86 - سورة الطارق (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 17

مضمون:   روز جزاو سزا مسخری کی چیز نہیں۔اس کے ظہور میں دیر تمہارے لیے ڈھیل کے طورپرہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: انسان کو اللہ کے سامنے حاضر ہوکر اعمال کا حساب دینا ہوگا۔قرآن قولِ فیصل ہے ۔اس کے فیض سے روحیں سیراب ہوکررہیں گی۔

خلاصۂ مضامین: اس میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو مرنے کے بعد خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ دوسرے یہ کہ قرآن ایک قول فیصل ہے جسے کفار کی کوئی چال اور تدبیر زک نہیں دے سکتی۔)تفہیم القرآن(

نام: اس کی پہلی آیت والسماء والطارق سے یہ نام ماخوذ ہے ۔طارق سے مراد ہے چمکتاہوا تارہ ۔

شانِ نزول: اس مضمون کا اندازِ بیان مکہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں سے ملتاجلتاہے جب کفار ِ مکہ قرآن اور محمدؐ کو زک دینے کیلئے ہر طرح کی چالیں چل رہے تھے۔

نظمِ کلام:سورۂ البروج ۔۔۔۔۔(سورۂ الملک)


وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ  ﴿1﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ  ﴿2﴾ النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ  ﴿3﴾ اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ  ﴿4﴾ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ  ﴿5﴾ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ  ﴿6﴾ یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ  ﴿7﴾ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ  ﴿8﴾ یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ  ﴿9﴾ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ  ﴿10﴾ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ  ﴿11﴾ وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ  ﴿12﴾ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ  ﴿13﴾ وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ  ﴿14﴾ اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ  ﴿15﴾ وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ  ﴿16﴾ فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا ۠  ﴿17ع الطارق 86﴾
1. آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم۔ 2. اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے۔ 3. وہ تارا ہے چمکنے والا۔ 4. کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں۔ 5. تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے۔ 6. وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے۔ 7. جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے۔ 8. بےشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے۔ 9. جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے۔ 10. تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا۔ 11. آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے۔ 12. اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے۔ 13. کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے۔ 14. اور بیہودہ بات نہیں ہے۔ 15. یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں۔ 16. اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں۔ 17. تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو۔

تفسیر آیات

3۔  شہاب ثاقب کی حقیقت:۔  اس مقام پر "النجم الثاقب"کا لفظ آیا ہے ۔دوسرے مقام پر "شھاب ثاقب"اور تیسرے پر"شھاب مبین" کا اور مراد سب سے ایک ہی ہے ۔شہاب ایسے انگارہ کو کہتے ہیں جس میں چمک اور شعلہ دوچیزیں موجود ہوں خواہ یہ آگ کا انگارہ ہو یا آسمان یا فضا میں پایا جائے اور ثاقب میں تیزی آرپار ہوجانے اور آگ کی طرح کی سرخ روشنی کا تصور پایا جاتاہے۔جبکہ عام ستاروں کی روشنی چاند کی روشنی کی طرح سفید ہوتی ہے۔گویا "النجم الثاقب"میں تین چیزیں جمع ہوگئیں۔ ایک وہ تیزی سے فضامیں سفر کررہاہو۔ دوسرے اس میں چمک موجود ہو اور تیسرے وہ چمک آگ کی طرح سرخی کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ ہم اسے اپنی زبان میں ٹوٹنےوالا تارہ کہتے ہیں علاوہ ازیں یہاں واحد کا صیغۂ استعمال کرکے اس سے جنس مرادلی گئی ہے۔اور ایسے ستارے سینکڑوں کی تعداد میں فضا میں ٹوٹتے اور پھر ہماری نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔نہ وہ دوسرے ستاروں سے ٹکرا کر نظام کائنات کو درہم برہم کرتے ہیں اور نہ زمین پر گر کر زمین پر قیامت برپا کیے رکھتے ہیں۔البتہ مدتوں بعد کوئی ایسا ستارہ زمین پر گر کر زمیں میں کھڈا  ڈال بھی دیتاہے۔لیکن یہ بھی ایک عذاب الٰہی کی شکل اور خرق عادت امر ہوتاہے۔ایسے ٹوٹنے والے ستاروں کے متعلق شرعی نقطۂ نظریہ ہے کہ جب کوئی جن یا شیطان اوپر ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کے لیے جاتاہے تو اس پر ایسا شعلہ دار ستارہ پھینک کر اسے وہاں سے مار بھگایا جاتاہے۔(تیسیر القرآن)

۔نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہےجو زمیں و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے۔ (تفہیم القرآن)

یعنی اس دن صرف ظاہری اقوال و اعمال ہی زیربحث نہیں آئیں گے بلکہ مخفی اعمال ،دلوں کے کھوٹ اور نیتوں کے فساد بھی پرکھے جائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

11۔ یا بارش لانے والے کی۔)تفسیر عثمانی(

ــــ اہل لغت کے مطابق رَجْعٌ سے مراد وہ بارش ہے جو یکے بعد دیگرے ہوتی اور زمین کو زندگی اور شادابی بخشتی ہے۔(تدبرقرآن)

12۔ یعنی اس میں سے پھوٹ نکلتے ہیں کھیتی اور درخت۔(تفسیر عثمانی)

ــــ  صدْع ٌکے معنیٰ پھٹنے کے ہیں ۔یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں اور وہ پانی جذب کرکے پھول جاتی اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے۔(تدبرقرآن)

13۔اِنّہُ لَقَولٌ فَصلٌ ، یعنی قرآنِ کریم ایک فیصلہ کن قول ہے جو حق و باطل میں فیصلہ کرتا ہے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ (معارف القرآن)

16۔ واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی چال یا خفیہ تدبیرکو لفظ کید سے تعبیر فرمایا پھر اس کے ردعمل کو اپنی طرف منسوب فرماکر اس کے لیے بھی کید کا لفظ استعمال فرمایا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو کسی چال یا خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کسی بھی کام کے ردعمل کو اسی لفظ سے تعبیر کردیتے ہیں خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔اسے مشاکلہ کہتے ہیں اور اس کی وضاحت پہلے بھی کئی مقامات پر کی جاچکی ہے۔(تیسیر القرآن)

17۔یہاں کلام کا یہ پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ڈھیل دینے کی ہدایت پیغمبر ﷺ  کو فرمائی جا رہی ہے  جس سے یہ بات نکلتی ہے  کہ اب ان کی قسمت کی  باگ دراصل پیغمبر ہی کے ہاتھ میں خدا نے دے دی ہے۔  البتہ وہ پسند یہ فرماتا ہے کہ پیغمبر ان کو ذرا سی ڈھیل مزید دے دیں۔ (تدبرِ قرآن)