59 - سورة الحشر (مدنیہ)
| رکوع - 3 | آیات - 24 |
مضمون: اللہ اور رسول کے مخالفین کے ذلیل و خوار ہونے کی واقعاتی شہادت ۔منافقین کو یہود سے قطع تعلق کی ہدایت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: اللہ ،محمد اور اسلامی حکومت کے مخالفین اور منافقین ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں۔منافقت کے علاج کیلئے ،منافقین کو ،یہودیوں سے میل جول ختم کرکے صفاتِ الٰہی کا صحیح ادراک کرنیکی ہدایت۔
شانِ نزول: سورۂ الحشر( جسے سورۂ بنی نضیر بھی کہتے ہیں)،یہودی قبیلے بنی نضیر کی جلاوطنی (ربیع الاول سنہ4 ہجری)کے بعد نازل ہوئی۔
نظمِ کلام: سورۂ ق
تاریخی پسِ منظر: تاریخِ یہود(370-379 ) ) تفہیم القرآن(
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1(غزوۂ بنی نضیر،مال ِ فئےاور انصار و مہاجرین کا رویہ) (ii)ر۔2(منافقین کے احوال) (iii) ر۔3(حاملینِ قرآن کا پیغام اور صفاتِ الٰہی )
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿1﴾ هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَ وَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿2﴾ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ﴿3﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿4﴾ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ ﴿5﴾ وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿6﴾ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ ﴿7﴾ لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ ﴿8﴾ وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ ﴿9﴾ وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ ﴿10ع الحشر 59﴾ |
| 1. جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 2. وہی تو ہے جس نے کفار اہل کتاب کو حشر اول کے وقت ان کے گھروں سے نکال دیا۔ تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے ان کو خدا (کے عذاب) سے بچا لیں گے۔ مگر خدا نے ان کو وہاں سے آ لیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اُجاڑنے لگے تو اے (بصیرت کی) آنکھیں رکھنے والو عبرت پکڑو۔ 3. اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلاوطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا۔ اور آخرت میں تو ان کے لئے آگ کا عذاب (تیار) ہے۔ 4. یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ 5. (مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ وہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔ 6. اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 7. جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ 8. (اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں۔ 9. اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں۔ 10. اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ |
تفسیر آیات
2۔یہ اشارہ یہود کے قبیلہ بنونضیر کی طرف ہے۔جنگ احد کے چندماہ بعد انہوں نے نبیؐ کے ساتھ معاہدہ کو توڑ ڈالا اور حضورؐ کے قتل کی کوشش کی۔آپ نے ان کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا لیکن وہ منافقین کی شہ ملنےپر قلعہ بندہوگئے۔مسلمانوں کی فوج کشی کے بعد انہوں نے جلاوطنی قبول کرلی اور خیبر کو چلے گئے۔ان کا یہ اخراج پہلے حشر کے طورپر ہوا۔حضرت عمرؓ کے عہد میں انہیں خیبر سے بھی نکلنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قلعہ رکھتے ہوئے بھی وہ ایسے مرعوب ہوئے کہ صلح پر آمادگی ظاہر کی۔جلاوطنی کی یہ شرط ٹھہری کہ وہ اونٹوں پر جتنا سامان لے جاسکتے ہیں اتنا لے جائیں گے۔چنانچہ حرصِ مال میں انہوں نے وہ مکانات خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑے جو نہ جانے کتنے ولولوں اور ارمانوں سےبنائےتھے۔