61 - سورة الصف (مدنیہ)

رکوع - 2 آیات - 14

مضمون: مسلمانوں کو یہود کی سی کج روی سے بچنے کی ہدایت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: کونوانصار اللہ ( اللہ کے مددگار بن جاؤ) سچے ایمان کے ساتھ مال و جان کا جہاد کروگے تو دنیا پر غالب آجاؤگے۔

نام : سورۃ کا نام چوتھی آیت سے ماخوذ ہے ۔جہاں مجاہدین کے صف بستہ ہوکراللہ کے راستے میں قتال کا تذکرہ ہواہے۔

شانِ نزول: یہ سورۃ غزوۂ احد (شوال3ھ)کے بعد کسی وقت نازل ہوئی ۔اندرونی دشمنوں کے بعد ،بیرونی دشمنوں کے استیصال کیلئے جہاد کا نسخہ تجویز کیا گیا ۔صحابہ کرامؓ کا اشتیاق کہ سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے(ترمذی) حضورؐ نے نام بنام سب کو بلاکر (وحی الٰہی کی روشنی میں) سورۂ صف مکمل سنادی(وضاحت نیچے آیت:2)

نظمِ کلام: سورۂ ق

ترتیب مطالعہ و خلاصۂ مضامین: (i)ر۔1(غلبۂ اسلام اور جہاد)  (ii) ر۔2(مجاہدوں پر انعاماتِ الٰہی اور حواریین ِ عیسیؑ)


پہلا رکوع

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿1﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿2﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿3﴾ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ ﴿4﴾ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ﴿5﴾ وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿6﴾ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿7﴾ یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ﴿8﴾ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠   ﴿9ع الصف 61﴾
1. جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تنزیہ کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 2. مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے۔ 3. خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔ 4. جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسے طور پر) پرے جما کر لڑتے کہ گویا سیسہ پلائی دیوار ہیں وہ بےشک محبوب کردگار ہیں۔ 5. اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کج روی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 6. اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کے اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمدﷺ ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں۔ (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ 7. اور اس سے ظالم کون کہ بلایا تو جائے اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ 8. یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔ 9. وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

تفسیر آیات

1۔ یہ آیت تشویق و تحریص کے محل میں بھی ہوسکتی ہے اور اظہار بے نیازی کے محل میں بھی ۔جو ہر چیز پر غالب اور جس کے ہرکام میں حکمت ہے اس کی راہ میں جہاد سے اگر کوئی جان چرائے تو کتنے بڑے اجر سے محروم ہوگا۔ اور جان چرائے تو اللہ کو اس کی کیا پرواہ ہے۔ سَبَّحَ( ماضی بیان واقعہ اور بیان حقیقت کیلئے آتاہے)اور یُسَبِّحُ(تصویر حال اور استمرار کیلئے(۔)تدبرقرآن(

2۔ ترمذی بروایتِ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ ۔ اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل  کونسا ہے تو اس پر عمل کریں ۔حضورؐ نے نام بنام سب صحابہ کو بلایا (بذریعہ وحی پتہ چل گیا) اور پوری سورۂ الصف پڑھ کر سنائی ۔محبوب ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ (اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ۔۔۔الخ آیت:4)اور ساتھ ہی وعید لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔جن صحابہؓ نے مذاکرہ کیا وہ ایسے نہ تھے کہ دل میں کچھ کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو اور دعویٰ کریں۔(وعید ہمارے لئے کیا کوئی صحابی ایسا ہوسکتا تھا؟)۔۔۔۔اول تو کوئی بات کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے جب موقع ملے کر گزرے اور کسی مصلحت سے کہنا بھی پڑے تو اس کو ان شا اللہ کے ساتھ مقید کردے تو پھر وہ دعویٰ نہیں رہے گا(بدنیتی کہ ایسا کرنا نہیں کہ ان شا اللہ کہہ کرکہ اللہ نے ایسا نہ چاہا) لیکن یہ نہیں فرمایا کہ جب خود نہیں کرتے تو دوسروں کو کہنا چھوڑ دے۔ (معارف القرآن)

ــــ  اللہ کے غضب کے سزاوار وہ ہیں جوماننے کو تو اس کی ہربات مان لیں لیکن عمل کسی بات پر نہ کریں  یا صرف ان باتوں پر کریں جو ان کے نفس کی خواہشوں کے موافق ہوں اور جب کوئی اہم مرحلہ پیش آئے تو اس وقت چھپتے پھریں ۔ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کھلے ہوئے دشمنوں کے مقابلے میں دین کیلئے زیادہ خطرناک ہےاس لئے کہ انہوں نے اپنے کو دوست ظاہر کرکے دین کی دشمنی کی اور اس کی فوج میں بھرتی ہوکر اس کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے۔(تدبرقرآن)

