66 - سورة التحریم (مدنیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 12 |
مضمون: باہمی محبت و اعتماد کی صورت میں بھی حدوداللہ کی پاسداری لازم ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
نام و شانِ نزول: پہلی ہی آیت کے الفاظ لم تحرمُ سے اس کا نام لیا گیا ہے مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ جس میں تحریم کے واقعہ کا ذکر آیا ہے ۔یہ سورت 8 یا 9ھ میں نازل ہوئی۔اس سورت میں ایک مضمون تحریم کا ہے۔ تحریم کا معنیٰ ہے کسی چیز کو حرام کردینا ۔حضورؐ کو اللہ نے یوں مخاطب کیا ہے"اے نبیؐ!تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے۔کیا تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟اس سے معلوم ہوا کہ حضورؐ کا کوئی گھریلو مسئلہ تھا جس پر آپؐ نے فیصلہ کرلیا۔اس سلسلہ میں مفسرین نے مختلف واقعات بیان کئے ہیں۔
نظمِ کلام: سورۂ ق ۔۔۔(سورۂ التحریم، گروپ کی آخری سورت)
مرکزی مضمون: میاں بیوی کے درمیان محبت و اعتماد کی صورت میں بھی حدود الٰہی کی پاسداری لازمی ہے ۔خاندان کا ادارہ بھی تقویٰ کی بنیاد پر مستحکم رہ سکتاہے۔
ترتیب ِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i) ر۔1(ازوج النبیؐ کا احتساب) (ii)ر۔2( توبۃ النصوح اور رجوع الی اللہ کی دعوت)
ــــ بیوی بچوں کیلئے جذبۂ محبت جب غالب آجائے ۔بیْوی بچوں کو وہ اعلانیہ دیکھتاہےکہ ان کا رویہ شریعت سے ہٹاہواہے۔ یا تو احساس ہی نہیں ہوتا یا پھر فرض کرلینا کہ خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔ کھلی ہوئی زیادتیوں اور گمراہیوں پر ٹوکنے کی بجائے اُن پر پردہ ڈالنا ۔بڑے بڑے دیندار بھی نظر انداز اور پردہ ڈالنے میں ماہر ۔ایسا شخص ان سے محبت نہیں کرتا بلکہ انہیں جہنم میں جھونک رہاہے۔)تدبرقرآن(
سورۂ کا نظام اور آیات کا محل: یہ سورۃ ان دس سورتوں میں سے آخری سورت ہے،جو وعدۂ الٰہی کے مطابق مسلمانوں کی اصلاح اور ان کی تطہیر کے لیے نازل ہوئیں۔ نیز یہ قوانین شریعت کے بیان کی آخری سورت ہے۔اس بحث کی پوری تفصیل سورۂ حدید کے شروع میں گزرچکی ہے۔علاوہ ازیں یہ سورۂ طلاق کی جو اس سے پہلے ہے،شاخ ہے، پس سورۂ طلاق کی تاویل پر غور کرنا بھی اس کے مطالب کو روشنی میں لائے گا۔(تفسیر فراہی)
سورۂ کا عمود: اوپر کی تفصیلات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ اس سورہ کا مقصود یہ بتانا ہے کہ انسان کو خدانے جو امانت سونپی ہے اس کا وہ تنہاذمہ دار ہے۔۔۔۔۔یہ امر کہ سخت گیری دین کے واجبات اور روحانی سیاست کے لوازم میں سے ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وسعت کے باوجود دنیا اور دنیا والوں سے بالکل بے پرواہ ہے۔ اس کا سارا کارخانہ کامل عدل کے اصول پر قائم ہے اور یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ احتساب کی سخت گیری قساوت قلب اور سنگ دلی کا مظہر نہیں ہے بلکہ عین رحمت و محبت کا مظہر ہے۔(تفسیر فراہی)
دین فطرت: ۔۔۔۔۔حرام کو حلال کرنا فسق ہے جس کا سرچشمہ انسان کی شہوت اور سرکشی ہے اور حلال کو حرام کرنا رہبانیت ہے جس کا مصدر جہالت اور بے وقوفی ہے۔(تفسیر فراہی)
فسق و رہبانیت میں فرق: فسق کی برائی رہبانیت کے مقابل میں بہت زیادہ ہے۔یہ عبدیت اور بندگی کا ضد اور تکبرّ و شیطنت کا مظہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت مبغوض ہے۔رہبانیت کا حال اس سے کچھ مختلف ہے۔یہ بعض حالتوں میں انسان کے لیے تربیت نفس کا ذریعہ بن جاتی ہے جس طرح طبیب کبھی کبھی مریض کا علاج فاقہ سے کراتاہے اسی طرح بعض نیک لوگ بھی اپنی بعض روحانی بیماریوں کا علاج ترک دنیا اور رہبانیت سے کرتے ہیں۔اس حدتک اس میں چنداں مضائقہ نہیں ہے۔ یہ چیز نیکی اور تقویٰ کے قیام میں معین اور اس کا وسیلہ بن جاتی ہے۔اس پر فسادیہاں سے پیدا ہوتاہے کہ آدمی بعض اوقات اس عارضی علاج کو ایک مستقل فطری غذا اور خدا کی خوشنودی اور رضا کاواحد ذریعہ خیال کربیٹھتاہے ۔معاملہ کا یہ پہلو نہایت خطرناک ہے۔یہ خدا کی بنائی ہوئی فطرت کو بگاڑانا اور مسخ کرنا ہے۔۔۔۔بلکہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ یہ حلت کا پورا یقین رکھتا ہے البتہ یہ ہوا ہے کہ اس شے کے بعض پہلو اس سے مخفی رہ گئے ہیں اور اس سے اس کو کسی ضرر کا اندیشہ ہے۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ اس پر اصل حقیقت کھول دیتاہے اور اس کو حکم دیتاہے کہ اس نے جو پابندی اپنے اوپر عائد کرلی ہے اس کوتوڑ دے۔(تیسیر القرآن)
سورہ کا شانِ نزول:جس طرح لوگ جہالت کی وجہ سے شرک میں پڑگئے اسی طرح بہتوں نے یہ خیال بھی قائم کرلیا کہ انبیاءو صلحاء سے رشتہ و قرابت خدا کے ہاں قربت و مقبولیت کا ذریعہ ہے۔یہ خیال انسان کی بدترین حماقتوں میں سے ہے۔ اس سے بہت سی قومیں ہلاک ہوئی ہیں۔خصوصاً یہود تو خاص طورپر اس حماقت ہی میں پڑکر تباہوئےکہ ان کو حضرت ابراہیم،حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ سے نسبت حاصل ہے اور وہ ایک ایسی امت ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے نیابت اور بادشاہی کے لیے خاص کرلیا ہے۔۔۔۔حسب و نسب کا گھمنڈ تو صرف شیطان کا خاصا ہے۔۔۔۔۔قرآن مجید نے نوحؑ کے بیٹے ،لوطؑ کی بیوی،آزر کے بیٹے اور فرعون کی بیوی کے جو قصے بیان کیے ہیں،ان سے بھی مقصود اسی حقیقت کو واضح کرناہے کہ جزاء کے دن آدمی کو اس کے رشتے اور تعلقات کوئی نفع نہ پہنچاسکیں گے۔۔۔۔۔یہی اصولی حقیقت بسط و تفصیل کے ساتھ اس سورہ میں بیان ہوئی۔۔۔۔(تفسیر فراہی)
ایک اصولی حقیقت: اس حقیقت سے ہرمسلمان واقف ہے کہ اسلام یہودیت کی سختی اور نصرانیت کی نرمی کے بین بین ہے۔ یہ اصولی حقیقت اس درجۂ اعتدال کے سمجھنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو اسلام نے ہماری شریعت کے اکثر جزئیات میں ملحوظ رکھی ہے ۔یہاں ہم اس معاملے کے اتنے حصے پرغور کرنا چاہتے ہیں ۔جتنا مذکورہ واقعہ سے متعلق ہے۔۔۔۔۔حضرت ابن عباسؓ حضر ت عمرؓ بن الخطاب سےاسی امر کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ"ہم قریش کے لوگوں کا حال یہ تھا کہ مرد عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے یہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ ان کی عورتیں ان کے مردوں پر غالب ہیں۔ان عورتوں کا جب ہماری عورتوں کے ساتھ میل جول بڑھا تو ہماری عورتیں بھی مردوں کے مقابلے میں دلیر ہوگئیں"۔۔۔۔۔علاوہ ازیں عورتوں کے حقوق و فرائض کی تفصیل سورۂ نور میں بھی کی گئی ہے اور اس کو وسط قرآن میں جگہ دی گئی ہے اور عورتوں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر دو سورتیں ۔۔۔۔سورۂ نساء اور سورۂ احزاب دونوں کناروں پر رکھی گئی ہیں۔پھر اس سورۂ تحریم میں بھی، جس کا نزول ایک خاص واقعہ کے ساتھ مقدر تھا،اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ تمام ذمہ داریاں بتائی ہیں جو ہمارے اہل و عیال سے متعلق ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں۔نیز جیساکہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے، ہم کو احتساب کی سخت گیری کے ساتھ ساتھ احسان اور نرمی کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ان تمام تفصیلات نے عورتوں سے متعلق حقوق و فرائض کے تمام گوشوں کو ہمارے لیے اس طرح واضح کردیا ہے کہ کوئی بات ہمارے لیے مبہم و مجمل نہیں رہ گئی ہے اس کے بالکل برعکس نصاریٰ کے ہاں ہرچیز مجمل ہے۔