91 - سورة الشمس (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 15

مضمون: قریش کے سرداروں کو برے انجام کی تنبیہ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: سورۃ الشمس ،اعلانِ عام کے بعد رسول اللہؐ کے قیامِ مکہ کے دوسرے دور (4تا5)کے آخر میں پرزور مخالفت کے زمانے میں نازل ہوئی جب کفار کو قومِ ثمود کی طرح عذاب کی دھمکی دی گئی۔

نظمِ کلام: سورۃ الملک،سورۃ الاعلیٰ

امت مرحومہ میں ناقۃ اللہ کی مثال:  ثمود نے اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کو قتل کرکے سرکشی کی جو منحوس مثال قائم کی تھی یہود نے حضرت عیسیٰؑ کے قتل کا ارادہ کرکے بعینہٖ اسی مثال کی تقلید کی۔گویا یہود کے اندر حضرت عیسیٰؑ کا وجود گرامی ناقۃ اللہ کی مثال تھا۔ یہ مثال محض ہماری طبع زاد نہیں ہے بلکہ قرآنی اشارات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ناقۃ کے متعلق معلوم ہے کہ وہ ایک آیۃ اللہ تھی بعینہٖ یہی بات قرآن مجید میں حضرت عیسیٰؑ کے متعلق بھی ملتی ہے ۔سورۂ انبیاء میں ان کی نسبت وارد ہے۔ وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَا اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ اور ہم نے اس کو (مریم)اور اس کے بیٹے (حضرت عیسیٰؑ )کو دنیا والوں کے لیے نشانی بنایا۔ یعنی ان کا وجود خود ایک آیت تھا۔ چنانچہ اس جرم کی پاداش میں یہود بھی ثمود کی طرح پامال کردیے گئے اور ان سے نبوت کی نعمت ہمیشہ کے لیے چھن گئی۔بعینہٖ اسی کے مشابہ واقعہ امتِ مرحومہ میں بھی پیش آیا۔اس امت کے اندر ناقہ کی مثال حضرت علیؓ تھے۔ چنانچہ ان کے قتل کے بعد اس امت سے خلافت چھین لی گئی اور خلفاء کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ان کے بعد جو لوگ مسند خلافت پر قابض ہوئے وہ خلفاء نہ تھے بلکہ ملوک و سلاطین تھے(الا ماشاء اللہ)جو مال وجائداد کی طرح بادشاہت کو وراثت میں پاتے تھے اور بادشاہوں ہی کی طرح فرمانروائی کرتے تھے ۔آنحضرت ؐ نے اس انقلاب کی پیشین گوئی پہلے ہی سے فرمادی تھی اور اس دور کو "ملک عضوض"کے لفظ سےتعبیر فرمایا تھا۔بعض روایات میں ان تمام امور کی طرف اشارات ملتے ہیں۔ایک مرتبہ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا "اے ابوتراب(علیؓ)کیا میں تمہیں بدبخت ترین خلائق احمر ثمود کی خبرنہ دوں جس نے ناقہ کو قتل کیا اور جو تم کو اس پر (سرپر)مارے گا اور اس سے یہ (داڑھی)ترہوجائے گی"۔(تفسیر فراہی)

