89 - سورة الفجر (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 30 |
مضمون: دنیادار الامتحان ہے۔ اس میں تنگی و فراخی کے حالات میں انسان صبر اور شکر کے امتحان سے دوچار ہے۔ قریش اس امتحان میں ناکام ہورہے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: سورۃ کا مرکزی مضمون تو حید و آخرت پر مشتمل ہے ۔طاقتور قوموں میں سے عاد و ثمود اور فرعون کا تذکرہ کرکے ان کی بغاوت و سرکشی پر سرزنش کی گئی ہے ۔پھر جس انجام سے یہ سرکش قومیں دوچار ہوئیں ،اس کا نقشہ بھی کھینچا گیا۔اس سورۃ اور اگلی سورۃ (البلد) میں عدل اجتماعی کی ترغیب ہے۔
شانِ نزول: سورۃ الفجر ،حضورؐ کے قیام مکہ کے تیسرے دور (6تا 10 نبوی) میں نازل ہوئی ۔جب مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی تھی ۔قریش کو عاد و ثمود اور فرعون کے انجام سے ڈرایا گیا اور بتایا گیا کہ اللہ گھات میں ہے۔
نظمِ کلام: سورۃ الملک+سورۃ الاعلیٰ
| وَ الْفَجْرِۙ ﴿1﴾ وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ ﴿2﴾ وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ ﴿3﴾ وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ ﴿4﴾ هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ ﴿5﴾ اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ ﴿6﴾ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ ﴿7﴾ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ ﴿8﴾ وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ ﴿9﴾ وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ ﴿10﴾ الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ ﴿11﴾ فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ ﴿12﴾ فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ ﴿13﴾ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ ﴿14﴾ فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ ﴿15﴾ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ ﴿16﴾ كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ ﴿17﴾ وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ ﴿18﴾ وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ ﴿19﴾ وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ ﴿20﴾ كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ ﴿21﴾ وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ ﴿22﴾ وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ ﴿23﴾ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ ﴿24﴾ فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ ﴿25﴾ وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ ﴿26﴾ یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ ﴿27﴾ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ ﴿28﴾ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ ﴿29﴾ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ ﴿30ع الفجر 89﴾ |
| 1. فجر کی قسم۔ 2. اور دس راتوں کی۔ 3. اور جفت اور طاق کی۔ 4. اور رات کی جب جانے لگے۔ 5. اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)۔ 6. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا۔ 7. (جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد۔ 8. کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ 9. اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے۔ 10. اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا۔ 11. یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے۔ 12. اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے۔ 13. تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا۔ 14. بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے۔ 15. مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی۔ 16. اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا۔ 17. نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے۔ 18. اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو۔ 19. اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ 20. اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو۔ 21. تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پست کر دی جائے گی۔ 22. اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے۔ 23. اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا)۔ 24. کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ 25. تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا۔ 26. اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔ 27. اے اطمینان پانے والی روح! 28. اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ 29. تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا۔ 30. اور میری بہشت میں داخل ہو جا۔ |
تفسیر آیات
1۔ الفجر سے مراد ذی الحجہ کی دسویں یعنی یوم النحر کی صبح (یوم الفجر کے ساتھ کوئی اور رات نہیں) تفصیل: صفحہ 738۔(معارف القرآن)
2۔ لیال عشر یعنی دس راتیں ( ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں(۔اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ہر رات شبِ قدر کے برابر۔روہ الترمذی و ابن ماجہ بسند ضعیف عن ابی ھریرہؓ)تفصیل: صفحہ 739۔(معار ف القرآن)
ــــ دس راتوں سے مراد بعض مفسرین نے رمضان کا آخری عشرہ لیا ہے۔جن میں لیلۃ القدر ہوتی ہے اور بعض مفسرین نے فجر سے عام فجر نہیں بلکہ یوم النحر یا عید الاضحیٰ کی فجر مراد لی ہے اور دس راتوں سے مراد یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک کی راتیں ہیں اور یہ دونوں قسم کی دس دس راتیں بڑی فضیلت والی اور اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔(تیسیر القرآن)
5۔ فجر سے مراد آغاز صبح کا وقت ہے۔'دس راتوں'سے مراد چاند کے عروج و زوال کی دس دس راتیں ہیں۔آخری عشرہ کبھی جفت ہوتا ہے کبھی طاق۔جفت اور طاق سے کائنات کی اشیاء کے جوڑے سے پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔رات کا رخصت ہونا سپیدۂ صبح کی نوید لاتاہے۔یہ چیزیں شاہد ہیں کہ کائنات کی ہرشے خدا کے ہاتھ میں مسخر ہے۔اس کے ہر کام میں ایک تدریج ہے۔اشیاء اپنے جوڑوں کے ساتھ مل کر مقصد کو حاصل کرتی ہیں۔ انسان بھی دنیا کے بعد آخرت کے انجام سے دوچار ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔۔۔۔کسی صاحب عقل کے لیے اس میں کوئی قسم ہے ؟ یعنی کیا اس حق بات پر شہادت دینے کے لیے اس کے بعد کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ کیا یہ قسم اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ ایک ہوشمند انسان اس بات کو مان لے جسے محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں ؟۔۔۔ (تفہیم القرآن)
آیت: 7،6: اس قوم کے دولقب ہیں ، عاد اور ارم،کیونکہ عاد بیٹا ہے عاص کا اور وہ ارم کا اور وہ سام بن نوح کا پس کبھی ان کو باپ کے نام پر عاد کہتے ہیں اور کبھی دادا کے نام پر ارم کہتے ہیں اور اس ارم کا ایک بیٹا عابر ہے اور عابر کا بیٹاثمود ہے۔پس عاد و ثمود دونوں ارم میں جاملے۔ (معارف القرآن)
6۔ اَلَمْ تَرَ۔ یہ ترکیب قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آئی ہے اس میں رویت سے مراد رویت عینی نہیں بلکہ رویت ِ علمی ،یا خبر و علم مرتبۂ تحقیق کا مراد ہے اور یہی صورت یہاں بھی ہے۔۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)
