8 - سورة الأنفال (مدنیہ)

رکوع - 10 آیات - 75

مضمون:۔  مسلمانوں کی تقویٰ ،باہمی اخوت اور اللہ و رسول کی اطاعت کی اساس پر تنظیم اور بیت اللہ کی تولیت کے لیے جہا د کی تیاری کی دعوت۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول :  غزوۂ بدر پر شاندار تبصرہ اور تربیت ِ صحابہ کا انوکھا اسلوب۔

نظمِ سورۂ: حوالہ سورۂ انعام ۔ چاروں سورتوں میں گہری حکیمانہ ترتیب جیسے سورۂ بقرہ کا ایک حصہ اہلِ کتاب،دوسرا اہلِ ایمان کو ہدایت ۔یہاں انعام اور اعراف میں قریش پر اتمام حجت اور انفال میں مسلمانوں کوجہاد کی ترغیب اور ان کی تربیت۔

غیبی تائید ۔ بروقت ہزار فرشتوں سے مدد کا وعدہ (فضائے بدر پیدا کر۔۔۔۔۔)میدان جنگ میں اطمینان کی نیند ۔بارش کا نزول۔امدادی فرشتوں کو یہ ہدایت خداوندی کہ مسلمانوں کا حوصلہ بحال رکھو،کفار کو مرعوب کردواور ان کے پر خچے اڑا دو۔

- سورۂ اعراف میں راست اقدام(Direct action) کے ذریعے قوموں کی ہلاکت، یہاں بالواسطہ اقدام(Indirect action) ،یعنی مسلمانوں کے جہاد کے ذریعے، کفارِ قریش کی ہزیمت ۔

مرکزی مضمون:   غزوۂ بدر ،فلسفہ جہاد، ترغیب جہاد، احکام صلح و جنگ اور مال غنیمت کی تقسیم۔

غزوۂ بدر پر تبصرہ: آغاز سے پہلے تفہیم القرآن جلد دوم کے صفحہ 118 (زمانہ نزول و تاریخی پس منظر) سے لیکر صفحہ 127 (مباحث) تک کا مطالعہ اس سورۃ کو سمجھنے میں معاون ہو گا۔

ترتیب مطالعہ: پوری سورت ایک مکمل خطبہ ۔

کلیدی مضامین:

سورۃ"الانفال"میں "مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ"کے الفاظ دومرتبہ پہلے اور آخری پیراگراف میں (یعنی آیت 4 اور 74 میں)استعمال ہوئے ہیں،جیساکہ قرآن مجید کی اکثر سورتوں میں اہم مضمون کو ابتداً اور اختتام دونوں مقامات پر لایا جاتاہے۔معلوم ہواکہ جہاد کے نتیجے میں نہ صرف اُخروی مغفرت بلکہ دنیا میں عزت کی روٹی بھی حاصل ہوتی ہے۔جان کی بازی لگادینے والے ان مجاہدین کو سچے مومنین "هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا"کے نام سے پکاراگیا۔۔۔۔۔ سورۃ"الانفال"میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں ثابت قدمی کے احسان کا ذکر کیا اور ثابت قدمی کی ہدایات بھی دیں۔(i)اللہ تعالیٰ نے عین جنگ سے پہلے مسلمانوں پر ایسی اونگھ طاری کردی کہ بیدار ہوتے ہی وہ خود کوتازہ دم محسوس کرنے لگے۔"اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ"(ii)پھر اللہ تعالیٰ نے ایسی بارش نازل فرمائی ،جس سے شیطان کی گندگی کا خاتمہ ہوگیا،مسلمانوں کے دل جڑگئے۔چنانچہ بارش کی وجہ سے میدانِ جنگ میں ان کے قدم مضبوط ہوگئے۔۔۔(iii)اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ میدانِ جنگ میں مسلمانوں کو ثابت قدم رکھیں۔۔۔(iv)اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ میدانِ جنگ میں دشمن سے مڈبھیڑ ہونے پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور اس موقع پر بھی اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہیں،تاکہ کامیابی یقینی بنائی جاسکے۔۔۔)قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(

خلاصۂ مضامین:  ر۔1( تمہیدی اور مال غنیمت کی تقسیم کا بنیادی اصول)  ر۔2 (اسلام کی پہلی فتح اور لڑائی کی اصولی ہدایات)  ر۔ 3 (جماعت کی فلاح سمع و طاعت میں ہے اور اجتماعی قوت کےلئے اجتماعی احساسِ ذمہ داری ۔اسلام کے چند اصول و ضوابط)   ر۔4  (حقیقی افراد کےلئے فرقان کی قوت اور کفار کے لئے عذاب کی وعید)  ر۔5 ( قوموں کے عروج و زوال کے بارے سنۃ اللہ ،معرکۂ بدر کا فیصلہ کن مرحلہ اور مالِ غنیمت کی تقسیم)  ر۔6 (معرکۂ حق و باطل میں حق کی سربلندی کےلئے اہم صفات(i)ثابت قدمی(ii)کثرت سے اللہ کی یاد(iii) نظم و ضبط اور اطاعت کامل(iv) صبر(v) غرور و تکبر اور شیخی مارنے سے اجتناب)  ر۔7 (جنگِ بدر کا معرکۂ اور منافقین کے کردار کی نقاب کشائی )  ر۔8 (جدید اسلحۂ  جنگ سے تیاری اور قوت ،مصالحت کےلئے ہمہ وقت آمادگی) ر۔9   ( جہاد کی ترغیب۔20 ثابت قدم مومن200 کافروں کے برابر)   ر۔10 (مہاجرین و انصار کا حقیقی مقام،قیدیوں سے خطاب اور جہاد کی اصل غایت۔فتنہ کی سرکوبی اور یکون الدّینُ کُلُّہ لِلہ)


پہلا رکوع

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿1﴾ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ ۖ ﴿2﴾ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ  ﴿3﴾ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ  ﴿4﴾ كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ  ﴿5﴾ یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ  ﴿6﴾ وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ  ﴿7﴾ لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ  ﴿8﴾ اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ ﴿9﴾ وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠   ۧ ۧ ﴿10ع الأنفال 8﴾
1. (اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔ 2. مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 3. (اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ 4. یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 5. (ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی 6. وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔ 7. اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔ 8. تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔ 9. جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔ 10. اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

تفسیر آیات

جن لوگوں نے مال ِ غنیمت لوٹا تھا عرب کے پرانے طریقے کے مطابق اس کا اپنے آپ کو مالک سمجھ بیٹھے ۔ان کے بالمقابل مال غنیمت کے دو اور دعویدار بھی سامنے آ گئے: 1۔ دشمن کا تعاقب کرنے والے اور 2۔ حضورؐ کی حفاظت کرنے والے۔ قرآن نے اس مال کو غنیمت کی بجائے الانفال قرار دے دیا ( نفل جو حق سے زائد ہو)۔ مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح کہ جنگ  دنیوی اور مادی فوائد کےلئے نہیں اور انتظامی اصلاح کہ تمام مالِ غنیمت امام کے سامنے رکھ دیا جائے۔آیت : 41 کے مطابق پانچواں حصہ بیت المال، باقی چار حصے فوج میں برابر تقسیم ہوں (پیادہ اور سوار کے فرق کے مطابق) ) تفہیم القرآن(

1۔۔۔۔معلوم ہوا کہ مال غنیمت وہ ہے جو جنگ و جہاد کے ذریعہ ہاتھ آئے اور مال فیئے وہ جو بغیر قتال و جہاد کے ہاتھ آجائے۔ اور لفظ انفال دونوں کے لئے عام بھی بولا جاتا ہے اور خاص اس انعام کو بھی کہتے ہیں جو کسی غازی کو امیر جہاد عطا کرے۔(معارف القرآن)

۔ ایمان باللہ کا لازمی تقاضا:۔ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔یہ ایمان باللہ کا اصل تقاضا بیان ہواکہ جولوگ اللہ و رسول پرایمان کے مدعی ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ و رسول کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔یہ بات ا یمان کے منافی ہے کہ اللہ و رسول کا کوئی حکم اپنی خواہشات نفس کے خلاف ہو تو اس کے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھرے یا اس سے متعلق "دل" میں کوئی رنجش یا بدگمانی جگہ پائے۔ ان کنتم مؤمنین کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ ایمان کی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔جنہوں نے ایمان کی یہ حقیقت نہیں سمجھی ہے ان کا دعوائے ایمان بالکل بے حقیقت ہے۔(تدبر قرآن)

- خیال کرلیا جائے ،سورۃ جہاد و قتال کی ہے،اور ان کے احکام ابھی آگے آرہے ہیں،باوجود اس کے سورہ کا آغاز کن عنوانات سے ہوتاہے؟تقویٰ الٰہی ،سعی اصلاح،اطاعتِ خدا و رسول ،پختگی ایمان وغیرہ سے ۔ایسے باخدا اور سرتاپاعبودیت کے سانچہ میں ڈھلے ہوئے مجاہدین سے کوئی بھی نسبت، قومی و نسلی منافرت میں گرفتار،وطنی تعصب کے بحران میں مبتلایا پھر ذاتی حرص ، ہوس،اور نفس پرستی کی آگ میں جلتے ہوئے جباروں،کشورکشاؤں ،ملک گیروں کو  ہوسکتی ہے؟ ع۔ کوئی نسبت بھی ان آنکھوں سے ہے پیمانہ کو!

