81 - سورة التکویر (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 29

مضمون:قیامت کے ہول کی تصویر ۔کلامِ الٰہی کو نظر انداز کرنے والوں کو تنبیہ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: قیامت کا تذکرہ سورۃ کا مرکزی مضمون ہے ۔قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی یہ بیان کی گئی ہے کہ سورج کو لپیٹ دیا جائے گا یعنی اُسے بے نور کردیا جائے گا۔سورج کے لپیٹ دینے سے اس کا پورا نظام ِ شمسی بھی ختم ہوجائیگا۔

خلاصۂ مضامین: (i)قیامت کے احوال کی منظر کشی (ii) معصوم مظلوموں کی داد رسی (iii) مکذّبین ِ قرآن کو تنبیہ (iv) رسولؐ کا فرشتے کو کھلے افق پر دیکھنا اور ان کا تجربۂ وحی(v) قبول ِ ہدایت کے بارے میں اللہ کی سنت۔

شانِ نزول: اس سورت کی ابتدائی چودہ آیات قیام مکہ  کے پہلے دور (0تا3نبوی)میں نازل ہوئیں جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی ۔آخری پندرہ آیات اعلانِ عام کے بعد الزامات کے دور میں نازل ہوئیں جب آپؐ کو مجنون کہا گیا ۔یہ سورۂ,  سورۂ ھود کی طرح ان سورتوں میں سے ہے جنہوں نے آپؐ کو بوڑھا کردیا تھا(ترمذی) مناظرِ قیامت کو دیکھنا ہو تو اس سورۃ،انفطار اور انشقاق کا مطالعہ کرنا چاہئیے(ترمذی)

نظمِ کلام: سورۃ القیامۃ۔۔۔۔۔(سورۂ الملک)

نظمِ جلی: 1۔ آیات 1تا6: پہلے پیراگراف میں، قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر کشی ہے۔2۔ آیات 7 تا 14:دوسرے پیرا گراف میں، قیامت کے دوسرے مرحلے کی تصویر کشی ہے۔۔۔۔۔ اس وقت، ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا، کہ وہ کیا لے کر آیاہے؟۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ  ﴿1﴾ وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ  ﴿2﴾ وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ  ﴿3﴾ وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ  ﴿4﴾ وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ  ﴿5﴾ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ  ﴿6﴾ وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ  ﴿7﴾ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ  ﴿8﴾ بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ  ﴿9﴾ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ  ﴿10﴾ وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ  ﴿11﴾ وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ  ﴿12﴾ وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ  ﴿13﴾ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ  ﴿14﴾ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ  ﴿15﴾ الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ  ﴿16﴾ وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ  ﴿17﴾ وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ  ﴿18﴾ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ  ﴿19﴾ ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ  ﴿20﴾ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ  ﴿21﴾ وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ  ﴿22﴾ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ  ﴿23﴾ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ  ﴿24﴾ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ  ﴿25﴾ فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ  ﴿26﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ  ﴿27﴾ لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ  ﴿28﴾ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠   ﴿29ع التكوير 81﴾
1. جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ 2. جب تارے بےنور ہو جائیں گے۔ 3. اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ 4. اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی۔ 5. اور جب وحشی جانور جمع ( اکٹھے) ہو جائیں گے۔ 6. اور جب دریا آگ ہو جائیں گے۔ 7. اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی۔ 8. اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا۔ 9. کہ وہ کس گناہ پرماری گئی۔ 10. اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے۔ 11. اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ 12. اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی۔ 13. اور بہشت جب قریب لائی جائے گی۔ 14. تب ہر شخص معلوم کر لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ 15. ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ 16. (اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں۔ 17. اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے۔ 18. اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے۔ 19. کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے۔ 20. جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا ہے۔ 21. سردار (اور) امانت دار ہے۔ 22. اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں۔ 23. بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے۔ 24. اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں۔ 25. اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔ 26. پھر تم کدھر جا رہے ہو۔ 27. یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ 28. (یعنی) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔ 29. اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے۔