 حضرت عمر،عثمان اور علی رضی اللہ عنھم کی مثالیں۔تم کہوگے کہ حضرت علیؓ سے پہلے حضرت عثمان غنیؓ نہایت مظلومیت اور بے کسی کی حالت میں قتل ہوئے، جن کے بعد فتنوں کا دروازہ کھل گیا ۔حضرت فاروق اعظمؓ شہید ہوئے جن کی شہادت تاریخ اسلام کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔سب سے آخر میں حضرت امام حسینؓ قتل ہوئے ،جن کی مظلومیت تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گی۔پھر ہم نے ان میں سے کسی کے واقعہ کو حضرت عیسیٰؑ کے واقعہ سے کیوں نہیں تشبیہ دی؟ اس کےلیے حضرت علیؓ ہی کے واقعہ کو کیوں انتخاب کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کی شہادت کا واقعہ ایک مخصوص نوعیت رکھتاہے۔آپ کے قتل کی ذمہ داری اس امت پر نہیں ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب یہ سنا کہ آپ کا قاتل ایک نصرانی ہے تونہایت خوش ہوئے کہ امت آپ کے قتل کے وبال سے بچ گئی ۔صرف تھوڑے سے شریر لوگ اس جرم پر راضی تھے اور چونکہ یہ پہلا خون تھا اس وجہ سے قانون الٰہی نے ڈھیل سے کام لیا ۔ہمارے نزدیک حضرت عمرؓ حضرت زکریاؑ سے زیادہ مشابہ نظر آتے ہیں۔جس طرح وہ قربان گاہ اور مسجد کے درمیان قتل ہوئے اسی طرح حضرت عمرؓ بھی نماز کے اندر شہید ہوئے۔اسی بناپر حضرت کعبؓ نے فرمایا کہ حضرت عمرؓ کا حلیہ تورات  میں موجود ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ حضرت عمرؓ کی بہت سی صفتیں تورات میں بیان ہوئی ہیں۔ آیت ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ  وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ کی تفسیر کے ذیل میں بعض ضروری باتیں ملیں گی۔۔۔۔حضرت عثمانؓ کی حالت حضرت یحیی ٰ ؑ کی حالت سے زیادہ مشابہ ہے جس طرح حضرت یحییٰؑ قید کی حالت  میں قتل کیے گئے اسی طرح حضرت عثمانؓ مکان کے اندر بندکرکے شہید کیے گئے ۔ان وجوہ سے حضرت عیسیٰؑ  کے معاملہ سے جو مشابہت ،حضرت علیؓ کے واقعہ کو ہے، وہ کسی دوسرے واقعہ کو نہیں ہے ۔ نتائج کے اعتبار سے بھی دونوں بالکل یکساں درجہ کی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہود حضرت عیسیٰؑ کے قتل کا ارادہ کرکے خدا کی امانت سے محروم ہوگئے اور مسلمان حضرت علیؓ کے قتل کی ذمہ داری لے کر خلافت مقدسہ سے محروم ہوگئے۔۔۔۔باقی رہا حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا معاملہ،تو یہ ملت مرحومہ کے سینہ کا وہ زخم ہے جو ہمیشہ تازہ رہے گا اور تاریخ کبھی اس کو فراموش نہ کرسکے گی اور درحقیقت یہ اسی بدبختی کا ایک مظہر ہے جو حضرت علیٰؓ کے قتل کی صورت میں نمودار ہوئی تھی۔زہیر نے جنگ کے نتائج کو احمر عاد سے تشبیہ دی ہے اور کیا خوب بات کہی ہے۔ایک برائی دس برائیوں کا دروازہ کھولتی ہے۔چنانچہ حضرت علیؓ کے قتل کی صورت میں جو بد بختی ظاہر ہوئی اسی کے نتیجہ کے طوپر وہ حادثہ بھی ظہور میں آیا ،جو حضرت امام حسینؓ کی مظلومانہ شہادت کا باعث ہوا اور پھر  اسی واقعہ کی جڑسے اس طرح کے ہزار ہا فتنوں کی شاخیں پھوٹیں اور پھیلیں اور ان کے مسموم اور مہلک ثمرات نہ جانے کن کن صورتوں میں نمودار ہوئے۔ْ یہ مسلمانوں کے جان و مال کی بربادی کے جو ہولناک اور شرمناک واقعات باربار پیش آئے، یہ سب اسی شجرۂ فساد کے برگ و بار تھے۔۔۔۔۔ اور یہی فتنے تھے جن سے نبی کریمؐ نے خطبہ الوداع میں آگاہ فرمایا تھا:"لوگو تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، کسی شخص کے لیے یہ بات جائزنہ ہوگی کہ وہ اپنے بھائی کا مال لے لے مگر اس کی اجازت اور خوشی سے ۔ آگاہ رہو میں نے خدا کا پیغام پہنچادیا۔ اے اللہ تو گواہ رہ ۔پس اے لوگو! یہ نہ ہو کہ تم میرے بعد حالت کفر میں لوٹ جاؤ۔ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو"۔۔۔۔۔چنانچہ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد یہ عذاب نمودار ہوگیا۔امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔۔۔۔۔اس بحث کی اصلی جگہ سورہ حجرات ہے، اس لیے یہاں انہی اشارات پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔(تفسیر فراہی)