دنیا کی موجودہ متمدن اور سیکولر حکومتوں کو کوئی تصور بھی ان روحانی بلندیوں کا ہوسکتاہے!(تفسیر ماجدی)

3۔ یہ بیان ہورہاہے مومنین کے عملی کردار کا ۔مومنین مجاہدین کا اصل بھروسہ اپنے سامان ِ جنگ پر، اپنے چمچماتے ہوئے ہتھیاروں پر،اپنی شاندار کلغیوں اور وردیوں پر نہیں ہوتاہے، بلکہ پروردگار ہی پر ہوتاہے ۔(تفسیر ماجدی)

4۔ سچے اہلِ ایمان کے اوصاف (i) اللہ کے ذکر سے دل دہل جانا(ii) تلاوتِ آیات سے ایمان کی زیادتی (iii) توکل علی اللہ (iv) اہتمام نماز(قائم کرنا) (v) مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۔۔۔۔۔ انعامات: لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۔۔۔۔۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایمان کوئی ٹھونٹھ درخت نہیں بلکہ یہ جڑ بھی رکھتاہے( پاتال تک گہری) اور شاخیں اور برگ و باربھی(فضاء میں پھیلی ہوئی)۔(تدبرقرآن)

سچے مومنوں کا درجہ :۔  جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نےپکے سچے مومن قرار دیاہے۔ایسے ہی مومنوں کیلئے اللہ کے ہاں بلنددرجات بھی ہوں گے،بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں ۔یعنی اللہ کا ذکر درمیان میں آجانے سے دلوں کا دہل جانا، اللہ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہوجانا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے ۔اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہوگی اوربدنی عبادات کے عوض مغفرت ہوگی اور مالی عبادات کے عوض عزت کی روزی ملے گی۔(تیسیر القرآن)

5۔ یعنی مالِ غنیمت کا یہ خدائی طرز تقسیم گوبعض طبائع کو اپنے خلافِ مرضی ہونے کی بناپر ناگوار گزرے،لیکن حقیقۃً یہ حکم ایسا ہی پُر مصلحت ہے،جیساوہ واقعہ جس کا ذکر اب شروع ہورہاہے۔ كَمَاۤ۔اس لفظ کی ترکیب قرآن مجید کی مشکل ترین ترکیبات ِ نحوی میں سے ہے۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)

6۔  جس وقت نبی ﷺ اپنے گھر سے نکلے تھے اسی وقت یہ امر حق آپ کے پیش نظر تھا کہ قریش کے لشکر سے فیصلہ کن مقابلہ کیا جائے۔ اور یہ مشاورت بھی اسی وقت ہوئی تھی کہ قافلے اور لشکر میں کس کو حملہ کے لیے منتخب کیا جائے۔ اور باوجودیکہ مومنین پر یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ لشکر ہی سے نمٹنا ضروری ہے، پھر بھی ان میں سے ایک گروہ اس سے بچنے کے لیے حجت کرتا رہا۔ اور بالآخر جب آخری رائے یہ قرار پا گئی کہ لشکر ہی کی طرف چلنا چاہیے تو یہ گروہ مدینہ سے یہ خیال کرتا ہوا چلا کہ ہم سیدھے موت کے منہ میں ہانکے جا رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ  ﴿11﴾ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ  ﴿12﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿13﴾ ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ ﴿14﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ  ﴿15﴾ وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ ﴿16﴾ فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿17﴾ ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ ﴿18﴾ اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠  ﴿19﴾الأنفال 8﴾
11. جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔ 12. جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو۔ 13. یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔ 14. یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے۔ 15. اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔ 16. اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ 17. تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے۔ 18. (بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے۔ 19. (کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

تفسیر آیات

12۔مسلمانوں کی قدرتی وسائل سے امداد:۔ اب یہاں سے ان قدرتی اسباب کا ذکر شروع ہوتاہے جو بلآخر مسلمانوں کی فتح کا سبب بنے تھے۔۔۔اس حال میں اللہ کی مدد یوں مسلمانوں کے شامل حال ہوئی کہ رات کو زور سے بارش ہوئی جس  کے تین فائدے ہوئے(1)مسلمانوں نے بڑے بڑے حوض بناکر پانی جمع کرلیا۔انہیں پینے اور نہانے دھونے کیلئے پانی میسر آگیا(2)نیچے سے ریت جم گئی،جہاں پہلے قدم پھسلتے جاتے تھے وہاں جمنے شروع ہوگئے اس طرح وہ سب شیطانی وساوس دورہوگئے جو شیطان مسلمانوں کے دلوں میں ڈال رہاتھا۔(3)پانی کا ریلا جب بہہ کر کفار کے لشکر کی طرف گیا تو وہاں کیچڑ اور پھسلن پیدا ہوگئی۔یہ اللہ کی مدد کی پہلی صورت تھی۔۔۔دوسری صورت یہ تھی کہ جنگ کی ابتداء میں ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پرغنودگی طاری کردی۔۔۔تیسری صورت یہ تھی کہ اللہ نے میدان بدر میں مسلمانوں کی مدد کیلئے فرشتوں کا لشکر بھیج دیا جیساکہ اوپر کے حاشیہ میں درج شدہ احادیث سے واضح ہوتاہے۔صحابہ کہتے ہیں کہ جن کافروں کی موت فرشتوں کے ہاتھوں واقع ہوتی ہم اس لاش کو پوری طرح پہچان لیتے تھے۔فرشتوں کی آمد سے جہاں مسلمانوں کے دلوں کو ثبات و قرار حاصل ہوا وہاں کافر سخت بددل اور مرعوب ہوگئے اور چوتھی صورت کا ذکر آگے آرہاہے۔(تیسیر القرآن)

13۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ ایک دفعہ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ تم میں سے کون جاتا ہے اور فلاں لوگوں نے جو اونٹنی کاٹی ہے اس کا بچہ دان لا کر محمد ﷺ جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دیتا ہے ؟ یہ سن کر ان کا بدبخت ترین (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور بچہ دان اٹھا لایا اور دیکھتا رہا، جب آپ ﷺ سجدہ میں گئے تو بچہ دان آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان میں پیٹھ پر رکھ دیا۔ میں خود یہ دیکھ رہا تھا، لیکن کچھ نہ کرسکتا تھا۔ کاش (اس دن) میرا کچھ زور ہوتا۔ کافر ہنستے اور ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ آپ سجدہ میں ہی پڑے رہے اور سر نہیں اٹھا سکتے تھے حتیٰ کہ (آپ کی بیٹی) فاطمہ آئیں اور بچہ دان کو پیٹھ سے اٹھا کر پرے پھینکا۔ تب آپ نے سر اٹھایا اور دعا کی : یا اللہ قریش سے نمٹ لے۔ آپ نے تین بار یہ الفاظ دہرائے جب آپ یہ بد دعا کر رہے تھے تو کافروں پر گراں گزرا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لے لے کر بددعا کی کہ یا اللہ ! ابو جہل سے نمٹ لے اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سے سمجھ لے اور عمرو بن میمون نے ساتویں شخص (عمارہ بن ولید) کا نام بھی لیا جو ہمیں یاد نہ رہا۔ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جن لوگوں کا آپ نے نام لے کر بددعا کی تھی، میں نے دیکھا کہ ان سب کی لاشیں بدر کے کنویں میں پھینکی گئیں۔ (بخاری، کتاب الوضوء، باب، اذا القی علی ظھر المصلی قذرًا اوجیفۃ۔۔ ) (تیسیر القرآن)

17۔ریت کی مٹھی کا کرشمہ:۔ میدان بدر میں اللہ کی مدد کی چوتھی صورت یہ تھی کہ جب جنگ پورے زور وں پر تھی اس وقت آپؐ نے ریت اور کنکریوں کی ایک مٹھی لی اور اسے کافر وں کے لشکر کی طرف پھینک دیااور فرمایا شاھت الوجوہ۔ اس ریت کے ذرات کافروں کی آنکھوں میں جالگے جس سے وہ آنکھیں ملتے رہ گئے اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا۔اس طرح اللہ نے مسلمانوں کوموقع دیاکہ وہ کافروں کو بے دریغ قتل کرسکیں۔بعض عقل پرست حضرات کہتے ہیں کہ مٹھی پھینکنےکے وقت ہواکا رخ چونکہ کافروں کی طرف تھا،اس لیے کافروں کو یہ حادثہ پیش آیاتھا ۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ مٹھی بھر ریت کے ذرات آخر سب کافروں تک کیسے پہنچ گئے۔پھر یہ ذرات آنکھوں میں کیوں جالگے۔کسی اور جگہ بھی لگ سکتے تھے ۔آنکھ تو انتہائی مختصر حصہ جسم ہے۔لازماً یہ تسلیم کرنا پڑتاہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل تھا۔ جس کا صدور اس کے نبی کے ہاتھوں معجزہ کے طورپر ہواتھا ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی نسبت براہ راست اپنی طرف کی ہے۔(تیسیر القرآن)

19۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مکہ سے روانگی کے وقت ابوجہل وغیرہ نے کعبہ کا پردہ پکڑ کریہ دعاکی تھی کہ یا اللہ ہم دونوں فریقوں سے جو اعلیٰ و افضل ہے اسے فتح نصیب فرما اور فساد مچانے والے کو مغلوب کر ۔چنانچہ اللہ نے یہ فرماکر کہ "اب فیصلہ تمہارے پاس آچکا۔"اس بات کا فیصلہ کردیا کہ ان دونوں فریقوں میں اعلیٰ و افضل کون سافریق تھا اور مفسد کونسا؟۔(تیسیر القرآن)


تیسرا رکوع

 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ   ۧ ۧ ﴿20﴾ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ﴿21﴾ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ﴿22﴾ وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿23﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ﴿24﴾ وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿25﴾ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿26﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿27﴾ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠   ۧ ۧ ﴿28ع الأنفال 8﴾ 
20. اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔ .21 اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے۔ 22. کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔ 23. اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔ 24. مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے۔ 25. اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ 26. اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔ 27. اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔ 28. اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے۔

تفسیر آیات

23۔ اور حدیث جریج سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے بلانے پر انسان کو نفلی نماز توڑ کر فوراً حاضر ہوجانا چاہئے۔(تیسیر القرآن)

