65 - سورة الطلاق (مدنیہ)

رکوع - 2 آیات - 12

مضمون: باہمی نفرت و عداوت کی صورت میں حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام لازم ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

نام: اس سورۃ میں نکاح و طلاق ، عدت اور رضاعت کے بارے میں مزید مسائل بیان کئے گئے ہیں جو اس سے قبل سورۂ بقرہ اور سورۂ نسا میں بھی گزرچکے ہیں۔چونکہ یہاں انہی مسائل کی تفصیل ہے اس لئے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اسے چھوٹی سورۂ نسا کہا کرتے تھے۔

شانِ نزول: سورہ البقرہ کے عائلی احکام کی تکمیل کیلئے البقرہ کے بعد 2ہجری میں نازل کی گئی۔

نظمِ کلام: سورۂ ق

ترتیب ِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1(طلاق اور عدت کے احکام) (ii)ر۔2(نافرمانوں کا انجام)

سورۂ بقرۂ اور الطلاق کا تعارف (2-271)چند مسائل (280،276)تفہیم (563،553) دوسورتیں (الطلاق اور التحریم)معاشرتی اور عائلی نظام کی واضح ہدایات ہیں۔)ضیاء القرآن(

کلیدی مضمون: اس سورت میں "تقویٰ"کا ذکر پانچ(5)آیات میں ہواہے:(آیات: 1، 2،4، 5 اور 10)معلوم ہواکہ خاندانی نظام کی استواری کا انحصار،میاں بیوی کے التزام ِ تقویٰ اور "حدود اللہ"کی پاسداری پر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سورت میں اللہ کا "تقویٰ"اختیار کرنے کے چھ فوائد بیان کیے گئے ہیں۔(1)"مخرج "فراہم ہوتاہے،مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔ "وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا"(آیت: 2)۔ (2)وہاں سے رزق  ملتاہے ،جہاں سے گمان نہیں ہوتا۔"وَ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ"(آیت:3)۔ (3)آسانیاں فراہم ہوتی ہیں۔"وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا"(آیت:4)۔ (4) گناہ مٹ جاتے ہیں۔"وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ"(آیت:5)۔ (5)اجرِ عظیم ملتاہے۔(وَ یُعْظِمْ لَهٗاَجْرًا)(آیت: 5)۔  (6)تقویٰ،ذہانت اور عقل مندی کی دلیل ہے۔"فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰاُولِی الْاَلْبَابِ"(آیت: 10)(قرآنی  سورتوں کا نظمِ جلی)


پہلا رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنۢ ْ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا ﴿1﴾ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ  ﴿2﴾ وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا ﴿3﴾ وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا ﴿4﴾ ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا ﴿5﴾ اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ  ﴿6﴾ لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠  ﴿7﴾ وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا    ۧ ۧ ﴿8ع الطلاق 65﴾
1. اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے۔ 2. پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا۔ 3. اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ 4. اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا۔ 5. یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں۔ اور جو خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا،۔ 6. عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔ 7. صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔ 8. اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

تفسیر آیات

 1۔  عدت اور طلاق کے مسائل صفحہ 553 سے 563  (تفہیم القرآن)

