60 - سورة الممتحنة (مدنیہ)

رکوع - 2 آیات - 13

مضمون: مہاجرین کو مشرکیںِ مکہ سے قطع ِ تعلق کی ہدایت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: اسلامی ریاست کی شہریت اور خارجہ پالیسی کی وضاحت اور سچے مؤمنین اور مہاجرین کی طرح منافقین کو بھی اسلامی ریاست کا وفادار  رہنے اور کافرحکومتوں سے راہ و رسم بند کرنے کی ہدایت۔

نام:آیت نمبر 15 میں حکم دیا گیا ہےکہ جو عورتیں ہجرت کرکے مدینہ آئیں ،از راہ احتیاط ان کا امتحان کرلیا جائے کہ وہ واقعی اخلاص کے ساتھ آئی ہیں۔ اگر ایسا ہوتو پھر انہیں اپنے ہاں پناہ دے دی جائے اور کافروں کے سپرد نہ کیا جائے۔

شانِ نزول: یہ سورت صلح حدیبیہ (ذوالقعدہ6ھ)اور فتح مکہ (رمضان 8ھ)کے درمیان نازل ہوئی ۔اغلب یہ ہے کہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد سات ہجری میں نازل ہوئی ہو جب عورتیں مدینہ آرہی تھیں اور ان کے مہر کے مسائل پیدا ہورہے تھے۔

نظم کلام:سورۂ ق

ترتیب مطالعۂ و اہم مضامین: (i) ر۔1(دین اسلام سے برسرپیکار کفارسے مقاطعہ )(ii)ر۔2(کفار اور مہاجرعورتوں کے متعلق احکام)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ ﴿1﴾ اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ ﴿2﴾ لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿3﴾ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ ﴿4﴾ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿5﴾ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ ﴿6ع الممتحنة 60﴾
1. مومنو! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم تو ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلاوطن کرتے ہیں۔ تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علیٰ الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ 2. اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔ 3. قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے۔ 4. تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہوسکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ ہاں ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے۔ 5. اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے۔ 6. تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے۔

تفسیر آیات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ اس خطاب  کے معاً بعد ذکر بعض مسلمانوں کے ایک گناہِ کبیرہ کا یعنی دشمن سے مکاتبت و مراسلت کا آرہاہے،لیکن اس ارتکابِ کبیرہ کے بعد مومن مومن ہی رہا،دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوگیا۔۔۔۔۔اور یہیں سے اہل سنت کو خوارج کے مقابلے میں یہ دلیل ہاتھ آئی کہ مومن کبیرہ کے بعد بھی مومن ہی رہتاہے۔۔۔۔۔حاطب ابن ابی بلتعہ یمنی ثم مکّی ایک بڑے صحابی تھے،بدری مرتبے کے۔۔۔۔حضرت حاطبؓ پر صحابی اور پھر بدری صحابی ہونے کے باوجود جو اتنی سخت گرفت ہوئی،اس سے ظاہر ہے کہ شریعتِ اسلامی میں دشمن حربی سے خط و کتابت رکھنا یا تعلقات قائم رکھنا کس درجہ شدید جرم ہے!(تفسیر ماجدی)

