64 - سورة التغابن (مدنیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 18 |
مضمون: اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔اس کی کامیابی کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: آخرت کی ہارجیت ہی ،اصل ہارجیت (التغابن)ہے۔آخرت کی کامیابی (الفوز)کے حصول کیلئے سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے ۔اس سورۃ کا دوسرارکوع ایک کسوٹی ہے جس پر ہرانسان اپنے ایمان کو پرکھ کر دیکھ سکتاہےکہ ایمان موجود ہے یا نہیں،ہے تو کتنا اور کیسا۔
نام: آیت نمبر9 کے فقرے ذٰلک یوم التغابن سے اس کا نام لیا گیا ہے۔تغابن کا لفظی معنیٰ ہے جیت اور ہار۔دنیا میں جیت اور ہار کے اور پیمانے ہیں اور قیامت کے اور ۔اُس روز بہت سارے دنیا کے اندر جیتے ہوئے ہارچکے ہونگےاور دنیا والوں کی نظروں میں بیشمار ہزیمت خوردہ مگر فی الحقیقت خوش قسمت،کامیابی کے پروانے حاصل کررہے ہوں گے۔کامیابی کا دارومدار ایمان اور عملِ صالح پر ہے لیکن اس کے ساتھ اللہ کی رحمت بنیادی کردار اداکریگی۔
شانِ نزول: یہ سورۃ ہجرت ِ مدینہ کےفوراًبعدنازل ہوئی ۔اس میں انصار و مہاجرین کو انفاق اور جہاد کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول: سورۃ "التغابن"غالباً پہلی مکمل سورت ہے، جو 1ھ میں، مدینۂ منورہ کی ہجرت کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے ہجرت کے فوراً بعد سورۃ الحج کی آیات (25 تا78) نازل ہوئی تھیں۔مدنی سورت کے ذریعے مہاجرین وانصار کو انفاق اور جھاد کے لئے تیارکیا گیا ۔مدنی سورت ہونے کے باوجود ،سورۃ التغابن کا مزاج مکی سورتوں سے مشابہ ہے لیکن اس میں انفاق (آیت: 16)اور قرض حسن (آیت :17)کی اپیل بھی ہے ،اور مہاجرین کے لیے نصیحت بھی ہے کہ جن رشتے داروں اور مکانات و جائداد وغیرہ کو یہ مکے میں چھوڑ آئے ہیں، وہ ان کے ایمان کے لیے آزمائش "فتنہ"ہیں (آیت: 15)۔سورۃ التغابن میں قتال کا ذکر نہیں ہے، لیکن نئی اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے ،"مالی جھاد"یعنی انفاق کا ذکر ہے اور قریشِ مکہ کے خلاف جنگ کے لیے تمہید اور ان کے خلاف فرد جرم(Charge sheet)بھی ہے۔ نومسلموں کو ذہنی طورپر جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے اور قریشِ مکہ سے جنگ کا جواز (Legitimacy of war)فراہم کیا گیاہےکہ 1۔ قریش مکہ، رسول اللہؐ کی رسالت کو"بشر"یعنی انسان کہہ کر مسترد کرچکے تھے۔"اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا" کیا ایک انسان ہمیں ہدایت دے گا؟ (آیت:6)مشرکین مکہ اپنے بتوں کی محبت میں، رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو جلاوطن کرچکے ہیں۔2۔ یہ منکرین آخرت بھی تھے، جو کہتے تھے کہ ہم دوبارہ نہیں اُٹھائے جائیں گے"لَنْ یُّبْعَثُوْا"۔(آیت: 7)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
نظمِ کلام: سورۂ ق
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1 (ایمان و طاعت کی دعوت اور ہارجیت کا اصل میدان)(ii)ر۔2(انفاق ،قرضِ حسن اور بیوی بچوں کا فتنہ)
تعارفِ آیات: ۔پہلی سات آیات میں صفاتِ الٰہی (4) رسالت(2)اور آخرت(1)کا تذکرہ۔اور پھر اٰمنو۔(7-3)10آیات میں ایمانیات ثلاثہ اور دعوت ایمان ۔بقیہ آٹھ آیات(ر۔2) میں ثمرات ایمان اور ایمان کے اہم تقاضے ۔اطیعواللہ و اطیعوالرسولؐ (بیان القرآن)
پہلا رکوع |
| یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿1﴾ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿2﴾ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ ﴿3﴾ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿4﴾ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿5﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ ﴿6﴾ زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ ﴿7﴾ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ﴿8﴾ یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴿9﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ ﴿10ع التغابن 64﴾ |
