6 - سورة الأنعام (مکیہ)

رکوع - 20 آیات - 165

مضمونسورہ انعام سے سورہ توبہ تک سورتوں کا دوسرا گروپ ہے (یاد رہے کہ یہ گروپ قرآن کی سات منزلیں نہیں)۔ اس میں قریش کا یہ دعویٰ باطل قرار دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں ۔سورہ انعام میں بتایا ہے کہ دین ابراہیم کی بنیاد توحید پرتھی،شرک  پر نہیں اور نبیؐ اس دین کے حقیقی وارث ہیں۔ اس گروپ میں توحید کے تقاضوں کی وضاحت کی گئی ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

تفصیلی تعارف

۔ آیات کا دوسرا گروپ دو مکی سورتوں (انعام،اعراف) اور دو مدنی سورتوں(انفال ،توبہ) پر مشتمل ہے

- پہلے گروپ میں اصل بحث اہلِ کتاب سے ،قریش سے کہیں ضمنی خطاب۔

۔پہلے گروپ میں استدلال ان چیزوں سے ہے جنہیں اہلِ کتاب مانتے تھے،اور دوسرےگروپ میں استدلال عقل و فطرت ،آفاق و انفس کے شواہد ،اور ابراہیمی ورثہ سے ہے۔

۔پہلے گروپ میں اہلِ کتاب کو منصب ِامامت سے معزول کیا گیا، دوسرے گروپ میں قریش کو بیت اللہ کی تولیت سے معزول کیا گیا ۔

۔ پہلےگروپ میں بنی اسرائیل کے خلاف فردِ جرم ،دوسرے گروپ میں بنی اسمٰعیل کے خلاف فردِ جرم۔

۔پہلے گروپ کا مرکزی مضمون (سابقہ امتوں پر تنقید ،ان کی معزولی اور شریعت ِ محمدی کی وضاحت ) دوسرے گروپ کا مرکزی مضمون (قریش کی تولیتِ بیت اللہ سے معزولی ،ابراہیمی وراثت کے دعویٰ کی تردیداور توحید ،رسالت اور آخرت )

-چاروں سورتوں میں گہری حکیمانہ ترتیب :       ۔   انعام میں قریش پر اتمام ِ حجت ،اعراف میں انکو انذار،انفال میں ان کی بیت اللہ کی تولیت سے معزولی اور مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کی ہدایت، توبہ میں قریش کو الٹی میٹم (اسلام یا تلوار)

-انعام میں تذکیر بآلاء اللہ (اللہ کی آیات نشانیاں ،قدرتیں،نعمتیں) اور اعراف میں تذکیر بایام اللہ (قوموں کی تباہی )۔(شاہ ولی اللہ ۔الفوز الکبیر فی اصول التفسیر)۔ (مختلف تفاسیر کے مباحث کا خلاصہ: مرتب)

مکی زندگی کے ادوار:

جہاں تک مدنی سورتوں کا تعلق ہے ان میں سے قریب قریب ہر ایک کا زمانہ نزول معلوم ہے(بلکہ انفرادی آیات تک) مگر مکی سورتوں کے زمانہ نزول میں ایسی سہولت نہیں۔ اس زمانہ کی سورتوں کے انداز کو سمجھنے کے لیے مکی سورتوں کو مندرجہ ذیل چار ادوار  میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلادور: آغاز ِ بعثت سے لیکر اعلانِ نبوت تک(تقریباً 3 سال)

دوسرادور: اعلانِ نبوت سے لیکر ظلم و ستم کے آغاز تک(تقریباً 2سال)۔تضحیک ،استہزاء،الزامات ،جھوٹا پراپیگنڈہ، مخالفانہ جتھہ بندی۔

تیسرادور: ظلم و ستم سے لیکر عام الحزن تک(حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ کی وفات) تقریباً پانچ سال(سنہ10نبوی)انتہائی شدید مخالفت ،ہجرت ِ حبشہ ،معاشرتی و معاشی مقاطعہ(شعب ابی طالب)

چوتھا دور: سنہ10 نبوی سےلیکر 13 سنہ نبوی تک۔انتہائی سخت و مصیبت کا زمانہ ،سفرِ طائف،حضورؐ کے قتل ،قید یا جلاوطنی کے مشورے ،انصار کی دعوتِ مدینہ ۔ (تفہیم القرآن)

شانِ نزول:

یہ سورۃ سورۂ اعراف کے ساتھ حضورؐ کے قیام ِ مکہ کے چوتھے دور کے آخر میں نازل ہوئی۔غالباً یہ آخری مکی سورت ہے جو بیک وقت نازل ہوئی،البتہ آیت:33ابوجہل کے اس قول پر نازل ہوئی کہ انہیں رسولؐ سے نہیں بلکہ قرآن سے انکار ہے(ترمذی)

سورۂ الانعام کی خصوصیات:۔۔۔سورت الانعام سے قرآن مجید کا مزاج بالکل بدل جاتاہے اور اس کا رخ، بنی اسماعیل (یعنی بالخصوص قریشِ مکہ )کی طرف مڑجاتاہے۔یہاں سے دو مکی سورتوں کا آغاز ہورہاہے،اور قاری کو ایک نئے پیرایۂ بیان سے ہمکنار ہونا پڑتاہے۔)قرآنی سورتوں کا نظم جلی(

کتابی ربط: سورۃ الانعام کی آیت:6 میں قوموں کی ہلاکت کا اجمالی ذکر ہے،اگلی سورت الاعراف میں، تفصیلی طورپر چھ قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرکے ، قریشِ مکہ کو آخری وارننگ دی گئی ہے اور اللہ کا (قانونِ ہلاکت ِ اقوام)اور(قانون استبدال ِ اقوام )بیان کیا گیا ہے۔)قرآنی سورتوں کانظم جلی)

ترتیب مطالعہ:حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ یہ پوری سورۃ مکہ میں بیک وقت نازل ہوئی۔ چونکہ حضور ﷺ کے قیام مکہ کے چوتھے دور کے آخر میں نازل ہوئی اس لیے اس میں مکی دور کے تمام مضامین مثلا توحید، آخرت، اور مشرکین مکہ کے اعتراضات آ گئے ہیں۔ پوری سورۃ جلد از جلد ایک تسلسل میں پڑھنی چاہیے۔


پہلا رکوع

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ 1 ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں۔
 هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ 2 وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو) خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو۔
 وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ  3 اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے۔
 وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ 4 اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
 فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ  5 جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا۔
 اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ  6 کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں۔
 وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ 7 اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے۔
 وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ 8 اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی۔
 وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ  9 نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے۔
وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠   ۧ ۧ  10 اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا۔

تفسیر آیات

1۔ ابواسحاق اسفرائنی نے فرمایا کہ یہ سورۃ توحید کے تمام اصول و قواعد پر مشتمل ہے۔)معارف القرآن(

- توحید کے دلائل عرب کے مسلمات سے ہیں کیونکہ مشرکین عرب آسمان و زمین اور نورو ظلمت سب کا خالق اللہ ہی کو مانتے تھے ۔)تدبرقرآن(

- آج کے دور کا سب سے بڑا شرک پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کی رہنمائی کے بغیر قانون سازی ہے۔

   ع۔۔۔۔ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے۔)بیان القرآن(

-یہ سورۃ مکی ہے۔ صرف چند آیات کو بعض علماء نے مستثنیٰ کیا ہے۔روایات میں ہے کہ پوری سورۃ بیک وقت بے شمار فرشتوں کے جلو میں نازل ہوئی۔۔۔۔مجوس دنیا کے دوخالق مانتے ہیں: یزداں (خالق خیر) اور اہرمن (خالق شر) ۔ہندوستان کے مشرک 33 کروڑ دیوتاؤں کے قائل ہیں ۔عرب کے مشرکین ہرپتھر اور ستارہ کو خدا مانتے تھے۔)تفسیر عثمانی(

۔ اس آیت میں سمٰوات کو جمع اور ارض کو مفرد ذکر فرمایا ہے، اگرچہ دوسری آیت میں آسمان کی طرح زمین کے بھی سات ہونے کا ذکر موجود ہے، شاید اس میں اس طرف اشارہ ہو کہ سات آسمان اپنی ہیئت و صورت اور دوسری صفات کے اعتبار سے باہم بہت امتیاز رکھتے ہیں، اور ساتوں زمینیں ایک دوسرے کی ہم شکل اور مثل ہیں، اس لئے ان کو مثل ایک عدد کے قرار دیا گیا (مظہری) ۔ اسی طرح ظلمت کو جمع اور نور کو مفرد ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ نور تعبیر ہے صحیح راہ اور صراط مستقیم سے اور وہ ایک ہی ہے، اور ظلمٰت تعبیر ہے غلط راستہ کی، اور وہ ہزاروں ہیں (مظہری و بحر محیط) (معارف القرآن)

2۔اس آیت میں پہلے لفظ اجل سے مراد انسان کی موت تک کا وقت ہے جوکہ ہر انسان کیلئے قیامت صغریٰ ہے چنانچہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ"جوشخص مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی "اور اجل مسمیٰ سے مراد قیامت کا دن یا قیامت کبریٰ ہے۔جبکہ سب لوگ قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور اللہ کے حضور ان سے بازپرس اور ان کا محاسبہ ہوگا۔)تیسیر القرآن(

- تخلیق انسانی :۔اوپر"عالم کبیر "کی پیدائش کا ذکر تھا یہاں "عالم صغیر"(انسان )کی خلقت کو بیان فرماتے ہیں کہ دیکھو  شروع میں بے جان مٹی سے آدمؑ کا پتلا تیار کرکے کس طرح حیات اور کمالات انسانی فائض کئے اور آج بھی مٹی سے غذائیں نکلتی ہیں،غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے انسان بنتے رہتے ہیں۔غرض اس طرح تم کو عدم سے وجود میں لائے پھر ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر کردیا جبکہ آدمی دوبارہ اسی مٹی میں جاملتاہے جس سے پیدا کیا گیا تھا۔اسی پر قیاس کرسکتے ہوکہ"عالم کبیر"کی فنا کا بھی ایک وقت مقرر ہے جسے "قیامت کبریٰ"کہتے ہیں۔"قیامت صغریٰ"یعنی شخصی موتیں جوکہ ہمیں پیش آتی رہتی ہیں۔ان کا علم بھی لوگوں کو ہوتارہتا ہے لیکن "قیامت کبریٰ"کی ٹھیک مدت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ تعجب ہے کہ "عالم صغیر"یعنی انسانوں میں زندگی اور فنا کا سلسلہ دیکھتے ہوئے بھی "عالم کبیر"کی فنا میں کوئی آدمی تردد کرتاہے۔)تفسیر عثمانی(

ــــ مدت سے مراد وہ مدت حیات ہے جو ہر فرد کو تقدیر کی طرف سے ملی ہے اور مدت مقررہ وہ ہے جو آخرت میں خلق کے اٹھائے جانے کے لیے مقررہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا۔ اجل کے مختلف مفہوم : اجل کے معنی مدت مقررہ کے ہیں۔ اجل یا اجل مسمٰی کا لفظ فرد یا اقوام کے تعلق سے مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک تو اس مدت حیات کے لیے جو ہر فرد کو تقدیر کی طرف سے ملی ہے، دوسرے اس روز بعث کے لیے استعمال ہوا ہے جو خلق کے اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔ تیسرے اس مقررہ پیمانہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو کسی قوم کی ہلاکت کے لیے مقرر ہے۔ (تدبرِ قرآن)

اللہ کا ہرجگہ موجود ہونا:  ۔۔۔جبکہ بہت سی دوسری آیات اور صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ کی ذات ساتوں آسمانوں سے ماوراء عرش پر ہے۔رہی اللہ کی زمین و آسمان میں اور ہرجگہ اس کی موجودگی تووہ اس کے علم اور اس کی قدرت کے لحاظ سے اور ان صفات میں کمال کی وجہ سے ہے۔اس کی قدرت اور اس کے علم کا یہ حال ہے کہ وہ عرش پر ہوتے ہوئے بھی رتی رتی چیز کو دیکھ رہاہے اس کی نگرانی کررہاہے۔ہرپکارنے والے کی پکار سن رہاہے ،ماسوائے چند گمراہ فرقوں کے ،جمہور اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔(تیسیر القرآن)

اشارہ ہے ہجرت اور ان کامیابیوں کی طرف جو ہجرت کے بعد اسلام کو پے در پے حاصل ہونے والی تھیں۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کرسکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انہیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں ہی کے ذہن میں اس کا کوئی تصور تھا۔ بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی آئندہ کے امکانات سے بیخبر تھے۔ (تفہیم القرآن)

7- دوسری آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی، کہ عبداللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک معاندانہ مطالبہ پیش کیا اور کہا کہ میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتا جب تک کہ میں یہ واقعہ نہ دیکھ لوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان میں چڑھ جائیں، اور وہاں سے ہمارے سامنے ایک کتاب لے کر آئیں، جس میں میرا نام لے کر یہ ہو کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کروں، اور یہ سب کہہ کر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سب کچھ کر بھی دکھائیں میں تو جب بھی مسلمان ہوتا نظر نہیں آتا۔ اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ پھر یہی صاحب مسلمان ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اسلام کے غازی بن کر غزوہ طائف میں شہید ہوئے۔(معارف القرآن)

9۔رجلاً۔رجل کے معنی مطلق انسان کے نہیں،بلکہ مردیا جنس مذکر کے ہیں ،اور یہیں سے بعض مفسرین نے یہ نکالاہے کہ رسالت عورت کیلئے نہیں،صرف مرد کیلئے مخصوص ہے۔(تفسیر ماجدی)

10۔پیغمبر کے فرشتہ ہونے پر اعتراضات:۔ فرشتہ نازل کرنے کی دوسری صورت یہ تھی کہ وہ انسانی شکل میں آتا۔جیسے جبریل آپؐ کے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں کبھی کبھار آتے تھے۔یا سیدنا ابراہیمؑ ،سیدنا لوطؑ اور سیدنا داؤدؑ کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے۔اور اگر فرشتہ پیغمبر بن کر انسانی شکل میں آتا تو اس پر بھی وہ تمام اعتراضات وارد ہوسکتے تھے جو رسول اللہؐ پروارد ہوتے رہے۔پھر یہ ایک الگ اعتراض پیدا ہوجاتاکہ جو شخص اپنے آپ کو فرشتہ اور پیغمبر کہہ رہاہےآیا یہ فی الواقع فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ یا کوئی جادوگرانسان ہے جو ہمیں چکمہ دے رہاہے گویا ان کا وہ اشتباہ پھر بھی بدستور باقی رہتاجو انہیں اب پڑا ہواہے نیزاگر کوئی رسول فرشتہ ہو تو اتمام حجت کا معاملہ ہی ختم ہوجاتا۔ایسے رسول پر ایمان لانے والے اپنی بے عملی کے جواز کیلئے یہ معقول بہانہ پیش کرسکتے تھے کہ رسول تو فرشتہ ہے اور ہم بشر ہیں لہذا ہم اس کی پورے طورپر اتباع کیسے کرسکتے ہیں؟ اوریہی رسول کے بشر ہونے میں سب سے بڑی حکمت ہے۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ 11 کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔
 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ  12 (ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا۔ جن لوگوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔
 وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 13 اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے۔
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ  14 کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا۔
 قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ 15 (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔
 مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ 16 جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے۔
 وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ  17 اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
 وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ  18 اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے۔
قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ   19 ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں۔ کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا ۔کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔
 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠   ۧ ۧ 20 جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر آیات

۔ اکثر مفسرین نے آیت  :11 کو پہلے رکوع کے ساتھ بیان کیا ہے (مرتب)

14۔  اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔(تفہیم القرآن)

18۔ فوق کاتعلق یہاں"اوپرکی سمت سے "نہیں،بلکہ مرتبہ و حکومت کی بلندی سے ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ، قہر، کا لفظ عربی میں اس معنی میں بالکل نہیں آتا جس معنی میں اردو میں آتا ہے بلکہ اس کے معنی اختیار اور قابو، حکومت اور تسلط میں رکھنے کے آتے ہیں۔ انگریزی میں لفظ Control کا جو مفہوم ہے وہی مفہوم عربی میں اس لفظ کا ہے۔ اسی سے لفظ ‘ قہار ’ مبالغہ کا صیغہ ہے جو اسمائے حسنٰی میں سے ہے جس کے معنی Controller کے ہیں۔ یعنی تمام جہان اور اس کے تمام بندے ہر آن اس کی مٹھی اور اس کے قابو میں ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

19۔ اللہ کی شہادت سب سے بڑھ کر کیسے ہے؟ شہادت دوطرح سے ہوتی ہے ایک آنکھوں دیکھا حال کسی قاضی، جج یا منصف کے سامنے بیان کرنا جسے انگریزی میں(WITNESS)کہتے ہیں۔ دوسرے یقین کامل کی بناپر شہادت جسے انگریزی میں(EVIDENCE)کہتے ہیں۔ ہم مسلمان اپنے یقین کامل یا ایمان کی بناپر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سواکوئی الٰہ نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔تو یہ شہادت آنکھوں دیکھی شہادت نہیں۔نہ ہم عینی شاہد یا چشم دید گواہ ہیں کیونکہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے اور نہ رسول کو بلکہ یہ گواہی اپنے یقین کامل یا ایمان کی بناپر دیتے ہیں اور اللہ کی گواہی اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر سچی ہے کہ اس میں شہادت کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں وہ چونکہ ہرجگہ حاضر وناظر ہے۔اس لحاظ سے یہ آ نکھوں دیکھی شہادت ہے پھر وہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق و مالک اور اس کا مربی بھی ہے لہذا اس جیسا یقین کامل بلکہ حقیقی علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔(تیسیر القرآن)

۔ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ، عام طور پر مفسرین نے وَمَنْۢ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبردار کریں۔ (تدبرِ قرآن)

20 ۔یعنی کتب آسمانی کا علم رکھنے والے اس حقیقت کو غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے اور خدائی میں کسی کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ جس طرح کسی کا بچہ بہت سے بچوں میں ملا جلا کھڑا ہو تو وہ الگ پہچان لے گا کہ اس کا بچہ کونسا ہے، اسی طرح جو شخص کتاب الہٰی کا علم رکھتا ہو وہ الوہیت کے متعلق لوگوں کے بیشمار مختلف عقیدوں اور نظریوں کے درمیان بلا کسی شک و اشتباہ کے یہ پہچان لیتا ہے کہ ان میں سے امر حق کونسا ہے۔(تفہیم القرآن)

۔ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ،  اس ٹکڑے پر تفصیلی بحث بقرہ کی تفسیر میں آیت 146 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ اس سے مراد صالحین اہل کتاب ہیں۔ قرآن میں اچھے اہل کتاب کا ذکر بالعموم بصیغہ معروف ہی ہوا ہے۔ یعرفونہ میں ضمیر منصوب کا مرجع قرآن ہے جس کا ذکر اوپر وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ میں گزر چکا ہے۔ اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی مراد لیا گیا ہے لیکن چونکہ یہاں سیاق کلام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کا ہے اس وجہ سے آپ کے لیے ضمیر غائب موزوں نہیں ہے۔ ویسے باعتبار مدعا کوئی فرق واقع نہیں ہوگا اس لیے کہ نبی اور قرآن دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایسے لازم و ملزوم کہ قرآن میں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کریں گے، ایک دوسرے سے بدل پڑے ہوئے ہیںَ بقرہ میں ہم اَبْنَاۗءَهُمْ کی تشبیہ پر بھی بحث کرچکے ہیں کہ جس طرح ایک مہجور باپ کو اپنے موعود و منتطر بیٹے کا انتظار ہوتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو دور سے اس کے پیراہن کی خوشبو اس کے لیے نوید مسرت لاتی ہے اسی طرح صالحین اہل کتاب کو قرآن اور پیغمبر کا انتظار تھا اور اسی جذبے کے ساتھ، جیسا کہ وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ الایۃ کے تحت گزر چکا ہے، انہوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ صالحین اہل کتاب کی گواہی : اب یہ قرآن کی گواہی کو مزید موثق کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ کوئی غیر معروف گواہی نہیں ہے بلکہ جانی پہچانی ہوئی گواہی ہے۔ اس کا ذکر پچھلے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہے۔ تم سے پہلے جن کو کتاب عطا ہوئی وہ اس کو پہچانتے ہیں اور جو ان میں اہل ایمان ہیں وہ اس کے منتظر و مشتاق رہے ہیں۔ اس پر ایمان لانے سے محروم تو صرف وہ رہیں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا۔ فرمایا جب خدا کی گواہی یہ ہے تو ان سے بڑھ کر بدقسمت ظالم اور نامراد کون ہوسکتا ہے جو اس گواہی کے خلاف خدا پر یہ جھوٹ باندھیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا یا اس کی آیات کی تکذیب کریں جب کہ وہ توحید کی واضح تعلیم کے ساتھ ان کے پاس آگئی۔ ایسے ظالم کبھی فلاح پانے والے نہیں بن سکتے۔ یہ سورة اگرچہ مکی ہے لیکن یہ اس دور کی سورة ہے جب مدینہ کے اہل کتاب اس دعوت سے غیر متعلق نہیں رہے تھے بلکہ ان کے اشرار اس کی مخالفت کو شہ دے رہے تھے اور جو اچھے لوگ تھے وہ اس کو سابق صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی تصدیق سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے قرآن کا یہ اشارہ یہاں بڑا معنی خیز ہے۔ اس سے اخیار کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی اور ساتھ ہی ان لوگوں پر ایک چوٹ بھی لگا دی گئی جو جان کر انجان بن رہے تھے۔ اس مضمون کی مزید تفصیل اسی سورة میں آگے آیت 114 کے تحت آئے گی۔ (تدبرِ قرآن)


تیسرا رکوع

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 21 اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔
وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ  22 اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا۔
 ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ  23 تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے۔
اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ 24 دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا۔
 وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ  25 اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ  26 وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ 27 کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں۔
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 28 ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔
 وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ  29 اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠   ۧ ۧ 30 اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو۔

تفسیر آیات

21۔ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا۔اللہ پرافتراء کذب یہ کہ جن چیزوں سے نفی و انکار واجب ہے،ان کا اقرار و اثبات کرنے لگے، مثلاً دیویوں دیوتاؤں کی خدائی،روح یا مادہ کی قدامت ،آواگون کا چکر،اوتاروں کا وجود۔ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ۔تکذیب آیاتِ الٰہی یہ کی جن باتوں کا اقرار واثبات واجب ہے،ان سے انکار کرنے لگےمثلاً توحید،رسالت،یوم جزا،حقانیتِ قرآن وغیرہ۔(تفسیر ماجدی)

آخرت میں مشرکین کی حالت:۔ یعنی نبی نہ ہو اور خدا پر افتراء کرکے دعویٰ نبوت کربیٹھے یا سچے نبی سے جس کی صداقت کے دلائل واضحہ موجود ہوں،خدائی پیام سن کر تکذیب پر کمربستہ ہوجائے ،ان دونوں سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہوسکتاہے۔اور سنتہ اللہ یہ ہے کہ ظالم کو انجام کار کامیابی اور بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔پس اگر فرض کرو۔معاذ اللہ میں مفتری ہوں تو ہرگز کامیاب نہ ہونگا اور تم تکذیب کرو جیساکہ دلائل سے ظاہر ہے تو تمہاری خیریت نہیں۔لہذا حالات میں غور کرکے اور انجام سوچ کر عاقبت کی فکر کرو۔اور اس دن سے ڈرو جس کا ذکر آگے آتاہے۔ ابن کثیر ؒ نے آیت کے یہ ہی معنی لئے ہیں اور بعض مفسرین نے "افتراء علی اللہ " سے مشرکین کا شرک مراد لیاجیساکہ آگے "وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ"میں اشارہ ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خدا کے ساتھ دوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیت کا رویہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اسی نے یہ حکم دیا ہے، یا کم از کم یہ کہ وہ اس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔۔۔۔۔اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، اور وہ بھی جو پیغمبروں کی سیرت اور ان کے کارناموں میں ظاہر ہوئیں، اور وہ بھی جو کتب آسمانی میں پیش کی گئیں۔ یہ ساری نشانیاں ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں، یعنی یہ کہ موجودات عالم میں خدا صرف ایک ہے باقی سب بندے ہیں۔ اب جو شخص ان تمام نشانیوں کے مقابلہ میں کسی حقیقی شہادت کے بغیر، کسی علم، کسی مشاہدے اور کسی تجربے کے بغیر، مجرد قیاس و گمان یا تقلید آبائی کی بنا پر، دوسروں کو الوہیت کی صفات سے متصف اور خداوندی حقوق کا مستحق ٹھہراتا ہے، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت و صداقت پر ظلم کر رہا ہے، اپنے نفس پر ظلم کررہا ہے اور کائنات کی ہر اس چیز پر ظلم کر رہا ہے جس کے ساتھ وہ اس غلط نظریہ کی بنا پر کوئی معاملہ کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

22۔ اس میں لفظ ثم اختیار فرمایا گیا ہے جو تراخی اور دیر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ محشر میں جمع ہونے کے بعد فوراً ہی سوال جواب نہیں ہوگا، بلکہ عرصہ دراز تک حیرت و تذبذب کے عالم میں کھڑے رہیں گے، مدّت کے بعد حساب کتاب اور سوالات شروع ہوں گے۔ ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ اللہ تعالیٰ تم کو میدان حشر میں ایسی طرح جمع کردیں گے جیسے تیروں کو ترکش میں جمع کردیا جاتا ہے، اور پچاس ہزار سال اسی طرح رہو گے، اور ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے روز ایک ہزار سال سب اندھیرے میں رہیں گے۔ آپس میں بات چیت بھی نہ کرسکیں گے (یہ روایت حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے ذکر کی ہے) ۔۔۔۔۔۔۔) اس روایت میں جو پچاس ہزار اور ایک ہزار کا فرق ہے یہی فرق قرآن کی دو آیتوں میں بھی مذکور ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ، ” یعنی اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی “ اور دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ، ” یعنی ایک دن تمہارے رب کے پاس ایک ہزار سال کا ہوگا “۔ اور وجہ اس فرق کی یہ ہے کہ یہ روز شدت تکلیف و مشقت کے اعتبار سے دراز ہوگا، اور درجات محنت و مشقت کے مختلف ہوں گے، اس لئے بعضوں کے لئے یہ دن پچاس ہزار سال کا اور بعض کے لئے ایک ہزار سال کا محسوس ہوگا۔ (معارف القرآن)

24۔ ایک سوال کا جواب :  اجزا کی تشریح سے آیات کا مدعا خود بخود واضح ہوگیا ہے، مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ البتہ ایک سوال ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہو۔ وہ یہ کہ قرآن کے بعض مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز مشرکین اپنے شرک کا اقرار کریں گے بلکہ اپنے شرکا کو پکاریں گے بھی، اور آیت زیر بحث میں یہ تصریح ہے کہ وہ قسم کھا کے شرک سے اپنی براءت کا اعلان کریں گے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ احوال روز قیامت کے مختلف مراحل کے بیان ہوئے ہیں۔ اس روز مشرکین کو جس حیرانی و پریشانی سے سابقہ پیش آئے گا وہ ایسی ہوگی کہ اس میں ان کو نجات کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے گی اس وجہ سے جس مرحلے میں جو بات بنتی نظر آئے گی وہ بنانے کی کوشش کریں گے لیکن۔۔۔۔ ع۔   کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے۔ (تدبرِ قرآن)