4۔ باپ کے حق میں دعائے مغفرت پھر رجوع:۔  آپ لوگوں کے لیے سیدنا ابراہیمؑ کی سب باتیں قابل تقلید ہیں مگر یہ بات قابل تقلید نہیں جو انہوں نے اپنے مشرک باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعاکی تھی۔ہوایہ تھا کہ جب باپ نے سیدنا ابراہیمؑ کو اپنے گھر سے نکال دیا تھا تو اس وقت سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے دعائے مغفرت کا وعدہ کیا تھا۔(16: 147) اسی وعدہ کو پورا کرنے کی غرض سے آپ نے دوبار اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کی بھی تھی۔پہلی بارکی دعا  کا ذکر سورۂ ابراہیم کی آیت نمبر 41 میں ہے اور دوسری بار کی دعا کا ذکر سورۂ الشعراء کی آیت نمبر 86 میں  ہے۔ پھر جب آپ کو پوری طرح معلوم ہوگیا کہ باپ شرک سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہیں۔اور شرک کی معافی کی اللہ کے ہاں کوئ صورت نہیں تو آپ نے اپنے اس قول اور وعدہ سے رجوع کرلیا اور اس کے حق میں دعائے مغفرت کرنا چھوڑدی۔ضمناً اس آیت سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں۔انبیاء کا آخری عمل قابل تقلید ہوتاہے:۔ایک یہ کہ انبیاء کا کوئی عمل جو ان کی زندگی میں مختلف رہاہو، قابل تقلید وہ صورت ہوتی ہے جو ان کی اُخروی زندگی میں ہو۔اور پہلی صورت سے انہوں نے خود رجوع کرلیا ہو یا بذریعہ وحی اس کی اصلاح کردی گئی ہو اور شریعت میں اس کی ممانعت وارد ہوچکی ہو۔مشرک کے لئے دعائے مغفرت بھی جائز نہیں:۔  اور دوسری یہ کہ اہل ایمان کا مشرکوں سے اتنا تعلق بھی نہ ہونا چاہئے کہ وہ ان کے حق میں دعائے مغفرت ہی کردیں۔خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔(تیسیر القرآن)

۔۔۔۔(وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ) سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب ہجرت فرمائی ہے تو تنہا نہیں ہجرت فرمائی ہے بلکہ ان کی قوم کے کچھ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے، اس ہجرت میں ان کے ہم رکاب تھے۔۔۔۔۔۔۔(وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ) شیء یہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے وعدہ مغفرت کے ساتھ ہی توحید کی اصل حقیقت بھی واضح فرما دی کہ مجھے جو اختیار حاصل ہے صرف اتنا ہی ہے کہ میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں۔ رہا تمہارا بخشا جانا یا نہ بخشا جانا تو یہ کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس معاملے میں مجھے کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ کسی کے لیے استغفار اس کے حق میں ایک قسم کی سفارش ہے۔ اس سفارش کے معاملے میں جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ جیسے جلیل القدر پیغمبر اپنی اس بےاختیاری کا اظہار فرماتے ہیں تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ (تدبرِ قرآن)

کافروں کے لیے اہل ایمان کے فتنہ بننے کی متعدد صورتیں  ہو سکتی ہیں جن سے ہر مومن کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافر ان پر غالب آجائیں اور اپنے غلبہ کو اس بات کی دلیل قرار دیں کہ ہم حق پر ہیں اور اہل ایمان برسر باطل، ورنہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ان لوگوں کو خدا کی رضا حاصل ہوتی اور پھر بھی ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوتا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اہل ایمان پر کافروں کا ظلم و ستم ان کی حد برداشت سے بڑھ جائے اور آخر کار وہ ان سے دب کر اپنے دین و اخلاق کا سودا کرنے پر اتر آئیں۔ یہ چیز دنیا بھر میں مومنوں کی جگ ہنسائی کی موجب ہوگی اور کافروں کو اس سے دین اور اہل دین کی تذلیل کا موقع ملے گا۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دین حق کی نمائندگی کے مقام بلند پر فائز ہونے کے باوجود اہل ایمان اس اخلاقی فضیلت سے محروم رہیں جو اس مقام کے شایان شان ہے، اور دنیا کو ان کی سیرت و کردار میں بھی وہی عیوب نظر آئیں جو جاہلیت کے معاشرے میں عام طور پر پھیلے ہوئے ہوں۔ اس سے کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ اس دین میں آخر وہ کیا خوبی ہے جو اسے ہمارے کفر پر شرف عطا کرتی ہو ؟ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 83۔) (تفہیم القرآن)

