77 - سورة المرسلات (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 50 |
مضمون: قیامت کا اثبات ،آفاق کے آثار و شواہد سے جھٹلانے والوں کی بدانجامی کا اعلان۔(ترجمہ:مولا نا امین احسن اصلاحی)
مرکزی مضمون: سابق سورۂ الدھر سے اس کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ اس میں استدلال کی اصل بنیاد نفسِ انسانی کی شہادت پر ہے ۔سابق سورۂ میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں انذار کا ۔
نام و معانی: پہلی آیت سے اس کا نام لیا گیا ہے اللہ نے ان ہواؤں کی قسم کھائی ہے جو مرسلات یعنی پے درپے بھیجی جاتی ہیں ۔ پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں اور بادلوں کو اپنے دوش پر اٹھائے فضاؤں میں پھیلادیتی ہیں ،پھر بارش برساتی ہیں ۔
شانِ نزول: یہ سورۂ قیام ِمکہ کے پہلے دور (0 تا 3 نبوی)میں آپؐ پر نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی۔عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ یہ منیٰ کے غار میں نازل ہوئی(بخاری)سورۂ ھود کی طرح یہ بھی ان سورتوں میں سے ہے جنہوں نے آپؐ کو بوڑھا کردیا تھا(ترمذی)اس سورت میں آیتِ ترجیع وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ دس مرتبہ استعمال ہوئی ہے۔
نظمِ کلام: سورۂ القیامہ ۔۔۔۔۔ (سورۂ الملک)
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i) ر۔1(قیامت ضرور واقع ہوگی اور قیامت کی ہلچل کی تصویر ) (ii)ر۔2(متقین اور منکرین کا انجام)
آیتِ ترجیع : لفظ ویل نے یہاں عذاب کی ان تمام قسموں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جن سے مجرموں کواس دن سابقہ پیش آئے گا ۔اور جن کی تفصیل قرآن میں بیان ہوئی ہے ۔اگر چہ بظاہر یہ ایک مختصر لفظ ہے لیکن اس کے اختصار و ابہام کے اندر جوہولناکی مضمر ہے وہ بڑی سے بڑی تفصیل کے اندر بھی نہیں سماسکتی۔)تدبرقرآن(
مواقع ترجیع: لفظ ویل خود ایک جامع لفظ ہے ۔وہ تمام چیزیں اس کے تحت آگئیں جو خرابی کا سبب ہوسکتی ہیں۔غم ،حسرت ،پریشانی، عذاب ِ قیامت،ہرچیز پر یہ حاوی ہے۔(تفسیر فراہی)
فضائل: یہ ان سورتوں میں سے ایک ہے،جس نے رسول اللہؐ کو بوڑھا کردیا تھا۔ چنانچہ فرمایا: "شیّبتنی ھود والواقعۃ والمرسلات وعمّ یستاء لون واذا الشمس کوّرت"۔سورہ ھود، سورۃ الواقعہ،سورۃ المرسلات، سورۃ النبا اور سورۃ التکویر نے مجھے بوڑھا کردیا۔(جامع ترمذی:کتاب التفسیر،باب سورۃ الواقعہ، حدیث 3،297،صحیح)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
سورہ کا عمود: قرآن کی آخری سورتوں میں بیشتر ابتدائے دعوت کے بنیادی مسائل کا بیان ہے، یعنی قیامت ،خشیت اور احسان کا۔چنانچہ اس سورہ کا عمود بھی یہی تین چیزیں ہیں۔ اور یہی تین ابتدائی نقطے ہیں جو پھیل کر بلآخر دین کے تمام اجزا کو اپنے دائرہ میں سمیٹ لیتے ہیں۔قیامت کاڈر، ایمان بالقرآن کی اصل ہے۔۔۔۔اس معاملہ کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے اس سورہ کو سابق سورہ کے ساتھ ملاکر پڑھو۔ سابق سورہ،سورہ دہر میں معاد، قرآن اور نماز کا ذکر ہواتھا۔ غور سےدیکھو تو اس سورہ میں بھی انہی چیزوں کا بیان ہواہے لیکن اسلوب بیان بدل گیا ہے۔ سابق سورہ میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے اس سورہ میں وہ تفصیل کی روشنی میں آگئے ہیں۔سابق سورہ میں معاد پر جو استدلال تھا، صرف چند لفظوں میں تھا، اس سورہ میں وہ تفصیل کے ساتھ ہے۔سابق سورہ میں معاد کی تصویر کے لیے ترغیب کا پہلو زیادہ نمایاں کیاگیا تھا۔اس سورہ میں زیادہ زور ترہیب کے پہلو پر ہے اور انذارو تبشیر دونوں کے ساتھ اور مساوی رکھنے کے لیے ایساکرنا تقاضائے بلاغت اور مصلحت دعوت کے عین مطابق ہے۔خداکے انبیاء ایک ہی ساتھ بشیر و نذیر دونوں ہوتے ہیں۔ وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ اور ہم اپنے رسولوں کی نہیں بھیجتے مگر خوشخبری دینے والا اور آگاہ کرنے والا بناکر۔یہ اجمالی اشارات ہیں ۔ان دونوں سورتوں پر اگر پوری طرح تدبر کیا جائے تو ہم نے جن امور کا ذکر کیا ہے وہ اچھی طرح واضح ہوسکتے ہیں۔