63 - سورة المنافقون (مدنیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 11 |
مضمون:منافقین کے رویہ سے غلط فہمی میں نہ پڑو۔نفاق کا علاج اللہ کی یاد اور انفاق فی سبیل اللہ سے کرو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
نام: اس کا نام پہلی آیت سے لیا گیا ہے اور اس کا پورا مضمون بھی منافقین ہی سے متعلق ہے۔
شانِ نزول:یہ سورت غزوۂ بنی المصطلق (شعبان6ھ) سے واپسی پر نازل ہوئی جمعے کی نماز میں حضورؐ سورۂ الجمعہ اور سورۂ المنافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
نظم کلام:سورۂ ق
ترتیب مطالعہ اور اہم مضامین: (i)ر۔1(منافقین کا حضورؐ اور مسلمانوں سے رویہ) (ii) ر۔2(نفاق سے بچنے کا نسخہ۔ذکر الٰہی اور انفاق)
تاریخی پس منظر:ضیاء القرآن (243-248)۔(ضیاء القرآن)
- منافقت کے بارے میں جامع ترین سورت۔سورۂ المنافقون۔۔۔ ایمان کے بارے میں جامع ترین سورت۔ سورۂ التغابن(64-اگلی سورۃ)۔(بیان القرآن)
منافقت کا علاج : ذکر الٰہی اور انفاق فی سبیل اللہ (آیات: 9-10)۔(احسن الکلام)
نظمِ جلی: 1۔ آیات 1تا8 : پہلے پیراگراف میں، منافقین کی بارہ(12)صفات گنوائی گئی ہیں۔(1) منافقین کا کلمۂ شہادت جھوٹا ہوتاہے۔(2)منافقین، سچے مسلمانوں کی سزا سے بچنے کے لیے ،کلمۂ شہادت کو ڈھال "جُنَّة"بنالیتے ہیں۔(3)منافقین کم عقل اور غیرفقیہ ہوتے ہیں۔"لَا یَفْقَهُوْنَ"(4)منافقین چرب زبان ہوتے ہیں،لکڑی کے کندے ہوتے ہیں۔"وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ-كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ"(5)منافقین کے دل میں چورہوتا ہے، ہرآہٹ کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔"یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ"(6)منافقین، سچے مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں،ان سے چوکنا رہنا ضروری ہے۔"هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ"(7)منافقین، متکبر ہوتے ہیں، اس لیے اپنی غلطی کو تسلیم کرکے، طالب مغفرت نہیں ہوتے۔"لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ"(آیت:5) (8)منافقین فاسق ہوتے ہیں۔ رسول اللہؐ کی دعا کے باوجود ،اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔(9)منافقین بخیل ہوتے ہیں۔(10) اور دوسروں کو "لَا تُنْفِقُوْا"کہہ کر ،غریب مسلمانوں پر انفاق سے روکتے ہیں، تاکہ اسلامی وحدت انتشار کا شکار ہوجائے۔(11)منافقین اپنے آپ کو باعزت اور سچے مسلمانوں کو ذلیل سمجھتے ہیں۔(12) منافقین مال و اولاد کی محبت میں گرفتار اور "ذکراللہ"سے غافل ہوتے ہیں۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ ﴿1﴾ اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿2﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ ﴿3﴾ وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ ﴿4﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ ﴿5﴾ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ﴿6﴾ هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ ﴿7﴾ یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ﴿8ع المنافقون 63﴾ |
| 1. (اے محمدﷺ) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (از راہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بےشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں۔ 2. انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔ 3. یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔ 4. اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔ 5. اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 6. تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے۔ خدا ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ بےشک خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ 7. یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے۔ 8. کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔ |
تفسیر آیات