6۔  فِیْهِمْ۔ ضمیر ھم ابراہیمؑ اور اصحاب ابراہیم(والذین معہ)کی جانب ہے۔(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿7﴾ لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ﴿8﴾ اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿9﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿10﴾ وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ ﴿11﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿12﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ ﴿13ع الممتحنة 60﴾
7. عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 8. جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ 9. خدا ان ہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔ 10. مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کئے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔ 11. اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے (اور اس کا مہر وصول نہ ہوا ہو) پھر تم ان سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو (اس مال میں سے) اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔ 12. اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 13. مومنو! ان لوگوں سے جن پر خدا غصے ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اُٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت (کے آنے) کی امید نہیں۔

تفسیر آیات

اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو اپنے کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کی جو تلقین کی گئی تھی اس پر سچے اہل ایمان اگرچہ بڑے صبر کے ساتھ عمل کر رہے تھے، مگر اللہ کو معلوم تھا کہ اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں اور قریب ترین عزیزوں سے تعلق توڑ لینا کیسا سخت کام ہے اور اس سے اہل ایمان کے دلوں پر کیا کچھ گزر رہی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہارے یہی رشتہ دار مسلمان ہوجائیں گے اور آج کی دشمنی کل پھر محبت میں تبدیل ہوجائے گی۔ جب یہ بات فرمائی گئی تھی اس وقت کوئی شخص بھی یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ نتیجہ کیسے رونما ہوگا۔ مگر ان آیات کے نزول پر چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ مکہ فتح ہوگیا، قریش کے لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جس چیز کی انہیں امید دلائی گئی تھی وہ کیسے پوری ہوئی۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس آیت میں اہل مکہ کے قبول ایمان کی جو بشارت ہے اس کی ایک خاص نفسیاتی وجہ بھی ہے جو یہاں ملحوظ رکھنے کی ہے۔ وہ یہ کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بہت سے بھائی بہن، عزیز قریب محض دین کی خاطر اپنے گھر در، اپنے اہل و عیال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان سے جدا ہو رہے ہیں درآنحالیکہ یہ لوگ ہر اعتبار سے ان کے اندر کے بہترین اشخاص تھے تو وہ سونچنے لگ گئے کہ اس دعوت کا مقابلہ ظلم وتعدی سے کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاید اسی کتاب میں یا اپنے کسی اور مضمون میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ جیسے عظیم شخص کو جس چیز نے سب سے پہلے اسلام کی طرف مائل کیا وہ کچھ مظلوم مردوں اور عورتوں کی حبشہ کی طرف ہجرت ہے۔ ہجرت کا یہ اثر ہر حساس مرد اور عورت پر پڑنا لازمی تھا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد قبول اسلام کی رفتار بہت تیز ہوگئی۔ اس عمل کو اپنی فطری رفتار پر قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ مہاجرین میں سے کوئی گروہ اہل مکہ کے آگے اپنی کمزوری کا اظہار نہ کرتا۔ اگر ان کی طرف سے کسی کمزوری کا اظہارہوتا تو اہل مکہ یہ خیال کرتے کہ مسلمان ہجرت تو کر گئے لیکن اب وہ اپنے اقدام پر پچھتا رہے ہیں اور ہم سے دوستانہ و نیاز مندانہ روابط قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ چیز ان کے اندر بھی اسلام کے احساس کو دبا دیتی اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بھی پست کردیتی۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کمزوری پر شدت سے گرفت کی۔ (تدبرِقرآن)

