73 - سورة المزمل (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 20 |
مضمون: نبیؐ کی حوصلہ افزائی اور حالات سے نبرد آزماہونے کے لیے ہدایات ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: دعوتِ توحید پر استقامت کیلئے تعلق باللہ لازمی اور ضروری ہے۔جس کیلئے قیام الیل ،ترتیلِ قرآن اور تبتّل ایک داعی اور مبلغ کیلئے لازمی ہتھیار ہیں ۔اسی طرح نماز،زکوٰۃ ،نفلی انفاق اور استغفار بھی ضروری ہیں ۔
شانِ نزول: اس سورت کے دورکوع دوالگ زمانوں میں نازل ہوئے ہیں پہلا رکوع بالاتفاق مکی ہے اور حضورؐ کی نبوت کے ابتدائی دور ہی میں نازل ہواہوگا۔دوسرے رکوع کے متعلق بہت سے مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ بھی مکہ ہی میں نازل ہواہے (کہیں آٹھ ماہ بعد،کہیں ایک سال بعد،کہیں 20 ماہ بعد،کہیں دس سال بعد،کہیں ہجرت کے فوراً بعد۔)ڈاکٹر اسرار(۔دوسرے رکوع کی ایک ہی آیت کاپہلا حصہ ایک سال کے اندر اندر جبکہ تیسّرمن القرآن کے بعد مدینہ کیونکہ اس میں جہاد کا حکم)۔۔۔۔۔نماز تہجد کی فرضیت ختم کرکے ،پنچ وقتہ نماز کی فرضیت۔لیکن اس میں اختلاف ہے کہ نماز تہجد حضورؐ پر فْرض رہی یا نہیں لیکن حضورؐ نے نماز تہجد کبھی نہیں چھوڑی۔
نظمِ کلام: سورۂ الملک
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1( تبلیغ کیلئے ہدایات اور قیام اللیل) (ii)ر۔2(قیام اللیل کے حکم میں تخفیف)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ ﴿1﴾ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ ﴿2﴾ نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ ﴿3﴾ اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ ﴿4﴾ اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا ﴿5﴾ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ ﴿6﴾ اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ ﴿7﴾ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ ﴿8﴾ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا ﴿9﴾ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا ﴿10﴾ وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا ﴿11﴾ اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ ﴿12﴾ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ ﴿13﴾ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا ﴿14﴾ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ ﴿15﴾ فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا ﴿16﴾ فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗ ۖ ﴿17﴾ اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا ﴿18﴾ اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا ۠ ﴿19ع المزمل 73﴾ |
| 1. اے (محمدﷺ) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو۔ 2. رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات۔ 3. (قیام) آدھی رات (کیا کرو)۔ 4. یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ 5. ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے۔ 6. کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی) کو سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے۔ 7. دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں۔ 8. تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ 9. مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔ 10. اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں ان کو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو۔ 11. اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو۔ 12. کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ 13. اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے۔ 14. جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھر بھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں۔ 15. (اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسیٰ کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس بھی (محمدﷺ) رسول بھیجے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہوں گے۔ 16. سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔ 17. اگر تم بھی (ان پیغمبروں کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچّوں کو بوڑھا کر دے گا۔ 18. (اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔ 19. یہ (قرآن) تو نصیحت ہے۔ سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے۔ |
تفسیر آیات
1۔ يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۔ مزمل کے لفظی معنے اپنے اوپر کپڑے لپیٹنے والا۔ تقریباً اسی کا ہم معنے لفظ مدثر ہے جو اگلی سورت میں آ رہا ہے۔ ان دونوں سورتوں میں رسول کریم ﷺ کو ایک وقتی حالت اور مخصوص صفت کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت رسول اللہ ﷺ شدت خوف و فزع کے سبب سخت سردی محسوس کر رہے تھے اس لئے اپنے اوپر کپڑے ڈالنے کے لئے فرمایا۔ یہ کپڑے ڈال دیئے گئے تو آپ ان میں لپٹ گئے۔ واقعہ اس کا صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت جابر کی روایت سے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فترت وحی کے زمانے کا ذکر فرما رہے تھے۔ فترت کے لفظی معنی سست یا بند ہوجانے کے ہیں، واقعہ اس کا یہ پیش آیا تھا کہ سب سے پہلے غار حرا میں نبی کریم ﷺ پر جبرئیل امین نازل ہوئے اور سورة اقراء کی ابتدائی آیتیں آپ کو سنائیں۔ یہ فرشتے کا نزول اور وحی کی شدت پہلے پہل تھی جس کا اثر طبعی طور پر ہو اور رسول اللہ ﷺ ام المومنین حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لے گئے سخت سردی محسوس کر رہے تھے اس لئے فرمایا زملونی زملونی یعنی ڈھانپو مجھے ڈھانپو۔ اس کا مفصل اور طویل واقعہ صحیح بخاری کے پہلے ہی باب میں مذکور ہے۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک یہ سلسلہ وحی کا بند رہا۔ اس زمانے کو جس میں سلسلہ وحی بند رہا زمانہ فترت الوحی کہا جاتا ہے۔ آپ نے اس زمانہ فترت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک روز میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آواز سنی تو نظر آسمان کی طرف اٹھائی دیکھتا کیا ہوں کہ و ہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک معلق کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ مجھے ان کو اس ہئیت میں دیکھ کر پھر و ہی رعب وہیبت کی کیفیت طاری ہوگئی جو پہلی ملاقات کے وقت ہوچکی تھی ۔میں واپس اپنے گھر چلا آیا اور گھر والوں سے کہا کہ مجھے ڈھانپ دو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یایھا المدثر۔ اس حدیث میں آیت یایھا المدثر کے نزول کا ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسی حالت کو بیان کرنے کے لئے يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ کا خطاب بھی آیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مزمل کے لقب کا واقعہ الگ وہ ہو جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے۔ اس عنوان سے خطاب کرنے میں ایک خاص لطف و عنایت کی طرف اشارہ ہے جیسے محبت و شفقت میں کسی کو اس کی وقتی حالت کے عنوان سے محض تلطف کے لئے خطاب کیا جاتا ہے (روح المعانی)۔ اس عنوان خاص سے خطاب فرما کر آپ کو نماز تہجد کا حکم اور اس کی کچھ تفصیل بتلائی ہے۔(معارف القرآن)