یہاں تک کہ وہ اس امر کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے کہ ان کو عورتوں پر اختیارحاصل ہے یا عورتوں کو ان پر۔ ہم اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ کی تفسیر میں اسی امر کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں۔۔۔۔۔پھر یہاں ایک اور امر بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ یہ سورہ ،اپنی ماقبل سورہ(سورۂ طلاق)کے ساتھ، احکام کی آخری سورہ ہے، اور بقرہ احکام کی اولین سورہ ہے ،اور ان دونوں میں عورتوں سے متعلق احکام بیان ہوئے ہیں۔ پھر سورۂ نورجیساکہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے وسط میں رکھی گئی ہے اور نساء اور احزاب دونوں کناروں پر ہیں۔ اس سے اس اہتمام کا اندازہ ہوتاہے جو قرآن نے عورتوں کے حقوق اور ان کی اصلاح کے معاملے میں اختیار کیا ہے اور یہ اہتمام اس دین کامل کی خصوصیات میں سے ہے۔(تفسیر فراہی)
سورۂ کا نظمِ جلی: حضرت آسیہ ؒ کی چار(4)دعائیں نقل کی گئیں۔ (a)"میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے"۔رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ۔"(b)فرعون سے نجات دے"۔وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ۔(c)"فرعون کے عمل سے بھی نجات دے"وَ عَمَلِهٖ"۔(d) "ظالم قوم ِ فرعون سے نجات دے"۔وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔(آیت:11)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿1﴾ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ﴿2﴾ وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ﴿3﴾ اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ﴿4﴾ عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا ﴿5﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ﴿6﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ ﴿7ع التحريم 66﴾ |
| 1. اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو؟ (کیا اس سے) اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 2. خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ اور خدا ہی تمہارا کارساز ہے۔ اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔ 3. اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتا دی) ۔ جب اس نے اس کو افشاء کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے ان (بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے۔ 4. اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں۔ 5. اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دے دے۔ مسلمان، صاحب ایمان فرمانبردار توبہ کرنے والیاں عبادت گذار روزہ رکھنے والیاں بن شوہر اور کنواریاں۔ 6. مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ 7. کافرو! آج بہانے مت بناؤ۔ جو عمل تم کیا کرتے ہو ان ہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا۔ |
تفسیر آیات
1۔ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہےاُسے حرام کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں حتیٰ کہ حضورؐ کو بھی ۔اگرچہ حضورؐ نے اس چیز کو نہ عقیدۃً نہ شرعاً اسے حرام سمجھا بلکہ صرف اپنی ذات پر اس کے استعمال کو حرام کرلیا تھا۔لیکن چونکہ آپؐ کی حیثیت ایک عام آدمی کی نہیں تھی بلکہ اللہ کے رسول کی تھی۔اس سے کئی رہبانیت پسند لوگ کئی حلال چیزوں کو حرام قرار دے سکتے تھے(جیسے یہود نے اونٹ کے گوشت کو) ۔)تفہیم القرآن(
