56 - سورة الواقعة (مکیہ)

رکوع - 3 آیات - 96

مضمون: قیامت میں عزت و ذلت کے پیمانے ان پیمانوں سے مختلف ہوں گے  جو دنیا میں معروف ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون :  قریش  کی قیادت   کو الٹی  میٹم  ۔  قیامت  کے دن  کا انقلاب  ،  بعض  لوگوں    کو    بلندی   اور بعض  کو پستی   عطا  کرے   گا   ۔ السابقون    اور   اصحاب  الیمین   کو ان     کا  اجر  اور  تکذیب  کرنے   والوں   ( اصحاب    الشمال )  کو  انکے   انجام  کی خبر  سے  آگاہ  کیا  گیا  ہے۔

شان نزول:  یہ سورت  ہجرت   حبشہ  ( رجب  5 نبوی  )   کے بعد  اور حضرت  عمر رضی اللہ تعالی عنہ  کے قبول  اسلام  ( ذوالحجہ   6 نبوی ) کے درمیان   کسی  وقت   نازل ہوئی  ۔ یہ سورۂ ، سورۂ  ھود   کی طرح  ان   سورتوں   میں  سے  ایک  ہے جنہوں  نے  حضور  ؐ  کو بوڑھا  کردیا  تھا ۔ ( ترمذی )  اس میں   تصدیق  کرنے  والوں   کی دو قسمیں  السابقون    اور    اصحاب  الیمین  کا  ذکر  ہے ۔

نظم کلام :  سورۂ  ق ٓ    ۔۔۔۔۔ یہ  اس  گروپ  کی  ساتویں  سورۂ    ہے    جس  پر مکی   سورتیں  تمام ہوئیں  ۔  اس  میں  ساری بحث   کا خلاصہ  سامنے  رکھ  دیا  ہے جو  جزا و سزا  سے  متعلق   ،  سورۂ  قٓ  سے  لیکر   سورۂ  رحمٰن  تک  ہوئی   ہے ۔  اس سورۂ  میں  دلائل  کی وضاحت    کے بجائے   اصل   نتیجہ  سے  قریش  کے  مستکبرین   کو آگاہ  فرما دیا گیا ہے ۔  قیامت  ایک  امر  شدنی  ہے جس میں  عزت  و ذلت   کے  اقدار   و پیمانے   ان اقدار      اور پیمانوں  سے   بالکل  مختلف  ہونگے  جو اس جہان  میں   معروف  ہیں  ۔

ترتیب  مطالعہ  و اہم  مضامین :   (1 )   ر-  1 (  قیامت  کا وقوع   اور  دونجات  یافتہ  گروہ  )    (2 )    ر-2  (  بائیں  ہاتھ  والے  ،  منکرین   حق  )   (3 )    ر  - 3 (قرآن  سے بے  اعتنائی   پر تنبیہ   اور  موت  کے بعد  کے مراحل  )  ۔ )تعلیم  القرآن(