ــــ  قول و فعل میں مطابقت۔ بخاری و مسلم کی حدیث (منافق کی چار خصلتیں ۔امانت میں خیانت، جب بولے جھوٹ بولے، بدعہدی، لڑے تو اخلاقی حدیں توڑدے۔چاروں ہوں تو پکا منافق ،کوئی ایک ہو تو اس حد تک ۔یہ تو ہے ان آیات کا عام مدعا ۔رہاوہ خاص مدعا جس کیلئے اس موقع پر آیات ارشاد فرمائی گئی ہیں تو وہ بعد والی آیت کو ان کے ساتھ ملاکر پڑھنے سے معلوم ہوتاہے۔مقصود ان لوگوں کو ملامت کرنا ہے جو اسلام کیلئے سرفروشی و جانبازی کے لمبے چوڑے و عدے کرتے تھے مگر جب آزمائش کا وقت آتاتھاتو بھاگ نکلتے تھے۔(تفہیم القرآن)

 بنی اسرائیل کا اپنے نبی سیدنا موسیٰؑ کو تکلیفیں پہنچانا:۔ تمام انبیاء کو اپنے مخالفین اور دشمنوں سے دکھ اور مصائب پہنچتے ہی رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ قابل افسوس بات ہوتی ہے کہ اپنے ہی لوگ دکھ پہنچانے لگیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا موسیٰؑ کی قوم نے سیدنا موسیٰؑ کو جس قدر پریشان کیا اور دکھ پہنچایا تھا۔شاید ہی کسی دوسری قوم نے پہنچایا ہو۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ سیدنا موسیٰؑ نے انہیں اللہ کے حکم کے مطابق گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو طرح طرح کی کٹ حجتیاں اور سوال کرکرکے آپ کو پریشان کردیا۔فرعون سے نجات پاکر آگے روانہ ہوئے ہی تھے کہ ایک قوم کو بت پوجتے دیکھ کر کہنے لگے : موسیٰؑ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک بت بنادو جس کی ہم پوجا کریں۔میدان تیہ میں ان کو بلا مشقت من و سلویٰ مل رہاتھا تو کہنے لگے :موسیٰ: ہم تو یہ غذا کھاکر تنگ آگئے ہیں اور جی بھر گیا ہے۔لہذا اب سبزیاں اور دالیں کھانا چاہتے ہیں۔سیدنا موسیٰؑ طورپر تورات لینے گئے تو بعد میں ایک بچھڑا بناکر اس کی پوجا شروع کردی  اور کہنے لگے کہ موسیٰؑ تو بھول کر طورپر چلے گئے ۔ہمارا اور اس کا معبود تو یہ ہے وہ وہاں کیا لینے چلے گئے۔سیدنا موسیٰؑ کتاب تورات لے کر آئے تو کہنے لگے۔ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ہم تو جب تک واضح طورپر اللہ کو دیکھ نہ لیں یہ کتاب ماننے کو تیار نہیں ۔سیدنا موسیٰؑ نے انہیں ارض شام میں جہاد کرنے کو کہا تو کہنے لگےموسیٰؑ! وہاں تو بڑے طاقتور لوگ رہتے ہیں ہم ان سے کیسے لڑسکتے ہیں۔ اگر جہاد اتنا ہی ضروری ہے تو تم اور تمہارا رب دونوں جاکر ان سے جہاد کرو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ اپنی قوم کی ایسی ہی باتوں سے تنگ آکر سیدنا موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی تھی۔ "پروردگار!میرا اختیار تو صرف اپنی ذات پر اور اپنے بھائی پر ہے لہذا اس نافرمان قوم سے ہماراساتھ چھڑا دے"(5: 25)انبیاء اپنی دشمن قوم کے لیے تو ایسی دعا مانگتے ہی رہے ہیں۔ مگر کسی نبی نے غالباً اپنی قوم کے حق میں ایسی دعا کبھی نہیں مانگی۔(تیسیر القرآن)

۔تورات کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک موقع بھی ایسا نہیں گزرا ہے جب انہوں نے پوری خوش دلی سے حضرت موسیٰ ؑ کی اطاعت کی ہو۔ (تدبرِ قرآن)