اس تخریب میں ان کے مدد طلب کرنے پر مسلمانوں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔اللہ کے رسول کے مخالفین کا یہ انجام نہایت عبرت ناک تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مراد مسلمانوں کی فوج کا اجتماع ہے جو بنی نضیر سے جنگ کرنے کے لیے ہوا تھا۔ اور لِاَوَّلِ الْحَشْر کے معنی یہ ہیں کہ ابھی مسلمان ان سے لڑنے کے لیے جمع ہی ہوئے تھے اور کشت و خون کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ جلا وطنی کے لیے تیار ہوگئے۔ بالفاظ دیگر یہاں یہ الفاظ باوّل وَھلہ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ " در اوّل جمع کردن لشکر "۔ اور شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ ہے " پہلے ہی بھیڑ ہوتے "۔ ہمارے نزدیک یہ دوسرا مفہوم ہی ان الفاظ کا متبادر مفہوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس مقام پر ایک بات آغاز ہی میں سمجھ لینی چاہیے تاکہ بنی نضیر کے اخراج کے معاملہ میں کوئی ذہنی الجھن پیدا نہ ہو۔ نبی ﷺ سے بنی نضیر کا باقاعدہ تحریری معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کو انہوں نے رد نہیں کیا تھا کہ معاہدہ ختم ہوجاتا۔ لیکن جس وجہ سے ان پر چڑھائی کی گئی وہ یہ تھی کہ انہوں نے بہت سی چھوٹی بڑی خلاف ورزیاں کرنے کے بعد آخر کار ایک صریح فعل ایسا کیا تھا جو نقض عہد کا ہم معنی تھا۔ وہ یہ کہ انہوں نے دوسرے فریق معاہدہ، یعنی مدینہ کی اسلامی ریاست کے صدر کو قتل کرنے کی سازش کی تھی کہ جب ان کو نقص معاہدہ کا الزام دیا گیا تو وہ اس کا انکار نہ کرسکے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کو دس دن کا نوٹس دے دیا کہ اس مدت میں مدینہ چھوڑ کر نکل جاؤ، ورنہ تمہارے خلاف جنگ کی جائے گی۔ یہ نوٹس قرآن مجید کے اس حکم کے ٹھیک مطابق تھا کہ " اگر تم کو کسی قوم سے خیانت (بد عہدی) کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو " (انفال: 58) اسی لیے ان کے اخراج کو اللہ تعالیٰ اپنا فعل قرار دے رہا ہے، کیونکہ یہ ٹھیک قانون الٰہی کے مطابق تھا۔ گویا ان کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے نہیں بلکہ اللہ نے نکالا۔ دوسری وجہ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اخراج کو اپنا فعل قرار دیا ہے آگے کی آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔۔۔۔۔(نوٹ: اللہ کے خلاف جنگ تشریح : حاشیہ:4، صفحہ 382) ۔۔۔۔۔لیکن اس نے ایسے راستہ سے ان پر حملہ کیا جدھر سے کسی بلا کے آنے کی وہ کوئی توقع نہ رکھتے تھے۔ اور وہ راستہ یہ تھا کہ اس نے اندر سے ان کی ہمت اور قوت مقابلہ کو کھوکھلا کردیا جس کے بعد نہ ان کے ہتھیار کسی کام آسکتے تھے نہ ان کے مضبوط گڑھ۔ (تفہیم القرآن)
5۔ یہ اشارہ ہے اس معاملہ کی طرف کہ مسلمانوں نے جب محاصرہ شروع کیا تو بنی نضیر کی بستی کے اطراف میں جو نخلستان واقع تھے ان کے بہت سے درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا یا جلا دیا تاکہ محاصرہ بآسانی کیا جاسکے، اور جو درخت فوجی نقل و حرکت میں حائل نہ تھے ان کو کھڑا رہنے دیا۔ اس پر مدینہ کے منافقین اور بنی قریظہ اور خود بنی نضیر نے شور مچا دیا کہ محمد ﷺ تو فساد فی الارض سے منع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ اہم جنگی ضروریات کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، البتہ محض تخریب و غارت گری کے لیے یہ فعل جائز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔لہٰذا اگر نیک نیتی کے ساتھ اجتہاد کر کے اہل علم مختلف رائیں قائم کریں تو باوجود اس کے کہ ان کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی، مگر اللہ کی شریعت میں وہ سب حق پر ہوں گے۔ (تفہیم القرآن)
6۔ مراد یہود کی متروکہ املاک ہیں جو جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کے قبضہ میں آگئیں۔ایسے مال کو'فے'کا نام دیا گیا اور اس کو بیت المال میں شامل کرنے کا حکم ہوا۔مال غنیمت کی طرح ان اموال کو مسلمان فوج میں تقسیم نہیں کیا گیا۔اس کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا گیا ،جس پر مال فے کے یہ احکام نازل کیے گئے۔۔۔۔۔'قرابت مندوں'سے مراد رسول اللہؐ کے قرابت مند ہیں جن کی کفالت کی ذمہ داری آپ پر تھی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