(تفسیر فراہی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ ﴿1﴾ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ ﴿2﴾ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ ﴿3﴾ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ ﴿4﴾ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ ﴿5﴾ عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ ﴿6﴾ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ ﴿7﴾ فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ ﴿8﴾ وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ ﴿9﴾ وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ ﴿10﴾ وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ ﴿11﴾ لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ ﴿12﴾ لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ ﴿13﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ ﴿14﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿15﴾ اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ ﴿16﴾ ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ ﴿17﴾ كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ﴿18﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿19﴾ اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ ﴿20﴾ فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ ﴿21﴾ اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ ﴿22﴾ فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ﴿23﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿24﴾ اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ ﴿25﴾ اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ ﴿26﴾ وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ ﴿27﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿28﴾ اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ ﴿29﴾ اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ ﴿30﴾ لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ ﴿31﴾ اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ ﴿32﴾ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ ﴿33﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿34﴾ هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ ﴿35﴾ وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ ﴿36﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿37﴾ هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ ﴿38﴾ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ ﴿39﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ ﴿40ع المرسلات 77﴾ |
| 1. ہواؤں کی قسم جو نرم نرم چلتی ہیں۔ 2. پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہو جاتی ہیں۔ 3. اور (بادلوں کو) پھاڑ کر پھیلا دیتی ہیں۔ 4. پھر ان کو پھاڑ کر جدا جدا کر دیتی ہیں۔ 5. پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں۔ 6. تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے۔ 7. کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گی۔ 8. جب تاروں کی چمک جاتی رہے۔ 9. اور جب آسمان پھٹ جائے۔ 10. اور جب پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں۔ 11. اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں۔ 12. بھلا (ان امور میں) تاخیر کس دن کے لئے کی گئی؟ 13. فیصلے کے دن کے لئے۔ 14. اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ 15. اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے۔ 16. کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا۔ 17. پھر ان پچھلوں کو بھی ان کے پیچھے بھیج دیتے ہیں۔ 18. ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ 19. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 20. کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟ 21. اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ 22. ایک وقت معین تک۔ 23. پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔ 24. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 25. کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا۔ 26. یعنی) زندوں اور مردوں کو۔ 27. (بنایا) اور اس پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دیئے اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا۔ 28. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 29. جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (اب) اس کی طرف چلو۔ 30. (یعنی) اس سائے کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں۔ 31. نہ ٹھنڈی چھاؤں اور نہ لپٹ سے بچاؤ۔ 32. اس سے (آگ کی اتنی اتنی بڑی) چنگاریاں اُڑتی ہیں جیسے محل۔ 33. گویا زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔ 34. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 35. یہ وہ دن ہے کہ (لوگ) لب تک نہ ہلا سکیں گے۔ 36. اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ عذر کرسکیں۔ 37. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 38. یہی فیصلے کا دن ہے (جس میں) ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔ 39. اگر تم کو کوئی داؤں آتا ہو تو مجھ سے کر لو۔ 40. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ اس مقام میں بہتر فیصلہ ابنِ کثیر ؒ کا معلوم ہوتاہے انہوں نے فرمایا کہ شروع کی تین صفات ہواؤں کی صفتیں ہیں۔ان تین میں ریاح اور ہواؤں کی قسم ہوگئی ۔باقی آخری دوصفتیں ،یہ فرشتوں کی صفات ہیں ،تو یہ فرشتوں کی قسم ہوگئی ۔(معارف القرآن)