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ ﴿1﴾ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ ﴿2﴾ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ ﴿3﴾ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ ﴿4﴾ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ ﴿5﴾ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ ﴿6﴾ وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ؕ ﴿7﴾ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ ﴿8﴾ وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ ﴿9﴾ وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ ﴿10﴾ اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ ﴿11﴾ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ﴿12﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ ﴿13﴾ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ ﴿14﴾ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ ﴿15﴾ مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ ﴿16﴾ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ ﴿17﴾ بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ ﴿18﴾ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ ﴿19﴾ وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ ﴿20﴾ وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ ﴿21﴾ وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ ﴿22﴾ كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ ﴿23﴾ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿24﴾ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ ﴿25﴾ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿26﴾ وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ ﴿27﴾ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ ﴿28﴾ وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ ﴿29﴾ وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ ﴿30﴾ وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ ﴿31﴾ وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ ﴿32﴾ لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ ﴿33﴾ وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ ﴿34﴾ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ ﴿35﴾ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ ﴿36﴾ عُرُبًا اَتْرَابًا ۙ ﴿37﴾ لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ۠ ﴿38ع الواقعة 56﴾
1. جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے۔ 2. اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں۔ 3. کسی کو پست کرے کسی کو بلند۔ 4. جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے۔ 5. اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ 6. پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں۔ 7. اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ۔ 8. تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں۔ 9. اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں۔ 10. اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں۔ 11. وہی (خدا کے) مقرب ہیں۔ 12. نعمت کے بہشتوں میں۔ 13. وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے۔ 14. اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے۔ 15. (لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر۔ 16. آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے۔ 17. نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے۔ 18. یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر۔ 19. اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی۔ 20. اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں۔ 21. اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے۔ 22. اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔ 23. جیسے (حفاظت سے) تہہ کئے ہوئے (آب دار) موتی۔ 24. یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔ 25. وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ۔ 26. ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)۔ 27. اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں۔ 28. (یعنی) بےخار کی بیریوں۔ 29. اور تہہ بہ تہہ کیلوں۔ 30. اور لمبے لمبے سایوں۔ 31. اور پانی کے جھرنوں۔ 32. اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں۔ 33. جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے۔ 34. اور اونچے اونچے فرشوں میں۔ 35. ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا۔ 36. تو ان کو کنواریاں بنایا۔ 37. (اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر۔ 38. یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے۔

تفسیر آیات

  سورۂ  کی فضیلت   اور مرض  وفات  میں   حضرت  عبداللہ  بن مسعود  رضی اللہ تعالی عنہ  کی سبق  آموز ہدایات: ابن کثیر نے بحوالہ ابن عساکر ابوظبیہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مرض وفات میں حضرت عثمان غنی عیادت کے لئے  تشریف لے گئے، حضرت عثمان نے پوچھا ما تشتکی (تمہیں کیا تکلیف ہے) تو فرمایا، ذنوبی (یعنی اپنے گناہوں کی تکلیف ہے) پھر پوچھا   ما تشتھی (یعنی آپ کیا چاہتے ہیں) تو فرمایا رحمة ربی (یعنی اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں) ، پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے کسی طبیب (معالج) کو بلاتا ہوں تو فرمایا الطبیب امرضی (یعنی مجھے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے) پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے بیت المال سے کوئی عطیہ بھیج دوں تو فرمایا لا حاجة لی فیھا (مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں) حضرت عثمان نے فرمایا کہ عطیہ لے لیجئے وہ آپ کے بعد آپ کی لڑکیوں کے کام آئے گا تو فرمایا کہ کیا آپ کو میری لڑکیوں کے بارے میں یہ فکر ہے کہ وہ فقروقاقہ میں مبتلا ہوجائیں گی، مگر مجھے یہ فکر اس لئے نہیں کہ میں نے اپنی لڑکیوں کو تاکید کر رکھی ہے کہ ہر رات سورة واقعہ پڑھا کریں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہےمن قرا سورة الواقعة کل لیلة لم تصبہ فاقة ابدا (ابن کثیر)  " جو شخص ہر رات میں سورة واقعہ پڑھا کرے وہ کبھی فاقہ میں مبتلا نہیں ہوگا "۔)معارف القرآن(

7۔یعنی قیامت  جب ایمان و عمل صالح کے لحاظ سے لوگوں کو پرکھے گی تو اس کے نتیجہ میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے: ایک گروہ اصحَابُ الیَمِینِ کا ہوگا، دوسرا اَصحَابُ الشِّمَالِ کا اور تیسرا سَابِقُونَ الاَوَّلُونَ کا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

