67 - سورة الملک (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 30 |
مضمون: اس سورہ سے قرآن مجید کی آخری سورہ ۔۔۔الناس ۔۔۔تک سورتوں کا ساتواں گروپ (ساتویں منزل نہیں )ہے جس کا جامع عنوان قیامت کا انذار ہے۔اس سورہ میں دنیاوی و اخروی عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون:اس سورت میں ایک طرف مختصر طریقے سے اسلام کی تعلیمات کا تعارف کرایا گیا ہے اور دوسری طرف بڑے مؤثر انداز سے ان لوگوں کو چونکایا گیا ہے جو غفلت میں پڑے ہوئے تھے ۔یہ مکہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ اسلام کی ساری تعلیمات اور رسول اللہ ؐ کے مقصدِ بعثت کو پیش کرتی ہیں مگر تفصیل کے ساتھ نہیں بلکہ اختصار کے ساتھ تاکہ وہ بتدریج لوگوں کے ذہن نشین ہوتی چلی جائیں ۔اس کے ساتھ ان میں زیادہ ترزور اس بات پر صرف کیا جاتاہے کہ لوگوں کی غفلت دورکیجائے ،ان کو سوچنے پر مجبور کیا جائے اور ان کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا جائے۔)تفہیم القرآن(
شانِ نزول : سورۂ الملک،اعلان ِ عام کے بعد ،قیام مکہ کے دوسرے دور (4سن نبوی) میں نازل ہوئی ۔یہ سورۃ ،سورۂ ق سے بہت ملتی جلتی ہے۔آپؐ سونے سے پہلے یہ سورت پڑھا کرتے تھے(ترمذی)یہ سورت عذابِ قبر کیلئے رکاوٹ ہے(حاکم)اپنے پڑھنے والوں کیلئے شفاعت کرے گی۔(نسائی)
نظم ِ کلام: سورۂ الملک سے سورتوں کا ساتواں اور آخری گروپ شروع ہورہاہے۔ سورۂ ملک سے سورۂ کافرون تک 43سورتیں مکی ہیں اور سورۂ نصر سے سورۂالناس تک 5 سورتیں مدنی ۔اس پورے گروپ کا اصل مضمون انذار ہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس میں انذار کیلئے قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے۔زورِ کلام کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالی نے کھینچی ہے۔
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ِ ہادی عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
دس مدنی سورتوں کے بعد سورۂ الملک سے ان سورتوں کا آغاز ہورہاہےجو اپنے اندر دعوت کے ابتدائی مراحل میں اختیار کیجانیوالی حکمتوں پر مشتمل ہیں ۔
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i) ر۔1(زندگی کا مقصد اور منکروں کا انجام ) (ii) ر۔2(مالکِ کائنات کی قدرت کے نشان)
اہم مضامین کا خلاصہ:1۔ اس کائنات کی تدبیر و انتظام اور سلطنت کے بارے میں فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے۔ اس کے اس نظام میں کوئی دوسرا حصّہ دار یا شریک نہیں۔ نیز یہ کہ اللہ کی لامحدود قدرت اور اس کی حکمتِ کاملہ کا مظہرِ اتم یہ نظام ِ کائنات ہے۔اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بلا مقصد پیدا نہیں کیا۔2۔ آخرت کے ہولناک تذکرے کے بعد فرمایا کہ بنی نوع انسان کو اس ہلاکت اور عذاب سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا سلسلہ جاری فرمایا تاکہ گمراہ انسان اپنا کردار درست کرکے آخرت کے عذاب سے بچ سکیں۔3۔اللہ تعالیٰ کے لازوال علم و قدرت کے ثبوت کے لئے دلائل بیان کئے گئے:۔الف۔ اللہ تعالیٰ انسان کے سینے میں پوشیدہ رازوں سے بھی باخبر اور آگاہ ہے۔ب۔ اس نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ پرندوں کو فضا میں تھام رکھا ہے۔ ج۔ حیوانات اور دوسری مخلوقات بھی اس کی قدرت و عظمت پر لازوال دلیل ہیں بشرطیکہ انسان عقل و شعور اور بصیرت سے کام لے۔د۔اسی زمین سے انسان، حیوانات اور پرندوں تک کے لئے رزق کا انتظام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ان سب کے بعد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ زلزلے یا طوفان کے ذریعے سے اس سارے نظام کو تہس نہس کردے یا رزق کے اسباب معدوم کردے تو بتاؤ کہ تمہیں کون سی ہستی یہ اشیاء مہیا کرسکتی ہے؟4۔ موت کے بعد اللہ کے ہاں حاضری کے ذکر میں متنبہ کیا کہ نبیؐ تمہیں قبل از وقت سارے معاملات سے باخبر کررہے ہیں۔تمہارا یہ مطالبہ کہ یہ سب کچھ تمہیں ابھی دکھا دیا جائے،نامعقول ہے۔ یادرکھو! جب تم ان مناظر کو دیکھوگے تو حواس باختہ ہوجاؤگے۔5۔ اہلِ مکہ ایمان قبول کرنے کی بجائے نبی کریمؐ کے خلاف بددعائیں کرتے ہیں ۔اس بارے میں فرمایا کہ اگر یہ سبھی مرجائیں یا سبھی بچ رہیں،تمہیں اس سے کیا فائدہ پہنچے گا؟ اور پھر خبردار کیا کہ موت کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور گمراہ کون؟۔6۔ سورۃ کے اواخر میں دعوت فکر ہے کہ حیات انسانی کا مدار پانی پر ہے۔ اگر پانی اس کائنات میں سے غائب ہو جائے تو کون سی ذات تمہارے لئے پانی مہیا کرسکتی ہے؟ اس سورۃ میں حُسنِ سلوک اور عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے اور تکذیب کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔)انوار القرآن(
