71 - سورة نوح (مکیہ)

رکوع - 2 آیات - 28

مضمون: پیغمبر کی جدوجہدصبر آزما ہوتی ہے لیکن اس کی تعلیم سے بے صلاحیت لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون:  رات دن، توحید و آخرت کی دعوت و تبلیغ کا کام صبرو استقامت سے جاری رہنا چاہئیے ۔دنیاوی و اخروی عذاب سے خبردار کیا جانا ہی کارِ پیغمبری ہے۔ سورۂ کے آخر میں حضرت نوحؑ کی دعاؤں اور بددعاؤں کا ذکر ہے۔

کلیدی مضمون: 1۔ سورۃ نوح میں، دعوت و تبلیغ کے آداب بتائے گئے ہیں۔2۔ اس سورت میں دعوت کے متعلق وضاحت کی گئی ہے کہ یہ توحید،رسالت اور آخرت کے علاوہ ،قوم کے انذار(Warning)پرمشتمل ہونی چاہیے۔3۔ اس سورت میں قوم کو اُن کے گناہوں کا احساس دلاکر ،اُنہیں استغفار کی دعوت بھی دی گئی ہے اور استغفار کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔"استغفار"(آیت10)اور"مغفرت"(آیات 4، 6، 28) کا لفظ کئی بار استعمال ہواہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

شانِ نزول: ہجرتِ حبشہ (رجب5نبوی) کے بعد ،5 نبوی کے اواخر میں نازل ہوئی جب مخالفت میں شدت آگئی تھی۔ اس سورت میں قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ دعوتِ توحید و استغفار کو مسترد کرنے کی صورت میں قوم ِ نوح کی طرح عذاب آسکتاہے۔

نظمِ کلام : سورۂ الملک

ترتیب مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1( حضرت نوحؑ کی دعوت اور ان کی قوم کی سرکشی)(ii)ر۔2( حضرت نوحؑ کی مایوسی اور بددعا)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿1﴾ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ ﴿2﴾ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ ﴿3﴾ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿4﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ ﴿5﴾ فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا ﴿6﴾ وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ ﴿7﴾ ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ ﴿8﴾ ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ ﴿9﴾ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ ﴿10﴾ یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ ﴿11﴾ وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ ﴿12﴾ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ ﴿13﴾ وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا ﴿14﴾ اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ ﴿15﴾ وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ﴿16﴾ وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ ﴿17﴾ ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا ﴿18﴾ وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ ﴿19﴾ لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ ﴿20ع نوح 71﴾
1. ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو۔ 2. انہوں نے کہا کہ اے قوم! میں تم کو کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں۔ 3. کہ خدا کی عبات کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 4. وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے۔ 5. جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا۔ 6. لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہے۔ 7. جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے۔ 8. پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا۔ 9. اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا۔ 10. اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ 11. وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا۔ 12. اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لئے نہریں بہا دے گا۔ 13. تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ 14. حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے۔ 15. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں۔ 16. اور چاند کو ان میں نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے۔ 17. اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے۔ 18. پھر اسی میں تمہیں لوٹا دے گا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ 19. اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا؎۔ 20. تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ رستوں میں چلو پھرو۔

تفسیر آیات

رسول کی دعوت تین ارکان پر مبنی ہوتی ہے: توحید،شریعت الٰہی کی پابندی اور رسول کی اطاعت۔جب تک کوئی قوم ان پر استوار رہتی ہے اس کے قدم جادۂ مستقیم پر استوار رہتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔یہ تین باتیں تھیں جو حضرت نوح ؑ نے اپنی رسالت کا آغاز کرتے ہوئے اپنی قوم کے سامنے پیش کیں۔ ایک، اللہ کی بندگی۔ دوسرے، تقویٰ۔ تیسرے، رسول کی اطاعت۔ اللہ کی بندگی کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی بندگی و عبادت چھوڑ کر اور صرف اللہ ہی کو اپنا معبود تسلیم کر کے اسی کی پرستش کرو اور اسی کے احکام بجا لاؤ۔ تقویٰ کا مطلب یہ تھا کہ ان کاموں سے پرہیز کرو جو اللہ کی ناراضی اور اس کے غضب کے موجب ہیں، اور اپنی زندگی میں وہ روش اختیار کرو جو خدا ترس لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے۔ رہی تیسری بات کہ " میری اطاعت کرو "، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ان احکام کی اطاعت کرو جو اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں دیتا ہوں۔ (تفہیم القرآن)

