74 - سورة المدثر (مکیہ)

رکوع - 2 آیات - 56

مضمون: نبیؐ کو انذارِ عام کا حکم اور اپنے مؤقف حق پر ڈٹے رہنے کی ہدایت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول:  سورۂ مدثر کی ابتدائی سات آیات ،سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیات کے بعد نازل ہوئیں ۔بقیہ سورت حضورؐ کے قیامِ مکہ کے دوسرے دور میں اعلان ِ عام کے بعد نازل ہوئی۔

نظمِ کلام:  سورۂ الملک

ترتیب مطالعۂ و اہم مضامین : (i) ر۔ 1 ( حضورؐ کو تبلیغ کرنے کی تلقین اور دوزخ کی خوفناک تصویر) (ii) ر۔2(اصحاب الیمین اور حاملینِ دوزخ)

تعارفی کلمات:

۔ پہلی وحی کے بعد کچھ مدت تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، پھر اس وقفہ کے بعد جب از سرنو نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا آغاز سورة مدثر کی انہی آیات سے ہوا تھا۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا : ایک روز میں راستے سے گزر رہا تھا۔ یکایک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، سر اٹھایا تو دیکھا وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہوگیا اور گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ۔ چنانچہ گھر والوں نے مجھ پر لحاف (یا کمبل) اڑھا دیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی یٰاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔۔۔ پھر لگاتار مجھ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا۔)تفہیم القرآن(

زمانۂ نزول: سورت"المدّثر"کی ابتدائی سات آیات،سورۃ"العلق"کی ابتدائی 5 آیات کے بعد، دوسری وحی میں نازل ہوئیں۔ رسول اللہؐ پیدل جارہے تھے کہ آسمان کی طرف سے آواز سنی، سراٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو غارِ حرا میں آیا تھا۔آپؐ نے گھر آکر "دَثِّرُونی"کہتے ہوئے کمبل اوڑھ لیا۔اس موقع پر سورت "المدثر "نازل ہوئی۔(صحیح بخاری۔کتاب التفسیر ،باب تفسیر سورۃ المدثر ،حدیث 4،638،عن جابر بن عبداللہ)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

کتابی ربطاس سورت میں ولید بن مغیرہ کے رویوں کا تذکرہ ہے، جب کہ اگلی سورت میں ابوجہل کے رویوں کا۔)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

نظمِ جلی: آپؐ کو چھ باتوں کا حکم دیا گیا۔(1)اٹھیے اور خبردار کیجیے۔(2)اپنے رب ہی کی عظمت و کبریائی کا اعلان کیجیے۔(3)اپنے کپڑے پاک رکھیے۔(4)(شرک کی)ہرگندگی سے دوررہیے ۔(اپنی جدوجہد برابر جاری رکھیے)۔(5)دعوتی کام کو زیادہ خیال کرکے اپنی سعی کو منقطع نہ کیجیے۔(6)رب کی خاطر تمام مخالفتوں کے علی الرغم ثابت قدمی کے ساتھ حق پر ڈٹے رہیے۔۔۔۔۔دوزخی اعتراف کریں گے کہ چار(4)باتوں نے انہیں دوزخ میں پہنچادیا۔وہ نماز کی صورت میں اللہ کا حق ادا نہیں کرتے تھے اور طعام کی صورت میں مسکین بندوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے تھے۔نام نہاد دانشور تھے اور منکرِ قیامت تھے۔(1)"لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ"ہم نمازپڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔(آیت:43) (2)"وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَ"اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔(آیت: 44) (3)"وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَ"حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ ،ہم بھی باتیں بناتے تھے۔(4) "وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ"اور ہم روز قیامت کو جھوٹ قراردیتے تھے (آیت46) (قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ ﴿1﴾ قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ ﴿2﴾ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ ﴿3﴾ وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ ﴿4﴾ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ ﴿5﴾ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ ﴿6﴾ وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ ﴿7﴾ فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ ﴿8﴾ فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ ﴿9﴾ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ ﴿10﴾ ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ ﴿11﴾ وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ ﴿12﴾ وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ ﴿13﴾ وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ ﴿14﴾ ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗ ۙ ﴿15﴾ كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ ﴿16﴾ سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ ﴿17﴾ اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ ﴿18﴾ فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ ﴿19﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ ﴿20﴾ ثُمَّ نَظَرَۙ ﴿21﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ ﴿22﴾ ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ ﴿23﴾ فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ ﴿24﴾ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ ﴿25﴾ سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ ﴿26﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ ﴿27﴾ لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ ﴿28﴾ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ ﴿29﴾ عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ ﴿30﴾ وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَر ۠ ﴿31ع المدثر 74﴾
1. اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو۔ 2. اُٹھو اور ہدایت کرو۔ 3. اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو۔ 4. اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ 5. اور ناپاکی سے دور رہو۔ 6. اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو۔ 7. اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو۔ 8. جب صور پھونکا جائے گا۔ 9. وہ دن کا مشکل دن ہوگا۔ 10. (یعنی) کافروں پر آسان نہ ہوگا۔ 11. ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا۔ 12. اور مال کثیر دیا۔ 13. اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے بیٹے دیئے۔ 14. اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی۔ 15. ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں۔ 16. ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ہماری آیتیں کا دشمن رہا ہے۔ 17. ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے۔ 18. اس نے فکر کیا اور تجویز کی۔ 19. یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ 20. پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ 21. پھر تامل کیا۔ 22. پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا۔ 23. پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا۔ 24. پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) منتقل ہوتا آیا ہے۔ 25. (پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے۔ 26. ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کریں گے۔ 27. اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے؟ 28. (وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی۔ 29. اور بدن جھلس کر سیاہ کردے گی۔ 30. اس پر اُنیس داروغہ ہیں۔ 31. اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں۔ اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لئے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں۔ اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصد کیا ہے؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لئے نصیحت ہے۔