ــــ وہ کیا چیز تھی جس کو حضورؐ نے حرام کرلیا تھا۔ محدثین و مفسرین نے اس سلسلہ میں دو مختلف واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ایک واقعہ حضرت ماریہ قبطیہ کا ہے اور دوسرا واقعہ یہ کہ آپ نے شہد استعمال نہ کرنے کا عہد کر لیا تھا۔۔۔۔۔حضرت ماریہ کا قصہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے فارغ ہونے کے بعد رسول ﷺ نے جو خطوط اطراف و نواح کے بادشاہوں کو بھیجے تھے ان میں سے ایک اسکندریہ کے رومی بطریق (Patriarch) کے نام بھی تھا جسے عرب مقوقس کہتے تھے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ یہ نامہ گرامی لے کر جب اسکے پاس پہنچے تو اس نے اسلام قبول نہ کیا، مگر اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا اور جواب میں لکھا کہ "آپ کی خدمت میں دو لڑکیاں بھیج رہا ہوں جو قبطیوں میں بڑا مرتبہ رکھتی ہیں"۔۔۔ مصر سے واپسی پر راستہ میں حضرت حاطب نے دونوں کے سامنے اسلام پیش کیا اور وہ ایمان لے آئیں۔۔۔ آپ نے سیرین کو حضرت حسان بن ثابت کی ملک یمین میں دے دیا اور حضرت ماریہ کو اپنے حرم میں داخل فرمایا۔ یہ خاتون نہایت خوبصورت تھیں۔۔۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہ کے مکان میں تشریف لے گئے اور وہ گھر پر موجود نہ تھیں۔ اس وقت حضرت ماریہ آپ کے پاس وہاں آگئیں اور تخلیہ میں آپ کے ساتھ رہیں۔ حضرت حفصہ کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے حضور سے اس کی سخت شکایت کی۔ اس پر آپ نے ان کو راضی کرنے کے لیے ان سے یہ عہد کرلیا کہ آئندہ ماریہ سے کوئی ازدواجی تعلق نہ رکھیں گے۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا ۔۔۔۔۔ دوسرا واقعہ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور دوسری متعدد کتب حدیث میں خود حضرت عائشہ سے جس طرح نقل ہوا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بالعموم ہر روز عصر کے بعد تمام ازواج مطہرات کے ہاں چکر لگاتے تھے۔ ایک موقع پر ایسا ہوا کہ آپ حضرت زینب بنت جحش کے ہاں جا کر زیادہ دیر بیٹھنے لگے، کیونکہ ان کے ہاں کہیں سے شہد آیا ہوا تھا، اور حضور کو شیرینی بہت پسند تھی، اس لیے آپ ان کے ہاں شہد کا شربت نوش فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ مجھ کو اس پر رشک لاحق ہوا اور میں نے حضرت حفصہ، سودہ اور حضرت صفیہ سے مل کر یہ طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ آئیں وہ آپ سے کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے جس میں کچھ بساند ہوتی ہے اور اگر شہد کی مکھی اس سے شہد حاصل کرے تو اس کے ا ندر بھی اس بساند کا اثر آجاتا ہے۔ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ حضور نہایت نفاست پسند ہیں اور آپ کو اس سے سخت نفرت ہے کہ آپ کے اندر کسی قسم کی بد بو پائی جائے۔ اس لیے آپ کو حضرت زینب کے ہاں ٹھیرنے سے روکنے کی خاطریہ تدبیر کی گئی اور یہ کارگر ہوئی۔ جب متعدد بیویوں نے آپ سے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آئی ہے تو آپ نے عہد کرلیا کہ اب یہ شہد استعمال نہیں فرمائیں گے۔۔۔ اکابر اہل علم نے ان دونوں قصوں میں سے اسی دوسرے قصے کو صحیح قرار دیا ہے ۔(تفہیم القرآ ن)
ــــ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ حضورؐ پر گرفت توفرمائی لیکن ساتھ ہی بخشنے کا اعلان بھی فرمادیا کہ یہ گرفت حضورؐ کے دل پر گراں نہ گذرے۔(تدبرقرآن)
2۔ قسم توڑنے پر کفار ہ کا حکم سورۂ المائدہ میں آچکا ۔کسی جائز چیز کو حرام کرلینے کی قسم کھابیٹھے تو اسے فوراً توڑدے اور کفارہ کرلے لیکن بغیر قسم کے استعمال ترک کردینا (یا حرام ٹھہرالینا ہو) تو کفارہ نہیں۔(تدبرقرآن)
