80 - سورة عبس (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 42

مضمون:قیامت کا اثبات اور منکرین کی نازبرداری کی ممانعت ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: قرآن کی دعوتِ آخرت پر ایمان لاکر عمل صالح کرنا چاہیے ۔اسلام میں قابلِ احترام قبیلوں کے سردار نہیں بلکہ اہل تقویٰ ہیں۔

شانِ نزول: سورۂ عبس ،اعلان ِ عام کے بعد قیامِ مکہ کے دوسرے دور (4تا 5 سن نبوی)کے آغاز میں نازل ہوئی جب حضورؐ کی مجلس میں سرداران ِ قریش کی موجودگی میں حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ سے بے اعتنائی ہوئی۔

نظمِ کلام :سورۂ القیامۃ۔۔۔۔۔ (سورۂ الملک)

خلاصۂ مضامین: 1۔حضورؐ کو تنبیہ اور اصلاح و تربیت کا صحیح طریقہ ۔رسول اکرمؐ کی اصل توجہ کے مستحق کون؟ 2۔ قرآن کی عظمت اور اس کے حاملین کی صفات۔3۔انسان کی تخلیق سے قیامت پر استدلال ۔4۔ نظامِ ربوبیت سے استدلال اور زمین کی بعض برکتیں۔5۔ قیامت کی منظر کشی اور انسان کی حالت کا نقشہ ۔

انبیاء کا خلق عظیم:اس مضمون کی توضیح صحیحین کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرتؐ کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا اور بقیہ تمام مخلوق کو دوسرے پلڑے میں،جب آپؐ تمام مخلوق پر بھاری ثابت ہوئے تب آپؐ کا انتخاب فرض رسالت کی ذمہ داریوں کے لیے عمل میں آیا۔۔۔۔۔پس اس موقع پر عبداللہ بن ام مکتومؓ کے آجانے سے آپؐ کو اصلی اندیشہ یہی ہوا کہ یہ مغرور لوگ ان کی پست حالت دیکھ کر اس کو صحابہؓ پر زبان طعن دراز کرنے کا ایک بہانہ بنالیں گے اور ان کی توہین کریں گے۔۔۔۔۔بظاہر عتاب مترشح ہوتاہے، لیکن عتاب کا اصلی رخ کفارو منکرین کی طرف ہے،آنحضرتؐ کی طرف نہیں۔آپؐ کی تواس میں تعریف کی گئی ہے اور ساتھ ہی آپؐ کے صحابہؓ کی بھی دلداری کی گئی ہے۔(تفسیر فراہی)


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ ﴿1﴾ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ ﴿2﴾ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ ﴿3﴾ اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ ﴿4﴾ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ ﴿5﴾ فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ ﴿6﴾ وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ ﴿7﴾ وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ ﴿8﴾ وَ هُوَ یَخْشٰىۙ ﴿9﴾ فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ ﴿10﴾ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ ﴿11﴾ فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ ﴿12﴾ فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ ﴿13﴾ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ ﴿14﴾ بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ ﴿15﴾ كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ ﴿16﴾ قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ ﴿17﴾ مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ ﴿18﴾ مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ ﴿19﴾ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ ﴿20﴾ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ ﴿21﴾ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ ﴿22﴾ كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ ﴿23﴾ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ ﴿24﴾ اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ ﴿25﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ ﴿26﴾ فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ ﴿27﴾ وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ ﴿28﴾ وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ ﴿29﴾ وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ ﴿30﴾ وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ ﴿31﴾ْ مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ ﴿32﴾ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ ﴿33﴾ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ ﴿34﴾ وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ ﴿35﴾ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ ﴿36﴾ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ ﴿37﴾ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ ﴿38﴾ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ ﴿39﴾ وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ ﴿40﴾ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ ﴿41﴾ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ۠ ﴿42ع عبس 80﴾
1. (محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے۔ 2. کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ 3. اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا۔ 4. یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا۔ 5. جو پرواہ نہیں کرتا۔ 6. اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو۔ 7. حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں۔ 8. اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا۔ 9. اور (خدا سے) ڈرتا ہے۔ 10. اس سے تم بےرخی کرتے ہو۔ 11. دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے۔ 12. پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔ 13. قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)۔ 14. جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں۔ 15. لکھنے والوں کے ہاتھوں میں۔ 16. جو سردار اور نیکو کار ہیں۔ 17. انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے۔ 18. اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟ 19. نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا۔ 20. پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا۔ 21. پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا۔ 22. پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ 23. کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا۔ 24. تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے۔ 25. بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔ 26. پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا۔ 27. پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا۔ 28. اور انگور اور ترکاری۔ 29. اور زیتون اور کھجوریں۔ 30. اور گھنے گھنے باغ۔ 31. اور میوے اور چارا۔ 32. (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا۔ 33. تو جب (قیامت کا) غل مچے گا۔ 34. اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا۔ 35. اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ 36. اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے۔ 37. ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے (مصروفیت کے لیے) بس کرے گا۔ 38. اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے۔ 39. خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)۔ 40. اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی۔ 41. (اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی۔ 42. یہ کفار بدکردار ہیں۔