تفسیر آیات

1۔ جب آپؐ نے منصب رسالت کا ذکراپنے خاندان والوں سے کیا اور انہوں نے مذاق اڑانا شروع کیا تو آپؐ کی فکرمندی میں اضافہ ہوگیا۔ ایسی حالت میں آپؐ زیادہ تر چادر لپیٹے ہوئے لوگوں سے الگ تھلگ رہتے جس طرح ایک فکرمند انسان رہتاہے ۔آپؐ کی اسی فکر و پریشانی کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے نہایت پیارسے آپ کو مزمل اور مدثر سے خطاب فرمایاتاکہ خطاب ہی سے آپ کو تسلی مل جائے ۔ (تدبرقرآن)

ــــ وحی کی گرانباری :۔  آپؐ پر سب سے پہلی وحی جو غارِ حرامیں نازل ہوئی وہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ خالق کائنات ہے۔ اسی نےآپؐ کو بھی پیدا کیا ہے اور اسی نے فرشتہ نازل کیا ہے۔ان آیات میں آپ کو تبلیغ وغیرہ کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔صرف آپؐ کو آپؐ پر پڑنے والی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔فرشتہ جبریلؑ کے ذریعہ نبی کے دل پر جو وحی نازل ہوتی ہے۔نبی کے لئے سخت تکلیف دہ اور گرانبارہوتی ہے۔اس دوران پہلے گھنٹی کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔پھرنبی کا اس عالم سے رشتہ کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتاہے اور اس وحی کا اتنا بار ہوتاہے کہ آپؐ کو بعض اوقات سردیوں  میں وحی کے وقت پسینہ آجاتاتھا۔ ایک دفعہ آپؐ سیدنا زید بن ثابتؓ کی ران پر ران رکھے ہوئےتھے کہ وحی کا نزول شروع ہوا۔سیدنا زید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ایسا معلوم ہورہاتھا کہ نیچے سے میری ران ٹوٹ جائے گی۔ اور ایک دفعہ آپؐ اونٹنی پر سوار تھے۔ وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو اس کے بوجھ اور دباؤ سے اوٹنی نیچے بیٹھ گئی تھی۔چنانچہ پہلی دفعہ غار حرامیں جب وحی نازل ہوئی تو آپؐ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اس تکلیف اور بوجھ سے مجھے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ خیر آپؐ اسی حالت میں گھبرائے ہوئے گھر آئے تو سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ نے آپ کو بہت تسلی دی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ بندہوگیا۔وحی کی تکلیف اور بوجھ کے باوجود اس دوران آپؐ کو ایک عجیب طرح کی لذت بھی محسوس ہوتی تھی۔ اسی لذت کی وجہ سے آپ وحی کے منتظر بھی رہتے تھے۔بعد ازاں ایک دن درج ذیل واقعہ پیش آیا: سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ سے سنا۔آپؐ وحی بندرہنے کا تذکرہ فرمارہے تھے۔ فرمایا:"ایک دفعہ چلتے چلتے میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو آسمان کی طرف اسی فرشتے کو دیکھا جو حرامیں میرے پاس آیا تھا۔وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی  پربیٹھا تھا۔اسے دیکھ کر میں اتنا ڈرا کہ ڈر کے مارے زمین پر گر پڑا ۔پھر اپنے گھر آیا تو گھر والوں سے کہا:"مجھے کمبل اوڑھادو"چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اڑھادیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔(یٰاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔۔۔۔فَاهْجُرْ)تک۔ ابوسلمہ نے کہا رجز سے بت مراد ہیں۔اس کے بعد وحی گرم ہوگئی ،برابر لگاتار آنے لگی۔"(بخاری۔کتاب التفسیر) (تیسیر القرآن)

2۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ یہ اس مہم کا بیان ہے جس کی طرف پچھلی سورۂ میں اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا۔ (ہم تم پر ایک بھاری ذمہ داری ڈالنے والے ہیں)کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔(تدبرقرآن)

3۔ یہ اس انذار کا پہلا حکم  ہے جس کا ذکر اوپر ہواہے ۔مفعول کی تقدیم سے یہاں حصر کا مضمون پیدا ہوگیا ہے ۔توحید کی دعوت تمام انبیا کی تعلیم کی بنیاد ہے۔(تدبر قرآن)

ــــ اللہ اکبر سے نماز کا افتتاح اسی آیت سے ماخوذ ہے (معارف القرآن میں اس سے مختلف رائے کہ قرآن کے الفاظ تکبیر تحریمہ کو اس کے ساتھ مخصوص قرار نہیں دیتے) (ضیاء القرآن)

4۔ یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن میں بڑی وسعت ہے (i)اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو کیونکہ جسم و لباس کی پاکیزگی اور روح کی پاکیزگی لازم و ملزوم ہیں ۔(ii)اپنا لباس صاف ستھرا رکھو ( راہبانہ تصورات کا میل کچیل کی طرف مائل ہونا)(iii) لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھنا (فخر و غرور ، ریا ،نمائش ، ٹھاٹھ باٹھ)(iv) اپنا دامن صاف رکھو (پاک دامنی۔اخلاقی برائیوں سے پاک اور عمدہ اخلاق سے آرائش)(تفہیم القرآن)

۔ لفظ ثیاب جمع ہے ثوب کی جس کے معنی کپڑے کے ہیں لیکن اس کے معنی دامن کے بھی ہوسکتے ہیں اور کلامِ عرب میں دامن ِ دل کے بھی۔ مخالفین خواہ کتنی خاکبازی کریں اور کتناہی زور لگائیں لیکن تم اپنے دامن دل پر نجاست ِ شرک کا کوئی چھینٹا نہ پڑنے دو ۔(تدبرقرآن)

ــــ  فقہاء نے اسی آیت سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نماز کیلئے کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے اور جب کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے تو نمازی کا اپنا جسم اور وہ جگہ جہاں نماز اداکررہاہے اس کا پاک ہونا بطریق اولیٰ ضروری ہوگا۔ (ضیاء القرآن)

باطنی صفائی:۔ زجر سے مراد ظاہری میل کچیل ،گندگی اور نجاست بھی ہے۔ اور باطنی یعنی دل کی نجاست یا گندگی بھی۔ اس لفظ کا اطلاق ان تمام شیطانی وساوس پر ہوتاہے جو دل میں موجود ہوں۔خواہ یہ غیر اللہ کی عبادت سے متعلق ہوں یا برے خیالات سے۔ اور یہ باطنی صفائی ظاہری صفائی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔(تیسیر القرآن)

6۔ تین مفہوم:   (i) جس پر احسان کروبے غرضانہ کرو(ii) نبوت کے عظیم کام کو اپنے رب پراحسان نہ سمجھو(iii) نبوت کا احسان لوگوں پر نہ جتاؤ۔(تفہیم القرآن)

ــــ  من کے معنی جس طرح احسان کرنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کو کاٹ دینے کے بھی آتے ہیں ۔سورۂ قلم میں فرمایا گیا ۔ وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ(اور بے شک تمہارے لئے ایک کبھی نہ منقطع ہونے والا صلہ ہے) یعنی جس انذار و تبلی کی تمہیں ہدایت کی جارہی ہے اس کو برابر جاری رکھنا ۔یہ خیال کرکے اب کافی انذار کیا جاچکا مزید کی ضرورت نہیں رہی ،اس عمل کومنقطع نہ کربیٹھنا۔(تدبرقرآن)

ــــ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۔اپنے عملِ قلیل کو کثیر جاننا ،اس کے عوض میں مدحِ خلق یا صلۂ مالی کی توقع رکھنا،یہ سب رسول اللہؐ کے لیے ناجائز ہے۔دوسرے سے معاوضۂ کثیر کی توقع رکھنا اور اس پر احسان رکھنا یہ جبھی ہوگا جب انسان اپنے عمل کو بڑا جانے گا۔۔۔۔۔اور تفسیر کبیر میں ہے کہ یہ تحریم ذات رسول اللہؐ کے ساتھ مخصوص ہے، شرف و تکریمِ نبوت کی بناپر ۔اور یہ حکم عام نہیں ہے۔۔۔۔۔ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۔ رجز کے معنی علاوہ نجاست و گندگی کے شرک و بت پرستی کے بھی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

7۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو آیت وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا(اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو، تم ہماری آنکھوں میں ہو) کا ہے ۔صبر کے ساتھ جب "ل" آئے تو اس کے معنی صبرو استقامت کے ساتھ انتظار کرنے کے ہوجاتے ہیں۔(تدبرقرآن)