۔ معارف القرآن جلد اول ص 05 میں سورة بقرہ کی تفسیر میں اسی عنوان مذکور کے تحت میں پوری تفصیل لکھی جا چکی ہے اس کو ملاحظہ فرمالیں۔۔۔۔۔اور چونکہ معاملہ ازدواج کی درستی پر عام نسل انسانی کی درستی موقوف ہے اس لئے قرآن کریم میں ان عائلی مسائل کو تمام دوسرے معاملات سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ قرآن کریم کو بغور پڑھنے والا یہ عجیب مشاہدہ کرے گا کہ دنیا کے عام معاشی مسائل میں سب سے اہم تجارت شراکت اور اجارہ وغیرہ ہیں۔ قرآن حکیم نے ان کے تو صرف اصول بتلانے پر اکتفا فرمایا ہے ان کے فروعی مسائل قرآن میں شاذ و نادر ہیں۔ بخلاف نکاح و طلاق کے کہ ان میں صرف اصول بتلانے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کے بیشتر فروع اور جزئیات کو بھی براہ راست حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرمایا ہے۔۔۔۔۔یہ مسائل قرآن کی اکثر سورتوں میں متفرق اور سورة نساء میں کچھ زیادہ تفصیل سے آئے ہیں ۔ یہ سورت جو سورة طلاق کے نام سے موسوم ہے اس میں خصوصیت سے طلاق اور عدت وغیرہ کے احکام کا ذکر ہے اسی لئے بعض روایات حدیث میں اس کو سورة نساء صغریٰ بھی کہا گیا ہے یعنی چھوٹی سورة نساء (قرطبی بحوالہ بخاری)۔۔۔۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل سے روایت  ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر جو کچھ پیدا فرمایا ہے ان سب میں اللہ کے نزدیک محبوب غلاموں کو آزاد کرنا ہے اور جتنی چیزیں زمین پر پیدا کی ہیں ان سب میں مبغوض و مکروہ طلاق ہے (از قرطبی)۔۔۔۔۔۔ احکام طلاق کو اس طرح شروع کیا گیا کہ اول رسول اللہ ﷺ  کو يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ کے عنوان سے خطاب کیا گیا جو امام قرطی کے بیان کے مطابق ان مواقع میں استعمال ہوتا ہے جہاں حکم تمام امت کے لئے عام اور جس جگہ کوئی حکم رسول کی ذات سے متعلق ہوتا ہے تو وہاں یایھا الرسول سے خطاب کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔اس جملہ يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ کا تقاضا یہ تھا کہ آگے بھی بصیغہ مفرد احکام کا بیان ہوتا مگر یہاں اس کے خلاف بصیغہ جمع خطاب فرمایا   اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗء جو اگرچہ بلاواسطہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور بصیغہ جمع خطاب کرنے میں آنحضرت ﷺ  کی تعظیم و تکریم بھی ہے  ساتھ ہی اس طرف  اشارہ بھی  کہ یہ حکم آپ ک ے لئے مخصوص  نہیں تمام امت اس میں شریک ہے۔  (معارف القرآن)

۔۔۔لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ میں لفظ (بُیُوْتِهِنَّ) اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ مرد کو یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ گھر اسی کا ہے بلکہ یہ گھر جس طرح اس کا ہے اسی طرح زمانہ عدت میں بیوی کا بھی ہے۔ اس وجہ سے نہ تو مرد کے لیے جائز ہے کہ بیوی کو اس کے گھر سے نکالے اور نہ بیوی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ برہم ہو کر گھر سے چل کھڑی ہو۔ یہاں نکلنے سے مراد وہ نکلنا نہیں ہے جو معمولاً اپنی چھوٹی موٹی ضروریات کے لیے ہوا کرتا ہے بلکہ وہ نکلنا ہے جو کسی گھر کے خیرباد کہنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

 یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ اوپر جو ہدایات دی گئی ہیں وہ نصیحت کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ قانون کی۔ آدمی سنت کے خلاف طلاق دے بیٹھے، عدت کا شمار محفوظ نہ رکھے، بیوی کو بلا عذر معقول گھر سے نکال دے، عدت کے خاتمے پر رجوع کرے تو عورت کو ستانے کے لیے کرے اور رخصت کرے تو لڑائی جھگڑے کے ساتھ کرے، اور طلاق، رجوع، مفارقت، کسی چیز پر بھی گواہ نہ بنائے، تو اس سے طلاق اور رجوع اور مفارقت کے قانونی نتائج میں کوئی فرق واقع نہ ہوگا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کے خلاف عمل کرنا اس بات کی دلیل ہوگا کہ اس کے دل میں اللہ اور روز آخرت پر صحیح ایمان موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو ایک سچے مومن کو اختیار نہ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ سیاق کلام خود بتارہا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا مطلب سنت کے مطابق طلاق دینا، عدت کا ٹھیک ٹھیک حساب رکھنا، بیوی کو گھر سے نہ نکالنا، عدت کے اختتام پر عورت کو روکنا ہو تو نباہ کرنے کی نیت سے رجوع کرنا اور علیحدگی ہی کرنی ہو تو بھلے آدمیوں کی طرح اس کو رخصت کردینا، اور طلاق، رجوع یا مفارقت، جو بھی ہو، اس پر دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لینا ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اس طرح تقویٰ سے کام لے گا اس کے لیے ہم کوئی مخرج (یعنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ) نکال دیں گے۔ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص ان امور میں تقویٰ سے کام نہ لے گا وہ اپنے لیے خود ایسی الجھنیں اور مشکلات پیدا کرلے گا جن سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے نہ مل سکے گا۔ ان الفاظ پر غور کیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک طلاق بدعی سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی اور جو لوگ بیک وقت یا ایک ہی طہر میں دی ہوئیں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیتے ہیں، ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر طلاق بدعی واقع ہی نہ ہو تو سرے سے کوئی الجھن پیش نہیں آتی جس سے نکلنے کے لیے کسی مخرج کی ضرورت ہو۔ اور اگر تین طلاق اکٹھی دے بیٹھنے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہو، تب بھی مخرج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں آخر وہ پیچیدگی کیا ہے جس سے نکلنے کے لیے کسی راستے کی حاجت پیش آئے ؟ (تفہیم القرآن)