۔نبیؐ نے ایک زوجہ محترمہ کے ہاں شہد نوش فرمایا جس میں ایک خاص بوٹی کی بوآتی تھی۔دوسری ازواج نے اس کی بوپر ناگواری کا اظہار کیا تو آپؐ نے ان کے احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے عہدکرلیا کہ آئندہ شہد نوش نہیں فرمائیں گے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی کیونکہ اللہ کا رسول تمام امت کے لیے نمونہ ہوتاہے۔۔۔۔حضورؐ کو یہاں قسم توڑنے کا حکم دیا ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ وحی خفی کی اقسام:۔ جس طرح سنت کی تین اقسام ہیں۔قولی، وہ جو آپؐ کے قول سے معلوم ہویا ثابت ہو، فعلی، وہ جو آپؐکے فعل سے معلوم ہو یا ثابت ہو اور تحریری سنت وہ ہوتی ہے کہ کوئی فعل آپؐ کے سامنے واقع ہو اور اپؐ نے اس پر گرفت نہ فرمائی ہو یا سکوت اختیار فرمایا ہو اور ایسی سنت بھی قابل حجت ہوتی ہے۔اسی طرح وحی خفی (قرآن کے علاوہ دوسری قسم کی وحی)کی بھی تین اقسام ہیں۔قولی وحی وہ اقوال ہیں جو جبرائیلؑ کے ذریعہ آپ پر نازل ہوئے جیسے ادعیہ مسنونہ اور تشہد وغیرہ۔ فعلی وحی وہ کام ہے جس کے کرنے کا طریق آپؐ کو جبرائیلؑ نے سکھایا ہو مثلاً نماز اداکرنے کا طریقہ اور تقریری وحی وہ ہے جبکہ اپؐ کے کسی اجتہاد ،قول یا فعل پر اللہ نے از راہ صواب سکوت اختیار فرمایا ہو۔ اور آپؐ کی زندگی کے بہت سے اقوال و افعال ایسے ہی ہیں ۔اور اگر آپ کے کسی قول یا فعل میں کوئی بات اللہ کی منشا کے خلاف ہو تو اس پر فوراً تنبیہ کرکے اس کی اصلاح کردی جاتی ہے۔(تیسیر القرآن)
ــــ (تو آپ اگر قسم بھی کھاچکے ہیں تو کفارۂ حلف دے کر اس سے آزادی حاصل کرسکتے ہیں)روایتوں میں حضرت انسؓ بن مالک کے حوالے سے آتاہے کہ آپؐ نے کفارے میں ایک غلام آزاد فرمایا۔لَكُمْ۔۔۔۔اَیْمَانِكُمْ۔ ابھی خطاب نبیؐ سے انفراداً تھا، معاً اب اُمت سے بصیغۂ جمع مخاطب ہونے لگا۔(تفسیر ماجدی)
3۔ وَ اِذْ سے بالعموم کسی دوسرے مستقل واقعہ کا ہی حوالہ دیا جاتاہے۔مفسرین نے افشائےراز کے سلسلہ میں عام طورپر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے نام لئے ہیں ۔اس سے ان روایات کی تردید ہوتی ہے جن میں غیر محتاط راویوں نے ان کی باہمی چشمک و رقابت (یعنی سوتناپہ)کے واقعات بیان کئے ہیں ۔۔۔ابن کثیر (مبہم کو مبہم ہی رہنے دیا جائے) ۔(تدبرقرآن)
ــــ افشائے راز کی آپؐ کو بذریعہ وحی خبرملنا:۔ نبی ؐ نے سیدہ حفصہؓ سے بات کی کہ میں آئندہ زینبؓ کے گھر سے کبھی شہد نہ پیوں گا اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کردی کہ آگے میری بات کسی کو نہ بتانا۔آپؐ کا یہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر میری بات سیدہ زینبؓ تک پہنچ گئی تو ان کا دل رنجیدہ ہوگا۔لیکن سیدہ حفصہؓ نے اس رازداری کے عہد کو پورا نہ کیا۔انہوں نے یہ بات سیدہ زینبؓ کو تو نہ بتائی البتہ سیدہ عائشہؓ کو بتادی اور راز کی بات جب ایک سے دوسرے تک چلی جائے تو آگے بھی پھیلتی جاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہؓ وحی اپنے نبی کو اس راز کے فاش ہونے کی اطلاع دے دی۔(تیسیر القرآن)
4۔ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ کی خطا۔ 1۔ نبی کے لیے حلال کو حرام بنانے پر ایکا،2۔افشائے راز:۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرؓ سے پوچھا: امیر المومنین!یہ دوعورتیں کون کون تھیں، جنہوں نے رسول اللہؐ کو ستانے کے لیے ایکا کیا تھا؟ ابھی میں نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہہ دیا:"وہ عائشہؓ اور حفصہؓ تھیں"(بخاری۔ کتاب التفسیر۔تفسیر سورۂ تحریم)ان پر اللہ کی طرف سے جو گرفت ہوئی اور کہا گیا کہ تم راہ راست سے ہٹ چکی ہو تو اس کی وجوہ دوتھیں کہ انہوں نے آپس میں باہمی رقابت کی بناپر رسول اللہؐ کو ایک ایسی بات پر مجبور کردیا جو ان کے شایان شان نہ تھی اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب بھی نازل ہوا اور اس کا سبب یہی دونوں بنی تھیں اور دوسری یہ کہ انہوں نے نبی کی راز کی بات کو افشا کرکے غیرذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔کیونکہ وہ کسی عام آدمی کی بیویاں نہ تھیں بلکہ اس ہستی کی بیویاں تھیں جسے اللہ تعالیٰ نے انتہائی اہم ذمہ داری عطاکی تھی۔ آپؐ کے ہاں بے شمار ایسی راز کی باتیں ممکن تھیں کہ اگر وقت سے پہلے افشا ہوجاتیں تو اس کار عظیم کے مقصد کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا جو آپؐ کے ذمہ ڈالا گیا تھا۔اور اس غلطی پر انہیں ٹوکا اس لیے گیا تھا کہ ازواج مطہرات،بلکہ معاشرہ کے تمام ذمہ دار افراد کی بیویوں کو رازوں کی حفاظت کی تربیت دی جائے۔(تیسیر القرآن)
5۔آپ کی ازواج کا خرچ کے سلسلہ میں آپ کو پریشان کرنا:۔ پہلے دوبیویوں (سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ کی بات چل رہی تھی)اس آیت میں سب بیویوں کو خطاب کرکے ان پر عتاب کیا جارہاہے۔ایک حلال چیز کو حرام قراردینے کے معاملہ میں تو واقعی صرف سیدہ عائشہ ؓ اور سیدہ حفصہؓ کا تعلق تھا۔لیکن ایک اور معاملہ بھی تھا۔ جس کا سب بیویوں سے تعلق تھا۔ وہ یہ تھا کہ فتوحات خیبر اور اموال غنائم سے مسلمانوں کی معاشی حالت آسودہ ہوگئی ۔تو آپؐ کی سب ازواج مطہرات نے آپؐ سے گھر کا خرچ زیادہ لینے کا مطالبہ کردیا۔ اور اگر وہ آپؐ کی بیویاں نہ ہوتیں بلکہ عام عورتیں ہوتیں تو ایسے مطالبہ میں ان کا کچھ قصور بھی نہ تھا اور اگر آپ چاہتے تو انہیں اموال غنائم سے اپنے گھروں میں زیادہ دے بھی سکتے تھےاور اللہ نے آپ کو ایسا اختیار دے بھی رکھا تھا۔ مگر چونکہ آپؐ کو طبعاً فقر پسند تھا۔ لہذا بیویوں کا یہ مطالبہ آپ پر گراں گزرا۔پھر بیویوں نے بھی اس بات کو صرف مطالبہ کی حدتک نہ رکھا بلکہ ایکا کرکے آپ سے بحث اور جھگڑابھی کیا کرتی تھیں۔ اور بسا اوقات ایسی باہمی شکر رنجی میں پورا پورا دن گزرجاتا تھا۔ اسی کیفیت کا حال معلوم ہونے پر سیدنا عمرؓ اپنی بیٹی کے ہاں گئے ۔ اور انہیں سمجھا یا اور کہا دیکھوتم اللہ کے رسولؐ سے جھگڑنا چھوڑ دو۔اور سیدہ عائشہؓ پر اپنے آپ کو گمان کرکے اس کی ریس نہ کرو اور نہ اس معاملہ میں دوسروں کا ساتھ دو۔اور اگر کوئی چیز خرچہ وغیرہ مطلوب ہوتو اس کا مطالبہ مجھ سے کرلو۔پھر سیدنا عمرؓ سیدہ ام سلمہؓ کے ہاں گئے اور انہیں بھی یہی بات سمجھائی کیونکہ وہ بھی سیدنا عمرؓ کی رشتہ دار تھیں تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کو ٹکا سا جواب دیا اور کہنے لگیں تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملات میں دخل دینے والے؟پھر جب حضرت عمرؓ نے یہی بات رسول اللہؐ کو بتائی تو آپؐ مسکرا دئیے ۔انہی ایام میں سیدنا عمرؓ نے حالات کا جائزہ لے کر اس خیال کا اظہار کیا تھا جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے۔اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے: سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ کی بیویاں اکٹھی مل کر آپؐ سے لڑنے جھگڑنے لگیں تو میں نے انہیں کہا :"کچھ بعید نہیں کہ پیغمبرتم سب کو طلاق دے دے اور اس کا رب تم سے بہتر بیویاں بدل دے"اس وقت (جیسا میں نے کہا تھا ویسے ہی)یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری۔ کتاب التفسیر)لیکن اس کے باوجود بھی جب ازواج مطہرات اپنے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئیں تو یہ رسول اللہؐ پر اس قدر شاق گزرا کہ آپؐ ایک ماہ کے لیے اپنی سب بیویوں سے الگ ہوگئے اور ایک بالا خانے میں جاکر مقیم ہوگئے۔یہی واقعہ ،واقعہ ایلاء کہلاتا ہے ۔جو سورۂ احزاب کی آیت نمبر 28 اور 29 کے حواشی میں تفصیل سے گزرچکاہے۔۔۔۔۔ قٰنِتٰتٌ۔ قنوت ایسی اطاعت کو کہتے ہیں جو پورے خشوع و خضوع یکسر توجہ اور دل کی رضامندی سے بجالائی جائے۔اوریہ اطاعت اللہ کی بھی ہوسکتی ہے۔اس کے رسول کی بھی(33: 31)اور عورتوں کے لیے اپنے خاوندوں کی بھی (4: 34)اور اس آیت میں تینوں کی ہی اطاعت مراد ہے۔(تیسیر القرآن)