ــــ بعض مفسرین نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ اے چادر تان کرسونے والے :اُٹھ اور نماز پڑھ۔جبکہ حضورؐ اپنی حیاتِ مبارکہ کے کسی دور میں بھی چادر تان کر غفلت کی نیند سونے والوں میں سے نہیں تھے۔ قرآن کی کسی آیت سے بھی یہ اشارہ نہیں نکلتاکہ آپ کو کبھی خدا سے ( یا اپنے منصب نبوت سے)غفلت کی بناپر کوئی تنبیہ فرمائی گئی ہو۔(تدبرقرآن)
ــــ اس لطیف اندازِ خطاب میں آپؐ کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ اب پاؤں پھیلا کر اور بے فکر ہوکر سونے کے دن بیت چکے ۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
4۔ حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضورؐ ایک ایک لفظ واضح طورپر پڑھا کرتے تھے (ترمذی،نسائی)۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضورؐ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپؐ کی قرأت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتاوہاں تسبیح فرماتے جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا فرماتے جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا تو وہاں پناہ مانگتے(مسلم،نسائی)(تفہیم القرآن)
ــــ امام بغویؒ نے حضرت عائشہؓ وغیرہا کی احادیث کی بناپر یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی روسے قیام اللیل یعنی رات کی نماز رسول اللہ اور تمام امت پر فرض تھی اور یہ اس حالت کا واقعہ ہے جب پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں۔اس آیت میں قیام اللیل یعنی تہجد کی نماز کو صرف فرض ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں کم از کم ایک چوتھائی رات مشغول رہنا بھی فرض قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان آیات میں اصل حکم یہ تھا کہ تمام رات باستثناء قلیل نماز میں مشغول رہیں۔۔۔۔اور اصل ترتیل وہی ہے کہ حروف و الفاظ کی ادائیگی بھی صحیح اور صاف ہو اور پڑھنے والا اس کے معانی پر غور کرکے اس سے متاثر بھی ہورہاہوجیسا کہ حضرت حسن بصریؒ سے منقول ہے کہ رسول اللہ کا گذر ایک شخص پر ہوا جو قرآن کی ایک آیت پڑھ رہاتھا اور رورہاتھا ۔آپؐ نے لوگوں سے فرمایا کہ یہی ترتیل ہے(جو یہ شخص کررہاہے)(معارف القرآن)
ــــ چنانچہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضورؐقرآن لحن اور لے سے پڑھتے ،آیت آیت پر وقف فرماتے۔کبھی کبھی ایک ہی آیت شدت تاثر میں باربار دہراتے (صحابہؓ اور امام ابوحنیفہ کا طریقہ۔ وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ۔ یہ آیت پڑھ کر امام ابو حنیفہ ساری رات روتے رہے)۔یہی طریقہ اللہ کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور فائدہ مند بھی ۔جب تک مسلمان اس پرغور و فکر کرتے رہے اور قرآن کو زندگی کی رہنما کتاب سمجھتے رہے یہی طریقہ رائج رہا۔جب قرآن محض حصولِ ثواب اور ایصال ثواب کی چیز بن کے رہ گیا تو پھر اس طرح پڑھا جانے لگا جیسے حفاظ تراویح اور شبینوں میں پڑھتے ہیں( اور مدرسوں کے بچوں کو کھانے اور پیسوں کی لالچ میں پڑھوایا جاتاہے)۔(تدبر قرآن)
ــــ ترتیل میں کون کون سی باتیں شامل ہیں:۔ رَتِّل: رتل کسی چیز کی خوبی، آرائش اور بھلائی کو کہتے ہیں اور رتل کے معنی سہولت اور حسن تناسب کے ساتھ کسی کلمہ کو اداکرنا ہے۔ نیز اس کا معنی خوش آوازی سے پڑھنا یا پڑھنے میں خوش الحانی اور حسن ادائیگی میں حروف کا لحاظ رکھنا اور ہر لفظ کو ٹھہر ٹھہر کر اور الگ الگ کرکے پڑھنا ہے اور اس طرح پڑھنے کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ ہر لفظ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ انسان اس کے معانی پر غور کرسکتاہے اور یہ معانی ساتھ کے ساتھ دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپؐ کی عادت تھی۔ آپؐ رات کو نماز پڑھتے پھر اس قدر سوجاتے جتنی دیر نماز پڑھی تھی۔۔