87 - سورة الاعلیٰ (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 19

مضمون: نبیؐ کو تسلی کہ ایک تدریج کے ساتھ تم پر اللہ کی نعمت تمام ہوگی۔خداسے ڈرنے والے اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: اس سورت کے مرکزی مضامین توحید، رسالت اور آخرت ہیں۔ حضورؐ سے کہا گیا کہ تسبیح اور تذکیر بالقرآن جاری رکھئے۔اہل خشیت قرآن کی دعوتِ تذکیر سے فائدہ اٹھاکر تزکیۂ نفس کے پروگرام پر عمل کریں گے ۔دنیا ان کی راہ میں حائل نہیں ہوسکے گی۔

خلاصۂ مضامیناس مختصر سورۃ میں ان تین مضامین کا ذکر ہے:توحید۔رسالت اور آخرت۔ الف۔توحید: اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا حکم ہے جو ہر قسم کے عیب، کمزوری اور نقص سے پاک ہے۔ اس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا۔وہ نباتات کو پیدا کرتاہے اور پھر اسے خس و خاشاک بناتا ہے۔ب۔رسالت: نبی کریمؐ کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن کو نازل کرنا،اس کو آپؐ کے سینے میں محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آپؐ اس سلسلے میں قطعاً فکر مند نہ ہوں۔ آپؐ کا کام لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے۔ اس کے بعد جس کا جی چاہے،اسے قبول کرے اور اگر کوئی شخص اس دینِ حق کو نہ مانے اس کی ذمہ داری آپؐ پر نہیں۔ ج۔آخرت: آخرت میں کامیابی اور فلاح ان لوگوں کے لیے ہوگی جو عقائد و اعمال میں پاکیزگی اختیار کریں۔عملی زندگی میں اپنے رب کی یاد کے لئے نماز پڑھیں ، کیونکہ یہ دنیا فانی ہے اور اس کی خبر اس سے قبل ابراہیم اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں بھی موجود تھی۔)انوار القرآن(

شانِ نزول: سورۂ الاعلیٰ ،قیام مکہ کے پہلے دور (0تا3 نبوی) میں آپؐ پر نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی اور جب آپؐ وحی سن کر یاد کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے ۔آپؐ جمعہ اور عیدین کی پہلی رکعت میں سورۂ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے(مسلم)وتر کی پہلی رکعت میں بھی آپؐ سورۂ الاعلیٰ پڑھتے تھے (نسائی) چونکہ ان میں آپؐ کو تذکیر کا حکم ہے اور جمعہ و عیدین کی نمازیں دراصل خطبہ ہیں اور قیام اللیل میں بھی تذکیر کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

نظمِ کلام: سورۂ البروج،(الملک)  اور سورۂ الاعلیٰ میں قریش کے ہٹ دھرموں سے صرفِ نظر کرکے براہِ راست حضورؐ سے خطاب فرمایا ۔خطاب کی یہ تبدیلی آگے کی دس سورتوں میں (سورۂ الاعلیٰ سے سورۂالعلق تک) نمایاں ہے۔  ان میں مخالفین سے کوئی بات کہی گئی ہے تو ضمناً ۔

4۔ آیات 14 تا 15: (a)کامیابی"فلاح"کے لیے ،محنت درکار ہوتی ہے۔(b)کامیابی کے لیے ،"نفس کا تزکیہ"ضروری ہے۔(c)تزکیے کے لیے۔"ذکر الٰہی"کا اہتمام لازمی ہے۔(d)ذکرالٰہی کے لیے،"نماز"کا التزام ضروری ہے۔کاش ہماری نماز ذکر والی نماز بن جائے ،اللہ کی یاد والی نماز بن جائے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ  ﴿1﴾ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ  ﴿2﴾ وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ  ﴿3﴾ وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ  ﴿4﴾ فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ  ﴿5﴾ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ  ﴿6﴾ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ  ﴿7﴾ وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚ ۖ ﴿8﴾ فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ  ﴿9﴾ سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ  ﴿10﴾ وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ  ﴿11﴾ الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ  ﴿12﴾ ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ  ﴿13﴾ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ  ﴿14﴾ وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ  ﴿15﴾ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ  ﴿16﴾ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ  ﴿17﴾ اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ  ﴿18﴾ صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠  ﴿19ع الأعلى 87﴾
1. (اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو۔ 2. جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا۔ 3. اور جس نے (اس کا) اندازہ ٹہرایا (پھر اس کو) رستہ بتایا۔ 4. اور جس نے چارہ اگایا۔ 5. پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کر دیا۔ 6. ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے۔ 7. مگر جو خدا چاہے۔ وہ کھلی بات کو بھی جانتا ہے اور چھپی کو بھی۔ 8. ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے۔ 9. سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع (ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو۔ 10. جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا۔ 11. اور (بےخوف) بدبخت پہلو ْتہی کرے گا۔ 12. جو (قیامت کو) بڑی (تیز) آگ میں داخل ہو گا۔ 13. پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ 14. بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا۔ 15. اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔ 16. مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔ 17. حالانکہ آخرت بہت بہتر اور پائندہ تر ہے۔ 18. یہ بات پہلے صحیفوں میں (مرقوم) ہے۔ 19. (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔

تفسیر آیات

1۔ علماء نے فرمایا ہے کہ قاری جب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى کی تلاوت کرے تو مستحب ہے کہ یہ کہے سبحان ربی الاعلیٰ ۔(معارف القرآن)

ــــ احادیث میں حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے منقول ہے کہ حضورؐ نے سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنے کا حکم اسی آیت کی بناپر دیاتھا۔ اور رکوع میں سبحان ربی العظیم کا طریقہ سورۂ واقعہ کی آخری آیت فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ پر مبنی تھا(مسند احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ، ابن حیان،حاکم، ابن المنذر)۔(تفہیم القرآن)

ــــ تسبیح کی سب سے اعلیٰ اور معیاری شکل تو نماز ،بالخصوص شب کی نماز ہے لیکن جس طرح سانس انسان کی مادی زندگی کیلئے ہروقت ضروری ہے اسی طرح اللہ کی یاد اس کی روحانی زندگی کیلئے ہر وقت ضروری ہے۔(تدبر قرآن)

2۔ اب اس آیت اور آگے کی چند آیات میں خدائے برتر کی چند صفات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کے ہرکام میں ایک ترتیب و تدریج ہوتی ہے جو یکسر اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔(تدبرقرآن)

3۔ یعنی ہر چیز کے پیداکرنے سے پہلے یہ طے کردیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اس کام کیلئے اس کی مقدار کیا ہو،اس کی شکل کیا ہو، اسکی صفات کیاہوں ،اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کیلئے بقا اور قیام اور فعل کیلئے کیا مواقع اور ذرائع فراہم کئے جائیں ۔کس وقت وہ وجود میں آئے ،کب تک اپنے حصے کا کام کرے اور کب کس طرح ختم ہوجائے ۔اس پوری سکیم کا مجموعی نام اس کی "تقدیر" ہے۔اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تخلیق کسی پیشگی منصوبے کے بغیر کچھ یونہی الل ٹپ نہیں ہوگئی۔(الحجر، حواشی13-14،الفرقان حاشیہ:8، القمر،حاشیہ:25،عبس، حاشیہ:12)(تفہیم القرآن)

ــــ اگر آپ ایک بطخ کا انڈہ اور ایک مرغی کا انڈہ لیں ۔دونوں سے بیک وقت بچے نکلیں ۔گر آپ ان کے سامنے پانی کا کھلا برتن رکھ دیں تو بطخ کا بچہ فوراً اس میں کود جائے گا اور مرغی کا بچہ دور ہٹ جائے گا۔(ضیاء القرآن)

ــــ  چاروں صفات ِ الٰہی : تخلیق ،تسویہ،تقدیر و ہدایت کا تعلق جمیع مخلوق سے ہے۔(تفسیر ماجدی)

4۔ (اقتضائے حکمت سے)۔پہلی مثالوں کا خصوصی تعلق حیاتِ حیوانی میں تصرفات سے تھا،اب بیان حیاتِ نباتی میں تصرفات کا ہے۔ اَخْرَ جَ الْمَرْعٰى۔ اشارہ چارے کی سبز و شاداب حالت کی جانب ہے۔ غُثَآءً اَحْوٰى۔ سرسبزی اپنے کمال پر پہنچنے کے بعد پھر سیاہی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔اسی طرح ہرشباب کے بعد شیب کی منزل آتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

غُثَآءً اَحْوٰی  کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں لفظ ’غثاء‘ تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ’اَحْوٰی‘ ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوش نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور باغوں کی صفت کے طور پر بکثرت استعمال ہوا ہے اور بلااستثنا ہر جگہ ان کی سرسبزی کی شدت اور گھنے پن کو ظاہر کرنے ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ پھر یہیں سے بطور استعارہ یہ کڑیل، صحت مند گل تر کی صورت کھلے ہوئے جوان کے لیے بھی استعمال ہوا۔ (تدبرِ قرآن)

6۔’اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ‘۔ یعنی اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ چیزیں ہیں جو وقتی اور ہنگامی نوعیت کی ہیں۔ ان کی مدت پوری ہو جانے کے بعد خود اللہ تعالیٰ ہی بتا دے گا کہ ان کی مدت پوری ہو گئی۔ یہ اشارہ ان احکام کی طرف ہے جو وقتی اور عارضی تھے اور جو بعد میں منسوخ ہو گئے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ۔استثناء سے مراد نسیان کی قلت و ندرت ہے، نہ کہ اس کی مطلق نفی ۔اور یہ دستور کلام ِ عرب میں عام ہے۔(تفسیر ماجدی)

اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔مثلاً ایک یہ کہ آپ کو بلاتکلیف سہولت کے ساتھ قرآن یادرہے گا۔دوسرا یہ کہ ہم آپؐ کو آسان اور سہل شریعت پر چلائیں گے۔ تیسرا یہ کہ شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہم آپؐ کے لیے آسان بنادیں گے۔چوتھا یہ کہ اسلام کے راستہ  سے ہم تمام رکاوٹوں کو دور کردیں گے اور کامیابی کی راہ پرگامزن ہونا آپ کے لیے آسان بنادیں گے۔پانچواں یہ کہ آپؐ کی ذمہ داری بس اتنی ہی ہے کہ آپؐ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیں ۔اس سے آگے کسی مشکل میں پڑنا یا بہ جبر لوگوں کو اسلام کی طرف لانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔(تیسیر القرآن)

10۔  سَیَذَّكَّرُ میں س تاکید کا ہے۔(تفسیر ماجدی)

13۔یعنی نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے، اور نہ جینے کی طرح جیے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ اور اس کے رسول کی نصیحت کو قبول ہی نہ کریں اور مرتے دم تک کفر و شرک یا دہریت پر قائم رہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں موت دے دے گا، پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں جنت کی نہروں پر لا کر ڈالی جائیں گی اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس پانی سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے نباتات پانی پڑنے سے اگ آتی ہیں۔ یہ مضمون رسول اللہ ﷺ سے مسلم میں حضرت ابو سعید خدری اور بزّار میں حضرت ابوہریرہ کے حوالہ سے منقول ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)

14۔ پاکیزگی سے مراد کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانا ،برے اخلاق  چھوڑ کر اچھے اخلاق اختیار کرنا اور برے اعمال چھوڑ کر نیک اعمال کرنا۔فلاح سے مراد دنیوی خوشحالی نہیں بلکہ حقیقی کامیابی ہے خواہ دنیا کی خوشحالی اس کے ساتھ میسر ہو یا نہ ہو(یونس،حاشیہ:23،المومنون حواشی:1 ،11، 50،لقمان،حاشیہ: 4)(تفہیم القرآن)

ــــ یعنی جس نے اپنے آپ کو کفرو شرک ،عقائد فاسد ہ سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔یہاں بعض لوگوں نے تزکٰی سے مراد زکوٰۃ اور بالخصوص صدقہ فطر اور "وذکراسم ربہ"سے مراد تکبیرات عیدین اور فصلیٰ سے مراد نماز عید لی ہے۔اور اگر اس آیت کو اس کے عام مفہوم میں لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ یعنی جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنالے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتارہے اور دل میں بھی یادرکھے ۔پھر اسی کی تائید کے طورپر باقاعدگی سے نمازیں اداکرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنورگئی اور کامیاب ہوگیا۔یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تویقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے کیونکہ دارالجزا آخرت ہے یہ دنیا نہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى سے آخر سورت تک اگلی کتابوں میں بھی مذکور ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہوا ،نہ بدلا گیا ،اس اعتبار سے زیادہ مؤکد ہوگیا۔(تفسیر عثمانی)

 15 ۔  یہ اس تزکیہ کی اولین علامت بھی ہے اور اس کا اصل طریقہ بھی ۔تمام علم کا سرچشمہ درحقیقت اسمائے الٰہی ہیں۔اسمائے الٰہی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے رب کی صفات کیا ہیں ۔اور پھر انہی سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ان صفات کی روشنی میں ہمارے عقائد کیا ہونے چاہئیں اور وہ عقائد ہمارے اوپر ہمارے رب اور اس کے بندوں سے متعلق کیا حقوق و فرائض عائد کرتے ہیں ۔گویا نماز کا ذکریہاں ایمان باللہ کے اولین مظہر کی حیثیت سے ہواہے ۔اور پھر یہی نماز تمام شریعت کی اساس بھی ہے اور اس کی محافظ بھی( مزید تفصیل کیلئے سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات کی تفسیر)۔(تدبرقرآن)

18۔      یعنی جو صحائف سیدنا ابراہیمؑ کو عطاہوئے اور سیدنا موسیٰؑ کوتورات سے پہلے عطاہوئے(جوکہ بعض اقوال کے مطابق دس   ہیں)ان میں یہ مضمون قد افلح سے خیر و ابقی تک مذکور تھا۔یہ مضمون نہ کبھی منسوخ ہوا اور نہ بدلا گیا۔(تیسیر القرآن)

19۔ صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ۔ ابراہیمی نوشتے آج بھی اسی طرح گم ہیں جیسے اور بہت سے انبیاء کے نوشتے ۔البتہ 1892ء میں ایک قدیم ابراہیمی صحیفہ کا ترجمہ ایم آر جیمس نے یونانی زبان سے کرکے شائع کیا تھا، پھر اور فرنگی زبانوں میں اس کے اڈیشن نکلےتھے،ملاحظہ ہو ،حاشیۂ تفسیر انگریزی۔۔۔۔۔ وَ مُوْسٰى۔ صحف موسیٰؑ سے مراد وہی صحیفے ہوسکتے ہیں جو حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئے تھے ۔موجودہ عہد عتیق کے ابتدائی پانچ صحیفے انہی صحف موسیٰؑ کی محرف یادگاریں ہیں۔(تفسیر ماجدی)