3۔ وَ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔ ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا (اور وہ اسے رزق دیتاہے جہاں سے گمان تک نہیں ہوتا)کہ اگر تمام دنیا کے لوگ اس ایک آیت کوپکڑلیں توان کو کافی ہوجائے۔)تفسیر عثمانی(

کارسازِ مابفکر کارِ ما فکرِ مادرکارِ ماآزار ما

دنیا ختم ہونے سے پہلے تمام دنیا میں اللہ کا دین غالب ہونا ہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کیلئے کون،کتنا حصہ ڈالتاہے۔)بیان القرآن(

۔ ہمارے نزدیک ان دونوں ہی مسلکوں میں تھوڑی تھوڑی کسر ہے جس کی اصلاح، احترام شریعت کے نقطہ نظر سے، ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کی اتنی واضح ہدایات کے باوجود، ایک ہی سانس میں کئی طلاقیں دے ڈالتا ہے اور اس کی اس جسارت پر اس کو کوئی تادیب نہیں ہوتی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ دین کے ساتھ اس نے جو مذاق کیا اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس کا نوٹس لینا ضروری ہے ورنہ لفظ طلاق ایک بالکل بےمعنی لفظ بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ شریعت میں نکاح و طلاق کے الفاظ نہایت اہم ہیں جن کو مذاق کے طور پر بھی استعمال کیا جائے تو یہ حقیقت بن جاتے ہیں۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو حنفیہ کا مسلک، احترام شریعت کے نقطہ نظر سے زیادہ قرین صواب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی طلاق کو واقعہ کردیتے ہیں، لیکن ایک خامی اس میں بھی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اس کو کوئی تادیب و تعزیز نہ کی جائے تو مجرد اس بات سے کہ اس طرح طلاق دینے والا عند اللہ گناہ گار ہوگا لوگوں کے اندر قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کا صحیح احترام پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کی طلاق کو نافذ کرنے کے ساتھ دین کے ساتھ کھیل کرنے کی کوئی سزا بھی اس کو دی جائے تاکہ جو لوگ طلاق دینے کا یہ غلط طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ حنفیہ کے اس فتوے کی بنیاد حضرت عمر ؓ کے ایک اجتہاد پر ہے اور ہمیں جہاں تک علم ہے ان کا اجتہاد یہ ہے کہ اس طرح طلاق دینے والے کی طلاق نافذ تو کر دینی چاہیے اس لیے کہ اس نے ضائع کیا ہے تو اپنا حق رجعت ضائع کیا ہے لیکن ساتھ ہی حدود الٰہی کی جو خلاف ورزی اس نے کی ہے اس کی سزا بھی اس کو ملنی چاہیے تاکہ دوسروں کو حدود شریعت کی خلاف ورزی کی جرأت نہ ہو۔ یہ اجتہادنہایت حکیمانہ ہے۔ ہم نے اس کتاب میں فقہی جزئیات پر بحث کے لیے ایک خاص حد مقرر کرلی ہے اس وجہ سے اشارہ پر کفایت کرتے ہیں اپنے بعض فقہی مقالات میں ہم نے اس پر بحث کی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