پھر اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر سوئے تھے پھر اس کے بعد اتنی دیر سوجاتےجتنی دیر نماز پڑھی تھی یہاں تک کہ صبح ہوجاتی۔پھر آپؐ کی قرأت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپؐ کی قرأت جداجدا تھی حرف حرف کرکے ،(ترمذی۔ابواب فضائل القرآن۔باب کیف کانت قراءۃ النبیﷺ )نیز انہی سیدہ ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ اپنی قرأت کو الگ الگ کرتے تھے۔آپؐ "الحمد للہ رب العالمین"پڑھتے پھر ٹھہر جاتے پھر"الرحمن الرحیم"پڑھتے پھر ٹھہر جاتے پھر ]پڑھتے ۔(ترمذی۔ابواب القراءت عن رسول اللہﷺ )(تیسیر القرآن)
ــــ اس میں نبی ؐ کو قرآن کریم پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔جس سے اصل مقصود امت کو ترغیب دینا ہے کیونکہ قرآن کی تلاوت ،اس کا حفظ اور علم بہت فضیلت والے عمل ہیں۔ یہ ایسے اعمال ہیں کہ جن کو یہ چیزیں میسر آجائیں وہ قابل رشک لوگ ہیں،جیساکہ حدیث میں ہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا:"رشک صرف دوآدمیوں پرہی کیا جاسکتا ہے ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن کے علم سے نوازا ہوا ور وہ دن رات اس کی تلاوت میں مشغول رہتاہواور اس صورت میں اس اس کا ہمسایہ رشک کرسکتاہے: کاش! مجھے بھی یہ قرآن اس شخص کی طرح یاد ہوتا تو میں بھی اس کی طرح (تلاوت)کرتا رہتا۔دوسرا وہ جسے اللہ نے مال عطا کیا ہو اور وہ اسے اچھے کاموں میں خرچ کرتاہو، اس پر کوئی شخص یوں رشک کرسکتاہے:کاش مجھے بھی ایسی ہی دولت ملتی تو میں اس کی طرح (اللہ کی راہ میں نیک کاموں میں)خر چ کرتا۔"(صحیح بخاری،فضائل القرآن، باب:20 حدیث:5026)(احسن الکلام)
5۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو رات کی نماز کا یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ ایک بھاری کلام ہم تم پر نازل کر رہے ہیں جس کا بارا ٹھانے کے لیے تم میں اس کے تحمل کی طاقت پیدا ہونی ضروری ہے، اور یہ طاقت تمہیں اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھو اور آدھی آدھی رات یا کچھ کم و بیش عبادت میں گزارا کرو۔۔۔ اور اس بنا پر بھی اس کو بھاری کلام کہا گیا ہے کہ اس کے نزول کا تحمل بڑا دشوار کام تھا۔ حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر وحی اس حالت میں نازل ہوئی کہ آپ اپنا زانو میرے زانو پر رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ میرے زانو پر اس وقت ایسا بوجھ پڑا کہ معلوم ہوتا تھا اب ٹوٹ جائے گا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضور ﷺ پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے، آپ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتا تھا (بخاری، مسلم، مالک، ترمذی، نسائی)۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ جب کبھی آپ پر اس حالت میں وحی نازل ہوتی کہ آپ اونٹنی پر بیٹھے ہوں تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پر ٹکا دیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزول وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتا (مسند احمد، حاکم، ابن جریر)۔(تفہیم القرآن)
ــــ (i) عنقریب آپؐ پر ایک گراں قدر کلام نازل ہونے والا ہے جس میں اوامر و نواہی ،احکام و ارشادات کا ایک طویل سلسلہ ہوگا اس پر عمل کرنا اور دوسرے لوگوں سے اس پر عمل کرانا بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔ (ii) کلامِ الٰہی کے ثقیل ہونے کی یہ وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ پہلے حضورؐ حرا کی خلوتوں میں ذکر الٰہی اور مشاہدۂ انوار و تجلیات میں مستغرق رہتے ۔ اس طرح دل کو بڑی خوشی اور اطمینان نصیب ہوتا۔مقامِ نبوت پر فائز کرکے حضورؐ کو مخلوق کی اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ۔ توجہ کی سمت میں یہ تبدیلی حضورؐ پربڑی گراں تھی(ذکر و فکر اور انوار و تجلیات کی آسانیاں اور معرکۂ حق و باطل کی سختیاں) ۔(ضیاء القرآن)