اس دوسرے وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے مقرر کردیا ہو۔ اس کے متعلق متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بات بصراحت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی قوم کے حق میں نزول عذاب کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے اس کے بعد وہ ایمان بھی لے آئے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا۔ (تفہیم القرآن)

۔ اجل کے معنے مدت اور مسمّٰی سے مراد متعین کردہ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مقررہ مدت عمر سے پہلے تمہیں کسی دنیاوی عذاب میں پکڑ کر ہلاک نہ کریگا۔۔۔۔۔۔۔۔معلوم ہوا کہ عمر کی مدت مقررہ میں بعض اوقات کوئی شرط ہوتی ہے  کہ اس نے فلاں کام کرلیا تو اس کی عمر مثلاً اسی سال ہوگی اور نہ کیا تو ساٹھ سال میں موت مسلط کردی جائے گی یا منفی کا موں میں اللہ کی ناشکری سے عمر گھٹ جانا اور شکر گزاری سے عمر بڑھ جانا، اسی طرح بعض اعمال مثلاً والدین کی اطاعت و خدمت سے عمر میں ترقی ہونا جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کا بھی یہی مطلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی تشریح تفسیر مظہری میں یہ ہے کہ تقدیر اور قضائے الٰہی کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم یعنی قطعی، دوسری معلق  یعنی جو کسی شرط پر معلق ہو۔ یعنی لوح محفوظ میں اس طرح لکھا جاتا ہے کہ فلاح شخص نے اگر اللہ کی اطاعت کی تو اس کی عمر مثلاً ستر سال ہوگی اور نہ کی تو پچاس سال میں مار دیا جائے گا اس دوسری قسم تقدیر میں شرط نہ پائے جانے پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم میں ان دونوں قسم کی قضا و تقدیر کا ذکر اس آیت میں ہے یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَهٗ اُمُّ الْكِتٰبِ۔ یعنی اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں محو و اثبات یعنی ترمیم و تبدیل کرتا رہتا ہے  اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب، اصل کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں تقدیر مبرم لکھی ہوئی ہے کیونکہ تقدیر معلق میں جو شرط لکھی گئی ہے اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ شخص یہ شرط پوری کرے گا یا نہیں، اس لئے تقدیر مبرم میں قطعی فیصلہ لکھا جاتا ہے۔ (معارف القرآن)

بیچ میں ایک طویل زمانے کی تاریخ چھوڑ کر اب حضرت نوح ؑ کی وہ عرضداشت نقل کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنی رسالت کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی۔ (تفہیم القرآن)

کانوں میں انگلیاں دے لینا، اپنے اوپر چادریں لپیٹ لینا اور اپنے شرک پر اڑجانا قوم کے تکبر کا نتیجہ تھا۔ان کے پاس حضرت نوحؑ کی باتوں کا کوئی جواب نہ تھا لہذا انہوں نے سلامتی گریز و فرارہی میں سمجھی تاکہ اپنے مجرم ضمیر کو احساسِ جرم کی اذیت سے بچا سکیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

10۔استغفار سے حاصل ہونے والے دنیوی فوائد :۔ اور جہاں تک میرے سمجھانے کا تعلق ہے تو میں ان کی مجلسوں میں بھی جاتاہوں اور ان کے گھروں میں بھی۔ان سے نجی محفلیں بھی کرتاہوں۔انہیں برملا بھی سمجھاتاہوں اور خیرخواہی کے لہجہ میں انفرادی ملاقاتوں میں انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتاہوں کہ اس وقت جو تم پر قحط مسلط ہے، بارشیں نہیں ہورہی ہیں،اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو۔اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لوتو تم پر سے یہ قحط دور ہوجائے گا۔ اللہ کی مہربانی سے خوب بارشیں ہوں گی۔ اور تمہارے اموال اور اولاد میں اللہ تعالیٰ خوب برکت عطا فرمائے گا" واضح رہے کہ استغفار کے دنیا میں حاصل ہونے والے ایسے فوائد کا ذکر قرآن میں اور بھی کئی مقامات پر آیا ہے۔مثلاً سورۂ مائدہ میں فرمایا:اور اگر اہل کتاب تورات،انجیل اور جوکچھ ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا تھا ،پر عمل پیرارہتےتو ان کے اوپر سے بھی رزق برستااور نیچے سے بھی نکلتا(5: 66)اور سورۂ اعراف میں فرمایا:اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔(7: 96)ان آیات سے واضح طورپر معلوم ہوتاہے کہ استغفار کا دنیا میں بھی یہ فائدہ ہوتاہے کہ اس سے تنگدستی اور کئی دوسری پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔چنانچہ حسن بصریؒ سے ایک شخص نے قحط کا شکوہ کیا،دوسرے نے محتاجی کا اور تیسرے نے اولاد نہ ہونے کا تو آپ نے ان تینوںکو استغفار کا حکم دیا۔کسی نے کہا کہ ان کے شکوے تو الگ الگ ہیں لیکن آپ ہر ایک کو استغفار کا ہی حکم دے رہے ہیں؟اس کے جواب میں آپ نے یہی آیات(نمبر 10 تا 12)پڑھ کر اسے مطمئن کردیا۔بلکہ بعض علماء تو کہتے ہیں کہ ہر مقصد کے حصول کے لئے اللہ کے حضوراستغفار کرنا چاہئے۔چنانچہ ایک دفعہ سیدنا عمرؓ  بارش کی دعا کرنے کے لئے باہر نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔کسی نے عرض کیا: امیر المومنین! آپ نے بارش کے لئے دعا تو کی ہی نہیں ؟فرمایا: میں نے آسمان کے ان دروازوں کوکھٹکھٹادیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے پھر آپ نے سورۂ نوح کی یہی آیات لوگوں کو پڑھ کرسنادیں۔(تیسیر القرآن)