تفسیر آیات

4۔یہ بات اہلِ عرب کے خاص مذاقِ طبیعت کو پیش ِ نظر رکھ کر کہی گئی ۔اس وقت کسی کو اپنی محبوب چیز وں (مثلاً گابھن اونٹنی)کا بھی کچھ ہوش نہیں رہے گا۔ یہی حقیقت دوسرے مقام پر ان الفاظ سے سمجھائی گئی ہے (جس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی۔الحج۔ 22-2)یہاں محبوب مال کی ناقدری وہاں شفقتِ مادری کا مردہ ہوجانا۔(تدبرقرآن)

5۔ انسان توانسان ، وحشی جانوروں پر بھی نفسا نفسی کی کیفیت ۔جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب آجائے تو سراسیمگی میں تمام جانور ایک ٹیلے  پر۔بکری، شیر، بیھڑئیے پاس پاس۔حریف یا شکار بغل میں ۔یہی صورت حال خوفناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت ۔(تدبرقرآن)

6۔ زمین جب کھینچی جائے گی تو اس کا لاوہ سمندروں کے پانی میں مل جائے گا۔اور وہ ابلنا شروع کردے گا۔(بیان القرآن)

ــــ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے روز سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی ۔پانی ،آکسیجن اور ہائیڈروجن ( ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ) پانی آگ بجھانے والا۔ذراسی ترکیب بدلنے سے سمندروں میں آگ ۔(تفہیم القرآن)

7۔ اوپر کی آیات میں وہ احوال بیان ہوئے جو ظہور ِ قیامت کے وقت پیش آئینگے اب اس آیت اور بعد کی آیات میں وہ باتیں بیان ہورہی ہیں جن کا تعلق ظہور ِ قیامت کے بعد کے احوال سے ہے۔(تدبر قرآن)

9۔ قرآن نے یہاں بے زبان مظلوموں کی داد رسی کا ذکرکرکے اخروی عدالت کا مزاج واضح فرمایا ہے کہ اس میں سب سے پہلے ان کی داد رسی ہوگی جو اس دنیا میں سب سے زیادہ بے بس اور کمزور تھے۔(تدبرقرآن)

بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگام ِ دعاکردن                                        اجابت ازدرحق ِ بہر استقبال می آید

- اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضبناکی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضبناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا، بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں ماری گئی۔۔۔۔۔ عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا بےرحمانہ طریقہ قدیم زمانے میں مختلف وجوہ سے رائج ہوگیا تھا۔ ایک، معاشی خستہ حالی جس کی وجہ سے لوگ چاہتے تھے کہ کھانے والے کم ہوں اور اولاد کو پالنے پوسنے کا بار ان پر نہ پڑے۔ بیٹوں کو تواس امید پر پال لیا جاتا تھا کہ بعد میں وہ حصول معیشت میں ہاتھ بٹائیں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتا تھا کہ انہیں جوان ہونے تک پالنا پڑے گا اور پھر انہیں بیاہ دینا ہوگا۔ دوسرے، عام بد امنی جس کی وجہ سے بیٹوں کو اس لیے پالا جاتا تھا کہ جس کے جتنے زیادہ بیٹے ہوں گے اس کے اتنے ہی حامی و مددگار ہوں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتا تھا کہ قبائلی لڑائیوں میں الٹی ان کی حفاظت کرنی پڑتی تھی اور دفاع پر وہ کسی کام نہ آسکتی تھیں۔ تیسرے عام بد امنی کا ایک شاخسانہ یہ بھی تھا کہ دشمن قبیلے جب ایک دوسرے پر اچانک چھاپے مارتے تھے تو جو لڑکیاں بھی ان کے ہاتھ لگتی تھیں انہیں لے جا کر وہ یا تو لونڈیاں بنا کر رکھتے تھے یا کہیں بیچ ڈالتے تھے۔ ان وجوہ سے عرب میں یہ طریقہ چل پڑا تھا کہ کبھی تو زچگی کے وقت ہی عورت کے آگے ایک گڑھا کھود رکھا جاتا تھا تاکہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دی جائے۔ اور کبھی اگر ماں اس پر راضی نہ ہوتی یا اس کے خاندان والے اس میں مانع ہوتے تو باپ بادل ناخواستہ اسے کچھ مدت تک پالتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جا کر زندہ دفن کردیتا۔ اس معاملہ میں جو شقاوت برتی جاتی تھی اس کا قصہ ایک شخص نے خود نبی ﷺ سے ایک مرتبہ بیان کیا۔ سنن دارمی کے پہلے ہی باب میں حدیث منقول ہے کہ ایک شخص نے حضور سے اپنے عہد جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی۔ جب میں اس کو پکارتا تو دوڑی دوڑی میرے پاس آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ راستہ میں ایک کنواں آیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنویں میں دھکا دے دیا۔ آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ تھی ہائے ابا، ہائے ابا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ رو دیے اور آپ کے آنسو بہنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا اے شخص تو نے حضور کو غمگین کردیا۔ حضور نے فرمایا اسے مت روکو، جس چیز کا اسے سخت احساس ہے اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا کہ اپنا قصہ بیان کر۔ اس نے دوبارہ اسے بیان کیا اور آپ سن کر اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ نے اسے معاف کردیا، اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر۔(تفہیم القرآن)

