 16. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 17. وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)۔ 18. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 19. اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں۔ 20. دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے۔ 21. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 22. دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ 23. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 24. اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔ 25. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر آیات

آغاز اس فقرے سے کرنے کا پہلا مقصد تو یہی بتانا ہے کہ حضور خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ اس تعلیم کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے مزید برآں دوسرا ایک مقصدا ور بھی ہے جس کی طرف لفظ رحمان اشارہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔وہ چونکہ اپنی مخلوق پر بےانتہا مہربان ہے، اس لیے اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ تمہیں تاریکی میں بھٹکتا چھوڑ دے۔ (تفہیم القرآن)

بالفاظ دیگر، چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے، اور خالق ہی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی مخلوق کی رہنمائی کرے اور اسے وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنا مقصد وجود پورا کرسکے۔ (تفہیم القرآن)

اصل میں لفظ بیان استعمال ہوا ہے۔ اس کے ایک معنی تو اظہار ما فی الضمیر کے ہیں، یعنی بولنا اور اپنا مطلب و مدعا بیان کرنا۔ اور دوسرے معنی ہیں فرق و امتیاز کی وضاحت، جس سے مراد اس مقام پر خیر و شر اور بھلائی اور برائی کا امتیاز ہے۔۔۔۔۔۔یہ محض قوت گویائی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے عقل و شعور، فہم و ادراک، تمیز و ارادہ اور دوسری ذہنی قوتیں کار فرما ہوتی ہیں جن کے بغیر انسان کی قوتِ ناطقہ کام نہیں کرسکتی۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے۔(تفہیم القرآن)

۔۔۔۔سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کردئیے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کررہے ہوں۔لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے ۔(تیسیر القرآن)

۔ قرآن میں دونوں کے سجدہ کا ذکر مختلف اسلوبوں سے بار بار آیا ہے۔ اسی اشتراک کی بناء پر یہاں بھی دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہوا۔ اس سے آسمان و زمین دونوں کی ہم آہنگی واضح ہوتی ہے کہ ان کا رب ایک ہی ہے جس کو آسمان کے ستارے بھی سجدہ کرتے ہیں اور زمین کے درخت بھی۔ (تدبرِ قرآن)

۔والنجم ۔نجم وہ پودا جس میں تنا نہ ہو،مثلاً :گھاس ،ترکاریاں، بیل داردرخت۔شرک کا ایک بڑا مظہر دنیا میں شجر پرستی اور نباتات پرستی بھی رہاہے  آیت اس کی جڑ کاٹ رہی ہے۔(تفسیر ماجدی)

7۔ میزان کا مفہوم:۔اس آیت میں میزان سے اکثر مفسرین نے میزان عدل مراد لی ہے ۔جس کے سہارے یہ زمین و آسمان قائم ہیں جیساکہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔اس صورت میں ان کے عدل سے مراد وہ توازن و تناسب ہے۔جو ہر سیارے میں قوت جاذبیہ یعنی کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کے درمیان رکھ دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ہر سیارے کا درمیانی فاصلہ، ان کی رفتار اور ان میں باہمی تعلق بھی شامل ہے اور یہ اتنا لطیف اورخفیف تعلق ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہےاور اس توازن و تناسب کو میزان کے لفظ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو سمجھانے کے لیے اس لفظ کے مفہوم کے قریب ترکوئی لفظ نہ تھا۔(تیسیر القرآن)

یعنی جب خالق نے اسکے اندر میزان رکھی جس پر یہ قائم ہے، یہ نہ ہو تو آسمان درہم برہم ہوجائے تو اس سے خالق کا مزاج اور اس کا ذوق معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرہ اختیار کے اندر اسی طرح توازن، عدل اور قسط کو ملحوظ رکھے۔ (تدبرِ قرآن)

اوپروالی بات ایک کلیہ کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اس کلیہ پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ فرمایا کہ جس خدا کے بنائے ہوئے آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہو جب وہ میزان رکھنے والا اور عدل پسند ہے تو اس کی دنیا میں ڈنڈی ماری کی زندگی نہ بسر کرو بلکہ ناپ تول میں پورے انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور ہرگز تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ قوم شعیب کی سر گزشت کے سلسلہ میں ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ ناپ تول میں کمی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے نظام تمدن میں فساد کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہاں ایک مزید حقیقت واضح ہوئی کہ یہ برائی در حقیقت اس میزان کے منافی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین قائم فرمائے ہیں۔ اگر کوئی قوم اس فساد کو قبول کرلیتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اس بنیاد ہی کے ڈھا دینے کے درپے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کی تعمیر فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بنائی ہوئی زمین پر ایسے لوگوں کو کبھی گوارا نہیں کرسکتا۔ (تدبرِ قرآن)

