68 - سورة القلم (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 52 |
مضمون: قریش کی بدکردارقیادت اپنی قوم کو جہنم کے عذاب سے دوچار کرکے رہے گی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرنا چاہئے ۔اخروی عذاب شدید تر ہوگا۔
نام : اس سورت کے دونام ہیں ۔القلم اور ن۔دونوں نام پہلی ہی آیت میں مذکور ہیں۔
شانِ نزول: سورۂ القلم ، اعلان عام کے بعد قیام مکہ کے دوسرے دور (4-5سن نبوی) میں ہجرت حبشہ (رجب 5 نبوی) کے بعد نازل ہوئی۔
نظمِ کلام: سورۂ ملک
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین:(i)ر۔1( کفار کی کج فہمیاں اور باغ والوں کی مثال)(ii)ر۔2(مومن اور منکر برابرنہیں)
نظم جلی:۔ آیات 1تا7 : پہلے پیراگراف میں "صالح قیادت"کے اوصاف بیان کیے گئے ۔آیات 8 تا16 :دوسرے پیراگراف میں ،دعوت رسولؐ کو جھٹلانے والی قریش کی کافر و فاسق قیادت کے اخلاق و اوصاف بیان کیے گئے ۔رسول اللہؐ کو ان "مکذبین"کے آگےنہ جھکنے کی ہدایت کی گئی ۔وہ چاہتے ہیں کہ آپؐ نرم پڑیں تو وہ بھی نرمی دکھائیں ۔"وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ"،لیکن عقیدے کے معاملے میں کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہوسکتی ۔ (قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ ﴿1﴾ مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ ﴿2﴾ وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ ﴿3﴾ وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ ﴿4﴾ فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ ﴿5﴾ بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ ﴿6﴾ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ ﴿7﴾ فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ ﴿8﴾ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ ﴿9﴾ وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ ﴿12﴾ عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ ﴿13﴾ اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ ﴿14﴾ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿15﴾ سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ ﴿16﴾ اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ ﴿17﴾ وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ ﴿18﴾ فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ ﴿19﴾ فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ ﴿20﴾ فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ ﴿21﴾ اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ ﴿22﴾ فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ ﴿23﴾ اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ ﴿24﴾ وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ ﴿25﴾ فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ ﴿26﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ﴿27﴾ قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ ﴿28﴾ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ﴿29﴾ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ ﴿30﴾ قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ ﴿31﴾ عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ﴿32﴾ كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ ۧ ﴿33ع القلم 68﴾ |
| 1. نٓ۔ قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم۔ 2. کہ (اے محمدﷺ) تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو۔ 3. اور تمہارے لئے بے انتہا اجر ہے۔ 4. اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں۔ 5. سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے۔ 6. کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔ 7. تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ 8. تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔ 9. یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں۔ 10. اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا، ذلیل اوقات ہے۔ 11. طعن آمیز اشارتیں کرنے والا ،چغلیاں لئے پھرنے والا۔ 12. مال میں بخل کرنے والا ،حد سے بڑھا ہوا بدکار۔ 13. سخت خو اور اس کے علاوہ بدذات ہے۔ 14. اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔ 15. جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔ 16. ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے۔ 17. ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے۔ 18. اور انشاء الله نہ کہا۔ 19. سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی۔ 20. تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔ 21. جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔ 22. اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔ 23. تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے۔ 24. آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے۔ 25. اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر ہیں۔ 26. جب باغ کو دیکھا تو (ویران) ،کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں۔ 27. نہیں بلکہ ہم (برگشتہ نصیب) بےنصیب ہیں۔ 28. ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟ 29. (تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے۔ 30. پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے۔ 31. کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔ 32. امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے رجوع لاتے ہیں۔ 33. (دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش! یہ لوگ جانتے ہوتے۔ |
تفسیر آیات
1۔ بعض لوگوں کے نزدیک"ن"سے مراد دوات ہے اور اس قیاس کی بنیاد یہ ہے کہ قلم اور دوات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ن۔ حرف مقطعات میں سے ہے،حروفِ مقطعات کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ کے شروع میں الٓمّٓۚ پر حاشیہ۔۔۔۔ن کے عام لغوی معنی ضخیم مچھلی (الحوت العظیم)کے ہیں، چنانچہ حضرت یونسؑ کا لقب اسی مناسبت سے ذوالنون پڑا۔(تفسیر ماجدی)
۔لفظ قلم تعبیر ہے وحی آسمانی کے تمام سرمایہ کی مثلاً تورات، زبور، انجیل وغیرہ ۔ اور جو چیز لکھی جارہی ہے،وہ قرآن ہے۔مطلب یہ ہے کہ گذشتہ انبیاء کی پوری تعلیمات اور قرآن جیسا اعلیٰ و برتر کلام اس پر گواہ ہے کہ پیغمبرؐ جس عذاب سے ڈرا رہے ہیں وہ حقیقت بن سکتاہے لیکن قریش کے کے یہ دانش فروش لیڈر ہیں کہ تم جیسے فرزانہ کو دیوانہ قراردے رہے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔امام تفسیر مجاہد کہتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر، یعنی قرآن لکھا جا رہا تھا۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ چیز جو لکھی جا رہی تھی اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ (تفہیم القرآن)
2۔ مجنون کہنے کی وجہ سے حضورؐ کو شدید صدمہ۔وہی جو بے حد احترام کرتے تھے ۔آپ کودیوانہ کہہ رہے تھے ۔اس کے جواب میں پہلی سات آیات۔(بیان القرآن)
۔ یہ مقسم علیہ ہے(جس کیلئے اتنے اہتمام سے قسمیں کھائی ہیں)(تدبرقرآن)
3۔ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ کے معنی غیر منقطع کے ہیں۔(تدبرقرآن)
4۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ نبیؐ کے اعلیٰ کردار کو آپؐ کے دعوے کی صداقت کی دلیل کے طورپر پیش کیا گیا ہے(قرآن اور حضورؐ دونوں معجزہ)
حسنِ یوسف،دم عیسیٰ،یدبیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دار ندتو تنہا داری(تدبرقرآن)
ــــ حضورؐ کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہؓ نے اپنے اس قول میں فرمائی کہ کان خلقہ القرآن(قرآن آپؐ کا اخلاق تھا) (امام احمدؒ،امام مسلمؒ،نسائی ،ابن ماجہ) مجسم قرآن۔اوامر و نواہی کا بہترین نمونہ۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال حضورؐ کی خدمت کی آپؐ نے کبھی میرے کسی کام پر اُف تک نہیں کی ۔کبھی کسی کام پر یہ نہیں کہا کہ تونے یہ کیوں کیا یا کیوں نہیں کیا(بخاری و مسلم)(تفہیم القرآن)
8۔ لفظ "اِطَاعَۃ"یہاں کسی کی بات کا اثر لینے کے مفہوم میں ہے۔(تدبرقرآن)
9۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے شرکت میانۂ حق و باطل نہ کرقبول ۔(علامہ اقبالؒ)
10۔ یہ کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا کردار بیان ہورہاہے (کسی شخص کیلئے کئی صفات کو منطبق کرنے کا تکلف کرنا پڑے گا)۔(تدبرقرآن)
13۔ زَنِیم کی وضاحت اہلِ لغت نے یوں کی ہے کہ "وہ شخص جو کسی قوم کے نسب میں شریک بن بیٹھے درآنحالیکہ نہ وہ ان میں سے ہو اور نہ اہل قوم اس کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہوں)یہ لفظ زنمۃ سے نکلاہے زنمۃ اس غدود کو کہتے ہیں جو بعض بکریوں کی گردن میں لٹک آتاہے اور جس کی حیثیت جسم میں ایک بالکل فالتوعضو کی ہوتی ہے۔روایات میں اخنس بن شریق کے متعلق آیا ہے کہ وہ اصلاًثقیف میں سے تھا لیکن مدعی تھا کہ وہ زہرہ سے ہے۔ اسی طرح ولید بن مغیرہ (خالد بن ولیدؓ کا باپ) کے متعلق بھی مشہور ہے کہ وہ قریشی ہونے کا مدعی تھا حالانکہ وہ قریش میں سے نہ تھا۔جولوگ اپنے نسب کو حقیر سمجھ کر دوسروں کے نسب میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں وہ شیخی باز قسم کے ہوتے ہیں ۔یہ کھوٹے قریشی آپؐ کی مخالفت میں پیش پیش تھے کہ آپؐ کی دعوت سے قریش کی وحدت میں انتشار پیدا ہورہاہے۔(تدبرقرآن)