سورہ کاربط: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا میں جس فلاح کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس کا ذکر اس سورہ میں مجمل چھوڑ دیا ہے اس کی توضیح نہیں فرمائی ۔اس کی توضیح بعد کی سورہ (سورۃ اللیل)میں کی ہے۔(تفسیر فراہی)


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ ﴿1﴾ وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ ﴿2﴾ وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ ﴿3﴾ وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ ﴿4﴾ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ ﴿5﴾ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ ﴿6﴾ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ ﴿7﴾ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ ﴿8﴾ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ ﴿9﴾ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ ﴿10﴾ كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ ﴿11﴾ اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ ﴿12﴾ فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ ﴿13﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ ﴿14﴾ وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ ﴿15ع الشمس 91﴾
1. سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی۔ 2. اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔ 3. اور دن کی جب اُسے چمکا دے۔ 4. اور رات کی جب اُسے چھپا لے۔ 5. اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ 6. اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ 7. اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا۔ 8. پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی۔ 9. کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا۔ 10. اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا۔ 11. (قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا۔ 12. جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا۔ 13. تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو۔ 14. مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا۔ 15. اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔

تفسیر آیات

1-4: یہ آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان اضداد کی یہ باہمی سازگاری ہی ہے جس پر اس کائنات کی بقا کا انحصار ہے۔ اور یہ اپنے وجود سے زمین پر بسنے والوں کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی خدا کے مقرر کئے ہوئے حدود کی پابندی کریں۔)تدبرقرآن(

5۔۔۔۔اس لفظ مَا کو مفسرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں میں لیا ہے اور وہ ان آیتوں کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم، اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں ہیں کہ ان تین فقروں کے بعد یہ فقرہ کہ " پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی " اس سلسلہ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ دوسرے مفسرین نے یہاں مَا کو مَن یا الَّذِی کے معنی میں لیا ہے، اور وہ ان فقروں کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ جس نے آسمان کو قائم کیا، جس نے زمین کو بچھایا اور جس نے نفس کو ہموار کیا۔ یہی دوسرا مطلب ہمارے نزدیک صحیح ہے، اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ ما عربی زبان میں بےجان اشیاء اور بےعقل مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خود قرآن میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ ما کو من کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

6۔ کائنات کے اندر تو ہرقسم کا درجۂ حرارت پایاجاتاہے ،کروڑوں اور لاکھوں ڈگری بھی ہے اور ہزاروں ڈگری بھی ،لیکن زمین کا درجۂ حرارت 150سے 160 درجے سے اوپر نہیں جاتا اور نیچے جانے کی اس کی ایک حدمقرر ہے ۔زمین کا درجۂ حرارت اگر اس سے اوپر چلا جائے تو سب لوگ جل بھن کر خاک ہوجائینگے اور اگر نیچے چلا جائے تو سب سردی سے ٹھٹر کر مرجائیں گے۔)خرم مراد(

7۔آفاقی شہادتوں کے بعد نفسیاتی شہادت کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر خود اپنے نفس پر غور کرے ،نیکی اور بدی دونوں کا شعور ۔دوسرے لفظوں میں اپنے آپ کو غیر مسؤل اور شتر بے مہار سمجھنے کا تصور انسان کے خود اپنے نفس کی شہادت کے خلاف ہے ۔)تدبر قرآن(

