84 - سورة الانشقاق (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 25 |
مضمون: انسان درجہ بدرجہ اپنے خالق کے حضور اپنے محاسبہ کے لیے پہنچنے والاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: اس کا موضوع قیامت اور آخرت ہے ۔ابتدائی آیات میں قیامت کی کیفیت بیان کی گئی ہے اوراس کے برحق ہونے کی دلیل بھی دی گئی ہے ۔بعد میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو خواہ اس کا شعور ہو یا نہ ہو بہرحال وہ اس منزل کی طرف چارو ناچار چلا جارہاہے جہاں اُسے اپنے رب کے آگے پیش ہونا ہے۔)تفہیم القرآن(
نام: سورۂ الانشقاق بھی مکی سورۃ ہے ۔پہلی ہی آیت سے اس کا نام لیا گیا ہے۔ انشقاق کا معنی پھٹ جاناہے۔
شانِ نزول : یہ سورۃ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے ۔اس کے مضمون کی داخلی شہادت یہ بتارہی ہے کہ ابھی ظلم و ستم کا دور شروع ہی نہیں ہوا تھا ،البتہ قرآن کی دعوت کو مکہ میں برملا جھٹلایا جارہاتھا اور لوگ یہ ماننے سے انکار کررہے تھے کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور انہیں اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کیلئے حاضر ہونا پڑے گا ۔قیامت کو دیکھنا ہو تو اس سورۃ کا مطالعہ کرنا چاہئیے(ترمذی))تفہیم القرآن(
نظمِ کلام: سورۂ القیامۃ۔۔۔۔۔(سورۂ الملک)
| اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ ﴿1﴾ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ ﴿2﴾ وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ ﴿3﴾ وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ ﴿4﴾ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ ﴿5﴾ یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ ﴿6﴾ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ ﴿7﴾ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ ﴿8﴾ وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ ﴿9﴾ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ ﴿10﴾ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ ﴿11﴾ وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ ﴿12﴾ اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ ﴿13﴾ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ ﴿14﴾ بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ ﴿15﴾ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ ﴿16﴾ وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ ﴿17﴾ وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ ﴿18﴾ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ ﴿19﴾ فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ ﴿20﴾ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ ۞ ﴿21﴾ بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ ﴿22﴾ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ ﴿23﴾ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ ﴿24﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ ﴿25ع الإنشقاق 84﴾ |
| 1. جب آسمان پھٹ جائے گا۔ 2. اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے۔ 3. اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی۔ 4. جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر ڈال دے گی اور (بالکل) خالی ہو جائے گی۔ 5. اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی یہی ہے (تو قیامت قائم ہو جائے گی)۔ 6. اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا۔ 7. تو جس کا نامہٴ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ 8. اس سے حساب آسان لیا جائے گا۔ 9. اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے گا۔ 10. اور جس کا نامہٴ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ 11. وہ موت کو پکارے گا۔ 12. اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔ 13. یہ اپنے اہل (و عیال) میں مست رہتا تھا۔ 14. اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا۔ 15. ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا۔ 16. ہمیں شام کی سرخی کی قسم۔ 17. اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی۔ 18. اور چاند کی جب کامل ہو جائے۔ 19. کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے۔ 20. تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے۔ 21. اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ 22. بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں۔ 23. اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے۔ 24. تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو۔ 25. ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ قیامت کے بعد جو جہانِ نو وجود میں آئے گا وہ نئے نوامیس و قوانین کے تحت وجود میں آئے گا۔اس وجہ سے اس میں یہ آسمان و زمین جو آج موجود ہیں ختم ہوجائنگے اور ان کی جگہ دوسرے آسمان و زمین نمودار ہوجائیں گے۔۔۔۔۔ اذا السماء النشقت کے الفاظ سے یہاں وہی مضمون بیان ہواہے جو سورۂ انفطار میں اذا السماء انفطرت کے الفاظ سے بیان ہواہے ۔قلعوں اور محلوں پہ نازاں لوگوں کو تنبیہ کہ ایوان اور محل تو درکنار سرے سے یہ آسمان و زمین ہی پاش پاش ہوجائنگے جن کے اندر یہ گھروندے تم نے بنائے ہیں۔(تدبرقرآن)
2۔ حُقَّ لَہُ کے معنی ہیں کہ اس کیلئے واجب ہے کہ وہ ایسا کرے اس کیلئے یہی زیبا ہے کہ وہ یہ کام کرے ۔(تدبرقرآن)
6۔كَدْحٌ کے معنی کسی کام میں پوری مشقت کے ساتھ کوشش کرنے کے ہیں ۔یہ نہایت بلیغ تعبیر ہے اس حقیقت کی کہ انسان جس دن سے وجود میں آتاہے اسی دن سے اس کا سفر خدا کی ٹھہرائی ہوئی منزل یعنی موت کی راہ میں شروع ہوجاتاہے۔اور یہ سفر بلاکسی توقف کے جاری رہتاہے ۔ موسم سخت ہو یا نرم، آدمی مریض ہو یا صحتمند ،حالات مساعد ہوں یا نامساعد، کسی حال میں بھی یہ منقطع نہیں ہوتا،ولادت سے لیکر موت تک بچپن ،مراہقہ ، جوانی، ادھیڑ پن ،پیری اور ناتوانی کے مختلف مراحل آتے ہیں لیکن اس میں ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کیلئے بھی وقفہ نہیں ہوتا انسان قانونِ قدرت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہواہے کہ وہ اس راہ میں نہ بھی چلنا چاہے جب بھی اس کو چلنا پڑے گا اور اس بے بسی میں شاہ اور گدا ، شریف اور وضیع ،امیر و مامور، نیک و بد سب یکساں ہیں ۔(تدبر قرآن)
-فَمُلٰقِیہِ۔یہ اس سفر کی غایت بیان ہوئی ہے ۔فرمایا کہ انسان اس دنیا میں شترِ بے مہار نہیں ہے ۔اس وجہ سے ضروری ہواکہ سب کشاں کشاں اپنے خالق کے حضور میں پہنچیں اور ا س کے آگے پیش ہوں ۔اس پیشی کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتاہے اللہ تعالیٰ نے جس مقصد سے ان کو دنیا میں پیدا کیا اس سے متعلق ان سے سوال ہو کہ وہ انہوں نے پورا کیا یا نہیں ۔چنانچہ آگے اس کی تفصیل ہےکہ بامقصد لوگوں کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں اور بے مقصد لوگوں کے بائیں ہاتھ میں ہونگے۔(تدبرقرآن)
ـــــ رب تک پہنچنے سے پہلے ہر آدمی اپنی استعدادکے مطابق مختلف قسم کی جدوجہد کرتاہے ۔کوئی اس کی اطاعت میں محنت و مشقت اٹھاتاہے، کوئی بدی اور نافرمانی میں جان کھپاتاہے ۔پھر خیر کی جانب میں ہویا شر کی طرح طرح کی تکلیفیں سہہ کر آخر پروردگار سے ملتااور اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوتاہے ۔(تفسیر عثمانی)
ـــــ یہ وہ کیفیت ہے جس آس پہ ایک مومن پوری زندگی گزاردیتاہے ۔اللہ کے احکام کی سربلندی کیلئے اس کو نہ تو جیل میں کوئی مشکل نظرآتی ہے اور نہ کوئی اور مشقت و مصیبت ۔ایک اللہ والے کو بادشاہِ وقت نے ڈرایا کہ ہم تجھے سخت ترین سزادیں گے ۔اس نے کہاکہ اگر تو مجھے جیل میں ڈال دے تو یہ میرا اعتکاف ہوگا ۔اگر تو مجھے ملک سے دیس نکال دے دے تو یہ میری ہجرت ہوگی اور حضورؐ کی سنت پر عمل ۔اگر تو مجھےقتل کردے تو میری تو زندگی ہی اس شہادت کی آرزو میں گزررہی ہے۔تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہوکیونکہ ہرسزا میرا عین مقصود و مطلوب ہے۔(انوار القرآن)
18۔اقسامِ قرآنی کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ الحجر (آیت 76)کا ایک حاشیہ۔(تفسیر ماجدی)
19۔یعنی ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے، بڑھاپے سے موت، موت سے برزخ، برزخ سے دوبارہ زندگی، دوبارہ زندگی سے میدانِ حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بے شمار منزلوں سے لازماً تم کو گزرنا ہو گا۔ (تفہیم القرآن)
21۔ عرب اورمصر میں یہ روایت تھی کہ جب لوگ کسی کی بات کی عظمت اور صداقت کا سچے جوش و جذبہ کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتے تو اس کو سنتے ہی بے تحاشا سجدے میں گرپڑتے ۔فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کی تصدیق میں بطور شکر سجدہ میں گرنے کی بجائے اس کی تکذیب کررہے ہیں۔خدا ان کے احوال سے اچھی طرح واقف ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)