8۔ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(اور الْمُشْرِكُوْنَ)نے مل کر تمام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جو اس وقت عرب میں اسلام کی مخالفت کررہی تھیں گویا ان سب کو (اور آج کے مخالفین کو بھی) چیلنج کیا ہے کہ تمہیں جتنا زور لگانا ہے لگالولیکن تم اللہ کے دین کو نقصان نہیں پہنچاسکوگے۔اللہ کا قطعی فیصلہ یہی ہے کہ اس رسول کے ذریعے اس کا دین ِ حق اس سرزمین کے تمام ادیان پر غالب آکر رہے گا(بالکل انہی الفاظ کے ساتھ دودفعہ پہلے (i)سورۂ توبہ:32-33(ii)سورۂ فتح:28 (iii)تیسری دفعہ یہاں:8-9)(تدبر قرآن)


دوسرا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿10﴾ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ ﴿11﴾  یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ  ﴿12﴾ وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿13﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنۢ ْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ ﴿14ع الصف 61﴾
10. مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دے۔ 11. (وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ 12. وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہائے جنت میں، جن میں نہریں بہہ رہیں ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں ،داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ 13. اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب ہوگی اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو۔ 14. مومنو! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ بھلا کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں۔ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے۔

تفسیر آیات

10۔ یہاں جس چیز کو تجارت سے تعبیر فرمایا ہے اس کی وضاحت آگے آرہی ہے کہ تم اپنی جان اور مال اللہ کی راہ میں قربان کرنے کیلئے تیار رہو اور اس کے بدلے میں اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کے حقدار بنو۔(تدبر قرآن)

11۔ایمان لانے والوں سے جب کہا جائے کہ ایمان لاؤ، تو اس سے خود بخود یہ معنی نکلتے ہیں کہ مخلص مسلمان بنو۔ ایمان کے محض زبانی دعوے پر اکتفا نہ کرو بلکہ جس چیز پر ایمان لائے ہو اس کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ (تفہیم القرآن)

13۔دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے، لیکن مومن کے لیے اصلی اہمیت کی چیز یہ نہیں ہے بلکہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اسی لیے جو نتیجہ دنیا کی اس زندگی میں حاصل ہونے والا ہے اس کا ذکر بعد میں کیا گیا، اور جو نتیجہ آخرت میں رونما ہونے والا ہے اس کے ذکر کو مقدم رکھا گیا۔(تفہیم القرآن)

14۔ حضرت عیسیؑ کے ابتدائی شاگرد دھوبی تھے اس لئے انہیں حواریون کہا گیا بعد میں پر خلوص دوست اور باوفا ساتھی کو حواری کہا جانے لگا(عبرانی سے عربی)۔(ضیاء القرآن)