1۔ ۔۔۔۔ان کے بارے میں آگے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا بھی ہے کہ ان کے لیے تم مغفرت مانگو بھی تو اللہ ان کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے مقام میں یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تم ستر بار بھی انکے لیے مغفرت مانگو جب بھی اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔فرمایا کہ یہ منافقین جب تمہارے پاس (پیغمبر ﷺ کے پاس) آتے ہیں تو قسم کھا کر اقرار کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اللہ بھی قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ عربی میں نشھد اور واللہ یشھد کے الفاظ قسم کے مفہوم کے حامل ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
4۔حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا، تندرست، خوش شکل اور چرب زبان آدمی تھا۔ اور یہی شان اس کے بہت سے ساتھیوں کی تھی۔ یہ سب مدینہ کے رئیس لوگ تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتے تو دیواروں سے تکیے لگا کر بیٹھتے اور بڑی لچھے دار باتیں کرتے۔ ان کے جُثّے بشرے کو دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر کوئی یہ گمان تک نہ کرسکتا تھا کہ بستی کے یہ معززین اپنے کردار کے لحاظ سے اتنے ذلیل ہوں گے۔۔۔۔۔۔یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو ایمان سے نفاق کی طرف الٹا پھر انے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس اوندھی چال کا کوئی ایک محرک نہیں ہے بلکہ بہت سے محرکات اس میں کار فرما ہیں۔ شیطان ہے۔ برے دوست ہیں۔ ان کے اپنے نفس کی اغراض ہیں۔ کسی کی بیوی اس کی محرک ہے۔ کسی کے بچے اس کے محرک ہیں۔ کسی کی برادری کے اشرار اس کے محرک ہیں۔ کسی کو حسد اور بغض اور تکبر نے اس راہ پر ہانک دیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
6۔ اس کی تشریح کے لیے سورۂ توبہ کی آیات نمبر 80 اور 84 کے حواشی دیکھ لیے جائیں جو اس موقعہ پر نازل ہوئی تھیں۔جب عبداللہ بن ابی کی وفات واقع ہوئی تھی۔(تیسیر القرآن)
7۔ عبداللہ بن ابی کے اسلام لانے کی وجوہ:۔عبداللہ بن ابی کے ان حالات میں اسلام لانے کی مجبوریاں تین تھیں ایک یہ کہ بدر کی فتح نے عرب بھر میں مسلمانوں کی دھاک بٹھادی تھی۔ عبداللہ بن ابی بھی ایسے موقع شناس لوگوں میں سے تھا۔جو چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ مدینہ میں اگرچہ یہود و مشرکین بھی آباد تھے مگر بااثر مسلمان ہی تھے تیسرے یہ کہ عبداللہ بن ابی کا اپنا بیٹا، اس کا نام بھی عبداللہ ہی تھا، مسلمان ہوچکا تھا اور وہ سچا مسلمان تھا۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
8۔6ہجری میں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان جھگڑا ہوگیا تو منافقوں کے سردار عبدااللہ بن ابی نے انصار کو اکسانے کے لیے کہا کہ مدینہ کی سرزمین پر عزت و اقتدار ہمارا حق ہے۔۔۔۔۔اگرہم ان کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیں گے تو یہ مدینہ سے بھاگ کھڑے ہوں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ جب میں نے عبداللہ بن ابی کا یہ قول رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا، اور اس نے آ کر صاف انکار کردیا اور اس پر قسم کھا گیا، تو انصار کے بڑے بوڑھوں نے اور خود میرے اپنے چچا نے مجھے بہت ملامت کی، حتیٰ کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ حضور ﷺ نے بھی مجھے جھوٹا اور عبداللہ بن ابی کو سچا سمجھا ہے۔ اس چیز سے مجھے ایسا غم لاحق ہوا جو عمر بھر کبھی نہیں ہوا اور میں دل گرفتہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا کر ہنستے ہوئے میرا کان پکڑا اور فرمایا لڑکے کا کان سچا تھا، اللہ نے اس کی خود تصدیق فرما دی (ابن جریر۔ ترمذی میں بھی اس سے ملتی جلتی روایت موجود ہے)۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿9﴾ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿10﴾ وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ ﴿11ع المنافقون 63﴾ |
| 9. مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ 10. اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا۔ 11. اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔ |