90 - سورة البلد (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 20

مضمون:سورہ فجر کے مضمون کی روشنی میں قریش کے کردار کا جائزہ ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: اس کا مو ضوع دنیا میں انسان کی ،اور انسان کیلئے دنیا کی صحیح حیثیت سمجھانا اور یہ بتانا ہے کہ خدا نے انسان کیلئے سعادت اور شقاوت کے دونوں راستے کھول کر رکھ دئیے ہیں ۔ان کو دیکھنے اور ان پر چلنے کے وسائل بھی اُسے فراہم کردئیے ہیں اور اب یہ انسان کی اپنی کوشش اور محنت پر موقوف ہے کہ وہ سعادت کی راہ پر چل کر اچھے  انجام کو پہنچتاہے یا برے انجام کو ۔)تفہیم القرآن(

شانِ نزول: سورۃ البلد ،رسول اللہ ؐ کے قیام ِ مکہ کے تیسرے دور(6تا10سن نبوی) میں نازل ہوئی جب بلد امین میں حضورؐ پر ہرقسم کا ظلم و ستم حلال کرلیا گیا تھا۔اس لئے فرمایا  وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ۔

نظمِ کلام: سورۃ الملک،سورۃ الاعلیٰ


لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ  ﴿1﴾ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ  ﴿2﴾ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ  ﴿3﴾ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ  ﴿4﴾ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ  ﴿5﴾ یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ  ﴿6﴾ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ  ﴿7﴾ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ  ﴿8﴾ وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ  ﴿9﴾ وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ  ﴿10﴾ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ  ﴿11﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ  ﴿12﴾ فَكُّ رَقَبَةٍۙ  ﴿13﴾ اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ  ﴿14﴾ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ  ﴿15﴾ اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ  ﴿16﴾ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ  ﴿17﴾ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ  ﴿18﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ  ﴿19﴾ عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠  ﴿20ع البلد 90﴾
1. ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم۔ 2. اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو۔ 3. اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم۔ 4. کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے۔ 5. کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا۔ 6. کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا۔ 7. کیا اسے یہ گمان ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں۔ 8. بھلا ہم نےاس کو دو آنکھیں نہیں دیں؟ 9. اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیئے)۔ 10. (یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر و شر کے) دونوں رستے بھی دکھا دیئے۔ 11. مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا۔ 12. اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟ 13. کسی (کی) گردن کا چھڑانا۔ 14. یا بھوک کے دن کھانا کھلانا۔ 15. یتیم رشتہ دار کو۔ 16. یا فقیر خاکسار کو۔ 17. پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوۓ جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے۔ 18. یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔ 19. اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں۔ 20. یہ لوگ آگ میں بند کر دیئے جائیں گے۔

تفسیر آیات

حرف لا ہمیشہ نفی کے لیے نہیں آتاہے، بلکہ بعض محاوراتِ عرب کا جز ہے، جہاں نفی کا شائبہ بھی مقصود نہیں ہوتاہے، مثلاًلا جب قسم کے ساتھ آتاہے تو معنی تاکید کے پیدا کردیتاہے۔۔۔۔۔حِل کے دوسرے معنی مقیم کے ہیں، اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ درآنحالیکہ آپ اس شہر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔۔۔۔کلام کا آغاز " نہیں " سے کرنا اور پھر قسم کھا کر آگے بات شروع کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگ کوئی غلط بات کہہ رہے تھے جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نہیں، بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ میں فلاں فلاں چیزوں کی قسم کھاتا ہوں کہ اصل بات یہ ہے۔۔۔ (تفہیم القرآن)

2۔ حِل کا لغوی مفہوم :۔حِل کا بنیادی معنی" گرہ کھولنا " اور اس کی ضد عقد یعنی گرہ لگاناہے۔ارباب حِل و عقد، اربابِ بست و کشاد مشہور الفاظ ہیں۔اور سامان باندھنے اور کھولنے کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ مسافر سامان باندھ کر سفر پر جاتاہے اور جہاں فروکش ہوتاہے تو سامان کھول دیتا ہے۔لہذا حل کا لفظ کسی جگہ اترنے،فروکش ہونے اور قیام پذیر ہونے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ علاوہ ازیں حلال کا لفظ حرام کے مقابلہ میں بھی آجاتاہے۔حرام ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے سختی سے منع کیا جائے یعنی اس پر گرہ لگا دی جائے اور حلال اس گرہ کے کھولنے کو کہتے ہیں۔اور حَل،حل سے اسم فاعل ہے۔اسی وجہ سے حل کے یہاں کئی معنی کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ مکہ وہ شہر ہے جہاں آپ کسی وقت فاتحانہ حیثیت سے فروکش ہوں گے ۔دوسرا یہ کہ اس شہر میں مسلمانوں پر اور آپ پر ہرطرح کے ظلم و ستم کو حلال سمجھ لیا گیاہے۔ اور تیسرا یہ کہ ایک وقت آنے والا ہے جبکہ آپ اس شہر میں فاتحانہ حیثیت میں داخل ہوکر اس کی سیدنا ابراہیمؑ سے لے کر آج تک قائم شدہ حرمت کو توڑدیں گے اور حلال بنادیں گے گویہ کام صرف ایک ساعت کے لیے ہی ہوگا۔ ہمارے خیال میں یہی تیسرا مفہوم راجح ہے ۔(تیسیر القرآن)