آیات:1تا7کا خلاصہ:آیت:2۔ پہلا حکم۔آپؐ جو کپڑوں میں لپٹ کرلیٹ گئے ہیں اس کو چھوڑ کر کھڑے ہوجائیےیا آپؐ ہمت کرکے خلقِ خدا کی اصلاح کی خدمت سنبھالئیے (صرف انذار اس لئے کہ مسلمان تو چند ایک ہی تھے وگرنہ ہرجگہ انذار کے ساتھ بشارت)آیت:3۔ دوسرا حکم۔ اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے قول سے بھی اور عمل سے بھی۔آیت: 4۔ تیسرا حکم۔ مسلمان کو ہر حال میں اپنے جسم ،مکان اور لباس کی ظاہری طہارت کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور قلب کی باطنی طہارت کا بھی(گندے ہندوجوگیوں کی طرح نہیں)آیت:5۔ چوتھا حکم۔ بتوں کو اور گنا ہ و معصیت کو چھوڑئیے (حضورؐ تو معصوم ہیں اگر ان کو یہ حکم دیا جارہاہے تو باقی امت کا کون سافرد اس سے مستثنیٰ ہوسکتاہے)آیت:6۔پانچواں حکم۔ کسی شخص پر احسان اس نیت سے نہ کیجیے کہ جو کچھ اس کو دیا ہے اس سے زیادہ وصول ہوجائیگا(شریفانہ اخلاق کے منافی ۔شادیوں کے تحائف)آیت:7۔ چھٹا حکم۔ داعی حق کو مخالفت و عداوت اور ایذا رسانی کے سامنے صبر و ضط کا خوگر ہونا چاہئے۔(معارف القرآن)

10۔ عقیدہ قیامت اور اس کا تصور:۔  اس آیت میں وضاحت یہ ہے کہ جس دن صورپھونکا جائے گا یعنی قیامت آجائے گی تو یہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت ہوگا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہواکہ وہ دن مومنوں کے لیے سخت نہیں ہوگا اور مومنوں کا غالباً یہاں اس لیے ذکر نہیں کیا گیا کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی مومنوں کو دنیا سے اٹھالیا جائے گا۔جیساکہ حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ "لاتقوم الساعۃ الاعلیٰ شرار الخلق"یعنی قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔(مسلم۔ کتاب الامارۃ۔باب لاتزال طائفۃ من امتی)(تیسیر القرآن)

13۔ قصہ ولید بن مغیرہ:۔ان آیات میں بھی اگر چہ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا تاہم جو صفات بیان کی گئی ہیں اس سے ہر ایک کو واضح طورپر معلوم ہوجاتاتھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے؟یہ شخص باتفاقِ مفسرین ولید بن مغیرہ تھا۔حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی اور یہ ابوجہل مخزومی کا چچا تھا۔بڑا صاحب مال تھا۔دس یا بارہ جوان بیٹے اس کے پاس موجود رہتے تھےجنہیں کسب معاش کی چنداں فکر نہیں تھی ۔اس کام کے لیے اس کے نوکر چاکر بہت تھے۔بس ان بیٹوں کا کام یہی تھا کہ اپنے باپ کی مجلس میں حاضر رہ کر اس کی شان و شوکت بڑھائیں۔ انہی بیٹوں میں سے ایک سیدنا خالدبن ولید بھی تھے۔جنہوں نے اسلام لاکر اسلام کی بیش بہاخدمات سرانجام دی تھیں۔(تیسیر القرآن)

15۔اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن)

17۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں اس کو اس کی زندگی میں سخت مشکلات سے دوچار کردوں گا اور دوسرا مطلب اخروی عذاب سے تعلق رکھتا ہے۔جیساکہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے۔ابوسعید کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی کو چڑھایا جائےگا۔پھر اسے وہاں سے نیچے گرایا جائے گا اسے ہمیشہ یہی عذاب ہوتارہے گا۔(ترمذی۔ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)

22-25۔ ولید بن مغیرہ (خالدبن ولید کا باپ) کی نفسیاتی کیفیت۔۔۔ اشارہ ایک خاص ذہنیت کی طرف نہ کہ ایک شخص کی طرف ۔(تدبر قرآن)

ــــ  حضورؐ کو اپنی دعوت کا آغاز کئے ابھی چندماہ ہی گذرے تھے کہ حج کا موسم آگیا۔ مخالفت کے لیے متفقہ جواب کیلئے ایک میٹنگ ہوئی ۔ دارالندوہ میں ولید نے گفتگو کا آغاز کیا ۔ اس نے کہا کہ وہ کاہن ،مجنون ، شاعر ، اور  ساحر نہیں۔بخدا اس کے کلام میں بڑی مٹھاس ہے ۔اس کی جڑیں بہت گہری ہیں ،اس کی ٹہنیاں پھلوں سے لدی ہیں یہ ہر ایک سے اونچا اور کوئی اس سے اونچا نہیں ہوسکتا۔ ابوجہل نے غمگین صورت بنا لی تو ولید نے کہا کہ ہم اسے ساحر کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس نے بھائی کو بھائی سے اور بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے۔(ضیاء القرآن)