 اس حکم کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورة بقرہ کی آیت 234 میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن  بیان ہوئی ہے اور یہاں حاملہ کی عدت وضح حمل بیان ہوئی ہے تو اگر کسی حاملہ مطلقہ کا شوہرانتقال کر جائے تو وہ عدت کے چار مہینے دس دن پورے کرے گی یا وضع حمل کے ساتھ ہی اس کی عدت ختم ہوجائے گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حاملہ کی عدت مہینوں اور دنوں کے حساب سے مقرر نہیں کی جاسکتی۔ وہ تو بہر حال وضع حمل ہی کے ساتھ مشروط ہوگی۔ یہ چار ماہ دس دن سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی ہو سکتی ہے۔ اگر زیادہ ہوجائے تو عورت بہر حال اس کو گزارنے کی پابند ہوگی تو جب کم ہو تو عورت کو اس کمی سے فائدہ اٹھانے کا بھی حق ہونا چاہیے۔ گویا یہ دونوں حکم دو الگ الگ حالتوں سے متعلق ہیں اور دونوں اپنے اپنے دائروں میں نافذ العمل رہیں گے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ یہاں یہ بتادیا کہ ان دونوں قسم کی بیویوں کی عدتِ طلاق کی مدت پورے تین مہینے ہے۔ ایک فقہی استنباط آیت سے یہ بھی ہواکہ لڑکیوں کا نکاح قبل بلوغ یا کم سنی میں بھی بالکل جائز ہے۔جب طلاق قبل بلوغ ہوسکتی ہے تو ظاہر ہے کہ نکاح تو طلاق سے قبل ہی ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

6۔۔۔۔۔ سورة بقرہ کی آیت 233 کے تحت رضاعت سے متعلق بنیادی مسائل پر گفتگو ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

۔ ایجابی پہلو ذکر کیا گیا کہ ان کو عدت پوری ہونے تک اپنی وسعت وقدرت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم خود رہتے ہو اسی مکان کے کسی حصہ میں رکھو۔ اگر مطلقہ بطلاق رجعی ہے جب تو باہم کسی پردہ کی بھی ضرورت نہیں، ہاں اگر طلاق بائن دی ہے یا تین طلاق دے دی ہیں تو اب رشتہ نکاح ٹوٹ چکا ہے اس کو سابق شوہر سے پردہ کرنا چاہئے اس لئے پردہ کیساتھ اسی مکان میں رہنے کا انتظام کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔ مسئلہ۔ اگر دوسری عورت سے دودھ پلوانا طے ہوجائے تو یہ ضروری ہے کہ دودھ پلانے والی عورت اس کی ماں کے پاس رکھ کر دودھ پلائے۔ ماں سے الگ کر کے دودھ پلوانا جائز نہیں کیونکہ حضانت یعنی تربیت اور اپنی نگرانی میں رکھنا ازروئے احادیث صحیحہ ماں کا حق ہے اس سے یہ حق سلب کرنا جائز نہیں (تفسیر مظہری) (معارف القرآن)


دوسرا رکوع

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا ﴿9﴾ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ  ﴿10﴾ رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا ﴿11﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠   ﴿12ع الطلاق 65﴾
9. سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔ 10. خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو۔ خدا نے تمہارے پاس نصیحت (کی کتاب) بھیجی ہے۔ 11. (اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا ان کو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں ابدالاآباد ان میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے۔ 12. خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہرچیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تفسیر آیات

10۔ یٰاُولِی الْاَلْبَابِ کے بعد الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  سے یہ بات نکلتی ہے کہ عقل اور ایمان میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ جو شخص عاقل ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایمان سے بہرہ ور ہو۔ اگر کوئی شخص ایمان سے بہرہ ور نہیں ہے تو خواہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپنے میں کتنا ہی ماہر ہو لیکن اس کی عقل میں بہت بڑا فتور ہے۔ (تدبرِ قرآن)

