72 - سورة الجن (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 28 |
مضمون: قرآن سے صرف ذی صلاحیت لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: ہر صلاحیت رکھنے ولا قرآن سے استفادہ کرسکتاہے ، چاہے وہ انسان ہو یا جن ۔پھر قرآن کی روشنی میں شرک سے کنارہ کشی اختیار کرکے خالص توحید اختیار کرسکتاہے اور ایمان و عملِ صالح کے ساتھ دعوت و تبلیغ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرسکتاہے۔
نام: یہ سورت اپنے نام کی طرح نفسِ مضمون میں بھی جنوں ہی سے متعلق ہے ۔
شانِ نزول: اس سورت کے نازل ہونے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ حضورؐ کے قیامِ مکہ کے دوسرے دور(4تا5 نبوی) میں نازل ہوئی اور بعض کے خیال میں یہ سفرِ طائف سے واپسی پر بمقام نخلہ 10نبوی میں حضورؐ کے قیام مکہ کے تیسرے دور (6تا 10 نبوی) کے آخر میں نازل ہوئی اور غالباً یہ سورۂ الاحقاف کے ساتھ یا اس سے کچھ پہلے نازل ہوئی ۔یہ سورت ایک دل نشین آہنگ رکھتی ہے۔
نظمِ کلام: سورۂ الملک
ترتیب ِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1( قرآن سننے کے بعد جنوں کے تاثرات) (ii) ر۔2( پیغامِ رسالت کی حقیقت)
سورت کا اجمالی تعارف اور جنوں کی حقیقت:383-385۔)ضیاء القرآن(
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ ﴿1﴾ یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ ﴿2﴾ وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ ﴿3﴾ وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ ﴿4﴾ وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ ﴿5﴾ وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ ﴿6﴾ وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ ﴿7﴾ وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ ﴿8﴾ وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ ﴿9﴾ وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ ﴿10﴾ وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ ﴿11﴾ وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ ﴿12﴾ وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ ﴿13﴾ وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا ﴿14﴾ وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ ﴿15﴾ وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ ﴿16﴾ لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ ﴿17﴾ وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ ﴿18﴾ وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا ؕ ع﴿19ع الجن 72﴾ |
| 1. (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔ 2. جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ 3. اور یہ کہ ْہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے اور وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد۔ 4. اور یہ کہ ہم میں سے بعض بےوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتا ہے۔ 5. اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے۔ 6. اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی۔ 7. اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا۔ 8. اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے سے بھرا پایا۔ 9. اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے۔ 10. اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ 11. اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں۔ 12. اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں۔ 13. اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا۔ 14. اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔ 15. اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ 16. اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے۔ 17. تاکہ اس سے ان کی آزمائش کریں۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔ 18. اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ 19. اور جب خدا کے بندے (محمدﷺ) اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے۔ |