ــــ  شانِ نزول: ولید بن مغیرہ کے طرز عمل پر تبصرہ ۔بقول ابن عباسؓ اس کی زمین ،جائداد  وباغات مکہ سے طائف تک۔ بقول ثوریؒ اس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ دینار تھی۔ لیکن سب کے نزدیک مسلم ہے کہ اس کے کھیت اور باغات کی پیداوار سال بھر سردی گرمی ہر موسم میں مسلسل رہتی تھی ۔اپنے آپ کو وحید ابن وحید (یعنی یکتا کا بیٹا یکتا۔نہ میری کوئی نظیر نہ میرے باپ کی کوئی نظیر) دارالندوہ میں میٹنگ ہوئی کہ ولید کا کچھ کیا جائے ۔ولید بن مغیرہ اور سردارانِ قریش کا مکالمہ۔ ابوجہل غمگین صورت بنائے ولید کے گھر  آیا اور اس سے کہا کہ محمدؐ اور اس کے ساتھی چندہ کرکے تجھے دیتے ہیں اور تو ان کی تعریف کرتاہے۔تو بوڑھا اور غریب ہوگیا ہے۔ولید  یہ سن کر پاگل ہو گیا، ابوجہل نے کہا شاعر ، کذاب یا  کاہن ،تو اس نے کہا لاواللہ ۔ابو جہل نے کہا پھر تم ہی بتاؤ۔ولید : ہم ساحر کہہ سکتے ہیں (جو ایمان لے آتا ہے ۔ماں باپ اور عزیزوں سے دور ہوجاتاہے)(معارف القرآن)

23۔ انسان پبلک میں نفرت و کراہت کے اظہار کے وقت منہ ہی نہیں بناتا،بلکہ گردن بھی پھیر لیتاہے ،اور جس چیز کی تحقیر کرنا ہوتاہے اس کے مقابلے میں اپنی بڑائی اور شیخی کا بھی اشارہ کرتا جاتاہے ۔قرآن مجید کے منظر کشی کے ایک ایک جزئیے کی داددیجئے!۔(تفسیر ماجدی)

25۔۔۔۔۔ثُمَّ نَظَرَۙ۔۔۔  ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ۔۔۔  ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ ‘۔ یہ اس کے اس متکبرانہ انداز کی تصویر ہے جو اس نے رائے ظاہر کرتے ہوئے اختیار کیا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن نے ایسی مکمل تصویر کھینچی ہے کہ اگر اس کے بعد اس کی رائے کا ذکر نہ بھی ہوتا جب بھی ایک ادا شناس نہایت آسانی سے سمجھ لیتا کہ یہ انداز کس رائے کی غمازی کر رہا ہے۔ فرمایا کہ پہلے تو اس نے تفکر سے سر اٹھا کر لوگوں کے چہروں کا جائزہ لیا تاکہ ان کے موڈ کا اندازہ کر سکے کہ اس رائے کے اظہار کے لیے ساعت سازگار ہے یا نہیں۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا تاکہ دیکھنے والوں کو اس کے اس انداز ہی سے پتا چل جائے کہ اس غور و فکر کے بعد اس نے قرآن کے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ نہایت ہی مایوس کن ہے۔ پھر وہ نہایت استکبار کے ساتھ پیٹھ پھیر کر وہاں سے کچھ بڑبڑاتا ہوا چل کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔] اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ اداؤں اور حرکتوں ہی نے سارا راز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کر دیے کہ وہ کیا زہر اگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے اور یہ محض بشری کلام ہے۔ (تدبرِ قرآن)

30۔عجب نہیں کہ عذاب ِ دوزخ کے انیس صیغے ہوں اور یہاں مراد ہر صیغے کے افسر یا کمانڈر فرشتے سے ہو۔(تفسیر ماجدی)