6۔ جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا کہو اور جب دس سال کے ہوجائیں اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں مار کر پڑھاؤاور اس عمر میں ان کی خواب گاہیں الگ کردو(تعارفی کلمات)(ضیاء القرآن)
ـــ کلکم راع وکلکم مسول عن رعیّتہ(تم میں سے ہر ایک چرواہا بنایا گیا ہے۔اور ہر ایک سے اُس کے گلے کے بارے میں پرسش ہوگی)پیغمبراور ان کی ازواج مطہرات بھی اللہ تعالیٰ کے احتساب سے بالا نہیں تو دوسروں کا کیا ذکر۔(تدبر قرآن)
ــــ اہل فہم یہاں خوب سمجھ لیں کہ احکام کے اتباع و اطاعت سے جب پیمبر معصوم تک کے گھر والوں کو مفر نہیں، تو پھر کسی بزرگ ،کسی شیخ کی اولاد یا اعزہ کا اپنے کو اس پابندی سے مستثنیٰ سمجھے رہنا کتنابڑا حمق و نادانی ہے!۔۔۔۔۔دوسری طرف یہود اور نصاریٰ کے اس باطل عقیدے کی تردید ہوئی کہ بعض فرشتے نافرمان و سرکش بھی ہوئے ہیں جن کا سرغنہ وسرخیل ابلیس ہواہے۔ (تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿8﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ ﴿9﴾ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ ﴿10﴾ وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ ﴿11﴾ وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ ۠ ﴿12ع التحريم 66﴾ |
| 8. مومنو! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا (بلکہ) ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا۔ اور وہ خدا سے التجا کریں گے کہ اے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف کرنا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 9. اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ 10. خدا نے کافروں کے لئے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے ان کی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں اور ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ۔ 11. اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال (زشت مآل) سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما۔ 12. اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرمانبرداروں میں سے تھیں۔ |
تفسیر آیات
8۔'مخلصانہ رجوع'(تَوْبَةٌ نَّصُوْحٌ)سے مراد ایسی توبہ ہے جو پوری عاجزی اور سچے عزم کے ساتھ ہو،جس کے بعد گناہ کی طرف مڑنے کی کوئی خواہش باقی نہ رہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ ایک بدو کی زبان سے جلدی جلدی توبہ کرتے سنا تو حضرت علیؓ نے کہا کہ یہ تو توبۃالکذابین ہے۔ صحیح توبہ (i)جو کچھ ہوچکا اس پر نادم ہو۔(ii) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہوان کو اداکرو(iii) جس کا حق مارا ہو اس کو واپس کرو(iv)جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس ے معافی مانگو(v) آئندہ کیلئے ااس گناہ کو نہ کرنے کا عزم(vi)اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلا دے جیسے اس سے پہلے معصیت میں کیا۔اس کے علاوہ چند اور امور۔(vii) معصیت پراس لئے نادم کہ یہ اللہ کی نافرمانی ہے(نہ کہ صحت ،بدنامی یا مالی و معاشرتی پریشانی سے بچنے کیلئے )جیسے ہی نافرمانی کا احساس ہوفوراً توبہ بلاتاخیر تلافی نہ کہ ٹالتےجانا(viii) باربار توبہ کا توڑنا اور اسے کھیل بنا لینا(ix) پچھلے گناہ کو یاد نہ کرے بلکہ تازہ گناہ کی تلافی کا عزم (x) سابقہ گناہگاری سے لطف لینے کی بجائے شرمساری و گرنہ خدا کا خوف نہیں۔(تفہیم القرآن)