- 264تا268۔(تفہیم القرآن) 

-500 تا 503۔(ضیاء القرآن)

10۔ صُحُف سے مراد لوگوں کے اعمال نامے ہیں اور ان کے کھولے جانے سے مقصود یہ ہے کہ ہر ایک کا سارا کچا چٹھا اس کے سامنے آجائے گا۔(تدبرقرآن)

11۔ کُشِطَ کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے اس چیز کے اتار لینے کے ہیں جو اس کو ڈھانکے ہوئے ہو۔ یہیں سے یہ ذبیحہ کی کھال اتارلینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا خاص طورپر اونٹ کی کھال اتارنے کیلئے ۔ذبیحہ کی کھال اتارلینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ  نظر آنے لگتاہے ۔گویا یہ آسمان کے سرخ ہونے کی تعبیر ہے ۔سورۂ رحمن میں فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ(37) کے الفاظ آئے ہیں ۔آگے کی آیت میں جہنم کے بھڑکائے جانے کا ذکر ہے جو اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ آسمان کی یہ سرخی جہنم کے بھڑکائے جانے کے سبب سے ہوگی۔(تدبرقرآن)

12۔ تَسعِیر کے معنیٰ بھڑکانے اور دھکانے کے ہیں ۔جہنم تیار تو پہلے سے ہوگی لیکن مجرموں کو اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا تو وہ ان کو جلانے کیلئے خاص طورپر بھڑکائی جائے گی پھر جب مجرم اس میں ڈالے جائینگے تو وہ اپنا مطلوب ایندھن پاکر مزید قوت سے بھڑکے گی۔(تدبرقرآن)

13۔ اِزلَاف کے معنی قریب لانے کے ہیں ۔وہ پاس ہی ہوگی مگر اہلِ جنت کی تشریف و تکریم کیلئے ایک پیشکش کے طورپر ان کے سامنے پیش کی جائیگی۔(تدبر قرآن)

14۔ اوپر جتنے اِذَا گذرے ہیں یہ ان سب کا اکٹھے جواب ہے۔(تدبرقرآن)

18۔یہ قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ آگے کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ مطلب اس قسم کا یہ ہے کہ محمد ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا بلکہ جب تارے چھپ گئے تھے، رات رخصت ہوگئی تھی اور صبح روشن نمودار ہوگئی تھی، اس وقت کھلے آسمان پر انہوں نے خدا کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لیے وہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ ان کے آنکھوں دیکھے مشاہدے اور پورے ہوش گوش کے ساتھ دن کی روشنی میں پیش آنے والے تجربے پر مبنی ہے۔ (تفہیم القرآن)