تفسیر آیات

آیت کے الفاظ میں یہ کہیں نہیں ہے کہ آنحضرتؐ نے نابینا کو دیکھ کر تیوری چڑھائی یا اس کے سامنے ترشروہوئے (جیساکہ بعضوں نے کہا ہے)اور اگر آپؐ ایسا کرتے بھی تو ایک نابینا کو اس ترشروئی کا کیا احساس ہوسکتاتھا؟آپؐ کی آزردگی کا باعث محض ان کا آنا تھا کیونکہ اس سے ان سرکشوں کو موقع مل رہاتھا کہ آنحضرتؐ کے صحابہ پر طعن کریں اور آپؐ کی مخالفت کا ایک بہانہ پیدا کرلیں۔مکی زندگی میں آنحضرتؐ کی تمام دعوت کا تعلق،توحید، معاد اور ردشرک سے تھا اور یہ اس درجہ قطعی اور واضح مسائل تھے کہ مخالفین ان کے جواب میں اعتراض کا کوئی پہلو مشکل ہی سے پاتے  تھے۔ اس وجہ سے ہمیشہ اس گھات میں رہتے کہ اگر مناظرہ کا کوئی موقع نہیں ملتاہے تو مذاق اڑانے ہی کے لیے ،کوئی نکتہ ڈھونڈنکالیں۔اور اس میں شبہ نہیں کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کے اس موقع پر آجانے سے ان کی یہ غرض پوری ہورہی تھی۔۔۔۔۔خلاصہ اس تفصیل کا یہ ہوا کہ ان آیات اور ان کے پیش و عقب پر غورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ان میں آنحضرتؐ کو مغروروں سے بے پروائی اختیار کرنے اور تبلیغ و دعوت کے کام میں اپنے درجہ ومرتبہ کا لحاظ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے اور نہایت بلیغ اسلوب ،عتاب میں آپؐ کو تبلیغ و دعوت میں حد اعتدال سے بڑھے ہوئے انہماک سے روکا گیا ہے۔پھر اس میں آنحضراتؐ کی دلداری،غربا کی دلجوئی اور مغروروں کی سرزنش کے نہایت لطیف پہلو ہیں جو آئندہ فصلوں میں آپ کے سامنے آئیں گے۔(تفسیر فراہی)

۔ یہ ایسا کام تھا جو آپؐ کے کرنے کا نہ تھا ۔آپؐ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپؐ نہیں کوئی اور ہے جو اس رویّے کا مرتکب ہورہاہے ۔مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن امُّ مکتوم ، ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے پھوپی زاد ،کوئی غریب  یا کم حیثیت آدمی نہ تھے لیکن نابینا تھے۔ )تفہیم القرآن(

- قریش کے فراعنہ کو ایک اہم اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی قلاش اور مفلس لوگ ہیں ۔اس واقعہ کو جو بالکل اتفاق سے پیش آگیا، اللہ تعالیٰ نےپیغمبرؐ (اور ان کے ذریعہ دوسروں ،خاص طورپر متمردین قریش کو ) تعلیم دینے کا ذریعہ بنالیا ۔)تدبرقرآن(

