85 - سورة البروج (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 22

مضمون: اہل ایمان کو تختۂ مشق بنانے والوں کو جہنم کی وعید اور اہل ایمان کی دادرسی کا وعدہ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: ایمان لانے کے بعد آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے ۔مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے والے اللہ کے انتقام سے نہیں بچ سکتے ۔کافروں کو جلد از جلد قرآن پر ایمان لانے کی دعوت ۔

نام :    پہلی آیت سے ماخوذ ہے ۔بروج سے مراد مضبوط قلعوں سے ہے۔

شانِ نزول : یہ سورت ،حضورؐ کے قیام مکہ کے تیسرے دور (6تا10نبوی) میں نازل ہوئی جب اصحاب الاخدود کی طرح مسلمانوں پر شدت کے ساتھ ظلم و ستم ہورہاتھا۔قریش کو فرعون اور ثمود کے لشکروں کے انجام سے ڈرایا گیا ۔

نظمِ کلام : سورۂ الملک+اگلی چارسورتیں (البروج، الطارق، الاعلیٰ اور الغاشیہ) قرآن کی دعوت سے متعلق ہیں ۔پہلی میں تکذیب ِ قرآن سے روکا گیا ہے،دوسری میں سنجیدگی کا ذکر ہے اور آخری دوسورتوں میں تذکیر بالقرآن کا ذکر۔

خلاصۂ مضامین: اصحابُ الاُخدود کا قصہ سنایا گیا ہے جنہوں نے ایمان لانے والوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک پھینک کر جلادیا تھا۔(تفہیم القرآن)


وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ  ﴿1﴾ وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ  ﴿2﴾ وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ  ﴿3﴾ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ  ﴿4﴾ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ  ﴿5﴾ اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ  ﴿6﴾ وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ  ﴿7﴾ وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ  ﴿8﴾ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ  ﴿9﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ  ﴿10﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ  ﴿11﴾ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ  ﴿12﴾ اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ  ﴿13﴾ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ  ﴿14﴾ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ  ﴿15﴾ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ  ﴿16﴾ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ  ﴿17﴾ فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ  ﴿18﴾ بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ  ﴿19﴾ وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ  ﴿20﴾ بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ  ﴿21﴾ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠  ﴿22ع البروج 85﴾
1. آسمان کی قسم جس میں برج ہیں۔ 2. اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے۔ 3. اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی۔ 4. کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دیئے گئے۔ 5. (یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا۔ 6. جب کہ وہ ان (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے۔ 7. اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے۔ 8. ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے۔ 9. وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 10. جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا۔ 11. (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے۔ 12. بےشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ 13. وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (زندہ) کرے گا۔ 14. اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے۔ 15. عرش کا مالک بڑی شان والا۔ 16. جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ 17. بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے۔ 18. (یعنی) فرعون اور ثمود کا۔ 19. لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں۔ 20. اور خدا (بھی) ان کو گردا گرد سے گھیرے ہوئے ہے۔ 21. (یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے۔ 22. لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)۔

تفسیر آیات

1۔  آسمان اور اس کے برج:۔  بطلیموسی نظریہ ہئیت کے مطابق فلک ہشتم کو بارہ برجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو دراصل ستاروں کے جھرمٹ  یا مجمع النجوم (Constellations) ہیں۔ جنہیں دیکھنےسے ایک مخصوص تصور یا شکل ذہن میں آجاتی ہے۔ ان برجوں کے ناموں سے ہی ان کی شکلوں کا کچھ نہ کچھ تصورذہن میں آجاتاہے۔ان کے نام درج ذیل شعر میں منظوم کیے گئے ہیں۔

حمل و ثور و جوزا،سرطان و اسد

سنبلہ، میزان،عقرب،قوس،جدی، دلو و حوت

انہیں برج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا: "اور ہم نے  آسمان میں برج بنائے اور انہیں آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے سجا دیا"اب اگر ایک عام قاری اس آیت میں بروج] کے لفظ سے وہی بارہ برج مرادلیتاہے جو اہل ہئیت نے فلک ہشتم پر بنارکھے ہیں تو یہ اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیا ق و سباق اس بات کی تائید نہیں کرتاکیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان،بچھو،ترازو اور ڈول کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں۔ جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم ہر نمایاں طورپر ظاہر ہونے والی چیز کو برج کہہ سکتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