7۔ اسلام سے پہلے اس قسم کے اموال (فئے)کی تقسیم کا طریقہ یہ تھا کہ سب سے پہلے قبیلے کا سردار یا لشکر کا سپہ سالار 4/1 حصہ لے لیتاجسے مرباع کہاجاتا۔بقیہ میں سے کوئی چیز پسند آتی تو وہ بھی چن لیتا۔باقی دولتمنداور با اثر آپس میں بانٹ لیتے۔ غریبوں کو برائے نام ملتا۔
- مالِ غنیمت اور مالِ فے کی تقسیم الگ الگ اور مال فے میں غریبوں کا حصہ زیادہ ۔اصول یہی آیت۔ارتکازِ دولت کی حوصلہ شکنی کے ذرائع (i)حلال و حرام کی قید (سود ،جوا،سٹہ، ذخیرہ اندوزی،ناجائز منافع خوری،سمگلنگ،چوربازاری،رشوت۔دولت کا ارتکازچند ہاتھوں میں اور ان کی کمینہ ذہنیت) (ii) حرام خرچ کی ممانعت(iii)زکوٰۃ و صدقات وعشر (iv)نظامِ وراثت۔۔۔۔۔آیت کا دوسرا حصہ ۔صرف غنائم و فے کی تقسیم میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں احکامِ رسالت کی پابندی۔فتنہ انکارِ سنت کی بیخ کنی۔(ضیاء القرآن)
ــــ مالِ غنیمت اور مال فے کے درمیان فرق کرنے کے بعد مالِ فے کے مصارف اور آیت نمبر8میں ان اموال کا ایک ہنگامی مصرف (للفقراءِ المہاجرین) بنیادی فلسفہ دولت امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔(تدبر قرآن)
ــــ آپؐ کا یہ حق چونکہ بحیثیت سربراہِ حکومت کے تھا اس وجہ سے آپ کی وفات کے بعد یہ آپ کے خلیفہ کی طرف لوٹ گیا۔اس کی نوعیت کسی ذاتی ملکیت کی نہیں تھی کہ آپؐ کے بعد اس کی وراثت کا سوال پیدا ہو۔حضرات انبیا ء دین کی وراثت چھوڑتے ہیں ،مال کی نہیں۔(تدبر قرآن)
ــــ امام شافعیؒ ۔ہر سوال کا جواب قرآن سے دے سکتاہوںسوال،ایک محرِم نے چیونٹی مارڈالی۔آیت ماآتٰکم الرسول،تلاوت کرکے حدیث سے اس کا حکم بیان فرمادیا۔اسی طرح ایک موقع پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بھی یہی دلیل دی (جو نیچے دی جا رہی ہے)۔۔۔(معارف القرآن)
۔حضرت عبداللہ بن مسعود کے متعلق روایت ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا " اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں فیشن کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے " اس تقریر کو سن کر ایک عورت ان کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا یہ بات آپ نے کہاں سے اخذ کی ہے ؟ کتاب اللہ میں تو یہ مضمون کہیں میری نظر سے نہیں گزرا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا تو نے اگر اللہ کی کتاب پڑھی ہوتی تو یہ بات ضرور تجھے اس میں مل جاتی۔ کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ مَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا؟ اس نے عرض کیا، ہاں یہ آیت تو میں نے پڑھی ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس فعل سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے ایسا فعل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ عورت نے عرض کیا اب میں سمجھ گئی۔ (تفہیم القرآن)
۔نیز آپؐ نے فرمایا کہ: عنقریب تم میں ایک پیٹ بھرا شخص اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے میری حدیثیں سن کر یہ کہے گا کہ ہمارے تمہارے درمیان قرآن (کافی)ہے اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور حرام کیے ہوئے کو حرام سمجھو۔ یادرکھو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی (ترمذی۔ابوداؤد۔ابن ماجہ۔ مسند احمد۔بیہقی دارمی بحوالہ مشکوٰۃ) واضح رہے آپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر قرآن کے احکام بھی کسی صورت بجا نہیں لائے جاسکتے۔لہذا جو شخص سنت یا حدیث کی حجیت کا قائل نہ ہو وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہوتاہے ۔بلکہ اسے بننا پڑتاہے۔(تیسیر القرآن)
9۔یہ تعریف ہے مدینہ طیبہ کے انصار کی۔(تفہیم القرآن)