7۔ ذکر قوم عاد:۔ ان شہادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر کیا۔ قوم عاد کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتاہے اور عاد ارم بھی ۔عاد ارم وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ارم بن سام بن نوح کی اولاد تھے اور ذات العماد کی کئی توجیہیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود بہت بلند و بالا قدو قامت رکھتے تھے ۔دوسری یہ کہ بلند و بالا عمارتیں بنانے کا آغاز انہوں نے ہی کیا تھا۔ تیسری یہ کہ جب وہ سفر کرتے تھے تو اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے بہت اونچی اور مضبوط لکڑیاں استعمال کرتے تھے جیسے وہ ستون ہیں۔(تیسیر القرآن)
10۔ فرعون اور قوم فرعون:۔ تیسری سرکش قوم فرعون اور اس کی قوم تھی ۔اور فرعون کو "میخوں والا"کہنے کی بھی کئی توجیہات بیان کی گئی ہیں۔ مثلاًایک یہ کہ میخوں والے سے مراد اس کی سلطنت کی مضبوطی ہے جیسے اس سلطنت کی جڑیں میخوں کی طرح زمین میں ٹھونک دی گئی ہوں۔دوسری یہ کہ میخوں سے مراد اس کی افواج اور لاؤ لشکر ہیں جن کے بل بوتے پر وہ اللہ کا باغی اور مدمقابل بن بیٹھاتھا ۔تیسری یہ کہ جب اس کے لشکر نقل و حرکت کرتے تو خیموں کو نصب کرنے کے لیے بڑی بڑی میخیں استعمال کرتے تھے۔اور چوتھی یہ کہ جب اس نے کسی کو سولی پر چڑھانا ہوتاتو اسے تختہ دار پر رسیوں سے کسنے کے بجائے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک دیا کرتا تھا اور یہ سب باتیں اس کی قوت، اس کی نخوت ،غرور اور سنگدلی پر دلالت کرتی ہیں۔ فرعون اور اس کی قوم بھی آخرت کی منکر اور اللہ کی نافرمان تھی۔ ان لوگوں کو اللہ نے بحر قلزم میں غرق کرکے دنیا کو ان کے وجود سے پاک کردیا۔(تیسیر القرآن)
14۔ مِرْصَاد گھات لگانے کی جگہ کو کہتے ہیں(جیسے موٹروے پولیس والے کیمرہ لگا کرگھات میں بیٹھے ہوئے ہیں)ایک منفرد انداز ۔قسموں اور قوموں کی تباہی کے تذکرہ کے بعد جواب قسم جس کی تائید آفاق اور تاریخ دونوں کے شواہد کررہے ہیں کہ کائنات کا خالق اسے پیدا کرکے اس سے الگ تھلگ نہیں جابیٹھا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں بلکہ ایک حکیم و قدیر کا بنایا ہوا بامقصد کارخانہ ہے۔(تدبر قرآن)
16۔یعنی یہ ہے انسان کا مادہ پرستانہ نظریہ حیات۔ اسی دنیا کے مال و دولت اور جاہ و اقتدار کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ یہ چیز ملے تو پھول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھے عزت دار بنادیا، اور یہ نہ ملے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھے ذلیل کردیا۔ گویا عزت اور ذلت کا معیار اس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا ملنا یا نہ ملنا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے وہ نہیں سمجھتا یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے۔ دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لیے دی ہے کہ وہ اسے پا کر شکر گزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔ مفلس اور تنگ حال بنایا ہے تو اس میں بھی اس کا امتحان ہے کہ صبر اور قناعت کے ساتھ راضی برضا رہتا ہے اور جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے، یا اخلاق و دیانت کی ہر حد کو پھاند جانے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اپنے خدا کو کو سنے لگتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
17۔ یتیموں کیلئے یہاں لفظ" اکرام" استعمال ہواہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ کےمطلوب صرف یہ نہیں کہ کسی نہ کسی شکل میں مالدار لوگ ان کی کچھ مدد کردیا کریں بلکہ اصل مطلوب یہ کہ سوسائٹی میں ان کو عزت کا مقام حاصل ہو۔(تدبرقرآن)
18۔ تَحٰٓضُّوْنَ کے معنی ایک دوسرے کو کسی کام پر ابھارنے اور اکسانے کے ہیں ۔یعنی مسکینوں کے معاملے میں عنداللہ مطلوب صرف یہ نہیں کہ لوگ ان کے آگے کچھ نوالے پھینک دیں بلکہ دوسروں کو بھی ابھاریں ۔لفظ "طعام" یہاں محدود معنوں میں نہیں بلکہ وسیع معنوں میں استعمال ہواہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے ۔مقصود ان کی ضروریات کا اہتمام ہے۔(تدبرقرآن)