آیت نمبر (2)میں "الیوم الموعود"سے مراد تو قیامت کا دن ہے مگر آیت نمبر 3 میں شاہد اور مشہود کی تعبیر میں بہت اختلاف  واقع ہواہے۔کسی نے کہاہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے جو ہر قریہ اور ہرشہر میں ہر جگہ حاضر ہوتاہے۔اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ جب کہ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں کسی نے کہاشاہد سے مراد یوم النحر اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ربط مضمون کے لحاظ سے یہی تعبیر معلوم ہوتی ہے کہ مشہودسے مراد بھی قیامت کا دن ہو اور شاہد سے مراد قیامت کے دن اکٹھا کی جانے والی خلقت سے ہر فرد مراد ہو جو قیامت اور اس کی ہولناکیوں کو بچشم خود ملاحظہ کررہاہو۔اور چوتھا مفہوم یہ ہے کہ شاہد سے مراد انبیاء اور صلحاء لیے جائیں اور مشہود سے مراد ان کی قومیں جن پر وہ گواہی دے کر ان پر حجت قائم کریں گے۔(تیسیر القرآن)

ــــ برج سے مراد آسمان کے اندر وہ قلعے ہیں جہاں سے شیاطین کو شہاب ثاقب کی مارپڑتی ہے تاکہ وہ غیب کے اسرار کی سن گن نہ لے سکیں۔'وعدہ کیا ہوا دن'روزقیامت ہے۔'دیکھنے والے'اور'دیکھی ہوئی'سے مراد قیامت کے تمام دلائل و شواہد بھی ہیں اور وہ سب بھی جو قیامت کے روز انسان کے خلاف گواہی دیں گے۔ان میں سے ہر چیز کی شہادت قیامت کے حق میں ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

4۔ اخدودکے معنی کھڈ ،کھائی اور گڑھے کے ہیں ۔اس کی وضاحت النارِ ذات الوقود سے فرمادی گئی ہے یعنی یہ گڑھے ایندھن والی آگ سے بھرے ہونگے۔(تدبرقرآن)