۔ان کی اس تعریف سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ اہل ایمان کو اسی طرح باہم دگر ہمدرد، فیاض اور ایثار کرنے والا ہونا چاہیے، یہ گویا ایک آئینہ رکھا گیا ہے ان منافقین کے سامنے جنہوں نے بنی نضیر کے چھوڑے ہوئے اموال سے متعلق یہ مطالبہ پیش کیا کہ اس کو مال غنیمت کی طرح لوگوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے۔ اس آئینہ میں انہیں دکھایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے لیے اس طرح فیاض ہوتا ہے تاکہ انہیں اپنی خود غرضی پر کچھ شرم آئے۔ (تدبرِ قرآن)
10۔عراق ،شام اور مصر وغیرہ کے فتح ہونے کے بعد مال غنیمت کے بارے حضرت عمر کی رائے کہ یہ مالِ فےہے۔جید صحابہ کا اس سے اختلاف ۔مجلس شوریٰ میں تین دن تک بحث ہوتی رہی۔آخر حضرت عمرؓ نے یہی آیات پڑھیں(6-10) تمام صحابہؓ کا اطمینان۔۔۔۔ ۔خراجی زمینوں اورخراج کیلئے درجہ بندی (مکہ کے صحرانشینوں نے کس ذہانت اور قابلیت سے ان زمینوں کی درجہ بندی کی)۔۔۔۔۔ ہندوستان کی تمام زمینیں خراجی (تفسیرِ مظہری۔مولانا ثناء اللہ پانی پتی)۔۔۔۔۔ انگریزوں کے کتے نہلانے والے جاگیر دار بن گئے۔ اگر یہی صورت حال عمرؓ کے زمانے میں ہوتی تو بدترین جاگیرداری نمودار ہوتی اور مفتوحہ ممالک کے دفاع کیلئے فوجوں کی تنخواہیں نہ ملتیں۔(بیان القرآن)
ــــ حضرت عمرؓ اور خراجی زمین -177-180 (ضیاء القرآن)
ــــ امام مالک ؒ نے اسی کی بنیاد پر فرمایا کہ جو شخص صحابہؓ سے بغض رکھے اور ان کی بدگوئی کرے اس کےلئے مالِ فے میں کچھ حصہ نہیں۔(تفسیر عثمانی)
۔حضرت حسین سے کسی نے حضرت عثمان غنی کے بارے میں سوال کیا (جبکہ ان کی شہادت کا واقعہ پیش آ چکا تھا) تو انہوں نے سوال کرنے والے سے پوچھا کہ تم مہاجرین میں سے ہو ؟ اس نے انکار کیا پھر پوچھا کہ انصار میں سے ہو ؟ اس نے اس کا بھی انکار کیا تو فرمایا بس اب تیسری آیت والَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ کی رہ گئی، اگر تم عثمان غنی کی شان میں شک و شبہ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس درجہ سے بھی نکل جاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ کسی صحابی کو برا کہتا ہے تو اس سے کہو کہ جو تم سے زیادہ برا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، یہ ظاہر ہے کہ زیادہ برے صحابہ تو ہو نہیں سکتے یہی ہوگا جو ان کی برائی کر رہا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام میں سے کسی کو برا کہنا سبب لعنت ہے۔۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)
ـــــ مہاجرین و انصار کے بعد عام مسلمان۔ فضائل ِ مہاجرین و انصار ۔823-372 (معارف القرآن)
دوسرا رکوع |
| اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ﴿11﴾ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ ﴿12﴾ لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ ﴿13﴾ لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ ﴿14﴾ كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ ﴿15﴾ كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿16﴾ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ ﴿17ع الحشر 59﴾ |
| 11. کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ 12. اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی۔ 13. (مسلمانو!) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ سمجھ نہیں رکھتے۔ 14. یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ 15. ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔ 16. منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ 17. تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں (داخل ہوئے) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔ |
تفسیر آیات
منافقین کی بزدلی اور عہد شکنی