ــــ  لفظ تسویہ کسی چیز کی تخلیق میں جو تکمیلی مرحلہ ہوتاہے ،اس کیلئے آتاہے جیسے کسی چیز کی نوک پلک سنوارنا۔یہاں قسم میں نفسِ انسانی کی تخلیق کا صرف ابتدائی مرحلہ پیشِ نظر نہیں ہے بلکہ وہ تکمیلی مرحلہ بھی مدنظر ہے جب وہ قدرت کے ایک شاہکار کی حیثیت سے نمایاں ہوا اور خود اپنے وجود سے اس حقیقت کا شاہد بن گیا کہ وہ اس دنیا میں ذمہ داریوں کے ساتھ آیاہے ۔اس میں وہ خدا کا خلیفہ اور مسؤل ہے۔(تدبرقرآن)

ــــ  ہموار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامتِ راست ، اپنے ہاتھ پاؤں اور دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کیلئے موزوں ترین تھا۔ اس کو دیکھنے ،سننے  ، چھونے، چکھنے اور سونگھنے کے ایسے حواس عطا کئے جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بناپر اس کیلئے بہترین ذریعۂ علم بن سکتے تھے۔ اس کو قوت ِ فکر و استدلال و استنباط ،قوت ِ خیال ،قوتِ حافظہ، قوت تمیز، قوتِ فیصلہ، قوتِ ارادی اور دوسری ایسی ذہنی قوتیں عطا کیں جن کی بدولت وہ دنیا میں اس کام کے قابل ہوا جو انسان کے کرنے کا ہے ۔اس کے علاوہ ہموار کرنے میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اُسے پیدائشی گناہ گار اور جبلی بدمعاش بناکر نہیں بلکہ راست اور سیدھی فطرت پر پیدا کیا اور اس کی ساخت میں کوئی خلقی کجی نہیں رکھی کہ وہ سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے بھی تو نہ کرسکے۔(تفہیم القرآن)

8۔ یہاں الھام کا لفظ استعمال ہواہے۔ یہ بھی غور طلب ہے ۔الھام کے معنیٰ ہیں کسی چیز کو نگلنا یا نگلوانایعنی جو چیز اللہ آدمی کے دل و دماغ میں یا فطرت کے اندر ڈال دے وہ چیز دراصل الہام کی گئی ہے ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر آدمی جانتاہے کہ اچھائی اور برائی کیا ہے ۔اچھائی اور برائی کا تصور انسان کے ضمیر میں موجود ہے ۔دوسری چیز جو اللہ نے تعلیم کی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے اندر بالعموم لوگ اس بات پر متفق رہے ہیں کہ کیا چیز اچھی ہے اور کیا بری۔اس میں کوئی بڑا اختلاف نہیں رہا۔وہ معاشرے جہاں بدکاری عام ہے۔جہاں شراب پانی کی طرح حلال ہے، وہاں بھی اگر کوئی اعلیٰ عہدیدار شرابی ہو تو اس کو عہدہ نہیں دیا جاتا۔اگر کسی صدر ریاست کے اوپر بدکاری کا الزام ثابت ہوجائے تو لوگ اسے رکھنا یا آئندہ منتخب کرنا پسند نہیں کرتے ۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جھوٹ بولنا اچھی بات ہے یا سچ بولنا بری بات۔ یہ باتیں فطرت میں الہام ہیں ۔تیسری چیز جو اس نے الہام کی ہے وہ یہ کہ نیکی کو اس نے محبوب بنایا ہے اور برائی کو ناپسند یدہ۔آدمی برے کام کرسکتاہے لیکن کہتایہی ہے کہ دنیا دار آدمی ہے یا گناہ گار ۔ایک برا آدمی اپنے اولاد کیلئے وہی برائی پسند نہیں کرتا۔(خرم مراد)

