78 - سورة النبإ (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 40 |
مضمون: خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے روز جزا پر استدلال۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: قیامت برحق ہے اس میں اختلاف برے انجام تک لے جائے گا۔ مناظرِ قیامت کی ہولناکی کا تذکرہ ہے۔
اہم مضامین: (i) ر۔1( منکرین قیامت کا عظیم خبر کے بارے سوال اور مذاق اڑانا، قیامت کے دن پوری کائنات میں ہلچل کی منظر کشی) (ii)ر۔2(متقی لوگوں کا صلہ ،اور کافروں کی حسرت)
شانِ نزول: سورۂ النبا قیام مکہ کے پہلے دور(0تا3نبوی) میں آپؐ پر نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی۔اور جب قیامت اور امکانِ آخرت کے عقیدے کو پختہ کیا جارہاتھا یہ سورۂ بھی سورۂ ھود کی طرح ان سورتوں میں سے ہے جنہوں نے حضورؐ کو بوڑھا کردیا (ترمذی)
نظمِ کلام: سورۂ القیامہ ۔۔۔۔ (سورۂ الملک)
پہلا رکوع |
| عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ ﴿1﴾ عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ ﴿2﴾ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ ﴿3﴾ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ ﴿4﴾ ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ ﴿5﴾ اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ ﴿6﴾ وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ ﴿7﴾ وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ ﴿8﴾ وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ ﴿9﴾ وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ ﴿10﴾ وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ ﴿11﴾ وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ ﴿12﴾ وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ ﴿13﴾ وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ ﴿14﴾ لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ ﴿15﴾ وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ ﴿16﴾ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ ﴿17﴾ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ ﴿18﴾ وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ ﴿19﴾ وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ ﴿20﴾ اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ ﴿21﴾ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ ﴿22﴾ لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ ﴿23﴾ لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ ﴿24﴾ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ ﴿285﴾ جَزَآءً وِّفَاقًاؕ ﴿26﴾ اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ ﴿27﴾ وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ ﴿28﴾ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ ﴿29﴾ فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ ﴿30ع النبإ 78﴾ |
| 1. (یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟ 2. (کیا) بڑی خبر کی نسبت؟ 3. جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ 4. دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے۔ 5. پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے۔ 6. کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔ 7. اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟)۔ 8. (بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا۔ 9. اور نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا۔ 10. اور رات کو پردہ مقرر کیا۔ 11. اور دن کو معاش (کا وقت) قرار دیا۔ 12. اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔ 13. اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا۔ 14. اور نچڑتے بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا۔ 15. تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں۔ 16. اور گھنے گھنے باغ۔ 17. بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے۔ 18. جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آ موجود ہو گے۔ 19. اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے۔ 20. اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے۔ 21. بےشک دوزخ گھات میں ہے۔ 22. (یعنی) سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے۔ 23. اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ 24. وہاں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے۔ نہ (کچھ) پینا (نصیب ہو گا)۔ 25. مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔ 26. (یہ) بدلہ ہے پورا پورا۔ 27. یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے۔ 28. اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے۔ 29. اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے۔ 30. سو (اب) مزہ چکھو۔ ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔ |
تفسیر آیات
3۔دورِ نبوی میں عقیدۂ آخرت کے متعلق کئی طرح کے اختلاف پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو دہریے تھے جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی قائل نہ تھے ۔ان کے لیے عقیدۂ آخرت خارج از بحث تھا۔ مشرکین مکہ اللہ کی ہستی کے تو قائل تھے مگرآخرت کے منکر تھے۔عیسائی آخرت کے تو قائل تھے مگر ان میں سے اکثریت کا عقیدہ یہ تھا کہ اخروی عذاب و ثواب صرف روح پر وارد ہوگا۔ بدن جو گل سڑچکا ہے اسے دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا اور کچھ لوگ نظریہ لاادریت کے قائل تھے یعنی وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ان کے خیال میں یہ دونوں صورتیں ممکنات سے تھیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت قائم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی انسان کا قصہ پاک ہوجائے۔اور قیامت کا نظریہ محض ایک قیاسی اور وہمی نظریہ ہو۔ ان سب اختلافات کے باوجود یہ لوگ عملاً اور نتیجہ کے لحاظ سے آخرت کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہی قراردیا ہے۔(تیسیر القرآن)
4۔ کَلَّا ثُمَّ کَلَّا ۔عربی اسلوب ِ بیان میں اس سے مقصود تاکید و شدید تاکید ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار دہرایا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
13۔۔۔۔اس کا قطر زمین کے قطر سے 109 گنا اور اس کا حجم زمین کے حجم سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے، اور اس کی گرمی کا حال یہ ہے کہ زمین کے بعض حصوں میں اس کی تپش کی وجہ سے درجہ حرارت 140 ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
18۔اس سے مراد وہ آخری نفخ صور ہے جس کا آوازہ بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان یکایک جی اٹھیں گے، اور تم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو اس وقت مخاطب تھے، بلکہ وہ انسان ہیں جو آغاز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
23۔ احقاباً۔ حُقبۃ کی جمع ہے اور حقب بمعنی اسّی سال کا عرصہ یا اس سے زائد مدت، طویل اور غیرمعینہ مدت(مفردات)اور اس کی جمع حقب بھی آتی ہے اور احقاب بھی یعنی اہل دوزخ پر جب ایک حقبہ گزرجائے گا تو دوسراحقبہ شروع ہوجائے گا۔پھر تیسرا گویا وہ لامتناہی مدت تک دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے۔(تیسیر القرآن)
۔عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو، اس لیے احقاب لازماً ایسے ادوار ہی کے لیے بولا جائے گا جو پے درپے ایک دوسرے کے بعد آتے چلے جائیں اور کوئی دور بھی ایسا نہ ہو جس کے پیچھے دوسرا دور نہ آئے۔ دوسرے یہ کہ کسی موضوع کے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت سے کوئی ایسا مفہوم لینا اصولاً غلط ہے جو اسی موضوع کے بارے میں قرآن کے دوسرے بیانات سے متصادم ہوتا ہو۔ قرآن میں 34 مقامات پر اہل جہنم کے لیے خلود (ہمیشگی) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تین جگہ صرف لفظ خلود ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر ابداً (ہمیشہ ہمیشہ) کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ان تصریحات کے بعد لفظ احقاب کی بنیاد پر یہ کہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ جہنم میں خدا کے باغیوں کا قیام دائمی نہیں ہوگا بلکہ کبھی نہ کبھی ختم ہوجائے گا ؟ (تفہیم القرآن)
24۔ فِیْهَا۔ ضمیر ہاء جہنم کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔۔۔۔اوراحقاب کی جانب بھی یعنی اس ابدالدہر میں بھی۔(تفسیر ماجدی)
30۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اہل دوزخ کو جب دوزخ کے عذاب سہتے سہتے ایک طویل مدت گزرجائے گی تو پھر ان کی طبیعتیں ہی اس طرح کی ہوجائیں گی کہ وہ عذاب کو عذاب محسوس نہ کریں گے جیساکہ کسی شاعرنے کہا ہے:
؎ رنج سے خوگر ہواانساں تو مٹ جاتاہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں
اس آیت سے ان کے اس نظریہ کی تردید ہوگئی کیونکہ اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا وہ ایک حالت پر نہ رہے گا کہ اہل دوزخ کی طبیعتیں اس کی عادی اور خوگر بن جائیں بلکہ اس عذاب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔نیز بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طویل زمانہ گزرنے کے بعد جہنم پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا جب اس کی آگ ماند پڑجائے گی بلکہ بجھ جائےگی۔خواہ اہل دوزخ اس میں ابھی موجود ہوں۔ اس آیت سے ان لوگوں کے نظریہ کی بھی تردید ہوجاتی ہے۔(تیسیر القرآن)