- اگر اسے نصاحت سے مشتق قرار دیں تو اس کے معنی پھٹے ہوئے کپڑے کو سینے اور جوڑ لگانے کے ہیں۔(معارف القرآن)
9۔یہ سخت انداز میں منافقین کے احتساب کی تاکید اس وجہ سے ہوئی کہ نبی ﷺ اپنی کریم النفسی کے سبب سے ان کی غلطیوں پر جب بھی گرفت فرماتے نرم ہی انداز میں فرماتے تاکہ ان کی رسوائی نہ ہو۔ اس کریمانہ انداز کی انہیں قدر کرنی تھی لیکن منافقین اس کے اہل نہ تھے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دلیر ہوتے جا رہے تھے کہ ان کا فریب کامیاب ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انداز بدل دینے کا حکم دیا اور سختی کے ساتھ ان کے احتساب کی تاکید فرمائی تاکہ ان کے کان کھلیں اور اگر وہ اپنی اصلاح کرنی چاہیں تو کرلیں ورنہ ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ سورة توبہ کی آیت 73 کے تحت اس مضمون کی وضاحت ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔(تدبرِ قرآن)
- اب یہ احتساب نرم انداز سے نہیں بلکہ سخت انداز سے کیا جائے (منافقین کی رسوائی سے حضورؐکے گریز اور آپکی نرمی سے وہ دلیر ہوتے جارہے تھے)۔(تدبرقرآن)
12۔ (یک نکتہ خاص توجہ کے لائق)۔ یہاں یہ امر خاص توجہ کے لائق ہے کہ برائی کی مثال کے لیے بھی عورتوں ہی کا انتخاب کیا ہے اور بھلائی کی مثال کے لیے بھی انہی کے نام لیے ہیں۔ اس سے مقصود اس عام غلط فہمی کو رفع کرنا ہے کہ تمام برائی کا سرچشمہ عورت ہی ہے۔ اپنی خلقت کے اعتبار سے عورت بھی خیر و شر دونوں صلاحیتوں کی حامل ہے۔ اگر وہ اپنے اختیار و ارادہ کو صحیح طور پر استعمال نہ کرے تو بہتر سے بہتر رفیق کی بد ترین ساتھی بن سکتی ہے اور اگر وہ ایمان و قنوت کی حلاوت سے آشنا ہوجائے تو بد تر سے بد تر ماحول کے اندر بھی وہ حور جنت ہے۔ (تدبرِ قرآن)
اختتامی کلمات: ضیاء القرآن: (i) اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں ازوج ِ مطہرات کی تادیب فرمائی کہ وہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں جو حضورؐ کے خاطرِ عاطر پربار ہو(ii)ایک زوجۂ مکرمہ ؓ افشائے راز کربیٹھیں،انہیں سرزنش فرمادی ۔
تفہیم القرآن: (i)حلال حرام اور جائز و ناجائز کے حدود مقرر کرنے کے اختیارات قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں(حضورؐ کو ان میں تبدیلی کا اختیار نہیں تو دوسروں کی کیا حیثیت) (ii)انسانی معاشرہ میں نبیؐ کا مقام انتہائی نازک مقام ہے۔ ان کا کوئی ادنیٰ اقدام بھی اگر منشائے اسلام سے ہٹا ہواہو تو اس کی فوراً اصلاح کردیجاتی ہے۔(iii)اک ذراسی بات پر اگر حضورؐ کو ٹوک دیا گیااور ان کی اصلاح کردی گئی توہمیں اطمینان ہوجاتاہے کہ حضورؐ کے تمام اقدامات مبنی بر حق ہیں اور ہم پورے اعتماد سے ا ن سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں (iv) جن کو اللہ تعالیٰ خود اہل ایمان کی مائیں قرار دیتا ہے ،ان سے بھی اگر معمولی کوتاہی ہوجاتی ہے تو وہ اس کتاب میں درج کر دی جاتی ہے جو قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی۔(v) اللہ کا دین بےلاگ ہے اس میں ہر شخص کیلئے وہی کچھ ہے جس کا وہ اپنے ایمان اور عمل صالح کے لحاظ سے مستحق ہو۔ایک مثال حضرتِ نوحؑ اور حضرت لوط ؑ کی بیویوں کی اور دوسری طرف حضرت آسیہ اور حضرت مریم کی ۔
منتخب نصاب(ڈاکٹر اسرار): (i)بہترین شوہر/عمدہ ترین ماحول۔بدترین انجام(نوح و لوط کی بیویاں) (ii) بدترین شوہر /بہترین استفادہ/بہترین انجام (فرعون کی بیوی آسیہؑ)(iii)عمدہ ترین ماحول بہترین استفادہ۔حضرت مریمؑ۔نظریاتی طورپر(iv) بدترین ماحول/بدترین شوہر(ابولہب)بدترین انجام(ام جمیل ۔خود بدخوو بدطینت۔)
سورتوں کا چھٹا گروپ ختم ہوا