11۔رَّسُوْلاًیہاں ذِکرًا سے بدل ہے اور اس کا بدل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں میں روح اور قالب کا رشتہ ہے۔ چناچہ قرآن کے لیے جس طرح لفظ ذکر آیا ہے اسی طرح رسول کے لیے مذکر آیا ہے۔ (اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ) (الغاشیہ : 88۔ 21) (تم تو بس ایک مذکر ہو) رسول اللہ ﷺ کی زندگی سراپا ان حقائق کی یاددہانی تھی جن کی یاددہانی کے لیے قرآن نازل ہوا۔ یعنی قرآن نے جو کچھ بتایا رسول اللہ ﷺ نے وہ سب کچھ کر کے بھی دکھا دیا جس سے لوگوں پر اللہ کی حجت اس طرح پوری ہوگئی کہ اس میں کسی پہلو سے کوئی کسر باقی نہیں رہی۔(تدبرِ قرآن)

12۔ متشابہات میں سے ہے۔)بیان القرآن(

- مماثلت کی دو وجوہ بیان کی گئی ہیں (i)آسمان بھی سات اور زمینیں بھی سات۔(ii)جس طرح آسمانوں کی اس نے تخلیق کی اسی طرح زمین کی بھی اسی نے تخلیق کی ۔اگر زمینوں کی تعداد سات مانی جائے تو امام رازی نے کہاہے کہ سات زمینوں سے مراد وہ سات براعظم ہیں جنہیں بڑے بڑے سمندر ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں یا سات زمینوں سے مراد سات کواکب ہیں (مثلاً مریخ وغیرہ))ضیاء القرآن(

- آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے لاتعلق نہیں ہوگیا بلکہ ہرلحظہ اس کے احکام و اوامر کا ان میں نزول ہورہاہےاور ہرجگہ ان کی تعمیل ہورہی ہے۔)ضیاء القرآن(

- سات آسمانوں کا ذکر تو قرآن میں باربار ہواہے لیکن سات زمینوں کا ذکر صرف اسی سورت میں ہواہے (وہ بھی صیغۂ واحد کی صورت میں) آسمان اور زمین میں وہی نسبت ہے جو مکان کو چھت سے ۔جب چھتیں سا ت ہیں تو مکان بھی سات ہونا چاہئیں ۔سات زمینوں میں نوامیس و قوانین ہمارے علم میں نہیں وہ ایک بھی ہوسکتے ہیں اور الگ الگ بھی۔)تدبرقرآن(

۔ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے ،تم بھی اسے مبہم چھوڑدو۔کیونکہ اس کی وضاحت سے تمہاری کوئی دینی یا دنیاوی ضرورت جڑی ہوئی نہیں۔)معارف القرآن(

۔ایک سے زیادہ زمینیں:  " انہی کے مانند " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں، عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم۔ الشوریٰ ، آیت 29، حاشیہ 50)۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے ابن عباس ؓ عام لوگوں کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں اس سے لوگوں کے ایمان متزلزل نہ ہوجائیں۔۔۔۔۔ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبی ﷺ جیسا اور آدم ہے تمہارے آدم جیسا اور نوح ہے تمہارے نوح جیسا، اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم جیسا اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ جیسا "۔۔۔۔۔۔۔ملا علی قاری نے اس کو موضوعات کبیر(ص9 1میں موضوع کہتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ ابن عباس ہی کی روایت ہے تب بھی اسرائیلیات میں سے ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں " اس کو صحیح ماننے میں نہ عقلاً کوئی چیز مانع ہے نہ شرعاً۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے کہ زمینیں سات سے زیادہ ہوں اور اسی طرح آسمان بھی صرف سات ہی نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔زمین جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے صرف اسی کے اندر تقریباً 60 کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں )تفہیم القرآن(