ــــ حدیثی روایت میں آیا ہے کہ قرآن مجید کی شدید ترین آیت عذاب یہی ہے۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ ﴿31﴾ حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ ﴿32﴾ وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ ﴿33﴾ وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ ﴿34﴾ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ ﴿35﴾ جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ ﴿36﴾ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ ﴿37﴾ یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا ﴿38﴾ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا ﴿39﴾ اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖ ۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ ﴿40ع النبإ 78﴾ |
| 31. بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے۔ 32. (یعنی) باغ اور انگور۔ 33. اور ہم عمر نوجوان عورتیں۔ 34. اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس۔ 35. وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)۔ 36. یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے انعام کثیر۔ 37. وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا۔ 38. جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خدائے رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو۔ 39. یہ دن برحق ہے۔ پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنا ئے۔ 40. ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا۔ |
تفسیر آیات
36۔ جزاء۔عطاءً۔حساباً۔ ایک ہی آیت میں تین مختلف کلمے لاکر تین مختلف کیفیتوں کی طرف اشارہ کردیا۔۔۔۔۔جزاءکا مفہوم مُزدیا اُجرت کا ہے،یعنی اس کے حصول کے لیے اپنی اپنی والی پوری کوشش کی جائے اور اس کا استحقاق عمل سے مہیا کیا جائے۔۔۔۔۔عطاء کا اشارہ رحمت و بخشش پروردگار کی طرف ہے۔۔۔یعنی امید وار فضل و کرم کے رہیں اور سارا تکیہ اپنے عمل ہی پر نہ کربیٹھیں۔۔۔۔۔حساباً میں یہ پہلو بھی آگیا کہ جو کچھ بھی ملے گا اندھا دُھند اور بے قاعدہ نہیں،امتیاز مراتب و درجات کے ساتھ ملے گا۔(تفسیر ماجدی)
۔جزاء کے بعد کافی انعام دینے کا ذکر یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کو صرف وہی جزا نہیں دی جائے گی جس کے وہ اپنے نیک اعمال کی بنا پر مستحق ہوں گے، بلکہ اس پر مزید انعام اور کافی انعام بھی دیا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کے بارے میں صرف اتنا فرمایا گیا ہے کہ انہیں ان کے کرتوتوں کا بھر پور بدلہ دے دیا جائے گا، یعنی نہ ان کے جرائم سے کم سزا دی جائے گی نہ اس سے زیادہ۔ یہ بات قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن)
37۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کے لیے قرعۂ فال رسول اللہؐ کے نام پر پڑے گا اور آپؐ اللہ کےحضور سب کے لیے سفارش کریں گے۔ اس مضمون کی طویل اور مفصل حدیث سورہ بقرہ کی آیت نمبر 255 کے تحت گزرچکی ہے۔(تیسیر القرآن)
38۔بولنے سے مراد شفاعت ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ وہ صرف دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اسی کے حق میں شفاعت کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ شفاعت کرنے والا بجا اور درست بات کہے، بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے، اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ دنیا میں کم از کم کلمہ حق کا قائل رہا ہو، یعنی محض گناہ گار ہو، کافر نہ ہو۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
۔مشرکین کو سب سے زیادہ اعتماد فرشتوں کی سفارش پر تھا جن کو وہ اپنے زعم کے مطابق خدا کی بیٹیاں فرض کر کے پوجتے تھے۔ فرمایا کہ اس دن ان کا حال یہ ہو گا کہ جبریلؑ اور دوسرے ملائکہ رب العزت کے سامنے اس طرح صف بستہ حاضر ہوں گے جس طرح خدام اپنے آقا کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
39۔’فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہِ مَآبًا‘ سے ایک بات تو یہ نکلی کہ اس معاملہ میں اللہ اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دیا جائے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کا خوف اتار بھی دیا جائے۔ دوسری بات یہ نکلی کہ اس دن پناہ صرف اللہ تعالیٰ ہی بنے گا، کسی اور کی پناہ اس دن کسی کو حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ تیسری بات یہ نکلی کہ اللہ کو پناہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کی جائے۔ جس نے یہاں اس کی راہ نہیں اختیار کی وہ آخرت میں اس کی پناہ نہیں حاصل کر سکے گا۔ (تدبرِ قرآن)
40۔بظاہر ایک آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں اور اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہے ؟ اور سورة کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے گا، اور قیامت کے روز جب انسان دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے گا اس وقت اسے یوں محسوس ہوگا کہ ابھی سوتے سوتے اسے کسی نے جگا دیا ہے۔ اس کو یہ احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزار ہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)