۔یہاں سے لے کر " تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو دوران تقریر میں سلسلہ کلام کو توڑ کر ان معترضین کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے جنہوں نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ سن کر کہ دوزخ کے کارکنوں کی تعداد صرف 19 ہوگی، اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا تھا۔ ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ ایک طرف  ہم سے یہ کہا جا رہا کہ آدم ؑ کے وقت سے لے کر قیامت تک دنیا میں جتنے انسانوں نے بھی کفر اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے، اور دوسری طرف ہمیں یہ خبر دی جا رہی ہے کہ اتنی بڑی دوزخ میں اتنے بیشمار انسانوں کو عذاب دینے کے لیے صرف 19 کارکن مقرر ہوں گے۔ اس پر قریش کے سرداروں نے بڑے زور کا ٹھٹھا مارا۔ ابو جہل بولا، " بھائیو، کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ تم میں سے دس دس آدمی مل کر بھی دوزخ کے ایک ایک سپاہی سے نمٹ نہ لیں گے " ؟ بنی جمح کے ایک پہلوان صاحب کہنے لگے "17 سے  تو میں اکیلا نمٹ لوں گا، باقی دو کو تم سب مل کر سنبھال لینا "۔ انہی باتوں کے جواب میں یہ فقرے بطور جملہ معترضہ ارشاد ہوئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

31۔  مفسر تھانویؒ نے لکھا ہے کہ عقائد قطعی ،اللہ پر ایمان، انبیاء پر ایمان، فرشتے پر ایمان، حدوث عالم پر اعتقاد وغیرہا تعداد میں انیس ہی ہوتے ہیں، اور عذاب ِ کفار کی اصل چونکہ انہی عقائد ِ اساسی کی مخالفت ہے، اس لیے ممکن ہے کہ ایک ایک فرشتہ انہی انیس عقائد اصلی میں سے ایک ایک کے مقابلے میں ہو، یا یہ کہاجائے کہ انسان کے نفس میں عذابِ دوزخ کی بھڑکانے والے انیس رنگ کی صلاحیتیں موجود ہیں۔(تھانوی،ج2/ ص:715)۔۔۔۔۔یہ آیت قرآن مجید کے ان چند مشکل ترین مقامات میں سے ہے، جن کے متعلق علوم کا باب انشاء اللہ کسی آئندہ خوش نصیب مفسر کے ہاتھوں کھلے گا۔۔۔۔۔ وَ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ سے اشارہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تعدادانیس سے متعلق کچھ پیش خبریاں اہل کتاب کے یہاں موجود چلی آرہی ہیں ،جیساکہ حضرت ابن عباس اور بعض تابعین سے منقول ہے۔۔۔۔۔ لَا یَرْتَابَ ۔مفسر تھانویؒ نےکہاکہ اہل کتاب کی نفی لا ریب اہل کتا ب کی لغوی معنی میں ہے اور مومنین کی شرعی معنی میں(تھانوی،ج2/ص:716)اور روح المعانی میں بھی اس پر ایسی گفتگو ہے۔۔۔۔۔مرض شک میں مبتلا منافقین اور مرض انکار میں مبتلا کافر۔۔۔۔۔بعض مفسرین نے یہاں یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ مرض سے مراد نفاق کیوں کر ہوسکتاہے ،اس لیے کہ منافقین تو مدینہ میں تھے،یہ سورت تو ان کے زمانے سے بہت قبل کی ہے۔۔۔۔حالانکہ مدینہ میں تو صرف اصطلاحی گروہ منافقین پیدا ہواتھا، اور نفس شک و انکار دونوں چیزیں تو مکہ میں تھیں،بعض قرآن کو صریحاً غلط قرار دے رہے تھے اور بعض اس کی حقانیت سے متعلق شک و تردد میں پڑے ہوئے تھے۔(تفسیر ماجدی)ْ

۔یعنی ان کی قوتوں کو انسانی قوتوں پر قیاس کرنا تمہاری حماقت ہے۔ وہ آدمی نہیں، فرشتے ہونگے اور تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی کیسی زبردست طاقتوں کے فرشتے پیدا کیے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جہلائے عرب تو انبیاء کی شان سے ناواقف تھے، مگر اہل کتاب خوب جانتے تھے کہ انبیاء کا ہر زمانے میں یہی طریقہ رہا ہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے آتا تھا اسے وہ جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیتے تھے خواہ وہ لوگوں کو پسند ہو یا ناپسند۔ اس بنا پر اہل کتاب سے یہ بات زیادہ متوقع تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کو دیکھ کر انہیں یقین آجائے گا کہ ایسے سخت مخالف ماحول میں ایسی بظاہر انتہائی عجیب بات کو کسی جھجک کے بغیر پیش کردینا ایک نبی ہی کا کام ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اسے اللہ کا کلام تو مان رہے تھے مگر تعجب اس بات پر ظاہر کر رہے تھے کہ اللہ نے یہ بات کیوں فرمائی۔ بلکہ دراصل وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جس کلام میں ایسی بعید از عقل و فہم بات کہی گئی ہے وہ بھلا اللہ کا کلام کیسے ہوسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ ﴿32﴾ وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ ﴿33﴾ وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ ﴿34﴾ اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ ﴿35﴾ نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ ﴿36﴾ لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ ﴿37﴾ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ ﴿38﴾ اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕ ۛ ﴿39﴾ فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ ﴿40﴾ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ ﴿41﴾ مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ ﴿42﴾ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ ﴿43﴾ وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ ﴿44﴾ وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَۙ ﴿45﴾ وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ ﴿46﴾ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ ﴿47﴾ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ ﴿48﴾ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ ﴿49﴾ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ ﴿50﴾ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ ﴿51﴾ بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ ﴿52﴾ كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ ﴿53﴾ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ ﴿54﴾ فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ ﴿55﴾ وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ ﴿56ع المدثر 74﴾
32. ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم۔ 33. اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے۔ 34. اور صبح کی جب روشن ہو۔ 35. کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔ 36. (اور) بنی آدم کے لئے مؤجب خوف۔ 37. جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے۔ 38. ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے۔ 39. مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)۔ 40. (کہ) وہ باغہائے بہشت میں (ہوں گے اور) پوچھتے ہوں گے۔ 41. (یعنی آگ میں جلنے والے) گنہگاروں سے۔ 42. کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟ 43. وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔ 44. اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے۔ 45. اور اہل باطل کے ساتھ مل کر (حق سے) انکار کرتے تھے۔ 46. اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ 47. یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔ 48. (تو اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی۔ 49. ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں۔ 50. گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں۔ 51. (یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں۔ 52. اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے۔ 53. ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں۔ 54. کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔ 55. تو جو چاہے اسے یاد رکھے۔ 56. اور یاد بھی تب ہی رکھیں گے جب خدا چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے۔