ـــ اصل میں لفظ"عُتُلٌّ"استعمال ہواہے جو عربی میں ایسے شخص کیلئے بولا جاتاہے جو خوب ہٹا کٹا اور بہت کھانے پینے والاہو اور اس کے ساتھ نہایت بدخلق ،جھگڑالواور سفاک ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔لفظ "زَنِیْمٌ" اس ولدالزنا کیلئے بولاجاتاہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔۔۔ (مختلف مفسرین کے مطابق آیت میں ان سرداروں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ ہے: ولید بن مغیرہ،اسود بن عبد یغوث،اخنس بن شریق، ابولہب اور ابوجہل)قرآن میں صرف اس کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔وہ اپنے اوصاف میں اتنا مشہور تھا کہ نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔(تفہیم القرآن)
ــــ زَنِیْمٌ کا معنی ایسا شخص ہے جس کا نسب مشکوک ہو وہ خود کو کسی دوسرے قبیلے سے ملارہاہو،اسی لحاظ سے اس لفظ کا معنی بد ذات بھی کیا جاتاہے۔بدنام بھی ولدالزنا بھی۔ عام مفسرین کا خیال ہے کہ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا۔ جو ابوجہل سے پہلے قریش مکہ کا رئیس تھا اور اس کے نسب کا اٹھارہ سال بعد پتہ چلا تھا۔واللہ اعلم بالصواب۔(تیسیر القرآن)
16۔ یہ لوگ حضورؐ کی مخالفت درحقیقت اپنی ناک ہی اونچی رکھنے کیلئے کررہے تھے۔اس کی ناک صرف ناک نہیں بلکہ اس نے اس کو بڑھا کر اور پھلا کر سونڈ بنالیا ہے۔(تدبرقرآن)
25۔ بہرحال جہاں کہیں بھی ہو، کوئی ایسا باغ تھا جس کی تلمیح اہل عرب پر روشن تھی۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں،وہ آخر خود ہی خسارے میں رہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
32۔ یہ اسی طرح کا اعتراف ہے جس طرح کا اعتراف فرعون نے غرق ہوتے وقت کیا تھا۔ اس طرح کی توبہ بعد از وقت ہونے کے سبب سے بالکل بے سود ہوتی ہے اور مجرمین کی بہتر مستقبل کی آرزوئیں پوری نہیں ہوتیں۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
ــــ یُبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَا۔ لفظ بدل عام ہے ،عوض خواہ دنیا میں ملے خواہ آخرت میں۔اور عجب نہیں کہ دونوں جگہ مراد ہو۔ صحابی ابن مسعودؓ کا قول نقل ہواہے کہ بہتر باغ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔او رمجاہد تابعی سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ﴿34﴾ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ ﴿35﴾ مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ ﴿36﴾ اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ ﴿37﴾ اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ ﴿38﴾ اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ ﴿39﴾ سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚ ۛ ﴿40﴾ اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ ﴿41﴾ یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ ﴿42﴾ خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ ﴿43﴾ فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ ﴿44﴾ وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ ﴿45﴾ اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ ﴿46﴾ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ ﴿47﴾ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ ﴿48﴾ لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ ﴿49﴾ فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿50﴾ وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ ﴿51﴾ وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ ﴿52ع القلم 68﴾ |
| 34. پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں۔ 35. کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح (نعمتوں سے) محروم کردیں گے؟ 36. تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسی تجویزیں کرتے ہو؟ 37. کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو۔ 38. کہ جو چیز تم پسند کرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی۔ 39. یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی۔ 40. ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے؟ 41. کیا (اس قول میں) ان کے اور بھی شریک ہیں؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لا سامنے کریں۔ 42. جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائے گا اور کفار سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ 43. ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اُس وقت) سجدے کے لئے بلاتے جاتے تھے جب کہ صحیح وسالم تھے۔ 44. تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی 45. اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے۔ 46. کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ 47. یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اسے) لکھتے جاتے ہیں۔ 48. تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے یونس کی طرح نہ ہو نا کہ انہوں نے (خدا) کو پکارا اور وہ (غم و) غصے میں بھرے ہوئے تھے۔ 49. اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا۔ 50. پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کرکے نیکوکاروں میں کرلیا۔ 51. اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتےہیں یہ تو دیوانہ ہے۔ 52. اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے نصیحت ہے۔ |
تفسیر آیات
42۔ اللہ کی پنڈلی کا ذکر:۔ آیت نمبر 42 اور 43 کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:"قیامت کے دن پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گرپڑیں گے۔صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو لوگوں کو دکھلانے یا سنانے کے لئے سجدہ کیا کرتے تھے۔وہ سجدہ تو کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پشت اکڑ کر ایک تختہ کی طرح ہوجائے گی"(بخاری۔ کتاب التفسیر)بعض علماء نے"یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ"کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ:"جس دن حقائق سے پردہ اٹھادیا جائے گا"اگر یہ اہل عرب کا محاورہ ہو تب بھی ہم ارشاد نبویؐ کے مقابلہ میں ایسے محاورہ کو ترجیح نہیں دے سکتے۔رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی کیسی ہے کیا یہ انسانوں کی پنڈلی کی طرح ہے یا اس کی کوئی اور صورت ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ بات نہ جان سکتے ہیں اور نہ جاننے کے مکلّف ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اگر اللہ نے اپنی پنڈلی کا ذکرکیا ہے تو ہم اتنی ہی بات مانتے ہیں، اس کےعلاوہ کچھ نہیں۔(تیسیر القرآن)
ــــ لیکن لغت میں اس کی صراحت بھی ہے محاورۂ عرب میں کشف ساق سے مراد امر صعب (دُشوار)کے اہتمام سے ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
48۔ مچھلی کے پیٹ میں وظیفہ:۔ اس آیت میں سیدنا یونسؑ کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جب وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تھے۔ اس وقت آپ کئی قسم کے غموں کا مجموعہ بنے ہوئے تھے۔مثلاًقوم کے ایمان نہ لانے کا غم۔آپ کے بتائےہوئے وعدہ عذاب پر عذاب نہ آنے کا غم، اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے آنے کا غم، پھر مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کا غم، ان تمام پریشانیوں اور غموں سے نجات کی واحد صورت آپ کو یہی نظر آئی کہ اللہ کی تسبیح و تہلیل کریں اور اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی طلب کریں ۔چنانچہ آپ جب تک مچھلی کے پیٹ میں رہے"لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"پڑھتے رہے۔تاآنکہ اللہ نے آپ کو اس مصیبت سے نجات دے دی۔(تیسیر القرآن)
49۔اس آیت کو سورة صافات کی آیات 142 تا 146 کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے، مگر وہ اس وقت مذمت میں مبتلا نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس جگہ ایک بیلدار درخت اگا دیا، تاکہ اس کے پتے ان پر سایہ بھی کریں اور وہ اس کے پھل سے بھوک اور تشنگی بھی دور کرسکیں۔ (تفہیم القرآن)
50۔ یعنی ان کی نبوت کو بھی بحال کردیا گیا اور انہیں اسی قوم کی طرف دوبارہ بھیجا گیا جہاں سے وہ بھاگ کر چلے گئے تھے۔آپ کاقصہ پہلے سورۂ یونس کی آیت نمبر98 ،سورۂ انبیاء کی آیت نمبر 87، 88 اور سورۂ الصافات کی آیت نمبر 143 کے تحت گزرچکا ہے۔حواشی ملاحظہ کرلیے جائیں۔(تیسیر القرآن)
51۔ لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ ۔زلق بالأبصار محاورۂ عرب میں کنایہ شدتِ غضب سے ہے،جیسے اُردو میں کہتے ہیں کہ تم ایسی بُری آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جیسے کھاہی جاؤگے۔(تفسیر ماجدی)
ــــ کفار جب قرآن سنتے تونبیؐ کو نہایت تیزنگاہوں سے گھورتے تاکہ آپ کو مرعوب کرکے اپنے مؤقف سے ہٹائیں۔اسی طرح جوشِ غضب میں آپ کو خبطی اور مجنون بتاتے۔فرمایا تم اپنے مؤقف پر ڈٹے رہو۔ان لوگوں نے اس یاددہانی سے فائدہ نہ اٹھایا تویہی لوگ پچھتائیں گے لیکن یہ پچھتانا بے سود ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ جس شخص کو نظر بد کسی انسان کی لگ گئی ہو اس پر یہ آیات پڑھ کر دم کردینا اس کے اثر کو زائل کردیتا ہے۔ یہ آیات وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے آخر سورت تک ہیں۔ (مظہری) (معارف القرآن)