تفسیر آیات
1۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپؐ اپنے چند اصحاب کے ساتھ عکاظ کے بازار جانے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ان دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبر ملنا بند ہوگئی تھی اور ان پر انگارے پھینکے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔اس وقت آپؐ نخلہ میں تھے اور عکاظ کے بازار جانے کا قصد رکھتے تھے۔۔۔۔۔جنوں کی یہ گفتگو آپؐ کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوئی۔(بخاری۔ کتاب التفسیر)۔۔۔۔جنوں کا مختلف موقعوں پر قرآن سننا:۔ اس سے پیشتر سورۂ احقاف کی آیات 29 تا32 میں بھی جنوں کے قرآن سننے کا ذکر گزرچکا ہے۔سورۂ احقاف میں بیان شدہ واقعہ کے مطابق سننے والے جن مشرک نہیں تھے بلکہ وہ سیدنا موسیٰؑ پر اور تورات پر ایمان رکھتے تھے۔(تیسیر القرآن)
۔اور علامہ خفاجی نے فرمایا کہ احادیث معتبرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جنات کے وفود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں چھ مرتبہ حاضر ہوئے ہیں اسلئے ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں کہ سورة جن والے واقعہ میں آپ کو جنات کے آنے اور قرآن سننے کی خبر بھی نہ تھی جب تک بذریعہ وحی آپ کو بتلایا نہ گیا اور یہ کہ یہ واقعہ مقام نخلہ کا اور طائف سے واپسی کے وقت کا ہے اور دوسری روایات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر مکہ کے قریب ہی کے جنگل میں آپ بالقصد اسی کام کے لئے تشریف لے گئے کہ جنات کو دعوت اسلام دیں اور قرآن سنائیں یہ اس کے بعد پیش آیا (مظہری) (معارف القرآن)
ــــ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ۔نفر ایک چھوٹی سی جماعت یا ٹولی کو کہتے ہیں جس کے افراد کی تعداد تین اور دس کے درمیان ہو۔۔۔۔۔اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ۔ان الفاظ استنباط یہ کیا گیا ہے کہ جب تک وحی سے رسول اللہؐ کو مطلع نہیں کیا گیا،آپ کو خود بھی کوئی علم جنات کے سماعِ قرآن کا نہ تھا۔(تفسیر ماجدی)
2۔اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب ہونے کے منکر نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں بھی مشرکین پائے جاتے ہیں جو مشرک انسانوں کی طرح اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں، چنانچہ جنوں کی یہ قوم جس کے افراد قرآن سن کر گئے تھے مشرک ہی تھے۔ تیسرے یہ کہ نبوت اور کتب آسمانی کے نزول کا سلسلہ جنوں کے ہاں جاری نہیں ہوا، بلکہ ان میں سے جو جن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ یہی بات سورة احقاف آیات 29۔ 31 سے بھی معلوم ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ جن جنہوں نے اس وقت قرآن سنا تھا، حضرت موسیٰ کے پیرو ؤں میں سے تھے اور انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کو دعوت دی تھی کہ اب جو کلام خدا کی طرف سے پچھلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ سورة رحمان بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس کا پورا مضمون ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مخاطب انسان اور جن دونوں ہیں۔ (تفہیم القرآن)
3۔اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ جن یا تو عیسائی جنوں میں سے تھے۔ یا ان کا کوئی اور مذہب تھا جس میں اللہ تعالیٰ کو بیوی بچوں والا سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ نماز میں قرآن پاک کا کوئی حصہ پڑھ رہے تھے جسے سن کر ان کو اپنے عقیدے کی غلطی معلوم ہوگئی اور انہوں نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کی بلندو برتر ذات کی طرف سے بیوی بچوں کو منسوب کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔(تفہیم القرآن)
4۔ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا۔ یعنی ایسی نامعقول بات کوئی سفیہ (بے وقوف)ہی اپنی زبان سے نکال سکتا ہے۔سفیہ بطور اسم جنس کے آیا ہے یعنی سفیہ لوگ۔(تفسیر ماجدی)