۔یعنی حق تعالیٰ کی صفاتِ قدرت و علم ہرطرح کامل، جامع وہمہ گیر ہیں۔ وَ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ۔ اس سے عام طورپر یہ استدلال کیا گیا ہے کہ زمینیں بھی تعداد میں سات ہی ہیں۔ اور یہ احتمالات بھی مفسر تھانویؒ اور دوسرے محققین سے منقول ہیں کہ ممکن ہے یہ زمینیں ایسی ہوں جو نظر آتی ہوں یا یہ کہ انہی کو لوگ مریخ وغیرہ کواکب کے نام سے موسوم کرتے ہوں۔اور صاحب روح المعانی نے جس کی تاریخ اختتام سنہ 1267ھ یا انیسویں صدی عیسوی کا وسط ہے،ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ اس سے مراد زمین کے سات بڑے خطّے: امریکہ ،ایشیا،یورپ،افریقہ وغیرہ ہیں۔ اور محقق موصوف نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کرۂ قمر وغیرہ کی مزید تحقیق کے بعد وہاں بھی زمین ثابت ہو،اور اس طرح زمینوں کے عدد پر حس و مشاہدےکی گواہی بھی ہوجائے۔اس عاجز کے ذہن میں تو مثلیت کا اصل تعلق عدد سبع سے نہیں بلکہ فعل خلق سے ہے،یعنی یہ زمین یا زمینیں بھی آسمان ہی کی طرح مخلوق ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔اور یہ کہ ہر آسمان اور ہر زمین پر مخلوق بھی اُسی کے ماحول کےمتناسب آباد ہے، اور دلی مسرت ہوئی،جب ان سطور کی تحریر کے بعد مثلیت کے متعلق یہی قول بعض تفسیروں میں بھی نظر پڑگیا۔۔۔۔۔۔حدیث میں جواُن زمینوں کا اس زمین کے تحت میں ہونا وارد ہے،ممکن ہے وہ بااعتبار بعض حالات کے ہو اور بعض حالات میں وہ زمین سے فوق ہوجاتی ہوں۔(تھانوی،ج2/ ص672)اس عاجز کے خیال میں تو یہ بھی آسانی سے ممکن ہے کہ مراد اسی زمین کی سات پر توں یا سات تہوں سے ہو کہ اس زمین کے نیچے چھ پرت یا چھ تہیں اور ہیں۔ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ۔ نزولِ احکام سے مراد احکامِ تشریعی کا نزول بھی ہوسکتاہے اور احکامِ تکوینی کا بھی، اور ان دونوں کے مجموعہ کا بھی۔ اسی نزول نزولِ امر کا آسمانوں پر ملائکہ کے لیے ہوتے رہنا تو ظاہرہی ہے اور تصرفات ِ تکوینی کا ہرممکن زمین پر ہوتے رہنا بھی اسی طرح ظاہر ہے۔ لِتَعْلَمُوْا۔۔۔۔۔۔الخ۔یعنی یہ تمہیں اس لیے دیا گیا ، تاکہ تم کو حق تعالیٰ کی قدرتِ کامل اور علمِ محیط پوری طرح معلوم ہوجائے۔(تفسیر ماجدی)

۔یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ یعنی اللہ کا حکم ان ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے درمیان نازل ہوتا رہتا ہے اور حکم الٰہی کی دو قسم ہیں۔ ایک تشریعی جو اللہ کے مکلف بندوں کے لئے بذریعہ وحی بواسطہ انبیاء بھیجا جاتا ہے جیسے زمین میں انسان اور جن کے لئے آسمانوں سے فرشتے یہ تشریعی احکام انبیاء تک لے کر آتے ہیں جن میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت کے قوانین ہوتے ہیں ان کی پابندی پر ثواب اور خلاف ورزی پر عذاب ہوتا ہے۔ دوسری قسم حکم کی حکم تکوینی ہے۔ یعنی تقدیر الٰہی کی تنفیذ سے متعلق احکام جس میں کائنات کی تخلیق اور اس کی تدریجی ترقی اور اس میں کمی بیشی اور موت وحیات داخل ہیں۔ یہ احکام تمام مخلوقات الٰہیہ پر حاوی ہیں۔ اس لئے اگر ہر دو زمینوں کے درمیان فضاء اور فاصلہ اور اس میں کسی مخلوق کا آباد ہونا ثابت ہوجائے خواہ مخلوق مکلف احکام شرعیہ کی نہ ہو تو اس پر بھی یتنزل الامر صادق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا امرتکوینی اس پر بھی حاوی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ (معارف القرآن)