- بارش جن باتوں کی تذکیر کرتی ہے۔132-133۔(تدبرقرآن)
ــــ قرآنی قسموں کے لیے ملاحظہ ہو، سورۂ الحجر ،آیت72 کا ضمیمہ ،زیر عنوان"قرآنی قسمیں"(تفسیر ماجدی)
6۔یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رکنے اور قحط کا خطرہ پیدا ہونے سے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے توبہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ان کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔ صفحہ نمبر 579)۔ (تفہیم القرآن)
7۔۔۔۔اب غور کیجئے کہ قیامت کے و قوع پر ہواؤں کی یہ کیفیات کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ زمین پر جن اسباب سے حیوانی اور نباتی زندگی ممکن ہوئی ہے ان میں سے ایک نہایت اہم سبب ہوا ہے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
9۔یعنی عالم بالا کا وہ بندھا ہوا نظام، جس کی بدولت ہر ستارہ اور سیارہ اپنے مدار پر قائم ہے، اور جس کی بدولت کائنات کی ہر چیز اپنی اپنی حد میں رکی ہوئی ہے، توڑ ڈالا جائے گا اور اس کی ساری بندشیں کھول دی جائیں گی۔ (تفہیم القرآن)
29۔اب آخرت کے دلائل دینے کے بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ واقع ہوجائے گی تو وہاں ان منکرین کا حشر کیا ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
30۔ یہ معلوم ہے کہ کفر کی بنیادی خصلتیں تین ہیں(1)اللہ تعالیٰ سے غفلت(2)مخلوق سے بے پروائی(3)روز جزا کا انکار۔(تفسیر فراہی)
۔سائے سے مراد دھوئیں کا سایہ ہے۔ اور تین شاخوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بہت بڑا دھواں اٹھتا ہے تو اوپر جا کر وہ کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ ﴿41﴾ وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ ﴿42﴾ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿43﴾ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿44﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿45﴾ كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ ﴿46﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿47﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ ﴿48﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ﴿49﴾ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ ﴿50ع المرسلات 77﴾ |
| 41. بےشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ 42. اور میووں میں جو ان کو مرغوب ہوں۔ 43. اور جو عمل تم کرتے رہے تھے ان کے بدلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو۔ 44. ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 45. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہوگی۔ 46. (اے جھٹلانے والو!) تم کسی قدر کھا لو اور فائدے اُٹھا لو تم بےشک گنہگار ہو۔ 47. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 48. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکو تو جھکتے نہیں۔ 49. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 50. اب اس کے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ |
تفسیر آیات
50۔ یعنی قرآن سے بڑھ کر کامل اور مؤثر بیان کس کا ہوگا؟اگر یہ مکذبین اس پر یقین نہیں لاتے تو اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ کیا قرآن کے بعد کسی اور کتاب کے منتظر ہیں جو آسمان سے اترے گی۔؟(تفسیر عثمانی)
ــــ نہ کوئی چیز حسنِ استدلال میں قرآن سے بڑھ کر ہوسکتی ہے نہ حسنِ بیان اور قوتِ تاثیر و تسخیر میں ،تو جب یہ ان کی عقلوں اور ان کے دلوں پر اثر انداز نہ ہوسکا تو اس سے بڑھ کر کیا چیز ہوسکتی ہے جو اثر انداز ہوسکے گی؟یہ نبیؐ کیلئے تسلی ہے کہ ان کا مرض لاعلاج ہے ،آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(تدبرقرآن)
ــــ حدیث میں ہے کہ جب تلاوت کرنے والا اس آیت پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہیے آمنّا باللہ یعنی ہم اللہ پر ایمان لائے ۔نماز سے خارج میں اور نوافل میں یہ الفاظ کہنے چاہئے مگر فرائض میں اور سنن میں اس زیادتی سے احتراز کرنا روایات ِ حدیث سے ثابت ہے اس لئے ا س میں نہ کہا جائے،واللہ اعلم۔(معارف القرآن)