سابقہ آیات میں کفار سے جس ترک تعلق کی ہدایت کی گئی تھی اس کے متعلق لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے ان آیات میں یہ سمجھا یا گیا ہے کہ اس کی اصل وجہ ان کا کفر نہیں بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ ان کی عداوت اور ان کی ظالمانہ روش ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دشمن کافر اور غیر دشمن کافر میں فرق کرنا چاہیے، اور ان کافروں کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرنا چاہیے جنہوں نے کبھی ان کے ساتھ کوئی برائی نہ کی ہو۔ اس کی بہترین تشریح وہ واقعہ ہے جو حضرت اسماء بنت ابی بکر اور ان کی کافر ماں کے درمیان پیش آیا تھا۔ حضرت ابوبکر کی ایک بیوی قتیلہ بنت عبدالعزّٰی کافرہ تھیں اور ہجرت کے بعد مکہ ہی میں رہ گئی تھیں۔ حضرت اسماء انہی کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب مدینہ اور مکہ کے درمیان آمد و رفت کا راستہ کھل گیا تو وہ بیٹی سے ملنے کے لیے مدینہ آئی اور کچھ تحفہ تحائف بھی لائیں۔ حضرت اسماء کی اپنی روایت یہ ہے کہ میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اپنی ماں سے مل لوں ؟ اور کیا میں ان سے صلہ رحمی بھی کرسکتی ہوں ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا اس سے صلہ رحمی کرو (مسند احمد۔ بخاری۔ مسلم)۔ حضرت اسماء کے صاحبزادے عبداللہ بن زبیر اس واقعہ کی مزید تفصیل یہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے حضرت اسماء نے ماں سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں جب اللہ اور اس کے رسول کی اجازت مل گئی تب وہ ان سے ملیں (مسند احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم)۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے کافر ماں باپ کی خدمت کرنا اور اپنے کافر بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنا جائز ہے جبکہ وہ دشمن اسلام نہ ہوں۔ اور اسی طرح ذمی مساکین پر صدقات بھی صرف کیے جاسکتے ہیں (احکام القرآن للجصاص۔ روح المعانی)۔ (تفہیم القرآن)

10۔ اس حکم کے مخاطب چونکہ مومن ہیں، نبیؐ نہیں۔لہذا آپؐ نے اس غرض کے لیے سیدنا عمرؓ کا انتخاب کیا تھا اور وہی مدینہ پہنچنے والی عورتوں کا امتحان لیتے تھے۔۔۔۔۔ایسی عورتوں کے متعلق جو امتحان میں کامیاب ہوں پہلا حکم یہ ہوا کہ انہیں کسی صورت کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس حکم کے بعد وہ اپنے کافرخاوندوں کے لیے حلال نہیں رہیں۔ اس سے دومسئلے مستنبط کئے گئے ہیں ایک یہ کہ اختلاف دین سے نکاح ازخود ختم ہوجاتاہے۔کافر مرد اور مومنہ عورت کا یا مومن مرد اور کافر عورت کا رشتہ نکاح ازخود ٹوٹ جاتاہے۔اور دوسرا یہ کہ اختلاف دارین سے بھی نکاح ٹوٹ جاتاہے ۔مثلاً ایک زوج دارالاسلام میں ہوا اور دوسرا دارالحرب میں تو نکاح از خود ختم ہوجائے گا کیونکہ ان کے درمیان یہ رشتہ قائم رکھنا محال ہے۔اس حکم کے بعد تمام مہاجر عورتوں کو نکاح کرنے کی اجازت مل گئی۔(تیسیر القرآن)

۔اصل بات یہ ہے کہ معاہدہ صلح کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ کفار قریش کی طرف سے تھی، اور ان کی جانب سے ان کے نمائندے سہیل بن عمرو نے جو الفاظ معاہدے میں لکھوائے تھے وہ یہ تھے "علیٰ ان لا یاتیک منا رجل و ان کان علی دینک الا رددتہ الینا۔ " اور یہ کہ تمہارے پاس ہم میں سے کوئی مرد بھی آئے، اگرچہ وہ تمہارے دین ہی پر ہو، تم اسے ہماری طرف واپس کرو گے "۔ معاہدے کے یہ الفاظ بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد و المصالحہ میں قوی سند کے ساتھ نقل ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سہیل نے رجل کا لفظ شخص کے معنی میں استعمال کیا ہو، لیکن یہ اس کی ذہنی مراد ہوگی۔ معاہدے میں جو لفظ لکھا گیا تھا وہ رجل ہی تھا جو عربی زبان میں مرد کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسی بنا پر جب ام کلثوم بنت عقبہ کی واپسی کا مطالبہ لے کر ان کے بھائی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (امام زہری کی روایت کے مطابق) رسول اللہ ﷺ نے ان کو واپس کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمایا کہ کان الشرط فی الرجال دون النساء۔ " شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں "۔ (احکام القرآن، ابن عربی۔ تفسیر کبیر، امام رازی)۔ اس وقت تک خود قریش کے لوگ بھی اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدے کا اطلاق ہر طرح کے مہاجرین پر ہوتا ہے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ مگر جب حضور نے ان کو معاہدے کے ان الفاظ کی طرف توجہ دلائی تو وہ دم بخود رہ گئے اور انہیں ناچار اس فیصلے کو ماننا پڑا۔ (تفہیم القرآن)