11۔ اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کو مدینے سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا اور ان کا محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جب بنی نضیر کو یہ نوٹس دیا تو عبداللہ بن ابی اور مدینہ کے دوسرے منافق لیڈروں نے انکو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے، لہٰذا تم مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ اور ہرگز ان کے آگے ہتھیار نہ ڈالو۔ یہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے ساتھ لڑیں گے، اور تم یہاں سے نکالے گئے تو ہم بھی نکل جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ پس ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ رکوع پہلے کا نازل شدہ ہے اور پہلا رکوع اس کے بعد نازل ہوا ہے جب بنی نضیر مدینہ سے نکالے جا چکے تھے۔ لیکن قرآن مجید کی ترتیب میں پہلے رکوع کو مقدم اور دوسرے کو مؤخر اس لیے کیا گیا ہے کہ اہم تر مضمون پہلے رکوع ہی میں بیان ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔۔۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ منافقین میں زیادہ تعداد انہی افراد کی تھی جو پہلے یہودی تھے اور انہی کا رویہ ان سورتوں میں زیر بحث ہے۔ عربوں میں سے جو لوگ اسلام لائے ان میں منافق بہت کم تھے اور ان کے نفاق کی نوعیت بھی مختلف تھی۔ آگے سورة ممتحنہ میں اس گروہ کا رویہ زیر بحث آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔(الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ)۔ میں یہود کے جس گروہ کی طرف اشارہ ہے اس کے تعین میں لوگوں کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے لیکن میں اس بات پر مطمئن ہوں کہ یہ اشارہ یہود بنی قریظہ کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ کے جوار میں یہود کے تین ہی بڑے قبیلے آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنوقریظہ، بنو قینقاع کا قصہ پہلے ہی پاک ہوچکا تھا۔ بنو نضیر کا حشر اسی سورة میں اوپر بیان ہوا۔ اس کے بعد صرف بنو قریظہ بچ رہے تھے جو مدینہ سے کچھ فاصلہ پر آباد تھے۔ اس وجہ سے منافقین کی جس ساز باز کا ذکر ہے وہ انہی کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ ان کا خاتمہ غزوہ خندق کے معاً بعد ہوا ہے جس کی تفصیل سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔۔۔۔۔۔(وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) جس قسم و تاکید کی ساتھ ان منافقین نے بنو قریظہ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اسی تاکید و توثیق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا (وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ ) کے الفاظ ہم واضح کرچکے ہیں کہ قسم کے مفہوم میں آتے ہیں (تدبرِقرآن)
12ــــ بنونضیر کی جلاوطنی کے بعد منافقین نے مدینہ کے نواح میں آباد تیسرے قبیلہ بنوقریظہ کی پیٹھ ٹھوکنی شروع کردی کہ آپ لوگ ہراساں نہ ہوں۔ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور آپ کے بارے میں مسلمانوں کی کسی بات کی ہر گز پروانہیں کریں گے اور اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم آپ کے ساتھ سربکف ہوکرلڑیں گے ۔فرمایا کہ منافقین بزدل اور جھوٹے ہیں۔نہ یہ جلاوطنی میں ساتھ دینے والے ہیں نہ جنگ میں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
15۔ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا۔ یعنی یہود بنی قینقاع ،یہ بھی مدینہ و حوالیِ مدینہ میں آباد تھے۔سنہ2ھ میں غزوۂ بدر کے بعد اس قبیلہ نے بدعہدی کرکے رسول اللہؐ سے محاربہ کیا، مغلوب ہوئے اور پھر جلاوطن۔(تفسیر ماجدی)
۔یہ اشارہ اگرچہ قریش کی طرف بھی ہوسکتا ہے، بلکہ بنو قینقاع کی طرف بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ابن کثیر نے سمجھا ہے، لیکن میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ ان آیات میں اس سازش کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جو بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد منافقین نے بنو قریظہ کے ساتھ کرنی شروع کی تھی، اس وجہ سے میرے نزدیک یہ اشارہ بنو نضیر کے انجام کی طرف ہے۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ بنو نضیر کی مثال بالکل تازہ تھی، جیسا کہ قریباً کے الفاظ سے واضح ہے۔ دوسری یہ ہے کہ یہود کے کسی گروہ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر مثال یہود ہی کے کسی گروہ کی ہو سکتی تھی۔ (تدبرِ قرآن)
16۔ الشَّیْطٰنُ۔۔۔۔لِلاِنسَانِ۔دونوں سے مراد جنسِ شیطان و جنس ِ انسان ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہ بنوقریظہ کو بنونضیر کے انجام سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے اور منافقین کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ وہی کام کررہے ہیں جو شیطان کیا کرتاہے کہ مجرم کو جرم پر ابھارتا ہے اور جب وہ کربیٹھتا ہے تو وہ اس سے براءت کا اعلان کرکے الگ ہوجاتاہے ۔فرمایا کہ منافقین بھی نتائج کی ذمہ داری سے اپنے کو بچالے جائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
تیسرا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴿18﴾ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴿19﴾ لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ ﴿20﴾ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ ﴿21﴾ هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ﴿22﴾ هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿23﴾ هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿24ع الحشر 59﴾ |
| 18. اے ایمان والوں! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل (یعنی فردائے قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور (ہم پھر کہتے ہیں کہ) خدا سے ڈرتے رہو بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ 19. اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے۔ یہ بدکردار لوگ ہیں۔ 20. اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں۔ اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ 21. اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے۔ اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں۔ 22. وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ 23. وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگْہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔ 24. وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا۔ اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ |
تفسیر آیات
۔ معرفتِ باری تعالیٰ اور تصوف ِ اسلامی کا بہترین نمونہ اسمائے خداوندی کا سب سے بڑا گلدستہ(16 نام) (بیان القرآن)
18۔قرآن مجید کا قاعدہ ہے کہ جب کبھی منافق مسلمانوں کے نفاق پر گرفت کی جاتی ہے تو ساتھ ساتھ انہیں نصیحت بھی کی جاتی ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر بھی ابھی کچھ ضمیر کی زندگی باقی ہے وہ اپنی اس روش پر نادم ہو اور خدا سے ڈر کر اس گڑھے سے نکلنے کی فکر کرے جس میں نفس کی بندگی نے اسے گرا دیا ہے۔ یہ پورا رکوع اسی نصیحت پر مشتمل ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف مال منتقل کرنے کا جو طریقہ اس دنیا میں رائج ہے کہ یہاں کی حکومت کے بنک میں جمع کرکے دوسرے ملک کی کرنسی حاصل کرلے جو وہاں چلتی ہے۔وہاں کرنسی نیکی یا ثواب کی صورت مل جاتی ہے یا فردِ جرم (گناہ)کی صورت میں ۔کھوٹاسکہ وہاں وہ ہوگا جو یہاں ایسا خرچ ہوجو خالص اللہ کی رضا کیلئے نہ ہو بلکہ نام و نمود یا کسی دوسری نفسانی غرض کیلئے ہو۔(معارف القرآن)
19۔ علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی کی بنیاد یہ آیت ہے۔ حیوانی وجود کو نہیں بلکہ روحانی وجود کو بھلا دیا۔آج کی تہذیب کی بنیاد حیوانیت ہے۔۔۔۔۔Real Self (خودی،انا، روح۔من امر ربی۔عالمِ امر کی شے نہ کہ عالمِ خلق)۔ (بیان القرآن)