ــــ ہم عنقریب تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔امام فراہیؒ اس سے مراد انذار عام لیتے ہیں جس کی زیادہ وضاحت سورۂ مدثر میں آرہی ہے ۔ اسی انذارِ عام سے بعد میں برأت ،ہجرت اور اعلانِ جنگ کے وہ مراحل سامنے آئے جو آنحضرتِ کی حیاتِ مبارک کے شدید ترین مراحل ہیں جن کے تصور سے کلیجہ کانپ اٹھتاہے۔۔۔۔۔ اقامتِ دین کی جدوجہد کی امتیازی خصوصیت ۔ اس کیلئے دوسرے وسائل و ذرائع کے فراہم ہونے سے پہلے صحیح معرفتِ رب، مستحکم ایمان، غیرمتزلزل صبر اور اپنے رب پر کامل اعتماد و توکل ضروری ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ عظیم ذمہ داری کیا ہے؟ بھاری کلام سے مراد وہ احکام ہیں جو معاشرہ میں انقلاب کے سلسلہ میں آپؐ کو دئیے جانے والے تھے۔سب سے پہلے آپؐ نے خود ان احکام پر عمل پیرا ہوکر دوسروں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرناتھا پھر اس دعوت کو ساری دنیا کے سامنے پیش کرنا اور ان کے مقابلہ میں اٹھنا تھا۔ مشرکانہ عقائد کے خلاف اور جاہلی تہذیب و تمدن کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن معاشرہ میں محبت و موانست اور بھائی بندی کی فضا پیدا کرنا تھی۔ پھر انہی کو متحد کرکے پوری دنیائے کفر سے ٹکر لینا تھی اور اللہ کی مہربانی اور مدد کے ساتھ دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ کے مقابلہ میں غالب کرنا تھا۔یہ تھیں وہ عظیم ذمہ داریاں جن کی آپ کو "سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا"کے ذریعہ اطلاع دی گئی اور اسی فریضہ کی تربیت کے سلسلہ میں آپؐ کو رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارنے کا حکم دیا گیا۔(تیسیر القرآن)
6۔ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً۔وطا میں دوقرأتیں ہیں پہلی کے مطابق نفس کو قابو میں رکھنے اور ناجائزخواہشات پر اڑنے سے روکنے میں نماز ِ تہجد سے بڑی مدد ملتی ہے ۔ دوسری کے مطابق رات کے وقت نماز ِ کیلئے اٹھنا قلب، نگاہ ،کان اور زبان سب میں باہمی موافقت پیدا کرنے میں بہت زیادۂ مؤثر ہے ۔۔۔۔۔ اقوام کے معنی زیادہ مستقیم و درست اور زیادہ ثابت کے ہیں مراد یہ ہے کہ رات کے وقت میں تلاوت قرآن زیادہ درست ،جماؤ اور ثبات کیساتھ ہوسکتی ہے ۔کیونکہ شور و شغب سے قلب و ذہن مشوش نہیں ہوتا۔(معارف القرآن)
ــــ یہ وقت سکونِ قلب و دماغ کیلئے سب سے زیادہ موزوں او رفہم ِ قرآن کیلئے سب سے زیادہ ساز گار و مددگار ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ نَاشِئَةُ الَّیْلِ کے معنی ہونگے قیام لیل یا شب خیزی ۔اس وقت کی نیند بہت محبوب ہوتی ہے لیکن اس امتحان میں انسا ن اگر کامیاب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی کتاب کے سمجھنے] کیلئے اس سے زیادہ بابرکت وقت اور کوئی نہیں ۔اول تو اس کو اپنے نفس کی خواہشوں پر غلبہ پانے کی ایسی قوت حاصل ہوجاتی ہے جو اس کےلئے اصلاحِ نفس کی راہ میں فتوحات کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے ثانیاً اللہ تعالیٰ نے جورات اور دن کو وجود میں لانے والا ہے ، اس وقت کو اپنی رحمتوں کے نزول کیلئے مخصوص فرمایا ہے جن کے دروازے اس کے ان بندوں کیلئے کھلتے ہیں جو اس کی قدروقیمت پہچانتے اور اس وقت اس کے دروازے پر سائل بن کر حاضر ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اَشَدُّ وَطْاً۔ شب خیزی کی تاثیر۔ جب آدمی اس وقت بستر سے اٹھ کر ،وضو کرکے ،نماز میں کھڑا ہوتاہے تو اس کے قدم خوب جمتے ہیں ۔قدم خوب جمنا دماغ کی یکسوئی ، دل کے اطمینان اور عقل کی بیداری کی تعبیر ہے ۔اگر دماغ پریشان اور قلب بے سکون ہو تو آدمی کے قدم نہیں جمتے ،کوئی بڑا کام تو درکنار وہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی دل جمعی سے نہیں کرسکتا۔(تدبر قرآن)