کتابی ربط:۔ پچھلی سورۃ التحریم کی آیت نمبر آٹھ میں جس "نور"اور "مغفرت"کی دعا مانگی گئی تھی،اس کی قبولیت کی تمام شرائط سورۃ الملک میں بیان ہوگئی ہیں۔ دعوتِ توحید کو قبول کرنے والے "الغفور"اللہ کی "مغفرت"کے حق دار ہوں گے۔(آیت: 12)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ ﴿1﴾ اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ ﴿2﴾ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ﴿3﴾ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ ﴿4﴾ وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ ﴿5﴾ وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ ﴿6﴾ اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ ﴿7﴾ تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ ﴿8﴾ قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ ﴿9﴾ وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ﴿10﴾ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ﴿11﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ ﴿12﴾ وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿13﴾ اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕوَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ ﴿14ع الملك 67﴾ |
| 1. وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 2. اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے۔ 3. اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شگاف نظر آتا ہے؟ 4. پھر دو بارہ (سہ بارہ) نظر کر، تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔ 5. اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی۔ اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 6. اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ 7. جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔ 8. گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟ 9. وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔ 10. اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے۔ 11. پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے۔ سو دوزخیوں کے لئے (رحمت خدا ) دور ہی ہے۔ 12. (اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔ 13. اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔ 14. بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ تَبٰرَكَ کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ مبالغہ کا صیغہ ہے ۔بڑی ہی باعظمت اور بافیض ہے وہ ذات۔(تدبرقرآن)
۔تَبَارَکَ برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ برکت میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات کے مفہومات شامل ہیں۔ اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تبارک بنایا جائے تو اسکے معنی ہوتے ہیں کہ وہ بےانتہا بزرگ و عظیم ہے، اپنی ذات وصفات و افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے با لا تر ہے، بےحدو حساب بھلائیوں کا فیضان اس کی ذات سے ہو رہا ہے، اور اس کے کمالات لازوال ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 43۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 14۔ الفرقان، حواشی 1و19) ۔۔۔۔۔۔الملک کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں میں نہیں لیا جاسکتا۔ لا محالہ اس سے مراد تمام موجودات عالم پر شاہانہ اقتدار ہی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے ہاتھ میں اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے، بلکہ یہ لفظ محاورہ کے طور پر قبضہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی کی طرح ہماری زبان میں بھی جب یہ کہتے ہیں کہ اختیارات فلاں کے ہاتھ میں ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
2۔ یعنی تم میں سے کون احسن طریقے سے نیک عمل کرتاہے جو صرف رضائے الٰہی کیلئے اور حضورؐ کی سنت کے مطابق ہو۔(احسن الکلام)
- علامہ اقبال کی شاندار نظم "زندگی"
تواسے پیمانہ امروز و فرداسے نہ ناپ جاوداں ،پیہم رواں،ہردم جواں ہےزندگی (بیان القرآن)