24۔نفاق کی روش سے انسان کو بچانے کے لیے اگر کوئی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ دو عقیدے انسان کے ذہن نشین ہوجائیں۔ ایک یہ کہ معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جو دلوں کے حال تک جانتا ہے اور ایسا رازدان ہے کہ آدمی اپنے دل میں جو نیتیں، جو خواہشیں، جو اغراض و مقاصد اور جو خیالات چھپا کر رکھتا ہے وہ بھی اس پر عیاں ہیں۔ دوسرے یہ کہ جانا بہرحال خدا کے سامنے ہے۔ اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ یہ وہ عقیدے ہیں کہ جتنے زیادہ پختہ ہوں گے اتنا ہی انسان نفاق سے دور رہے گا۔ اسی لیے منافقت کے خلاف وعظ و نصیحت کے سلسلہ میں قرآن ان دو عقیدوں کا ذکر بار بار کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

25۔ (بلکہ ان گناہگاروں کے علاوہ ان لوگوں پر بھی اس کا وبال پڑے گا جنہوں نے باوجود کسی حدتک قدرت رکھنے کے ان گناہوں کو روکنے کی کوشش نہ کی،اور خود بھی اسی طرح جرم مداہنت کےمرتکب ہوئے اور شریک جرم رہے) اسلام صالح و پاکیزہ صرف افراد ہی کو نہیں، معاشرہ(سوسائٹی )کو بھی دیکھنا چاہتاہے،اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ہرفردِ ملت نہ صرف بجائے خود صالح ہو، بلکہ بقدر وسعت دوسروں کا بھی مصلح بنارہے۔جرم و مجرم سے مداہنت اور بے محل چشم پوشی اسی لئے اسلام میں بجائے خود ایک جرم ہے۔(تفسیر ماجدی)

27۔ تمام حقوق اورذمہ داریاں ، خواہ وہ کسی عہد و اقرار کے تحت عائد ہوئی ہوں یا معروف فطری قانون کے تحت سمجھی یا مانی جاتی ہوں، امانت کے مفہوم میں داخل ہیں اوران کی خلاف ورزی خیانت ہے خدا اور رسول سے بے وفائی یا لوگوں کے حقوق میں خیانت کی تہ میں مال اور اولاد کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہوتی ہے اور یہ محبت نفاق کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


چوتھا رکوع

 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ﴿29﴾ وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ ﴿30﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿31﴾ وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿32﴾ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ﴿33﴾ وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿34﴾ وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ﴿35﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ  ﴿36﴾ لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿37ع الأنفال 8﴾
29. مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے۔ 30. اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔ 31. اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔ 32. اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔ 33. اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے۔ 34. اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے۔ 35. اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو۔ 36. جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔ 37. تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔

تفسیر آیات

29۔ تقویٰ کے ثمرات:۔  یعنی اگر تم اس بات سے ڈرتے رہے کہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اللہ کی رضا کے خلاف ہوتو اللہ تمہارے اندر ایسا نور بصیرت یا قوت تمیز پیداکردےگا جو زندگی کے ہر موڑ پر تمہاری رہنمائی کرے گا کہ فلاں کام اللہ کی رضا کے مطابق ہے اور فلاں اس کی مرضی کے خلاف ہے یعنی جو لوگ ایمان لانے کے بعد تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں تین قسم کے انعامات سے نوازتا ہے ۔ایک تو ان میں حق و باطل میں تمیز کرنے کی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے ۔دوسرے ان کی برائیوں کو مٹادیا جاتاہے اور تیسرے ان کے اکثر و بیشتر گناہ معاف ہی کردئیے جاتے ہیں اور تقویٰ کے یہ ثمرات محض تقویٰ کی بناپر نہیں بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لامحدود فضل کا مالک ہے۔(تیسیر القرآن)

ـــــ فُرْقَان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو حق و باطل کے درمیان امتیاز کردے۔یہاں یہ لفظ اسلام اور مسلمانوں کے کامل غلبہ کے لیے استعمال ہواہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

-فتنۃ۔ آزمائش ،ذریعۂ امتحان : مال و اولاد دونوں میں یہ علامت رکھ دی گئی ہے کہ یہ چیزیں ذریعہ راحتِ ابدی و سرمدی کا بھی ہوسکتی ہیں، اور انتہائی اسباب عذاب کے بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔۔۔ایک زرومال ہمارے پیمبرؐ کے سچے رفیقوں طلحہؓ و زبیرؓ ،عبدالرحمن بن عوفؓ ،سعد بن ابی وقاصؓ اور خود بعض پیمبروں سلیمان ؑ کا اور داؤدؑ کا ہواہے،اور ایک زرمال قارون کا بھی ہواہے ، جس نے بدنصیب کو کہا ں سے کہا ں پہونچادیا؟؟اور یہی حال اولاد یاقوم کی کثرت تعداد کا بھی ہواہے۔۔۔۔ فُرْقَانًا ۔فرقان کی تشریح اہل تفسیر نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق کی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کی تعبیر اس اندرونی نورسے کی جائے ،جو ہر مومن میں تقویٰ اختیار کرنے کے بعد پیدا ہوجاتاہے،اور جو حق وباطل کے درمیان خود ہی فرق و امتیاز کرنے لگتاہے۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)

31۔(اورکلامِ حق ہرگز نہیں)یہ کہنے والا کون تھا؟ اہل تاریخ و سیر کا بیان ہے کہ یہ کہنے والا نضر بن حارث بن کلدہ تھا، جس کا شمار زنادقۂ قریش میں تھا، اپنے زمانہ کا بڑا جہاں دیدہ اور روشن خیال،ایران جیسے مہذب و متمدن ملک کی سیر کئے ہوئے ۔جیسے چندروز قبل کا "ولایت پلٹ"ہندوستانی!۔۔۔  اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔وہی پرانے قومی افسانے،اکثر منظوم ،جن کا دستور یونان، ایران،ہندوستان وغیرہ ہرقدیم ملک میں تھا، اور جن کے نمونے یونان کے ایلیڈ ،ایران کے شاہنامہ اور ہندوستان کی مہابھارت میں آج بھی موجود ہیں۔(تفسیر ماجدی)

33۔(گووہ استغفارایمان صحیح کی عام موجودگی کی بناپر آخرت میں نجات کیلئے کافی نہ ہو)یہاں یہ بتلایا گیا کہ جس طرح کا خارقِ عادت عذاب یہ لوگ طلب کررہے ہیں، اس کی راہ میں دو دو مانع موجود ہیں:(1)یہ کہ رسول اللہؐ ان کے درمیان زندہ سلامت موجود ہیں۔(2)یہ کہ باوجود ان کے کفر و شرک و معصیت شعاری کے، اللہ سے ان کا استغفار کسی درجہ میں باقی ہے،چنانچہ طواف کے وقت، یہ اس وقت بھی غفرانک غفرانک کہتے جاتے تھے۔(تفسیر ماجدی)

35۔۔۔فقہاء مفسرین نے آج سے صدیوں قبل لکھ دیاہے کہ اس میں ان جاہل صوفیہ کیلئے وعید ہے جو وجد و حال لاکر اُچھلتے کودتے تالیاں بجاتے اور ناچتے ہیں ،اور اسے کمال روحانی سمجھتے ہیں !یہ صاف تشبیہ اعمال مشرکین کے ساتھ ہے۔(تفسیر ماجدی)


پانچواں رکوع

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿38﴾ وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿39﴾ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ﴿40﴾ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿41﴾ اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ  ﴿42﴾ اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿43﴾ وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ ۧ ﴿44ع الأنفال 8﴾
38. (اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)۔ 39. اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ 40. اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔ 41. اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 42. جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔ 43. اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔ 44. اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے۔

تفسیر آیات

38۔(اور اب پچھلے گناہوں پر باز پرس نہ ہوگی)فقہاء نے لکھا ہے کہ مواخذۂ حقوق ِ عباد (مثلاً قرضہ،قصاص وغیرہ)کافر حربی سے تو ساقط ہوجائیں گے،اس لئے کہ وہ حالتِ کفر میں ،ہماری شریعت کا معاملات میں پابند نہ تھا، لیکن کافر ذمی پر اسلام لانے کے بعد بھی باقی رہیں گے،اس لئے کہ وہ ذمہ دارتھا،باقی حقوق اللہ سے متعلق دونوں کے سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔(تفسیرماجدی)

39۔ فتنہ سے مراد کفر و شرک اور دین سے مراد دین اسلام (عبداللہ بن عباس) فتنہ سے مراد اس جگہ وہ ایذا اور عذاب و مصیبت ہے جس کا سلسلہ کفارِ مکہ سے ہمیشہ جاری رہاتھا(عبدا للہ بن عمر) مکہ میں بھی اور مدینہ میں بھی)(معارف القرآن)

- دین کا معنی غلبہ ،بالادستی اور قوت و اقتدار ہے۔یعنی تم جنگ جاری رکھو تاکہ حکومت و فرمانروائی اللہ تعالیٰ کی ہوجائے۔عدل و انصاف اور حریت و مساوات کا دور دورہ ہواور کسی پر بیجا تشدد اور زیادتی کرکے اس کو اس کے عقائد سے روکا نہ جاسکے (تفسیر مظہری)(ضیاء القرآن)

- فتنہ(Persecution) چنانچہ اس پورے علاقہ سے کفار ِ قریش کا تسلط بھی ختم کردیا گیااور پھر بتدریج یہو د و نصاریٰ بھی یہاں سے نکال دئیے گئے۔(تدبر قرآن)

۔ یہاں پھر مسلمانوں کی جنگ کے اسی ایک مقصد کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے سورة بقرۃ آیت 193 میں بیان کیا گیا تھا۔ اس مقصد کا سلبی جزء یہ ہے کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور ایجابی جزء یہ ہے کہ دین بالکل اللہ کے لیے ہوجائے بس یہی ایک اخلاقی مقصد ایسا ہے جس کے لیے لڑنا اہل ایمان کے لیے جائز بلکہ فرض ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے مقصد کی لڑائی جائز نہیں ہے اور نہ اہل ایمان کو زیبا ہے کہ اس میں کسی طرح حصہ لیں۔ (تشریح کے یے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، حواشی 204 و 205) (تفہیم القرآن)

41۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کا اور آپ کے قرابت داروں کا حصہ ختم ہوا اور باقی صرف تین مصرف رہ گئے اور بعض کا خیال ہے کہ آپ کا حصہ موجودہ امیر المؤمنین کو اور قرابت داروں کا حصہ خاندان نبوت کے محتاجوں کیلئے ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ لینا ان کیلئے ممنوع ہے اور ہمارے خیال میں معاملہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حالات میں بہت تغیر رونما ہوچکاہے اور اسی لحاظ سے ان مسائل میں بھی شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق تبدیلی ہوگی۔ مثلاًدورنبوی میں صحابہ رضاکارانہ یا فرض سمجھ کر جہاد پر نکلتے ،سواری اور ہتھیاروں کا اہتمام خود کرتے تھے جس کے عوض انہیں حصہ ملتا تھامگر آج فوج کا محکمہ ہی الگ ہوتاہے اور اس کی ابتدا دورفاروقی سے ہی ہوگئی تھی۔یہ فوجی یا مجاہدین تنخواہ دارہوتے ہیں۔اسلحہ اور سواری کا اہتمام حکومت کے ذمہ ہوتاہے۔لہذا اب عام مسلمانوں پر جہاد فرض نہ رہا اور تنخواہ کی وجہ سے مجاہدین میں ایسی تقسیم کا قصہ بھی ختم ہوا۔ امیر کے حصہ کا بھی کیونکہ وہ خود سرکاری خزانہ کا تنخواہ دارہوتاہے اور فقراء وغیرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا ویسے ہی ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہوتاہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگوں کے طریق کار کا نقشہ یکسر بدل چکاہے۔۔۔۔۔ غزوہ بدر یوم الفرقان کیسےتھا؟ یہ یوم الفرقان اس لحاظ سے تھا کہ اس معرکہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ حق کس فریق کے ساتھ ہے اور باطل پر کونسا فریق ہے اور یہ جمعۃ المبارک کا دن 17 رمضان المبارک 2ہجری تھا۔رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن اپنے بندے محمدؐ پر کیا نازل کیا تھا؟تواس سے مراد بارش بھی ہوسکتی ہے اور فرشتے بھی اور تائید الٰہی کی دوسری صورتیں بھی جن میں اکثر کا ذکر گزرچکاہے اور کچھ آگے مذکور ہیں اور سب چیزیں اور اسباب اس لیے پیدا ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب پر پوری قدرت رکھتاہے۔(تیسیر القرآن)

ـــــ مَا غَنِمْتُمْ۔غنیمت کے لفظی معنی عام و وسیع ہیں،یعنی ہروہ شے جو انسان کو شش سے حاصل کرے۔۔۔لیکن اصطلاح ِ فقہ میں اس مال کو کہتے ہیں جو کافروں سے بہ زور قوت حالت جنگ میں حاصل ہو۔۔۔۔ کل مال غنیمت کا 5/4 حصہ تو غازیوں میں تقسیم ہوجائے گا اور باقی 5/1 اللہ کی نذرہوگا، یعنی خالص رضائے الٰہی کے کاموں میں اور اشاعت و اعانتِ دین میں صرف ہوگا۔۔۔ عَبْدِنَا ۔"عبد"سے عبدِ کامل ،رسول اللہؐ کا مراد ہونا ظاہرہی ہے۔خوب خیال کرکے دیکھ لیا جائے کہ قرآن مجید ان شاعرانہ تعبیرات سے کتنا الگ رہتاہے ،جو بعد کو شاعروں،واعظوں اور غیرمحتاط علماء نے رسول اللہؐ کیلئے بہ طور اسماء صفاتی گڑھ لیں،قرآن جہاں بھی کمالِ تقرب وکمال ِ خصوصیت ظاہر کرنا چاہتاہے۔"عبد"ہی کا لفظ لاتاہے،مثلاً نزول قرآن مجید کے سلسلے میں، اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یا واقعۂ معراج کے سلسلے میں، سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ یا پھر فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى اور بعض محققین تو یہ لکھ گئے ہیں کہ رسول اللہؐ کی عبودیت ،آپؐ کی رسالت سے افضل ہے، اس لئے کہ عبودیت ہی تو آپؐ کو خلق سے حق کی طرف لے گئی ،اور رسالت میں صورت اس کے برعکس ہے،اور اسی لئے کلمۂ شہادت میں بھی آپؐ کے عبد ہونے کو آپ کے رسول ہونے پر مقدم رکھا گیاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔رہی یہ چیزیں جو اسے سر را ہے حاصل ہوجاتی ہیں تو یہ زوائد ہیں۔ حاصل ہوجائیں تو غنیمت، نہ حاصل ہوں تو نہ ان کی طمع کرے نہ غم۔ قرآن نے یہ تصور دے کر اس جاہلی تصور کی اصلاح کی ہے جس میں اہل عرب اب تک مبتلا رہے تھے کہ وہ جنگ کا اصلی حاصل لوٹ کے مال کو سمجھتے تھے اور اسی چیز سے وہ اس کے نفع و نقصان کا اندازہ لگاتے تھے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ؓ نے جب اس خمس میں سے ایک خادم کا سوال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور گھر کے کاموں میں اپنی محنت و مشقت اور کمزوری کا سبب بھی ظاہر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ عذر فرما کر ان کو دینے سے انکار کردیا کہ میرے سامنے تمہاری ضرورت سے زیادہ اہل صفہ صحابہ کرام کی ضرورت ہے جو انتہائی فقر و افلاس میں مبتلا ہیں ان کو چھوڑ کر میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ (صحیح بخاری و مسلم)۔۔۔۔ اس سے واضح ہوگیا کہ ہر ایک قسم کا الگ حق نہیں تھا ورنہ ذوی القربی کے حق میں فاطمہ زہرا ؓ سے کون مقدم ہوتا۔ بلکہ یہ سب بیان مصارف ہے بیان استحقاق نہیں۔ (معارف القرآن)

ــــ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ کس طرح اس نے تمہیں ٹھیک وقت پر قریش کے مقابلہ کے لیے وادئ  بدرمیں پہنچادیا۔کہاں تم، کہاں قریش اور کہاں تجارتی قافلہ!لیکن اللہ نے دشمن کے تمام ارادے تاڑ لیے اوراس کو ہلاک کرنے کی وہ سکیم پوری کرکے دکھا دی جو اس نے طے کرلی تھی۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ) 

42۔ میدان کا طول 5 میل اور عرض (2/1) 2میل تھا،مقام بدر سمندر (بحر احمر)سے اونٹ پر، ایک منزل کی راہ پرتھا،مدینہ سے چار منزل اور مکہ سے آٹھ منزل کی راہ پر،پانی کے چشمہ کی موجودگی نے اس کی خاص اہمیت بڑھا رکھی تھی،کیا بہ حیثیت تجارتی منڈی کے اور کیا بہ حیثیت جنگ کے، یہاں سال میں ایک بار عظیم الشان میلہ بھی لگتاتھا۔(تفسیر ماجدی)

۔ یعنی ثابت ہوجائے کہ جو زندہ رہا اسے زندہ ہی رہنا چاہیے تھا اور جو ہلاک ہوا اسے ہلاک ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہاں زندہ رہنے والے اور ہلاک ہونے والے سے مراد افراد نہیں ہیں بلکہ اسلام اور جاہلیت ہیں۔ (تفہیم القرآن)

۔   نوٹ: اموالِ غنیمت کی تقسیم : تدبرِ قرآن صفحہ 481، 482 برائے مطالعہ  (تدبرِ قرآن)

43۔کفار کی فوج تعداد میں ہرچند بہت زیادہ تھی لیکن معنوی اور اخلاقی اعتبار سے اس کی حیثیت بہت کم تھی۔ ان کی یہی معنوی قلت رویا میں قلت تعداد کی شکل میں ظاہر ہوئی۔۔۔۔ رویا کا یہی پہلو ہے جس کے سبب سے اس میں تاویل کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس کی تاویل میں کبھی کبھی خود نبی کو بھی وقتی طور پر، کوئی تردد پیش آجاتا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کہ نبی کی رویا کبھی کبھی خلاف واقعہ ہوتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

44۔"یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ"(3: 13)اور یہ رسول اللہؐ کی ایک نہایت ماہرانہ جنگی تدبیر تھی کہ آپ نے صحابہ کی صف آرائی خالی مربع (Hollow Square)کی شکل میں کی تھی جس کی وجہ سے کافروں کو مسلمانوں کی تعداد فی الواقع دوگنا نظر آنے لگی تھی۔(تیسیر القرآن)

۔ ابوجہل نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کی تعداد تو اس سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی جن کی خوراک ایک اونٹ ہو۔ عرب میں کسی لشکر کی تعداد معلوم کرنے کے لئے اس سے اندازہ قائم کیا جاتا تھا کہ کتنے جانور ان کی خوراک کے لئے ذبح ہوتے ہیں، ایک اونٹ سو آدمیوں کی خوراک سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس میدان بدر میں وہاں کے کچھ لوگوں سے قریش مکہ کے لشکر کا بتہ چلانے کے لئے پوچھا تھا کہ ان کے لشکر میں روزانہ کتنے اونٹ ذبح کئے جاتے ہیں تو آپ کو دس اونٹ روزانہ بتلائے گئے جس سے آپ نے ایک ہزار لشکر کا تخمینہ قائم فرمایا۔  (معارف القرآن)


چھٹا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ  ﴿45﴾ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ  ﴿46﴾ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ ﴿47﴾ وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠   ۧ ۧ ﴿48ع الأنفال 8﴾
45. مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو۔ 46. اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے۔ 47. اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ 48. اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔

تفسیر آیات

45 ۔  قرآن کریم نے اس پرخطر موقع میں مسلمانوں کو ذکر اللہ کی تلقین فرمائی اور وہ بھی کثیرا کی تاکید کے ساتھ۔۔۔۔یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پورے قرآن میں ذکر اللہ کے سوا کسی عبادت کو کثرت سے کرنے کا حکم نہیں صلوة کثیرا  صیاما کثیرا کہیں مذکور نہیں۔ سبب یہ ہے کہ ذکر اللہ ایک ایسی آسان عبادت ہے کہ اس میں نہ کوئی بڑا وقت خرچ ہوتا ہے نہ محنت نہ کسی دوسرے کام میں اس سے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس پر مزید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ذکر اللہ کے لئے کوئی شرط اور پابندی، وضو، طہارت، لباس اور قبلہ وغیرہ کی بھی نہیں لگائی ہر شخص ہر حال میں باوضو، بےوضو، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، کرسکتا ہے۔(معارف القرآن)

46۔ لشکر کفار کا شان و شوکت کا مظاہرہ : ۔ ۔۔راستہ میں اسے ابوسفیان کا یہ پیغام مل بھی گیا کہ قافلہ خطرہ سے بچ نکلاہے لہذا تم واپس آجاؤ۔لیکن ابوجہل نے غرور سے کہا ۔"اب ہم اس وقت تک  نہیں جائیں گے جب تک بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلسِ طرب و نشاط منعقد نہ کرلیں ۔وہاں گانے بجانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں گی ۔ہم وہاں شراب پئیں گے ۔مزے اڑائیں گے اور تین دن تک اونٹ ذبح کرکے قبائل عرب کی ضیافت کا اہتمام کریں گے تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کیلئے یادگار رہیں اور ان مٹھی بھر مسلمانوں پر ہمارا ایسا رعب طاری ہوکہ پھر کبھی ہمارے مقابلہ کی جرأت نہ کرسکیں"۔گویااس وقت تک ابوجہل کا ارادہ صرف اپنی شان و شوکت جتلانے اور مسلمانوں پر رعب طاری کرنے کا تھا ،لڑائی کا نہ تھا۔)تیسیر القرآن(

47۔ بَطَرًا ۔ اللہ کی طرف سے جب نعمتوں کا فیضان ہونے لگتاہے،تو اب بندہ کیلئے دوصورتیں ہیں، ایک یہ کہ انہیں اللہ کی جانب منسوب کرتارہے،اور اس کی رضا جوئی میں انہیں لگائے،اس کا نام شکر ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ ان سے اپنے معاصرین کے مقابلہ میں فخر کا کام لینے لگے ،یہی "بطر"ہے۔۔۔)تفسیر ماجدی(

48۔ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ۔ یعنی اپنی قوت و حشمت کو دیکھ کر وسوسۂ شیطانی سے یہ خیال سردارانِ قریش کے دل میں گزرا۔سیرۃ ابن ہشام میں دوخوابوں کا ذکر ہے ،جو مکہ میں عین اسی زمانہ میں قریش کی آنے والی مصیبت وتباہی سے متعلق دیکھے گئے تھے،اور ان میں سے ایک کی دیکھنے والی رسول اللہؐؐ کی پھوپھی عاتکہ بن عبدالمطلب تھیں،اور دوسرےکے دیکھنے والے جُہیم بن صالت ہاشمی .ابوجہل نے ان دونوں خوابوں کی خوب ہنسی اُڑائی ،اور ایک موقع پر دعوےٰ کے ساتھ کہا کہ اگر جنگ ہوئی تو کل دیکھ لینا کہ کون کس کو قتل کرتاہے،سیعلم غدا من المقتول ان نحن  التقینا۔۔۔حسن بصریؒ تابعی اور اصم ؒتابعی اور دوسرے محققین سے بھی منقول ہے کہ شیطان مجسم ہوکر سامنے نہیں آیاتھا،بلکہ اُس نے وسوسہ اندازی ہی کی تھی۔)تفسیر ماجدی(

۔ شیطان کے متعلق ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ یہ جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی یہاں ہمارا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ اس سے اشارہ یہود کی طرف ہے۔۔۔۔۔۔مستقبل کے سیاسی اندیشوں کے علاوہ وہ خود اپنے صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر بھی ڈرتے تھے کہ مبادا یہ وہی پیغمبر ہوں جس کا ذکر ان کے ہاں پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ وہ اپنی قوم سے باہر کسی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے کسی قیمت پر بھی تیار نہیں تھے۔ لیکن اپنی بزدلی کے سبب سے وہ آپ کے خلاف براہ راست کوئی اقدام کرنے کی جرات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ (تدبرِ قرآن)


ساتواں رکوع

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴿49﴾ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ﴿50﴾ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ  ﴿51﴾ كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿52﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ  ﴿53﴾ كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ﴿54﴾ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ  ﴿55﴾ اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ ﴿56﴾ فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ ﴿57﴾ وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿58ع الأنفال 8﴾
49. اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے۔ 50. اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو۔ 51. یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ 52. جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نےان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بےشک خدا زبردست اور سخت عذاب دینے والا ہے۔ 53. یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے۔ 54. جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے۔ 55. جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے۔ 56. جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے۔ 57. اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں وہ ان کو دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو (اس سے) عبرت ہو۔ 58. اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر آیات

49۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ مرض جب نفاق کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد حسد ہوتا ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کے بعد اب یہ منافقین اور حاسدین کی حوصلہ شکنیوں کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے۔ ہیں تو مٹھی بھر، مقابلہ کرنے اٹھے ہیں قریش کی دل با دل فوج سے۔ (تدبرِ قرآن)

54۔ان آیات میں آل فرعون کا ذکر دومرتبہ آیاہے۔ یہ تکرار نہیں بلکہ دوباتیں بتائی گئی ہیں۔پہلے یہ بتایا کہ جنگ بدر اسی نوع کی ایک تنبیہ تھی جس نوع کی تنبیہات فرعون اوراور دوسری قوموں کو کی گئیں۔ پھر یہ بتایا ہے کہ اگر اس تنبیہ سے قریش نے فائدہ نہ اٹھایا تو بلآخر ان پر بھی اسی طرح کا فیصلہ کن عذاب آجائے گا جس طرح کا عذاب فرعون اور دوسری قوموں پر آیا۔اس سے معلوم ہوا کہ جنگ بدر کے بعد قریش کے لیے اس بات کا موقع  باقی رہاکہ وہ اپنے آپ کو بدل کر اور اصلاح کرکے اللہ کی نعمت کے استحقاق کو بحال کرسکتے تھے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

56- میثاق مدینہ اور اس کی دفعات اور یہود قبائل کا اسے باری باری تسلیم کرنا:۔   انہی بدترین جانوروں میں بالخصوص وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے عہد کو ہربار توڑتے رہتے ہیں۔یہاں ان لوگوں سے مراد مدینہ کے یہود ہیں۔۔۔۔یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے۔تینوں نے اس معاہدہ کو باری باری تسلیم کرلیا ۔لیکن اپنی موروثی عادت کے مطابق بارہااس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے اوس و خزرج کے درمیان دوبارہ عداوت ڈالنے کی کوششیں کیں۔ منافقوں کے ساتھ مل کر خفیہ اور معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہے ۔ایک مسلمان عورت بنو قینقاع کے بازار میں ایک سنار کے ہاں گئی تو اسے ان لوگوں نے ازراہ شرارت ننگا کردیا۔جس پر فریقین میں بلوہ ہوگیا۔غزوۂ بدر کے بعد کعب بن اشرف خود مکہ گیا اور مشرکین مکہ کو مسلمانوں کیخلاف جنگ پر بھڑکایا۔ایک دفعہ یہود نے آپؐ کو چھت سے پتھر گراکر ہلاک کرنا چاہا۔جنگ خیبر کے موقع پر آپ کو دعوت میں بکری کا گوشت کھلانے کی کوشش کی جس میں زہر ملا ہواتھا ۔غرض ان کی بد عہدیاں اور عہد شکنیاں اور معاندانہ سرگرمیاں اتنی زیادہ ہیں جن کا بیان یہاں ممکن نہیں۔(تیسیر القرآن)

58۔ اس کی مثال یہ واقعہ ہے کہ سیدنا امیر معایہؓ اور روم میں میعادی معاہدہ تھا ،دشمن کی حرکات و سکنات دیکھ کر سیدنا امیر معاویہؓ نے بھی روم کی سرحد پر فوجیں جمع کرنا شروع  کردیں اور اس انتظار میں رہے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہوتے ہی روم پر حملہ کردیں گے۔یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا عنبسہ آپ کے پاس پہنچے اور انہیں خبردار کیا کہ آپ کتاب و سنت کے احکام کے مطابق ایسا نہیں کرسکتے ۔الا یہ کہ آپ پہلے دشمن کو اپنے ارادہ سے مطلع کردیں چنانچہ سیدنا معاویہؓ نے فوجیں پیچھے ہٹالیں۔(تیسیر القرآن)


آ ٹھواں رکوع

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ ﴿59﴾ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ﴿60﴾ وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿61﴾ وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ  ﴿62﴾ وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴿63﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿64ع الأنفال 8﴾
59. اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔ 60. اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا۔ 61. اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔ 62. اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔ 63. اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ 64. اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

تفسیر آیات

60۔اور چونکہ جہاد کا اصل مقصد اسلام اور مسلمانوں کا دفاع ہے اور دفاع ہر زمانہ اور ہر قوم کا جدا ہوتاہے اس لئے آنحضرتؐ نے فرمایا جاھدو المشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم (رواہ ابوداؤد و نسائی والدارمی عن انس)(معارف القرآن)

-ہرموقع پر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پرتوکل کی تعلیم دینے والا قرآن مسلمانوں کو ہر طرح کے سامانِ جنگ سے لیس ہونے کی تاکید کررہاہے تاکہ کوئی کوتاہ اندیش توکل کو بے عملی کا مترادف نہ سمجھ لے۔(ضیاء القرآن)