تفسیر آیات

35۔یعنی جس طرح چاند، اور رات اور دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم نشانات ہیں اسی طرح دوزخ بھی عظائم قدرت میں سے ایک چیز ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ اپنی ذات میں یہ بھی اللہ کی قدرت کے نہایت حیرت انگیز معجزے ہیں، جو اگر تمہارے مشاہدے میں نہ آئے ہوتے، اور کوئی تمہیں خبر دیتا کہ چاند جیسی ایک چیز بھی دنیا میں موجود ہے، یا سورج ایک چیز ہے جس کے چھپنے سے دنیا میں اندھیرا ہوجاتا ہے، اور جس کے نکل آنے سے دنیا چمک اٹھتی ہے، تو تم جیسے لوگ اس بات کو سن کر بھی اسی طرح ٹھٹھے مارتے جس طرح دوزخ کا ذکر سن کر ٹھٹھے مار رہے ہو۔ (تفہیم القرآن)

۔یعنی جس طرح چاند کے سفر کے لیے منزلیں مقرر ہیں،ان کو طے کیے بغیر اس کاظہور کامل نہیں ہوتا،اسی طرح روزِ جزا و سزا کے لیے اطوار و مراحل سے گزرنا لازم ہے۔ اس کے بعد یہ دن اس طرح ظاہر ہوجائے گا جس طرح رات کے بعد دن طلوع ہوتا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

37۔ مطلب یہ ہے کہ اس چیز سے لوگوں کو ڈرا دیا گیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے پیچھے ہٹ جائے۔ (تفہیم القرآن)

38۔۔ مطلب یہ ہے کہ جزاوسزا کے دن آدمی کا عمل ہی اس کو چھڑائے گا اور عمل ہی اس کو ہلاک کرے گا۔اگر کوئی شخص حسب و نسب اور شرک و شفاعت کے بل پر اس دن کی آفتوں سے چھوٹنے کے زعم میں مبتلا ہے تو یہ چیزیں اس کے کام آنے والی نہیں ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

43۔مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو مان کر خدا کا وہ اولین حق ادا کیا ہو جو ایک خدا پرست انسان پر عائد ہوتا ہے، یعنی نماز۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کوئی شخص اس وقت تک پڑھ ہی نہیں سکتا جب تک وہ ایمان نہ لایا ہو۔ ]اس لیے نمازیوں میں سے ہونا آپ سے آپ ایمان لانے والوں میں سے ہونے کو مستلزم ہے۔ لیکن نمازیوں میں سے نہ ہونے کو دوزخ میں جانے کا سبب قرار دے کر یہ بات واضح کردی گئی کہ ایمان لا کر بھی آدمی دوزخ سے نہیں بچ سکتا اگر وہ تارک نماز ہو۔ (تفہیم القرآن)

47۔ آیت سے یہ مراد نہیں کہ فلاں فلاں بداعمالیوں ، خلود فی النار کا سبب بنیں گی،بلکہ ان کا مجموعہ مراد ہے،جو تمام ترتکذیب و انکار ہی کا نتیجہ ہوسکتاہے۔خلود فی النار سزا صرف کفر کی ہے اور آیت میں ذکر صرف کافروں کا ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ 'یقین کی ساعت'یعنی موت۔ کیونکہ موت کے بعد تمام حقائق آدمی پر روشن ہوجاتے ہیں اور وہ ان کے یقین پر مجبور ہوجاتاہے۔ (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