ـــــ خَلَقَ الْمَوْتَ۔ موت اسلام میں عدمِ محض یا سلبِ حیات کا نام نہیں ،جیساکہ بعض مشرک جاہلی فلاسفہ نے قراردیا ہے،ایک مستقل ہستی ہے،وجودی مخلوق ہے، مثبت حقیقت ہے۔۔۔۔۔مسیحوں کے یہاں یہ عقیدہ پھیلا ہواہے کہ موت انسان کے لیے ایک طبعی چیز اور ختم حیات کا نام نہیں، بلکہ معصیتِ آدمؑ کی پاداش کے طورپر آدم و نسلِ آدم پر مسلط کردی گئی ہے۔۔۔۔۔اس طرح یہود کا عقیدہ تھا کہ صرف زندگی خدا کی پیدا کی ہوئی ہے،اور موت تو شیطان نے نافرمانی کرکے پیدا کردی ہے۔۔۔۔۔الْحَیٰوةُ۔ حیات سے کہیں کہیں قرآن مجید نے وہ مستقل پائداردائمی آخرتی زندگی بھی مراد لی ہے، جو اس عالم ناسوت کے بعد شروع ہوکر کبھی نہ ختم ہوگی،جیساکہ آیت یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ سے واضح ہے،اور زندہ عالم اسی کو قرار دیا ہے،جیساکہ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ سے روشن ہے۔اگر الحیوان سے بھی اُخروی زندگی ہی مراد لی جائے تو پورے فقرے کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ نے اس "ناسوتی زندگی"سے کوچ اور عالمِ آخرت میں بقاو قیام کا انتظام اس لیے رکھا ہے کہ تمہھارے "حسن عمل"کا امتحان ہوجائے۔یہ خوب خیال رہے کہ اسلام میں موت بجائے خود نہ کوئی خوف و دہشت کی چیز ہے،نہ کراہت و انقباض کی، بلکہ وہ تو رُوح کو اس کی اصل منزل تک پہنچا دینے میں جَسر موصل ہے، یہ جوڑ دینے والے پل کا کام دینے والی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بےانتہا زبردست اور سب پر پوری طرح غالب ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کے حق میں رحیم و غفور ہے، ظالم اور سخت گیر نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ برے عمل کرنے والوں کو سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی سزا سے بچ سکے۔ مگر جو نادم ہو کر برائی سے باز آجائے اور معافی مانگ لے اس کے ساتھ وہ در گزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔ (تفہیم القرآن)
3۔ طِبَاقًا۔ طباق کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، کوئی دوچیزیں جو ایک دوسرے کے اوپر ہوں یا ایک دوسرے کے موافق و ہم آہنگ ،سب اسی کے تحت میں آسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔مراد آسمانِ معروف سے بھی ہوسکتی ہے اور نظامِ شمسی کے ساتھ معروف سیاروں سے بھی، یاکوئی بھی سات دنیائیں تہ بہ تہ یا ایک دوسرے کے متناسب و ہم آہنگ ،جو آئندہ تحقیقات سے ثابت ہوں۔(تفسیر ماجدی)
7۔اصل میں لفظ شھیق استعمال ہوا ہے۔ جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہوگی جہاں ان لوگوں سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
8۔اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں ہوگی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبردار کرنے والا آیا تھا یا نہیں، بلکہ اس سے مقصود ان کو اس بات کا قائل کرنا ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال کر ان کے ساتھ کوئی بےانصافی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس لیے وہ خود ان کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیخبر نہیں رکھا تھا، ان کے پاس انبیاء بھیجے تھے، ان کو بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہ راست کونسی ہے، اور ان کو متنبہ کردیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اسی جہنم کا ایندھن بننا ہوگا جس میں اب وہ جھونکے گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
14۔اصل میں لفظ " لطیف " استعمال ہوا ہے جس کے معنی غیر محسوس طریقے سے کام کرنے والے کے بھی ہیں اور پوشیدہ حقائق کو جاننے والے کے بھی۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ ﴿15﴾ ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ ﴿16﴾ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ ﴿17﴾ وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ ﴿18﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْن َ١ ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ ﴿19﴾ اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ ﴿20﴾ اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ ﴿21﴾ اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿22﴾ قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ﴿23﴾ قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ﴿24﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿25﴾ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿26﴾ فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ ﴿27﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿28﴾ قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿29﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ ﴿30ع الملك 67﴾ |
