82 - سورة الانفطار (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 19 |
مضمون: انسان کی خلقت کا اہتمام اور عملوں کا ریکارڈ قیامت کی جزاو سزا کی دلیل ہے۔(ترجمہ: مولاناا مین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: سلف سے یہ بات منقول ہوئی ہے کہ جس کو ہول قیامت کی تصویر دیکھنی ہو وہ ان سورتوں میں دیکھے ۔دونوں سورتوں (یہ اور سابقہ سورہ) میں اصل مخاطب وہ اغنیا و مستکبرین ہیں جو قرآن کے انذار کو اس وجہ سے خاطر میں نہیں لارہے تھے کہ ان کو اپنے قلعوں اور حصاروں میں دراڑ پڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔)تدبرقرآن(
شانِ نزول : یہ سورت قیامِ مکہ کے پہلے دور (0تا3سن نبوی)میں آپؐ پر نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی۔ان سورتوں میں مناظرِ قیامت سے قریش کی تخویف کی جارہی تھی۔حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ جو شخص چاہتاہوکہ روزِ قیامت کو اس طرح دیکھ لے جس طرح آنکھوں سے دیکھا جاتاہے تو وہ سورۂ تکویر ،سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق (84)کو پڑھ لے ۔(مسند احمد، ترمذی، ابن المنذر، طبرانی،حاکم، ابن مرودیہ))تفہیم القرآن(
نظمِ کلام: سورۂ القیامۃ۔۔۔۔(سورۂ الملک)
خلاصۂ مضامین: (i)قیامت کے ہولناک منظر کی انتہائی خوبصورت تصویرکشی (ii) انسان کی نفسیات کہ وہ اپنے رب کے بارے میں دھوکے میں پڑا ہوا ہے۔(iii)انسان کا خالق،مالک ،رازق تو صرف اللہ ہے مگر انسان نے نہ معلوم کن کن لوگوں کو یہ مقام دیا ہواہے۔(iv) انسان کا دھوکے میں پڑجانے اور گروہوں میں پڑجانے کا سب سے بڑا سبب یہ ہےکہ وہ جواب دہی کے تصور سے گھبراتا ہے حالانکہ اس کی ہر ہر حرکت کو نگران فرشتے نوٹ کررہے ہیں۔اعمال کے بارے میں اصل فیصلہ روزِ قیامت ہوگا ۔جس دن نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور گناہگار جہنم میں۔ یہ وہ دن ہوگا جب کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اصل اقتدار و اختیار کی مالک اللہ کی ذات ہے ، وہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے ۔)انوار القرآن(
کلیدی مضمون:2 ۔ اس سورت میں تخلیق کے پانچ مراحل بیان کیے گئے ہیں۔(1)تخلیق"خَلَقَ"منصوبہ بندی(2)تسویہ"سَوّٰکَ" نوک پلک سنوارنا (3)تعدیل"فَعَدَلَکَ"متناسب اور موزوں بنانا(4)تصویر"صُورَۃ" (5)ترکیب"رَکَّبَکَ"۔۔۔۔۔"مَاغَرَّکَ ؟"کے الفاظ سے انسانی ضمیر سے پوچھا گیا ہے کہ اپنے رب کریم سے غفلت کی وجہ کیا ہے؟ جزاوسزا کا انکار کیوں ہے؟۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
| اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ ﴿1﴾ وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ ﴿2﴾ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ ﴿3﴾ وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ ﴿4﴾ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ ﴿5﴾ یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ ﴿6﴾ الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ ﴿7﴾ فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ ﴿8﴾ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ ﴿9﴾ وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ ﴿10﴾ كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ ﴿11﴾ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ﴿12﴾ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ ﴿13﴾ وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ ﴿14﴾ یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ ﴿15﴾ وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ ﴿16﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ ﴿17﴾ ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ ﴿18﴾ یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ ﴿19ع الإنفطار 82﴾ |
| 1. جب آسمان پھٹ جائے گا۔ 2. اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔ 3. اور جب دریا بہہ (کر ایک دوسرے سے مل) جائیں گے۔ 4. اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔ 5. تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا۔ 6. اے انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دھوکا دیا۔ 7. (وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا۔ 8. اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا۔ 9. مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو۔ 10. حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ 11. عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے۔ 12. جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔ 13. بے شک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے۔ 14. اور بدکردار دوزخ میں۔ 15. (یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے۔ 16. اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے۔ 17. اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟ 18. پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟ 19. جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور حکم اس روز خدا ہی کا ہو گا۔ |