10۔اصل الفاظ ہیں زمین کو " اَنام " کے لیے وضع کیا۔ وضع کرنے سے مراد ہے تالیف کرنا، بنانا، تیار کرنا، رکھنا، ثبت کرنا۔ اور انام عربی زبان میں خلق کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں انسان اور دوسری سب زندہ مخلوقات شامل ہیں۔ (تفہیم القرآن)

13۔ ۔۔۔۔۔دنیا کے ادیبانہ خطبات سے قطع نظر خاص کتاب زبور میں جو مناجات نمبر 136 پر چھبیس آیتوں کی ہےاس میں ایک خاص فقرہ "کہ اس  کی رحمت اب تک ہے"کی تکرار بھی 26 بار آئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ آلَاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم " نعمتوں " کے بیان کیے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے معنی اس لفظ کے قدرت اور عجائب قدرت یا کمالات قدرت ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے تیسرے معنی ہیں خوبیاں، اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل۔ (تفہیم القرآن)

14۔ سیدنا آدمؑ کے پتلے کی تخلیق کے مراحل:۔یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔ (1)تُرَاب بمعنی خشک مٹی سے،(المومن :67)(2)اَرض بمعنی عام مٹی یا زمین،(نوح: 17)(3)طِین بمعنی گیلی مٹی یا گارا،(الانعام:2)(4)طِینٌ لَّازِب  بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی،(الصافات:11)(5)حَمَاٌ مَّسْنُوْن بمعنی بدبودار کیچڑ،۔(الحجر:26)(6) صَلْصَال ٹھیکرایاحرارت سے پکائی ہوئی مٹی ،(ایضاً)(7) صَلْصَالٌ كَالْفَخَّارِ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری،(الرحمن:14)پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ بشر بن گیا۔اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا (4: 1)پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔(تیسیر القرآن)

15۔ اکبرالٰہ آباد ی کیا خوب فرماگئے ہیں:

؎              کیوں کر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز                             جغرافیہ میں عرش کا نقشہ نہیں ملا!(تفسیر ماجدی)

17۔ یہاں دومشرقوں اور دومغربوں کا ذکر فرمایا اس لیے کہ اس سورہ میں مسلسل دودو چیزوں کا ذکر چل رہاہے جبکہ سورہ معارج کی آیت نمبر 40 میں فرمایا کہ وہ بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔دو مشرقوں سے مراد ایک تو وہ مقام ہے جب سورج موسم گرما کے سب سے بڑے ْدن طلوع ہوتاہے۔ اور دوسرا وہ مقام ہے جہاں سے سورج ،موسم سرما کے سب سے چھوٹے دن طلوع ہوتاہے۔ اور ان دونوں مقاموں کے درمیان سب مشرق ہی مشرق ہیں۔ ہر روز طلوع آفتاب کے مقام کا ایک نیازاویہ ہوتاہے اور یہی حال مغربوں کا ہے۔اسی تبدیلی سے موسم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف موسموں میں مختلف فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور ان مشرقوں اور مغربوں کے پیچھے ایک بڑا حیرت انگیز اور پیچیدہ نظام قائم ہے جس کی بناپر یہ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور ان کا ذکر پہلے کئی مقامات پر کیا جاچکاہے۔(تیسیر القرآن)

22۔ مرجان برزخی مخلوق:۔ مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے ہیں۔ مرجان بھی پتھرہی کی قسم ہے لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے جمادات کی طرح جامد نہیں۔مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتاے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری  پانی کی پیداوار ہیں۔ مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں۔یا ساتھ ساتھ دریا رواں ہوتے ہیں۔اسی لیے منھما کا لفظ ارشاد فرمایا یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہاہے۔(تیسیر القرآن)

۔موتی شیریں پانی اور کھاری پانی کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کائنات کے اضداد کو اپنی حکمت کے تحت مجموعی مفاد کے لیے استعمال کررہاہے۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