| 15. وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہو) رزق کھاؤ اور تم کو اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔ 16. کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔ 17. کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے۔ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔ 18. اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔ 19. کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بےشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ 20. بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں۔ 21. بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 22. بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟ 23. کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔ 24. کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔ 25. اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پورا) ہوگا؟ 26. کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں۔ 27. سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔ 28. کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے؟ 29. کہہ دو کہ وہ جو (خدائے) رحمٰن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا۔ 30. کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے) سوا کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے۔ |
تفسیر آیات
16۔اوپر کی آیت میں انسان کی ناتوانی اور بے حقیقتی کا جو ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تنبیہ ہے کہ جو انسان اس زمین کے وسیع و عریض اطراف و اکناف میں جوؤں کی طرح رینگ رہا ہے اس کو اپنی طاقت اور اپنے وسائل پر اتنا غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خدا کے عذاب سے ڈرایا جائے تو وہ اس کا مذاق اڑائے کہ اس پر کدھر سے عذاب آئے گا اور کون عذاب لائے گا! فرمایا کہ کیا تم اس عظیم ہستی سے جو آسمانوں میں ہے بالکل بے خوف اور نچنت ہو گئے کہ وہ زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے اور وہ بالکل بَگ ٹُٹ ہو کر کسی سمت کو چل پڑے! (تدبرِ قرآن)
22۔ فرمایا کہ یہ لوگ کتے کے مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھ بند کیے، اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر، سر اٹھا کر، دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا، لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف اور تمغۂ امتیاز ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہشوں کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں بالخصوص کتوں سے دی گئی ہے۔(تدبرِ قرآن)
23۔ فلسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذرائع بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھ بنائی ہے یہاں حق تعالیٰ نے ان پانچوں چیزوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا ہے یعنی کان اور آنکھ۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کو اپنی عمر میں جتنی معلومات ہوئی ہیں۔ ان میں سنی ہوئی چیزیں بہ نسبت دیکھی ہوئی چیزوں کے بدر جہا زائد ہوتی ہیں اس لئے اس جگہ حواس خمسہ میں سے صرف دو پر اکتفا کیا گیا ہے کہ وہ اصل بنیاد اور مرکز علم ہیں۔ کانوں سے سنی ہوئی اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیزوںکا علم بھی قلب پر موقوف ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں کہ قلب کو مرکز علم قرار دیا ہے۔ بخلاف فلاسفہ کے کہ وہ دماغ کو اس کا مرکز مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔(معارف القرآن)
25۔۔۔۔۔کوئی شخص اگر قیامت کا قائل ہوسکتا ہے تو عقلی دلائل سے ہوسکتا ہے، اور قرآن مجید میں جگہ جگہ وہ دلائل تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں، رہی اس کی تاریخ، تو قیامت کی بحث میں اس کا سوال اٹھانا ایک جاہل آدمی ہی کا کام ہوسکتا ہے کہ جب وہ تمہاری بتائی ہوئی تاریخ پر آجائے گی تو مان لوں گا، آج آخر میں کیسے یقین کرلوں کہ وہ اس روز ضرور آجائے گی۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القران)
26۔یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبردار کردینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کرلے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ کس روز مرے گا۔(تفہیم القران)
29۔ بجائے تَوَکَّلنَا عَلَیہ کے عَلَیہِ تَوَکَّلنَا کی ترکیب زور و تاکید کے لیے ہے۔(تفسیر ماجدی)
30۔ (i)پانی کی سطح اتنی نیچی ہوجائے کہ زمین سے پانی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوجائے ۔(ii)پانی کم ہوجانے کی وجہ سے پانی اتنا گدلاہوجائے کہ پینے کے لائق نہ ہو۔مَآءٌ مَّعِیْنٌ(صاف ،شفاف،خالص اور بے آمیز پانی)(تدبرقرآن)
ـــــ حدیث میں آیا ہے کہ سورۂ ملک کا میت کی قبر پر پڑھنا بڑی برکت و نزولِ رحمت کا باعث ہوتاہے اور ایک روایت میں یہ بھی آیاہے کہ جس نے سورۃ الملک کی تلاوت کی وہ گویا شب قدر میں شب بیدار رہا۔(تفسیر ماجدی)