25-  یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانون فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرماتا ہے، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں۔ ہٹ دھرم منکرین حق کا سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہ سننا اور داعی حق کی کسی بات کا ان کے دل میں نہ اترنا ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانون فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اتر آتا ہے اور بےتعصبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتا، اس کے دل کے دروازے ہر اس صداقت کے لیے بند ہوجاتے ہیں جو اس کی خواہشات کے خلاف ہو۔ اس بات کو جب ہم بیان کریں گے تو یوں کہیں گے کہ فلاں شخص کے دل کے دروازے بند ہیں۔ اور اسی بات کو جب اللہ بیان فرمائے گا تو یوں فرمائے گا کہ اس کے دل کے دروازے ہم نے بند کردیے ہیں۔ کیونکہ ہم صرف واقعہ بیان کرتے ہیں اور اللہ حقیقت واقعہ کا اظہار فرماتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادان لوگوں کا عموماً یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص انہیں حق کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے نئی بات کیا کہی، یہ تو سب وہی پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں۔ گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ (تفہیم القرآن)

26۔ وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـئَوۡنَ عَنۡهُ۔یعنی قرآن مجید سے دوسروں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکے رہتے ہیں ،عنہ کی ضمیر دونوں موقعوں پر قرآن کی جانب ہوگی۔۔۔ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہےکہ"دوسروں کے ضرر کو رسول اللہؐ سے روکتے ہیں، مگرخودبھی آپ سے رکے رہتے ہیں،یعنی آپ پر ایمان نہیں لاتے"اور آیت سے اشارہ خواجہ ابوطالب اور ان کے پیرؤں کی جانب سمجھا گیاہے ،جو گودشمنوں سے رسول اللہؐ کا دفاع کرتے تھے،لیکن خود ایمان بھی نہیں لاتے تھے۔(تفسیر ماجدی)


چوتھا رکوع

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ 31 جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے۔
 وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 32 اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔
 قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ  33 ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔
وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ 34 اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)۔
 وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ 35 اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا۔
اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ   36 بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ  37 اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
 وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ  38 اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے۔
 وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 39 اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے۔
 قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 40 کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)۔
بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠   ۧ ۧ  41 بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو۔

تفسیر آیات

31۔ حضورؐ نے فرمایا :" جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتاہے تو اللہ بھی اسے ملنا پسند کرتاہے اور جو کوئی اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے(مثلاً قیامت کو نہیں مانتا) (صحیح بخاری)(احسن الکلام)

ــــ گناہوں کا بوجھ محض خیالی اور تصوراتی نہیں ہوگا بلکہ یہ بوجھ ممثل بناکر بعض جانوروں کی شکل میں گنہگاروں کی پشتوں پر لاددیا جائے گا۔جیساکہ صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے۔(تیسیر القرآن)

- لیکن موت بھی مقدمات قیامت میں سے ہے،بلکہ من وجہ اس میں شامل اس لئے وہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔۔۔ بِلِقَآءِ اللّٰهِ۔ لقاء اللہ سے مراد بعث بعد الموت اور جزاء اعمال۔۔۔وزرجواوزار کا واحد ہے اس کے معنی ثقل و حمل کے بھی لئے گئے ہیں ،لیکن امام بن جریرؒنے جو عربیت کے بھی امام ہیں اس پر سخت جرح کی ہے،اور "وزر"کے معنی گناہ ہی رکھے ہیں۔۔سوال یہ پیدا ہواہے کہ گناہ تو ایک غیر مادی شے ہے،گناہ پیٹھ پر کیسے لدیں گے؟جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مجاز اور محض محاورۂ زبان مراد ہے۔۔۔لیکن خودیہ ماننے میں آخر کیا عقلی یا شرعی دشواری ہے کہ آخرت میں مجردات بھی مادیت ہی کی طرح باوزن ہونگے اور اعمال بھی وزن رکھیں گے،یا اعمال بہ شکل اجسام مشتمل ہوجائیں گے؟ اکابراہل سنت میں سے متعدد حضرات عقیدہ تجسیم اعمال کے قائل ہوئے ہیں،غرض یہ کہ جب حقیقی معنی لینے ممکن ہیں تو یہاں بھی انہیں مجاز کیلئے ترک نہ کیا جائے گا۔(تفسیر ماجدی)

32۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کی زندگی میں کوئی سنجیدگی نہیں اور یہ محض کھیل اور تماشے کے طورپر بنائی گئی ہے۔دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائدار زندگی کے مقابلے میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار کی طرف واپس ہوجائے۔(تفہیم القرآن)

ـ زندہ دونوں رہتے ہیں مومن بھی اور کافر بھی لیکن ان کی زندگیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اسے بڑی عمدگی سے حضرت ابن عباسؓ نے بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے "لہو ولعب کافر کی زندگی کا نچوڑ ہے کیونکہ وہ یہ قیمتی لمحے غرور و نخوت اور باطل میں ضائع کردیتاہے لیکن مومن کی زندگی اعمال صالحہ سے لبریز ہوتی ہے۔اس لیے وہ لہو و لعب نہیں"یہ اور بات ہے کہ آج ایمان کے بیشتر دعوے داروں کو اس فرق کا احساس ہی نہ ہو۔(ضیاء القرآن)

33۔ آپ کی قوم کے سب لوگ آپ کو صادق اور امین سمجھتے تھے۔ انہوں نے جھٹلایا اس وقت جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ ابو جہل نے خود حضور ﷺ سے کہا "ہم آپ کو تو جھوٹا نہیں کہتے، مگر جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں“۔ جنگ بدر کے موقع پر اَخْنَس بن شَرِیق نے تخلیہ میں ابو جہل سے پوچھا کہ یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں ہے، سچ بتاؤ کہ محمد ﷺ کو تم سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا ؟ اس نے جواب دیا کہ ”خدا کی قسم محمد ﷺ ایک سچا آدمی ہے، عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، مگر جب لواء اور سقایت اور حجابت اور نبوت سب کچھ بنی قُصَیّ ہی کے حصہ میں آجائے تو بتاؤ باقی سارے قریش کے پاس کیا رہ گیا ؟“ اسی بنا پر یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دے رہا ہے کہ تکذیب دراصل تمہاری نہیں بلکہ ہماری کی جارہی ہے، اور جب ہم تحمل و بردباری کے ساتھ اسے برداشت کیے جا رہے ہیں اور ڈھیل پر ڈھیل دیے جاتے ہیں تو تم کیوں مضطرب ہوتے ہو۔ (تفہیم القرآن)

-  ابوجہل جو قبیلہ بنو خزوم سے تعلق رکھتا تھا ایک بار کہنے لگا"ہم اور بنوعبدمناف(آل ہاشم)ہمیشہ حریف قبائل کی حیثیت سے رہے۔انہوں نے مہمان نوازیاں کیں توہم نے بھی کیں۔انہوں نے خون بہادئیے توہم نے بھی دئیے۔انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے بھی کیں یہاں تک کہ ہم نے ان کے کندھے سے کندھا ملادیا۔اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار بن بیٹھے ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ ، بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب مضارع پر اس طرح قد آتا ہے تو وہ پتہ دیتا ہے کہ یہاں فعل ناقص محذوف ہے۔ گویا قَدْ نَعْلَمُ اصل میں قد کنا نعلم ہے جس سے مضمون میں یہ اضافہ ہوجائے گا کہ یہ بات برابر خدا کے علم میں رہی ہے اور ہے (تدبرِ قرآن)

34۔ خلائق پر آنحضرتؐ کی شفقت:۔ ۔۔یہ لوگ جو تکذیب کررہے ہیں فی الحقیقت آپ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ آپ کو تو پہلے سے بالاتفاق صادق و امین سمجھتے تھے، بلکہ خدا کی آیات و نشانات کا جو پیغمبرؐ کی تصدیق و تبلیغ کیلئے بھیجی گئی ہیں، جان بوجھ کر ازراہ ظلم و عناد انکار کررہے ہیں۔تو آپ بھی ان ظالموں کا معاملہ خدا کے سپرد کرکے مطمئن ہوجائیے۔۔۔(تفسیر عثمانی)

35۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت نص ہے اس باب میں کہ ارادۂ عبد حصول مرادکیلئے قطعی و لازمی نہیں، یہاں تک کہ رسول اللہؐ کا ارادہ بھی،پھر کسی بزرگ سے متعلق اہل غلو کا یہ عقیدہ کیسے صحیح ہوسکتاہے کہ اس کی دعا کا قبول ہونا لازمی ہے۔(تفسیر ماجدی)

- کفار کا مطالبہ معجزات :۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ ہمیشہ ایسا نشان رہنا چاہئے جسے ہر کوئی دیکھ کر یقین کرنے اور ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے۔ آنحضرتؐ چونکہ تمام دنیا کی ہدایت پر حریص تھے شایدآپ کے دل نے چاہا ہوگا کہ ان کا یہ مطالبہ پوراکردیا جائے،اسی لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ حالت تکوینی میں مشیت الٰہی کے تابع رہو۔تکوینی مصالح اس کے مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ خدا تو اس پر بھی قادر تھاکہ بدون توسط پیغمبروں اور نشانوں کے شروع ہی سے سب کو سیدھی راہ پر جمع کردیتا۔جب خداکی حکمت ایسے مجبور کن معجزات اور فرمائشی نشانات دکھلانے کو مقتضی نہیں تو مشیت الٰہی کے خلاف کسی کو یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ زمین یا آسمان میں سے سرنگ یا سیڑھی لگاکر ایسا فرمائشی اور مجبور کن معجزہ نکال کردکھلا دے۔ خدا کے قوانین حکمت و تدبیر کے خلاف کسی چیز کے وقوع کی امید رکھنا نادانوں کا کام ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔نبی کے لیے محبت آمیز عتاب : ان آیات میں بظاہر نبی ﷺ پر عتاب ہے لیکن یہ عتاب بڑا محبت آمیز عتاب ہے اور اگر اس میں کوئی تلخی اور ترشی ہے تو اس کا رخ تمام تر ان ضدیوں اور ہٹ دھرموں کی طرف ہے جن کے ایمان کی آرزو پیغمبر کے اندر اتنی شدید تھی کہ آپ ان میں سےکسی کو بھی ایمان سے محروم دیکھنے پر راضی نہ تھے اور چاہتے تھے کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی نہ کوئی معجزہ دکھا ہی دیا جائے کہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ فرمایا کہ اگر ان کا ایمان نہ لانا تم پر اتنا ہی شاق گزر رہا ہے تو تم زمین کے اندر کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کر کے ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ لا سکو تو لا دو۔ (تدبرِ قرآن)

36- سننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں، جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو معطل نہیں کردیا ہے، اور جنھوں نے اپنے دل کے دروازوں پر تعصب اور جمود کے قفل نہیں چڑھا دیے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر بنے اندھوں کی طرح چلے جا رہے ہیں اور اس لکیر سے ہٹ کر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خواہ وہ صریح حق ہی کیوں نہ ہو۔ (تفہیم القرآن)

37۔ یعنی ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ،جن کی فرمائش کرتے تھے۔۔۔ورنہ ویسے تو آپ پر بے شمار علمی و عملی معجزات و نشانات بارش کی طرح اترتے رہتے تھے۔(تفسیر عثمانی)

38۔ پھرپھولوں سے رس چوس کر شہد بنائیں اور بہرحال اپنی سردار مکھی یعسوب کی اطاعت کریں۔الغرض ہر نوع کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی شریعت جداگانہ ہے۔اب انسان کو جو قوت ارادہ و اختیار دی گئی ہے تو اس کےساتھ ابتلاء و آزمائش بھی انسان ہی کیلئے ہے۔انسان کی بہتری اور نجات اسی صورت میں ہے کہ وہ کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کیے بغیر اپنے عقل و ارادہ سے کام لے کر دوسری انواع کی طرح اپنے آپ کو احکام الٰہی کا پابند بنالے۔جانوروں کا حشر:۔اس آیت سے نیز ایک دوسری آیت"وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ"سے معلوم ہوتاہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہوگا ان سے کفروشرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تونہیں ہوگامگرجو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر زیادتی سے کیا ہوگا اس کا بدلہ ضرور دلایا جائے گا کیونکہ اتنی عقل انہیں بھی بخشی گئی ہے۔جیساکہ درج ذیل حدیث سے ظاہرہے:سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حق اداکروائے جائیں گے حتیٰ کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ والی بکری کا بدلہ دلوایا جائےگا۔"(مسلم،کتاب البروالصلۃ۔باب تحریم الظلم)(تیسیر القرآن)

۔ نہایت حقیر اور چھوٹی چیزوں میں سے شہد کی مکھی اور چیونٹی ہی کو لیجیے اور ان کا مشاہدہ کیجیے تو آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی۔ ان کے اندر اولاد کی پرورش کا کیسا انتظام ہے، خطرات سے بچاؤ کے لیے کیسی بیداری ہے، مستقبل کے حالات سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے کیسی پیش بینی ہے، جماعتی فرائض کا کیسا شدید احساس ہے۔ کیسی اعلی تقسیم کار ہے، کس درجہ مضبوط نظام امر وطاعت ہے، ضروریات کی فراہمی کے لیے کیسی انتھک سرگرمی ہے۔ رہائش اور اپنے ذخائر کی حفاظت کے لیے تعمیر کا کیسا کمال فن ہے، تلاش و جستجو کا کیسا عمیق جذبہ اور حصول مطلوب کے لیے کیسی زیرکی و ہوشیاری اور پھر کتنی جان بازی و قربانی ہے۔(تدبرِ قرآن)

41۔ گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے جو خود منکرین حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدا ے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ابوجہل کے بیٹے عِکْرِمہ کو اسی نشانی کے مشاہدے سے ایمان کی توفیق نصیب ہوئی۔ جب مکہ معظمہ نبی ﷺ کے ہاتھ پر فتح ہوگیا تو عِکْرِمہ جدہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبش کی راہ لی۔ ۔۔الخ (تفہیم القرآن)


پانچواں رکوع

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ 42 اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔
 فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 43 تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44 پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔
 فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 45 غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)۔
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ 46 (ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں۔
 قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ 47 کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟
وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ  48 اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔
وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ 49 اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب ہوگا۔
قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠   ۧ ۧ 50 کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے۔

تفسیر آیات

42۔ (اور اپنے کفر و تکذیب سے توبہ کرلیں)یہاں صرف الفاظ میں ابتلاء کی غرض بھی بیان کردی کہ مقصود اصلی ان سخت دل والوں کے دلوں میں نرمی ،انابت و خشیت پیدا کرناتھا۔۔۔پہلے صحیفوں میں بھی اس سے ملتا جلتا مضمون ملتاہے،مثلاً"خداوند تیرا خدابیابان کے بیچ میں چالیس برس تجھ کو لئے پھرا،تاکہ تجھے عاجز کرلے اور تجھے آزمائے اور تیرے دل کی بات دریافت کرے کہ تو اس کے احکام مانے گا یا نہیں۔"(استثناء: 8۔ 2)   بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ ۔ باساء سے مراد فقرہ و فاقہ وغیرہ مالی مصائب سمجھے گئے ہیں،اور ضرآء سے بیماری وغیرہ جسمانی مصائب گواس کے برعکس کا استعمال بھی صحیح ہے۔(تفسیر ماجدی)

44۔یہ ایک سنت اللہ بیان ہوئی ہےکہ جب قومیں ایمان لانے کی شرط نشانی عذاب کو ٹھہراتی رہیں تو ان کو ایمان کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو نرم اور اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کو مختلف مالی و جسمانی آزمائشوں میں مبتلا کیا لیکن انہوں نے ان سے سبق لینے کے بجائے ان کو اتفاقی حوادث سمجھ کر بالکل نظر انداز کردیا۔ اس سرکشی کے بعد خدانے ان کو پوری ڈھیل دے دی۔ ہر راہ میں ان کو کامیابی ہی کامیابی نظر آنے لگی۔ جب کامیابیوں کے نشہ نے ان کو بدمست کردیا تو دفعۃً خدا کے عذاب نے ان کو آدبوچا۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

45۔مطلب یہ ہے کہ رحمان و رحیم رب یہ کس طرح گوارا کرسکتاہے کہ وہ اپنے چمن میں ایک ایسے درخت کو جگہ گھیرے رکھنے کے لیے چھوڑدے جس کی زہریلی ہوا اور جس کے مسموم برگ و بار پورے چمن کو غارت کرکے رکھ دیں۔ پس حمد و شکر کا سزاوار ہے وہ رب العالمین جو ایسی نابکارقوموں کی جڑکاٹ کے رکھ دیتاہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

46۔۔۔ان تمام چیزوں کے حصول کا ذریعہ یہی آنکھیں،کان اور دل ہیں اور یہ خالصتاً اللہ کا عطیہ ہیں۔ پھر اگر اللہ اپنی دی ہوئی چیز واپس لے لے تو ان کے کسی الٰہ میں یہ قدرت ہے کہ وہ ان کی یہ چیزیں بحال کردے؟اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تواللہ کے کاموں میں شریک کیسے ہوئے؟(تیسیر القرآن)

۔ یہاں  دلوں پر مہر کرنے  سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کر لینا ہے۔ (تفہیم القرآن)

47۔ "اچانک"یعنی وہ عذاب جس کی کچھ علامات پہلے سے ظاہر نہ ہوں۔ولہذا"جَهْرَةً "سے مراد وہ عذاب ہوگا جس کے آنے سے قبل علامات ظاہر ہونے لگیں۔(تفسیر عثمانی)

48۔ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔خوف کا تعلق مستقبل سے ہے،اور حزن ماضی پر ہوتاہے۔لاخوف علیھم۔یہاں یہ نہیں ارشاد ہوا ہے کہ بہ اقتضائے ایمان،وہ اللہ کا طبعی خوف بھی نہ رکھتے ہوں گے بلکہ ارشاد صرف یہ ہے کہ واقعۃً ان کیلئے کوئی اندیشہ ناک بات نہ ہوگی۔(تفسیر ماجدی)

50۔ نادان لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ سے یہ احمقانہ تصور رہا ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ ہو اسے انسانیت سے ماوراء ہونا چاہیے، اس سے عجائب وغرائب صادر ہونے چاہییں، وہ ایک اشارہ کرے اور پہاڑ سونے کا بن جائے، وہ حکم دے اور زمین سے خزانے ابلنے لگیں، اس پر لوگوں کے اگلے پچھلے سب حالات روشن ہوں، وہ بتادے کہ گم شدہ چیز کہاں رکھی ہے، مریض بچ جائے گا، حاملہ کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ۔ پھر اس کو انسانی کمزوریوں اور محدودیتوں سے بھی بالاتر ہونا چاہیے۔ بھلا وہ بھی کوئی خدا رسیدہ ہوا جسے بھوک اور پیاس لگے، جس کو نیند آئے، جو بیوی بچے رکھتا ہو، جو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خریدو فروخت کرتا پھرے۔ جسے کبھی قرض لینے کی ضرورت پیش آئے اور کبھی وہ مفلسی و تنگ دستی میں مبتلا ہو کر پریشان حال رہے۔ اسی قسم کے تصورات نبی ﷺ کے معاصرین کی ذہنیت پر مسلط تھے۔ وہ جب آپ ﷺ سے پیغمبری کا دعوٰی سنتے تھے تو آپ ﷺ کی صداقت جانچنے کے لیے آپ ﷺ سے غیب کی خبریں پوچھتے تھے، خوارق عادت کا مطالبہ کرتے تھے، اور آپ کو بالکل عام انسانوں جیسا ایک انسان دیکھ کر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اچھا پیغمبر ہے جو کھاتا پیتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ انہی باتوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)


چھٹا رکوع

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ 51 . اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں۔
 وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ  52 اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔
 وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ 53 اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟
وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢابِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  54 اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
 وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠   ۧ ۧ  55 اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے۔

تفسیر آیات

51۔ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ۔یہ غیر اللہ کے متعلق دستگیر ی یا شفاعت کا عقیدہ زیادہ پھیلا ہواتھا اور مشرکین کے علاوہ یہود و نصاریٰ تک میں عام تھا ،اسی لئے اس کی تردید باربار اور شدومد سے آئی ہے،اس سے اس شفاعت کی نفی نہیں ہوتی ،جو اہل سنت کے نزدیک انبیاء و ملائکہ و صالحین کی طرف سے ثابت ہے، اس لئے کہ یہ شفاعت مستقلاً و اصالۃً نہیں، بلکہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے نیابۃً ہوگی من دونہ اور الاباذنہ کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے۔(تفسیر ماجدی)

52۔ وَ لَا تَطْرُد۔یعنی اپنی مجلس سے نہ نکالئے۔عرب جاہلیت خصوصاً قریش کے امراء و رؤسااسی طرح طبقاتی کبر ونخوت میں مبتلا تھے،جس کی مثالوں سے آج یورپ بھراپڑاہے ،وہ اپنے عوام کے ساتھ ایک مجلس میں نشست کے روادار نہ تھے،چہ جائیکہ ایسے مجمع میں جس میں غیر عرب حبشی وغیرہ اور پھران میں بھی غلام تک موجود ہوں!انہیں رئیسوں اور سرداروں نے اس مصلح اعظمؐ کے پاس کہلابھیجا کہ ان عوام و اجلاف کو اپنے پاس سے ہٹائیے ،توہم لوگوں کیلئے گنجائش نکلے،قرآن کو ان شعائر جاہلیت پر تو ضرب کاری ہی لگانا مقصود تھی،جواب ان آیات کے ذریعہ سے عطاہوا۔(تفسیر ماجدی)

۔ابو طالب نے آنحضرت ﷺ سے ان کی بات نقل کی تو فاروق اعظم ؓ نے یہ رائے دی کہ اس میں کیا حرج ہے، کچھ دنوں کے لئے آپ یہ بھی کر دیکھیں، یہ لوگ تو اپنے بےتکلف محبین ہیں، ان لوگوں کے آنے کے وقت مجلس سے ہٹ جایا کریں گے۔۔۔۔۔اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی، جس میں سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے رسول کریم ﷺ کو منع فرما دیا گیا، نزول آیت کے بعد فاروق اعظم ؓ کو معذرت کرنا پڑی، کہ میری رائے غلط تھی۔۔۔۔۔اور یہ غریب لوگ جن کے بارے میں یہ گفتگو ہوئی اس وقت حضرت بلال حبشی ؓ ،صہیب رومی ؓ ،عمار بن یاسر ، مولیٰ ابی حذیفہ ؓ، صبیح ؓ مولیٰ اسید ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، مقداد ابن عمرو، ؓ مسعود بن القاری ؓ ذوالشمالین ؓ وغیرہ صحابہ کرام تھے، جن کی عزت و شرافت کا پروانہ آسمان سے نازل ہوا۔ (معارف القرآن)

53۔چنانچہ ان غریبوں،مسکینوں نے حق کو پہچانا ،اور قدرکی ،انہیں دولتِ ایمان سے سرفراز کردیا گیا،رؤساء و امراء قریش کفر ان و انکار میں رہے،نعمت سے محروم رہ گئے۔(تفسیر ماجدی)

54۔ غربائے مسلمین کے ساتھ بالکل متضاد طرزِ عمل اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی جس کا مطالبہ سرداران  ِ قریش کرتے تھے ۔یہ بندے تمہارے پاس آیا کریں تو تم سلامتی اور رحمت کی دعا کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا کرو۔ان کو بشارت دو ۔اللہ نے اپنے اوپر رحمت واجب کررکھی ہے۔اگر کسی سے کوئی غلطی ہو تو توبہ و اصلاح کرلے تو اللہ بخشنے والا ،مہربان ہے ۔۔۔۔۔یہاں اللہ تعالیٰ نے جو بشارت دی ہے وہ صرف رحمت و مغفرت کی ہے اس کے ساتھ کسی دنیوی مال و جاہ کا کوئی لوث(لالچ) نہیں ۔ان کو اسی چیز کی بشارت دی جس کے وہ سب سے زیادہ طلبگار تھے۔ اس سے اشارۃً یہ بات بھی نکلی کہ دنیا کے پرستار جن چیزوں پر مرتے ہیں، اللہ کے باایمان بندوں کی نگاہوں میں ان کی قدر و قیمت مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں ،نہ اِس دنیا میں نہ اُس دنیا میں۔(تدبرقرآ ن)

- صحیح بخاری ،مسلم اور مسند احمد۔ ابوہریرہ سے روایت  ہے کہ حضورؐنے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا اور ہر ایک کی تقدیر کا فیصلہ فرمایا تو ایک کتاب میں جو عرش پر اللہ کے پاس ہے یہ لکھا کہ ان رحمتی غلبت غضبی(یعنی میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے)۔(معارف القرآن)

- اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ بھی پیدا فرمائے ہیں جنہیں پہلے سلام کہنے کا مجھے حکم فرمایا گیا ہے(قرطبی) (ضیاء القرآن)

- جولوگ ااس وقت ایمان لائے تھے ان میں بکثرت ایسے بھی تھے جن سے زمانۂ جاہلیت میں بڑے بڑے گناہ ہوچکے تھے ،انکو تسلی دی جا رہی ہے کہ ان کے سابقہ گناہوں پر کوئی گرفت نہیں۔(تفہیم القرآن)


ساتواں رکوع

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ 56 (اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں۔
 قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ 57 کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
 قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ 58 کہہ دو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے۔
وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ  59 اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔
 وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠   ۧ 60 اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا۔

تفسیر آیات

56۔ اَهْوَآءَكُمْ۔ھوٓء کا لفظ بہت عام ہے وحی الٰہی کے مقابلہ میں جو بھی عقل آرائی کام میں لائی جائے گی،وہ خواہش نفس ہی کی کوئی نہ کوئی شکل ہوگی ، وطن پرستی ،ساری نئی نئی "پرستیاں"اور (ISM)اس کے تحت میں آجاتی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

57۔ اشارہ ہے عذاب الہٰی کی طرف۔ مخالفین کہتے تھے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہو اور ہم کھلم کھلا تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو کیوں نہیں خدا کا عذاب ہم پر ٹوٹ پڑتا ؟ تمہارے مامور من اللہ ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ ادھر کوئی تمہاری تکذیب یا توہین کرتا اور ادھر فوراً زمین دھنستی اور وہ اسمیں سما جاتا، یا بجلی گرتی اور وہ بھسم ہوجاتا۔ یہ کیا ہے کہ خدا کا فرستادہ اور اس پر ایمان لانے والے تو مصیبتوں پر مصیبتیں اور ذلتوں پر ذلتیں سہ رہے ہیں اور ان کو گالیاں دینے اور پتھر مارنے والے چین کیے جاتے ہیں ؟ (تفہیم القرآن)

59۔ علمِ غیب(350-345)صرف حوالہ(معارف القرآن)