دوسرا رکوع

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ ﴿26﴾ وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ ﴿27﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿28﴾ یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ ﴿29﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿30﴾ سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ ﴿31﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿32﴾ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ ﴿33﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿34﴾ یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ ﴿35﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿36﴾ فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ ﴿37﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿38﴾ فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ ﴿39﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿40﴾ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ ﴿41﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿42﴾ هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ ﴿43﴾ یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ ﴿44﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ ۧ ۧ ﴿45ع الرحمن 55﴾
26. جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے۔ 27. اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی۔ 28. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 29. آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے۔ 30. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 31. اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ 32. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 33. اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں۔ 34. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 35. تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ 36. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 37. پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا۔ 38. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 39. اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے۔ 40. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 41. گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے۔ 42. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 43. یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے۔ 44. وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے۔ 45. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر آیات

26۔ عَلَیْهَا  میں   ضمیر  کا مرجع    زمین   ہے  ۔ جو جنوں  اور انسانوں  کیوجہ   سے  ہے  ، مگر   اس سے  یہ    لازم   نہیں   آتا   کہ آسمان اور زمین  میں  موجود   باقی      مخلوق   فانی  نہیں۔ (معارف القرآن)

ــــ   نہ تو   تم  خود  لافانی   ہو اور   نہ وہ  سر وسامان  لازوال  ہے   جس  سے  تم  اس دنیا   میں   متمتع  ہو رہے   ھو اور   نہ ہی  تمہاے  معبود ان  باطل  ۔(تفہیم  القرآن)

ــــ عَلَیْهَا۔ ضمیرھا کا الأرض کی طرف راجع ہونا بالکل ظاہر اور غیر اختلافی ہے۔(تفسیر ماجدی)

27۔  ربک  کی   ضمیر   حضور ؐ   کی طرف   ۔ آپ کا یہ  اعزاز  و اکرام  جیسے   کہیں   عبدہ  کا  خطاب  ہوا ہے۔  (معارف القرآن)

ــــ  چہرہ   ذات   کا سب  سے  اشرف    حصہ  ہے  اس وجہ  سے  بعض  اوقات   اس سے    پوری   ذات   کو  تعبیر  کردیتے   ہیں۔ (تدبر قرآن)

31۔ سَنَفْرُغُ :  کا  لفظ   ایک  تشبیہ  و استعارہ  کے طور  پر  لایا  گیا  ہے   جو عام  انسانوں   میں  کسی  کام کی اہمیت   بتلانے   کیلئے   کہا  جاتا  ہے   کہ ہم  اس  کام کیلئے   فارغ  ہوگئے    اب  پوری  توجہ  اسی کام پر ہے ۔(معارف القرآن)

۔۔۔۔جیسے ایک شخص نے مختلف کاموں کے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنا رکھا ہو اور اس کی رو سے جس کام کا وقت ابھی نہیں آیا ہے اس کے بارے میں وہ کہے کہ میں سر دست اس کے لیے فارغ نہیں ہوں۔ (تفہیم القرآن)

۔ثقَلٰن  کا مادہ   ثقل  بمعنی   بوجھ   جیسے    ثقیل  - ثقلٰن  سے مراد   جن  وانس  دونوں  من حیث   الجماعت  ہیں۔  جماعتی   حیثیت   میں  چونکہ  دونوں  بھاری  بھرکم  بن  جاتے   ہیں  اس وجہ   سے  ثقلٰن  کا لفظ  استعمال  کیا گیا  ہے ۔   (تدبرِ قرآن)

۔ثَقَلَان: ثقل  بمعنی بوجھ، وزن، گرانباری اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھل اور وزنی چیز اور ثقلان بمعنی زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دوبھاری اور کثیر التعداد جماعتیں ۔دوبڑی انواع جن اور انسان جو مکلّف ہیں۔اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت چونکہ مجرم، اللہ کی نافرمان اور اللہ کی زمین پر بوجھ ہی بنی رہی ہے اس لیے ان جماعتوں کو ثقلان کہا گیا ہے۔(تیسیر القرآن)

33۔    جنات  کو حق  تعالی   نے  ایسے  امور  کی قوت    انسانوں  سے زیادہ  بخشی   ہے اس  لئے  انکے   ذکر   کو مقدم  کیا گیا ۔(معارف  القرآن)

37۔ یہ روز قیامت کا ذکر ہے۔ آسمان کے پھٹنے سے مراد ہے بندش افلاک کا کھل جانا، اجرام سماوی کا منتشر ہوجانا، عالم بالا کے نظم کا درہم برہم ہوجانا۔ اور یہ جو فرمایا کہ آسمان اس لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہنگامہ عظیم کے وقت جو شخص زمین سے آسمان کی طرف دیکھے گا اسے یوں محسوس ہوگا کہ جیسے سارے عالم بالا پر ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔ (تفہیم القرآن)

