62 - سورة الجمعہ (مدنیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 11 |
مضمون: یہود کی روش چھوڑ کر دین کی قدر کرنا سیکھو۔دنیاوی مفاد تمہیں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ کرنے پائے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: دین و دنیا میں توازن و اعتدال کو ملحوظ رکھتے ہوئے تزکیہ حاصل کرنا چاہئیے۔ جہاد کی کامیابی کیلئے کتاب و سنت سے چمٹنا اور اجتماعی نظام کو قائم رکھنا ضروری ہے ورنہ یہ امت بھی یہودیوں کی طرح ان گدھوں کی طرح ہوجائے گی جن کی پیٹھوں پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔
شانِ نزول: سورۂ جمعہ کا پہلا رکوع غزوۂ خیبر (محرم7ھ) کے بعد نازل ہوا جبکہ دوسرا رکوع ہجرت کے فوراً بعد نازل ہواہے۔حضورؐ جمعہ کی نمازوں میں سورۂ الجمعہ اور سورۂ المنافقون پڑھا کرتے تھے۔(ترمذی)
نظم کلام: سورۂ ق
ترتیب مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1( حضورؐ کی بعثت اور یہود کی غلط فہمی)(ii)ر۔2(احکام جمعہ)
پہلا رکوع |
| یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ﴿1﴾ هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ ﴿2﴾ وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿3﴾ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ﴿4﴾ مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿5﴾ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿6﴾ وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ ﴿7﴾ قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ ﴿8ع الجمعة 62﴾ |
| 1. جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔ 2. وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ان ہی میں سے (محمدﷺ) کو پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس ے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔ 3. اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 4. یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔ 5. جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 6. کہہ دو کہ اے یہود اگر تم کو دعویٰ ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو اگر تم سچے ہو تو (ذرا) موت کی آرزو تو کرو۔ 7. اور یہ ان (اعمال) کے سبب جو کرچکے ہیں ہرگز اس کی آرزو نہیں کریں گے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے۔ 8. کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آ کر رہے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔ |
تفسیر آیات
3۔ یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہے اور ابد تک کے لیے ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔اس کا عطف امین پر ہے۔ یعنی جن امیوں کے اندر اس رسول کی بعثت ہوئی ہے انہی میں سے وہ دوسرے بھی ہیں جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ اشارہ ان بنی اسماعیل کی طرف ہے جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔(لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ) (ابھی وہ ان سے ملے نہیں ہیں) کے الفاظ کے اندر یہ بشارت بھی مضمر ہے کہ گو ابھی وہ ملے نہیں لیکن عنقریب مل جائیں گے گویا یہ مستقبل قریب میں ان کے قبول اسلام کی اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح کی بشارت سورة ممتحنہ کی آیت 7 میں گزر چکی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
5۔ ایک گدھےپر علم و حکمت کی پچاس کتابیں لاد دو اس کو بوجھ میں دبنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ۔وہ تو صرف ہری گھاس کی تلاش میں ہے۔ اس بات سے کچھ سروکار نہیں رکھتا کہ پیٹھ پر لعل و جواہر لدے ہوئے ہیں یا خزف و سنگریزے۔ اگر محض اسی پر فخرکرنے لگو کہ دیکھو! میری پیٹھ پر کیسی کیسی عمدہ اور قیمتی کتابیں لدی ہوئی ہیں لہذا میں بڑا عالم اور معزز ہوں تو یہ اور زیادہ گدھا پن ہوگا۔(تفسیر عثمانی)