- مفْتَح کا معنی خزانہ ہے اور مِفْتَح کا معنی کنجی ہے ۔اگر مَفَاتِح کو مَفْتَح کی جمع تسلیم کیا جائے تو آیت کا معنی ہوگا اللہ تعالیٰ کے پاس ہی غیب کے خزانے ہیں اور اگر مِفْتَح کی جمع کہا جاوے تو پھر آیت کا مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی غیب(کے خزانوں)کی کنجیاں ہیں۔پہلی آیت میں بتایا کہ ہر قسم کا اختیار اسی کو حاصل ہے۔اس آیت میں تصریح فرمائی کہ علم کامل اور محیط سے بھی فقط وہی متصف ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ خدا صرف وہی ہوسکتاہے جو بے پایاں قدرت اور بیکراں علم کا مالک ہو۔لیکن اس آیت سے یہ سمجھنا کسی طرح درست نہیں کہ وہ کسی کو علم غیب سکھاتا بھی نہیں بلکہ وہ جس کو چاہتاہے جتناچاہتاہے عطافرماتاہے ۔کوئی بخیل اس کی بخشش و عطا کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔اور جو کچھ اس نے سید الانبیاء محمد رسول اللہ ؐ کو عنایت فرمایا ہے اس کا اندازہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں۔علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں۔"غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور علم غیب تک پہنچنے کےذریعے بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں کوئی ان کا مالک نہیں پس اللہ تعالیٰ جس کو غیب کا علم دینا چاہتاہے دےدیتاہے اور جس کو محروم رکھنا چاہتاہے اسے محروم کردیتاہے اور امور غیب پر آگاہی صرف رسولوں کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتی ہے جن پر علوم غیب کا فیضان فرمایا جاتاہے "۔(ضیاء القرآن)

- علمِ الٰہی اور توحید و آخرت کا باہمی ربط :۔

اللہ تعالیٰ کے علم کی اس وسعت کا اعتقاد ہی ہے جو اہل ایمان کے اندر کامل تفویض ،کامل اعتماد اور کامل رضا بالقضا کا حوصلہ پیدا کرتاہے۔اس میں معمولی غلط فہمی بھی شرک کی راہیں کھول دیتی ہے۔ یہی چیز آخرت پر سچے اور پکے ایمان کی بنیاد ہے  اوراسی کے صحیح تصور و تذکر سے انسان کے اندر وہ خشیت بھی پیداہوتی ہے جو زندگی میں اس کو صحیح روش اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔قرآن کے اس بیان سے ان لوگوں کی بھی پوری پوری تردید ہوگئی جو خدا کو صرف کلیات کا عالم مانتے ہیں ۔خدا صرف کلیات ہی کا نہیں بلکہ تمام جزئیات کا بھی عالم ہے ۔درخت سے جوپتا گرتاہے زمین کی تہوں میں جودانہ ڈالا جاتاہے ،سب اس کے علم میں ہوتاہے اور ہر خشک و تر اس کے رجسٹر میں درج ہے اور یہ رجسٹر ایسا نہیں ہے جس میں اس کو کوئی چیز ڈھونڈنی پڑتی ہوبلکہ اس کی ہر چیز ہر آن بالکل واضح ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے محیط کل علم کی ایک تعبیر ہے۔(تدبرقرآن)

- غیب کی خبریں بتانے والے:۔  ۔۔۔۔سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا"نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادوگرکافر ہے۔"(بخاری،کتاب المناقب۔باب ایام الجاھلیہ۔۔)آپؐ نے فرمایا "کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ ہی جانتاہے(یعنی)قیامت کب آئے گی؟وہی بارش برساتاہے اور وہی جانتاہے کہ ارحام میں کیا کچھ (تغیر و تبدل)ہوتارہتاہے۔نیز کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کرے گااور نہ ہی وہ یہ جانتاہے کہ وہ کس جگہ مرے گا۔اللہ ہی ان باتوں کو جاننے والا اور باخبرہے(بخاری۔کتاب التفسیر)۔اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت:۔اس آیت سے یہ معلوم ہواکہ غیب کے سب علوم ایک مخصوص مقام پر خزانوں کی صورت میں سربمہر بند ہیں۔اور مقفل ہیں اور ان تالوں کی چابیاں صرف اللہ کے پاس ہیں۔اسی مقام پر ہرچیز کی مقادیراللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ  رکھی ہیں اسی مقام کو قرآن میں کسی جگہ لوح محفوظ(85: 22)کسی جگہ ام الکتاب(43: 4)کسی جگہ امام مبین(26: 127)کسی جگہ کتاب مکنون(56:78)اور کسی جگہ کتاب مبین فرمایا ہے اور سب اس مقام یا ان غیب کے خزانوں کے صفاتی نام ہیں۔۔۔لکھی ہوئی تقدیر:۔عبداللہ بن عمروبن العاص کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ کویہ کہتے سنا"اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ لی تھیں جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔"(مسلم،کتاب القدر۔باب حجاج آدم و موسیٰؑ)  (تیسیر القرآن)

60۔روح کی قسمیں اور حشرونشر پر دلیل:۔ روح دوقسم کی ہوتی ہے ایک حیوانی دوسرے روحانی یا نفسانی۔رات کو یانیند کے دوران روح نفسانی جسم سے نکل جاتی ہے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اسے قبض کرلیتاہے۔اس روح کے جسم سے علیحدہ ہونے کا اثر یہ ہوتاہے کہ انسان کی سماعت،بصارت اور قلب و دماغ اپنا کام کرنا چھوڑدیتے ہیں لیکن حیوانی روح جسم میں موجود رہتی ہے جس کی وجہ سے انسان میں دوران خون جاری رہتاہے اور وہ سانس بھی لیتا رہتاہے اور نیند پوری ہونے کے بعد یا سوئے ہوئے کو جگانے سے روح نفسانی بھی جسم میں واپس لوٹ آتی ہے اور ان دونوں قسم کی روحوں کا آپس میں تعلق یہ ہوتاہے کہ کسی ایک روح کے خاتمہ سے یا قبض کرنے سے دوسرے کا از خود خاتمہ ہوجاتاہے اور انسان پر موت واقع ہوجاتی ہے گویا سوئے ہوئے انسان پر آدھی موت طاری ہوچکی ہوتی ہے اسی لیے رسول اللہؐ نے نیند کو موت کی بہن قراردیا ہے اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا اور اس حقیقت سے ایک دوسری بڑی حقیقت پر استدلال کیا ہے جو یہ ہے کہ جس طرح اللہ تمہاری نفسانی روح رات کو قبض کرکے صبح واپس تمہارے جسم میں بھیج دیتاہے اسی طرح موت کے وقت تمہاری روح قبض کرلیتاہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو وہی روح واپس بھیج کر تمہیں تمہاری قبروں سے اٹھا کھڑا کرے گا۔(تیسیر القرآن)


آ ٹھواں رکوع

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ  61 اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔
 ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ 62 پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے۔
 قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ 63 کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں۔
قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ  64 کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو۔
 قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ  65 کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں۔
 وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ   66 اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں؎۔
 لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 67 ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ  68 اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
 وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ  69 اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں۔
 وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠   ۧ 70 اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو۔ ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو۔ یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے۔

تفسیر آیات

63۔سورۂ نور (آیت : 40) یاکسی گہرے سمندر کی تاریکیاں جس میں موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہو اور اس کے اوپر بادل چھائے ہوئے ہوں ۔تاریکیوں کے اوپر تاریکی ۔جب اپنا ہاتھ نکالے تو وہ بھی اس کو سجھائی نہ دے (یہ سن کر ایک انگریز امیر البحر نے پوچھا کہ کیا محمدﷺ نے کبھی سمندر کا سفر کیا۔ جب بتایا گیا کہ کبھی نہیں تو اس نے کہا کہ یقینا یہ الہامی کلام ہے اور مسلمان ہو گیا۔ مرتب) ۔(تدبرقرآن)

-امام رازیؒ نے فرمایا ہے کہ آیت میں مصیبت زدہ انسان کیلئے چار صفات کا اثبات ہے:۔(1)دعا(2)تضرع(3)اخلاص ِ قلب"وھوالمراد من قولہ خفیۃ"اور(4)التزام شکر۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے خفی و جلی،قلبی و لسانی،ہرقسم کے ذکر کی مشروعیت پر دال ہے۔(تفسیر ماجدی)

64۔ یہاں شکر اور شرک کو دومقابل چیزوں کی حیثیت سے رکھاہے۔جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی بتوں کو پوجے بلکہ وہ استکبار بھی شرک ہے جس میں مبتلا ہوکر انسان اللہ کی نعمتوں کو اپنے استحقاق ذاتی کا ثمرہ اور اپنی تدبیر و قابلیت کا نتیجہ سمجھنے لگتاہے اور پھر فخرو غرور کے نشہ میں اکڑتا،دندناتا،اتراتا اور من مانی کرنے لگ جاتاہے۔یہ حالت شکر کی ضد ہے اور جس کے اندر یہ خناس سماجاتاہے وہ خود اپنے آپ کو خدائی میں شریک سمجھنے لگتاہے۔(تدبرقرآن)

65۔ اوپر کا عذاب:۔ قومِ نوح پر بارش ،قوم ِ عاد پر ہواکا طوفان قومِ لوط پر پتھر،آلِ فرعون پر خون اور مینڈک ،اصحابِ فیل پر ابابیل ۔

نیچے کےعذاب: قومِ نوح پر زمین کا پانی،قارون کا زمین میں دھنسنا۔حضرت عبداللہ بن عباس کے مطابق اوپر کا عذاب(ظالم بادشاہ اور بے رحم حکام)نیچے کا عذاب (نوکر ،غلام اور خدمت گار یا ماتحت ملازم،بے وفا،غدار ،کام چور،اور خائن جمع ہو جائیں)مشکوٰۃ شریف)جیسے تمہارے اعمال بھلے یا برے ہوں گے ایسے ہی حکام اور امرا  تم پر مسلط کئے جائیں گے۔۔۔۔۔حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، ہمارا گزر مسجد بنی معاویہ پر ہوا تو رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی دو رکعت ادا کی، اس کے بعد آپ ﷺ دعا میں مشغول ہوگئے اور بہت دیر تک دعا کرتے رہے، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا، ایک یہ کہ میری امت کو غرق کرکے ہلاک نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی، دوسرے یہ کہ میری امت کو قحط اور بھوک کے ذریعہ ہلاک نہ کیا جائے یہ بھی قبول فرمالی، تیسری دعا یہ کہ میری امت آپس میں جنگ و جدل سے تباہ نہ ہو، مجھے اس دعا سے روک دیا گیا (مظہری بحوالہ بغوی)۔ (معارف القرآن)

-سنی شیعہ، سندھی بلوچی،پنجابی پٹھان مہاجر آپس میں لڑیں ۔آج کے پاکستان کے حالات  مندرجہ بالا عذابِ الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ قوم آپس میں الجھ رہی ہے۔

؎ منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک                         ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک                                                            کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

؎ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں                                                  کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ۔(علامہ اقبال)۔ (بیان القرآن)

-عذاب کی قسمیں:۔ اس آیت میں عذاب کی تین اقسام بیان فرمائیں(1)عذاب سماوی جیسے طوفان بادوباراں ،کڑک، بجلی کا گرنا،تیز آندھی،پتھروں کی بارش وغیرہ(2)عذاب ارضی جیسے دریاؤں کا سیلاب، زلزلے اور زمین میں دھنس جانا(3)فرقہ بازی۔خواہ یہ مذہبی  قسم کی ہو یا سیاسی یا قبائلی ہو۔ یہ تینوں قسم کے عذاب اگلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔تیسری قسم کا عذاب تو آپؐ کی بعثت سے پہلے بھی موجود تھا۔(تیسیر القرآن)

-  یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ۔تیسیری قسم عذاب الٰہی کی یہ بیان ہوئی ہے کہ گروہ کو گروہ سے بھڑادیاجائےاور انسان کا ملک الموت انسان کو بنادیا جائے،یہ عذاب دوسرے آسمانی اور زمینی عذابوں سے گھٹ کر نہیں، کچھ بڑھ ہی کرہے،اس کا تجربہ دنیا کو ادھر چھ سات سال (1939ء تا1945ء)سے خوب ہوچکاہے،اور آج بھی جنگ ختم ہوجانے کےایک سال بعد (1946ء)بھی جاری ہے،!بلکہ اب تو تفسیر کی طبع ثانی کے وقت1968 میں ایسا معلوم ہوتاہے کہ جیسے یہ خطرہ مستقل ہوگیاہے،اور ایک نیا فتنہ سرد جنگ یا جنگ اعصاب کے نام سے نکل آیا ہے۔۔۔امام قرطبیؒ (اندلسی)پانچویں صدی ہجری کے آدمی ہیں ،فرماتے ہیں کہ یہی آخری قول صحیح ہے اور صحیح ہونا کیا معنی یہ تو مشاہدہ میں آچکا ہے ،ہمارے ہی بھائی بند دشمن بن کر ہم پر مستولی ہوئے ،آپس میں تلوار چلی ،جانیں گئیں ،مال لٹا ،اور ایک نے دوسرے کی جان و مال کو حلال سمجھا ۔انا للہ۔(تفسیر ماجدی)ْ

68۔اس ہدایت کے دوپہلو(i)جب تضحیک اور تردید کا بخار چڑھا ہوا ہوتو تبلیغ بے معنی (ii)اہلِ ایمان کی غیرت ِ حق کے منافی (لڑنا بھی غلط ،خاموش رہنا بھی غلط)(تدبرقرآن)

- یہ مضمون سورۂ نساء  کی آیت نمبر 140 میں گذرچکاہے۔حاشیہ وہاں سے ملاحظہ کرلیا جائے۔(تیسیر القرآن)

70- اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا۔ایسے کون لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کو نہیں،خود اپنے دین کو لہوولعب یا مشغلۂ تفریح بنالیا ہے؟ دین کو بھلا کوئی قوم تفریح بناسکتی ہے؟ مفسرین کو اسی لئے یہاں دین کے متعین کرنے میں دقت پیش آئی ہے،حالانکہ ہندی مسلمان اپنے گردوپیش جو کچھ دیکھ رہاہے ،اس کے بعد کوئ دشواری باقی نہیں رہتی،یہ ہولی جیسے تہوار کو محض ناچ اور رنگ ،فحش گوئی و شراب نوشی کا جلسہ بنالینا،یہ دیوالی جیسے تہوار کو جوئے اور روشنی کا مستقل تماشہ بنالینا ،یہ دسہرہ کی حیثیت محض ایک سوانگ اور ناٹک کی رکھ لینا،یہ "بڑے دن"(کرسمس)کے دن شراب نوشیوں اور بدمستیوں کیلئے وقف کردینایہ"نوروز"کے شاہانہ جلسے،یہ سب مثالیں اور نظیریں اگردین کو لہولعب اور مشغلۂ تفریح بنالینے کی نہیں تو اور کیا ہیں؟۔۔! عبرت کے ساتھ ہمارے اہل اعراس غور کریں کہ خود ان کے ہاں عرس اور میلے جو بدعات اور منکرات کے مجموعے ہوتے ہیں، کہیں اس وعید کے تحت میں تو نہیں آ جاتے !۔(تفسیر ماجدی)


نواں رکوع

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ   71 کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں۔
 وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 72 اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔
 وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ 73 اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 74 اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔
 وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ  75 اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں۔
 فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ  76 (یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں۔
 فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ 77 پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔
 فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ  78 پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔
 اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ   79 میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ 80 اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔
 وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ   81 بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)۔
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠   ۧ ۧ 82 جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کو امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

تفسیر آیات

71- مسلمان کی شان:۔ یعنی مسلمان کی شان یہ ہے کہ گمراہوں کو نصیحت کرکے سیدھی راہ پر لائے اور جو خداسے بھاگ کر غیر اللہ کی چوکھٹ پر سر رکھے ہوئے ہیں ان کو خدائے واحد کے سامنے سربسجود کرنے کی فکر کرے۔ اس سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی ایسی ہستی کے آگے سرجھکائے گاجس کے قبضہ میں نہ نفع ہے نہ نقصان ۔یا اہل باطل کی صحبت میں رہ کر توحید و ایمان کی صاف سڑک چھوڑ دے گا اور شرک کی بھول بھلیاں کی طرف الٹے پاؤں پھرے گا ۔اگر معاذ اللہ ایسا ہو تو اس کی مثال اس مسافر کی سی ہوگی جو اپنے راہ جاننے والے رفقاء کے ساتھ جنگل میں سفر کررہاتھا کہ ناگاہ غول بیابانی (خبیث جنات)نے اُسے بہکا کر راستہ سے الگ کردیا ۔وہ چاروں طرف بھٹکتا پھرتاہے اور اس کے رفقاء ازراہ خیر خواہی اسے آوازیں دے رہے ہیں کہ ادھر آؤ راستہ اس طرف ہے۔مگر وہ حیران و مخبوط الحواس ہوکرنہ کچھ سمجھتاہے نہ ادھرآتاہے ۔اسی طرح سمجھ لو کہ مسافر آخرت کیلئے سیدھی راہ  اسلام و توحید کی ہے اور جن کی رفاقت و معیت میں یہ سفر طے ہوتاہے وہ پیغمبر اور اس کے متبعین ہیں ۔جب یہ بدبخت شیاطین و مضلین کے پنجہ میں پھنس کر صحرائے ضلالت میں بھٹکتا پھرتاہےاس کے ہادی اور رفقاء ازراہ ہمدردی جادۂ حق کی طرف بلارہے ہیں مگر یہ نہ کچھ سنتاہے نہ سمجھتا ہے۔تو اے گروہ اشرار کیا تمہاری یہ غرض ہے کہ ہم اپنی ایسی مثال بنالیں یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں اتری ہے جنہوں نے مسلمانوں سے ترک اسلا م کی درخواست کی تھی۔(تفسیر ماجدی)

73۔قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے یا حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ارشاد بہت وسیع معانی پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق محض کھیل کے طور پر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایشورجی کی لیلا نہیں ہے۔ یہ کسی بچے کا کھلونا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے وہ اس سے کھیلتا رہے اور پھر یونہی اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے۔ دراصل یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے، ایک مقصد عظیم اس کے اندر کارفرما ہے، اور اس کا ایک دور گزر جانے کے بعد ناگزیر ہے کہ خالق اس پورے کام کا حساب لے جو اس دور میں انجام پایا ہو اور اسی دور کے نتائج پر دوسرے دور کی بنیاد رکھے۔ یہی بات ہے جو دوسرے مقامات پر یوں بیان کی گئی ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَا طلاً۔”اے ہمارے رب، تو نے یہ سب کچھ فضول پیدا نہیں کیا ہے“۔ اور وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ۔”ہم نے آسمان و زمین اور ان چیزوں کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں کھیل کے طور پیدا نہیں کیا ہے“۔ اور اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ۔”تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں یونہی فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہ لائے جاؤ گے“ ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا نظام کائنات حق کی ٹھوس بنیادوں پر قائم کیا ہے۔ عدل اور حکمت اور راستی کے قوانین پر اس کی ہر چیز مبنی ہے۔ باطل کے لیے فی الحقیقت اس نظام میں جڑ پکڑنے اور بار آور ہونے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ باطل پرستوں کو موقع دیدے کہ وہ اگر اپنے جھوٹ اور ظلم اور ناراستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اپنی کوشش کر دیکھیں۔ لیکن آخر کار زمین باطل کے ہر بیج کو اگل کر پھینک دے گی اور آخری فرد حساب میں ہر باطل پرست دیکھ لے گا کہ جو کوششیں اس نے اس شجر خبیث کی کاشت اور آبیاری میں صرف کیں وہ سب ضائع ہوگئیں۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس ساری کائنات کو بربنائے حق پیدا کیا ہے اور اپنے ذاتی حق کی بنا پر ہی وہ اس پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ اس کا حکم یہاں اس لیے چلتا ہے کہ وہی اپنی پیدا کی ہوئی کائنات میں حکمرانی کا حق رکھتا ہے۔ دوسروں کا حکم اگر بظاہر چلتا نظر بھی آتا ہے تو اس سے دھوکا نہ کھاؤ، فی الحقیقت نہ ان کا حکم چلتا ہے، نہ چل سکتا ہے، کیونکہ کائنات کی کسی چیز پر بھی ان کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس پر اپنا حکم چلائیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ نفخہ صور دوبارہوگااور عجب الذنب:۔ سیدنا ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ صور دوبار پھونکا جائے گا اوران دونوں میں چالیس کا فاصلہ ہوگا لوگوں نے پوچھا"چالیس دن کا؟"کہنے لگے"میں نہیں کہہ سکتا"لوگوں نے کہا"چالیس ماہ کا؟"کہنے لگے "میں نہیں کہہ سکتا "پھر لوگوں نے پوچھا "چالیس برس کا "کہنے لگے "میں نہیں کہہ سکتا" اس کے بعد ابوہریرۃؓ نے کہا :اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سبزہ اگ آتاہے ۔دیکھو! آدمی کے بدن کی ہرچیز گل سڑ جاتی ہے مگرایک ہڈی(کی نوک)۔وہ اس مقام کی ہڈی ہے جہاں جانور کی دم ہوتی ہے قیامت کے دن اسی ہڈی سے مخلوق کو جوڑجاڑدیاجائےگا۔(بخاری۔کتاب التفسیر سورۂ النبا آیت نمبر18)۔۔۔۔۔معبود حقیقی کی چند صفات :۔معبودان باطل اور ان کے پرستاروں کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں معبود حق کی یعنی اپنی ایسی چھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتیں ہیں۔دوسرے کسی باطل معبود میں ان کا پایا جانا ناممکن ہے اور وہ یہ ہیں۔(1)اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین یعنی اس کائنات کو تعمیری نتائج کا حامل بناکر پیدا کیا ہے۔(2)پھر وہ اس کائنات میں وسعت بھی پیدا کرتارہتاہے اور تغیر و تبدل بھی۔جب بھی اسے کچھ کرنا منظور ہوتا ہے تو وہ اس کے ہوجانے کا حکم دے دیتاہے اور وہ چیز یا حادثہ وجودمیں آنا شروع ہوجاتاہے۔(3)اس کی ہر بات کا ہر حکم سچا اور ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتاہے۔(4)جس دن اسے اس کائنات کو ختم کر کے روز آخرت میں لانا منظور ہوگا۔ تو اس عالم آخرت میں بھی اسی کی مکمل طورپر فرمانروائی ہوگی۔(5)اس کے لیے غیب اور شہادت سب کچھ یکساں ،اس کی نظروں کے سامنے اور اس کے علم میں ہے شہادت سے مراد وہ اشیاء ہیں جو کسی انسان کے سامنے موجود ہیں یا ان تک انسان کی دسترس ہوچکی ہے یا ایسے طبعی قوانین جو انسان کے علم میں آچکے ہیں اور غیب سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو انسان کے علم میں نہیں آئیں خواہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہوں یا مستقبل سے یا ایسے تمام قوانین  جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہوسکی ایسی سب باتیں اللہ کے علم میں ہیں۔ (6)اس کے ہر کام میں اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور موجود ہوتی ہے خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔اس لیے کہ وہ ہر چیز کی قلیل سے قلیل مقدار تک سے بھی پوری طرح باخبرہے (تیسیر القرآن)

۔ غیب = وہ سب کچھ جو مخلوقات سے پوشیدہ ہے۔ شھادت = وہ سب کچھ جو مخلوقات کے لیے ظاہر و معلوم ہے۔ (تفہیم القرآن)

74۔ اَبِیْهِ ۔ایک فرقہ اپنے مخصوص عقائد کے تحفظ کی خاطر شروع سے کہتاآرہاہے کہ آزر حضرت ابراہیم خلیلؑ کے والد کا نہیں بلکہ چچاکا نام تھا ،اور نو پیدا فرقے والے بھی یہی کہہ رہے ہیں،لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی دلیل کی قسم کی کوئی چیز نہیں،رہے محض احتمالات و امکانات ،تو یہ توہر قطعی سے قطعی مسئلہ میں بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں،"اَبَ" کو اس کے کھلے ہوئے ظاہر معنی سے ہٹاکر مجازی استعمال کی طرف لے جانے کیلئے آخر کوئی معقول وجہ بھی تو ہو۔(تفسیر ماجدی)

آیات74 تا 94۔۔۔سترہ پیغمبروں کا ذکر کیا گیا کہ ان سب کو بھی توحید کی ہدایت دی گئی تھی ۔اگر یہ جلیل القدر پیغمبر بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے(88)۔۔۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

75۔حضرت ابراہیم کے زمانہ پر ایک تحقیقی نوٹ(56-553) خلاصہ درج ذیل ہے (تفہیم القرآن)

۔ ضیاء القرآن(75-573) ماخوذ از تفہیم القرآن

-  تحقیقی نوٹ کا خلاصہ: جدید تحقیقات میں (شہر ار کی کھدائی اور کتبے) 2100 قبل مسیح میں شہر اُر کی آبادی سوا دولاکھ سے پانچ لاکھ تھی۔۔۔ ان کا نقطۂ نظر خالص مادہ پرستانہ تھا اور ان کی دعائْیں زیادہ تر درازئی عمر ،خوشحالی اور کاروبار کی ترقی کے لیے تھیں۔آبادی کے تین طبقے تھے (عمیلو،مشکینو، اردو)(1)عمیلو۔یہ اُونچے طبقے کے لوگ تھےجن میں پُجاری،حکومت کے عہدہ دار اورفوجی افسر وغیرہ شامل تھے۔(2)مشکینو۔یہ تجار ،اہل ِ صنعت  اور زاراعت پیشہ لوگ تھے۔(3)اَردو۔یعنی غلام۔ان میں سے پہلے طبقہ ،یعنی عَمیلو کو خاص امتیازات حاصل تھے۔ان کے فوجداری اور دیوانی حقوق دوسروں سے مختلف تھے،اور ان کی جان و مال کی قیمت دوسروں سے بڑھ کر تھی۔یہ شہر اور یہ معاشرہ تھا جس میں حضرت ابراہیمؑ نے آنکھیں کھولیں۔ان کا اور ان کے خاندان کا جو حال ہمیں تلمود میں ملتاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ عمیلو طبقہ کے ایک فرد تھے اور ان کا باپ ریاست کا سب سے بڑا عہدہ دار تھا۔(دیکھو سورۂ بقرہ،حاشیہ نمبر 290)۔۔۔۔۔ اُر کے کتبات  میں تقریباً 5ہزار خداؤں کے نام ملتے ہیں۔اُر کا رب البلد ننار(چاند دیوتا) تھا۔ دوسرے بڑے شہر لرسہ کا رب البلد شماس(سورج دیوتا) تھا۔ ان کے ماتحت چھوٹے خدا بھی تھے۔ ننارکی بیوی نن گل تھی۔ ان کے معبد ،شاہی محل سرا کی طرح تھے۔۔۔۔۔ بانی اول کا نام اُرنمو تھا جو عربی میں جاکر نمرود ہو گیا۔۔۔۔۔ 1910 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ حمور ابی نے جو قوانین مرتب کئے ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشکوٰۃ ِ نبوت سے حاصل کی ہوئی روشنی سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ان قوانین کا مفصل کتبہ 1902 میں ایک فرانسیسی محقق نے دریافت کیا جس کا انگریزی ترجمہ C.H.W.John نے The Oldest Code of Law کے نام سے شائع کیا۔ اس ضابطۂ قوانین میں بہت سے اصول و فروع موسوی شریعت سے مشابہ ہیں۔۔۔۔۔حضرت ابراہیم کی قوم میں شرک محض ایک مذہبی عقیدہ اور بت پرستانہ عبادات کا مجموعہ ہی نہ تھا بلکہ درحقیقت اس قوم کی پوری معاشی،تمدنی،سیاسی، اور معاشرتی زندگی کا نظام اسی عقیدے پر مبنی تھا۔(تفہیم القرآن)