- مِنْ قُوَّةٍ۔قوۃ کا لفظ عام ہے ،عددی قوت،سامانِ جنگ کی قوت،آلات ِ حرب کی قوت، سب کچھ اس کے اندر آگیا ،یہاں تک کہ بعض فقہاء کے بہ قول بڑھے ہوئے ناخن بھی!۔اور حدیث میں قوۃ کی تفسیر رمی سے تو تصریح کے ساتھ آئی ہے۔اس وقت "رمی"کا مصداق صرف تیر تھے،اور اب اس کا اطلاق توپ و بندوق کی قسم کے ہر آلہ پر ہوتاہے۔۔۔صاحبِ روح المعانی نے آیت کے تحت میں بندوق کا ذکر تصریح کے ساتھ کیا ہے،اور اگر آج ہوتے تو مشین گن ،اور طیارہ اور ٹینک،جنگی جہاز اور ہائیڈرو جن بم اور ایٹم بم وغیرہ سب کے نام عجب نہیں کہ لکھ جاتے اور ایسی ہی تصریح رشید رضا کے ہاں بھی ملتی ہے۔۔۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت کو ہمہ وقتی تیاری دشمنوں سے مقابلہ کی رکھنا چاہئے،اور یہ بھی بالکل ظاہرہے کہ یہ سارے سازوسامان عملاً ممکن کیونکرہیں،جب تک خود مسلمانوں کے پاس انجینئر اور دوسرے ماہرین فن نہ موجود ہوں۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ ان آیتوں میں جو تدابیر حرب و سیاست بتائی گئی ہیں، ان سے صاف دلالت اس امر پرہورہی ہے کہ یہ سیاسی تدبیریں بڑے سے بڑے کمالاتِ باطنی کے بھی منافی نہیں جیساکہ غالی و ناقص صوفیہ نے خیال کررکھاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ رباط الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو خاص جنگ کے لیے تربیت دیے جائیں اور اسی غرض کے لیے محفوظ اور تیار رکھے جائیں۔ جنگ میں ہر قسم کے گھوڑے کام نہیں آتے۔ (تدبرِ قرآن)

62۔۔۔ بِنَصْرِهٖ۔کوئی خاص نصرت غیبی ،مثلاً نزول ملائکہ۔۔۔(تفسیر ماجدی)

۔ معلوم ہوا کہ توکل صرف مسجد کی چار دیواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میدان جنگ میں بھی اہل ایمان کی قوت اور بین الاقوامی معاملات میں بھی اہل ایمان کی پشت پناہ ہے۔ (تدبرِ قرآن)

ــ یعنی اگر تمہارے دشمن کوئی مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کا رجحان ظاہر کریں تو تم بھی مصالحت سے گریز نہ کرنا۔اگر اس مصالحت کے پردے میں انہوں نے کوئی چال چلنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے شامل حال ہوگی۔اسی ہدایت کی روشنی میں آنحضرتؐ نے قریش کے ساتھ حدیبیہ کی صلح کی۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

64۔ مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کی ہدایت :  یہ آیت تمہید ہے اس حکم کی جو بعد والی آیت میں مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے نبی ﷺ کو دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے اللہ کی مدد اور ان تھوڑے سے مسلمانوں ہی کی رفاقت کافی ہے، تو تم کفار کی کثرت اور اپنے ساتھیوں کی قلت کی فکر نہ کرو۔ گویا وہی بات جو اوپر فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ-هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے، یہاں دوسرے اسلوب سے کہی گئی ہے۔ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ کا عطف، اللہ پر ماننے سے شرک کا پہلو پیدا ہوتا لیکن یہ خیال کلام کے سیاق وسباق پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)


نواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ ﴿65﴾ اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ﴿66﴾ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴿67﴾ لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴿68﴾ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ ۧ ﴿69ع الأنفال 8﴾
65. اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔ 66. اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے۔ 67. پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔ 68. اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔ 69. تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

65۔ قوتِ اخلاقی (Morale) کی بجائے سمجھ بوجھ (Understanding)۔۔۔۔۔۔ مقصد کا صحیح شعور اور خوب سوچ سمجھ کر جان کی بازی لگانے والا۔۔۔لیکن یہ نسبت صرف سمجھ بوجھ  سے قائم نہیں ہوتی  بلکہ اس کے ساتھ صبر کی صفت بھی ایک لازمی شرط ہے  )تفہیم القرآن(

66- مسلمانوں میں بعد میں کمزوری کی وجہ سے پہلے حکم کی منسوخی نہیں بلکہ حالات ہیں:۔  اگرچہ یہ آیت اور اس سے پہلی آیت ایک ساتھ رکھی گئی ہیں مگر ان دونوں کے زمانہ نزول میں کافی مدت کا فرق ہے اور انہیں صرف مضمون کی مناسبت سے اکٹھا رکھا گیا ہے۔پہلی آیت کا زنامہ نزول تو غزوہ بدر کے بعد کا ہے۔جبکہ اس سورۂ کا بیشتر حصہ نازل ہوچکاتھا۔اور دوسری آیت کے زمانہ نزول کے متعلق حتمی طورپر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔تاہم یہ غزوۂ حنین اور اس کے مابعد کا زمانہ معلوم ہوتاہے۔۔۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ یا ساقط العمل ہوگیاہے۔۔۔ایک جنگ میں ایک ہزار مسلمانوں نے (80)اسی ہزار کافروں کا مقابلہ کیا اور جنگ موتہ کے موقع پر تین ہزار مسلمان ایک لاکھ کافروں کے مقابلہ میں ڈٹے رہے اور یہ نسبت ایک اور دس کی نسبت سے بھی زیادہ بنتی ہے۔)تیسیر القرآن(

- (خواہ طبعاً آمادہ ہوں یا نہ ہوں!)حرّض کے لفظ سے اشارہ ادھر ہورہاہے کہ مسلمان سب کے سب اور ہر وقت آمادۂ قتال و جنگجو نہ تھے، جیساکہ مسیحی مصنفین نے ایک الزام تراش رکھا ہے،بلکہ انہیں قتال پر آمادہ کرنے اور اس کی ترغیب دینے کی ضرورت تھی۔)تفسیرماجدی(

67۔ مال غنیمت کے متعلق پچھلے تمام انبیاء کی شریعتوں میں قانون یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس سے نفع اٹھانا اور استعمال کرنا حلال نہیں تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ پورا مال غنیمت جمع کرکے کسی میدان میں رکھ دیا جائے اور دستور الہی یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس سارے مال کو جلا کر خاک کردیتی۔ یہی علامت اس جہاد کے مقبول ہونے کی سمجھی جاتی تھی۔ اگر مال غنیمت کو جلانے کے لئے آسمانی آگ نہ آئے تو یہ اس کی علامت ہوتی ہے کہ جہاد میں کوئی کوتاہی رہی ہے جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔۔۔۔۔ لیکن اگر سورة انفال کی آیت کے الفاظ اور سورة محمد کے الفاظ میں غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں۔ بلکہ دو مختلف حالتوں کے دو حکم ہیں۔ سورة انفال کی آیت میں بھی اصل حکم اثخان فی الارض یعنی قتل کے ذریعہ کافروں کی قوت توڑ دینا۔ اور سورة محمد کی آیت میں بھی جو من و فداء (یعنی قیدیوں کو بلا معاوضہ یا معاوضہ لے کر آزاد کرنے) کا اختیار دیا گیا ہے ان سے پہلے اثخان فی الارض کا بیان ہوچکا ہے یعنی خون ریزی کے ذریعہ کفر کی قوت ٹوٹ جانے کے بعد یہ بھی اختیار ہے کہ قیدیوں کو فدیہ پر یا بلا فدیہ آزاد کردیا جائے۔۔۔۔۔امام اعظم ابوحنیفہ کی روایت سیر کبیر کا بھی یہی منشاء ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے حالات اور ضرورت پر نظر کرکے دونوں قسم کے احکام دیئے جاسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔۔۔۔۔ حضرت عباس کی اس گفتگو پر رسول اللہ ﷺ نے آیت مذکورہ میں آیا ہوا وعدہ بھی ان کو بتلا دیا کہ اگر آپ نے اسلام قبول کرلیا اور اخلاص کے ساتھ مومن ہوگئے تو جو کچھ مال فدیہ میں خرچ کیا ہے اس سے بہتر اللہ آپ کو عطا فرمادیں گے۔ چنانچہ حضرت عباس اظہار اسلام کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ میں تو اس وعدہ کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ مجھ سے بیس اوقیہ سونا فدیہ میں لیا گیا تھا، اس وقت میرے بیس غلام مختلف جگہوں میں تجارت کا کاروبار کر رہے ہیں اور کسی کا کاروبار بیس ہزار درہم سے کم کا نہیں ہے۔ اور اس پر مزید یہ انعام ہے کہ مجھے حجاج کو آب زمزم پلانے کی خدمت مل گئی ہے ۔(معارف القرآن)

- توضیح مرام کیلئے مولانا مودودی کی یہ عبارت بہت مفید ہے۔ اسی آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں۔"میرے نزدیک اس مقام کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے سورۂ محمدؐ میں جنگ کے متعلق جوابتدائی ہدایات دی گئی تھیں ان میں یہ اشارہ ہواتھا کہ فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا۔اس ارشاد میں جنگی قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کی اجازت تو دے دی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی گئی تھی کہ پہلے دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچل دیا جائے پھر قیدی پکڑنے کی فکر کی جائے۔اس فرمان کی روسے مسلمانوں نے بدر میں جو قیدی گرفتار کیے اور اس کے بعد ان سے جو فدیہ وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق مگر غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچل دینے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی ۔جنگ میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے میں لگ گیا اور بہت کم آدمیوں نے دشمن کا کچھ دور تک تعاقب کیا حالانکہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہوگیا ہوتا۔اسی پر اللہ تعالیٰ عتاب فرمارہاہے۔اور یہ عتاب نبی ؐ پر نہیں بلکہ مسلمانوں پر ہے۔(بحوالہ:تفہیم القرآن جلددوم)(ضیاء القرآن)