41۔نَوَاصِی ناصیتہ کی جمع ہے پیشانی کے بالوں کو کہا جاتا ہے نواصی اور اقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو سر کے بال پکڑ کر گھسیٹا جائے گا، کسی کا ٹانگیں پکڑ کر یا کبھی اس طرح کبھی اس طرح گھسیٹا جائے گا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں کو ایک جگہ جکڑ دیا جائے گا (کذا قالہ الضحاک، روح) واللہ اعلم۔ (معارف القرآن)

44۔یعنی جہنم میں بار بار پیاس کے مارے ان کا برا حال ہوگا، بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے، مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا جس کے پینے سے کوئی پیاس نہ بجھے گی۔ اس طرح جہنم اور ان چشموں کے درمیان گردش کرنے ہی میں ان کی عمریں بیت جائیں گی۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ﴿46﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿47﴾ ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ ﴿48﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿49﴾ فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ ﴿50﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿51﴾ فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ ﴿52﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿53﴾ مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ ﴿54﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿55﴾ فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ ﴿56﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿57﴾ كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ ﴿58﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿59﴾ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ ﴿60﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿61﴾ وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ ﴿62﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿63﴾ مُدْهَآ مَّتٰنِۚ ﴿64﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿65﴾ فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ ﴿66﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿67﴾ فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ ﴿68﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿69﴾ فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ ﴿70﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿71﴾ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ ﴿72﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿73﴾ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ ﴿74﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿75﴾ مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ ﴿76﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿77﴾ تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ ۧ ﴿78ع الرحمن 55﴾
46. اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں۔ 47. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 48. ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)۔ 49. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 50. ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں۔ 51. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 52. ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں۔ 53. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟54. (اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استرا طلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں۔ 55. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 56. ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔ 57. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 58. گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔ 59. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 60. نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 61. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 62. اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں۔ 63. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 64. دونوں خوب گہرے سبز۔ 65. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 66. ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔ 67. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 68. ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں۔ 69. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 70. ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں۔ 71. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 72. (وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)۔ 73. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 74. ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔ 75. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 76. سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ 77. تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ 78. (اے محمدﷺ) تمہارا پروردگار جو صاحب جلال وعظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔

تفسیر آیات

46۔اس سورہ کی اکثر آیات میں دودوچیزوں کا ذکر آرہاہے لذا یہاں بھی دوباغات کا ذکر فرمایا:حالانکہ ہرجنتی کو کئی باغات ملیں گے۔ جیساکہ بعض دوسری آیات سے واضح ہے۔پھر تمام اہل جنت کے سارے باغوں کے مجموعہ کا نام بھی الجنۃ ہے۔یعنی باغات کا مخصوص مقام۔بہشت۔(تیسیر القرآن)

ــــ انسان کو جادۂ مستقیم پر استوار رکھنے والی واحد چیز اللہ تعالیٰ کے آگے پیشی کا خوف ہے۔قرآن میں لفظ جنت تمام اخروی کامیابیوں کی ایک جامع تعبیر ہے اور دوجنتوں کا ذکر تکمیل نعمت کے طورپر ہے۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

50۔ ایک چشمے کا نام تسنیم ہوگا اور دوسرے کا سلسبیل ، اور یہ دونوں چشمے ہمیشہ جاری رہیں گے، کبھی خشک نہ ہوں گے۔(تیسیر القرآن)

52۔  اس کے کئی مطلب لیے جاسکتے ہیں۔مثلاً ایک یہ کہ ایک باغ کے پھلوں کا رنگ، ذائقہ اور خوشبودوسرے باغ کے پھلوں سے بالکل جداگانہ ہوگی اور دوسرا یہ کہ شکل و صورت اور رنگ و بو ایک جیساہونے کے باوجود ان کے ذائقے الگ الگ ہوں گے اور تیسرا یہ کہ ایک باغ کے پھلوں سے تو اہلِ جنت متعارف ہوں گے اور دوسرے باغ کے پھل ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئے ہوں گے۔(تیسیر القرآن)

54۔  (اور جب اَستر یعنی اندر کا حصہ ایسا نفیس ہوگا تو اَبر یعنی باہر کا حصہ جیساہوگا ظاہر ہے)(تفسیر ماجدی)