- ان تمام باتوں کے پیشِ نظر عتاب حضرت عبداللہ کو ہونا چاہئیے تھا ،حضورؐ کو عتاب کرنے میں کیا حکمت؟ مکہ کے سرداروں کی موجودگی میں اپنے ایک کمزور مسلمان بھائی سے بے رخی ان کے احساس ِ برتری اور گھمنڈ کو بڑھادیتی ۔۔۔۔۔- ان آیات کے نزول کے بعد نبی اکرمؐ کی خدمت میں جب حضرت عبداللہ حاضر ہوتے تو حضورؐ فرماتے : اے مرحبا! اے وہ شخص جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے عتاب فرمایا پھر پوچھتے ، کوئی کام ہے تو بتاؤ ۔کسی مہم کے سلسلہ میں حضورؐ مدینہ سے باہر تشریف لیجاتے تو کسی کو اپنا نائب بنا جاتے ،حضرت عبداللہ کو یہ شرف دوبار حاصل ہوا۔)ضیاء القرآن(

اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ترش روئی اور بےرخی برتنے کا یہ فعل حضور ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

3۔ اور آگے خطاب کا صیغہ بطورِ التفات کے اس لئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہ ہو نیز وہ مضمون پہلے مضمون سے ہلکا ہے۔)تفسیر عثمانی(

ان آیات میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کا تعلق نبیؐ سے ہے۔اس سے تنبیہ مقصود ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں کیوں اتنی دورنکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہوجاتی ہے۔نبیؐ قریش کے لیڈروں کو نہایت اہتمام سے دین کی دعوت دے رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک نابینا صحابی ،عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لائے ۔ان کا یہ بے موقع آنا آنحضرتؐ کو ناگوار گزرا کیونکہ قریش کو آپ پر بڑا اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی بے حیثیت اور مفلس لوگ ہیں۔فرمایا کہ ان سرکش لوگوں کی ناز برداری میں اپنے حقیقی ساتھیوں کی حق تلفی نہ کرو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔مثلاً حضرت موسیؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایک مقررہ تاریخ کو طورپر بلایا آپ فرطِ شوق میں اس سے پہلے ہی طورپر پہنچ گئے ۔عجلت پر گرفت ہوئی تو فرمایا کہ میں تو آپ کی رضا طلبی کے شوق میں جلد چلا آیا۔یہ لغزش نہایت اعلیٰ جذبے کی عکاس ہوتی ہے لیکن حضرات انبیاء حق و عدل کی کامل میزان ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی لغزشوں پر بھی گرفت فرماتاہے تاکہ میزان ہر پہلو سے سے درست رہے۔

- یہاں ایک سچے طالب کی دوصفتیں بیان ہوئی ہیں ۔ایک یہ کہ وہ طالبِ تزکیہ ہوتاہے اور دوسری یہ کہ وہ یاددہانی سے فائدہ اٹھانے والا ہوتاہے۔۔۔۔۔اپنی تربیت کے متعلق کوئی سوال یا حضورؐ خود یا کسی اور صحابی کے جواب میں کچھ بتادیں ۔لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىسے پہلی قسم کے لوگ مراد ہیں اور یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى۔دوسری قسم کے۔)تدبرقرآن(

22۔ یہ انسان کی تخلیق اور زندگی کے مراحل سے قیامت کی نئی زندگی پر استدلال ہے۔'راہ آسان کرنے'سے مراد مادی اور روحانی دونوں اعتبار سے انسان کی رہنمائی ہے جو اس کو زندگی گزارنے کے لیے حاصل ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

23۔حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے۔ وہ حکم بھی جس کی طرف انسان کا اپنا وجود اور زمین سے لے کر آسمان تک کائنات کا ہر ذرہ اور قدرت الہی کا ہر مظہر اشارہ کر رہا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے بھیجا اور ہر دور کے صالحین کے ذریعہ سے پھیلایا ہے۔ (تفہیم القرآن)

34-37۔ یہی مضمون سورۂ معارج میں بیان ہواہے(70: 10-14) ص211-212 ۔)تدبرقرآن(

37۔ احادیث میں مختلف طریقوں اور سندوں سے یہ روایت آئی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا :"قیامت کے روز لوگ ننگے بُچے اٹھیں گے"کسی نے (بروایت بعض حضرت عائشہ/حضرت سودہ/ ایک خاتون) گھبرا کر پوچھا ۔یا رسول اللہ ؐ کیا ہمارے ستر اس روز سب کے سامنے کھلے ہوں گے؟ تو حضورؐ نے یہی آیت تلاوت فرماکر بتایا کہ اُس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا(نسائی،ترمذی، ابن حاتم، ابن جریر، طبرانی، ابن مردویہ،بیہقی، حاکم)۔)تفہیم القرآن(

38-42: ص 212(مطالعہ کیلئے))تدبرقرآن(