۔۔۔۔آنحضرت ﷺ نے قریش مکہ پر اسی وقت یہ واضح کردیا کہ عورتیں اس شرط میں داخل نہ ہوں گی، چنانچہ عورتوں کو آپ نے واپس نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ صورت نہ نقض عہد کی تھی جس کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی امکان ہی نہ تھا اور نہ یہ نبذ عہد کی صورت تھی یعنی معاہدہ کو ختم کردینے کی، بلکہ ایک شرط کی وضاحت کا معاملہ تھا، خواہ خود رسول اللہ ﷺ کی مراد پہلے ہی سے یہ ہو یا نزول آیت کے بعد آپ نے اس عموم کو صرف مردوں تک محدود کرنے کے لئے فرما دیا ہو، بہرحال ہوا یہ ہے کہ اس توضیح کے بعد بھی معاہدہ صلح کو طرفین نے قبول کیا اور اس پر ایک مدت تک طرفین سے عمل ہوتا رہا، اس صلح کے نتیجہ میں راستے مامون ہوئے اور رسول اللہ ﷺ نے ملوک دنیا کے نام خطوط بھیجے اور اسی کے نتیجہ میں ابو سفیان کا قافلہ بےفکری کے ساتھ ملک شام تک پہنچا، جہاں ہر قل نے ان کو اپنے دربار میں بلا کر رسول اللہ ﷺ کے حالات و واقعات کی تحقیق کی۔ (معارف القرآن)

۔فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالاہے کہ "اختلاف ِ دارین کی بناپر زوجین میں تفریق کردی جائے گی"یعنی اس صورت میں کہ زوجین میں سے ایک دارالاسلام  میں رہ جائے ،اور دوسرا دارالحرب  ہی  میں رہے۔۔۔۔۔مسلمان عورت کو کافر شوہر نے جس قدر مہردیا ہو،مسلمان وہ مہر اس کافر شوہر کو واپس کردیں۔ یہ ادائی مہر خواہ اب نئے مسلمان شوہر کی طرف سے ہو ، یا بیت المال سے ۔۔۔۔فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اب یہ حکم باقی نہیں، یہ عارضی طورپر صلح حدیبیہ کے سلسلے میں تھا۔۔۔۔۔وَ اٰتُوْهُمْ مَّا اَنْفَقُوْا۔ ابھی اسی آیت کے اندر اوپر آچکا ہے،اب پھر اسی کی تاکید مزید وَ لْیَسْــٴَـلُوْا مَا اَنْفَقُوْا  سے ہورہی ہے ۔مفسر تھانویؒ نے اسی سے نکتہ یہ نکالا ہے کہ دوسروں کا حق جو اپنے ذمے رہ جائے وہ زیادہ مؤکد ہے۔(تھانوی،ج2/ ص: 251) (تفسیر ماجدی)

12۔ آیت  اُن غالیوں کے رد کے لیے بالکل کافی ہے،جو کسی پیشہ ور بیسواکے تائب ہونے اور بعد توبہ کسی کے نکاح میں آنے ہی کو ناجائز سمجھتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)]