13۔ حضرت نوحؑ سرزنش فرمانے لگے کہ اگر کوئی مالدار آدمی تمہارے پاس آتاہے ،تم اٹھ کرسلام کرتے ہو۔ اگر کسی علاقے کا سردار آجائے تو اس کا احترام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ہی ایک ایسی ذات ہے جس کا تمہیں کوئی لحاظ نہیں ۔(ضیاء القرآن)

ــــ   اللہ تعالیٰ میں جمال کی صفات کے ساتھ جلال کی صفات  بھی ہیں جو ان لوگوں کیلئے ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے رسولوں کی نافرمانی کرتے اور ان کے آگے اکڑتے ہیں ۔صراطِ مستقیم پر استوار رہنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان ان دونوں ہی قسموں کی صفات کی یادداشت تازہ رکھے ۔اگر ان میں عدمِ توازن پیدا ہوجائے تو آدمی کا ذہن صفاتِ الٰہی کے باب میں غیر متوازن ہوجاتاہے  جس سے اس کی ساری زندگی کا توازن بگڑ جاتاہے۔(تدبر قرآن)


دوسرا رکوع

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ ﴿21﴾ وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ ﴿22﴾ وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ ﴿23﴾ وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿24﴾ مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا ﴿25﴾ وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا ﴿26﴾ اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ﴿27﴾ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ ﴿28ع نوح 71﴾
21. (اس کے بعد) نوح نے عرض کی کہ میرے پروردگار! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا۔ 22. اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے۔ 23. اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔ 24. (پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو تُو ان کو اور گمراہ کردے۔ 25. (آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرقاب کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے۔ تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔ 26. اور (پھر) نوحؑ نے (یہ) دعا کی کہ میرے پروردگار اگر کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ 27. اگر تم ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی۔ 28. اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا۔

تفسیر آیات

22۔مکر سے مراد ان سرداروں اور پیشواؤں کے وہ فریب ہیں جن سے وہ اپنی قوم کے عوام کو حضرت نوح ؑ کی تعلیمات کے خلاف بہکانے کی کوشش کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ نوح تمہی جیسا ایک آدمی ہے۔۔۔۔۔۔۔نوح کی پیروی تو ہمارے اراذل نے بےسوچے سمجھے قبول کرلی ہے۔۔۔۔۔۔۔خدا کو اگر بھیجنا ہوتا تو کوئی فرشتہ بھیجتا۔۔۔۔۔۔ نوح اور اس کے پیرو وں میں آخر کونسی کرامت نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔یہ شخص دراصل تم پر اپنی سرداری جمانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس شخص پر کسی جن کا سایہ ہے۔۔۔۔۔۔ قریب قریب یہی باتیں تھیں جن سے قریش کے سردار نبی ﷺ کے خلاف لوگوں کو بہکایا کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن)