 یہ تصویر ہے قریش کے بدبخت لیڈروں کے انجام کی ۔ ان کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے اذیتوں کا تختۂ مشق بنائے رکھا تو وہ جہنم کی اس خندق میں پھینکے جائیں گے جو کبھی نہ بجھنے والی آگ سے بھری ہوگی اور اس سے پہلے ان کو اس خندق کے کنارے پر بٹھا کر ان کے ٹھکانے کا نظارہ کرایا جائے گا تاکہ ان کی اذیت میں اضافہ ہو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــ اصحاب الاخدود کاقصہ اور ذونواس یہودی بادشاہ:۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:۔صہیبؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ایک بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اسے غیب کی خبریں دیا کرتاتھا ۔کاہن نے بادشاہ سے کہا کہ ایک ذہن و فطین لڑکا تجویز کرو جسے میں یہ علم سکھا دوں،مجھے خطرہ ہے کہ مرجاؤں تو یہ علم ہی نہ اٹھ جائے اور تم میں اس کا کوئی استاد نہ رہے۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا لڑکا تجویز کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ ہرروز اس کے پاس حاضر ہواکرے۔چنانچہ وہ لڑکا اس کاہن کے ہاں آنے جانے لگا ۔اس لڑکے کے راستے میں ایک گرجا میں ایک راہب رہتاتھا۔معمر راوی کہتاہے کہ میرے خیال میں ان دنوں ایسے عبادت خانوں کے لوگ ہی مسلمان تھے۔ وہ لڑکا جب اس راہب کے پاس سے گزرتا تو اس سے دین کی باتیں پوچھتاتاآنکہ راہب نے اسے بتایا۔ میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتاہوں۔ اب لڑکا راہب کے پاس زیادہ دیر رہنے لگا اور کاہن کے ہاں دیر سے پہنچتا ۔کاہن نے اس کے گھروالوں کو کہلا بھیجا کہ لڑکا میرے پاس کم ہی آتاہے۔ لڑکے نے راہب کو یہ بات بتائی تو راہب نے اسے کہا ۔جب کاہن تم سے پوچھے کہ کہاں رہے  توکہہ دینا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس تھا اور اگر گھروالے پوچھیں توکہہ دینا کہ میں کاہن کے پاس۔کچھ وقت اسی طرح گزرا ۔پھر ایک دفعہ یوں ہوا کہ کسی جانور نے بہت سے لوگوں کی راہ روک دی۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ جانور شیر تھا۔ لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور کہنے لگا ۔یا اللہ! جو کچھ راہب کہتاہے اگر یہ سچ ہے تو میں تجھ سے سوال کرتاہوں کہ تو(اس پتھر سے)اس (جانور )کو ہلاک کردے۔پھر اس نے پتھر جو پھینکا تو جانور مرگیا۔لوگ پوچھنے لگے۔"اس جانور کو کس نے ماراہے؟"کسی نے کہا ،"اس لڑکے نے" اب لوگ گھبرائے اور کہنے لگے کہ اس لڑکے نے تو ایسا علم سیکھا ہے جو کوئی بھی نہیں جانتا"یہ بات ایک اندھے نے سنی تو لڑکے سے کہا: "اگر تو میری آنکھیں لوٹا دے تو میں تمہیں بہت مال و دولت دوں گا"لڑکے نے کہا:"مجھے مال و دولت کی ضرورت نہیں البتہ اگر تیری بینائی لوٹ آئے تو کیا تو اس ذات پر ایمان لائے گا جس نے بینائی کو لوٹایا؟"اندھا کہنے لگا "ہاں"چنانچہ لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اس کی بینائی لوٹ آئی ۔پھر اندھا بھی ایمان لے آیا ۔ جب بادشاہ کو یہ خبر پہنچی تو اس نے سب کو بلایا اور کہا کہ میں تم کو الگ الگ طریقےسے مار ڈالوں گا۔ چنانچہ راہب کو تو آرے سے چرواڈالا اور اندھے کو کسی اور طرح  سے مرواڈالا۔ پھر اس لڑکے کے لیے حکم دیا کہ اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور چوٹی پر جاکر اسے نیچے گرادو۔چنانچہ جب وہ اس چوٹی پر پہنچے جہاں سے لڑکے کو گرانا چاہتے تھے تو وہ خود گرنے لگے اور لڑکے کے سوا چوٹی پر کوئی نہ رہا۔وہ لڑکا بادشاہ کے پاس آگیا تو اب اس نے حکم دیا کہ اب اسے دریا میں لے جاکر (کشتی  سے گراکر)ڈبودو۔اب بھی اللہ نے ان لوگوں کو غرق کردیا اور لڑکے کو بچالیا۔ اب لڑکا بادشاہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ:اگر تم مجھے مارنا ہی چاہتے ہو تو اس کی صرف یہی صورت ہے کہ مجھے سولی پر لٹکا کر تیرمارو اور تیر مارتے وقت یوں کہو۔ "اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا پروردگار ہے"۔چنانچہ اس نے ایسا ہی حکم دیا ۔پھر لڑکا سولی چڑھایا گیا پھر اس نے یہ کہہ کر تیر مارا۔"اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا پروردگار ہے"چنانچہ جب لڑکے کو تیر لگا تو اس نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور مرگیا۔اب لوگ کہنے لگے۔"یہ لڑکا تو وہ علم جانتا تھا جو کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لاتے ہیں"لوگوں نےبادشاہ سے کہا :"تم توتین آدمیوں کی مخالفت سے گھبراگئے تھے۔"اب یہ سارے لوگ تمہارے مخالف ہوگئے ہیں" پھر بادشاہ نے بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں اور اس میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگادی۔پھر لوگوں کو اکٹھا کرکے کہنے لگا:"جو شخص اپنے (نئے)دین سے باز آتاہے اسے تو ہم چھوڑ دیں گے اور جو نہ پھرے اسے ہم آگ میں ڈال دیں گے"پھر وہ مومنوں کو ان خندقوں میں ڈالنے لگا۔آپؐ نے فرمایا: اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہلاک ہوئے خندقوں والے۔وہ آگ تھی بہت ایندھن والی تاآنکہ آپ نے عزیز الحمید تک پڑھا ۔پھر فرمایا اور وہ لڑکا جو تھا وہ دفن کیا گیا ۔راوی کہتاہے کہ اس لڑکے کی نعش سیدنا عمر بن خطابؓ کے زمانہ میں نکالی گئی اوروہ انگلی اپنی کنپٹی پر رکھے ہوئے تھا جیسے اس قتل کے وقت رکھی تھی (ترمذی۔ابواب التفسیر )۔(تیسیر القرآن)