ــــ تہجد کا لغوی مفہوم:۔ پانچ نمازوں کی فرضیت تو معراج کو ہوئی تھی۔۔۔۔۔لغوی لحاظ سے لفظ تہجد یا ھجود کا یہی معنی ہے ۔یعنی رات بھر میں کئی بار سونابھی اور کئی بار جاگنابھی۔۔۔۔۔۔اب اس نماز کی حیثیت عام مسلمانوں کے لیے سنت مؤکدہ کی ہے۔(تیسیر القرآن)
8۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ کے تمام نام اس کی صفات کی تعبیر ہیں اوران صفات ہی پر تمام دین و شریعت اور سارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد ہے اور اگر خدا کی صفات کی صحیح یادداشت اس کے اندر باقی نہ رہے یا کمزور ہوجائے تو پھر اس کا عقیدہ بے بنیاد یا کمزور ہوجاتاہے۔(تدبرقرآن)
ــــ ان آیات میں نمازِ تہجد (قیام اللیل) کی ترغیب دی جارہی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ جب رات کا تیسرا حصہ رہ جاتاہے تو ہماراپروردگار پہلے آسمان پر اپنی شان کے شایاں نزولِ اجلال فرماتاہے اور فرماتاہے کون ہے جو مجھ سے دعامانگ رہاہے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کررہاہے تاکہ میں اس کو دوں ،کون ہے جو گناہوں کی بخشش چاہتاہے تاکہ میں اسے بخش دوں ۔(متفق علیہ)
ــ تَبَتَّلْ کا مفہوم علامہ آلوسی نے یہ فرمایا ہے کہ ہر طرف سے تعلق توڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجا اور اپنے نفس کو ماسوا کے خیال سے پاک کردے اور ہروقت اللہ تعالیٰ کے مراقبہ میں مستغرق ہوجا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان دنیا سے قطع تعلق کرلے ۔لارہبانیہ فی الدین۔(ضیاء القرآن)
ــــ یایوں کہئے کہ سب تعلقات اسی ایک تعلق میں مدغم ہوجائیں جیسے صوفیا کے ہاں "بے ہمْہ و باہمہ" یا "خلوت درانجمن" سے تعبیر کرتے ہیں (دل یار ولے ،ہتھ کار ولے) رھبان فی اللیل و فرسان فی النھار۔(تفسیر عثمانی)
ــــ حضرت عائشہؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہ ہروقت اللہ کا ذکر فرماتے ۔سوائے بیت الخلا (مگر ذکرقلبی و الفاظ متخیلہ ،نہ کہ ذکر لسانی)اسلام میں ترک دنیا اس کا نام ہے کہ تمہارا اعتماد اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں جو چیز ہو اس پر زیادہ ہوبنسبت اس کے جو تمہارے ہاتھ میں ہے۔(معارف القرآن)
ــــ صوفیہ نے یہیں سے دوامِ ذکر کا مسئلہ مستنبط کیا ہے، لیکن محققین صوفیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ تعمیلِ احکام کی حدتک ذکروتبتل کا درجۂ ادنیٰ بھی کافی ہے۔ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ۔ اس ذکر کے عموم میں نماز و تلاوت کے علاوہ علومِ دین کا درس بھی آگیا۔(تفسیر ماجدی)
9۔وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس پر اعتماد کر کے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کر دے۔ قریب قریب اسی معنی میں ہم اردو زبان میں وکیل کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے حوالہ اپنا مقدمہ کر کے ایک آدمی مطمئن ہوجاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
14۔واضح رہے کہ كَثِیْبًا میں "ک"حرف تشبیہ نہیں ہے بلکہ یہ کثیب کے مادہ"ک ث ب"میں شامل ہے اور کثیب بمعنی ریت کا لمبا چوڑا ٹیلہ ہے۔(تیسیر القرآن)
15۔اب مکہ کے ان کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔۔۔۔۔۔رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دیں، اور یہ بھی کہ آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت برپا ہوگی اس وقت آپ یہ گواہی دیں کہ میں نے ان لوگوں کے سامنے حق پیش کردیا تھا۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ﴿20ع المزمل 73﴾ |