15۔ الْخُنَّسُ۔یہ وہ پانچ سیارے ہیں جو سیدھےچلتے چلتے پیچھے کی طرف چلنے لگتے ہیں، فلکیات کی اصطلاح میں اُنہیں خمسۂ متغیرہ کہتے ہیں اور ان کے نام ہیں: زحل،مشتری،عطارد،مریخ اور زہرہ ۔جاہلی قوموں میں اکثریہ  دیوی دیوتا بھی مانے گئے ہیں۔ الْجَوَارِ الْكُنَّسُ۔ یہ وہ سیارے ہیں جو پیچھے ہی کی طرف چلتے رہتے ہیں اور پیچھے ہی چلتے چلتے اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔'پیچھے ہٹنے والے 'سے مراد ظاہر ہوکر چھپ جانے والے ہیں۔ یہ ستاروں کی صفت ہے ۔'چلنے والے'اورچھپ جانے والے' سے مراد شہاب ثاقب ہیں ۔ستاروں کی یہ قسمیں کاہنوں اور جنات کے علم غیب اور ستاروں کی تاثیر کی نفی کےلیے ہیں۔مقصد یہ بتانا ہے کہ قرآن کہانت کی خرافات کی طرح کی چیزنہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

21۔اس صفت کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کی وجہ یہ ہے کہ ان کی یہی صفت اس امر کی ضمانت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے پاس جو کچھ لاتے ہیں اس میں نہ کسی ملاوٹ کا کوئی شائبہ ہوتا نہ کسی کمی بیشی کا کوئی اندیشہ۔ اس کے برعکس کاہنوں کے علم کا حال یہ ہے کہ وہ جن شیاطین سے علم حاصل کرتے ہیں وہ اُچکے اور چور ہوتے ہیں۔ اول تو ملاء اعلیٰ تک وہ پہنچ نہیں پاتے اور اگر کوئی بات اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ یکسر جھوٹ ہوتی ہے جس میں مزید جھوٹ ملا کر وہ اپنے کاہنوں پر القاء کرتے ہیں اور یہ کاہن ان سے بھی بڑھ کر جھوٹے ہوتے ہیں جو اپنی دکان داری کو فروغ دینے کی خاطر رائی کو پربت بناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ناپاک جوہڑ کو اس چشمۂ صافی سے کیا نسبت جس سے اللہ کا رسول فیض یاب ہوتا ہے! (تدبرِ قرآن)

24۔یعنی رسول اللہ ﷺ تم سے کوئی بات چھپا کر نہیں رکھتے۔ غیب کے جو حقائق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کھولے گئے ہیں، خواہ وہ اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ہوں، یا فرشتوں کے بارے میں، یا زندگی بعد موت اور قیامت اور آخرت اور جنت اور دوزخ کے بارے میں، سب کچھ تمہارے سامنے بےکم وکاست بیان کردیتے ہیں۔(تفہیم القرآن)

25۔ ’رَجِیْمٌ‘ مقابل ہے ’کَرِیْمٌ‘ کے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ پر جو فرشتہ وحی لے کر آتا ہے وہ تو اللہ کا ایک عالی مقام فرشتہ ہے اور تمہارے کاہنوں پر جو شیاطین اترتے ہیں وہ کھدیڑے اور راندے ہوئے ہیں۔ ’رَجِیْمٌ‘ کے معنی سنگ سار کیے ہوئے کے ہیں۔ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ جو شیاطین آسمانوں میں غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں ان پر شہابوں کے ذریعہ سے سنگ باری ہوتی ہے اس وجہ سے ’رَجِیْمٌ‘ ان کی مستقل صفت ہے۔ (تدبرِ قرآن)