ــــ تلمیح ایک واقعۂ تاریخی کی جانب ہے،جس سے معاصر اہل عرب خوب واقف تھے۔ 523ء میں یعنی ولادتِ محمدیؐ سے کوئی 47 سال قبل ملک یمن(جنوبی عرب) کافرماں روا ایک جابر و قاہر زرعہ ذونواس تھا۔ جس کا دوسرا نام یوسف بھی تھا، اس نے مذہب یہودیت اختیار کیا اور اس نئے مذہب میں اس نے وہ غلو و شدت پیدا کی کہ جو کوئی یہودیت نہ اختیار کرتا اُسے وہ ہلاک کرڈالتا۔وہ دور حضرت مسیحؑ کی صحیح تعلیم کا تھا اور کچھ مسیحی اس وقت موجود تھے، نصرانیوں پر اس نے خاص طورسے ظلم شروع کیے اور شہر نجران میں ایک بڑی خندق کھدواکر اس میں آگ دہکادی کہ جو کوئی قبول یہودیت سے انکار کرے اُسے اس میں جھونک دیا جائے اور ایک مدت تک اس کا یہ عملِ تحریق جاری رہا۔ چنانچہ مؤرخوں نے اس کے کشتوں کی تعداد ہزار ہاکی لکھی ہے۔نصرانیوں نے اپنی فریاد شہنشاہ جسٹنین (رومہ)تک پہنچائی ، اس کی تحریک و ایماپر حبشہ کے مسیحی فرماں روا نجاشی نے یمن پر حملہ کردیا۔ذونواس کو شکست ہوئی ،گھوڑے پر سوار ہوکر بھاگا اور سمندر میں ڈوب گیا۔ ظلم و تعدی کی تاریخ میں ذونواس کی تعدی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے،اور تفسیر کبیر میں قفال کے حوالے سے ہے کہ یہ واقعہ کہیں بھی پیش آیا ہو،بہرحال قریش کے لیے ایک معلوم و معروف واقعہ تھا،اور اس کے ذکر سے مقصود انہی کی تذکیر و تنبیہ ہے۔(کبیر،ج31/ ص:108)(تفسیر ماجدی)

یمن میں حمیری خاندان کا ایک بادشاہ ذونواس بڑا متعصب یہودی تھا۔چھٹی صدی عیسوی میں یہ بادشاہ بنا اور متعصب یہودی ہونے کی بناپر عیسائیوں کا سخت دشمن تھا۔(تیسیر القرآن)

10۔ لفظ فتنہ یہاں خاص کر اس ظلم و ستم کیلئے آیا ہے جو کسی پر اس کے دین سے پھیرنے کیلئے کیا جائے ۔اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بار بار آیا ہے۔(تیسیر القرآن)

15۔ عرش کے معنی مالک و سلطنت کے بھی کیے گئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)