| 20. تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ |
تفسیر آیات
20۔ سورہ مزمل کی یہ آیت پورے رکوع پر مشتمل ہے۔اس کا نزول ایک روایت کے مطابق ہجرت سے 8 ماہ بعد، دوسری کے مطابق ایک سال بعد اور تیسری روایت کے مطابق دس سال بعد ہوا۔ہمارے خیال میں یہ تیسری روایت ہی قابل ترجیح ہے کیونکہ اس رکوع میں قتال فی سبیل اللہ کا بھی ذکر ہے اور زکوٰۃ کا بھی۔اور یہ دونوں چیزیں مدنی زندگی میں فرض ہوئی تھیں۔پہلے حکم کے مطابق آپؐ کو اور آپؐ کی متابعت میں صحابہ کرام کو بھی کم از کم تہائی رات کا قیام ضروری تھا۔لیکن اس زمانہ میں گھڑیاں تو موجود نہ تھیں لہذا آپؐ اور اسی طرح صحابہ کرام بعض دفعہ رات کا اکثر حصہ قیام فرماتے محض اس احتیاط کی وجہ سے کہ کہیں وقت تہائی رات سے کم نہ ہواور اس طرح بسااوقات کھڑے کھڑے ان کے پاؤں متورم ہوجاتے تھے۔ بعد میں اس حکم کے ذریعہ سابقہ حکم میں کافی تخفیف فرمادی۔۔۔۔۔البتہ آپؐ پر نماز تہجد فرض تھی وہ بھی اس آیت کی روسے نہیں بلکہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت "وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ"(17: 79)۔۔۔۔۔۔قرض حسنہ زکوٰۃ سے الگ چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا الگ ذکر فرمایا اور قرض حسنہ کا الگ۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ مسلمانوں کو فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ کے علاوہ دوسرے نفلی صدقات بھی اداکرتے رہنا چاہئے۔قرضہ حسنہ کی تفصیل اور اس کے احکام کے لئے دیکھئے سورۂ حدید کی آیت نمبر 11 کا حاشیہ۔۔۔۔۔۔استغفار سے صرف یہی فائدہ حاصل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ از راہ کرم استغفار کرنے والے کے گناہ معاف فرمادیتاہے بلکہ اس سے کئی طرح کے دنیوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ نوح کا حاشیہ نمبر 5۔(تیسیر القرآن)
۔۔۔۔۔۔اگرچہ ایمان بالرسول کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ رسول کے ہر نقش قدم کی پیروی کی جائے لیکن رسول کی قوت برداشت اور دوسروں کی قوت برداشت میں بڑا فرق ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کے لیے اس حکم کی نوعیت میں تبدیلی کردی، جس کی وضاحت آگے کے ٹکڑے میں آ رہی ہے، تاکہ ان کے لیے یہ بوجھ ان کی قوت برداشت سے زیادہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔ فَتَابَ عَلَیْکُمْ‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ ’تَابَ‘ کا صلہ جب ’عَلٰی‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی عنایت کی نظر کرنے کے ہو جاتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
ــــ فقہائے مفسرین نے یہاں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ قرآن مجید نے یہاں تاجروں کو غازیوں اور مجاہدوں کے مساوی درجہ میں رکھا ہے،اورکیوں نہ رکھتا جب کہ حلال ذریعۂ معاش کی تلا ش بھی توجہاد ہی میں داخل ہے!۔۔۔۔۔اور یہ بعض مفسرین کا اجتہاد و استنباط نہیں، صحابیوں کے اقوال بھی اسی مفہوم سے ملتے ہیں۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص کوئی چیز مسلمانوں کے شہر میں لائے اور اُس دن کے نرخ کے حساب سے تجارت کرے تو اس کا شمار اللہ کے یہاں شہیدوں میں ہوگا۔۔۔۔۔اور خلیفۂ جلیل حضرت عمرؓ کا بھی یہ قول نقل ہواہے کہ قتال و غزا فی سبیل اللہ کے بعد جو موت مجھ کو سب سے زیادہ عزیز ہے وہ اس حال میں ہے کہ میں اس وقت تجارت میں مشغول ہوں۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ طالبین سالکین کے ساتھ مجاہدات و اوراد میں مرشدین جو رعایت و سہولت کا برتاؤ کرتے ہیں اس کی ماخذ یہی آیتیں ہیں۔(تھانوی،ج2/ص: 709)(تفسیر ماجدی)