ــــ پڑھے لکھے یہود کا اخلاقی انحطاط:۔ اس آیت اور اس سے آگے کی آیات میں براہ راست یہود کو خطاب کیا گیا ہے۔جو اپنے آپ کو بڑا عالم فاضل سمجھتےتھے ۔انہوں نے تورات کی کئی شرحیں بھی لکھ رکھی تھیں۔جنہیں تلمود کہتے تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔اور بہت سے تورات کے عالم بھی تھے۔عرب بھر میں ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔اسی لیے وہ دوسرے سب لوگوں کو اُمی ،ان پڑھ،بدھو کہتے تھے اور انہیں حقیر سمجھتے تھے لیکن ان کی عملی زندگی کا یہ حال تھا کہ وہ بے عمل بھی تھے اور بدعمل بھی۔دنیا کے لالچ میں پھنس کر اللہ کو بھول چکے تھے ۔اللہ کے صرف ان احکام پر عمل کرتے تھے جو ان کی طبیعت اور مزاج کے موافق ہوں۔(تیسیر القرآن)
6۔مدینے اور خیبر میں یہودی طاقت بلحاظ تعداد مسلمانوں سے کسی طرح کم نہ تھی، اور بلحاظ وسائل ان سے بہت زیادہ تھی۔ پھر عرب کے مشرکین اور مدینے کے منافقین بھی ان کی پشت پر تھے اور مسلمانوں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ لیکن جس چیز نے اس نامساوی مقابلے میں مسلمانوں کو غالب اور یہودیوں کو مغلوب کیا وہ یہ تھی کہ مسلمان راہ خدا میں مرنے سے خائف تو درکنار، تہ دل سے اس کے مشتاق تھے۔ (تفہیم القرآن)
۔آیت زیر بحث میں (مِنْ دُوْنِ النَّاسِ) کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن یہاں اشارہ خاص طور پر بنی اسماعیل ہی کی طرف ہے۔ تورات کی پیشین گوئیوں اور نسلی رقابت کی بناء پر یہود کو سب سے زیادہ پرخاش انہی سے تھی۔ اس پر خاش کی پوری سرگزشت سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہ پرخاش تھی تو شروع ہی سے لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد جب انہوں نے تاڑ لیا کہ وہ خطرہ سر پر آگیا جس سے وہ اندیشہ ناک تھے تو یہ آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔ (تدبرِ قرآن)
7۔ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس وقت ان میں کوئی موت کی تمنا کرتا تو اسی وقت مر جاتا (روح) (معارف القرآن)
8۔ یہود کا دنیا کی ذلت کی زندگی سے پیار اور سب یہودی قبائل کا لڑنے کی بجائے قلعہ بند ہونا:۔ ان کی دنیا کی زندگی سے محبت اور موت سے فرار کا یہ حال ہے کہ ذلیل سے ذلیل ترزندگی کو بھی موت پر ترجیح دیتے ہیں۔اسی زندگی کی حرص نے انہیں مال و دولت ،ساز و سامان،اسلحہ اور سامان رسد کی فراوانی کے باوجود ایک بزدل قوم بنادیا تھا ۔شیخیاں بگھارنے میں بڑے ہوشیار اور تیز طرار، مگرمقابلےمیں انتہائی ڈرپوک، اسی وجہ سے یہودیوں کے تینوں قبیلوں میں سے کسی نے بھی مسلمانوں سے میدان میں آکر جنگ نہیں کی۔بنوقینقاع بھی قلع بند ہوئے۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ بھی ۔کیونکہ یہود موت سے ڈرتے تھے جبکہ مسلمان موت سے محبت کرتے تھے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس موت سے تم بہر صورت بچنا چاہتے ہو وہ تمہیں آکے رہے گی۔اور تمہیں اللہ کے حضور پیش بھی ہونا پڑۓ گا۔پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم اللہ کے چہیتے اور لاڈلے تھے یا اس کی لعنت اور اس کے غصہ میں گرفتار تھے۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿9﴾ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴿10﴾ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ ﴿11ع الجمعة 62﴾ |
| 9. مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ 10. پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ۔ 11. اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے اور خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ |
تفسیر آیات
9۔يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ للصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔ ، یوم الجمعہ ، اس دن کو یوم جمعہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے اور آسمان و زمین اور تمام کائنات کی تخلیق جو حق تعالیٰ نے چھ دن میں فرمائی ہے ان چھ میں سے آخری دن جمعہ ہے جس میں تخلیق کی تکمیل ہوئی، اسی دن میں آدم ؑ پیدا کئے گئے، اسی روز میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، پھر اسی دن میں ان کو زمین کی طرف اتارا گیا، اسی دن میں قیامت قائم ہوگی اور اسی دن میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں انسان جو بھی دعا کرے قبول ہوتی ہے یہ سب باتیں احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں (ابن کثیر)۔۔۔۔۔ سب سے پہلے عرب میں کعب بن لوئی نے اس کا نام جمعہ رکھا اور قریش اس دن جمع ہوتے اور کعب بن لوئی خطبہ دیتے تھے، یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پانسو ساٹھ سال پہلے کا ہے۔