9۔ تزکیہ کا لفظ بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کررہاہے کہ اس سے مراد اپنے نفس کو سنوارنا ہے ۔جس مقصد کیلئے اللہ نے اسے ٹھیک ٹھیک بنایا ہے اس کے مطابق اس کی تعمیر کرناہے اور یہ کام مسلسل اور بتدریج ہوگا۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ اللہ کو وہ عمل زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہے جو خواہ تھوڑا کیا جائے لیکن باقاعدگی اور تسلسل سے کیا جائے۔تقویٰ کا لفظ نیکی کیلئے استعمال ہوتاہے جس کے معنی دراصل اپنی حد کے اندر رہنا اور حد سے نکلنے سے بچنے کے ہیں ۔حضورؐ نے صراط مستقیم کی مثال اس طرح پیش کی ہے جیسے کوئی راستہ ہے اور اس راستے کے دونوں طرف دیواریں ہیں اور دیواروں میں دروازے ہیں اور ان دروازوں پر پردے پڑے ہیں۔ لیکن یہ ساری نیکیوں کی جامع کلید ہے ۔اس کے معنی صرف یہی ہیں کہ صحیح حد میں رہنا اور حدود سے باہر نکلنے سے بچنا ۔یہی نیکی ہے۔(خرم مراد)

ــــ نفس کا سنوارنا اور پاک کرنا یہ ہے کہ قوت شہویہ اور قوتِ غضبیہ کو عقل کے تابع کرے اور عقل کو شریعت الٰہی کاتابعدار بنائے تاکہ روح اور قلب دونوں تجلئ الٰہی کی روشنی سے منور ہوجائیں۔(تفسیر عثمانی)

10۔ خاک میں ملا چھوڑنے سے یہ مراد ہے کہ نفس کی باگ یکسر شہوت و غضب کے ہاتھ میں دیدے ۔عقل و شرع سے کچھ سروکار نہ رکھے ۔گویا خواہش و ہوا کا بندہ بن جائے ایسا آدمی جانوروں سے بدتر اور ذلیل ہے۔(تفسیر عثمانی)

ــــ  یہ بات کہ انسان خود اپنے نفس کیلئے ذمہ دار اور جوابدہ ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کو اختیار بھی حاصل ہو۔۔۔۔۔  دَسّٰی کے معنی دبانے کے ہیں اور مٹانے کے بھی ،یعنی جس نے اپنے نفس کومٹادیا اور دبادیا مٹی میں ملا دینا محاورتاً بھی استعمال ہوتاہے ۔مگر جو خدا سے غافل ہوکر دوبارہ گناہوں کے اندر ،فجور کے اندر ، مبتلا ہوجائے گویا اس نے اپنے نفس کو مٹی میں ملادیا ،برباد کردیا اور نامراد ہوگیا۔ جو سبق کہ چاند اور سورج، رات اور دن، اور زمین و آسمان ،سب ہمارے سامنے پیش کرتےہیں ، انسانی تاریخ بھی اسی سبق کو دہراتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ اچھے اعمال کا اچھا بدلہ اور برے اعمال کا انجام برا ہے ۔اس لحاظ سے تاریخ ایک زبردست معلم ہے ۔ قرآن مجید نے اس بات کو کھول کر بیان کردیا ہے کہ قوموں کے اعمال کا فیصلہ اسی زندگی میں ہوگا ۔یہ زندگی کئی سو برس پر بھی محیط ہوسکتی ہے ۔اسی لئے قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں اور بالآخر صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔(خرم مراد)

۔ان سات قسموں کے بعد جواب قسم میں فرمایا  قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا  وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا ۔۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)

11۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ کذّبت ثمود کے الفاظ سے جیسا دھندلا تصور ہمارے سامنے آتاہے ویسا ہی قریش کے سامنے بھی آتاہوگا۔ اس سورۃ میں ثمود سے متعلق جواشارات ہیں وہ ان کے سامنے ثمود کی پوری تاریخ رکھ دینے کے ہیں۔یہ عرب بائدہ میں سے ہیں جن کی بستیاں اور جن کی روایات اہل عرب کو وراثت میں ملیں ۔ان کے متعلق ان کی روزمرہ کی گفتگوؤں میں بہت سی مثالیں پھیلی ہوئی تھیں۔ عرب شعراء نے بھی ان کا تذکرہ ایک جانی پہچانی قوم کی حیثیت سے کیا ہے۔(تدبرقرآن/فراہی)