23۔ امام بغوی ؒ نے نقل کیا ہے کہ یہ پانچوں دراصل اللہ کے نیک و صالح بندے تھے جو آدمؑ اور نوحؑ کے درمیانی زمانے میں گزرے تھے ان کے بہت سے لوگ معتقد اور متبع تھے ان لوگوں نے ان کی وفات کے بعد بھی ایک عرصہ دراز تک انہی کے نقش قدم پر عبادت اور اللہ کے احکام کی اطاعت جاری رکھی۔ کچھ عرصہ بعد شیطان نے ان کو سمجھایا کہ تم اپنے جن بزرگوں کے تابع عبادت کرتے ہو اگر ان کی تصویریں بنا کر سامنے رکھا کرو تو تمہاری عبادت بڑی مکمل ہو جائے گی اور  خشوع و خضوع حاصل ہو گا۔ یہ لوگ اس فریب میں آ کے ان کے مجسمے بنا کے عبادت گاہ میں رکھنے اور ان کو دیکھ کر بزرگوں کی یاد تازہ ہو جانے سے ایک خاص کیفیت محسوس کرنے لگے یہاں تک کہ اسی حال میں یہ لوگ سب یکے بعد دیگرے  مرگئے اور بالکل نئی نسل نے ان کی جگہ لے لی تو شیطان نے ان کو یہ پڑھایا کہ تمہارے بزرگوں کے خدا اور معبود بھی بت تھے وہ انہی کی عبادت کیا کرتے تھے یہاں سے بت پرستی شروع ہو گئی اور ان پانچ بتوں کی عظمت چونکہ ان کے دلوں میں سب سے زیادہ بیٹھی ہوئی تھی اس لیے باہمی معاہدے میں ان کا نام خاص طور سے لیا گیا ۔ضیاء القرآن میں بھی ، اور تفسیر عثمانی میں بھی یہی صورت بیان کی گئی ہے۔(معارف القرآن)

ــــ  ان بتوں کی سخت جانی قابلِ داد ہے کہ طوفان نے قومِ نوحؑ کا ایک ایک نقش مٹا دیا لیکن ان بتوں کی خدائی پھر بھی باقی رہی۔(تدبرقرآن)

ــــ نوح کی قوم کے بت عرب میں کیسے رائج ہوگئے:۔  اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:۔سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ جو بت نوحؑ کی قوم میں پوجے جاتے تھے،وہی بعد میں عرب میں آگئے ،ودّ کلب قبیلے کا بت تھا جو دومۃ الجندل میں تھا۔ سواع ہذیل قبیلے کا بت تھا،یغوث پہلے مُرارے قبیلے کا بت تھا پھر بنی غُطف کا اور یہ سبا شہر کے پاس جوف میں تھا، یعوق ہمدان قبیلے کا تھا اور نسر حمیر قبیلے کا، جو ذی الکلاع(بادشاہ)کی اولادتھے۔یہ نوحؑ کی قوم میں سے چند نیک لوگوں کے نام تھے۔جب وہ مرگئے تو شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ جہاں یہ لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بناکر (یادگار کے طورپر)نصب کردو اور ان کے وہی نام رکھو جو ان بزرگوں کے تھے۔اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن جب وہ لوگ گزرگئے تو بعد والوں کو یہ شعور نہ رہا اور وہ ان کی پرستش کرنے لگے۔(بخاری۔کتاب التفسیر)یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ ان بتوں کے پجاری یا نوحؑ کی قوم کے سب مشرک تو طوفانِ نوح میں غرق کر دئیے گئے تھے جو باقی بچے تھے وہ سب مومن اور موحد تھے پھر بعد میں انہی بتوں کی پوجا کیسے شروع ہوگئی؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شیطان نے بچے ہوئے موحدین کے آباء و اجداد کو چکمہ دے کر ان سے ان صالحین کی آہستہ آہستہ پرستش شروع کرادی تھی۔ شیطان کی وہی چال بعد میں کامیاب رہی۔موحدین نے اپنی اولاد کو طوفان نوح کا قصہ اور اس کی وجہ بیان کی۔ چند پشتیں گزرنے کے بعد انہی بتوں سے لوگوں میں عقیدت پیدا ہوگئی جن کی وجہ سے قومِ نوح پر عذاب آیا تھا۔(تیسیر القرآن)

25۔یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جس سے برزخ کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔یعنی یہ لوگ اپنی خطاؤں اور کفر و شرک کی وجہ سے پانی میں غرق کئے گئے تو یہ آگ میں داخل ہوگئے۔ یہ متضاد عذاب کہ ڈوبے پانی میں اور نکلے آگ میں، حق تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں جہنم کی آگ تو مراد نہیں کیونکہ اس میں داخلہ تو قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہوگا یہ برزخی آگ ہے جس میں داخل ہونے کی قرآن کریم نے خبر دی ہے۔(معارف القرآن)

26-28: حضرت نوحؑ کی پرزور اور پُراثر دعا۔(بیان القرآن)

28۔’وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری مرحلہ میں حضرت نوحؑ نے یہ اعلان بھی فرما دیا تھا کہ جو عذاب سے پناہ کے طالب ہوں وہ اس کے ظہور سے پہلے پہلے ان کے گھر میں پناہ گیر ہو جائیں۔ (تدبرِ قرآن)