5۔یعنی ان کی غلط باتوں سے ہمارے گمراہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم کبھی یہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ انسان یا جن اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنے کی جرات بھی کرسکتے ہیں، لیکن اب یہ قرآن سن کر ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ فی الواقع وہ جھوٹے تھے۔ (تفہیم القرآن)
ــــ معلوم ہوتاہے کہ جنات کی اس جماعت کا تعلق ان کے عوام سے تھا اور ان کا لیڈر ان کو غلط راہ پر چلاتاتھا۔قرآن سننے کے بعد وہ حقیقت سے آگاہ ہوئے تو اپنے لیڈر کی حماقت پر انہیں افسوس ہوا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
6۔ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں جب عرب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تھے تو پکار کر کہتے " ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں "۔ عہد جاہلیت کی دوسری روایات میں بھی بکثرت اس بات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ پانی اور چارہ ختم ہوجاتا تو خانہ بدوش بدو اپنا ایک آدمی کوئی دوسری جگہ تلاش کرنے کے لیے بھیجتے جہاں پانی اور چارہ مل سکتا ہو، پھر اس کی نشان دہی پر جب یہ لوگ نئی جگہ پہنچتے تو وہاں اترنے سے پہلے پکار پکار کر کہتے " کہ ہم اس وادی کے رب کی پناہ مانگتے ہیں تاکہ یہاں ہم ہر آفت سے محفوظ رہیں "۔ ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر غیر آباد جگہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں ہے اور اس سے پناہ مانگے بغیر وہاں کوئی ٹھہر جائے تو وہ جن یا تو خود ستاتا ہے یا دوسرے جنوں کو ستانے دیتا ہے۔ اسی بات کی طرف یہ ایمان لانے والے جن اشارہ کر رہے ہیں۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین کے خلیفہ انسان نے الٹا ہم سے ڈرنا شروع کردیا اور خدا کو چھوڑ کر وہ ہم سے پناہ مانگنے لگا تو ہماری قوم کے لوگوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہوگیا، ان کا کبر و غرور اور کفر و ظلم اور زیادہ بڑھ گیا، اور وہ گمراہی میں زیادہ جری ہوگئے۔ (تفہیم القرآن)
۔تفسیر مظہری میں ہے کہ ہواتف الجن میں سند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر سے یہ نقل کیا ہے کہ رافع بن عمیر صحابی نے اپنے اسلام قبول کرنے کا ایک واقعہ یہ بتلایا ہے کہ میں ایک رات ایک ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا میں اپنی اونٹنی سے اترا اور سو گیا اور سونے سے پہلے میں نے اپنی قوم کی عادت کے مطابق یہ الفاظ کہہ لئے اِنی اعوذ بعظیم ھذا الوادی من الجن یعنی میں پناہ لیتا ہوں اس جنگل کے جنات کے سردار کی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے اس کو وہ میری ناقہ کے سینہ پر رکھنا چاہتا ہے، میں گھبرا کر اٹھا اور دائیں بائیں کچھ نہ پایا تو میں نے دل میں کہا کہ یہ شیطانی خیال ہے۔ خواب اصلی نہیں اور پھر سو گیا اور بالکل غافل ہوگیا۔ تو پھر وہی خواب دیکھا پھر میں اٹھا اور اپنی ناقہ کے چاروں طرف پھرا کچھ نہ پایا مگر ناقہ کو دیکھا کہ وہ کانپ رہی ہے۔ میں پھر جا کر اپنی جگہ سو گیا تو پھر وہی خواب دیکھا میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ میری ناقہ تڑپ رہی ہے اور پھر دیکھا ایک نوجوان ہے جس کے ہاتھ میں حربہ ہے ۔یہ وہی شخص تھا جس کو خواب میں ناقہ پر حملہ کرتے دیکھا تھا اور ساتھ ہی یہ دیکھا کہ ایک بوڑھے آدمی نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے جو ناقہ پر حملہ کرنے سے اس کو روک رہا ہے۔ اسی عرصہ میں تین گورخر سامنے آئے تو بوڑھے نے اس نوجوان سے کہا ان تینوں میں سے جس کو تو پسند کرے وہ لے لے اور اس انسان کے ناقہ کو چھوڑ دے۔ وہ جوان ایک گورخر لے کر رخصت ہوگیا پھر اس بوڑھے نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ اے بیوقوف جب تو کسی جنگل میں ٹھہرے اور وہاں کے جنات و شیاطین سے خطرہ ہو تو تو یہ کہا کر اعوذ باللہ رب محمد من ھول ھذا الوادی یعنی میں پناہ پکڑتا ہوں رب محمد ﷺ کی اس جنگل کے خوف اور شر سے اور کسی جن سے پناہ نہ مانگا کر۔ کیونکہ وہ زمانہ چلا گیا جب انسان جنوں کی پناہ لیتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ نبی عربی ﷺ ہیں، نہ شرقی نہ غربی، پیر کے روز یہ مبعوث ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہاں کہاں رہتے ہیں، اس نے بتلایا کہ وہ یثرب میں رہتے ہیں جو کھجوروں کی بستی ہے۔ میں نے صبح ہوتے ہی مدینہ کا راستہ لیا اور سواری کو تیز چلایا یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو میرا سارا واقعہ مجھے سنا دیا ۔ اس سے پہلے کہ میں آپ ﷺ سے کچھ ذکر کروں اور مجھے اسلام کی دعوت دیں میں مسلمان ہوگیا۔ سعید بن جبیر اس واقعہ کو نقل کر کے فرماتے تھے کہ ہمارے نزدیک اسی معاملہ کے متعلق قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔وَ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ ۔ (معارف القرآن)
11۔ ابن حجر نے کہا ہے کہ اس سورہ میں جتنے فقرے ان مکسورسے شروع ہوئے ہیں وہ جنات کے ہیں، اور جو أن مفتوح سے شروع ہوئے ہیں، وہ سب براہِ راست کلام الٰہی ہے۔(تفسیر ماجدی)
12۔مطلب یہ ہے کہ ہمارے اسی خیال نے ہمیں نجات کی راہ دکھا دی۔ ہم چونکہ اللہ سے بےخوف نہ تھے اور ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی گرفت سے کسی طرح بچ نہ سکیں گے۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
13۔حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ اپنی نیکی پر وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ اور ظلم یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے اور جو قصور اس سے سرزد ہوں ان کی زیادہ سزا دے ڈالی جائے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
16۔اوپر جنوں کی بات ختم ہوگئی۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے اپنے ا رشادات شروع ہوتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
19۔ ہجرتِ مدینہ سے قبل اپنے قیام ِ مکہ کے زمانے میں جب آپؐ مشرکینِ قریش کی طرف سے مایوس ہوکر مکہ کی تفریح گاہ شہر طائف کو تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ آپؐ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئے۔یہاں اشارہ اسی کی طرف ہے۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا ﴿20﴾ قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ﴿21﴾ قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ ﴿22﴾ اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ ﴿23﴾ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿24﴾ قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا ﴿25﴾ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ ﴿26﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ ﴿27﴾ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا ۠ ﴿28ع الجن 72﴾ |
| 20. کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا۔ 21. (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ 22. (یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا۔ 23. ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ 24. یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے۔ 25. کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنے والا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کر دی ہے۔ 26. غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ 27. ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔ 28. تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے۔ |
تفسیر آیات
20۔"یاروں نے بت شکن کو بت ہی بناکے چھوڑا"کا معاملہ رہبرانِ عالم کی تاریخ میں بارہادہرایا جاتارہاہے، قرآن مجید اسی فتنے کے خطرے میں باربار تصریح و تاکید رسول اللہؐ کے عبد محض ہونے کی کرتاجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)
22۔ اِنِّیْ۔۔۔۔مُلْتَحَدًا۔یہ سب چیزیں محض اس مفروضہ پر مبنی و مشروط ہیں کہ رسولؐ اگر خدانخواستہ خود ہی احکامِ الٰہی سے سرتابی کرنے لگیں۔۔۔۔قرآن مجید نے ایسے بعید ترین احتمالات کو جابجا فرض کرلیاہے۔(تفسیر ماجدی)