19۔لَمٌّ کے معنی کرنے اور سمیٹنے کے ہیں اور "تَاْكُلُوْنَ" یہاں ہڑپ کرجانے کے معنی میں ہے۔ یعنی مال کی محبت میں تم اس قدر اندھے ہوگئے ہو کہ تمہارے اندر جو زور آور عصبات ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مورث کی چھوڑی ہوئی املاک و جائداد سب سمیٹ کر وہ تنہا ہڑپ کر جائیں۔عرب جاہلیت میں بھی اگرچہ تقسیم ِ وراثت کاایک ضابطہ تھا۔اس زمانے میں بھی اسلام کے نہایت واضح ضابطےہونےکے باوجود زور و اثر رکھنے والے افراد دھاندلی سے باز نہیں آتے۔(تدبرقرآن)
20۔ اس گھنونے کردار کی تہ میں جو چیز چھپی ہوئی ہے یہ اس کا سراغ دیا ہے ۔فرمایا کہ تمہارے اندر ساری قدروقیمت بس مال کی رہ گئی ہے۔اس کے علاوہ انسانیت ،شرافت ، عدل و رحم کے جتنے اقدار بھی ہیں وہ سب اس کے نیچے دب کر دم توڑ چکے ہیں ۔مال کی محبت تمہارے دلوں پر اس طرح چھاگئی ہے کہ اب کسی اور اعلیٰ قدر کی اس کے اندر راہ پانے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے۔(تدبرقرآن)
27۔ حضرت سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کا طائف میں انتقال ہوا جنازہ تیار ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب پرندہ جس کی مثال پہلے کبھی نہ دیکھی تھی آیا اور جنازہ کی نعش میں داخل ہوگیا پھر کسی نے اس کو نکلتے ہوئے نہیں دیکھا ۔جس وقت نعش قبر میں رکھی جانے لگی تو قبر کے کنارے ایک غیبی آواز نے یہ آیت پڑھی یاایتھاالنفس المطمئنہ ۔۔۔الخ ۔سب نے تلاش کیا کون پڑھ رہاہے کسی کو معلوم نہ ہوسکا۔(ابن کثیر)(معارف القرآن)
ــــ نفسِ امارہ: جیساکہ سورۂ یوسف (53) میں ہے " میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا کیونکہ یہ (نفس امارہ ) پر ابھارتاہے ماسوائے اس کے کہ میرا پروردگار رحم فرمادے"اس نفسِ امارہ میں حیوانیت اور بہیمیت کے تقاضے ہیں ،زیادہ کھانا، زیادہ پہننا، زیادہ سونا، زیادہ لذت اٹھا نا،خود غرضی کرنا، بس خود ہی کھاتے چلے جانا اور کسی دوسرے کی پرواہ نہ کرنا بلکہ اوروں کا حصہ بھی کھاتے چلے جانا۔ ۔۔۔۔ــــنفسِ لوامہ: یہ ملامت کرنے والا نفس یعنی ضمیر ہے ۔یہ انسانی روح کا تقاضا ہے جو فرشتوں کے قریب ترہے۔۔۔۔۔ـــــنفسِ مطمئنہ : نفس ِ امارہ اور نفس لوامہ میں مستقل لڑائی رہتی ہے ۔جب نفسِ امارہ کو مطیع بناکر ضمیر اور روح کو ا س پر سوار کردیا جائے تو یہ نفس مطمئنہ کہلاتاہے۔(انوار القرآن)
ــــ اس دن مستحقین ِ جنت کو جوبشارت براہِ راست ربِ کریم کی طرف سے ملے گی یہ اس کی طرف اشارہ ہے ۔اوپر آیات:15-16میں ان تنگ ظرفوں اور تھڑدلوں کا حال بیان ہواہے جن کونعمت ملتی ہے تو وہ بہک کراترانے اور فخر کرنے والے بن جاتے ہیں اور جب ذرا تنگی رزق کی آزمائش پیش آجائے تو بالکل دل شکستہ ہوکر خدا سے مایوس اور شاکی بن جاتےہیں۔اب اس کے مقابل میں ان لوگوں کا حال اور انجام بیان ہورہاہے جن کے قدم تنگی اور فراخی دونوں طرح کے حالات میں جادۂ حق پر استوار رہتے ہیں۔(تدبرقرآن)
ــــ نفس مطمئنۃ کیا ہے؟ اس کی وضاحت کے لیے سورۃ القیامۃ کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے۔(تیسیر القرآن)
28۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کا کلمہ ہے۔ان لوگوں کو خطاب کرکے ارشاد ہوگا کہ شاباش! تمہارے رب نے جس میدانِ امتحان میں تمہیں اتارااس میں تمہاری بازی نہایت کامیاب رہی ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ ایک طویل حدیث حضرت ابوھریرہؓ کی مسند احمد، نسائی ،ابن ماجہ جس میں رسول اللہ کا ارشادہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتاہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا سامنے کرکے اس کی روح کو خطاب کرتے ہیں : اس بدن سے نکلو اس حالت میں کہ تم اللہ سے راضی ہو اور اللہ تم سے راضی اور یہ نکلنا اللہ کی رحمت اور جنت کی دائمی راحتوں کیطرف ہوگا۔(معارف القرآن)