79 - سورة النازعات (مکیہ)

رکوع - 2 آیات - 46

مضمون:سرکشوں کے لیے سزا اور خدا سے ڈرنے والوں کے لیے جزا کا اہتمام ضروری ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: قرآن کے عقیدۂ آخرت کو تسلیم کرکے ،فرعونیت اور طاغوتیت (طغیٰ)چھوڑ کر خوف و خشیت اختیار کرنا چاہیے۔

نام و معانی: نازعات سے مراد فرشتے ہیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اور موضوع قیامت ہی ہے ۔یہ فرشتے اللہ کے حکم کے مطابق مختلف ذمہ داریاں اداکررہے ہیں۔انسان کی جان اس کے جسم سے نکال کرلیجاتے ہیں۔پوری کائنات میں اللہ کے احکام کی بجاآوری میں لگے ہوئے ہیں ۔قیامت کو بھی اللہ کے حکم کے مطابق وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہوں گے۔

شانِ نزول: سورۂ النازعات ، سورۂ النبا کے بعد قیامِ مکہ کے پہلے دور (0تا 3 سن نبوی) میں آپؐ پر نازل ہوئی ۔جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی اور جب قیامت اور امکانِ آخرت کےعقیدے کو پختہ کیا جارہاتھا۔

نظمِ کلام: سورۂ القیامہ۔۔۔۔۔(سورۂ الملک)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ ﴿1﴾ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ ﴿2﴾ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ ﴿3﴾ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ ﴿4﴾ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ ﴿5﴾ یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ ﴿6﴾ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ ﴿7﴾ قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ ﴿8﴾ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ ﴿9﴾ یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ ﴿10﴾ ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ ﴿11﴾ قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ ﴿12﴾ فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ ﴿13﴾ فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ ﴿14﴾ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ ﴿15﴾ اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ ﴿16﴾ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ ﴿17﴾ فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ ﴿18﴾ وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ ﴿19﴾ فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ ﴿20﴾ فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ ﴿21﴾ ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ ﴿22﴾ فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ ﴿23﴾ فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ ﴿24﴾ فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ ﴿25﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىؕ۠ ﴿26ع النازعات 79﴾
1. ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔ 2. اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔ 3. اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں۔ 4. پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں۔ 5. پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں۔ 6. (کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا۔ 7. پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا۔ 8. اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے۔ 9. اور آنکھیں جھکی ہوئی۔ 10. (کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے۔ 11. بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے)۔ 12. کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے۔ 13. وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔ 14. اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے۔ 15. بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے۔ 16. جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا۔ 17. (اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے۔ 18. اور (اس سے) کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟ 19. اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو۔ 20. غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ 21. مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا۔ 22. پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔ 23. اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا۔ 24. کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں۔ 25. تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا۔ 26. جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے۔

تفسیر آیات

یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔۔۔۔۔ان سے مراد فرشتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ فرشتے ہیں جو موت کے وقت انسان کی جان کو اس کے جسم کی گہرائیوں تک اتر کر اور اس کی رگ رگ سے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ تیزی سے تیرتے پھرنے والوں سے مراد فرشتے ہی ہیں ۔۔۔۔جو احکام الہی کی تعمیل میں اس طرح تیزی سے رواں دواں رہتے ہیں جیسے کہ وہ فضا میں تیر رہے ہوں۔ یہی مفہوم " سبقت کرنے والوں " کا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور سبقت کرنے سے مراد یہ ہے کہ حکم الہی کا اشارہ پاتے ہی ان میں سے ہر ایک اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔ " معاملات کا انتظام چلانے والوں " سے مراد بھی فرشتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سلطنت کائنات کے وہ کارکن ہیں جن کے ہاتھوں دنیا کا سارا انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ علم حضور ہی سے حاصل کیا گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے، واللہ اعلم، کہ اہل عرب فرشتوں کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ وہ خود اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ موت کے وقت انسان کی جان فرشتے ہی نکالتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ فرشتوں کی حرکت انتہائی تیز ہے، زمین سے آسمان تک آناً فاناً وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں اور ہر کام جس کا انہیں حکم دیا جائے بلا تاخیر انجام دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔مذکورہ بالا اوصاف سے استدلال اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جس خدا کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں اسی کے حکم سے وہ دوبارہ جان ڈال بھی سکتے ہیں۔ اور جس خدا کے حکم سے وہ کائنات کا انتظام چلا رہے ہیں اسی کے حکم سے جب بھی اس کا حکم ہو، اس کائنات کو وہ درہم برہم بھی کرسکتے ہیں، اور ایک دوسری دنیا بنا بھی سکتے ہیں۔ اس کے حکم کی تعمیل میں ان کی طرف سے ذرہ برابر بھی سستی یا لمحہ بھر کی تاخیر بھی نہیں ہو سکتی۔ (تفہیم القرآن)