23۔یعنی میرا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی خدائی میں میرا کوئی دخل ہے، یا لوگوں کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا کوئی اختیار مجھے حاصل ہے۔ میں تو صرف ایک رسول ہوں اور جو خدمت میرے سپرد کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات تمہیں پہنچا دوں۔ باقی رہے خدائی کے اختیارات، تو وہ سارے کے سارے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانا تو درکنار، مجھے تو خود اپنے نفع و نقصان کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتا، اور اللہ کے دامن کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ میرے لیے نہیں ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ: 7) (تفہیم القرآن)
۔یادرہے کہ ان آیات کے اصل مخاطب مشرکین مکہ ہیں ۔ جو شرک سے کسی قیمت پر باز نہیں آتے تھے اور یہی ان کی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی تھی۔ ایسے مشرکوں کی سزا واقعی ابدی جہنم ہے۔لیکن مسلمان جو کم از کم شرک سے پاک ہوں۔ان سے اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا کوئی کام سرزد ہوجائے تو ان کی سزا ابدی جہنم نہیں ہے۔بلکہ اللہ انہیں مناسب سزادینے کے بعد جہنم سے نکال لے گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو معاف ہی فرمادے۔(تیسیر القرآن)
26-27: حضورؐ کا علمِ غیب: (i) ذاتی نہیں عطائی ہے(ii) قدیم نہیں حادث ہے (iii) محدود ہے غیر محدود نہیں۔ڈاکٹر اسرار کی بریلوی علماء سے ملاقات اور حمایت جو کچھ بھی اللہ نے حضورؐ کو دیا ہے ،ہم اس کو ناپ نہیں سکتے۔ (بیان القرآن)
ــــ جلد سوم، سورۂ نمل،آیت:65کا حاشیہ(ص458)حضورؐ کا علم قدیم نہیں حادث ہے یعنی پہلے نہیں تھا ۔ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے یعنی اللہ کے سکھانے سے حاصل ہوا۔ غیر محدود اور غیرمتناہی نہیں بلکہ متناہی و محدود ہے ۔اللہ کے علمِ محیط کے ساتھ حضورؐ فخر موجودات کے علم کی نسبت اتنی بھی نہیں جتنی پانی کے ایک قطرہ کو دنیا بھر کے سمندر سے ۔۔۔۔ــــ اپنے رسولوں کو جتنا چاہتا ہے علومِ غیبیہ عطافرمادیتاہے ۔یہ "جتنا" کتنا ہے وہ لینے والا جانے یا دینے والا۔علامہ پانی پتی فرماتے ہیں کہ انبیا و رسل کا علم قطعی اور یقینی ہوا کرتاہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی لیکن اولیاء کا علم انبیاکے علم کی طرح قطعی اور یقینی نہیں ہوتا( نہ وہ انبیاء کی طرح معصوم ہوتے ہیں)(ضیاء القرآن)
ــــ قاضی ثناء اللہ پانی پتی صوفی بھی، مفسر بھی،جید عالم بھی اور مرشد بھی(بیان القرآن)
ــــ پیغمبروں کو (اپنے علوم و اخبار میں) عصمت حاصل ہے اوروں کو نہیں۔ انبیاء کی معلومات میں شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی ۔دوسروں کی معلومات میں کئی طرح کے احتمال ہیں۔(تفسیر عثمانی)
ــــ مقصود اس کلام سے علمِ غیب کلی کا جس سے جہان کا کوئی ذرہ مخفی نہ ہو اُس کی غیر اللہ سے نفی اور صرف اللہ کیلئے اثبات۔ اس لئے آگے آیت میں ایک استثناء کا ذکر فرمادیا۔کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں بلکہ منصبِ رسالت کیلئے جس قدر علمِ غیب کی خبروں اور غیب کی چیزوں کا علم کسی رسول کو دینا ضروری ہےوہ ان کو منجانب اللہ بذریعہ وحی دیدیا جاتاہے اور وہ ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتاہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتاہے۔ بعض ناواقف غیب اور انباء الغیب میں فرق نہیں سمجھتے اس لئے وہ انبیاء اور خصوصاً خاتم الانبیاء کیلئے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں اور آپؐ کو بالکل اللہ کی طرح عالم الغیب کہنے لگتے ہیں جو کھلا ہوا شرک اور رسول کو خدا کا درجہ دینا ہے۔(معارف القرآن)
- اہلِ نحو اس کو استثنائے منقطع کہتے ہیں جو سابق سے الگ بات ہوتی ہے۔(تدبرقرآن)
27۔محافظوں سے مراد فرشتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی نگہبانی کرنے کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنج جائے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیات 8۔ 9 میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جنوں نے اپنے لیے عالم بالا تک رسائی کے تمام دروازے بند پائے اور انہوں نے دیکھا کہ سخت چوکی پہرے لگ گئے ہیں جن کے باعث کہیں ذرا سی سن گن لینے کا موقع بھی ان کو نہیں ملتا۔ (تفہیم القرآن)