- ملکوت کا لغوی معنی مفہوم تو عزت و اقتدار ،بادشاہی اور سلطنت ہے لیکن قرآن میں یہ لفظ خدا کی اس تکوینی بادشاہی کےلئے استعمال ہواہے جو آسمان اور زمین بلکہ ہر چیز پر قائم و دائم ہے۔ملکوت الٰہی میں تفکر تمام علوم کی کلید ہے۔(تدبرقرآن)

76۔ حضرت ابراہیم کا هٰذَا رَبِّیْ  کہنا یا تو استفہام ِ انکاری کے لہجہ میں ہے یعنی کیا یہ میرا رب ہے؟ یا یہ ہے میرا رب تمہارے عقیدہ اور گمان کے موافق۔(تفسیر عثمانی)

78۔ ۔۔ جومنصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ان کیلئے حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔۔۔حضرت ابراہیم نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گردو پیش ہر طرف چاند، سورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔۔۔عام طورپر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتاہے۔۔۔بچپن سے آنکھوںکھولتے ہی روزانہ حضرت ابراہیم پر رات طاری نہ ہوتی رہتی تھی۔۔۔نیوٹن کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کودرخت سے گرتے دیکھا۔۔۔اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتاہے۔وہ یہ کہ جب حضرت ابراہیم نے تارے کو دیکھ کر کہا کہ یہ میرا رب ہے، اور جب سورج اور چاند کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا ،تو کیا اس وقت عارضی طورپر  ہی سہی ،وہ شرک میں مبتلا نہ ہوگئے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالب ِ حق اپنی جستجوکی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور وفکر کیلئے ٹھہرتاہے،اصل اعتبار ان منزلوں کا نہیں ہوتا۔۔۔اور اس آخری مقام کا ہوتاہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتاہے۔۔۔اس لیے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھہرتارہاوہاں وہ عارضی طورپر کفر یا شرک میں مبتلا رہا۔(تفہیم القرآن)

- یہ اصل میں ا هٰذَا رَبِّیْ استفہام انکار یہ ہے۔یعنی اے میری قوم کیا یہ میرا رب ہے؟ہرگزنہیں۔یہ خیال کرناکہ اس وقت حضرت ابراہیمؑ کو عرفان توحید حاصل نہ تھا اس لیے وہ ایک ٹمٹماتے ہوئے تارے کو اپنا رب سمجھنے لگے سخت غلطی ہے۔پیغمبر کا دامن نبوت سے پہلے بھی کفروشرک سےپاک ہوتاہے۔چاند کے متعلق بھی آپ نے یہی فرمایا تھاکہ ھذا ربی اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو آپ فرماتے ہیں لَىٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو جس گمراہی میں میری ساری قوم گرفتار تھی میں بھی اس سے نہ بچ سکتا۔ان الفاظ سے اس امر کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے کہ آپ کا دل "ربی:" میرا رب کے یقین اور ایمان سے منور اور روشن تھا ۔ورنہ اگریہ فرض کرلیا جائے کہ ابھی تک حقیقی رب کا تصور ان کے ذہن میں نہ تھا اور چاند کو آپ نے رب مان لیا تھا تو جب اس کے ڈوب جانے سے اس کی خدائی کا طلسم بھی ٹوٹ گیا تو آپ کو حیرت کا اظہار کرنا چاہئیے تھا کہ لوجسے خدا سمجھ رہے تھے وہ تو فانی نکلا۔اب کسے خدامانا جائے ۔آپ نے اظہار حیرت نہیں کیا بلکہ چاند کے غروب ہونے پر آپ نے اپنی قوم کے باطل عقیدہ کو غلط ثابت کرنے کے بعد فرمایا ۔ لَىٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ ۔یعنی وہ رب جسے تم نے رب سمجھ رکھا ہے بلکہ حقیقی رب تو وہ ہے جومیرا پروردگار ہےجو مجھے ہرباطل سے بچا کر راہِ حق پر چلارہاہے۔(ضیاء القرآن)

- حضرت ابراہیم کا مندرجہ بالا مکالمہ ان کے ذہنی ارتقا کا اظہار معلوم ہوتا ہے۔(ڈاکٹراسرار)

- لفظ ملکوت کی تحقیق: ملکوت کا لغوی مفہوم تو عزت و اقتدار ،بادشاہی  اور سلطنت ہے لیکن قرآن میں یہ لفظ خدا کی اس تکوینی بادشاہی کیلئے استعمال ہواہے جو آسمان اور زمین بلکہ ہر چیز پر قائم و دائم ہے۔یہاں یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ حضرت ابراہیم آسمان و زمین کے نظام پر غور کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق بخشی سے ان پر اپنی معرفت کے وہ اسرار وحقائق کھولے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم پر واضح کیے۔۔۔نیوٹن نے سیب کے درخت سے ایک سیب زمین پر گرتے دیکھا ۔اس سے اس کا ذہن زمین کی کشش کے اصول کی طرف منتقل ہوگیا۔۔۔۔۔حضرت ابرہیم ؑ کے طرز استدلال کی بعض خصوصیات: حضرات انبیاؑ  یوں اپنی دعوت اور اپنے مقصد کے اعتبار سے تو بالکل یک رنگ وہم آہنگ ہوتے ہیں لیکن اپنے مخاطبوں کے مزاج ،ان کی افتاد طبع اور ان کے ذوق کے اختلاف کے سبب سے ہر نبی کے طرز خطاب اور طریقۂ استدلال و بحث میں کچھ امتیازی خصوصیات پیدا ہوگئی ہیں۔ مثلاً حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰؑ زیادہ تر تمثیلوں میں با ت کرتے تھے۔بعض انبیامیں موعظت کا رنگ غالب ہے بعض کے ہاں قانون کا انداز نمایاں ہے۔۔۔استدراج:حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ،جیساکہ قرآن میں بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوتاہے،بڑی مناظرہ باز اور حجت طراز قوم تھی۔۔مباحثہ و مناظرہ کیلئے آستینیں چڑھالیتے۔حضرت ابراہیم بحث و خطاب میں استدراج کا طریقہ زیادہ اختیار فرماتے۔استدراج کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطب پر اس راہ سے درجہ بدرجہ گھیرے ڈالتے جدھر سے اس کا سان گمان بھی نہ ہوتاکہ وہ گھیرے میں آسکتاہے ۔اس کی ایک مثال اس واقعہ میں موجود ہے جو سورہ انبیا ء میں بیان ہواہے۔انہوں نے ایک دن موقع نکال کر قوم کے بت خانے کے سارے بت ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ جب پوچھ گچھ شروع ہوئی تو آپ نے فرمایا انہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے۔اس طریقہ استدراج کے تقاضے سے حضرت ابراہیم کبھی کبھی توریہ سے بھی کام لیتے تھے۔توریہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی کوئی اسکیم پوری کرنے کیلئے حریف کے سامنے اپنی بات اس طرح پیش کرتے کہ بات تو بالکل صحیح ہوتی لیکن اس کے پیش کرنے کا انداز ایسا ہوتاکہ حریف اس سے مغالطہ میں پڑجاتا جس کا نتیجہ نکلتا کہ ہوشیاری کے باوجود وہ اسکیم کے بروئے کار آجانے سے پہلے اس سے آگاہ نہ ہوپاتا۔۔۔اس استدراج اور اس توریہ میں کہیں کہیں پاکیزہ ظرافت بھی شامل ہوجاتی ہے جو کچھ تو اس استدراج اور توریہ کا فطری تقاضا ہوتی ہے اس لیے کام ایک مخصوص اسلوب کا طالب ہوتاہے اور کچھ اس میں اس لطافتِ ذوق کی نمود بھی ہوتی ہے جو حضرت ابراہیم کے مزاج کی ایک خصوصیت ہے اس کی نہایت عمدہ مثالیں سورۂ انبیاء  اور سورۂ صافات میں آئیں گی۔۔۔۔۔ حجت ابراہیمی کی وضاحت:یہ بات انہوں نے خوداپنے آپ کو مخاطب کرکے اس طرح فرمائی ہوگی کہ دوسروں کے کان میں بھی پڑجائے۔۔۔پھر جب ستارہ ڈوب گیا تو انہوں نے بالکل اسی انداز میں اپنے کو مخاطب اور دوسروں کو سناتے ہوئے کہا کہ میں  ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔اس حقیقت کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیمؑ نے یہ بات بھی ان کے کانوں میں ڈال دی کہ خالق ومالک کے ساتھ بندے کا تعلق محبت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ مجرد خوف کی بنیاد پر۔ مجرد خوف ایسی چیز نہیں جس کی بنیاد پر کسی کا کوئی حق قائم ہوجائے اور حق بھی اس کی عبادت کا ۔مشرکین کیلئے یہ بات بھی ایک نئی رہنمائی دینے والی بات تھی اس لیےکہ شرک کی بنیاد تمام ترخوف پر ہے ۔حضرت ابراہیم نے گویا بتایا کہ میں مجرد خوف کی بنیاد پر کسی کی عبادت کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ محبت کی بناپر عبادت کرتا ہوں اور محبت کی سزا اور یہ آنی جانی چیزیں نہیں بلکہ صرف وہ ہے جس کے حکم سے یہ چیزیں آتی جاتی ہیں۔۔۔آس پاس والوں کو سناتے ہوئے فرمایا کہ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ (اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمرا ہوں میں سے ہوجاؤں گا)۔۔۔ان ڈوبنے والوں کو معبود بنانا کھلی ہوئی ضلالت ہے۔۔۔نیز یہ ضلالت کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ بڑے حسرت و اندوہ کی چیز ہے۔۔۔یہ ساری باتیں حضرت ابراہیم نے چونکہ اپنے آپ سے کہیں اس وجہ سے سننے والوں میں سے جس کے کان میں پڑی ہونگی اس کیلئے ان سے چڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی بلکہ جس کے اندر کچھ بھی غوروفکر کی صلاحیت رہی ہوگی وہ اس سوچ میں پڑگیا ہوگا کہ ایک یہ شخص ہے جو طلب ہدایت میں اس طرح بے قرار ہے اور ایک ہم ہیں کہ پتھر کی طرح اپنی جگہ سے کھسکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔۔۔۔۔ اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ۔ یہ اس اعلان برأت کی تعبیر اور اس کا کلمہ ہے ۔مطللب یہ ہے کہ میں نے تمام معبودان  باطل سے کٹ کر اور بالکل یکسو ہوکر اپنا رخ اس رب کی طرف  کرلیا ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ۔اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔للذی کا" ل" اس بات پر دلیل ہے کہ وجہت کا لفظ اسلمت کے مضمون پر بھی مشتمل ہے ۔یعنی میں نے اپنے آپ کو بالکلیہ آسمان و زمین کے خالق و مالک کے حوالے کردیا ۔یہ توحید اور اسلام کی عظیم آیت اور ملتِ ابراہیمی کا کلمہ جامعہ ہے اور ہم چونکہ اپنی نمازوں میں اسی حقیقت کا اظہار و اعتراف کرتے ہیں اس وجہ سے ان کا آغاز اسی کلمۂ جامعہ سے کرتے ہیں۔(تدبرقرآن)

80۔ حضرت ابراہیمؑ کی قوم کہتی تھی کہ تم جو ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہو۔ڈرتے رہو کہیں اس کے وبال میں تم معاذ اللہ مجنون اور پاگل بن جاؤ ۔ یا اور کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ۔اس کا جواب دیا کہ میں ان سے کیا ڈرونگا جن کے ہاتھ میں نفع و نقصان اور تکلیف و راحت کچھ بھی نہیں۔ ہاں میرا پروردگا مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس سے دنیا میں کون مستثنیٰ ہے۔ وہ اپنے علم محیط سے جانتاہے کہ کس شخص کو کن حالات میں رکھنا مناسب ہوگا۔(تفسیر عثمانی)

82۔ ظلم سے مراد شرک:۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اصحابؓ پر بہت گراں گزری(کیونکہ انہوں نے ظلم کو اس کےعام معنوں، معصیت یا زیادتی پر محمول کیا تھا)اور رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟آپؐ نے انہیں بتایا کہ یہاں ظلم کا لفظ اپنے خاص معنوں یعنی شرک کے معنی میں استعمال ہواہے جیساکہ سورۃ لقمان میں آیا ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔(بخاری۔کتاب التفسیر،کتاب الایمان باب ظلم دون ظلم نیز کتاب الانبیاء۔باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً)۔۔۔منکرین حدیث اور اہل قرآن کا رداس حدیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ صحابہ کرام کی زبان بھی اگرچہ عربی زبان تھی اور قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہواتھا۔تاہم بعض دفعہ انہیں آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آجاتی تھی۔اوریہی مطلب ہے"یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ"کا۔مگرمسلمانوں میں سے ہی بعض لوگ ایسے ہیں جو حدیث رسول اللہؐ سے بے نیاز ہوکر محض لغت کی مددسے قرآن کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اپنے اس نظریہ کا انجام سوچ لینا چاہیے اس آیت کے متعلق دواقوال ہیں ایک یہ کہ یہ جملہ بھی سیدنا ابراہیمؑ کا ہی قول ہے اور ان کی اس بحث کا حصہ ہے جو وہ اپنی قوم سے کررہے تھے۔کیونکہ اس سے پہلی آیت میں بھی امن و سلامتی کا ذکر ہے اور اس آیت میں بھی ۔اور یہ امن و سلامتی صرف ان لوگوں کیلئے ہے جو شرک سے اجتناب کرتے ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے جو ایک حقیقت کے طورپر یہاں سیدنا ابراہیمؑ کے قصہ کے درمیان بیان کردیا گیاہے۔(تیسیر القرآن)

- ظلم اور شرک ۔احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ نبی کریمؐ نے یہاں ظلم کی تفسیر شرک سے فرمائی جیساکہ سورۂ لقمان میں ہے اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔ گویا ظلم کی تنوین تعظیم کیلئے ہوئی ۔تو حاصل مضمون یہ ہوگا کہ مامون و مہتدی صرف وہ ہی لوگ ہوسکتے ہیں جو یقین لائے اس طرح کہ اس میں شرک کی ملاوٹ بالکل نہ ہو۔اگر خدا پر یقین رکھنے کے باوجود شرک کو نہ چھوڑا تو وہ نہ ایمان شرعی ہے نہ اس کے ذریعہ سے امن و ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔وہوکماقال"وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ"(یوسف رکوع12)چونکہ ایمان و شرک کا جمع ہونا بظاہر مستبعد تھا اس لئے مترجم محقق  قدس سرہ (شیخ الہند مولانا محمود الحسن) نے بغرض تسہیل و تفہیم ایمان کا ترجمہ یقین سے اور ظلم کا نقصان سے کیا جو لغت عرب کے عین مطابق ہے۔کماقولہ تعالیٰ "لَمْ تَظْلِم مِّنْهُ شَيْئًا"اور اس نقصان سے مراد شکر ہی لیا جائیگاجیساکہ احادیث میں تصریح ہوچکی اور خود نظم کلام میں لفظ لبس اس کا قرینہ ہے اس کی مفصل تحقیق خود مترجم ؒ مقدمہ میں فرماچکے ہیں وہاں دیکھ لیا جائے۔(تفسیر عثمانی) 


دسواں رکوع

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ  83 اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔
 وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ   84 اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔
 وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ   85 اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے۔
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ   86 اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی۔
 وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 87 . اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا۔
 ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ  88 یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔
 اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ  89 یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں۔
 اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠   ۧ ۧ  90 یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے۔

تفسیر آیات

 ابراہیم نے مشرکوں کو کیا دلیل دی تھی؟ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز پر تصرف اور اختیار بھی صرف اسی کا ہونا چاہیے ۔یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک تواللہ تعالیٰ ہو اور اس کے اختیارات میں اور اس کی عبادت میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے۔اس آیت سے یہ معلوم ہوتاہے کہ سیدنا ابراہیمؑ کی قوم بھی اس بات کی قائل تھی کہ اس کائنات کا خالق و مالک  اللہ تعالیٰ ہےاگر وہ اس بات کی قائل نہ ہوتی تو اس بحث کا انداز بیان کسی اور انداز کا ہوتا۔(تیسیر القرآن)

84۔ نوحؑ بن ملک،حضرت ابراہیمؑ کے اجداد میں سے مشہور و معروف نبی ہیں، توریت میں بھی آپ کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہے،توریت میں جو نسب نامہ درج ہے ،اس کے اعتبار سے سے حضرت ابراہیمؑ خلیل حضرت نوحؑ کی گیارہویں پشت میں ہیں آپ کا وطن وہی تھا ،جو تاریخ کے اس ابتدائی دور میں نسل انسانی کا وطن تھا ،یعنی عراق کا دوآبہ دجلہ و فرات۔(تفسیر ماجدی)

85۔ یحیٰ بن زکریاؑ۔متوفی سنہ30ء عربی اور اردو انجیل میں ان کا نام یوحنا آیاہے۔۔۔الیاسؑ۔ یہ غالباً وہ ہیں جن کا ذکر توریت کے بعض صحیفوں میں ایلیاہ نبی کے نام سے آیا ہے اور ان کے خارق ِ عادت بہت سے دئیے ہیں(1۔سلاطین وغیرہ)انگریزی تلفظ میں (ELIJAH)۔۔۔۔۔اہل کتاب نے اپنے یہاں کے انبیاء کی سیرتوں کو جی بھر کر داغدار کردیا تھا،قرآن مجید نے آکر از سرنو ان کی عصمت قائم کی ۔(تفسیر ماجدی)

86۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء و رسل کا یک جا ذکر فرمایا اور قرآن میں کل ستائیس انبیاء و رسل کا ذکر آیا ہے ان میں سے سیدنا لقمان کی نبوت اختلافی ہے اور جن انبیاء کا یہاں ذکر نہیں آیا وہ یہ ہیں۔سیدنا آدمؑ،ادریسؑ،ہودؑ،صالحؑ،شعیبؑ،ذوالکفل،عزیرؑ اور محمد رسول اللہؐ اور جن اٹھارہ انبیاءؑ کا ذکر آیا ہے مناسب ہے کہ یہاں ترتیب زمانی کے لحاظ سے ان میں سے چند انبیاء کے مختصر حالات زندگی درج کردئیے جائیں۔۔۔حضرت نوحؑ ،آپ کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں صرف چالیس آدمی ایمان لائے۔۔۔طوفان کے بعد 350 سال زندہ رہے اور تبلیغ کرتے رہے۔۔۔سیدنا لوطؑ سیدنا ابراہیمؑ کے چچا زاد بھائی ہیں۔۔۔سیدنا موسیٰؑ نے اپنی وفات سے پہلے یوشع بن نون کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔یہی یوشع سیدنا خضر سے ملاقات کے دوران سیدنا موسیٰ کے ہم سفر تھے۔۔۔سیدنا داؤدؑ: آپ کے ہاتھوں میں لوہا،تانبا موم کی طرح نرم ہوجاتا۔۔۔اپنی زندگی میں بیت المقدس کی بنیاد رکھی جسے بعد میں سیدنا سلیمانؑ نےپوراکیا۔۔۔سیدنا زکریاؑ: آپ سیدہ مریم بن عمران(والدہ عیسیٰؑ)کے حقیقی خالوتھے۔چنانچہ سیدنازکریاؑ ہی سیدہ مریم کے مربی اور کفیل قرارپائے۔۔۔سیدنا یحییؑ: سیدنا عیسیٰؑ کے خالہ زاد بھائی تھے۔اس وقت کے ایک یہودی حاکم ذونواس نے اپنی ایک رقاصہ کے مطالبہ اور دلجوئی کی خاطر آپ کا سرقلم کروایا۔(تیسیر القرآن)

90۔سابقہ شریعتوں کا اتباع کس صورت میں؟: ۔۔۔۔اسی طرح تورات میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا آپ کے پاس ایک ایسے ہی شادی شدہ یہودی اور یہودن کا مقدمہ لایا گیا تو آپ نے ان کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا "اے اللہ! سب سے پہلے میں تیرے اس حکم کو زندہ کرتاہوں جسے ان یہودنے مردہ کردیا تھا۔"(مسلم۔ کتاب الحدود۔باب رجم الیہود واھل الذمۃ فی الزنا)۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی رسالت بھی تمام اقوم عالم کیلئے اور قیامت تک کیلئے ہے اور یہ قرآن بھی اسی طرح سب لوگوں کیلئے کتاب ہدایت ہے اس کے بعد نہ کوئی نبی یا رسول آنے والاہے اور نہ ہی اللہ کی طرف سے تاقیامت کتاب نازل ہوگی۔(تیسیر القرآن)

- ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۔ذکریٰ کے ساتھ للعرب نہیں للعالمین فرمایا ہے یعنی اس کی ہدایت اور اس کے قانون کسی ایک ملک و قوم کے ساتھ مخصوص نہیں،سارے عالم کیلئے ہیں۔اور اس پہلو کو فخر المفسرین فخررازی نے نظرانداز نہیں ہونے دیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

- یعنی اگر تم نہیں مانتے تو میرا کوئی  نفع فوت نہیں ہوتا کیونکہ میں تم سے کسی طرح کے اجر کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو خدا کے یہاں ثابت ہے۔ہاں تم نصیحت سے انحراف کرکے خود اپنا نقصان کروگے ۔سارے جہان میں سے ایک نہیں تو دوسرا نصیحت کو قبول کرے گا ۔جو انکار کریگا اسے اپنی محرومی اور بدبختی کا ماتم کرنا چاہئے۔(تفسیر عثمانی)


گیارہواں رکوع

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ 91 اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دوکہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔
 وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ 92 اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں۔
 وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ 93 اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔
 وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ ْالَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠   94 اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

تفسیر آیات

دور نبوی میں تورات کی صورت:۔اس آیت کے اس جملہ سے معلوم ہوتاہے کہ آپؐ کے زمانہ میں جوتورات یہود کے پاس تھی وہ مجلد کتاب کی صورت میں نہیں تھی بلکہ الگ الگ اوراق کی صورت میں تھی اور یہود کیلئے ایسی صورت میں بددیانتی کرنا نسبتاً بہت آسان تھا وہ جن آیات کو چھپانا چاہتے وہ ورق ہی غائب کردیتے تھے اور جو کچھ اس کتاب میں تحریف کرنا اور من مانی تاویل یا شرح کرنا مقصود ہوتی تو الگ نیا ورق لکھ کر اس میں شامل کردیتے تھے ۔رجم کی آیت یارسول اللہؐ سے متعلقہ آیات کو وہ اسی طرح چھپاجاتے تھے کہ ایسے اوراق درمیان سے نکال کر انہیں غائب کردیتے تھے اور اس بات کی یعنی تورات الگ الگ اوراق پر لکھا ہونے کی تائید اس حدیث سے ہوجاتی ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عمرؓ کو ایسے چنداوراق مل گئے جنہیں انہوں نے رسول اللہؐ کے سامنے پڑھنا شروع کردیا۔جس سے آپؐ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوگئے اور یہ حدیث اپنے مناسب مقام پر گزرچکی ہے۔)تیسیر القرآن(

۔ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ ۭ۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ قول کہ“ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے ”یہود کا ہے۔ اگرچہ ان کے ذہن میں تو بات یہ رہی ہوگی کہ اب موسیٰ کی کتاب اور ان کی شریعت کے بعد کسی نئی کتاب و شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی لیکن یوں صاف صاف بات کہنے میں عربوں کی قومی حمیت کے بھڑکنے کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اندیشہ تھا اس وجہ سے انہوں نے اس پہلو کو بچاتے ہوئے کہہ دیا کہ خدا نے کسی پر بھی کچھ نہیں اتارا ہے کہ اپنا مقصد بھی حاصل ہوجائے اور کسی کو کوئی بدگمانی بھی نہ ہو، یہاں جواب میں ان کے قول کا ظاہر اور باطنی دونوں ہی پہلو ملحوظ ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ شُبہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک یہودی جو خود توراۃ کو خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب مانتا ہے، یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ لیکن یہ شبہ صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر بسا اوقات آدمی کسی دوسرے کی سچی باتوں کو رد کرنے کے لیے ایسی باتیں بھی کہہ جاتا ہے جن سے خود اس کی اپنی مسلمہ صداقتوں پر بھی زد پڑجاتی ہے۔ یہ لوگ محمد ﷺ کی نبوت کو رد کرنے پر تلے ہوئے تھے اور اپنی مخالفت کے جوش میں اس قدر اندھے ہوجاتے تھے کہ حضور ﷺ کی رسالت کی تردید کرتے کرتے خود رسالت ہی کی تردید کر گزرتے تھے۔ اور یہ جو فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب یہ کہا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت کا اندازہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر علم حق اور ہدایت نامہ زندگی نازل نہیں کیا ہے وہ یا تو بشر پر نزول وحی کو ناممکن سمجھتا ہے اور یہ خدا کی قدرت کا غلط اندازہ ہے، یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے انسان کو ذہانت کے ہتھیار اور تصرف کے اختیارات تو دے دیے مگر اس کی صحیح رہنمائی کا کوئی انتظام نہ کیا، بلکہ اسے دنیا میں اندھا دھند کام کرنے کے لیے یونہی چھوڑ دیا، اور یہ خدا کی حکمت کا غلط اندازہ ہے۔ (تفہم القرآن)

92۔ ۔۔فخررازی اس آیت کے ذیل میں جو اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہیں وہ بجنسہٖ نقل ہونے کے قابل ہے"اس کتاب کا مصنف محمد بن عمررازیؒ کہتاہے کہ میں نے بہت سے علوم حاصل کئے نقلی بھی اور عقلی بھی،لیکن کسی علم سے بھی مجھے دین و دنیا میں وہ خیر و سعادت نہ محسوس ہوئی جو اس علم (قرآن)کی خدمت سے حاصل ہوئی"۔۔۔اب سوال یہ رہ جاتاہے کہ مکہ کا یہ نام ام القریٰ(جس کے لفظی معنی بستیوں کے مرکز کے ہیں)پڑا کیوں؟بعض نے کہا کہ اس لئے کہ ساری اقلیموں کی روحانی پرورش کا سامان یہیں سے پیدا ہوتاہےبعض نے کہا کہ اس لئے کہ قدیم جغرافیہ کے لحاظ سے یہ زمین کے عین وسط میں واقع تھا ،کسی نے کہا اس لئے کہ اس وقت حجاز ،خصوصاً اس کا یہ شہر ،دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا،یعنی اس کے ایک بازومیں مصری،رومی،یونانی تہذیب تھی، اور دوسرے بازومیں  کلدانی،ایرانی اورہندی تمدن،کسی نے کہا کہ اس لئے آج بھی دنیا کے تین بڑے براعظموں ایشیاء ،افریقہ اور یورپ کا سرراہہ عین ساحل حجاز سے پھوٹتاہے،ہوسکتاہے کہ یہ سب کے سب اسباب صحیح ہوں۔اور کیا عجب ہے کہ آگے چل کر کبھی یہ بھی ثابت ہوجائے کہ حجاز کی آب و ہوا ہمیشہ سے اتنی گرم و خشک تھی ،بلکہ کسی بہت ہی قدیم زمانہ میں معتدل یا سرد رہ چکی ہے،اور اس وقت یہ بستی تہذیب و تمدن کا مرکز تھی،اور ساری دنیا کی تہذیبیں یہیں سے نکلی اور پھوٹی ہیں،لفظ ام القریٰ کا پورا اعجاز اس وقت کھلے گا ۔۔۔ وَ مَنْ حَوْلَهَا۔ جب مکہ معظمہ نافِ زمین یا مرکز بلاد قرار اپایا ،تو اس کی ہر طرف آبادی جہاں تک بھی پھیلی ہوگی ،سب من حولھا ہی کے تحت میں آئے گی۔(تفسیر ماجدی)