۔ پھر سیرت ابن ہشام میں یہ روایت نظر سے گزری کہ جس وقت مجاہدین اسلام مال غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے میں لگے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذ کے چہرے پر کچھ کراہت کے آثار ہیں۔ حضور نے ان سے دریافت فرمایا کہ ”اے سعد، معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی یہ کاروائی تمہیں پسند نہیں آرہی ہے“۔ انہوں نے عرض کیا ”جی ہاں یا رسول اللہ، یہ پہلا معرکہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کو شکست دلوائی ہے، اس موقع پر انہیں قیدی بنا کر ان کی جانیں بچا لینے سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ ان کو خوب کچل ڈالا جاتا ، جلد 2۔ صفحہ 159 (آیت 69 : حاشیہ 49 تفہیم القرآن)

- تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا ، وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ،یہ خطاب قریش سے ہے ۔قرآن میں خطاب کا انداز ،جیساکہ ہم باربار واضح بھی کرچکے ہیں ، بالکل اسی طرح کا ہوتا ہے جو ایک اعلیٰ خطیب تقریرمیں اختیار کرتاہے۔جتنی پارٹیاں سامنے ہوتی ہیں،بیک وقت ،سب کی طرف رخ بدل بدل کر ان کے ذہن کے لحاظ سے بات کہتا چلاجاتاہے۔خود بات ہی واضح کردیتی ہے کہ مخاطب کون ہے اور اس کے کس شبہ یا اعتراض کا کیا جواب دیا گیا ہے۔یہاں بھی یہی صورت ہے۔اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو اور وہ بھی سید عالمؐ اور صدیق اکبرؓ کو ماننے کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے اور بالفرض اس آیت کا مخاطب دل پر جبر کرکے نبیؐ اور صدیقؓ کو تھوڑی دیر کیلئے کوئی مان بھی لے تو اس کے بعد جو آیت آرہی ہے اس کا مخاطب نبی و صدیق کو ماننے کیلئے کوئی دل و جگر کہاں سے لائے ۔بہرحال ہمارے نزدیک یہ خطاب قریش سے ہے اور یہ ان کے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا جارہاہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ فرمایا کہ اس قسم کی دنیا طلبی تمہارا ہی شیوہ ہے۔اللہ تو آخرت کو چاہتاہے۔یہاں اسلوبِ بیان کی یہ بلاغت ملحوظ رہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ نبی اور اہل ایمان آخرت کے طلب گارہیں بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ آخرت کو چاہتاہے۔اس کامقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ نبی اور اہل ایمان کے ہاتھوں جو کچھ ہورہاہے یہ ان کی اپنی مرضی سے نہیں ہورہاہے بلکہ اللہ کی مرضی اور اللہ کے حکم سے ہورہاہے ،نبی اور اہل ایمان کی حیثیت اس سارے کام میں محض آلہ اور واسطہ کی ہے۔وہ جو کچھ کررہے ہیں یہی عین اللہ کا ارادہ اور اس کی مرضی ہے۔اللہ کی مرضی اپنے بندوں کیلئے یہ ہے کہ وہ ہر کام آخرت کواپنا نصب العین بناکر کریں تو نبی اور اس کے ساتھیوں کا کوئی اقدام اللہ کی مرضی کے خلاف کس طرح ہوسکتاہے۔گویا بدر اور اس سلسلہ کے تمام اقدامات کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لے لی ۔آخر میں فرمایا کہ اللہ عزیز وحکیم ہے ۔وہ جو ارادہ فرماتاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور اس کا ہرارادہ عدل و حکمت پر مبنی ہوتاہے۔اب تم ژاژخائی کرنا چاہتے ہوکرتے رہو۔۔۔۔۔۔مفسرین کی ایک الجھن کا ازالہ:۔  ہمارے مفسرین کو ان آیات کی تاویل میں بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ان کے نزدیک یہ نبیؐ حضرت ابوبکرصدیقؓ اور دوسرے صحابہ کرامؓ پر عتاب ہے کہ وہ زمین میں خون ریزی کیے بغیر بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر کیوں راضی ہوگئے۔صحیح تاویل واضح ہوجانے کے بعد اب اس بات کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم چند باتیں ذہن میں رکھیے۔ایک یہ کہ فدیہ قبول کرنے کے معاملے میں نبیؐ اور صحابہؓ سے بالفرض غلطی ہوئی بھی تو یہ کسی سابق ممانعت کی خلاف ورزی کی نوعیت کی غلطی نہیں تھی بلکہ صرف اجتہاد کی غلطی تھی۔اجتہاد کی غلطی ایسی چیز نہیں ہے جس پر ایسی سخت وعید وارد ہو۔بالخصوص ایک ایسا اجتہاد جس کی تصدیق فوراً ہی خود اللہ تعالیٰ نے کردی ہو۔دوسری بات یہ کہ یہ اجتہاد کی غلطی بھی نہیں تھی۔جنگ کے قیدیوں سے متعلق یہ قانون سورۂ محمد میں پہلے بیان ہوچکا تھا کہ وہ قتل بھی کیے جاسکتے ہیں، فدیہ لے کر بھی چھوڑ ے جاسکتے ہیں اور بغیر فدیہ لیےمحض احساناً بھی چھوڑے جاسکتے ہیں۔تیسری یہ کہ جہاں تک خون ریزی کا تعلق ہے اس کے اعتبار سے بھی بدر میں کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔قریش کے ستر آدمی ،جن میں بڑے بڑے سردار بھی تھے،مارے گئے،کم و بیش اتنے ہی آدمی قید ہوئے۔باقی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تو آخر لڑائی کس سے جاری رکھی جاتی؟چوتھی یہ کہ یہاں عتاب کے جو الفاظ ہیں وہ قرآن کے مخصوص الفاظ ہیں۔جو شخص قرآن کے انداز ِ بیان سے آشنا ہے وہ جانتاہے کہ ان لفظوں میں قرآن نے کٹر کفار و منافقین کے سوا اور کسی پرعتاب نہیں کیا ہے۔نقل کرنے میں طوالت ہوگی،جس کو تردد ہو وہ قرآن میں ان تمام مواقع پر ایک نظر ڈال لے جہاں لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہ الآ یۃ کے الفاظ سے کسی پر عتاب ہواہے۔۔۔۔۔ان دونوں آیتوں پر غور کیجئے تو یہ بات واضح ہوگی کہ آنحضرتؐ نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر جو چھوڑدیا تو نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ اس نے اس کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں کو یہ پیغام بھجوایا کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس احسان کی قدر کی تو اس سے ان کیلئے قبول اسلام اور مغفرت کی راہیں کھلیں گی۔غور کیجئے کہ کہاں یہ بات اور کہاں وہ جو محض بعض تفسیری روایات کی بناپر مفسرین نے اختیار فرمائی کہ آنحضرتؐ پر اس بات کیلئے عتاب ہواکہ اچھی طرح خون بہائے بغیر تم نے قیدی کیوں پکڑے اور فدیہ کیوں قبول کیا۔(تدبرقرآن)

ــــ آیت کا پس منظر یہ ہے کہ معرکۂ بدر کے بعد غنیم کے ستر آدمی گرفتار ہوکرآئے ،سپہ سالار اعظمؐ نے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے،اکثر اہل شوریٰ کی رائے ہوئی کہ اس وقت امت کو بڑی ضرورت روپیہ کی ہے اور مصالح ملت کا تقاضاہے کہ انہیں فدیہ لیکر چھوڑ دیاجائے ،خود آپؐ بھی اپنی خلقی رحم دلی کے مقتضاسے اسی طرف مائل ہورہے تھے،چنانچہ چند تو قتل کئے گئے ،اور باقی فدیہ لے کر ،بلکہ ایک تو بلافدیہ ہی ، چھوڑدیے گئے ،اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ خطائے اجتہادی جب نبی معصوم تک کیلئے جائز ہے تو شیوخِ غیر معصوم کے متعلق امتناع ِخطاکا اعتقاد کس درجہ غلوئے قبیح ہے۔(تفسیر ماجدی)