۔ یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ ہے تو لازماً وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور اس کی ساری زندگی اسی بنیادی غلط فہمی کے باعث غلط ہو کر رہ جاتی ہے، اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک کی بندگی تو نہیں کرتا جس کا وہ درحقیقت بندہ ہے، اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا رہتا ہے جن کا وہ فی الواقع بندہ نہیں ہے۔ یہ پھر ایک عظیم اور ہمہ گیر غلط فہمی ہے جو اس کی ساری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے۔ انسان کا اصل مقام دنیا میں یہ ہے کہ وہ بندہ ہے، آزاد و خود مختار نہیں ہے۔ اور صرف ایک خدا کا بندہ ہے، اس کے سوا کسی اور کا بندہ نہیں ہے۔ جو شخص اس بات کو نہیں جانتا وہ حقیقت میں خود اپنے آپ کو نہیں جانتا۔ اور جو شخص اس کے جاننے کے باوجود کسی لمحہ بھی اسے فراموش کر بیٹھتا ہے اسی لمحے کوئی ایسی حرکت اس سے سرزد ہو سکتی ہے جو کسی منکر یا مشرک، یعنی خود فراموش انسان ہی کے کرنے کی ہوتی ہے، صحیح راستے پر انسان کے ثابت قدم رہنے کا پورا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے خدا یاد رہے۔ اس سے غافل ہوتے ہی وہ اپنے آپ سے غافل ہوجاتا ہے، اور یہی غفلت اسے فاسق بنا دیتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
21۔ تجلی ذات (حضرت موسیٰ کی خواہش ِ دیدار کے جواب میں فرمایا لَن تَرَانِی، اللہ نے اپنا جلوہ دکھایا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا،حضر ت موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑے)
فاش گویم آنچہ دردل مضمراست ایں کتابے نیست،چیزے دیگراست
چوں بجاں دراوست جاں دیگر شود جاں چوں دیگر شود،جہاں دیگر شود (علامہ اقبال) (بیان القرآن)
۔ مضمون بالا کی وضاحت: البقرہ(74)،الحدید(16)،الاحزاب(72)۔(تدبر قرآن)
22-24: اللہ کے اسما و صفات میں "و" بہت کم آیا ہے۔تمام بیک وقت موجود ۔جہاں "و"ہے وہاں دومتقابل چیزیں مراد ہوتی ہیں مثلاً سورۂ حدید میں هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ۔غیب ہمارے لئے ہے اللہ کیلئے کوئی چیز نہیں ۔یہ سورۃ شروع بھی اور ختم بھی تسبیح کے ساتھ۔سبح اور یسبح ۔پہلی آیت میں "ومافی الارض اور آخر میں صرف الارض(زور دینے کیلئے فی الارض)۔(بیان القرآن)
22۔ دومقامات قرآن میں ایسے ہیں جن میں اللہ کی صفات کا جامع ترین بیان ہے۔ایک آیت الکرسی اور دوسرے یہ آیت۔(تفہیم القرآن)
23۔ السَّلٰمُ(سلامتی، سکھ، چین) المُؤمِنُ(امان دینےوالا،انسان کیلئے ایمان لانے والا) المُھَیمِنُ (خلیل،نگران،محافظ،معتمد،وکیل) العَزِیزُ(غالب و قوی،جس پر کوئی حاوی نہ ہوسکے،جوسب کو شکست دے سکے) الجَبَّارُ(زور آور،تگڑا) المُتَکَبِّرُ(بڑائی اور برتری کا احساس رکھنے والا،غیور۔دوسرے آسمانی صحیفوں میں ہے:خداوند خدا غیور ہے ،جس طرح تم یہ گوارانہیں کرتے کہ تمہاری بیوی کسی غیر کی بغل میں سوئے اسی طرح وہ بھی گوارا نہیں کرتاکہ اس کا کوئی بندہ کسی غیر کی بندگی کرے)۔(تدبر قرآن)
ــــ الجبّار ۔یعنی ہر قسم کی اصلاح کرنے والا ہے۔ مجبراس کو کہتے ہیں جو ٹوٹی ہوئی یا اُکھڑی ہوئی ہڈی پھر سے بٹھادے۔(تفسیر ماجدی)
22-24۔ آخری تین آیات کی صبح و شام تلاوت کرنا چاہئیے۔(تفسیر عثمانی)
24۔ترمذی میں حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صبح کے وقت تین مرتبہ أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ اور اس کے بعد ایک مرتبہ سورة حشر کی آخری تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ، سے آخر سورت تک پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتے ہیں جو شام تک اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں ، اگر اس دن میں وہ مر گیا تو شہادت کی موت حاصل ہوگی اور جس نے شام کو یہی کلمات تین مرتبہ پڑھ لئے تو یہی درجہ اس کو حاصل ہوگا (مظہری) (معارف القرآن)