| 1. جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 2. وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے۔ 3. اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں۔ اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے۔ 4. جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے۔ 5. کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے۔ 6. یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں؟ تو انہوں نے (ان کو) نہ مانا اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی۔ اور خدا بےپروا (اور) سزاوار حمد (وثنا) ہے۔ 7. جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔ 8. تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ 9. جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ 10. اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل ذوزخ ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے۔ |
تفسیر آیات
2۔۔۔۔۔۔۔تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اس نے تو تم کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا تھا جس کا تقاضا یہ تھا کہ تم سب ایمان کی راہ اختیار کرتے، مگر اس صحیح فطرت پر پیدا ہونے کے بعد تم میں سے بعض لوگوں نے کفر اختیار کیا جو ان کی خلقت و آفرینش کے خلاف تھا، اور بعض نے ایمان کی راہ اختیار کی جو ان کی فطرت کے مطابق تھی۔ یہ مضمون اس آیت کو سورة روم کی آیت 30 کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے سمجھ میں آتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ " یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین پر جمادو، قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت نہ بدلی جائے، یہی بالکل راست اور درست دین ہے "۔۔۔۔۔۔۔اس فقرے میں " دیکھنے " کا مطلب محض دیکھنا ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جیسے تمہارے اعمال ہیں ان کے مطابق تم کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ (تفہیم القرآن)
۔ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے (کل مولود یولد علی الفطرة فابو اہ یھودانہ وینصرانہ (الحدیث) ”یعنی ہر پیدا ہونے والا انسان فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے (جس کا تقاضا مومن ہونا ہے) مگر پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی وغیرہ بنا دیتے ہیں (قرطبی) (معارف القرآن)
3۔اس آیت میں تین باتیں علی الترتیب بیان کی گئی ہیں جن کے درمیان ایک بہت گہرا منطقی ربط ہے۔۔۔۔۔۔۔پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ اللہ نے یہ کائنات بر حق پیدا کی ہے۔ " برحق " کا لفظ جب خبر کے لیے بولا جاتا ہے تو مراد ہوتی ہے سچی خبر۔ حکم کے لیے بولا جاتا ہے تو مطلب ہوتا ہے مبنی بر عدل و انصاف حکم۔ قول کے لیے بولا جاتا ہے تو مقصود ہوتا ہے راست اور درست قول۔ اور جب کسی فعل کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو مراد ایسا فعل ہوتا ہے جو حکیمانہ اور معقول ہو نہ کہ لایعنی اور فضول۔ اب یہ ظاہر ہے کہ خَلْق ایک فعل ہے، اس لیے تخلیق کائنات کو بر حق کہنے کا مطلب لا محالہ یہ ہے کہ یہ کائنات کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنادی گئی ہے بلکہ یہ ایک خالق حکیم کا نہایت سنجیدہ کام ہے۔ اس کی ہر چیز اپنے پیچھے ایک معقول مقصد رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا ہے۔ صورت سے مراد محض انسان کا چہرہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اس کی پوری جسمانی ساخت ہے اور وہ قوتیں اور صلاحیتیں بھی اسکے مفہوم میں شامل ہیں جو اس دنیا میں کام کرنے کے لیے آدمی کو عطا کی گئی ہیں۔ ان دونوں حیثیتوں سے انسان کو زمین کی مخلوقات میں سب سے بہتر بنایا ہے، اور اسی بنا پر وہ اس قابل ہوا ہے کہ ان تمام موجودات پر حکمرانی کرے جو زمین اور اس کے گرد و پیش میں پائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ان دو باتوں سے جو اوپر بیان کی گئی ہیں بالکل ایک منطقی نتیجہ کے طور پر وہ تیسری بات خود بخود نکلتی ہے جو آیت کے تیسرے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے کہ " اسی کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے "۔ ظاہر بات ہے کہ جب ایسے ایک حکیمانہ اور با مقصد نظام کائنات میں ایسی ایک با اختیار مخلوق پیدا کی گئی ہے تو حکمت کا تقاضا ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسے یہاں شتر بےمہار کی طرح غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا جائے، بلکہ لازماً اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ مخلوق اس ہستی کے سامنے جواب دہ ہو جس نے اسے ان اختیارات کے ساتھ اپنی کائنات میں یہ مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
4۔دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ تم علانیہ کرتے ہو "۔ (تفہیم القرآن)
8۔یہاں نورسے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ وہ اپنے اعجاز ِ بیان سے خود بھی روشن ہے اور دوسرے حقائق کو بھی منور کرنے ولا ہے۔(ضیاء القرآن)
9۔ یَومُ التَّغَابُنِ کا ترجمہ شاہ عبدالقادر ؒ نے ہارجیت کا دن کیا ہے۔یہ ترجمہ ہمارے نزدیک لفظ کی صحیح روح کے مطابق ہے۔ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انہوں نے اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ رکھا ہے حالانکہ یہ دنیا دارالانعام نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔(تدبر قرآن)
-حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے صحابہ کرامؓ سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟صحابہؓ نے عرض کیا (مال و متاع کی کمی) حضورؐ نے فرمایا کہ ایک شخص قیامت کے دن نماز،روزہ،زکوٰۃ لیکر آئیگا مگر دنیا میں کسی کو گالی دی،کسی پر بہتان باندھاہوگا،کسی کو مارا یا قتل کیا،کسی کامال ناحق لے لیا ہو گا۔یہ سب لوگ اس کی نیکیاں لیجائیں گے اور نیکیاں ختم ہونے پر اُنکے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور وہ جہنم میں ہو گا (مسلم۔ترمذی)۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابن عباس اور دوسرے ائمہ تفسیر نے قیامت کو یوم التغابن کہنے کی یہی وجہ بیان کی ہے اور بہت سے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اس دن غبن اور خسارے کا احساس صرف کفار فجار اور اشقیاء ہی کو نہیں بلکہ صالحین مومنین کو بھی اس طرح ہوگا کہ کاش ہم عمل اور زیادہ کرتے تاکہ جنت کے مزید درجات حاصل کرتے، اس روز ہر شخص کو اپنی عمر کے اوقات پر حسرت ہوگی، جو فضول ضائع کئے۔ (معارف القرآن)
- قرآن کریم میں قیامت کے جتنے نام آئے ہیں،سب سے زیادہ پر معنیٰ نام یہی ہے۔۔۔۔۔ اصل میں لفظ یَوْمُ التَّغابُنِ استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ اردو زبان تو کیا، کسی دوسرے زبان کے بھی ایک لفظ، بلکہ ایک فقرے میں اس کا مفہوم ادا نہیں کیا جاسکتا۔ خود قرآن مجید میں بھی قیامت کے جتنے نام آئے ہیں، ان میں غالباً سب سے زیادہ پُر معنی نام یہی ہے۔ اس لیے اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تشریح ناگزیر ہے۔۔۔۔۔۔ اس سے جب لفظ تغابن بنایا جائے تو اس میں دو یا زائد آدمیوں کے درمیان غبن واقع ہونے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب اس بات پر غور کیجیے کہ آیت میں قیامت کے متعلق فرمایا گیا ہے ذٰلِکَ یَوْ مُ التَّغَابُنِ ، " وہ دن ہوگا تغابن کا "۔ ان الفاظ سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ دنیا میں تو شب و روز تغابن ہوتا ہی رہتا ہے، لیکن یہ تغابن ظاہری اور نظر فریب ہے، اصل اور حقیقی تغابن نہیں ہے۔ اصل تغابن قیامت کے روز ہوگا۔ وہاں جاکر پتہ چلے گا کہ اصل میں خسارہ کس نے اٹھایا اور کون نفع کما لے گیا۔ اصل میں کس کا حصہ کسے مل گیا اور کون اپنے حصے سے محروم رہ گیا۔ اصل میں دھوکا کس نے کھایا اور کون ہوشیار نکلا۔ اصل میں کس نے اپنا تمام سرمایۂ حیات ایک غلط کاروبار میں کھپا کر اپنا دیوالیہ نکال دیا، اور کس نے اپنی قوتوں اور قابلیتوں اور مساعی اور اموال اور اوقات کو نفع کے سودے پر لگا کر وہ سارے فائدے لوٹ لیے جو پہلے شخص کو بھی حاصل ہو سکتے تھے اگر وہ دنیا کی حقیقت سمجھنے میں دھوکا نہ کھاتا۔۔۔۔۔۔ دنیا میں یہ ہوسکتا ہے کہ مومن سراسر گھاٹے میں رہے اور کافر بڑے فائدے حاصل کرتا رہے۔ مگر آخرت میں جا کر معلوم ہوجائے گا کہ اصل میں نفع کا سودا کس نے کیا ہے اور نقصان کا سودا کس نے۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنۢ ْ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿11﴾ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ﴿12﴾ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴿13﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿14﴾ اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ﴿15﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿16﴾ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ ﴿17﴾ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ ﴿18ع التغابن 64﴾ |
| 11. کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔ 12. اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔ 13. خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔ 14. مومنو! تمہاری عورتیں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے۔ 15. تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے۔ اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔ 16. سو جہاں تک ہوسکے خدا سے ڈرو اور (اس کے احکام کو) سنو اور (اس کے) فرمانبردار رہو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور جو شخص طبعیت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں۔ 17. اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دوچند دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔ 18. پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے۔ |
تفسیر آیات
14۔ اگر انہوں نے تمہارے ساتھ دشمنی کی اور تم کو دینی یا دنیاوی نقصان پہچ گیا تو اس کا اثر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تم انتقام کے درپے ہوجاؤاور ان پر نامناسب سختی شروع کردو۔ایسا کرنے سے دنیا کا انتظام درہم برہم ہوجائیگا۔(تفسیر عثمانی)
-گناہ گار بیوی بچوں سے نہ بیزار ہونا چاہیےاور نہ ہی بغض رکھنا چاہیے اور نہ ہی بددعا دینی چاہیے۔(معارف القرآن)
16۔ تقویٰ بھی اپنی طاقت کے مطابق واجب ہے ۔مقصد یہ ہے کہ حصول ِ تقویٰ میں اپنی پوری توانائی اور کوشش کرلےتو اس سے اللہ کا حق ادا ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔ یہ آیت اور اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ(اللہ سے ایسا ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔آل عمران:102) لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا(286:2) (معارف القرآن)
۔۔۔۔۔ پہلی آیت وہ معیار ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے جس تک پہنچنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری آیت یہ اصولی بات ہمیں بتاتی ہے کہ کسی شخص سے بھی اس کی استطاعت سے زیادہ کام کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القران)
۔ آلِ عمران میں فرمایا: اللہ سے ایسے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔یہاں فرمایا جتنا مقدورہے۔اس اختلاف کی وجہ ،ابرار و مقربین کے تقویٰ میں جو فرق ہے اس کی طرف اشارہ ۔آل عمران میں مقربین کے پیشِ نظر یہاں ابرار۔ہر شخص میں وہ صلاحیتیں نہیں پائی جاتیں،جتنی تمہاری بساط ہے،جتنی ہمت کے تم مالک ہو،اتنا تقویٰ اختیار کرو۔مزید تقویٰ کی توفیق وہ جب چاہے گا عطاکردیگا۔(ضیاء القرآن)
17۔قرض حسن سے مراد وہ قرض ہے جو اچھے مال میں سے دیا جائے، خوشدلی اور فیاضی سے دیا جائے اور خود ضرورت مندہونے کے باوجود دیا جائے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)