93۔ سب سے زیادہ ظالم کون ہے؟ اس آیت میں سب سے بڑے ظالموں کی تین اقسام بیان فرمائیں ایک وہ جس نے کوئی بات تو خود تراشی ہو اور اللہ کے ذمے لگادے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شرک و بدعات کی مختلف اقسام کو ایجاد توخود کرتے ہیں پھر انہیں شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس طرح ان رسوم و بدعات پر مذہبی تقدس کا خول چڑھادیتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اللہ کی آیات کا غلط مطلب نکال کر اور ان کی غلط تاویل کرکے غلط سلط فتوے دیتے ہیں اور اس کے عوض عارضی فوائد حاصل کرتے ہیں۔دوسرے وہ جھوٹے نبی جنہوں نے آپؐ کے بعد اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کریں گے حالانکہ آپؐ خاتم النبیین ہیں جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بن حارث اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ایسے ہی دوسرے لوگ اور آپؐ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد تیس کے لگ بھگ ایسے کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جو اپنی نبوت کا دعویٰ کریں گے۔(مسلم ۔کتاب الفتن۔باب قولہؐ ان بین یدی الساعۃ کذابین قریبا من ثلاثین)اور تیسرے وہ لوگ جو یہ دعویٰ کریں کہ ہم بھی قرآن جیسی چیز بناسکتے ہیں۔ جیساکہ ایک دفعہ کفار مکہ نے بھی کہا تھا کہ"لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ"(8: 31)حالانکہ جب قرآن نے ان کو ایسی ایک ہی سورت بنالانے کا چیلنج کیا تو وہ اپنی بھرپور اور اجتماعی کوششوں کے باوجود اس کی نظیر لانے پر قادرنہ ہوسکے تھے۔(تیسیر القرآن)

- رسول اللہ ؐ کے معاصرین میں، نزول وحی کے طویل عرصہ کے زمانہ میں بعض ایسے بدبخت بھی تھے جنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ایسا کلام تو ہم بھی نازل کرسکتے ہیں ،حدیث و سیر کی کتابوں میں ان کے نام نضر بن حارث اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح منقول ہیں۔۔۔مرشد تھانویؒ نےفرمایا کہ کوئی شخص کوئی خواب تراشے یا کسی وارد یا الہام ِ کاذب کا دعویٰ کرے،یا اپنے اوہام و خیالات کو فیض غیبی کہے، وہ بھی اسی ضمن میں آجاتاہے۔بعض فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ جو فقہ و سنن اور آثار سلف سے اپنے کو مستغنی سمجھ کر خودرائی اختیار کرتا اور کہتاہے کہ میری رائے فلاں مسئلہ میں یہ ہے، اور عام احکام عوام کیلئے ہیں، مجھ جیسے خواص کیلئے نہیں،وہ بھی اسی وعید کے تحت میں آجاتا ہے۔(تفسیر ماجدی)


بارہواں رکوع

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ 95 شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے۔ وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔
فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ 96 وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے۔
 وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 97 اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔
 وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ 98 اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ 99 اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔
 وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠   ۧ ۧ  100 اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے۔

تفسیر آیات

96۔ بے جان سے مراد نطفہ یا انڈہ ہے جن سے انسان اور حیوانات کی تخلیق ہوتی ہے۔(معارف القرآن)

ــــ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا دوسرا اعجاز ۔بے جان انڈے سے جاندار مرغی پیدا کرنا اور قطرہ آب سے زندہ انسان ۔یا بد سے نیک اور نیک سے بد پیدا کردینا۔(ضیاء القرآن)

ــــ زندہ کو مردہ سے نکالنےکا مطلب بے جان مادہ سے زندہ مخلوقات پیدا کرنا اورمردہ کو  زندہ سے خارج کرنے کا مطلب جاندار اجسام میں سے بے جان مادوں کو خارج کرناہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ آم درخت اور لہلہاتا ہواپودا پیدا ہوجاتاہے اور پھر اسی سرسبز و شاداب درخت اور لہلہاتے ہوئے پودے پر زردی ،خشکی،اور مردنی طاری ہونی شروع ہوجاتی ہے ۔یہاں تک کہ ایک دن وہ ختم ہوجاتاہے۔یہی مشاہدہ ہم انسانوں اور حیوانوں میں کرتے ہیں ۔یہاں تک کے قوموں اور ملتوں کے اندر بھی موت اور زندگی ،عروج و زوال کی یہی داستان برابر دہرائی جارہی ہے۔ایک قوم پردۂ عدم سے نکلتی ہے ساری دنیا پر چھا جاتی ہے اور پھر وہی قوم ایک دن آتاہے کہ پردۂ عدم میں جا چھپتی ہے ۔موت اور زندگی کے اس قانون سے کسی کےلئے مفر نہیں۔۔۔۔۔۔ عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو انڈے اور مرغی اور مرغی اور انڈے کی حکایت تک محدود رکھا ہے لیکن اوپر کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ تعبیر ہے قدرت کے ان قوانین کی جو اس نے بےجان چیزوں کے اندر زندگی کے اور جاندار چیزوں کے اندر موت کے ودیعت کیے ہیں، جن کو صرف قدرت ہی بروئے کار لاتی ہے اور جن کی گرفت سے کوئی آزاد نہیں ہے۔ ۔(تدبرقرآن)

ــــ اخروی زندگی ۔۔پردلیل:۔یہ اللہ کے خالق ومالک اور قادر مطلق ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ وہ زندہ چیز سے مردہ اور مردہ چیز سے زندہ چیز پیدا کرتاہے کوئی انسان یا کوئی دوسری مخلوق یہ دونوں کام نہیں کرسکتی ۔پھر جب صورت حال یہ ہے تودوسرے اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک کیسے بن جاتے ہیں۔پھر مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدکرنے کی بھی کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا جو بے جان ہے پھر اس کی تمام ضروریات اسی مٹی یا زمین سے وابستہ کردیں۔ پھر یہ زندہ انسان مرنے کے بعد اسی مردہ مٹی میں چلاجاتاہے۔اسی حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے معاد پر استدلال فرمایا ہے مثلاً زمین سے پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں جن میں زندگی کے آثار موجود ہوتے ہیں پھر یہی چیزیں زمین میں مل کر پھر مردہ بن جاتی ہیں۔مثلاً مرغی سے انڈا پیدا ہوتا ہے پھر انڈے سے مرغی پیدا ہوتی ہے گویا زندہ سے مردہ مردہ سے زندہ پیدا ہونے کی بے شمار مثالیں اس دنیا میں موجود ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔اس آیت میں تقدیر کا لفظ وہی مفہوم رکھتاہے جو پلاننگ (Planning) کا مفہوم ہے۔(تدبرقرآن)

97۔وجودباری تعالیٰ پر دلائل:۔اکثر علماء کے خیال کے مطابق جائے قرار سے مراد روئے زمین پر اس کی زندگی کی مدت ہے اور مستودع سے مراد اس کی قبر ہے یا وہ جگہ جہاں سے مرنے کے بعد ٹھکانے لگایا جاتاہے۔(تیسیر القرآن)

98۔ "مستقر" ٹھہرنے کی جگہ جسے ٹھکاناکہا اور "مستودع" سپرد کئے جانے اور امانت رکھے جانے کی جگہ کو کہتے ہیں حضرت شاہ صاحب کے مطابق :"اول سپرد ہوتاہے ماں کے پیٹ میں کہ آہستہ آہستہ دنیا کے اثر پیدا کرے پھر آکر ٹھہرتاہے دنیا میں پھر سپرد ہوگا قبر میں کہ آہستہ آہستہ اثر آخرت پیداکرے پھر جاکر ٹھہرے گا جنت یا دوزخ میں"۔(تفسیر عثمانی)

- علمائے تفسیر میں سے کسی نے فرمایا کہ مستودع ماں کا پیٹ اور مستقر دنیا ہے،کسی نے فرمایا کہ مستودع قبر ہے اور مستقر دارِ آخرت ہے۔تفسیر مظہری میں ہے کہ انسان کی ابتدائے آفرینش سے آخرت تک جتنے مراحل اور درجات ہیں وہ سب مستودع ہیں خواہ وہ شکمِ مادر ہو ،زمین پر رہنے سہنے کی جگہ یا قبر و برزخ۔(معارف القرآن)

ــــ پھر مدفن کےلئے مستودع کا لفظ استعمال کرکے ایک لطیف اشارہ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی طرف بھی فرمادیا کہ انسان جب مرتاہے تو یہ نہیں ہوتاکہ وہ ختم ہوگیا بلکہ وہ زمین کی تحویل میں دے دیا جاتاہے جہاں سے وہ پھر اٹھایا جائے گا۔(تدبر قرآن)

- دلائل اپنی توحید، صنعت و حکمت کے۔ اَنْشَاَكُمْ۔خطاب عام نسل انسان سے ہے۔ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔یعنی مراد حضرت آدمؑ سے ہے۔ یہاں وحدت انسانی کو بہ طور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس مسئلہ کو صاف کردیا ہے کہ سب نو ع انسانی کا مورثِ اعلیٰ ایک ہی ہواہے،کئی نہیں ہوئے ہیں ،جیساکہ بعض ناقص فلسفیوں اور بعض باطل مذہب والوں نے خیال کیا ہے۔اس ایک اصل کو مان لینے سے انسانیت جو آج "مہذب و غیر مہذب"، کالی "گوری"،صاحب اور "نیٹو"،"برہمن" اور "شودر"،"مشرقی"اور "مغربی "اور خداجانے کتنی اور ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہے،پھر ایک بنی آدم کی وحدت میں تبدیل ہوسکتی ہے؟ اور دنیا کے کتنے جھگڑے اور خرخشے مٹ سکتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

99۔یعنی صورت شکل، مقدار، رنگ و بواور مزہ کے اعتبار سے بعضے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں،بعضے نہیں۔۔۔یعنی ابتداً جب پھل آتاہے تو کچا،بدمزہ اور ناقابل انتفاع ہوتاہے۔پھر پکنے کے بعد کیسالذیذ ،خوش ذائقہ اور کار آمد بن جاتاہے۔یہ سب خدا کی قدرت کا ظہور ہے۔۔۔جب حق تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے ہماری دنیوی زندگی اور مادی حوائج کے انتظام و انصرام کےلئے اس قدر اسبابِ ارضی و سماوی مہیا فرمائے ہیں ،اُس نے ہمارے اخروی و روحانی معاملات کے سامان نہیں کئے ہوں گے۔(تفسیر عثمانی)

- یہ سائنس کا عجیب اندھا پن ہے کہ اس کو حکمت تو نظر آتی ہے لیکن حکیم نظر نہیں آتا۔ربوبیت تو نظر آتی ہے، رب نہیں نظر آتا۔۔۔۔۔ ہرورق معرفت ِ کردگار کا دفتر ہے ۔ہڑپہ اور موہنجودارومیں کوئی ٹوٹا ہوا مرتبان ہو یا کسی ٹھیکری کی بنیاد پر پوری تہذیب کی عمارت تو کھڑی کر دیتے ہیں مگر باری تعالیٰ نے ایک ایک پتی پر اپنی حکمت کے جو نقش ثبت کئے ہیں وہ انہیں نظر نہیں آتے۔۔۔۔۔ مادی ضروریات کا تو اتنا اہتمام مگر کیسے ممکن ہے کہ باری تعالی ہماری روحانی تشنگی کے بجھانے کا کوئی اہتمام نہ کرے۔(تدبر قرآن)

100۔ خَرَْقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍ۔خدا کا صاحبِ اولاد ہونا،اپنے کو دیوتاؤں کی اولاد سمجھنا ، یہ مرض مشرک قوموں میں بہت زیادہ عام اور مشترک رہاہے ،ہندوستان کے برہمنوں اور چھتریوں کا اپنے کو سورج بنسی اور چندر بنسی کہلانا،یا اپنے کو سورج دیوتا اور چندرماں دیوتا کی اولاد قراردینا، یونانی شرفاء کا اپنے کو خدازادہ یا دیوتا زادہ مشہور کرنا،یہ سب اسی مشرکانہ و گستاخانہ ذہنیت کے کرشمے ہیں ۔خود مسیحیوں کا عقیدہ ابنیت ِ الٰہی (حضرت مسیحؑ کے متعلق )بھی اسی اصل کی ایک فرع ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔نصاریٰ حضرت مسیحؑ کو، بعض یہود حضرت عزیرؑ کو خدا کا بیٹا اور مشرکین ملائکۃ اللہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔(تفسیر عثمانی)


تیرہواں رکوع

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ 101 (وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ 102 یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے۔
 لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ 103 (وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے۔
 قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ 104 (اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔
 وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 105 اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کردیں۔
 اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ  106 اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔
 وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ  107 اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو۔
 وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 108 اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے،۔
وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ  109 اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں۔
 وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠   ۧ 110 اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

تفسیر آیات

101۔ اس نے زمین و آسمان کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ نقشہ یا نظیر کے وجود بخشا ۔اس سے مادہ پرستوں کا رد ہوا۔اور چونکہ اس کی بیوی ہی نہیں  لہذا اللہ کا کوئی بیٹا اور بیٹی بھی نہیں ہوسکتے ۔اس سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین سب کا رد ہوا ۔یہود عزیرؑ کو ابن اللہ کہتے تھے اور نصاریٰ سیدنا عیسیٰؑ کو اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قراردیتے تھے اور دوسرے ممالک کے مشرکوں نے تو اس قدر اللہ کے بیٹے بیٹیاں بناڈالے جن کا شمار بھی نہیں۔انہوں نے توایسے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل ہی چلادی۔حالانکہ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔(تیسیر القرآن)

103۔ کیا اس دنیا میں دیدار الٰہی ممکن ہے؟ مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہؓ کے پاس بیٹھا تھا۔ انہوں نے مجھے (مخاطب کرکے)کہا:ابوعائشہ(مسروق کی کنیت)تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی اگر کسی نے کہی تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔جس نے کہا کہ محمدؐ نے(شب معراج میں)اپنے پروردگار کو دیکھا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:"لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۔۔۔"الآیہ۔نیز فرماتاہے:"وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ ۔۔۔"مسروق بن اجدع کہتے ہیں میں اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھا۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا:ام المومنین ! جلدی نہ کیجئے۔کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:"وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى"نیز فرمایا:"وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ"سیدہ عائشہ ؓنے فرمایا :اللہ کی قسم! میں نے اس بارے میں رسول اللہؐ سے پوچھا تھا تو آپؐ نے فرمایا :وہ تو جبریل تھے جنہیں میں نے دیکھا تھا۔اور دونوں بار ان کی اصلی صورت میں نہیں بلکہ آسمان سے اترتے دیکھا اور وہ اتنے بڑے تھے کہ زمین و آسمان کے درمیان کی فضا بھرگئی تھی۔"اور جس نے یہ سمجھا کہ محمد رسولؐ نے منزل من اللہ وحی سے کچھ چھپایا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ فرماتاہے "یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ"اور جس نے یہ سمجھا کہ محمدؐ کل کو ہونے والی بات جانتے تھے۔ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے"لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ"(ترمذی ابواب التفسیر)البتہ قیامت کو انسان اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکے گاجیساکہ بے شمار آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو کائنات کی معمولی معمولی اشیاء کو دیکھ رہاہے اور ہر لمحہ انکی خبر گیری کررہاہے۔پھر ان کی ہر چھوٹی موٹی ضرورت کو پورا بھی کرتا رہتاہے۔۔۔قرآن آپ نے کس سے سیکھا ہے؟اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی معرفت کیلئے بہت سے ایسے دلائل ذکر کردئیے گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں غور و فکر کرے گا تو یقیناً حقیقت کو پالے گا اور اس میں اسی کا بھلاہے۔اور جو خود ہی کچھ نہیں سمجھنا چاہتاتو وہ خود ہی اس کا نقصان برداشت کرے گا۔اس سے آگے یک لخت متکلم بدل گیا ہے پہلے سلسلہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا اور "میں تم پر حافظ نہیں"یہ جملہ رسول اللہؐ کی زبان سے ہے۔اس طرح کی ضمائر کی تبدیلی کلام عرب میں بکثرت پائی جاتی ہے اور ایسے کلام  کو اتنا ہی زیادہ فصیح شمار کیا جاتاہے۔یعنی رسول اللہؐ یہ فرمارہے ہیں کہ جولوگ ان بصیرت افروز دلائل میں غور و فکر کی زحمت ہی گوارانہیں کرتے تو میرے ذمہ یہ ڈیوٹی نہیں کہ میں وہ دلائل ایسے لوگوں کو دکھا کے یہ سمجھا کے چھوڑوں۔(تیسیر القرآن)

۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو حق تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ جو نعمتیں جنت میں مل چکی ہوں ان سے زائد اور کچھ چاہئے تو بتلاؤ کہ ہم وہ بھی دیدیں، یہ لوگ عرض کریں گے، یا اللہ ! آپ نے ہمیں دوزخ سے نجات دی، جنت میں داخل فرمایا، اس سے زیادہ ہم اور کیا چاہیں ؟ اس وقت حجاب درمیان سے اٹھا دیا جائے گا، اور سب کو اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوگی، اور جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر یہ نعمت ہوگی، یہ حدیث صحیح مسلم میں حضرت صہیب ؓ سے منقول ہے۔۔۔۔۔۔اور صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات چاند کی چاندنی میں تشریف فرما تھے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کا مجمع تھا، آپ ﷺ نے چاند کی طرف نظر فرمائی اور پھر فرمایا کہ (آخرت میں) تم اپنے رب کو اسی طرح عیاناً دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ ترمذی اور مسند احمد کی ایک حدیث میں بروایت ابن عمر ؓ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جنت میں خاص درجہ عطا فرمائیں گے، ان کو روزانہ صبح وشام حق تعالیٰ کی زیارت نصیب ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں کسی کو حق تعالیٰ کی زیارت نہیں ہو سکتی، اور آخرت میں سب اہل جنت کو ہوگی، اور رسول کریم ﷺ کو جو شب معراج میں زیارت ہوئی وہ بھی درحقیقت عالم آخرت ہی کی زیارت ہے، جیسا شیخ محی الدین ابن عربی نے فرمایا کہ دنیا صرف اس جہان کا نام ہے جو آسمانوں کے اندر محصور ہے، آسمانوں سے اوپر آخرت کا مقام ہے، وہاں پہنچ کر جو زیارت ہوئی اس کو دنیا کی زیارت نہیں کہا جاسکتا۔ (معارف القرآن)

105۔ دل کے اقرار کے باوجود زبان و عمل سے جو قوم رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے ، سنتِ الہی یہ ہے کہ وہ قوم ہلاک کر دی جاتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

106۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ یہ سورہ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی (ماسوائے چھ آیات کے)اور اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائش کا دورتھا۔ اس وقت یہی حکم تھا کہ مشرکوں سے کنارہ کش رہاجائے۔لیکن جب فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا تو پھر یہ حکم نہ رہابلکہ ان کے ساتھ جنگ و جدال کا حکم ہوا۔اور کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قراردیا گیا۔جیساکہ سورہ توبہ کے آغاز میں مشرکین کیلئے احکام بیان ہوئے ہیں۔(تیسیر القرآن)

107۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں داعی اور مبلغ بنایا گیا ہے، کو توال نہیں بنایا گیا۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اس روشنی کو پیش کردو اور اظہار حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے۔ تم کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہو۔ (تفہیم القرآن)

108۔  آیت کا شان نزول ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کے عم محترم ابو طالب مرض الموت میں تھے تو قریش کے مشرک سردار جو رسول کریم ﷺ کی عداوت اور ایذاء رسانی میں لگے ہوئے تھے، اور قتل کی سازشیں کرتے رہتے تھے، ان کو یہ فکر ہوئی کہ ابو طالب کی وفات ہمارے لئے ایک مشکل مسئلہ بن جائے گی، کیونکہ ان کے بعد اگر ہم محمد ﷺ کو قتل کریں گے تو یہ ہماری عزت شرافت کے خلاف ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ ابو طالب کے سامنے تو ان کا کچھ بگاڑ نہ سکے، ان کے موت کے بعد اکیلا پا کر قتل کردیا، اس لئے اب وقت ہے کہ ہم مل کر خود ابو طالب ہی سے کوئی فیصلہ کن بات کرلیں۔۔۔۔۔ یہ بات تقریباً ہر لکھا پڑھا مسلمان جانتا ہے کہ ابو طالب اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن آنحضرت ﷺ کی نہ صرف محبت بلکہ عظمت و جلالت بھی ان کے دل میں پیوست تھی، اور آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر رہتے تھے۔۔۔۔۔ چند قریشی سرداروں نے یہ مشورہ کر کے ابو طالب کے پاس جانے کے لئے ایک وفد مرتب کیا، جس میں ابو سفیان، ابو جہل، عمروبن عاص وغیرہ قریشی سردار شامل تھے، ابو طالب سے اس وفد کی ملاقات کے لئے وقت لینے کا کام ایک شخص مطّلب نامی کے سپرد ہوا، اس نے ابوطالب سے اجازت لے کر اس وفد کو وہاں پہنچایا۔۔۔۔۔ وفد نے ابو طالب سے کہا کہ آپ ہمارے بڑے اور سردار ہیں، اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بھتیجے محمد ﷺ نے ہمیں اور ہمارے معبودوں کو سخت تکلیف اور ایذاء پہنچا رکھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ان کو بلا کر سمجھا دیں کہ وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں تو ہم اس پر صلح کرلیں گے کہ وہ اپنے دین پر جس طرح چاہیں عمل کریں، جس کو چاہیں معبود بنائیں، ہم ان کو کچھ نہ کہیں گے۔۔۔۔۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ یہ آپ کی برادری کے سردار آئے ہیں، آنحضرت ﷺ نے اس وفد سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمیں اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیں، برا بھلا نہ کہیں، اور ہم آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے معبود کو چھوڑ دیں گے، اس طرح باہمی مخالفت ختم ہوجائے گی۔۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا یہ بتلاؤ کہ اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں تو کیا تم ایک ایسا کلمہ کہنے کے لئے تیار ہوجاؤ گے جس کے کہنے سے تم سارے عرب کے مالک ہوجاؤ گے، اور عجم کے لوگ بھی تمہارے تابع اور باج گزار بن جائیں گے۔۔۔۔۔ ا بوجہل بولا کہ ایسا کلمہ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں، بتلائیے وہ کیا ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ یہ سنتے ہی سب برہم ہوگئے، ابوطالب نے بھی حضور ﷺ سے کہا کہ میرے بھتیجے ! اس کلمہ کے سوا کوئی اور بات کہو، کیونکہ آپ کی قوم اس کلمہ سے گھبرا گئی ہے۔
 آپ ﷺ نے فرمایا ! چچا جان ! میں تو اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا کلمہ نہیں کہہ سکتا، اگر وہ آسمان سے آفتاب کو اتار لاویں اور میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا ہرگز نہ کہوں گا، مقصود یہ تھا کہ ان کو مایوس کردیں۔۔۔۔۔ اس پر یہ لوگ ناراض ہو کر کہنے لگے یا تو آپ ﷺ ہمارے معبودوں (بتوں) کو برا کہنے سے باز آجائے، ورنہ ہم آپ ﷺ کو بھی گالیاں دیں گے اور اس ذات کو بھی جس کا رسول آپ ﷺ اپنے آپ کو بتلاتے ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ، یعنی آپ ﷺ ان بتوں کو برا نہ کہیں جن کو ان لوگوں نے خدا بنا رکھا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کو برا کہنے لگیں اپنی بےراہ روی اور بےسمجھی سے۔
 اس میں وَلَا تَسُبُّوا لفظ سَبّ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں گالی دینا، رسول کریم ﷺ تو اپنے فطری اخلاق کی بناء پر پہلے ہی اس کے پابند تھے، کبھی بچپن میں بھی کسی انسان بلکہ کسی جانور کے لئے بھی گالی کا لفظ آپ ﷺ کی زبان مبارک پر جاری نہیں ہوا، ممکن ہے بعض صحابہ کرام کی زبان سے کبھی کوئی سخت کلمہ نکل بھی گیا ہو جس کو مشرکین مکہ نے گالی سے تعبیر کیا، اور قریشی سرداروں کے اس وفد نے حضور ﷺ کے سامنے اس معاملہ کو رکھ کر یہ اعلان کردیا کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کو سب وشتم کرنے سے باز نہ آئیں گے تو ہم آپ کے خدا کو سب وشتم کریں گے ۔(معارف القرآن)

۔ اس لئے خلاصہ اس اصول کا جو آیت مذکورہ سے نکلا ہے یہ ہوگیا کہ جو کام اپنی ذات میں جائز بلکہ اطاعت وثواب بھی ہو مگر مقاصد شرعیہ میں سے نہ ہو، اگر اس کے کرنے پر کچھ مفاسد لازم آجائیں تو وہ کام ترک کردینا واجب ہوجاتا ہے، بخلاف مقاصد شرعیہ کے کہ وہ لزوم مفاسد کی وجہ سے ترک نہیں کئے جاسکتے۔ (معارف القرآن)

- جو امور قوانین ِ فطرت کے تحت رونما ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اپنا فعل قرار دیتاہے کیونکہ وہی ان قوانین کا مقرر کرنے والاہے اور جو کچھ ان قوانین کے تحت رونما ہوتاہے وہ اسی کے امر سے رونما ہوتاہے۔جس بات کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتاہے کہ ہم نے ایسا کیا ہے کہ اسی کو اگر ہم انسان بیان کریں گے تو اس طرح کہیں گے کہ فطرۃ ًایسا ہی ہوا کرتاہے۔(تفہیم القرآن)

۔  الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ۔جنہیں یہ مشرکین بہ طور معبود پکارتے ہیں، مفسرین نے یہاں یہ شبہ نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب جنہیں پکارتے تھے وہ تو بے جان بت تھے ،پھر ان کیلئے الذین کیوں آیا،جو صیغۂ جاندار اور ذوی العقول کیلئے ہے، اور پھر خود ہی جواب دیا ہے کہ یہ مشرکین کے خیال کے مطابق ہے کہ وہ تو انہیں ذوی العقول میں شمار کرتے تھے۔۔۔لیکن اصلی جواب یہ ہے کہ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ سے مراد صرف بیجان بت ہی نہیں، بلکہ وہ تمام جاندار ہستیاں بھی ہیں، جن کے معتقد اہلِ شرک ہر قوم اور ہردور میں رہے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

109-فرمائشی معجزات کا مطالبہ اور اس کا جواب۔بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہواکہ اچھا ہواگر ان کی یہ حجت بھی پوری کردی جائے۔اس پر فرمادیا کہ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ سرکش ضدی لوگ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔پھر سنت اللہ کے موافق اس کے مستحق ہونگے کہ فوراً تباہ کردیے جائیں ۔جیساکہ اسی سورت کے شروع میں ہم مفصل لکھ چکے ہیں۔(تفسیر عثمانی)


چودھواں رکوع

لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ  111 اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله۔ بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں۔
 وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ 112 اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو۔
 وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ 113 اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں۔
اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ 114 (کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔
 وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ  115 اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے۔
 وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ 116 اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے۔ یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔
 اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ 117 . تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں۔
فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ  118 تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو۔
 وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ 119 اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
 وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ  120 اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔
وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠   ۧ ۧ  121 اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے۔

تفسیر آیات

"اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ"کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں بیان کردیا گیاہے یعنی کوئی ایک آدھ آدمی ایمان لے آتا جس کے نصیب میں ہوتا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ کی مشیت میں ہوتاتو یہ سب ایمان لاسکتے تھے مگر اس طرح کا جبری ایمان نہ اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ اس کا کچھ فائدہ ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

112۔ یُوْحِیْ۔وحی کے لفظی معنی اشارۂ سریعہ کے ہیں۔۔۔۔اس عمل شیطانی کو وحی سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ یہ وسوسہ اندازی بالکل خفیہ خفیہ ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ لفظ 'افتراء" پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں بحث کر کے واضح کر چکے ہیں کہ قرآن میں اس سے شرک اور مشرکانہ بدعات مراد ہوتی ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔یہاں ہماری سابق تشریحات کے علاوہ یہ حقیقت بھی اچھی طرح ذہن نشین ہوجانی چاہیے کہ قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ کی مشِیَّت اور اس کی رضا میں بہت بڑا فرق ہے جس کو نظر انداز کردینے سے بالعموم شدید غلط فہمیاں واقع ہوتی ہیں۔ کسی چیز کا اللہ کی مشیت اور اس کے اذن کے تحت رونما ہونا لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور اسے پسند بھی کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی واقعہ کبھی صدور میں نہیں آتا جب تک اللہ اس کے صدور کا اذن نہ دے اور اپنی عظیم الشان اسکیم میں اس کے صدور کی گنجائش نہ نکالے اور اسباب کو اس حد تک مساعد نہ کر دے کہ وہ واقعہ صادر ہو سکے۔ کسی چور کی چوری، کسی قاتل کا قتل، کسی ظالم و مفسد کا ظلم و فساد اور کسی کافر و مشرک کا کفر و شرک اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور اسی طرح کسی مومن اور کسی متقی انسان کا ایمان وتقویٰ بھی مشیت الہٰی کے بغیر محال ہے۔ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر مشِیَّت کے تحت رونما ہوتے ہیں۔ مگر پہلی قسم کے واقعات سے اللہ راضی نہیں ہے اور اس کے برعکس دوسری قسم کے واقعات کو اس کی رضا اور اس کی پسندیدگی و محبوبیت کی سند حاصل ہے۔ اگرچہ آخر کار کسی خیر عظیم ہی کے لیے فرمانروائے کائنات کی مشیت کام کر رہی ہے، لیکن اس خیر عظیم کے ظہور کا راستہ نور و ظلمت، خیر و شر اور صلاح و فساد کی مختلف قوتوں کے ایک دوسرے کے مقابلہ میں نبرد آزما ہونے ہی سے صاف ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

116۔(کہ دنیا کی اکثریت تو منکروں اور گمراہوں ہی پر شامل ہے)مطلق "اکثریت"قرآن کی نظر میں ہرگز کسی سندیا دلیل کے قائمقام نہیں،جیساکہ سیاسیات حاضرہ میں فرض کرلیا گیاہے ۔۔۔وحی الٰہی کے نورمبین اور علم قطعی کے علاوہ دنیا میں "عقل "اور"علوم"کے نام سے جو کچھ بھی ہے،چاہے وہ ارسطو کی منطق ہوچاہے کانٹ کے مقولات (CATAGORIES)سب ظن و تخرص ہی کے حکم میں داخل ہیں ،ظن یہاں بہت وسیع معنی میں ہے،یعنی یقین کی ضد۔(تفسیر ماجدی)

ــــ حق کے معاملے میں اکثریت کا اعتبار نہیں:۔ مشاہدہ اور تاریخ بتلاتے ہیں کہ دنیا میں ہمیشہ فہیم، محقق اور بااصول آدمی تھوڑے رہے ہیں۔اکثریت ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے جو محض خیالی ،بے اصول اور اٹکل پچو باتوں کی پیروی کرنے والے ہوں۔اگر تم اسی اکثریت کا کہنا ماننے لگو اور بے اصول باتوں پر چلنا شروع کردو تو خدا کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ  سے یقیناً بہک جاؤگے۔یہ آپ پر رکھ کر دوسروں کو سنایا۔(تفسیر عثمانی)

118۔ ذبح پر مشرکوں کا اعتراض اور مردار کھالیناکافروں  کا دستور یہ تھاکہ وہ مراہوا جانور توکھالیتے تھے لیکن خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کرکے نہیں کھاتے تھے ۔مرے ہوئے کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ اسے اللہ نے مارا ہے لہذا اس کا کھانا جائز ہے اور خود ذبح کرنے کو کسی جانور کا خون کرنے کے مترادف سمجھتے تھے خواہ اس پر اللہ کا نام ہی لیا جائے۔اسی بناپر یہود نے ان کو مسلمانوں کیخلاف اکسایا تھا حالانکہ یہود تو اصل حقیقت سے واقف تھے۔مگر اسلام دشمنی نے ان دونوں کو ہم  نوابنادیا تھا۔یہود کے اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی گمراہ کن چال سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے یعنی حلال طریقہ پر ذبح کیا جائے۔اس کے کھانے میں تمہیں کسی قسم کا تامل نہ ہونا چاہیے اور ان لوگوں کے اس پروپیگنڈہ کا کچھ اثر قبول نہ کرنا چاہیے اس لیے کہ جو اشیاء فی الواقع حرام ہیں ان کے متعلق احکام تمہیں پہلے بتائے جاچکے ہیں۔(تیسیر القرآن)

119۔ یہ غالباً سورہ نحل کی آیت نمبر 115 کی طرف اشارہ ہے وہاں بھی مردار، خون،خنزیر اور غیر اللہ کے نام پر مشہور کردہ چیزوں کا ذکر ہے پھر بھی انہی چیزوں کا ذکر اسی سورہ کی آیت نمبر 145 میں بھی آیاہے۔پھر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 173 پھر سور مائدہ کی آیت نمبر 3 میں تفصیلات بھی آگئی ہیں ۔لہذا سور مائدہ کی آیت نمبر3 کا حاشیہ ملاحظہ کرلیا جائے۔(تیسیر القرآن)

120۔ہربرائی کے دوپہلو ہوتے ہیں۔ایک اس کی حقیقت جس کا مسکن انسان کا نفس اور اس کا دل ہوتاہے۔دوسرے اس کے مظاہر اور شکلیں ہوتی ہیں جن میں انسانی زندگی کے اندر وہ نمایاں ہوتی ہے۔ان دونوں میں گہرا ربط ہوتاہے۔لہذا کسی برائی کو ختم کرنا مقصود ہوتوبرائی کے اس ظاہر و باطن دونوں کو ختم کرنا ضروری ہوگا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــ لیکن بہترین تفسیر یہ ہے کہ ظاہر الاثم سے وہ گناہ مراد لئے جائیں ،جو خلق کی نظر کے سامنے علانیہ کئے جائیں اور باطن الاثم سے مراد وہ گناہ سمجھے جائیں ، جو خلق کی نظر سے چھپاکر پوشیدہ کئے جاتے ہیں۔جاہلی تہذیبوں میں فسق و معصیت کی بہت سی صورتیں ایسی ہیں کہ بجائے خود وہ ذرابھی معیوب نہیں،صرف ان کا کھل جانا گناہ ہے،یونان قدیم میں چوری بجائے خود کوئی جرم نہ تھی،البتہ چوری کا کھل جانا جرم تھا ،آج فرنگی تہذیب میں حرامکاری بجائے خود کوئی عیب نہیں، صرف اس کا منظر عام پر آجانا، عام رسوائی و تفضیح پیداہوجانا اس کا  Scandal بن جانا ،بس صرف یہ جرم ہے۔عرب کی جاہلی تہذیب میں بھی یہی صورت تھی ،یہ خصوصیت اسلام ہی کی ہے کہ اس نے پوشیدہ و علانیہ ہرحرامکاری کو جرم ہی قراردیا۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ گناہ کی اس قرآنی تقسیم سے ظاہرہوتاہے کہ گناہ جس طرح اعضاء و جوارح سے ہوتے ہیں اسی طرح قلب سے بھی ہوتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

121۔جب یہ آیت"اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ"نازل ہوئی تو عدی بن حاتم (جوپہلے عیسائی تھے)کہنے لگے"یا رسول اللہؐ !ہم لوگ اپنے علماء و مشاءخ کو رب تو نہیں سمجھتے تھے۔آپؐ نے عدی سے پوچھا :کیا جس چیز کو وہ حلال کہتے یا حرام کہتے تو تم ان کی بات مان لیتے تھے؟عدیؓ کہنے لگے:ہاں! یہ تو تھا ۔آپؐ نے فرمایا:بس یہی رب بنانا ہے۔(ترمذی ۔ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)


پندرہواں رکوع

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ  122 بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے۔ اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ 123 اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں۔
 وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ 124 اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے۔ جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے۔
 فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ  125 تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔
 وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ 126 اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔
 لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ  127 ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے۔
 وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ  128 اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔
 وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠   ۧ ۧ  129 اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں۔

تفسیر آیات

122ـ یہ اہل ایمان اور مشرکین کی تمثیل بیان ہوئی ہے، جس سے مقصود مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے تاکہ وہ مشرکین کے پروپیگنڈا کی پروانہ کریں اور اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ہی سے رہنمائی حاصل کریں۔(ترجمہ ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔یہاں موت سے مراد جہالت و بےشعوری کی حالت ہے، اور زندگی سے مراد علم  اور حقیقت شناسی کی حالت۔ جس شخص کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں اور جسے معلوم نہیں کہ راہ راست کیا ہے وہ طبیعیات کے نقطہ نظر سے چاہے ذی حیات ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کو انسانیت کی زندگی میسر نہیں ہے۔ وہ زندہ حیوان تو ضرور ہے مگر زندہ انسان نہیں۔ زندہ انسان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جسے حق اور باطل، نیکی اور بدی، راستی اور ناراستی کا شعور حاصل ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس عالم میں زمین، پانی اور ہوا اور آگ، اسی طرح آسمانی مخلوقات اور چاند، سورج اور کل ستارے اپنی اپنی ڈیوٹی پوری طرح پہچان کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، اور یہی اداء فرائض ان میں سے ہر چیز کی زندگی کا ثبوت ہے، اور جس وقت جس حال میں ان میں سے کوئی چیز اپنی ڈیوٹی ادا کرنا چھوڑ دے تو وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے، پانی اگر اپنا کام پیاس بجھا دینا اور میل کچیل دور کرنا وغیرہ چھوڑ دے تو وہ پانی نہیں کہلائے گا، آگ جلنا اور جلانا چھوڑ دے تو وہ آگ نہیں رہے گی، درخت اور گھاس اگنا اور بڑھنا پھر پھل پھول لانا چھوڑ دے تو وہ درخت اور نبات نہیں رہے گی، کیونکہ اس نے اپنے مقصد زندگی کو چھوڑ دیا، تو وہ ایک بےجان مردہ کی طرح ہوگئی۔۔تمام کائنات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک انسان جس میں کچھ عقل و شعور ہو اس بات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہوگا کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے، اور یہ کہ اگر وہ اپنے مقصد زندگی کو پورا کر رہا ہے، تو وہ زندہ کہلانے کا مستحق ہے، اور اس کو پورا نہیں کرتا تو وہ ایک مردہ لاش سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔۔ اب سوچنا یہ ہے کہ انسان کا مقصد زندگی کیا اور اس کے فرائض کیا ہیں، اور مذکور الصدر اصول کے مطابق یہ متعین ہے کہ اگر وہ اپنے مقصد زندگی اور ڈیوٹی کو ادا کر رہا ہے تو زندہ ہے ورنہ مردہ کہلانے کا مستحق ہے۔۔۔۔۔۔۔معلوم ہوا کہ انسان کا مقصد زندگی پورے عالم کی ابتداء و انتہاء کو سامنے رکھ کر سب کے نتائج اور عواقب پر نظر ڈالنا اور یہ متعین کرنا کہ مجموعی اعتبار سے کیا چیز نافع اور مفید ہے، اور کون سی چیز مضر اور تکلیف دہ ہے، پھر اس بصیرت کے ساتھ خود اپنے لئے بھی مفید چیزوں کو حاصل کرنا اور مضر چیزوں سے بچنا اور دوسروں کو بھی ان مفید چیزوں کی طرف دعوت دینا اور بری چیزوں سے بچانے کا اہتمام کرنا ہے۔ (معارف القرآن)

124۔ اس ٹکڑے سے جہاں یہ بات نکلتی ہے کہ نبوت و رسالت ایک موہبت ربانی اور ایک عطیہ الٰہی ہے جو صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے انتخاب فرمائے وہیں یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے انتخاب انہی کو فرماتا ہے جو اپنی اکتسابی صلاحیتوں اور خوبیوں کے اعتبار سے نوع انسانی کے گل سرسبد نخل فطرت کے بہترین ثمر اور کمال انسانیت کے مظہر اتم ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

125۔ سیدنا ابن عباسؓ نے اس مقام پر رجس کا ترجمہ شیطان سے کیا ہے اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ ہم ایسے شخص پر ایک شیطان مسلط کردیتے /ہیں جو اسے ایمان لانے کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔نیز  رجس کا معنی ناپاکی بھی ہے اور عذاب بھی۔ترجمہ میں ناپاکی ہی معنیٰ لکھا گیا ہے اور اگر عذاب ہوتو اس سے مراد ہے کہ دنیامیں اس پر لعنت کا عذاب مسلط کردیا جاتاہے اور آخرت میں جو عذاب ہوگاوہ سخت ترہے۔(تیسیر القرآن)

126۔ ہدایت و اضلال اللہ کے ہاتھ میں ہے:۔ جو لوگ ایمان لانے کا ارادہ نہیں رکھتے ان پر اسی طرح عذاب اور تباہی ڈالی جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ ان کا سینہ اس قدر تنگ کردیا جاتاہے کہ اس میں حق کے گھسنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہتی ۔پھر یہ ہی ضیق صدر عذاب ہے جو قیامت میں بشکل محسوس سامنے آجائے گا۔مترجم محقق قدس  اللہ روحہ نے"رجس" کا ترجمہ عذاب سے کیا ہے اس کے موافق یہ تقریر ہے کہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے"رجس" کے معنی عذاب ہی کے لئے ہیں۔مگر ابن عباسؓ نے یہاں"رجس" سے مراد شیطان لیا ہے۔شاید اس لئے کہ " رجس" ناپاک کو کہتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر کون ناپاک ہوگا۔بہرحال اس تفسیر پر آیت کا مطلب ہوگا کہ جس طرح خدا تعالیٰ ایمان سے گھبرانے والوں کا سینہ تنگ کردیتاہے اسی طرح ان پر بے ایمانیوں کی وجہ سے شیطان مسلط کردیا جاتاہے کہ کبھی رجوع الی الحق کی توفیق نہیں ہوتی حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ "اول فرمایا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ آیت دیکھیں تو البتہ یقین لاویں اور اب فرمایا کہ ہم نہ دینگے ایمان تو کیونکر لاویں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے نقل کئے،اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات نہ چھوڑے جو دلیل دیکھے کچھ حیلے بنالے ،وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر ،وہ نشان ہدایت ہے۔ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے ان پر کوئی آیت اثر نہ کرے گی ،باقی اللہ تعالیٰ کی طرف ارادۂ ہدایت و اضلال کی نسبت کرنا ،اس کے متعلق متعدد مواضع میں ہم کلام کرچکے ہیں اور آئندہ بھی حسب موقع لکھا جائے گا۔مگر یہ مسئلہ طویل اور معرکۃ الآراء ہے اس لئے ہماراارادہ ہے کہ اس پر ایک مستقل مضمون لکھ کر فوائد کے ساتھ ملحق کردیا جائے وباللہ التوفیق ۔(تفسیر عثمانی)

127۔ ۔۔ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ۔ولی کے معنی قریب کے ہیں، اور اسی سے مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ آیت سے بندگان صالح کا انتہائی شرف ظاہر ہورہاہے، عِنْدَ رَبِّهِمْ اللہ سے بندوں کی قربت کا ترجمان ہے اور وَلِیُّهُمْ بندوں سے اللہ کی قربت کا مظہر ہے۔۔۔ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔اس میں گویا یہ بتادیا کہ کہ یہ مرتبۂ ولایت الٰہی اعمال ہی سے حاصل ہوتاہے،بلااعمال نہیں ۔(تفسیر ماجدی)

128۔۔۔ایسی بدروحوں کو ہمارے ہاں عموماً بھوت اور چڑیل   کہا جاتاہے۔بیت الخلاء میں جاتے وقت ہمیں جو دعا رسول اللہؐ نے سکھائی ہے وہ یوں ہے"اے اللہ! میں جنوں اور جننیوں (بدروحیں مذکر ہوں یا مؤنث)سے تیری پناہ میں آتاہوں۔"(بخاری۔کتاب الاستیذان۔باب الدعاء عند الخلاء)جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسی بدروحیں انسان کو تنگ اور پریشان کرسکتی ہیں۔جنوں اور انسانوں کا ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانا:۔اب جنوں اور انسانوں کی ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کی صحیح صورتیں تو ہمیں معلوم نہیں تاہم ایک مشہور و معروف صورت جو ہم دیکھتے ہیں وہ تسخیر جنات کی صورت ہے۔جنوں کو مسخر کرنے والے انسانوں کو ہماری زبان میں عامل کہا جاتاہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ اطاعتِ شیاطین کا انجام:۔ دنیا میں جو انسان بت وغیرہ پوجتے ہیں وہ فی الحقیقت خبیث جن (شیاطین)کی پوجا ہے۔اس خیال پر کہ وہ ہمارے کام نکالیں گے ان کو نیازیں چڑھاتے ہیں۔اور ویسے بھی بہت سے اہل جاہلیت تشویش و اضطراب کے وقت جنوں سے استعانت کرتے تھے۔جیساکہ"سورۂ جن"میں اشارہ کیا گیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے روایات نقل کی ہیں کہ جب آخرت میں وہ شیاطین الجن اور انسان برابر پکڑے  جائیں گے اور حقائق کا انکشاف ہوگا تب مشرک لوگ یوں عذر کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے پوجا نہیں کی۔لیکن آپس میں وقتی کاروائی کرلی تھی اور موت کا وعدہ آنے سے پہلے پہلے دنیوی کا روبار میں ہم ایک دوسرے سے کام نکالنے کی کچھ ترکیب کرلیا کرتے تھے ان کی عبادت مقصود نہ تھی۔(تفسیر عثمانی)

۔ یہ واضح رہے کہ عرب جاہلیت میں جنوں کو عربوں کی مذہبی اور سماجی زندگی میں بڑا دخل ہوگیا تھا، کہانت اور ساحری کی ساری گرم بازاری تو ان کے دم قدم سے تھی ہی، شاعری تک کے متعلق ان کا خیال یہ تھا کہ یہ جنات الہام کرتے ہیں اور ہر بڑے شاعر کے ساتھ کوئی نہ کوئی جن ضرور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر وہ آنحضرت ﷺ کے متعلق بھی یہ کہتے تھے کہ ان کے ساتھ کوئی جن ہے۔ ہر وادی کے الگ الگ جن مانے جاتے تھے اور سفر، حضر، جنگ، صلح اور فتح کے معاملات میں ان کے تصرفات کا بڑا دخل سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔۔ ویسے یہ امر یاد رہے کہ خلود اور ابدیت کے مسائل ایسے نہیں ہیں جن کا احاطہ انسان کا محدود علم کرسکے۔ اگر انسان ان چیزوں کے چکر میں پڑے تو بات متشابہات کے حدود میں نکل جاتی ہے جن میں پڑ نے سے ہم کو روکا گیا ہے، اس وجہ سے سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ جتنی بات خدا نے بتا دی ہے اس کو مانیے اور اس کے آگے کے مراحل کو خدا کے علم کے حوالہ کیجیے۔(تدبرقرآن)


سولہواں رکوع

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ  130 اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔
 ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ 131 (اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو۔
وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ 132 اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں۔
 وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ   133 اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔
اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ 134 کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے۔
 قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 135 کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں ۔عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔
وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ 136 اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے۔
 وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ 137 اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔
 وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ  138 اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے ۔سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا۔
وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ 139 اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) ۔عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔
 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠   ۧ ۧ  140 جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

تفسیر آیات

130۔ سلسلہ نبوت اب صرف انسانوں میں ہے:۔ انسان سے پہلے اس زمین پر جن ہی آبادتھے اور قرین قیاس یہی بات ہے کہ ان میں بھی رسول آتے ہوں گے۔لیکن انسان کے زمین پر آباد ہونے کے بعد سلسلہ نبوت انسانوں سے ہی مختص ہوگیا۔جو رسول انسانوں کیلئے ہوتا وہ جنوں کیلئے بھی ہوتا۔انسانوں میں رسول آنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے جن نہیں اور جن رسول سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ رسول بشر ہوتاہے جو اپنی شکل بدل نہیں سکتا۔لیکن اگر رسول جنوں میں سے ہوتے تو ان سے انسان استفادہ نہ کرسکتاتھا۔چنانچہ رسول اللہؐ کا جنوں کیلئے بھی رسول ہونا قرآن میں دومقامات سے ثابت ہے۔سور احقاف میں بھی ذکر آیاہے اور سورہ جن میں بھی۔(تیسیر القرآن) 

- ۔۔۔یہاں یہ سمجھ لیا جائے کہ "یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ الخ"کا مدلول صرف اس قدر ہے کہ جن و انس کے مجموعہ میں سے پیغمبر بھیجے گئے۔ باقی یہ تحقیق کہ ہر نوع میں سے الگ الگ آئے یا ہر ایک پیغمبر کل افراد جن و انس کی طرف مبعوث ہوا،یہ آیت اس کے بیان سے ساکت ہے۔دوسری نصوص سے جمہور علماء نے یہ ہی قراردیا ہے کہ نہ ہرایک پیغمبر کی بعثت عام ہے اور نہ کسی جن کو اللہ نے مستقل رسول بناکر بھیجا۔۔۔جنات انسان کے تابع بنائے گئے ہیں۔اکثرمعاشی و معادی معاملات میں ان کو حق تعالیٰ نے انسانوں کے تابع بنا رکھا ہے جیساکہ سورۂ جن کی آیات اور نصوص حدیثہ وغیرہ اس پر دلالت کرتی ہیں ۔یہ کوئی ضابطہ نہیں کہ مخلوق کی ہر نوع کیلئے اسی نوع کا کوئی شخص رسول ہواکرے باقی انسانوں کی طرف فرشتہ کو رسول بناکر بھیجنے سے جو قرآن کے متعدد مواضع میں انکار کیا گیا ہے،اس کا اصلی منشاء یہ ہے کہ عام انسانوں کی طرف بہیئت الاصلیہ اس کی رویت کا تحمل نہیں کرسکتے اور بے اندازہ خوف و ہیبت کی وجہ سے مستفید نہیں ہوسکتے اور بصورت انسان آئیں تو بے ضرورت التباس  رہتا ہے۔ اسی پر قیاس کر لو کہ اگر قوم جن میں نبوت کی اصلیت ہوتی تو وہ بھی  انسانوں کیلئے مبعوث نہیں کئے جاسکتے تھے۔ کیونکہ وہاں بھی یہ ہی اشکال تھا۔ہاں رسول انسی کا جن کی طرف مبعوث ہونا اس لئے مشکل نہیں کہ جنوں کے حق میں انسان کی رویت نہ تو ناقابل تحمل ہے اور نہ انسان کا صوری خوف و رعب استفادہ سے مانع ہوسکتا ہے۔ادھر پیغمبر کو حق تعالیٰ وہ قوت قلبی عطافرمادیتا ہے کہ اس پر جن جیسی ہیبت ناک مخلوق کا کوئی رعب نہیں پڑتا۔(تفسیر عثمانی)

۔  رُسُلٌ مِّنْكُمْ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے اسی طرح جنوں کے اندر جنوں میں سے رسول بھیجے۔ انبیا و رسل کے باب میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اور جو تفصیل سے قرآن میں بیان ہوئی ہے اس کا لازمی اقتضا بھی یہی ہے کہ جنوں کے اندر انہی کے اندر سے رسول آئیں جو ان کی بولی میں، ان کی ضروریات و حالات کے مطابق ان پر اللہ کی حجت تمام کریں، اتمام حجت انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد ہوتا ہے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ ہر گروہ کے اندر ان کی فطرت کے مطابق رسول آئیں۔ انسان اور جن دو مختلف نوعیں ہیں۔ دونوں کے مسائل اگر کل نہیں تو بیشتر الگ الگ ہیں۔ اشتراک ہوسکتا ہے تو عقائد اور اخلاق کے بعض اصولوں میں ہوسکتا ہے، شریعت، قانون، معاشرت کے مسائل تو لازماً الگ الگ ہوں گے۔ پھر رسول جو اسوہ اور نمونہ بن کر آتے ہیں اگر ان کے اندر سے نہ ہوئے تو وہ ان کے اسوہ اور نمونہ کیسے بن سکتے ہیں ؟ جب ہم انسانوں کے لیے جنات میں سے کوئی رسول اسوہ نہیں بن سکتا تو انسانوں میں سے کوئی رسول جنوں کے لیے کیسے اسوہ بن سکتا ہے ؟ ہر قوم کا رسول ان کے اندر سے ہونے کا خاص پہلو، اتمام حجت کے نقطہ نظر سے یہی ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ گویا اس قوم پر خود اس کی زبان، خود اس کے ضمیر، خود اس کے ایک بھائی، اور خود اسی کے ایک فرد کامل کے ذریعے سے اس پر حجت قائم کردیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جنات قیامت کے روز اس سوال کے جواب میں یہ عذر کرسکتے تھے کہ اے رب ہم جنات کے لیے کسی غیر جن کا قول و عمل کس طرح حجت ہوسکتا تھا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جس طرح جنوں کے اشرار و شیاطین اور انسانوں کے اشرار و شیاطین میں حق کی مخالفت کے لیے سنگھٹن ہوجایا کرتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں بیان ہوا۔ اسی طرح بعض مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں کہ جنوں کے اندر جو ابرار و صالحین ہیں ان کی طرف سے اس حق کی بھی تائید ہوتی ہے جو انسانوں کے انبیاء و صالحین کے ذریعے سے ظاہر ہوا ہے اس لیے کہ حق، اصولی حیثیت سے نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان ایک متاع مشترک کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تمام کائنات کی متاع مشترک ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ لیکن ایک جماعت علماء اس آیت کے ظاہری معنی کے اعتبار سے اس کی بھی قائل ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ سے پہلے ہر گروہ کے رسول اسی گروہ میں سے ہوتے تھے، انسانوں کے مختلف طبقات میں انسانی رسول آتے تھے، اور جنّات کے مختلف طبقات میں جنّات ہی میں سے رسول ہوتے تھے، حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کو سارے عالم کے انسانوں اور جنّات کا واحد رسول بنا کر بھیجا گیا اور وہ بھی کسی ایک زمانہ کیلئے نہیں، بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن و انس آپ ﷺ کی امت ہیں، اور آپ ﷺ ہی سب کے رسول و پیغمبر ہیں۔ (معارف القرآن)