۔  كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۔ میں لفظ طغویٰ پر خاص طور پر نظر رہے ۔اس کے معنی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے کھلم کھلا بغاوت کے ہیں ۔خاص طورپر وہ سرکشی جب کہ حق اچھی طرح واضح ہوچکا ہو۔اس لفظ پر نگاہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق سورۃ کے عمود سے ہے۔(تدبر قرآن)

- حضورؐ نے حضرت علی سے فرمایا ۔پہلے لوگوں میں سب سے زیادہ بد بخت اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا اور بعد والوں میں سے تیرا قاتل ۔(ضیاء القرآن)

ــــ  طَغویٰ کے معنی طغیانی کے ہیں جس میں دریاؤں کا پانی سرکش ہوکردوکناروں سے نکل کر پھیل جائے اور باہر نکل پڑے ۔اپنے حق سے زیادہ لینا اور دوسروں کو اس کے حق سے کم دینا۔ وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ(انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو (الرحمٰن۔55-9)۔یہ بنیادی تعلیم ہے کہ ہمیشہ عدل و انصاف پر قائم رہو۔ حقوق کی حدود اور پابندیاں برداشت کرنا ہی اصل میں آزمائش ہے۔جو زمیندار طاقتور اور اثر ورسوخ والاہوتاہے وہ پانی کا رخ زبردستی اپنی طرف موڑلیتاہے اور دوسروں کو پانی کم دیتاہے۔یہ سب فساد کی شکلیں ہیں۔قومِ ثمود سے یہ پابندی برداشت نہ ہوئی ۔ان کے درمیان ایک بدبخت آدمی تھا جو ان کا رہنما بھی تھا (قیدار)اس کے ساتھ بیسیوں لوگ تھے۔بظاہر کہنے والا تو ایک ہی آدمی تھا (حضرت صالحؑ) مگر غیب کے پردے میں اللہ کی ذات مستور تھی۔(خرم مراد)

12۔ یہ ان کے طغیان کی تفصیل ہے۔اشقیٰ سے اشارہ ثمود کے لیڈر قیدار کی طرف ہے جس کی شقاوت پوری قوم کی تباہی کا سبب ہوئی۔(تدبرقرآن)

14۔ قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا ایک نکتہ ۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے جرم میں پوری قوم کو سزا دیتاہے اگر قوم اس جرم پر راضی ہو۔(تدبر قرآن)

ــــ دمدمہ کے معنی ہلاک کردینے کے ہیں لیکن اس کے اندر عذاب کی شدت اور بے پناہی کا مضمون بھی مضمر ہے جو مجرد ہلاک کردینے سے واضح نہیں ہوتا۔(تدبرقرآن)

ــــ  یہاں صیغہ بدل گیا ہے  پہلے تھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور قوم نے جھٹلایا۔اب کہا گیا کہ سب کے سب نے جھٹلایا ۔احادیث میں آتاہے کہ ایک لشکر اپنے اعمال کی وجہ سے زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا ۔حضرت عائشہؓ نے پوچھا : کیا اس میں اچھے اور نیک لوگ بھی ہوں گے ۔۔۔۔سب کے سب ۔۔۔صرف نبی اور اس کے ساتھی عذاب سے بچائے جاتے ہیں ۔محض یہ کہنا کہ بات غلط ہے۔ جھٹلانا نہیں ہوتا بلکہ عمل سے بھی جھٹلانا تکذیب ہے ۔(خرم مراد)

15۔یعنی اللہ کسی قوم کی تباہی کے فیصلہ میں نہ کوئی غلطی کرتاہے اور نہ اس کے فیصلہ کو کوئی چیلنج کرسکتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)