56۔ یہ عورت کی اصل خوبی ہے کہ وہ بےشرم اور بیباک نہ ہو بلکہ نظر میں حیا رکھتی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے درمیان عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ان کے حسن و جمال کی نہیں بلکہ ان کی حیا داری اور عفت مآبی کی تعریف فرمائی ہے۔ حسین عورتیں تو مخلوط کلبوں اور فلمی نگار خانوں میں بھی جمع ہوجاتی ہیں، اور حسن کے مقابلوں میں تو چھانٹ چھانٹ کر ایک سے ایک حسین عورت لائی جاتی ہے، مگر صرف ایک بد ذوق اور بد قوارہ آدمی ہی ان سے دلچسپی لے سکتا ہے۔ کسی شریف آدمی کو وہ حسن اپیل نہیں کرسکتا جو ہر بد نظر کو دعوت نظارہ دے اور ہر آغوش کی زینت بننے لیے تیار ہو۔ (تفہیم القرآن)

62۔ دُوْن کا لفظ عربی زبان میں تین مختلف معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک، کسی اونچی چیز کے مقابلے میں نیچے ہونا۔ دوسرے، کسی افضل و اشرف چیز کے مقابلے میں کم تر ہونا۔ تیسرے، کسی چیز کے ماسوا یا اس کے علاوہ ہونا۔ اس اختلاف معنی کی بنا پر ان الفاظ میں ایک احتمال یہ ہے کہ ہر جنَّتی کو پہلے کے دو باغوں کے علاوہ یہ دو باغ اور دیے جائیں گے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ دو باغ اوپر کے دونوں باغوں کی بہ نسبت مقام یا مرتبے میں فر و تر ہونگے یعنی پہلے دو باغ یا تو بلندی پر ہونگے اور یہ ان سے نیچے واقع ہونگے، یا پہلے دو باغ بہت اعلیٰ درجہ کے ہونگے اور یہ ان کے مقابلے میں کم تر درجہ کے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے احتمال کو اختیار کرنے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پہلے دو باغ مقربین کے لیے ہیں۔ اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لیے۔ (تفہیم القرآن)

۔اوپر جن جنتوں کا ذکر ہے وہ سابقون الاولون یا مقربین کو حاصل ہوگی۔اب جن دوجنتوں کا ذکر ہے یہ اصحاب یمین کو عطا ہوں گی ۔یہ پہلی جنتوں سے ذرا کمتر درجہ کی ہیں۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

64۔یعنی انکی سرسبزی کا حال یہ ہوگا کہ وہ مائل بہ سیاہی ہوجائے گی۔ شاداب باغ کا سب سے زیادہ خوبصورت رنگ یہی ہوتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

66۔یہ پہاڑی چشموں کی تصویر ہے جو ابلتے ہیں۔میدانی علاقوں کے چشموں کا پانی ہموار جاری ہوتاہے۔۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

70۔ جنت کی مادّی نعمتوں کا بیان اجمالاً نہیں، بلکہ ایک ایک جزئیہ کی صراحت کے ساتھ ہورہاہے۔ فِیْهِنَّ ضمیر ھن سے مراد یہ ہے کہ اُن باغوں، چمنوں،گلشنوں کے اندر جو جو آراستہ و پیراستہ کوٹھیاں ،بنگلے ،حویلیاں، محل سرائیں ہوں گی اُن میں۔(تفسیر ماجدی)

72۔ خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

76۔ عبقری کا مفہوم:۔  عبقری عرب کے دورجاہلیت کے انسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام  عبقر تھا جہاں صرف جن اور پریاں ہی رہتے تھے جسے ہم اردومیں پرستان بھی کہتے ہیں یعنی پریوں کے رہنے کی جگہ ۔پھر لفظ عبقری کا اطلاق ہر نفیس اور نادر چیز پر ہونے لگا۔ تو وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی عام چیزیں نہیں کرسکتیں ۔پھر اس لفظ کا اطلاق ایسے آدمی پر بھی ہونے لگا جو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ اسی لیے اہل عرب کو جنت کے سروسامان کی غیر معمولی نفاست اور خوبی کا تصور دلانے کے لیے یہاں عبقری کا لفظ آیا ہے۔(تیسیر القرآن)

ـــ اوپر کی جنتوں میں اہل عجم کا ذوق زیادہ نمایاں ہے اور بعد کی جنتوں میں اہل عرب کا ذوق زیادہ ابھراہوا نظرآتاہے۔اگرچہ ان کی نعمتیں بطورتشبیہ بیان  ہوئی ہیں اور ان کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے،تاہم ان کی مدد سے کسی حدتک یہ ہمارے تصور کے قریب آجاتی ہیں اوریہی ان تشبیہات سے مقصود ہے۔اس سورہ میں آیت فبایّ اٰلاربکماتکذبان باربار آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ کے مخاطب ضدی اور ہٹ دھر م ہیں۔ان کو جھنجوڑ جھنجوڑکر رب کی ایک ایک نشانی کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)