  8۔   اَصحَابُ  الیَمِینِ  عام  مسلمانوں  کے مفہوم  میں  نہیں  ہے جیسا  کہ بعض  لوگوں  نے  سمجھا ہے   بلکہ  اس سے  مراد  وہ لوگ ہیں  جن  کے اعمالنامے  بطور  اعزاز   داہنے  ہاتھ  میں  دیئے   جائیں  گے ۔  عام  مسلمانوں  میں  تو بے شمار  ایسے  لوگ  بھی ہیں   جن کی  نسبت   یہ گمان  کرنا بڑا  ہی فیاضانہ   حسن  ظن  ہوگا   کہ انکے  اعمال  نامے   داہنے  ہاتھ  میں ہونگے   ۔(تدبرقرآن)

10۔سَابِقُونَ  سے مراد  وہ لوگ  ہیں جنہوں  نے  دعوت  حق  کے قبول  کرنے  میں   سبقت   کی اور  اس دور  میں  اپنے  جان و مال  سے  اسکی خدمت  کی توفیق  پائی جب   اسکی  خدمت  کرنے  والے  تھوڑے   تھے  اور اسکی  مدد  کیلئے   حوصلہ  کرنا اپنے  آپکو   جوکھوں   میں ڈالنا  تھا ۔سورۂ  حدید  (57 :10 )  میں  ان سے مراد   فتح  مکہ  سے  پہلے   انفاق  اور جہاد  کرنیوالے  ہیں۔(تدبر  قرآن)

ــــ   ابن کثیر  نے  مختلف  اقوال  نقل  کرنے  کے بعد  فرمایا  کہ سابقین   وہی   لوگ  ہونگے   جنہوں  نے  دنیا   میں   نیک  کاموں   میں مسابقت   کی ہوگی  ۔ جو  اس دنیا  میں اعمال  صالحہ  میں دوسروں  سے آگے  بڑھا  رہا    وہ آخرت  میں بھی  سابقین  میں سے  ہوگا ۔ (معارف القرآن)

13۔ ثُلَّۃ۔ اتنے بڑے اژدہام کو کہتے ہیں جو گننے میں نہ آئے۔(تفسیر ماجدی)

14۔   روح المعانی  میں طبرانی  وغیرہ  سے  ایک  حدیث  ابوبکر  کی  بسند  حسن نقل  کی ہے   جس  میں  حضورؐ  نے آیت  کے متعلق   فرمایا   : "ھما جمیعا  من ھذہ الامۃ"  احقر  کو یہ  مطلب  پسند  ہے  کہ  ہر امت  کے پہلے  طبقہ  میں  نبی کی صحبت   یا قرب  عہد  کی برکت   سے اعلےٰ  درجے  کے مقربین  جس  قدر  کثرت   سے  ہوئے   ہیں   پچھلے  طبقوں  میں  وہ بات  نہیں  رہی  کما  قال   محمد ؐ   : خیر  القرون  قرنی  ثم الذین یلونھم  ثم الذین یلونھم "  ۔(تفسیرعثمانی)

۔   اولین  و آخرین  سے کیا مراد  ہے ؟  -270  - 274  (  مطالعہ کیلئے )  (معارف القرآن)

----------------161 –163  ( مطالعہ  کیلئے ) ( تدبر قرآن)

ــــ  اسی طرح   "قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ" کے الفاظ  سے  یہ بات  نکلتی  ہے کہ اس امت  کے پچھلوں  میں سے  بھی  ایسے لوگ  نکلیں  گے  جو سابقون  الاولون  کے زمرے  میں شامل  ہونے  کا شرف حاصل  کریں  گے  ۔ جو  فتنوں  کے زمانے  میں   بھی  حق  پر  قائم  رہیں  گے ۔ اس قسم  کا ایک  گروہ   اس امت میں جیسا  کہ احادیث  میں بشارت   ہے ، ہر   دور میں پیدا  ہوتا   رہے گا ۔  اسی حقیقت  کی طرف  سیدنا  مسیح ؑ  نے ان الفاظ  میں اشارہ  فرمایا  ہے کہ "  کتنے  پیچھے  آنے  والے  ہیں جو آگے  ہوجائیں  گے " ۔(تدبر قرآن)