۔اصل الفاظ ہیں " وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ" اسکے تین معنی مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں اور آپ کے مقیم ہونے سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ یہ شہر حرم ہے مگر ایک وقت آئے گا جب کچھ دیر کے لیے یہاں جنگ کرنا اور دشمنان دین کو قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہوجائے گا۔ تیسرے یہ کہ اس شہر میں جنگل کے جانوروں تک کو مارنا اور درختوں تک کو کاٹنا اہل عرب کے نزدیک حرام ہے اور ہر ایک کو یہاں امن میسر ہے، لیکن حال یہ ہوگیا ہے کہ اے نبی، تمہیں یہاں کوئی امن نصیب نہیں ۔تمہیں ستانا اور تمہارے قتل کی تدبیریں کرنا حلال کرلیا گیا ہے۔ اگرچہ الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے، لیکن جب ہم آگے کے مضمون پر غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دو معنی اس سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے اور تیسرا مفہوم ہی اس سے میل کھاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

 وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۔والد سے مراد مطلق ہر باپ سے لی گئی ہے اور ماولد سے مراد مطلق ہر لڑکا ۔۔۔۔وَالِدٌ سے مراد سب کے باپ حضرت آدمؑ بھی لیے گئے ہیں اور مَاوَلَدَ سے مراد ساری نسل آدم ۔۔۔تابعین و اہل تفسیر کی اکثریت اسی طرف گئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

یہ ہے وہ بات جس پر وہ قسمیں کھائی گئی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ انسان کے مشقت میں پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں مزے کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کے لیے یہ دنیا محنت اور مشقت اور سختیاں جھیلنے کی جگہ ہے اور کوئی انسان بھی اس حالت سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ شہر مکہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے اپنی جان کھپائی تھی تب یہ بسا اور عرب کا مرکز بنا۔ اس شہر مکہ میں محمد ﷺ کی حالت گواہ ہے کہ وہ ایک مقصد کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں، حتٰی کہ یہاں جنگل کے جانوروں کے لیے امان ہے مگر ان کے لیے نہیں ہے۔ اور ہر انسان کی زندگی ماں کے پیٹ میں نطفہ قرار پانے سے لے کر موت کے آخری سانس تک اس بات پر گواہ ہے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

یعنی کیا یہ انسان جو ان حالات میں گھرا ہوا ہے، اس غرے میں مبتلا ہے کہ وہ دنیا میں جو کچھ چاہے کرے، کوئی بالاتر اقتدار اس کو پکڑنے اور اس کا سر نیچے کردینے والا نہیں ہے ؟ حالانکہ آخرت سے پہلے خود اس دنیا میں بھی ہر آن وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی تقدیر پر کسی اور کی فرمانروائی قائم ہے۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)

6۔" أَنْفَقْتُ مَالًا لُّبَدًا " " میں نے ڈھیر سا مال خرچ کردیا " نہیں کہا بلکہ " أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا " کہا جس کے لفظی معنی ہیں " میں نے ڈھیر سا مال ہلاک کردیا "، یعنی لٹا دیا یا اڑا دیا۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ کہنے والے کو اپنی مال داری پر کتنا فخر تھا کہ جو ڈھیر سا مال اس نے خرچ کیا وہ اس کی مجموعی دولت کے مقابلے میں اتنا ہیچ تھا کہ اس کے لٹا دینے یا اڑا دینے کی اسے کوئی پروا نہ تھی۔ اور یہ مال اڑا دینا تھا کس مد میں ؟ کسی حقیقی نیکی کے کام میں نہیں۔  (تفہیم القرآن)

یعنی کیا یہ فخر جتانے والا یہ نہیں سمجھتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو دیکھ رہا ہے کہ کن ذرائع سے اس نے یہ دولت حاصل کی، کن کاموں میں اسے کھپایا، اور کس نیت، کن اغراض اور کن مقاصد کے لیے اس نے یہ سارے کام کیے ؟ کیا وہ سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں اس فضول خرچی، اس شہرت طلبی اور اس تفاخر کی کوئی قدر ہوگی ؟ کیا اس کا خیال ہے کہ دنیا کی طرح خدا بھی اس سے دھوکا کھا جائے گا ؟ (تفہیم القرآن)