7۔ آیت نمبر 6 اور نمبر 7 کے دومطلب بیان کیے گئے ہیں۔ایک یہ کہ نفخۂ صور اول کے وقت زمین کانپنے لگے گی۔پھر اسے لگاتار زلزلہ کے مزید جھٹکے پڑنے لگیں گے ۔دوسرا یہ کہ رادفۃ سے زلزلہ کے بجائے نفخۂ صور مراد لیا جائے۔ یعنی پہلے نفخ صور کے نتیجہ میں زمین کانپنے لگے گی پھر اس کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام مرے ہوئے لوگ زندہ ہوکر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔(تیسیر القرآن)

ــــ الرَّاجِفَةُ نفخۂ اولیٰ ہے، اور الرَّادِفَةُ نفخۂ ثانیہ۔۔۔۔۔تَرجُفُ الرَّاجِفَۃُ۔ یعنی صور کا نفخۂ اول جو ہرزندہ مخلوق پر موت طاری کردے گا۔۔۔۔۔ الرَّادِفَةُ۔یعنی صور کا نفخۂ ثانی جو ہر مرد ہ چیز کو از سرنو زندہ کھڑا کردے گا۔(تفسیر ماجدی)

" کچھ دل " کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے صرف کفار و فجار اور منافقین ہی پر قیامت کے روز ہول طاری ہوگا۔ مومنین صالحین اس ہول سے محفوظ ہوں گے۔ (تفہیم القرآن)

12۔یعنی جب ان کو جواب دیا گیا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یارو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔(تفہیم القرآن)

16۔وادی مقدس طویٰ کے معنی بالعموم مفسرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ " وہ مقدس وادی جس کا نام طویٰ تھا "۔ لیکن اس کے علاوہ اس کے دو معنی اور بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ " وہ وادی جو دو مرتبہ مقدس کی گئی "، کیونکہ ایک دفعہ اس وقت مقدس کیا گیا جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے وہاں حضرت موسیٰ کو مخاطب فرمایا، اور دوسری دفعہ اسے تقدیس کا شرف اس وقت بخشا گیا جب حضرت موسیٰ مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کر اس وادی میں لائے۔ دوسرے یہ کہ " رات کے وقت وادی مقدس میں پکارا "۔ عربی میں محاورہ ہے جاء بعد طوی، یعنی فلاں شخص میرے پاس رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد آیا۔ (تفہیم القرآن)

19۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى، " تم اور ہارون دونوں بھائی اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے اور خدا سے ڈرے "۔ (طہٰ ، آیت 44) اس نرم کلام کا ایک نمونہ تو ان آیات میں دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مبلغ کو کسی بگڑے ہوئے آدمی کی ہدایت کے لیے کس حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہیے۔ دوسرے نمونے سورة  طہٰ، آیات 49 تا 52، الشعراء، 23 تا 28، اور القصص، آیت 37 میں دیے گئے ہیں۔ یہ منجملہ ان آیات کے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکمت تبلیغ کی تعلیم دی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ ارشاد کہ " میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا خوف) تیرے دل میں پیدا ہو "۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تو اپنے رب کو پہچان لے گا اور تجھے معلوم ہوجائے گا کہ تو اس کا بندہ ہے، مرد آزاد نہیں ہے، تو لازماً تیرے دل میں اس کا خوف پیدا ہوگا، اور خوف خدا ہی وہ چیز ہے جس پر دنیا میں آدمی کے رویے کے صحیح ہونے کا انحصار ہے۔ خدا کی معرفت اور اس کے خوف کے بغیر کسی پاکیزگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ (تفہیم القرْآن)

20۔بڑی نشانی سے مراد عصا کا اژدہا بن جانا ہے۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)

24۔۔۔۔۔پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الٰہ اور رب اعلیٰ کہتا تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار اعلیٰ کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے، اور میرے اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہوسکتا ہو۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآنْ)

25۔’نَکَالٌ‘ کے معنی عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ یعنی جب اس نے سب کچھ دیکھ اور سن لینے کے بعد بھی اپنی سرکشی ہی پر اصرار کیا تو اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں پکڑا۔ دنیا میں وہ سمندر کی موجوں کے حوالہ ہوا اور آخرت میں جہنم کے عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔ (تدبرِقرآن)