48۔ مسئلہ شفاعت پر سابقہ سورتوں کے حوالہ جات ۔ص155۔(تفہیم القرآن)

- حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ کے فرشتے انبیاء ،شہداء و صالحین گناہگاروں کی شفاعت کریں گے بجز ان چار قسم کے مجرمین کے جن کا اس سے پہلے کی آیت میں ذکر آیا ہے یعنی جو (i) نماز(ii)زکوٰۃ  کے تارک ہیں(iii)اہلِ باطل کفار کی خلاف اسلام باتوں میں شریک رہتے ہیں (iv) قیامت کا انکار کرتے ہیں مگر دوسری صحیح روایات سے خاص خاص گناہوں کے مرتکب کے متعلق  بھی یہ آیا ہے کہ وہ شفاعت سے محروم رہیں گے ۔ مثلاً شفاعت ہی کا منکرہونا اور حوض ِ کوثر کا انکار کرنے والے کو نہ شفاعت ملے گی نہ حوض کوثر میں حصہ۔۔۔۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایسے مجرم جو ان سب (چار)گناہوں کے مرتکب ہوں جن میں قیامت کی تکذیب بھی داخل ہے جو عین کفر ہے ۔ایسے مجرموں کیلئے کسی کی شفاعت نافع نہ ہوگی ۔کیونکہ یہ کفار ہیں کسی کافر کی شفاعت کرنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔ اور اگر کوئی کرے تو قبول نہیں ہوگی۔خواہ سارے شفاعت کرنے والے جمع ہوکر شفاعت کا زور لگائیں ہر گز نفع نہیں دیگی ۔اس کی طرف اشارہ کرنے کیلئے شفاعۃ الشافعین بصیغہ جمع لایا گیا ہے۔(معارف القرآن)

51۔  یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ایک حقیقت جب اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار پر مطمئن نہ ہو اور اس کو قبول کرنے کیلئے بھی تیار نہ ہو تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے کہ کسی طرف سے اس کے کانوں میں ایسی آواز نہ پڑنے پائے جو اس حقیقت کو یاددلادے۔(تدبرقرآن)

ــــ عَنِ التَّذْكِرَةِ۔تذکرہ سے مراد قرآن کاہونا ظاہر ہے۔۔۔۔۔ قَسْوَرَةٍ کے معنی اوربھی کیے گئے ہیں،لیکن صحابہ و محققین تفسیر نے شیر ہی کے معنی لیے ہیں۔۔۔۔۔القسورۃ :الأسد۔(جوھری،ج3/ص: 791)(تفسیر ماجدی)

52۔یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر واقعی محمد ﷺ کو نبی مقرر فرمایا ہے تو وہ مکہ کے ایک سردار اور ایک ایک شیخ کے نام خط لکھ کر بھیجے کہ محمد ہمارے نبی ہیں، تم ان کی پیروی قبول کرو۔ اور یہ خط ایسے ہوں جنہیں دیکھ کر انہیں یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ لکھ کر بھیجے ہیں۔ ایک اور مقام پر قرآن مجید میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " ہم نہ مانیں گے جب تک وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے "۔ (الانعام، 124)۔ ایک دوسری جگہ ان کا یہ مطالبہ نقل کیا گیا ہے کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور وہاں سے ایک لکھی ہوئی کتاب لا کر ہمیں دیں جسے ہم پڑھیں (بنی اسرائیل۔ 93)۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

56۔یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اسے نصیحت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب کہ اللہ کی مشیت بھی یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔۔۔۔۔۔اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہےکر گزرے تو  ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ جو نظم اس جہان میں قائم ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ اللہ کی مشیت ساری مشیتوں پر غالب ہے۔۔۔۔۔۔یعنی تمہیں اللہ کی ناراضی سے بچنے کی جو نصیحت کی جا رہی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ کو اس کی ضرورت ہے اور اگر تم ایسا نہ کرو تو اس سے اللہ کا کوئی نقصان ہوتا ہے، بلکہ یہ نصیحت اس بنا پر کی جا رہی ہے کہ اللہ کا یہ حق ہے کہ اس کے بندے اس کی رضا چاہیں اور اس کی مرضی کے خلاف نہ چلیں۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ اللہ ہی کو زیب دیتا ہے کہ کسی نے خواہ اس کی کتنی ہی نافرمانیاں کی ہوں، جس وقت بھی وہ اپنی اس روش سے باز آجائے اللہ اپنا دامن رحمت اس کے لیے کشادہ کردیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے کوئی جذبہ انتقام وہ اپنے اندر نہیں رکھتا کہ ان کے قصوروں سے وہ کسی حال میں در گزر ہی نہ کرے اور انہیں سزا دیے بغیر نہ چھوڑے۔ (تفہیم القرآن)