۔مکہ معظمہ میں جب عورتوں سے بیعت لی جا رہی تھی اس وقت حضرت ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے اس حکم کی تشریح دریافت کرتے ہوئے حضور ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ، ابوسفیان ذرا بخیل آدمی ہیں کیا میرے اوپر اس میں کوئی گناہ ہے کہ میں اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کے لیے ان سے پوچھے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں ؟ آپ نے فرمایا نہیں، مگر بس معروف کی حد تک۔ یعنی بس اتنا مال لے لو جو فی الواقع جائز ضروریات کے لیے کافی ہو (احکام القرآن، ابن عربی)۔۔۔۔۔۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں " یہ ارشاد ان جاہلوں کے خیال کی تردید کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ اولی الامر کی اطاعت مطلقاً لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو رسول کی اطاعت پر بھی معروف کی قید لگا دی ہے، حالانکہ رسول کبھی معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ اس سے مقصود لوگوں کو خبردار کرنا ہے کہ خالق کی معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے " (روح المعانی)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔پس در حقیقت یہ ارشاد اسلام میں قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کا سنگ بنیاد ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ ہر کام جو اسلامی قانون کے خلاف ہو، جرم ہے اور کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ ایسے کسی کام کا کسی کو حکم دے۔ جو شخص بھی خلاف قانون حکم دیتا ہے وہ خود مجرم ہے اور جو شخص اس حکم کی تعمیل کرتا ہے وہ بھی مجرم ہے۔ کوئی ماتحت اس عذر کی بنا پر سزا سے نہیں بچ سکتا کہ اس کے افسر بالا نے اسے ایک ایسے فعل کا حکم دیا تھا جو قانون میں جرم ہے۔۔۔۔۔  (تفہیم القرآن)

۔زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر کے ہلاک کردینے کا رواج تھا، اس کو روکا گیا، پانچویں بات یہ ہے کہ افتراء اور بہتان نہ باندھیں، اس بہتان کی ممانعت کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں (بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ) یعنی اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان بہتان نہ باندھیں، ان کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ قیامت کے روز انسان کے ہاتھ پاؤں ہی اس کے اعمال پر شہادت دیں گے، مطلب یہ ہوا کہ ایسے گناہ کے ارتکاب کے وقت یہ خیال رہنا چاہئے کہ میں چار گواہوں کے درمیان یہ کام کر رہا ہوں جو میرے خلاف گواہی دیں گے۔(معارف القرآن)

ـــ 'ہاتھ اور پاؤں کے درمیان'سے مراد جنسی اعضاء ہیں۔یعنی جنسی نوعیت کا کوئی بہتان کسی پر نہ لگائیں گی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

13۔ گویا اہل قبور کے تصرفات کو تسلیم نہ کرنا کافروں کا کام ہے۔(تیسیر القرآن)

۔مطلب یہ ہے کہ کفار کی طرح یہود سے بھی دوستی نہ رکھو۔جس طرح کفار اب مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے سے مایوس اور آخرت کو مستبعد مانتے ہیں اسی طرح یہود بھی دنیا پرستی، ہوسِ زر اور موت سے فرار کے باعث آخرت کی توقع نہیں رکھتے۔مسلمان ان دونوں سے خیر کی امید نہ رکھیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ )

۔اصل الفاظ ہیں  قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ۔  اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے ثواب سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح زندگی بعد موت سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو عزیز رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس، اور حضرات حس بصری، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ نے بیان کیے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ وہ آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ انہیں اپنے مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہوچکا ہے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن مسعود، اور حضرات مجاہد، عِکْرِمہ، ابن زید، کلبی، مقاتل اور منصور رحمہم اللہ سے منقول ہیں۔ (تفہیم القرآن)

۔(قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ) سے ظاہر ہے کہ یہودی مراد ہو سکتے ہیں۔ صفت کی حیثیت سے قرآن میں یہ الفاظ یہود ہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ پہلی ہی سورة میں ان کے لیے (مغضوب علیھم) کی صفت آئی ہے۔(تدبرِ قرآن)