92 - سورة الليل (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 21 |
مضمون: وہ کردار اور عقیدہ جو آخرت کی کامیابی کا باعث ہے اور وہ جو ہلاکت کی راہ کھولتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول:سورۃ اللیل ،سورۃ الشمس کے ساتھ اعلان ِ عام کے بعد رسول اللہؐ کے قیامِ مکہ کے دوسرے دور(4تا5نبوی) میں شدید مخالفت کے زمانے میں نازل ہوئی جب کفارِ قریش کو عذاب کی دھمکی دی گئی ۔
نظمِ کلام:سورۂ الملک ،سورۂ الاعلیٰ
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ ﴿1﴾ وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ ﴿2﴾ وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ ﴿3﴾ اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ ﴿4﴾ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ ﴿5﴾ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ ﴿6﴾ فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ ﴿7﴾ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ ﴿8﴾ وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ ﴿9﴾ فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ ﴿10﴾ وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ ﴿11﴾ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ ﴿12﴾ وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى ﴿13﴾ فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ ﴿14﴾ لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ ﴿15﴾ الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ ﴿16﴾ وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ ﴿17﴾ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ ﴿18﴾ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ ﴿19﴾ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ ﴿20﴾ وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ ﴿21ع الليل 92﴾ |
| 1. رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے۔ 2. اور دن کی قسم جب چمک اٹھے۔ 3. اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کیے۔ 4. کہ تم لوگوں کی کوششں طرح طرح کی ہے۔ 5. تو جس نے (خدا کے رستے میں مال) دیا اور پرہیز گاری کی۔ 6. اور نیک بات کو سچ جانا۔ 7. اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے۔ 8. اور جس نے بخل کیا اور بےپروا بنا رہا۔ 9. اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا۔ 10. اسے سختی میں پہنچائیں گے۔ 11. اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ 12. ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے۔ 13. اور آخرت او ردنیا ہماری ہی چیزیں ہیں ۔ 14. سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کر دیا۔ 15. اس میں وہی داخل ہو گا جو بڑا بدبخت ہے۔ 16. جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ 17. اور جو بڑا پرہیزگار ہے وہ (اس سے) بچا لیا جائے گا۔ 18. جو مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو۔ 19. اور (اس لیے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلہ اتارتا ہے۔ 20. بلکہ اپنے خداوند اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے۔ 21. اور وہ عنقریب خوش ہو جائے گا۔ |
تفسیر آیات
تعارف : بعض احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرمؐ سورۂ الشمس اور سورۂ اللیل کو اکٹھاپڑھا کرتے تھے ۔یہ مختصر سورتیں چھوٹے چھوٹے بولوں پر مشتمل ہیں۔جس طرح مصرعے ،کہاوتیں، ضرب الامثال آدمی کی زبان پر چڑھ جاتے ہیں ،یہی ان کی کیفیت ہے۔(خرم مراد)
1۔ قرآن مجید نے تین معلم مقرر کئے ہیں۔ایک کائنات کے مظاہر ،دوسرا تاریخ (اقوامِ سابقہ)اور تیسرا انسان کی اپنی تخلیق اور اس کا اپنا نفس۔پھر ایک طریقہ ،مجادلے،مناظرے اور دلیل کا بھی ہے۔یہ بھی تعلیم کیلئے اختیار کیا گیا ہے۔(خرم مراد)
4۔ ابتدائی دور میں تفصیلی احکام نہیں دئیے گئے ۔ایسا سانچہ (بنیادی باتوں پر مشتمل) بن جائے کہ بالآخر وہ سارے احکام جو بعد میں آنے والے ہیں، جن پرشریعت مشتمل ہے، اس سانچے کے اندر فٹ ہوجائیں اور آدمی کے اندر وہ استعداد ،صلاحیت اور قوت پیدا ہوجائے ،جس کی بنیاد پر وہ ان پر عمل کرسکے۔(خرم مراد)