17۔ ۔۔۔۔لیکن ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد صرف وہی اہل دنیا ہو سکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو۔ رہے مومنین صالحین،  تو ان کے  بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی ذریت ان کے ساتھ جنت میں لا ملائی جائے گی (الطور، آیت: 21) (تفہیم القرآن)

24۔ انسان کی نگاہوں میں جو قدر و قیمت اپنے حق کے طورپر حاصل کی ہوئی چیز کی ہوتی ہے وہ قدروقیمت اس چیز کی نہیں ہوتی جو اسے اتفاقاً حاصل ہوگئی ہو یا بطور صدقہ ملی ہو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

26۔اصل الفاظ ہیں الَّا قِیلاً سَلٰماً سَلٰماً۔  بعض مفسرین و مترجمین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہاں ہر طرف سلام سلام ہی کی آوازیں سننے میں آئیں گی۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہے قول سلیم، یعنی ایسی گفتگو جو عیوب کلام سے پاک ہو جس میں وہ خرابیاں نہ ہوں جو پچھلے فقرے میں بیان کی گئی ہیں۔(تفہیم القرآن)

36۔ اس سے مراد دنیا کی وہ نیک خواتین ہیں جو اپنے ایمان و عمل صالح کی بنا پر جنت میں جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنا دے گا، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں۔ نہایت خوبصورت بنا دے گا، خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں۔ باکرہ بنا دیگا، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہو کر۔۔۔۔۔۔حضرت ام سلمہ پوچھتی ہیں اگر کسی عورت کے دنیا میں کئی شوہر رہ چکے ہوں اور وہ سب جنت میں جائیں تو وہ ان میں سے کس کو ملے گی ؟ حضور فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔" اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جسے چاہے چن لے، اور وہ اس شخص کو چنے گی جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گی کہ اے رب، اس کا برتاؤ میرے ساتھ سب سے اچھا تھا اس لیے ْمجھے اسی کی بیوی بنا دے۔ اے ام سلمہ، حسن اخلاق دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لوٹ لے گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

37۔  عُرُباً -  اس کا واحد  عُرُوب  ہے  ۔ یعنی  وہ  عورت   جو  ناز و ادا   اور خوش  گفتاری  سے  اپنی  محبت   کا اظہار  اپنے    خاوند سے  کرے ۔ یہ  عورت  کی ایک  ایسی صفت  ہے جس  میں  اسکی نسوانیت  کی ساری  خوبیاں  سمٹ   آتی  ہیں۔  حسین و جمیل  بھی ہو  ، ناز و ادا  والی بھی   ہو ۔ خوش گفتار  بھی  ہو   اور ہنس  مکھ  بھی  ۔ اپنے   خاوند    کو دل  سے  چاہنے   والی  بھی  ہو  اور اپنی  چاہت   کو چھپانے  والی   نہ  ہو  بلکہ  اس کا اظہار  کرنیوالی  ہو ۔  (ضیاء القرآن)