ــــ سورۂ صف (14)میں یہ آخری مقام ہے جہاں قرآن حکیم میں ان لوگوں کو اللہ کا مددگار  کہا گیا ہے۔اس سے پہلے سورۂ آل عمران (52): فَلَمَّا اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَى اللّٰهِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ "پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) سے کفر پایا تو فرمایا: اللہ کی طرف ہو کر کون میرا مددگار ہوتا ہے؟ مخلص ساتھیوں نے کہا: ’’ ہم اللہ کےمددگار ہیں ۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ اس پر گواہ ہوجائیں کہ ہم یقینامسلمان ہیں"،الحج(40): وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ "اور بیشک اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کی مدد کرے گا، بیشک اللہ ضرورقوت والا، غلبے والا ہے" محمد(7): یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ "اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا" ،حدید(25): وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ "اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی (کا سامان )ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ اس شخص کودیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا، غالب ہے" حشر(8): لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ "ان فقیر مہاجروں کے لیے جو اپنے گھروں اوراپنے مالوں سے نکالے گئے اس حال میں کہ اللہ کی طرف سے فضل اور رضا چاہتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ،وہی لوگ سچے ہیں"۔۔۔اگر اللہ بے نیاز تو کوئی بندہ اس کا مددگار کیسے؟ دراصل ایسے لوگوں کو اللہ کا مددگار اس لیے نہیں کہا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین معاذاللہ کسی کام کے لیے اپنی کسی مخلوق کی مدد کا محتاج ہے، بلکہ یہ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو کفر و ایمان اور طاعت و معصیت کی آزادی بخشی ہے اس میں وہ لوگوں کو اپنی قوت قاہرہ سے کام لے کر بجبرمومن و مطیع نہیں بناتا بلکہ اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے تذکیر وتعلیم اور تفہیم و تلقین کا طریقہ اختیار فرماتا ہے۔ اس تذکیر وتعلیم کو جو شخص بہ رضا ورغبت قبول کرلے وہ مومن ہے، جو عملاً مطیع فرمان بن جائے وہ مسلم و قانت اور عابد ہے، جو خدا ترس کا رویہ اختیار کرلے وہ متقی ہے، جو نیکیوں کی طرف سبقت کرنے لگے وہ محسن ہے، اور اس سے مزید ایک قدم آگے بڑھ کر جو اسی تذکیر وتعلیم کے ذریعہ سے بندگان خدا کی اصلاح کے لیے اور کفر و فسق کی جگہ اللہ کی اطاعت کا نظام قائم کرنے کے لیے کام کرنے لگے اسے اللہ تعالیٰ خود اپنا مددگار قرار دیتا ہے، جیسا کہ آیات مذکورہ بالا میں کئی جگہ بالفاظ صریح ارشاد ہوا ہے۔ اگر اصل مقصود اللہ کا نہیں بلکہ اللہ کے دین کا مددگار کہنا ہوتا تو اَنْصَارُ اللہِ کے بجائے اَنْصَارُ دِیْنِ اللہِ فرمایا جاتا، یَنْصُرُوْنَ اللہَ کے بجائے یَنْصُرُوْنَ دِیْنَ اللہِ فرمایا جاتا، اِنْ تَنْصُرُوْ اللہَ کے بجائے اِنْ تَنْصُرُوْا دِیْنَ اللہِ فرمایا جاتا۔ جب ایک مضمون کو ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پے در پے کئی مقامات پر ایک ہی طرز بیان اختیار فرمایا ہے تو یہ اس بات پر صریح دلالت کرتا ہے کہ اصل مقصود ایسے لوگوں کو اللہ کا مددگار ہی کہنا ہے۔ مگر یہ " مدد گاری " نعوذ باللہ اس معنی میں نہیں ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کوئی ضرورت پوری کرتے ہیں جس کے لیے وہ ان کی مدد کا محتاج ہے، بلکہ یہ اس معنی میں ہے کہ یہ لوگ اسی کام میں حصہ لیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعہ سے کرنے کے بجائے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے کرنا چاہتا ہے۔ ۔(تفہیم القرآن)

ــــ  یہ تفصیل اس وقت کی ہے جب حضرت عیسیؑ بطور نبی بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، پھر آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور قیامت کے قریب آپ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس وقت آپ کی حیثیت نبیؐ کے امتی کی ہو گی، لیکن اللہ تعالی آپ سے بڑے بڑے کام لے گا اور آپ کے ذریعے سے عیسائیت کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ ہو گا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تم میں مریم کے بیٹے (عیسٰیؑ) اتریں گے وہ انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال کی ایسی ریل پیل ہو گی کہ کوئی اسے لینے والا نہ ہو گا" (صحیح بخاری، البیوع، باب:102، حدیث:2222) حضرت عیسیٰؑ مسلمانوں کے امام (قائد) کی حیثیت سے اتریں گے اور یہ عیسائیوں کے لیے جو اپنے آپ کو عیسیٰؑ کا پیروکار کہتے ہیں، سخت تنبیہ ہے۔ صلیب توڑ دینے اور جزیہ موقوف کر دینے کا مطلب ہے کہ تمام انسانوں کے پاس قبول اسلام کے سوا کوئی راستہ نہ ہو گا۔(احسن الکلام)

ــــ لفظ حواری عربی میں اہل کتاب سے آیا ہوا معلوم ہوتاہے۔اس کے معنیٰ سرگرم و پرجوش حامی و حمایتی کے ہیں ۔قرآن مجید اور انجیل دونوں سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جب یہود کے علماء و فقہاء کے رویہ سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے غربا  و عوام اور دریا کے کنارے ماہی گیروں کو دعوت دی کہ اے مچھلیوں کو پکڑنے والو!آؤ،میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں ۔بلآخر انہی کے اندر سے ایک مختصر جماعت تین سو آدمیوں کی ،پورے جوشِ دلی کے ساتھ ،دعوت کے کام میں تعاون کیلئے تیار ہوگئی۔۔۔۔۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ سیدنا مسیحؑ کی دعوت کی تکذیب کے بعد سے آج تک یہود کو کبھی اقتدار حاصل نہیں ہوا۔(تدبرقرآن)

ــــ بعض مفسرین کے نزدیک یہ دھوبی تھے۔گوتعداد میں کم تھے مگر انتہائی مخلص ایماندار تھے۔ انجیل کی تعلیم کی اشاعت میں ان لوگوں نے سردھڑ کی بازی لگادی تھی۔ (تیسیر القرآن)