133۔  ”تمہارا رب بےنیاز ہے“  یعنی اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی نہیں ہے، اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہو، یا تمہاری فرماں برداری سے اس کو کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہو۔ تم سب مل کر سخت نافرمان بن جاؤ تو اس کی بادشاہی میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے، اور سب کے سب مل کر اس کے مطیع فرمان اور عبادت گزار بن جاؤ تو اس کے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے اور نہ تمہاری نذر و نیاز کا۔ اپنے بیشمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے بغیر اس کے کہ ان کے بدلہ میں اپنے لیے تم سے کچھ چاہے۔ ”مہربانی اس کا شیوہ ہے“۔ یہاں موقع و محل کے لحاظ سے اس فقرے کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارا رب تم کو راہ راست پر چلنے کی تلقین کرتا ہے اور حقیقت نفس الامری کے خلاف طرز عمل اختیار کرنے سے جو منع کرتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری راست روی سے اس کا کوئی فائدہ اور غلط روی سے اس کا کوئی نقصان ہوتا ہے، بلکہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ راست روی میں تمہارا اپنا فائدہ اور غلط روی میں تمہارا اپنا نقصان ہے۔ لہٰذا یہ سراسر اس کی مہربانی ہے کہ وہ تمہیں اس صحیح طرز عمل کی تعلیم دیتا ہے جس سے تم بلند مدارج تک ترقی کرنے کے قابل بن سکتے ہو اور اس غلط طرز عمل سے روکتا ہے جس کی بدولت تم پست مراتب کی طرف تنزل کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تمہارا رب سخت گیر نہیں ہے، تم کو سزا دینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا ہے، وہ تمہیں پکڑنے اور مارنے پر تلا ہوا نہیں ہے کہ ذرا تم سے قصور سرزد ہو اور وہ تمہاری خبر لے ڈالے۔ درحقیقت وہ اپنی تمام مخلوقات پر نہایت مہربان ہے، غایت درجہ کے رحم و کرم کے ساتھ خدائی کر رہا ہے، اور یہی اس کا معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ اسی لیے وہ تمہارے قصور پر قصور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ تم نافرمانیاں کرتے ہو، گناہ کرتے ہو، جرائم کا ارتکاْب کرتے ہو، اس کے رزق سے پل کر بھی اس کے احکام سے منہ موڑتے ہو، مگر وہ حلم اور عفو ہی سے کام لیے جاتا ہے اور تمہیں سنبھلنے اور سمجھنے اور اپنی اصلاح کرلینے کے لیے مہلت پر مہلت دیے جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تمہیں دنیا سے رخصت کردیتا اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا کھڑا کرتا، یا سارے انسانوں کو ختم کر کے کوئی اور مخلوق پیدا کردیتا۔ (تفہیم القرآن)

۔ وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ۔ فرمایا کہ تمہارا خداوند غنی اور بےنیاز بھی ہے اور رحمت والا بھی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ صفات جب اس طرح حرف عطف کے بغیر بیان ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ صفتیں موصوف میں بیک وقت موجود ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں غنی بھی ہے اور رحمت والا بھی۔ (تدبرِ قرآن)

135۔ یعنی اگر تم اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو اس پر جمے رہو اور مجھے اپنی راہ پر چلنے دو۔ عنقریب ہم سب کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ انجام ہمارابہتر رہایا تمہارا۔بہرحال یہ بات تو یقینی ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔یہاں ظلم سے مرادشرک ہے جیساکہ سیدنا لقمانؑ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ"بیٹے!کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔"اور یہاں ظلم سے شرک اس لیے مراد لیاگیاہے کہ آئندہ مشرکوں کے بعض افعال و رسومات کا ذکر کیا جارہاہے۔(تیسیر القرآن)

136۔ ان توہمات کی اصل جڑ کیا تھی، اس کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ جہلائے عرب اپنے مال میں سے جو حصہ خدا کے لیے نکالتے تھے، وہ فقیروں، مسکینوں، مسافروں اور یتیموں وغیرہ کی مدد میں صرف کیا جاتا تھا، اور جو حصہ شریکوں کی نذر و نیاز کے لیے نکالتے تھے وہ یا تو براہ راست مذہبی طبقوں کے پیٹ میں جاتا تھا یا آستانوں پر چڑھاوے کی صورت میں پیش کیا جاتا اور اس طرح بالواسطہ مجاوروں اور پوجاریوں تک پہنچ جاتا تھا۔ اسی لیے ان خود غرض مذہبی پیشواؤں نے صدیوں کی مسلسل تلقین سے ان جاہلوں کے دل میں یہ بات بٹھائی تھی کہ خدا کے حصہ میں کمی ہوجائے تو کچھ مضائقہ نہیں، مگر ”خدا کے پیاروں“ کے حصہ میں کمی نہ ہونی چاہیے بلکہ حتی الامکان کچھ بیشی ہی ہوتی رہے تو بہتر ہے۔ (تفہیم القرآن)

137۔ قتل اولاد کی تین وجوہ:۔دورجاہلیت میں اولاد کو تین وجوہ سے قتل کیا جاتاتھا۔(1)بیٹیوں کو اس عارکی وجہ سے زندہ درگور کرتے تھے کہ کوئی نہ کوئی ان کا داماد بنے گا جس کے آگے ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور اس لیے بھی اگر وہ کسی دوسرے قبیلے میں چلی گئی یا بیاہی گئی تو کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوجائیں گے کیونکہ ان میں رائج قبائلی نظام عصبیت کے سہارے چلتا اور جھگڑوں اور جنگوں پر ختم ہوتاتھا۔(2)اللہ پر عدم توکل:بعض لوگ اپنی اولاد کو خواہ بیٹا ہویا بیٹی ،اس لیے مارڈالتے تھے کہ ان کا خرچ برداشت نہ کرسکیں گے یا اپنا معیار زندگی برقرار نہ رکھ سکیں گے اور اس جرم میں آج کی دنیا کا تقریباً پورامعاشرہ شریک ہے جو خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر برتھ کنڑول ،اسقاط حمل اور عورتوں اور مردوں کو بانجھ بنانے کے طریقے دریافت کرکے اس جرم کا علانیہ ارتکاب کررہے ہیں اور یہ کام حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتے ہیں اور اس فعل کو بہت مستحسن قراردیا گیاہے۔(3)بتوں کے نام پر منت۔یعنی اگر میرے ہاں اتنے بیٹے پیدا ہوں تو میں ایک بیٹا فلاں بت کے حضور قربان کروں گا جیساکہ آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے بھی یہ منت مانی تھی کہ اگر میرے ہاں بارہ بیٹے پیداہوئے تو ایک بیٹے کی قربانی دوں گا۔پھر اس منت کا قرعہ آپؐ کے باپ عبداللہ کے نام نکلتاتھا جو بلآخر سواونٹوں کی دیت کے مقابل ٹھہرا    ۔یا مثلاً یہ کہ اگر میرافلاں کام ہوگیا تو میں ایک بیٹا یا بیٹی فلاں بت کے حضور قربانی دوں گا۔۔۔ہلاکت سے مراد دونوں طرح کی ہلاکت ہے اخلاقی بھی اور تمدنی بھی۔اخلاقی اس لحاظ سے کہ قتل بذات خود ایسا شدید ترین جرم ہے جو انسان میں شقاوت اور سنگدلی پیدا کرتاہے جس سے وہ مزید قتل پر دلیر ہوجاتاہے اور قتل اولاد تو عام قتل سے بھی بڑا جرم ہوا۔یہ اسی کا اثر تھاکہ قبائلی عرب میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اگر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوتاتو فوراً قتل و غارت شروع ہوجاتی۔۔۔اور تمدنی ہلاکت اس لحاظ سے کہ جو قوم اس طرح اپنی اولاد کو ختم کرنا شروع کردے وہ اس دنیا میں کب تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔۔۔ مشرکین مکہ کی بعض اچھی صفات:۔ مشرکین مکہ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیمؑ کا پیروکار قراردیتے تھے۔پھر ان میں کچھ اچھی باتیں  موجود تھیں مثلاً عبادات میں بیت اللہ کا طواف ،صفا و مروہ کی سعی اور حج کی عبادات بجالانا اگرچہ ان میں بھی کئی غلط رسوم اور عقائد شامل ہوچکے تھے اور اخلاقیات اور معاملات میں مہمان نوازی،عہدکی پابندی اور صدق مقال ،جھوٹ سے اجتناب،کسی کو امان دینا تو پھر اسے پوری ذمہ داری سے نبھانا وغیرہ وغیرہ ۔لیکن دورنبویؐ تک ان کا مذہب شرک و بدعات کے ملغوبہ میں دب کر رہ گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صحف ابراہیم محفوظ نہیں رہے تھے اور یہ معلوم کرنے کا کوئی معیار نہ تھا کہ فلاں کام یا فلاں رسم کب شروع ہوئی اور اس کا کوئی شرعی جواز ہے یا نہیں۔دوسری وجہ امتداد زمانہ ہے یعنی سیدنا ابراہیمؑ سے لے کر آپؐ کی بعثت تک تین ہزار سال کی مدت ۔اس دوران بے شمار شرک و بدعات کے موجد پیدا ہوتے رہے اور اپنی اختراعات اس دین میں شامل کرتے رہے اور کوئی حقیقی معیار موجود نہ ہونے کی وجہ سے قوم انہیں دین کا جزو سمجھتی اور اس پر عمل پیرا ہوتی رہی۔(تیسیر القرآن)

- (چناچہ یہ احمق مشرکین ان دیوتاؤں کو خوش کرنے کیلئے دھڑادھڑ اپنی اولاد کو موت کے گھاٹ اتارتے جاتے ہیں)مفسرین کا خیال آیت کے الفاظ سے عرب جاہلی کی رسم دختر کشی کی طرف گیا ہے،یہ بھی ممکن ہے لیکن زیادہ لگتی ہوئی بات یہ ہے کہ اس مقام پر اشارہ دختر کشی کی جانب نہیں، بلکہ عام اولاد کشی کی جانب ہے۔غریب مفسرین کو کیا خبر کہ بڑی بڑی "مہذب و شائستہ"لیکن جاہلی و مشرک قوموں میں کیسی کیسی ظالمانہ و وحشیانہ رسمیں موجود رہ چکی ہیں۔اولاد کو دیوتاؤں کے استھانوں پر بے تکلف بھینٹ چڑھادینے کا دستور سامی قوموں میں عام رہاہے ،اور خود ہندوستان میں مدتوں یہ رسم رہی ہے کہ بچوں کو گنگامائی کی موجوں کے آغوش میں ڈال دیا جاتاتھا کہ گھڑیال اور مگرمچھ انہیں نگل لیں،اور ان آبی درندوں میں اُلوہیت کی شان پیدا ہوجائے! ۔(تفسیر ماجدی)

138۔ مشرکوں کی اپنی وضع کردہ شریعت:۔ ان مشرکوں کی مشرکانہ رسوم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کے بزرگوں نے آہستہ آہستہ پوری شریعت ہی وضع کرڈالی تھی جن میں سے چند مزید امور کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہیں۔(1)ان مشرکوں کے ہاں یہ دستورتھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں حضرت کیلئے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہرایک  نہیں کھاسکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنارکھی تھی کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھاسکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔(2)جن مویشیوں کو بتوں یا درباروں کی نذر کیا جاتاان پر عام لوگوں اور اصل مالک کا بھی سواری کرنا حرام تھا ۔ حتیٰ کہ حج کے سفر میں بھی اس پر سوار ہونا ممنوع تھا۔ کیونکہ اس وقت انہیں "لبیک اللھم لبیک"کہنا پڑتاتھا۔(3)ان نذرکردہ جانوروں سے صرف دربار کے مجاوراور بتوں کے پروہت ہی فائدہ اٹھاسکتے تھے۔مگراب ان پر اللہ کا نام لینا ممنوع تھا کیونکہ وہ معبودان باطل کیلئے وقف ہوچکے تھے۔دودھ دوہتے وقت ،سواری کرتے وقت،ذبح کرتے وقت اور کھاتے وقت غرض کسی وقت بھی ان پر اب اللہ کا نام لینا ممنوع تھا۔تاکہ اس معبود کی نذرونیاز میں اللہ کی شراکت نہ ہونے پائے۔(4)جومویشی بتوں یا آستانوں کے نام وقف ہوچکے مثلاًبحیرہ ،سائبہ وغیرہ وغیرہ ان میں ماداؤں کو ذبح کرنے کے بعد اگر ان کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اس کا گوشت صرف مردہی کھاسکتے ہیں عورتیں نہیں کھاسکتیں۔ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہویا پیداہوتے ہی مرجائے تو اس میں عورتیں بھی شریک ہوسکتی ہیں اور ایسی یا اس سے ملتی جلتی رسوم ہمارے ہاں بھی رائج ہیں مثلاً بی بی صاحبہ کی صحنک جسے صرف سہاگن عورتیں ہی کھاسکتی ہیں۔مرد اور بیوہ عورتیں نہیں کھاسکتیں ۔یہ سب کفر و شرک کی باتیں ہیں۔(تیسیر القرآن)

ـــــ یعنی ان جانوروں پر سواری کرنا ان من گھڑت فتووں کی روسے ناجائز ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


سترھواں رکوع

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ   141 . اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
 وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ   142 اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
 ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ   143 (یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ)۔ (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے۔ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔
وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠   ۧ ۧ  144 اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو۔ بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر آیات

141۔ زکوٰۃ  اللہ کابندوں پر حق ہے: ۔ ۔۔بارانی زمین سے زکوٰۃ پیداوار کا دسواں حصہ ہوگی اور آبپاشی والی زمین سے پیداوار کا بیسواں حصہ۔۔۔پیداوار کی زکوٰۃ کے متعلق مسائل اور احادیث ۔ یہ زرعی زکوٰۃ میں سال گزرنے کی شرط نہیں ہوتی ۔بلکہ جب فصل کاٹی جائےیا پھل توڑاجائے ۔اسی وقت زکوٰۃ واجب ہوگی جیساکہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔۔۔غلہ کی پیداوار اگر پانچ وسق یا900 کلوگرام سے کم پیدا ہوتو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی۔۔۔"پانچ وسق کھجور سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ چاندی ساڑھے باون تولہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔"(بخاری،کتاب الزکوٰۃ۔باب لیس فی مادون خمس ذود صدقہ)۔۔۔مگر دورفاروقی میں جب ایران فتح ہوا جہاں گھوڑے بکثرت پائے جاتے تھے تو سیدنا عمرؓ نے گھوڑوں پر زکوٰۃ عائد کردی اور انہیں گائے کے مثل قراردیا۔۔۔ایسی سبزیاں اور ترکاریاں جو جلد خراب نہیں ہوتیں مثلاً آلو، لہسن،ادرک،پیٹھا وغیرہ ان پر زرعی زکوٰۃ واجب ہوگی اور   جوجلد خراب ہوجانے والی ہیں مثلاً کدو، ٹینڈا،کریلے، توریاں وغیرہ ان پر زرعی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی بلکہ سال کے بعد ان کے منافع پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی یعنی اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ۔۔۔حد نصاب پانچ وسق یا 948 کلوگرام کا اطلاق صرف اس غلہ پر ہوگا جو عموماً اس ملک میں روزمرہ خوراک کا حصہ ہو اور کثیر مقدار میں پیدا کیا جاتاہو۔جیسے ہمارے ملک میں چاول ،گندم اور چنے وغیرہ اور جو غلہ اس ملک کی خوراک کا حصہ نہ ہوا ور کم پیداہوتاہویا کیا جاتاہو۔جیسے ہمارے ہاں جوار،باجرہ اور مکئی وغیرہ۔ان میں حد نصاب شرط نہیں۔جیسے دورنبوی میں کھجور اور منقیٰ بطور خوراک استعمال ہوتے تھے تو آپؐ نے ان چیزوں کو محل نصاب قراردیا مگر ہمارے یہاں کوئی بھی پھل بطور خوراک استعمال نہیں ہوتا لہذا ان پر حد نصاب شرط نہ ہوگی۔(تیسیر القرآن)

ــــ پھلوں اور غلوں کے احکام یعنی جو غلے اور پھل حق تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان کے کھانے سے بدون سند کے مت رکو ہاں دوباتوں کا خیال رکھو ،ایک یہ کہ کاٹنے اور اتارنے کے ساتھ ہی جو اللہ کا حق اس میں ہے وہ اداکردو۔دوسرے فضول اور بے موقع خرچ مت کرو۔اللہ کے حق سے یہاں کیا مراد ہے ،اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ ابن کثیر کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابتداً  مکہ معظمہ میں کھیتی اور باغ کی پیدا وارمیں سے کچھ حصہ نکالنا واجب تھا جو مساکین و فقراء پر صرف کیا جائے۔مدینہ طیبہ پہنچ کر 2 سن ہجری میں اس کی مقدار وغیرہ کی تعیین و تفصیل کردی گئی۔یعنی بارانی زمین کی پیدا وارمیں بشرطیکہ خراجی نہ ہو دسواں حصہ اور جس میں پانی دیا جائے بیسواں حصہ واجب ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔ کیونکہ ان کے نزدیک وجوب زکوٰة کا اصل حکم مکہ میں نازل ہوچکا تھا، سورة مزمل کی آیات زکوٰة کے حکم پر مشتمل ہے، جو بالاتفاق مکی ہے، البتہ مقدار زکوٰة اور نصاب کا تعیّن وغیرہ ہجرت کے بعد ہوا۔۔۔۔۔ قانون زکوٰة میں شریعت اسلام نے ہر قسم کی زکوٰة میں اس بات کو بنیادی اصول کے طور پر استعمال کیا ہے کہ جس پیداوار میں محنت اور خرچ کسی پیداوار پر بڑھتا جاتا ہے اتنی ہی زکوٰة کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے، مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ اگر کسی کو کوئی قدیم خزانہ مل جائے، یا سونے چاندی وغیرہ کی کان نکل آئے تو اس کا پانچواں حصہ بطور زکوٰة کے اس کے ذمہ لازم ہے، کیونکہ محنت اور خرچ کم اور پیداوار زیادہ ہے، اس کے بعد بارانی زمین کا نمبر ہے، جس میں محنت اور خرچ کم سے کم ہے اس کی زکوٰة پانچویں حصہ سے آدھی یعنی دسواں حصہ کردیا گیا، اس کے بعد وہ زمین ہے جس کو کنویں سے یا نہری پانی خرید کر اس سے سیراب کیا جاتا ہے، اس میں محنت اور خرچ بڑھ گیا تو زکوٰة اس سے بھی آدھی کردی گئی، یعنی بیسواں حصہ، اس کے بعد عام نقد سونا یا چاندی اور مال تجارت ہے، جن کے حاصل کرنے اور بڑھانے پر خرچ بھی کافی ہوتا ہے اور محنت بھی زیادہ، اس لئے اس کی زکوٰة اس کی آدھی یعنی چالیسواں حصہ کردیا گیا۔ (معارف القرآن)

142۔بوجھ اٹھانیوالے جیسے اُونٹ وغیرہ اور زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قدوقامت کے جانور جیسے بھیڑ بکری۔(تفسیر عثمانی)

۔ اصل میں لفظ فَرْش استعمال ہوا ہے۔ جانوروں کو فرش کہنا یا تو اس رعایت سے ہے کہ وہ چھوٹے قد کے ہیں اور زمین سے لگے ہوئے چلتے ہیں۔ یا اس رعایت سے کہ وہ ذبح کے لیے زمین پر لٹائے جاتے ہیں، یا اس رعایت سے کہ ان کی کھالوں اور ان کے بالوں سے فرش بنائے جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

144- یہ سوال اس تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ ان پر خود اپنے ان توہمات کی غیر معقولیت واضح ہوجائے۔ (تفہیم القرآن)


اٹھارواں رکوع

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 145 کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔
 وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ  146 اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں۔
 فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ 147 . اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔
سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ  148 جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے۔ کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کےتیر چلاتے ہو۔
قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ 149 کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔
 قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠   ۧ ۧ  150 کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

تفسیر آیات

145۔ بنیادی طور پر کونسی اشیاء حرام ہیں؟ یہی مضمون سورہ بقرہ کی آیت نمبر 173 اور سورہ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں گزرچکاہے۔ان سب مقامات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ بنیادی طور پرچار ہی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔(1)مردار(2)خون(3)خنزیر کا گوشت اور(4)ہروہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کردی جائے۔اس آیت میں یہ وضاحت مزید ہے کہ خون سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کرتے وقت جانورکے جسم سے نکل جاتاہے اور اگر کچھ تھوڑا بہت جسم میں رہ جائے تو وہ حرام نہیں اور سورہ مائدہ کی آیت نمبر3 میں مردار کی بھی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں یعنی خواہ وہ مردار گلا گھٹ کر مراہویا چھڑی کی ضرب سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مراہو۔کچھ جانوروں اور پرندوں کی حرمت سنت نبویؐ سے ثابت ہے۔(تیسیرالقرآن)

146۔ یہودیوں پر احکام میں سختی کی سزا۔ یعنی اصلی حرمت تو ان چیزوں میں ہے جو اوپر مذکور ہوئیں ،البتہ وقتی مصلحت سے بعض چیزیں عارضی طورپربعض اقوام پر پہلے حرام کی جاچکی ہیں۔مثلاً یہود پر ان کی شرارتوں کی سزامیں ہر ناخن (کھر)والا جانور جس کی انگلیاں پھٹی نہ ہوں جیسے اونٹ ،شتر مرغ،بطخ وغیر ہ حرام کیا گیا تھا۔نیز گائے بکری کی جو چربی پشت یا انتڑیوں پر نہ لگی ہویاہڈی کے ساتھ نہ ملی ہو،ان پر حرام کردی گئی تھی۔ جیسے گردہ کی چربی ۔۔۔۔(تفسیر عثمانی)

۔ر ہا یہ سوال کہ پھر ان چیزوں کے متعلق یہاں اور سورة نساء میں اللہ تعالیٰ نے حَرَّمْنَا (ہم نے حرام کیا) کا لفظ کیوں استعمال کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائی تحریم کی صرف یہی ایک صورت نہیں ہے کہ وہ کسی پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے کسی چیز کو حرام کرے۔ بلکہ اس کی صورت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے باغی بندوں پر بناوٹی شارعوں اور جعلی قانون سازوں کو مسلط کر دے اور وہ ان پر طیبات کو حرام کردیں۔ پہلی قسم کی تحریم خدا کی طرف سے رحمت کے طور پر ہوتی ہے اور یہ دوسری قسم کی تحریم اس کی پھٹکار اور سزا کی حیثیت سے ہوا کرتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

149۔ مشرکین کا استدلال:۔ گذشتہ رکوع میں مشرکین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جن حلال و طیب چیزوں کو تم نے حرام ٹھہرالیا ہے اور اس تحریم کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہو،اس کی سند اوردلیل لاؤ۔یہاں ان کی دلیل بیان کی گئی ہے جو وہ پیش کرنے والے تھے۔یعنی اگر اللہ چاہتا تو اس کو قدرت تھی کہ ہم کو اور ہمارے اسلاف کو اس تحریم سے بلکہ تمام مشرکانہ افعال و اقوال سے روک دیتا۔جب نہ روکا اور یوں ہی ہوتا چلا آیاتو ثابت ہواکہ اس کے نزدیک ہماری یہ کارروائیاں پسندیدہ ہیں۔ ناپسند ہوتیں تو ان کے کرنے میں ہم کو اب تک کیوں آزاد چھوڑتا۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک نیک نام اور مدبر گورنمنٹ کسی باغیانہ تحریک میں حصہ لینے والے کو باوجود یقینی اطلاع اور کافی قدرت کے پہلے ہی دن پکڑکر پھانسی نہیں دیدیتی وہ اس کی حرکات کی نگرانی رکھتی ہے کبھی رویہ درست رکھنے کی ہدایت کرتی ہے اور موقع دیتی ہے کہ آدمی ایسی حرکات کا انجام سوچ کر خود سنبھل جائے۔کبھی اصلاح سے مایوس ہوکر ڈھیل چھوڑتی ہے کہ اس کی بغاوت کاایسا باضابطہ اور مکمل مواد فراہم ہوجائےجس کے بعد اس کی انتہائی مجرمانہ غداری قانونی حیثیت سے  علٰی رؤس الاشہادثابت کی جاسکے۔ ان تمام صورتوں میں مجرم کی باگ ڈھیلی چھوڑدینے اور فوراً سزانہ دینے سے کیا یہ ثابت ہوگا کہ گورنمنٹ کی نظر میں وہ کارروائی جرم وبغاوت نہیں گورنمنٹ کی نگاہ میں ان افعال کا جرم ہونا اول تو اس کے شائع کئے ہوئے قانون سے ظاہر ہے۔ دوسرے جب یہ مجرم مہلت پوری ہونے پر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اور باضابطہ اثبات و اظہار جرم کے بعد پھانسی یا حبس دوام کی سزا بھگتے گا۔تب برأی العین مشاہدہ ہوجائےگا کہ گورنمنٹ کی نظر میں یہ کتنا بڑا جرم تھا۔(تفسیر عثمانی)

۔ یہ ان کے عذر کا مکمل جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے اس کا تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے پہلی بات یہ فرمائی کہ اپنی غلط کاری و گمراہی کے لیے مشیت الہٰی کو معذرت کے طور پر پیش کرنا اور اسے بہانہ بنا کر صحیح رہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کرنا مجرموں کا قدیم شیوہ رہا ہے، اور اس کا انجام یہ ہوا ہے کہ آخر کار وہ تباہ ہوئے اور حق کے خلاف چلنے کا برا نتیجہ انہوں نے دیکھ لیا۔ پھر فرمایا کہ یہ عذر جو تم پیش کررہے ہو یہ دراصل علم حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض گمان اور تخمینہ ہے۔ تم نے محض مشیت کا لفظ کہیں سے سن لیا اور اس پر قیاسات کی ایک عمارت کھڑی کرلی۔ تم نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ انسان کے حق میں فی الواقع اللہ کی مشیت کیا ہے۔ تم مشیت کے معنی یہ سمجھ رہے ہو کہ چور اگر مشیت الہٰی کے تحت چوری کر رہا ہے تو وہ مجرم نہیں ہے، کیونکہ اس نے یہ فعل خدا کی مشیت کے تحت کیا ہے۔ حالانکہ دراصل انسان کے حق میں خدا کی مشیت یہ ہے کہ وہ شکر اور کفر، ہدایت اور ضلالت، اطاعت اور معصیت میں سے جو راہ بھی اپنے لیے منتخب کرے گا، خدا وہی راہ اس کے لیے کھول دے گا، اور پھر غلط یا صحیح، جو کام بھی انسان کرنا چاہے گا، خدا اپنی عالمگیر مصلحتوں کا لحاظ کرتے ہوئے جس حد تک مناسب سمجھے گا اسے اس کام کا اذن اور اس کی توفیق بخش دے گا۔ لہٰذا اگر تم نے اور تمہارے باپ دادا نے مشیت الہٰی کے تحت شرک اور تحریم طیبات کی توفیق پائی تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں  کہ تم لوگ اپنے ان اعمال کے ذمہ دار اور جواب دہ نہیں ہو۔ اپنے غلط انتخاب راہ اور اپنے غلط ارادے اور سعی کے ذمہ دار تو تم خود ہی ہو۔ (تفہیم القرآن)