دوسرا رکوع

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ ﴿39﴾ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ ﴿40﴾ وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ ﴿41﴾ فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ ﴿42﴾ وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ ﴿43﴾ لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ ﴿44﴾ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚ ۖ﴿45﴾ وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ ﴿46﴾ وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ ﴿47﴾ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ﴿48﴾ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ ﴿49﴾ لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ﴿50﴾ ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ ﴿51﴾ لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ ﴿52﴾ فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ ﴿53﴾ فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ ﴿54﴾ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ ﴿55﴾ هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ ﴿56﴾ نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ ﴿57﴾ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ ﴿58﴾ ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ﴿59﴾ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ ﴿60﴾ عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿61﴾ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ ﴿62﴾ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ ﴿63﴾ ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ﴿64﴾ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ ﴿65﴾ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ ﴿66﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ﴿67﴾ اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ ﴿68﴾ ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ﴿69﴾ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ ﴿70﴾ اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ ﴿71﴾ ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ ﴿72﴾ نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ ﴿73﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ ۧ ﴿74ع الواقعة 56﴾
39. (یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں۔ 40. اور بہت سے پچھلوں میں سے۔ 41. اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں۔ 42. (یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں۔ 43. اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔ 44. (جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما۔ 45. یہ لوگ اس سے پہلے عیشِ نعیم میں پڑے ہوئے تھے۔ 46. اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے۔ 47. اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟ 48. اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟ 49. کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلے۔ 50. (سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے۔ 51. پھر تم اے جھٹلانے والے گمرا ہو! 52. تھوہر کے درخت کھاؤ گے۔ 53. اور اسی سے پیٹ بھرو گے۔ 54. اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔ 55. اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔ 56. جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی۔ 57. ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟ 58. دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو۔ 59. کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟ 60. ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں۔ 61. کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں۔ 62. اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ 63. بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو۔ 64. تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟ 65. اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ 66. (کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے۔ 67. بلکہ ہم ہیں ہی بےنصیب۔ 68. بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو۔ 69. کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟ 70. اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟ 71. بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو۔ 72. کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟ 73. ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے۔ 74. تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو۔

تفسیر آیات

46۔  شرک  فلسفہ  دین  کے نقطہ   نظر   سے  بھی  سب  سے بڑا  گناہ   ہے  اور قرآن  نے  بھی  اسکو ظلم   عظیم  سے  تعبیر  کیا ہے ۔ (تدبرقرآن)

55۔  ھِیم جمع  ہے اَھٗیَمَ  کی۔  اَھٗیَمَ   اس  اونٹ   کو کہتے  ہیں  جسکو  ھیام  یعنے  تونس  کی بیماری  لاحق  ہو  جس  کا اثر  یہ ہوتا  ہے  کہ  وہ  پانی  پیتا   چلا جاتا  ہے لیکن  اسکی  پیاس  کسی طرح نہیں   بجھتی  ۔(تدبرقرآن)

58۔  أَفَرَأَيْتُمْ "  سے چار  آیات  (  58 ، 63 ،  68 ۔ 71  )  ان کے بعد  کا ترجمہ   پڑھنا   ۔

۔ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ (58) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو  

۔اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ (63)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو

۔اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ (68)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو

۔ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (69)۔۔۔۔۔۔۔ اِسے تم نے بادل سے بر سا یا ہےیا اِ س کے برسانے والے ہم ہیں؟

۔لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ (70)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم چاہیں تو اُسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں،پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتْے؟

۔اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ (71)         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو

 

63۔" أَفَرَأَيْتُمْ مَّاتَحْرُثُونَ: (کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو)

  پالتا  ہے  بیج کو  مٹی  کی تاریکی  میں  کون؟                            کون دریا ؤں  کی موجوں  سے  اٹھاتا ہے سحاب   ؟ 

کون لایا   کھینچ  کر   پچھم  سے باد  سازگار ؟                         خاک  یہ کس کی ہے   کس کا ہے یہ  نور آفتاب ؟        (علامہ اقبال )


تیسرا رکوع

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ ﴿75﴾ وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ ﴿76﴾ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ ﴿77﴾ فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ ﴿78﴾ لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ ﴿79﴾ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿80﴾ اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ ﴿81﴾ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ ﴿82﴾ فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ ﴿83﴾ وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ ﴿84﴾ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ ﴿85﴾ فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ ﴿86﴾ تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿87﴾ فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ ﴿88﴾ فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ ﴿89﴾ وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ ﴿90﴾ فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ ﴿91﴾ وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذ ِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ ﴿92﴾ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ ﴿93﴾ وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ ﴿94﴾ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ ﴿95﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ ۧ ۧ ﴿96ع الواقعة 56﴾
75. ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم۔ 76. اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔ 77. کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے۔ 78. (جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)۔ 79. اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔ 80. پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔ 81. کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟ 82. اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو۔ 83. بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے۔ 84. اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو۔ 85. اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے۔ 86. پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو۔ 87. تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟ 88. پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے۔ 89. تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں۔ 90. اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے۔ 91. تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام۔ 92. اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے۔ 93. تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے۔ 94. اور جہنم میں داخل کیا جانا 95. یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے۔ 96. تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرتے رہو۔