26۔ یہ وہ مقصد بیان ہوا ہے جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑا درس عبرت ہے جو خدا کی پکڑ سے ڈرنے والے ہوں۔۔۔۔۔ (تدبرِقرآن)


دوسرا رکوع

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ ﴿27﴾ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ ﴿28﴾ وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ ﴿29﴾ وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ ﴿30﴾ اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ ﴿31﴾ وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ ﴿32﴾ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ ﴿33﴾ فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ ﴿34﴾ یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ ﴿35﴾ وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى ﴿36﴾ فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ ﴿37﴾ وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ ﴿38﴾ فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ ﴿39﴾ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ ﴿40﴾ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ ﴿41﴾ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ ﴿42﴾ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ ﴿43﴾ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ ﴿44﴾ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ ﴿45﴾ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ ﴿46ع النازعات 79﴾
27. بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا۔ 28. اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا۔ 29. اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی۔ 30. اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔ 31. اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا۔ 32. اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا۔ 33. یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے (کیا)۔ 34. تو جب بڑی آفت آئے گی۔ 35. اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔ 36. اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی۔ 37. تو جس نے سرکشی کی۔ 38. اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا۔ 39. اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ 40. اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا۔ 41. اس کا ٹھکانہ بہشت ہے۔ 42. (اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟ 43. سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو۔ 44. اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)۔ 45. جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو۔ 46. جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے۔

تفسیر آیات

27۔اب قیامت اور حیات بعد الموت کے ممکن اور مقضائے حکمت ہونے کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

۔اب آگے کی سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔۔۔۔۔ (تدبرِقرآن)

29۔رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، کیونکہ آسمان کا سورج غروب ہونے سے ہی رات آتی ہے اور اسی کے طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے۔ رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو۔ (تفہیم القرآن)

30۔" اس کے بعد زمین کو بچھانے " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی۔۔۔۔۔۔مقصود ان دونوں باتوں کے درمیان واقعاتی ترتیب بیان کرنا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔بلکہ مقصود ایک بات کے بعد دوسری بات کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اگرچہ دونوں ایک ساتھ پائی جاتی ہوں۔ (تفہیم القرآن)

41۔ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ۔ صوفیۂ عارفین نے خوف کے تین درجے بتائے ہیں: پہلا درجہ یہ کہ قول و عمل میں مواخذۂ آخرت کا دھڑکالگارہے ۔۔۔۔یہ مقام اہل تقویٰ کا ہے۔دوسرا درجہ یہ کہ وقوعِ لغزش سے محبوب کی نظر سے گرجانے کا دھڑکا لگارہے۔۔۔۔یہ مقام اہل محبت کا ہے۔تیسیرا درجہ ہے کہ  بلالحاظ کسی نتیجے کے بھی محض ہیبت و عظمت ذات سے لرزتارہے۔۔۔۔یہ مقامِ عبدیت ہے۔اور انہیں عارفین کا کہنا ہے کہ عبدِ محض کا مرتبہ متقی اور عاشق دونوں سے بلند تر ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں۔  فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا۔۔اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰى، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں اپنے ہر عمل ہر کام کے وقت یہ خوف لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر ان اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ دوسرے جس نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا، ناجائز خواہشوں سے اس کو روک دیا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے قرآن کریم نے اس کو یہ خوشخبری دے دی فَاِنَّ الْجَنَّةَ ھِيَ الْمَاْوٰى یعنی جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔(معارف القرآن)

42۔’اَیَّانَ مُرْسَاہَا‘۔ یعنی یہ اس کے ظہور کے وقت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ’اَیَّانَ‘ وقت مستقبل سے متعلق سوال کے لیے آتا ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ میرے نزدیک ’کہاں‘ صحیح نہیں ہو گا بلکہ ’کب‘ ہونا چاہیے۔ ’مُرْسٰی‘ کے معنی لنگرانداز ہونے کے ہیں۔ اس لفظ میں یہاں ایک قسم کا طنز مضمر ہے۔ یعنی یہ منکرین پوچھتے ہیں کہ ہم کب سے یہ خبر سن رہے ہیں کہ بس قیامت آیا ہی چاہتی ہے لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آئی۔ آخر اس کا سفینہ ہمارے ساحل میں کب لنگرانداز ہو گا! اس کے انتظار میں تو ہماری آنکھیں پتھرا گئیں! (تدبرِ قرآن)