کعب بن لوئی آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے ہیں، ان کو حق تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت میں بھی بت پرستی سے بچایا اور توحید کی توفیق عطا فرمائی تھی، انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کی خوشخبری بھی لوگوں کو سنائی تھی، قریش میں ان کی عظمت کا عالم یہ تھا کہ ان کی وفات جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پانسو ساٹھ سال پہلے ہوئی، اسی سے اپنی تاریخ شمار کرنے لگے، عرب کی تاریخ ابتداء میں بنا ئےکعبہ سے لی جاتی تھی کعب بن لوئی کی وفات کے بعد اس سے تاریخ جاری ہوگئی۔ (معارف القرآن)
۔ ایک اذان کا اضافہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے زمانے میں کیا جب مدینہ منورہ کی آبادی زیادہ ہوگئی۔ یہ مدینہ کے بازار میں حضرت عثمان ؓ کے مکان سے دی جاتی۔ اگرچہ یہ اذان سیدنا عثمان ؓ کا اضافہ ہے لیکن اس اضافے کو امت کے تمام اخیار نے بلا کسی نکیر کے قبول کیا۔(تدبر قرآن)
ــــ حضورؐ نے فرمایا جس نے نماز جمعہ کو معمولی اور حقیر سمجھ کر تین جمعے ترک کئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا (ابوداؤد،ترمذی، نسائی)۔(ضیاء القرآن)
ــــ سنت کے واجب الاتباع ہونے پر دلیل:۔ اندازبیان سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ان آیات کے نزول سے پیشتر اذان اور جمعہ دونوں چیزوں سے خوب متعارف تھے۔ انہیں ہدایت صرف یہ دی جارہی ہے کہ جب جمعہ کے لیے اذان ہوجائے تو خرید و فروخت اور دوسرے دنیوی مشاغل سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز اداکرنے کے لیے مسجد میں پہنچ جاؤ۔حالانکہ قرآن میں نہ کہیں اذان کے کلمات کا ذکر ہے اور نہ نماز جمعہ کی ترکیب کا۔ یہ باتیں رسول اللہؐ کی بتائی ہوئی ہیں۔جن کی قرآن سے توثیق کردی گئی ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام واجب الاتباع ہیں اسی طرح رسول اللہؐ کے احکام بھی واجب الاتباع ہیں اور جو شخص صرف قرآن کو واجب الاتباع سمجھتاہے وہ دراصل قرآن کا بھی منکر ہے ۔اذان کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس کے کلمات اور مسائل و فضائل کیا ہیں؟۔۔۔۔۔سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ" ہم آپؐ کے ساتھ جہاد کرتے۔ آپؐ صبح ہونے تک ہمیں چڑھائی کرنے سے روکے رکھتے ۔پھر اگر وہاں (صبح کی)اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر حملہ کرتے"۔(بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب مایحقق بالاذان من الدماء)۔۔۔۔۔سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل واجب ہے اور مسواک کرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو بھی لگانا۔(بخاری۔کتاب الجمعہ۔باب الطیب للجمعہ)۔۔۔۔۔جمعہ فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں۔نہ یہ بچوں پر فرض ہے نہ بوڑھوں پر، نہ عورتوں پر نہ مسافروں یا مریضوں پر نیز بارش کے دن کسی پر بھی فرض نہیں جیساکہ اذان سے متعلق حدیْث نمبر 6 سے بھی واضح ہوتاہے۔۔۔۔۔اور جب ایسی صورت نہ ہو تو نہاکر واجب نہیں۔ البتہ مستحب ضرور ہے۔۔۔۔۔سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے بعد پہلا جمعہ جو ہواوہ عبدالقیس کی مسجد میں ہوا جو بحرین میں جو اثیٰ (جگہ کا نام)میں تھی۔ (بخاری۔ کتاب الجمعہ۔باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن)اس سے معلوم ہواکہ جمعہ ہر گاؤں میں اداکرنا چاہیے ۔شہر ہونا کوئی شرط نہیں۔۔۔۔۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر آنے والوں کی باری باری نام لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتاہے اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر دوسرے کی جیسے گائے کی قربانی کرے پھر تیسرے کی جو مینڈھا ،پھر چوتھے کی جو مرغی ،پھر پانچویں کی جو انڈا قربانی دے۔پھر جب امام (خطبہ کے لئے)نکلتاہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔(بخاری۔کتاب الجمعہ۔باب الاستماع الی الخطبہ)(تیسیر القرآن)