تفسیر آیات

75۔ یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔ یہاں قرآن کے من جانب اللہ ہونے پر قسم کھانے سے پہلے لفظ لا کا استعمال خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ لوگ اس کتاب پاک کے متعلق کچھ باتیں بنا رہے تھے جن کی تردید کرنے کے لیے یہ قسم کھائی جا رہی ہے۔ (تفہیم القرآن)

76۔ستاروں کے گرنے کے ٹھکانوں سےمراد شیاطین کی وہ کمین گاہیں ہیں جن پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ نزول قرآن کے زمانے میں وحی الٰہی میں مداخلت نہ کرسکیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

78۔اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ اس کے لیے " کِتَابٌ مَّکْنُون " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں ایسا نوشتہ جو چھپا کر رکھا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے اندر کسی رد و بدل کا امکان نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر مخلوق کی دسترس سے بالا تر ہے۔(تفہیم القرآن)

89۔ تفسیر کبیر میں جو یہاں پہنچ کر افسوس ہے کہ خود امام المفسرین کی نہیں، بلکہ ان کے بعض شاگردوں کی تفسیر رہ گئی ہے یہ نکتہ بھی لکھا ہے کہ روح و ریحان و جنت نعیم کی یہ سہ گانہ بشارتیں اُن کی زندگی کے تین شعبوں : عقیدۂحق اور کلمۂ طیبہ اور اعمالِ حسنہ کے مقابل ہیں اور اس سے اشارہ اُن کے قلب، اُن کی زبان اور ان کے اعضائے ظاہری تینوں کی سلامتِ ذوق کی جانب ہوگا۔(کبیر،ج29/ص:175)(تفسیر ماجدی)

 96۔یہ آیت  دو دفعہ  آئی  ہے ۔  سورت  کے خاتمہ  پر  جی چاہتا  ہے  کہ وہ  حدیث   نقل   کر دیجائے   جس پر امام  بخاری  ؒ نے  اپنی کتاب  کو ختم  کیا ہے     " عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ،ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ،حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ،سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ»(تفسیرعثمانی)

ــــ حضرت  عقبہ  بن عامر  جہنی  کی روایت  ہے کہ جب  یہ آیت   نازل  ہوئی  تو  حضورؐ   نے   حکم  دیا  کہ اسکو  تم  لوگ  اپنے   رکوع  میں  رکھ  دو  یعنی   رکوع  میں سبحان  ربی العظیم  کہا کرو  ۔  اور جب   آیت    " سَبِّح ِاسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى " نازل    ہوئی   تو آپ  ؐ    نے فرمایا   کہ اسے اپنے   سجدے  میں  رکھو   یعنی   " سبحان  ربی الاعلی "  کہا کرو   ( مسند  احمد   ، ابو داؤد   ، ابن ماجہ  ، ابن  حبان  ،حاکم )   اس  سے  پتہ   چلتا  ہے کہ حضور ؐ  نے نماز   کا جو طریقہ   مقرر  فرمایا   ہے  اسکے  چھوٹے سے چھوٹے    اجزا  تک  قرآن  پاک  کے اشاروں  سے  ماخوذ ہیں ۔(تفہیم القرآن)

 96۔  لفظ  " اِسم  "  اس حقیقت  کا   سراغ   دے  رہا  ہے  کہ  اللہ  تعالی  سے   بندے   کے تعلق  و توسل  کا ذریعہ   صرف  اس کے اسمائے   حسنٰی  ہی ہیں  ۔ انہی   کی معرفت   سے خدا کی  معرفت  حاصل  ہوتی  ہے جو تمام  صحیح   علم  و عمل  کا سر چشمہ  ہے ۔(تدبرقرآن)