68۔کیا عتاب فدیہ لینے کے فیصلہ کی وجہ سے تھا یا قتل کی بجائے قیدی بنانے کی وجہ سے ؟ مزید تفصیل یہ ہے کہ غزوۂ بد رمیں کافروں کے(70)ستر آدمی مارے گئے اور (70)ستر قید ہوئے تھے۔قیدیوں کے متعلق رسول اللہؐ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ خواہ انہیں قتل کردیا جائے ،یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے،اور اس اختیار میں مسلمانوں کی آزمائش مقصود تھی کہ وہ ان دونوں صورتوں میں سے کونسی صورت اختیار کرتے ہیں۔اسی فیصلہ کیلئے آپ نے شوریٰ بلائی اکثریت کی رائے فدیہ لے کر چھوڑدینے کے متعلق ہوئی آپؐ نے بھی اپنی طبعی نرمی کی بناپر اسی فیصلہ کو ترجیح دی۔لیکن اللہ کی رضا یہ تھی کہ قیدیوں سے فدیہ لینے کی بجائے ان کو قتل کردیا جائے۔اسی وجہ سے ان آیات میں عتاب نازل ہوا۔جیساکہ عبداللہ بن عباسؓ کی روایت سے ظاہر ہورہاہے۔کیونکہ یہ عین ممکن تھا کہ اگر کفر کے ان ستر سرغنوں کو قتل کردیا جاتا۔تو کافروں کو دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت ہی نہ رہتی۔دوسری توجیہ یہ ہے کہ عتاب اس لیے نازل نہیں ہواتھا کہ صحابہ کی اکثریت نے رسول اللہؐ سمیت فدیہ لینے کی رائے کو اختیار کرکے اجتہادی غلطی کی تھی کیونکہ قتل یا فدیہ دونوں میں سے ایک صورت کا جب آپؐ کو پہلے ہی اختیار دیا جاچکاتھا تو پھر فدیہ کی رائے قبول کرلینے پر عتاب کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی، بلکہ اس عتاب کی اصل وجہ یہ تھی کہ صحابہ نے میدان جنگ میں ہی ان قیدیوں کی اکثریت کو قتل کیوں نہ کردیا گویا اس عتاب کا روئے سخن ان صحابہ کی طرف ہے جنہوں نے دنیوی مفاد کی خاطر ان کافروں کو قتل کرنے کی بجائے قید کیا تھا اور آیت کے الفاظ "مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ"سے بھی مفہوم واضح ہوتاہے۔۔۔ فدیہ کی مقدار :۔ ان قیدیوں سے جو فدیہ لیا گیا اس کی مقدار چار ہزار درہم فی کس تھی اور ان قیدیوں میں آپؐ کے چچا سیدنا عباسؓ، آپ کے داماد ابواالعاص،نوفل بن حارث اور آپ کے چچازاد بھائی عقیل بن ابی طالب شامل تھے۔ آپ ؐ کی صاحبزادی  سیدہ زینب نے فدیہ میں وہ ہار بھیجا جو ان کی والدہ سیدہ خدیجہؓ نے آپ کو شادی کے وقت جہیز میں دیا تھا۔آپؐ نے جب وہ ہار دیکھا تو آنکھیں نم ہوگئیں۔ اور رقت آمیز لہجہ میں صحابہ سے پوچھا : اگر تم پسند کرو تو میں زینب کے قیدی چھوڑ دوں اور زینب کا ہار واپس کردوں ۔یہ آپ نے اس لیے پوچھا کہ فدیہ کا مال بھی اموال غنائم کے مشترکہ اموال میں شمار ہوتاتھا۔چناچہ صحابہ کرامؓ نے اس کی اجازت دے دی ، حالانکہ اس وقت آپ سپہ سالار بھی تھے اسلامی ریاست کے سربراہ مملکت بھی اور ایسے بھی جن کی غیر مشروط اور بلا چون و چرا اطاعت سب مسلمانوں پر واجب تھی لیکن جب انصاف کا معاملہ آیا تو آپؐ نے صحابہ کرامؓ کی رضامندی کو لازم سمجھا ۔یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی اقدار کا فرق ۔پھر آپ نے زرفدیہ کی وصولی میں بھی انتہائی نرمی اختیار کی جن کافروں کے پاس زرفدیہ نہیں تھا اور وہ پڑھے لکھے تھے۔ان کا زر فدیہ یہ طے ہواکہ وہ دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھلادیں۔اوربعض کافروں کو صرف اس وعدے پر بھی چھوڑ دیا گیا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف  کسی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔(تیسیر القرآن)

۔مال غنیمت کے متعلق پچھلے تمام انبیاء کی شریعتوں میں قانون یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس سے نفع اٹھانا اور استعمال کرنا حلال نہیں تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ پورا مال غنیمت جمع کرکے کسی میدان میں رکھ دیا جائے اور دستور الہی یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس سارے مال کو جلا کر خاک کردیتی۔ یہی علامت اس جہاد کے مقبول ہونے کی سمجھی جاتی تھی۔ اگر مال غنیمت کو جلانے کے لئے آسمانی آگ نہ آئے تو یہ اس کی علامت ہوتی ہے کہ جہاد میں کوئی کوتاہی رہی ہے جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔ (معارف القرآن)


دسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿70﴾ وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿71﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿72﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ  ﴿73﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ ﴿74﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠   ۧ ۧ ﴿75ع الأنفال 8﴾
70. اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 71. اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔ 72. جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ 73. اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔ 74. اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 75. اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

تفسیر آیات

70۔ سیدنا عباسؓ کا فدیہ اسلام لانے کی وجہ اور آپ پر اللہ کی مہربانی:۔ آپؐ نے اپنے چچا سیدنا عباسؓ سے کہا کہ اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا فدیہ جمع کراؤ۔انہوں نے کہا میرے پاس تو ما ل نہیں اور جنگ میں مجھ سے چوبیس  اوقیہ چھین لیے گئے ہیں یعنی زبردستی چندہ لیا گیاہے وہی ہمارا فدیہ سمجھ لیجئے ۔ان کا خیال تھا کہ شاید مجھے کچھ دیے بغیر ہی رشتہ داری کی بناپر چھوڑ دیا جائے گا(آپ مالدارتھے لیکن طبعاً بخیل بھی تھے۔ کیونکہ سودی کاروبار کرتے تھے ۔چنانچہ جب سود حرام ہوا تو رسول اللہؐ نے حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ سب سے پہلے میں اپنے خاندان سے عباس بن عبدالمطلبؓ کا سود کالعدم قراردیتاہوں)آپؐ چونکہ اپنے چچا کی طبیعت سے واقف تھے۔لہذا صحابہ سے کہہ دیا کہ انہیں فدیہ کے مال سے ایک پیسہ بھی نہ چھوڑنا۔پھر آپؐ نے اپنے چچا سے مخاطب ہوکرفرمایا : تمہارا مال کہاں گیا جو تم نے اور ام الفضل نے مل کر گاڑا ہے؟یہ ایسی بات تھی جس کا ان کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔جب سیدنا عباسؓ نے یہ بات سنی تو کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور اسلام لے آئےپھر اپنا ،اپنے دونوں بھتیجوں اور اپنے حلیف عتبہ بن عمر کا فدیہ اداکردیا۔آپ کہا کرتے تھے کہ مجھ سے بیس اوقیہ بطور فدیہ لیا گیا لیکن اس کے عوض اللہ نے دنیا میں مجھے بہت زیادہ مال دیا۔ اس وقت میرے پاس بیس غلام ہیں جن کی کمائی سے مجھے بہت کچھ حاصل ہوتاہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے زمزم کی تولیت بھی مجھے عطافرمائی ۔علاوہ ازیں میں اللہ سے مغفرت کی امید بھی رکھتاہوں۔(تیسیرالقرآن)

72۔ یہ صفات مہاجرین کے بیان ہوئے ،یہ وہ مکہ والے تھے کہ پہلے تو اپنی قوم کی مخالفت کی پرواہ نہ کرکے اور ہرقسم کے خطرے مول لے کر ایمان لائے،پھر ترکِ وطن کیا ،خدا کی راہ میں وطن اور سارے مالوفات ِ وطن کو چھوڑ کر پردیس میں آئے ،پھراپنا روپیہ خرچ کرکے سامانِ جہاددرست کیا،پھر اپنی جانوں کو معرکۂ قتال میں پیش کردیا۔(تفسیر ماجدی)

73۔ کفار کی وراثت کفار سے،  عدل و انصاف وگرنہ فتنہ:۔ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ، اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ خاص دین کے باب میں دارالکفر کے مسلمانوں کی مدد کرنا کیوں ضروری ہے؟ فرمایا کہ جہاں تک اسلام اور مسلمانوں کی عداوت کا تعلق ہے اس معاملے میں تمام کفار ایک دوسرے کے دست وبازو بن گئے ہیں۔جو اللہ کا بندہ اسلام قبول کرلیتاہےاس کی تعذیب و ایذارسانی سب کے نزدیک کارثواب ہے۔یہاں تک کہ ظالموں کے ظلم سے اس کو بچانے کیلئے اس کے اپنے بھائی بندوں کی حمیت بھی مردہ ہوچکی ہے۔اس کا مال اور اس کی جان سب مباح ہیں۔ ایسی حالت میں اگر تم بھی ان مظلوموں کی مدد نہ کروگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دین سے پھرنے کیلئے سارے ملک میں ظلم و فساد عام ہوجائے گا۔فتنہ کا لفظ یہاں(Persecution)کے مفہوم میں ہے اور اِلَّا تَفْعَلُوْهُ میں ضمیر مفعول کا مرجع وہی نصرت ہےجس کا ذکر'فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ' میں  آیا ہے۔(تدبرقرآن)

75۔ مؤاخات کی بناپر احکامِ وراثت منسوخ ہونا :۔  اس جملہ کی روسے نیز سورۂ نساء کی آیت نمبر 33 کی روسے وراثت کے اصل حقدار قریبی رشتہ دارہی قرار پائے اور مہاجرین و انصار مواخات کی بناپر جوایک دوسرے کے وارث بن جاتے تھے وہ حکم منسوخ ہوا اس لیے کہ اب مہاجرین کی معاشی حالت بہت بہتر ہوچکی تھی ۔البتہ ایسے بھائیوں کیلئے وصیت،حسن سلوک اور مروت اور دینی بھائی چارہ کی ہدایات بدستور برقرار ہیں ،  اور وراثت کے احکام میں یہ تبدیلی اس لیے ہوئی کہ اللہ مسلمانوں کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ اسی دو قومی نظریہ نے نسبی اور خاندانی رشتوں کو میراث کی حد تک قطع کردیا کہ نہ کسی مسلمان کو کسی رشتہ دار کافر کی میراث سے کوئی حصہ ملے گا اور نہ کسی کافر کوکسی مسلمان رشتہ دار کی وراثت میں کوئی حق ہوگا۔ پہلی دو آیتوں میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اور یہ حکم دائمی اور غیر منسوخ حکم ہے کہ اول اسلام سے لے کر قیامت تک یہی اسلام کا اصول وراثت ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا حکم مسلمان مہاجر اور غیر مہاجر دونوں کے آپس میں وراثت کا ہے۔ جس کے متعلق پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمان جب تک مکہ سے ہجرت نہ کرے اس وقت تک اس کا تعلق بھی ہجرت کرنے والے مسلمانوں سے وراثت کے بارے میں منقطع ہے۔ نہ مہاجر مسلمان اپنے غیر مہاجر مسلمان رشتہ دار کا وارث ہوگا اور نہ غیر مہاجر کسی مہاجر مسلمان کی وراثت سے کوئی حصہ پائے گا یہ حکم ظاہر ہے کہ اس وقت تک تھا جب تک کہ مکہ مکرمہ فتح نہیں ہوا تھا فتح مکہ کے بعد تو خود رسول کریم ﷺ نے اعلان فرما دیا تھا لا ھجرة بعد الفتح۔ یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم ختم ہوگیا اور جب ہجرت کا حکم ہی ختم ہوگیا تو ترک ہجرت کرنے والوں سے بےتعلقی کا سوال ختم ہوگیا۔ (معارف القرآن)