انیسواں رکوع

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 151 کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے)۔ ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ   152 اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  153 اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے۔ تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠   ۧ 154 (ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں۔

تفسیر آیات

151 تا 153۔ حضرت کعب احبار جو تورات کے ماہر عالم اور یہودی تھے ،پھر مسلمان ہوگئے فرماتے ہیں کہ تورات بسم اللہ کے بعد انہی دس کلمات سے شروع ہوتی ہے ۔(معارف القرآن)

- اھم۔ سورۂ بنی اسرائیل میں دورکوع) نمبر 3 اور 4 (میں سورہ انعام کی آیات 151- 153 بارے زیادہ تفصیل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ سورۂ بنی اسرائیل کے احکام تورات کے احکام عشرہ (10 Commandments )میں ہیں۔اسی لئے اس سورہ کی آیات 151تا 153 کے بعد آیت :154 میں حضرت موسیٰ کا ذکر آیا ہے۔(ڈاکٹر اسرار)

ــــ مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓفرماتے ہیں کہ یہی وہ آیات ِ محکمات ہیں جن کا ذکر سورۂ آل عمران میں آیا ہے کہ جن پر آدم سے لیکر ْخاتم الانبیا تک تمام انبیا کی شریعتیں متفق رہی ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز کسی مذہب و ملت اور کسی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئی ۔حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا ہے کہ یہ آیات رسول اللہ ؐ کا وصیت نامہ ہیں۔۔۔۔۔اور حاکم نے بروایت حضرت عبادہ بن صامت نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ؐ نے صحابہ کرام کو خطاب کرکے فرمایا: "کون ہے جو مجھ سے تین آیتوں پر بیعت کرے" پھر یہی تین آیات تلاوت فرمائیں۔(معارف القرآن)

151۔ یہ اصل  ملت ابراہیمی کا تفصیلی بیان ہے۔کہنا مقصود ہے کہ تم بے سروپا  روایات پر مشتمل چند چیزوں کو ملت ابراہیمی کے تحت حرام سمجھے بیٹھے ہولیکن اس میں خدا اور بندوں کے حقوق و معاملات سے متعلق جو باتیں حرام بتائی گئی ہیں ان کو تم نے اختیار کررکھا ہے ۔آؤ میں تمہیں ان سے باخبر کروں۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)  

ــــ حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت ابودرداء سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ  اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی نہ قرار دو اگرچہ تمہارے ٹکڑے کردئیے جائیں،تمہیں سولی چڑھا دیا جائے یا تمہیں زندہ جلادیا جائے۔(معارف القرآن)

-والدین سے نیک سلوک میں ادب، تعظیم، اطاعت، رضا جوئی، خدمت سب داخل ہیں ۔والدین کے اس حق کو قرآن میں ہر جگہ توحید کے حکم کے بعد بیان فرمایا گیا ہے جس سے صاف  ظاہر ہوتاہے کہ خدا کے بعد بندوں کے حقوق میں سب سے زیادہ مقدم والدین کا حق ہے۔۔۔ ۔ ۔اصل میں "فواحش" استعمال ہواہے جس کا اطلاق ان تمام افعال پرہوتاہے جن کی برائی بالکل واضح ہے۔قرآن میں زنا ،عمل قوم لوط، برہنگی ،جھوٹی تہمت، اور باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنے کو فحش افعال میں شمار کیا گیا ہے۔حدیث میں چوری، شراب نوشی، اور بھیک مانگنے کو من جملہ فواحش کہا گیا ہے۔ارشادِ الٰہی ہے کہ اس قسم کے افعال نہ علانیہ کئے جائیں نہ چھپ کر۔۔۔۔- اللہ کے عہد سے مراد  وہ عہد بھی ہے جو انسان خدا سے کرلے ،اوروہ  بھی جو اللہ کا نام لیکر بندوں کے ساتھ کرلےاور وہ بھی جوانسان اور خدا، انسان اور انسان کے درمیان اسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتاہےجس وقت ایک شخص خدا کی زمین میں ایک انسانی سوسائٹی کے اندر پیدا ہوتاہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ افسروں اور ملازموں اور مزدوروں کا اپنی مقررہ ڈیوٹی اور خدمت میں کوتاہی کرنا بھی ناپ تول میں کمی کرنے کے حکم میں ہے۔(معارف القرآن)

ــــ  والدین سےبہتر سلوک:۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کے فوراً بعد والدین سے بہتر سلوک کا ذکر آیا ہے اس مقام پر بھی ،سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 23 میں بھی اور سورہ لقمان کی آیت نمبر 14 میں بھی۔وجہ یہ ہے کہ انسان کا حقیقتاً   تربیت کنندہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے انسانی جسم کی ضروریات پیداکیں۔ہوا اور پانی پیدا فرمایا پھر انسان کی تمام ترغذائی ضروریات کو زمین سے متعلق کردیا۔پھر اس کے بعد ظاہراً انسان کی تربیت کے ذمہ دار اس کے والدین ہی ہوتے ہیں۔ نیز رسول اللہؐ نے والدین کی نافرمانی یا انہیں ستانے کو بڑے بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پرشمار کیا ہے(بخاری ۔کتاب الادب۔باب عقوق الوالدین من الکبائر)والدین سے بہتر سلوک کیلئے  دیکھئے (سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر23،24 کے حواشی نمبر 25 تا 28)۔۔۔اگر انسانی پیدائش اور وسائل پیداوار کی یہی صورتحال رہی تو برطانیہ پچاس سال کے اندر اندر افلاس کا شکار ہوجائے گا۔اور اس کا علاج یہ تجویز کیا کہ انسانی پیدائش پر کنٹرول کیا جانا چاہیے۔۔۔برطانیہ میں صنعتی انقلاب آگیا جس کے آغاز کا ذکر مالتھس نے خود بھی کیا ہےاوریہی وہ سبب تھا جو مالتھس کی نظروں سے اوجھل تھا مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا چنانچہ بعد میں آنے والے معیشت دانوں نے مالتھس کو "جھوٹا پیشین گو"کے نام سے یاد کیا ۔کیونکہ برطانیہ اس صنعتی انقلاب کی وجہ سے بھی زیادہ خوشحال ہوگیا۔۔۔مالتھس کا یہ سراسر مادی نظریہ ایک اور قباحت کو بھی اپنے ساتھ لایا اور یہ قباحت فحاشی اور بدکاری کی لعنت تھی جس کا اس آیت میں متصلاً ذکر ہواہے۔مالتھس کے نزدیک برتھ کنٹرول یعنی حمل کو ادویات کے ذریعہ ضائع کردینے کا عمل وقت کی بہت بڑی ضرورت تھی۔یہی بات عیاشی، فحاشی اور بدکاری کا بہت بڑا سبب بن گئی ۔مالتھس کے بعد ایک تحریک اٹھی جس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ نفس کی خواہش یعنی شہوانی خواہش کو آزاد ی کے ساتھ پورا کیا جائے۔ مگراس کے فطری نتیجہ یعنی اولاد کی پیدائش کو سائنٹفک ذرائع سے روک دیا جائے۔۔۔پاکستان جب بناتھا تو اسوقت اس کی آبادی پانچ اور چھ کروڑ کے درمیان تھی اور آج 51 سال بعد تیرہ کروڑ یعنی دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔اب ہر شخص اپنے ہی حالات پر نظر کرکے دیکھ لے کہ پاکستان بننے کے وقت اس کی معاشی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے؟آج ہر شخص اس وقت کی نسبت سے بہت زیادہ خوشحال ہے۔۔۔قتل بالحق کی صورتیںقرآن کی روسے تین صورتوں میں قتل کرنا برحق اور جائز ہے۔(1)قتل عمدکے قصاص کی صورت میں(2)میدان میں کفارکا قتل(3)بغاوت یعنی دیار اسلام میں بدامنی پھیلانے والے اور اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے والے کا قتل اور سنت کی روسے دوصورتیں ہیں(i)شادی شدہ جوزناکرےاور(ii)جوشخص ارتداد کا مرتکب ہو یعنی اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے۔یہ کل پانچ صورتیں ہوئیں۔ان کے علاوہ کسی بھی صورت میں کسی کو قتل کرنا قتل ناحق کہلاتاہے۔اور اس گناہ کو رسول اللہؐ نے سات بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے۔(بخاری۔کتاب المحاربین۔باب رمی المحصنات)۔(تیسیر القرآن)

-مثلاً جہاد میں ،قصاص میں، رجم میں۔ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ۔اور وہ جس کو اللہ کے قانون نے محفوظ کررکھاہے،وہ ہر انسانی جان ہے،تاوقتیکہ وہ کسی جرم شرعی میں واجب القتل نہ قرار پاجائے۔۔۔(اور ان ہدایات پر عمل کرو)قرآن مجید میں یوں تو متعدد آیات ایسی ملتی ہیں، جو تہذیب فرنگ کی پھیلائی ہوئی فضائے حاضر پر خاص طور سے چسپاں ہیں لیکن یہ آیت ان خاص آیتوں میں بھی اخص ہے،آیت کے ایک ایک جزء کو لے کر خوب غور سے دیکھئے:۔(1) ممانعت شرک۔ آج کے "روشن خیال "کتنے مختلف قسموں کے شرک میں مبتلا رہتے ہیں،ان کی تہذیب اور ان کے علوم کی بنیاد ہی ترک توحید پر ہے۔(2)تعظیم والدین۔ اخلاقیات ِ جدید میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی دفعہ ہی نہیں۔(3)اولاد کشی سے ممانعت ۔"منع حمل"،"ضبط تولید"،"خاندانی منصوبہ بندی"وغیرہ تو تمدن ِ جدید کے خاص مفاخر میں سے ہیں وہ بھی معاشْیات کا نقاب منہ پر ڈالے ہوئے ،بلکہ اب تو اس فہرست میں جواز اسقاطِ حمل کا بھی اضافہ ہورہاہے۔(4)منع فواحش۔ تمدن جدید کی تو ساری رونق ہی علانیہ و مخفی فواحش کی گرم بازاری سے ہے۔(5)انسانی زندگی کا احترام۔ اس ہدایت پر کہیں عمل ہوتا تو جنگ چین و جاپان ،جنگ جرمنی و فرانس، جنگِ جرمنی و برطانیہ ، جنگ جرمنی و روس،جنگ جاپان و امریکہ وغیرہ ہا کا وجود ہی سرے سے نہ ہواہوتا،اور دنیا کو ناقابل پیمائش مصیبتوں سے نجات مل گئی ہوتی۔کاش اب بھی ہماری آنکھیں کھلیں ،اور دنیا کی سمجھ میں آئے کہ قرآن نسخۂ شفاء صرف چھٹی اور ساتویں صدی مسیحی کے عرب کیلئے نہیں ،بلکہ بیسیویں صدی اور اکیسویں صدی اور ہر مابعد صدی کی کل دنیا کیلئے ہے۔۔۔ذلکم۔یعنی یہی اوپر کے محرمات ۔کم خطاب کاہے۔(تفسیر ماجدی)

- مفلسی کے ڈر سےاولاد کا قتل۔عرب مفلسی کی وجہ سے بعض اوقات اولاد کو قتل کردیتے تھے کہ خود ہی کھانے کو نہیں اولاد کو کہاں سے کھلائیں ۔اسی لئے فرمایا کہ رزق دینے والا تو خدا ہے تم کو بھی اور تمہاری اولاد کو بھی۔دوسری جگہ بجائے من املاق کے خشیۃ املاق فرمایا ہے یعنی مفلسی کے ڈرسے قتل کرڈالتے تھے۔یہ ان کا ذکر ہوگا جو فی الحال مفلس نہیں مگر ڈرتے ہیں کہ جب عیال زیادہ ہونگی تو کہاں سے کھلائیں گے۔چونکہ پہلے طبقہ کو عیال سے پہلے اپنی روٹی کی فکر ستارہی تھی اور دوسرے کو زیادہ عیال کی فکر نے پریشان کررکھا تھا، شاید اسی لئے یہاں املاق کے ساتھ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ اور اس آیۃ میں خشیۃ املاق کے ساتھ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ارشاد فرما یا۔۔۔۔حرام کاموں کی تفصیل ۔اس آیت سے ان چیزوں کا حرام ہونا ثابت ہوا ۔(1)شرک باللہ(2)والدین کے ساتھ بدسلوکی (3)قتل اولاد(4)سب بے حیائی کے کام مثلاً زناوغیرہ(5)کسی شخص کو ناحق قتل کرنا۔(تفسیر عثمانی)

152۔ یتیم کا مال کھانا: ۔۔۔۔۔آپؐ نے اس گناہ کو سات بڑے بڑے ہلاک کردینے والے گناہوں میں سے پانچویں نمبر پر شمار کیاہے۔جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا"سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔"صحابہ نے پوچھا۔"یارسول اللہ!وہ کون کون سے ہیں؟"فرمایا"اللہ سے شرک کرنا، جادو،ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے،سود،یتیم کا مال کھانا،میدان جنگ سے بھاگنا اور بھولی بھالی پاکباز مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔"(بخاری ۔کتاب المحاربین۔باب رمی المحصنات)۔۔۔عہد کو بہرحال پورا کرنا فرض ہے خواہ یہ عہد انسان نے اللہ سے کیا ہو جیسے کوئی نذر یا منت ماننا یا اللہ کا نام لے کر دوسروں سے کیا ہو اور اس میں عقد نکاح اور بیوع بھی شامل ہیں۔یاوہ عہد جسے عہد الست کہا جاتاہے۔اور وہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔۔۔واضح رہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو کوہ طورپر لکھی لکھائی تختیاں دی گئیں۔ان میں دس احکام مذکور تھے جنہیں احکام عشرہ کہتے ہیں۔یہ احکام بعد میں تورات میں شامل کردئیے گئے۔ان دس احکام میں سے ایک حکم سبت کے دن کی تعظیم تھا۔اگر اسے نکال دیا جائے تو باقی یہی نو احکام رہ جاتے ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔یہود کو بالخصوص تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہارے لیے جو بنیادی احکام تھے ان میں ایک ایک حکم کی تم نے خلاف ورزی کی اور اس کی دھجیاں اڑادیں اور ان کے بجائے ایسے کاموں میں لگ گئے ہو جن کا تمہاری کتاب میں کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔(تیسیر القرآن)

- کون سا سن پختگی کا کہلائےگا؟ فقہاء اس باب میں مختلف ہیں، امام ابوحنیفہ سے 25 کا سن منقول ہے۔(تفسیر ماجدی)

153۔اللہ کے عہد کو پورا کرنا :۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ نواں حکم شمار میں تو نواں حکم ہے مگر تمام احکامِ شرعیہ ،واجبات اور ممنوعات سب پر حاوی ہے۔۔۔۔- تیسری آیت میں دسواں حکم مذکور ہے ۔ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا۔۔۔۔۔ ذالِکُم وَصّاکُمْ بِهِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ/ تَذَكَّرُوْنَ/ تَتَّقُونَ ۔پہلے پانچ احکام میں عقل کا استعمال (تعقلون۔ شرک سے بچنا،والدین کی نافرمانی ،قتل اولاد، فواحش،ناحق خون) زمانۂ جاہلیت والے ان چیزوں کو عیب ہی نہ جانتے تھے۔ اگلے چار احکام پر عمل میں غفلت اس لئے خدااور آخرت کی تذکیر (مال ِ یتیم، ناپ تول میں کمی، بات کہنے میں حق وسچ کا لحاظ ، اللہ کے عہد کو پورا کرنا) آخر میں صراط مستقیم(تتقون)(معارف القرآن)

154۔ ۔۔۔اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ آج کل بائیبل میں جو عہدنامہ عتیق پایا جاتاہے اور جسے تورات سے موسوم کیاجاتاہے ۔یہ وہ تورات نہیں جو موسیٰؑ پر نازل کی گئی تھی۔کیونکہ وہ تورات تو دوبار گم ہوئی اور از سرنولکھی جاتی رہی پھر اس میں الحاقی مضامین شامل ہوئے اور تحریف بھی ہوئی ۔اور جو تورات موسیٰؑ پر نازل ہوئی تھی اس میں نیک لوگوں کی ہدایت کیلئے کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔اخلاقی ،تمدنی ،معاشرتی اور معاشی احکام کے ہر لحاظ سے مکمل تھی اور اس کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ اس سے آخرت پر ایمان پختہ ہوتاتھا۔(تیسیر القرآن)

۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد صاحب شریعت اور صاحب کتاب رسول سیدنا موسیٰ ہی ہیں۔۔۔ حضرت موسیٰ کو جو کتاب دی گئی اس میں بھی بنیادی احکام وہی ہیں جو ملت ابراہیم کے باب میں بیان ہوئے ہیں۔ آپ کو سب سے پہلے جو احکام الواح میں لکھ کردیے گئے، احکامِ عشرہ کے نام سے مشہور ہیں۔۔۔۔ اوپر ملت ابراہیم کے جو احکام گنائے گئے ہیں وہ امر و نہی سب ملا کر دس بنتے ہیں۔۔۔۔ اور بعینہ یہی احکام ابتدائی طور پر، جیسا کہ ہم سورة نحل اور سورة بنی اسرائیل میں واضح کریں گے، اس امت کو دیے گئے، گویا اصل دین بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

وَ لَا تَتَّبِعُوا۔۔۔ سَبِیْلِهٖ۔اس میں رد آگیا اس مغالطہ پرور خیال کا کہ ہر مذہب اپنی اپنی جگہ سچاہے اور اسلام بھی انہی مذہبوں جیسا ہے، یہ غلط ،بے محل  اور غیر فطری رواداری مشرکوں ہی کو مبارک رہے،اسلام ایسی خطرناک و مفسد انگیزمصالحت پسندی سے بیزار ہے۔واِنَّ ۔۔۔ السُّبُلَ ۔قرآن مجید کس دعویٰ اور تحدی سے کہتا ہے کہ فلاح اگر مقصود ہے تو سب طرف سے قطع نظر کرکے بس میری ہی پیش کی ہوئی شاہراہ پر چلو۔کاش مسلمان اسے سمجھ لیتے!۔(تفسیر ماجدی)

- صراط مستقیم۔یعنی احکام مذکورہ بالا کی پابندی اور خدا کے عہد کو اعتقاد اً و عملاً پورا کرنا یہ ہی صراط مستقیم (سیدھی راہ)ہے جس کی طلب کی سورۂ فاتحہ میں تلقین کی گئی تھی۔یہ راہ تم کو دکھلا دی گئی اب چلنا تمہارا کام ہے ۔جوکوئی اس کے سوا دوسرے راستہ پر چلا وہ خدا کے راستہ سے بھٹکا۔۔۔۔معلوم ہوتا ہے کہ جو احکام اُوپر قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ سے پڑھ کر سنائے گئے یہ ہمیشہ سے جاری تھے۔۔۔(تفسیر عثمانی)

۔ ثُمَّ ۔اوپر اثبات ِ توحید و ابطال شرک کا مضمون مع فروع کے تھا،اب اس کے ختم ہونے پر نبی و نبوت کا مضمون شروع ہوتاہے ثم اسی اظہار کیلئے ہے(تھانویؒ)یہ بھی کہا گیا ہے کہ ثُمَّ  کے بعد قُل محذوف ہے اور ثُمَّ  کا عطف سابق کے قُلْ تَعَالَوْا پرہے۔(تفسیر ماجدی)


بیسواں رکوع

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ   155 اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے
اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ   156 . (اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے۔
اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ  157 . یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے۔ جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے۔
 هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ  158 یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا)۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ  159 جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔
 مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ  160 اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
 قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ 161 کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
 قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ   162 (یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے۔
 لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ 163 جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ  164 کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کے جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔
 وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ 165 اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

تفسیر آیات

156۔ حنفیہ نے لفظ طائفتین سے یہ استنباط کیا ہے کہ اہل کتاب یہی دوگروہ ہوئے ہیں، ورنہ اگر مجوسی بھی اہل کتاب ہوتے، تو بجائے تثنیہ کے جمع کا صیغہ ہوتا۔(تفسیر ماجدی)

158-ا س کی تفصیل صحیح مسلم میں بروایت حذیفہ ابن اسید ؓ اس طرح نقل کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام علامات قیامت کا تذکرہ آپس میں کر رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو، آفتاب کا جانب مغرب سے نکلنا، اور ایک خاص قسم کا دھواں، اور دابة الارض اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا، دجال کا نکلنا، اور تین جگہوں پر زمین کا دھنس جانا، ایک مشرق میں، ایک مغرب میں، ایک جزیرة العرب میں، اور ایک آگ جو عدن کے قعر سے نکلے گی اور لوگوں کو آگے آگے ہنکا کرلے چلے گی۔۔۔اور مسند احمد میں براویت ابن عمر ؓ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان آیات میں سب سے پہلے مغرب کی طرف سے طلوع آفتاب اور دابة الارض نکلنا واقع ہوگا۔۔۔۔ امام قرطبی رحمة اللہ علیہ نے تذکرہ میں اور حافظ ابن حجر نے شرح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس واقعہ یعنی مغرب سے آفتاب طلوع ہونے کے بعد ایک سو بیس سال تک دنیا قائم رہے گی (روح المعانی) (معارف القرآن)

159۔تفرقہ ڈالنے والوں سے مراد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل دونوں ہی کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اصل ملت ابراہیم کی تعلیم میں بدعتیں پیدا کرکے مختلف پگڈنڈیاں نکال لیں ۔بنی اسماعیل نے شرک و بت پرستی کی راہ اختیار کرلی اور بنی اسرائیل نے یہودیت و عیسائیت کے شاخسانے کھڑے کرلیے۔ اس طرح اصل شاہراہ گم ہوگئی۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــــ اس میں فرقہ سازی اور دین میں بدعات گھڑنے کی مذمت ہے۔ روایت کیا گیا ہے :نبیؐ نے اس آیت (6/159)کی تلاوت کی اور فرمایا:"یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین میں نئی نئی (بدعات) ایجاد کرلی تھیں اور جو خواہشات کا اتباع کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا۔(تفسیر قرطبی)۔( احسن الکلام)

- جس امت نے اللہ کو چھوڑ دیا ،وہ فرقہ فرقہ ہوگئے۔(انوار القرآن)

ــــ تفرقہ بازی کی بنیاد حب جاہ و مال ہوتی ہے:۔فرقہ بازی ایسی لعنت ہے کہ ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیتی ہےاور ایسی قوم کی ساکھ اور وقار دنیا کی نظروں سے گرجاتاہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو عذاب ہی کی ایک قسم بتایا ہےاور دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے وجہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہبی فرقہ کا آغاز کسی بدعی عقیدہ سے یا عمل سے ہوتاہے۔مثلاً کسی نبی یا رسول یا بزرگ اور ولی کو اس کے اصل مقام سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک بنادینا یا کسی کی شان کو بڑھا کر بیان کرنا یا کسی سے بغض و عناد رکھنا وغیرہ یہی وہ غلو فی الدین ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے شدت سے منع فرمایا اور بدعی اعمال کا زیادہ تر تعلق سنت رسول اللہؐ سے ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

- اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ۔یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا، خواہ سب کو چھوڑ دیا ،خود اس کے بعض حصوں کو۔ دِیْنَهُمْ۔مراد وہ دین ہے جس کے وہ مکلف تھے۔ (تفسیر ماجدی)

-۔۔۔"جوباتیں یقین لانے کی ہیں ۔(اصول دین)ان میں فرق نہ چاہئے اور جو کرنے کی ہیں (فروع دین)ان کے طریقے کئی ہوں تو برانہیں۔"(تفسیر عثمانی)

160۔ یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان اور رحمت ہے کہ نیکی کے بدلے میں صرف اتنی ہی نیکی کا اجر نہیں بلکہ اس سے بہت زیادہ اجر و ثواب دیتاہے مگربرائی کا بدلہ اسی قدر ہی دیتاہے جتنی برائی ہو۔اس کی مزید وضاحت   حدیث سے بھی ہوجاتی ہے۔(تیسیر القرآن)

162۔ یہی توحید خالص کا نمونہ ہے جس پر سیدنا ابراہیمؑ عمل پیرا تھے اور جس کا تقاضا یہ تھا کہ میری تمام بدنی عبادات بھی اللہ کیلئے ہیں اور مالی عبادات بھی ۔واضح رہے کہ نُسُك کا معنیٰ گوقربانی ہی کیا جاتاہے مگر اس کے وسیع معنیٰ میں سب مالی عبادات مثلاً صدقہ،خیرات،نذرو نیاز اور منت وغیرہ سب کچھ اس میں آجاتاہے۔پھر جینے کا مقصد ہی شرک کو ختم کرنا اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا ہے تاآنکہ اسی راہ میں مجھے موت آجائے۔(تیسیر القرآن)

163۔ بقول مولانا عثمانی۔ جامع ترمذی کے مطابق ،حضورؐ نے فرمایا کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم ابھی روح و جسد کی درمیانی منزلیں  طے کررہے تھے۔اگر آپ اول الانبیا ہیں تو اول المسلمین ہونے میں کیا شبہ  ہوسکتاہے۔(ضیاء القرآن)

164۔ کفار مسلمانوں سے توحید و غیرہ میں جھگڑتے اور کہتے تھے کہ تم توحید کی راہ چھوڑ کرہمارے راستے پر آجاؤ ۔اگر اس میں کوئی گناہ ہواتووہ  ہمارے سر ۔(تفسیر عثمانی)

۔اور ایک میّت کے جنازہ پر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کسی کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ زندوں کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے، ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ قول حضرت عائشہ ؓ کے سامنے نقل کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص کا یہ قول نقل کر رہے ہو جو نہ کبھی جھوٹ بولتا ہے اور نہ ان کی ثقاہت میں کوئی شبہ کیا جاسکتا ہے، مگر کبھی سننے میں بھی غلطی ہوجاتی ہے، اس معاملہ میں تو قرآن کا ناطق فیصلہ تمہارے لئے کافی ہے(آیت) وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي، ”یعنی ایک کا گناہ دوسرے پر نہیں پڑ سکتا، تو کسی زندہ آدمی کے رونے سے مردہ بےقصور کس طرح عذاب میں ہوسکتا ہے (درمنثور) (معارف القرآن)

165۔۔۔۔ چنانچہ شکل و  صورت ،رنگت ،لہجہ ،اخلاق و ملکات ،محاسن و مساوی ،رزق ،دولت ،عزت و غیرہ میں افراد انسانی کے بے شمار درجات ہیں ۔۔۔۔۔ یعنی ظاہر ہوجائے کہ ان حالات میں کون شخص کہاں تک خدا کا حکم مانتا ہے۔ابن کثیر نے فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ سے وہ مختلف احوال ودرجات مرادلئے ہیں جن میں حسب استعداد و لیاقت ان کو رکھا گیاہے۔اس تقدیر پر آزمائش کا حاصل یہ ہوگا کہ مثلاً غنی حالت غناء میں رہ کر کہاں تک شکر کرتاہے اور فقیر حالت فقر میں کس حد تک صبر کا ثبوت دیتاہے وقس علیٰ ہذا۔ بہرحال اس آزمائش میں جو بالکل نالائق ثابت ہوا۔ حق تعالیٰ اس کے حق میں سریع العقاب اور جس سے قدرے کوتاہی رہ گئی اس کے حق میں غفور اور جو پورا اُترا اس کیلئے رحیم ہے۔(تفسیر عثمانی)