۔اذان جمعہ کے بعد کھانا پینا، سونا، کسی سے بات کرنا، یہاں تک کہ کتاب کا مطالعہ کرنا وغیرہ سب ممنوع ہیں، صرف جمعہ کی تیاری کے متعلق جو کام ہوں وہ کئے جاسکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔اذان جمعہ شروع میں صرف ایک ہی تھی جو خطبہ کے وقت امام کے سامنے کہی جاتی ہے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پھر صدیق اکبر اور فاروق اعظم ک ے زمانے میں اسی طرح رہا، حضرت عثمان غنی کے زمانے میں جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور اطراف مدینہ میں پھیل گئے امام کے سامنے والی خطبہ کی اذان دور تک سنائی نہ دیتی تھی، تو عثمان غنی نے ایک اور اذان مسجد سے باہر اپنے مکان زوراء پر شروع کرا دی جس کی آواز پورے مدینہ میں پہنچنے لگی، صحابہ کرام میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، اس لئے یہ اذان اول باجماع صحابہ مشروع ہوگئی اور اذان جمعہ کے وقت بیع و شراء وغیرہ تمام مشاغل حرام ہوجانے کا حکم جو پہلے اذان خطبہ کے بعد ہوتا تھا اب پہلی اذان کے بعد سے شروع ہوگیا کیونکہ الفاظ قرآن (نُوْدِيَ للصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ) اس پر بھی صادق ہیں، یہ تمام باتیں حدیث و تفسیر اور فقہ کی عام کتابوں میں بلا اختلاف مذکور ہیں۔ (معارف القرآن)
10۔'اللہ کا ذکر'سے مراد خطبہ اور نماز دونوں ہیں۔جمعہ کی نماز ظہر کی نماز کے قائم مقام ہے،جس کی چاررکعتیں جمعہ کے دن تخفیف ہوکر دورہ جاتی ہیں اور ان کی جگہ دو حصوں میں خطبہ کی شکل میں امام حاضرینِ مسجد کو مخاطب کرتاہے۔فرمایا کہ اذان ہوتے ہی دنیا کا ہر کام چھوڑ کر نماز کی طرف لپکو اور نماز سے فراغت کے بعد جس شکل میں چاہو اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔اس سے معلوم ہوا کہ اس امت پر جمعہ کے احترام میں کاروبار زندگی بندرکھنے کی پابندی صرف اذان سے لے کر ختمِ نماز تک کے لیے عائد کی گئی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
11۔ ایک مرتبہ جمعہ میں حضرت محمد ﷺ خطبہ فرما رہے تھے، اسی وقت تجارتی قافلہ باہر سے غلہ لے کر آپہنچا۔ اس کے ساتھ اعلان کی غرض سے نقارہ بجتا تھا۔ پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی۔ لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرائیں (خیال کیا ہوگا کہ خطبہ کا حکم عام وعظوں کی طرح ہے جس میں سے ضرورت کے لیے اٹھ سکتے ہیں۔ نماز پھر آکر پڑھ لیں گے۔ یا نماز ہوچکی ہوگی جیسا کہ بعض کا قول ہے کہ اس وقت نماز جمعہ خطبہ سے پہلے ہوتی تھی۔ بہرحال خطبہ کا حکم معلوم نہ تھا) اکثر لوگ چلے گئے حضرت کے ساتھ بارہ آدمی (جن میں خلفائے راشدین بھی تھے) باقی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشا کیا چیز ہے، وہ ابدی دولت حاصل کرو جو اللہ کے پاس ہے۔(تفسیر عثمانی)
- یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا ،ظاہر ہے کہ ان پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح چڑھا نہیں تھا ۔معلوم ہوتاتھا کہ یہ لوگ خطبہ جمعہ کی اہمیت سے بھی اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اہمیت صرف نماز ہی کی تھی۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ نماز سے پہلے پہلے قافلہ کو دیکھ کر واپس آجائیں گے ۔بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ خطبہ اور پیغمبر خداؐ کے متعلق ایسی ہدایات نازل ہوگئیں جو اس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ جمعہ کا ذکر قرآن میں نہ اس سے پہلے نہ بعد میں ۔مگر حضورؐ کے احکام کی خلاف ورزی گویا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہے۔گفتۂ او گفتہ اللہ بود۔۔۔۔۔ خطبہ جمعہ ،نماز جمعہ کا ایک ضروری رکن ہے دورکعتوں کی جگہ خطبہ جو دورکعتوں کی طرح دو حصوں میں منقسم ہے۔۔۔۔۔ جمعہ کے روز مسلمانوں کیلئے پسندیدہ روش اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے کا وقت وہ جمعہ کی تیاریوں میں صرف کریں۔(تدبر قرآن)
۔اور اسی کے سبب رسول اللہ ﷺ نے خطبہ کے معاملے میں اپنا طرز بدل دیا کہ نماز جمعہ سے پہلے خطبہ دینے کا معمول بنا لیا اور یہی اب سنت ہے (ابن کثیر) (معارف القرآن)
ــــ یہ کس نے کہا ہے کہ صحابہؓ کرام اسلامی تربیت سے پہلے ہی ہمہ صفت موصوف تھے۔ اس سے بڑھ کر بے انصافی اور کیا ہوگی کہ ایک شخص کے زمانۂ طالبعلمی کی کوتاہیاں بیان کرکے اس کی علمی بزرگی اور اخلاقی فضیلت پر زبان ِ طعن دراز کی جائے۔(ضیاء القرآن)
ــــ مسائل جمعہ۔440-444(معارف القرآن)۔۔ْ۔ مسائل جمعہ و تفصیلات492 -505 (تفہیم القرآن)