یہاں ایک ضمنی نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ زبان کے ساتھ دو ہونٹوں کا ذکر فرمایا ہے جو زبان کو اوپر اور نیچے دونوں طرف سے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ جو چیز جتنی ہی قیمتی، جتنی ہی اثرآفرین اور جتنے ہی گہرے اور دوررس نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے وہ اتنی ہی احتیاط سے محفوظ کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔(تدبرِ قرآن)

12۔ عَقَبَةٌ کے معنی گھاٹی کے ہیں جو مشکل سے عبور ہوتی ہے ۔چونکہ نیکی کے کاموں کیلئے نفس کو اس کی نقد لذتوں سے موڑ کر بالکل مختلف سمت میں لیجانا پڑتاہے اس لئے نیکی کے کام نفس پر بہت شاق گزرتے ہیں ۔)تدبرقرآن(

13۔ غلاموں کی آزادی اسلام کی سرفہرست نیکیوں میں ہے ۔)تدبرقرآن(

14۔ "کھلانا"ظاہر ہے کہ اپنے محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع معنوں میں مایحتاج پوری کرنے کے مفہوم میں ہے ۔اس کے ساتھ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ (بھوک و قحط کے زمانے  میں) کی قید اپیل کو مؤثر بنانے کیلئے ہے۔ یہ کام ہے تو ہمیشہ نیکی کا لیکن قحط کے زمانے میں اس کی قدروقیمت بہت بڑھ جاتی ہے ۔یَتِیْمًا کے ساتھ ذَا مَقْرَبَةٍ(قرابت مند) کی قید بھی دعوت کو مؤثر بنانے ہی کیلئے ہے۔یوں حقدار تو ہر یتیم مدد کا ہے لیکن قرابت دار یتیم کا حق خاص طورپر دوچند ہوجاتاہے ۔علیٰ ھذا القیاس مِسکِیناً کے ساتھ ذَا مَتْرَبَةٍ (خاک آلود) کی صفت بھی اس تلقین کو مؤثر بنانے ہی کیلئے ہے۔)تدبرقرآن(

16۔ حضرت ابوھریرۃؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ سے ایک شخص نے شکایت کی میرا دل سخت ہے ۔آپؐ نے فرمایا "یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا"۔ )تفہیم القرآن(

ــــ دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے اوصاف:۔ اس گھاٹی پر چڑھنے کے چار کام یہاں بیان کیے گئے ہیں اور ان چاروں کا تعلق اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہے۔جوانسان کو طبعاً ناگوار ہے۔اوپر ایسے شخص کا ذکر آیا ہے جو اپنے نام و نمود اور شہرت اور شیخی بگھارنے کے لیے مال خرچ کرتا پھر لوگوں میں بڑہانکتا ہے اورکہتاہے کہ میں نے اتنا اور اتنامال فلاں فلاں کاموں میں خرچ کردیا ہے ۔اب یہ بتایا جارہاہے کہ اگر مال خرچ کرنا ہے تو اس کے بہترین مصرف یہ ہیں کہ مال خرچ کرکے کسی غلام کو آزادی دلادی جائے۔ اس کی مکاتبت میں اس کی مدد کی جائے۔ قحط کے دنوں میں لوگوں کو غلہ مہیا کیا جائے یا انہیں کھاناکھلایا جائے ۔دوسرے ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے جن کو رہنے کو کٹیا اور سونے کو بستر، پہننے کو لباس اور کھانے کو غذا بھی میسر نہیں ۔یہی وہ کام ہیں جو ایک انسان کو بلند مرتبہ تک پہنچانے والے ہیں۔ اور یہ سب کام ایسے ہیں جن کی کتاب و سنت میں جابجاترغیب دی گئی ہے اور ان کا بڑا ثواب بیا ن کیا گیا ہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ گھاٹی سے گزرنے سے مراد اسی قسم کے کام ہیں:۔  (1)غلاموں کو آزاد کرنا۔(2)قحط و گرانی کے زمانے میں بھوکوں کو کھانا کھلانا۔(3)یتیموں کی خدمت کرنا۔(4)مسکینوں ،محتاجوں کی خبرلیتے رہنا۔(تفسیر ماجدی)

17۔ صبر کا اصل مفہوم عزیمت و استقامت ہے ۔جن کے اندر یہ وصف نہ ہو وہ کوئی کام بھی پامردی کے ساتھ نہیں کرسکتے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ جن کو نیکی کا درس دیا جائے ان کو ساتھ ہی صبر و استقامت  کی تلقین بھی کی جائے۔)تدبرقرآن(

ــــ رہا رحم، تو اہل ایمان کے معاشرے کی امتیازی شان یہی ہے کہ وہ ایک سنگد ل ،بے رحم، اورظالم معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کیلئے رحیم و شفیق اور آپس میں ایک دوسرے کا ہمدرد و خیر خواہ معاشرہ ہوتاہے۔(تفہیم القرآن)