تفسیر آیات
1۔ انفطار کے معنیٰ پھٹ جانے اور شق ہوجانے کے ہیں ۔قیامت کے بعد ایک بالکل نیا عالم ، نئے نوامیس و قوانین کے تحت ظہور میں آئیگا ۔اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائیگی ۔جو اپنے قلعوں اور گڑھیوں پر نازاں بالکل نچنت ہیں ان کو جھنجوڑا جائے۔ کہ قیامت کی ہلچل ایسی ہوگی کہ تمہارے گھروندوں کا کیا ذکر، اس پورے عالم کی یہ محکم چھت شگاف بن کر رہ جائیگی ۔)تدبرقرآن(
3۔ سابق سورۂ میں واذالبحار سجرت (6) کے الفاظ سےجو بات بیان ہوئی ہے یہاں وہی بات فجرت کے لفظ سے بیان ہوئی ہے۔دونوں میں بس یہ فرق ہے کہ پہلے لفظ سے سمندروں کا جوش و ہیجان نمایاں ہورہاہے اور دوسرے سے ان کی آزادی و بے قیدی یعنی وہ موجودہ حد بندیوں سے بے قید ہوکر ہر طرف پھوٹ بہیں گے اور ہر نشیب و فراز پر چھاجائیں گے۔)تدبرقرآن(
4۔ بعثر کے معنی ہوں گے کسی شے کو پراگندہ و منتشر کردینا ،ادھیڑڈالنا، کھول کر اس میں جو کچھ ہونکال لینا۔یہ بات قبروں کے حوالے سے ہے کہ ان میں جو کچھ ہے اسے نکال لینا لیکن سورۂ زلزال میں ہے ۔ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا(زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی) )تدبرقرآن(
5۔کسی کو مقدم رکھا ، کسی کومؤخر( IIیاI(Priority)کیا ہے؟ ترجیع اول و دوم)۔۔۔۔۔- اس دنیا کو مقدم یا آخرت کو مقدم ۔بعض نے کہا کہ کیا کچھ آگے بھیجا اور کیا کچھ پیچھے چھوڑا (یعنی اس دنیا کا مال ،دنیاہی میں پیچھے چھوڑا ،آخرت کیلئے کچھ آگے نہ بھیجا ) (بیان القرآن)
۔اصل الفاظ ہیں مَا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ۔ ان الفاظ کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں اور وہ سب ہی یہاں مراد ہے (1) جو اچھا یا برا عمل آدمی نے کر کے آگے بھیج دیا وہ ما قدمت ہے اور جس کے کرنے سے وہ باز رہا وہ ما اخرت۔ اس لحاظ سے یہ الفاظ تقریباً انگریزی زبان کے الفاظ Commission اور Omission کے ہم معنی ہیں۔ (2) جو کچھ پہلے کیا وہ ما قدمت ہے اور جو کچھ بعد میں کیا وہ ما اخرت، یعنی آدمی کا پورا نامہ اعمال ترتیب وار اور تاریخ وار اس کے سامنے آجائے گا۔ (3) جو اچھے اور برے اعمال آدمی نے اپنی زندگی میں کیے وہ ما قدمت ہیں اور ان اعمال کے جو آثار و نتائج وہ انسانی معاشرے میں اپنے پیچھے چھوڑ گیا وہ ما اخرت۔ (تفہیم القرآن)
6۔ اس میں استفہامیہ اسلوب اظہارِ تعجب کیلئے ہے ۔اگر تمہارے رب کی اس عنایت کریم نے تم کو سزا و جزا سے نچنت کیا کہ وہ تمہاری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتااور برابر ڈھیل پر ڈھیل دئیے جارہاہےتو تم نے اس کریمی سے بہت سخت دھوکا کھایا ہے ۔(تدبرقرآن)
7۔ خَلَقَ کے معنیٰ ہیں کسی چیز کا خاکہ بنانا اور اس کو پیدا کرنا ۔تَسوِیَۃ کے معنی اس کی نوک پلک سنوارنا ۔گویا یہاں انسان کی پیدائش کے ابتدائی اور انتہائی دونوں مرحلوں کی طرف اشارہ فرمادیا ۔فَعَدَلَکَ ۔اور اسی طرح اس نے تمہیں ایک متوازن مخلوق بنایا ۔جس چیز پر جتنا ہی اہتمام صرف ہوتاہے اس کے اندر اتنی ہی مقصدیت ہوتی ہےاور اسی اعتبار سے اس کو قدرت کے نظام میں اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔انسان برسات میں پیداہونے والے پتنگوں کی مانند نہیں ہے کہ پیدا ہو اور فنا ہوجائے بلکہ وہ قدرت کی بہترین صناعی کا مظہر ہے ۔فعدلک میں اس اعتدال و توازن کی طرف اشارہ ہے جو لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ(التین :4:95) والی آیت میں بیان ہواہے ۔(تدبرقرآن)
8۔مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں (بلکہ کروڑوں اور اربوں) انسانوں کے اندر سے بھی کوئی دو آدمی ایسے نکالے جاسکیں جو بالکل ایک ہی شکل و صورت کے ہوں۔ (تدبر قرآن)
12۔ دومعزز فرشتے ہرشخص پر مامور کردیے گئے ہیں جو انسان کی نیکی اور بدی کی ہر چیز نہایت احتیاط اور دیانتداری سے نوٹ کرلیتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ کو انسان کا محاسبہ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)
19۔ اوپر کا سوال چونکہ جواب کیلئے نہیں بلکہ صرف اس دن کے ہول کا تصور پیدا کرنے کیلئے تھا اس وجہ سے جواب کا انتظار کئے بغیر خودہی جواب دے دیا کہ اس دن کوئی جان کسی دوسرے کے کام آنے والی نہیں بنے گی ۔سارا اختیار و اقتدار صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔(تدبرقرآن)