۔یہ وہ بات ہے جس پر رات اور دن اور نر و مادہ کی پیدائش کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات اور دن اور نر اور مادہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ان میں سے ہر دو کے آثار و نتائج باہم متضاد ہیں، اسی طرح تم لوگ جن راہوں اور مقاصد میں اپنی کوششیں صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور اپنے نتائج کے اعتبار سے متضاد ہیں۔ اس کے بعد کی آیات میں بتایا گیا کہ یہ تمام مختلف کوششیں دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)
ــــ لفظّ"سعیٌ"جدوجہد کے معنی میں بھی آتاہے اور نتیجۂ جدوجہد یعنی کمائی کے معنی میں بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے۔ شَتّٰی جمع ہے شتیت کی جس کے معنی متفرق اور الگ کے ہیں یعنی عقل اور فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ نیکوں اور بدوں کو سعی کا نتیجہ ایک ہی شکل میں برآمد نہ ہو۔(تدبرقرآن)
5۔ آیت: 5 اور 6 میں تین خیر کے راستوں کا ذکر ہے:(i)5۔عطاکرنا(ii)5۔تقویٰ (iii)6اچھے انجام (یا نیکی کے راستہ) کی تصدیق ۔آیت:8اور9 میں تین برائی کے راستے :(i) 8 ۔بخل(ii) 8۔استغنا(لاپرواہی) (iii) برے انجام (برائی کے راستہ) کی تصدیق۔یہ سورت حضرت ابوبکرؓ کی شان میں ۔اگلی دوسورتیں حضورؐ کی شان میں ۔(بیان القرآن)
ــــ اَعْطٰى کے بعد وَاتَّقٰى کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس انفاق سے مقصود ریا و نمائش یا کوئی اور دنیوی چیز نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کی تمنا اور آخرت کا خوف ہو۔(تدبرقرآن)
ــــ جب قرآن مجید نے مال نہیں کہا تو کوئی ضروری نہیں کہ ہم اس کو مال تک محدود کریں بلکہ اس کے اندر ہرچیز کا دینا شامل ہے ،جو بھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو بخشی ہے۔اگر وقت دیا ہےتو وقت دینا،جان دی ہے تو جان دینا، جسم اور ذہن کی قوتیں دی ہیں تو ان کا کھپانا ۔۔۔یہ سب اسی دینے میں آتے ہیں ۔وہاں اسے دوسروں کیلئے جینے کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ جدید مغربی فلسفیوں نے دو طرز زندگی بیان کیے: (….Having way of life and giving way of life) ہرچیز مجھے مل جائے ،جو میری خواہش ہو وہ فوراً پوری ہوجائے ۔یہ طرز عمل فساد کا ذریعہ ہے ۔۔۔۔۔۔ عطاکرنا ،دینا اور خود غرضی سے بچنا، دین کی پہلی بنیادہے ۔تقویٰ دین کی دوسری بنیاد ہے ۔تقویٰ کے بنیادی معنی تو بچنے کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس چیز سے بچائے جس سے اُسے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔(خرم مراد)ْ
6۔ آخرت کے خوف کے ساتھ ان کے اندر یہ ایمان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی نیکی کا بھرپور صلہ ہے (جس کی وہ اپنے قول و فعل سے تصدیق کرتے ہیں ) حُسْنٰى کا موصوف عَاقِبَۃ۔(تدبرقرآن)
7۔ شاہ عبدالقادر ؒ نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ"ہم اس کو سہج سہج پہنچادیں گے آسانی کی جگہ "اس کو نیکی کرنے میں سہولت نظر آئے گی ۔اس طریقے سے اس کی فطرت اور مزاج کا سانچہ ہی بلآخر نیکی کے سانچے میں ڈھل جاے گا۔(خرم مراد)
ــــ لِلْیُسْرٰى۔الیسریٰ سے مراد جنت لی گئی ہے،جہاں ہر طرح اور ہر طرف سے سہولتیں اور راحتیں ہی ہوں گی۔(تفسیر ماجدی)
8۔ مقابل گروہ کے طرزِ عمل اور انجام کا بیان(آیت:10،9 تک) (تدبرقرآن)
11۔ یہ "مَا" نافیہ بھی ہوسکتاہے اور سوالیہ بھی ۔فرمایا کہ ایسے شخص کو اس کا مال اس وقت کیا نفع پہنچائے گا جب وہ قبر یا جہنم کے کھڈمیں گر جائے گا۔(تدبرقرآن)
ــــ تَرَدّٰى کے معنی"گرے گا"بھی ہیں اور "موت"بھی ،بعض کے نزدیک اس سے مراد قبر کے گڑھے میں گرنا ہے۔ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ قبر تک آدمی کے ساتھ اس کے رشتہ دار جاتے ہیں، اس کا مال اور اس کے اعمال جاتے ہیں ۔رشتے دار بھی کام نہیں آسکتے ،واپس آجاتے ہیں مال بھی کام نہیں آتا،واپس آجاتاہے ،صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں اور وہی کام آتے ہیں۔(خرم مراد)
12۔ هُدٰى اور ہدایت دونوں کے معنی ہیں راہ دکھانا ،راہ پر چلانا اور منزل تک پہنچانا۔قرآن مجید نے ھدیٰ کے لفظ کو خاص طورپر استعمال کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ۔کسی مخلوق کی طرف سے ہدایت کیلئے ھدیٰ نہیں بلکہ ہدایت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ امام راغب اصفہانی نے ہدایت کے چاردرجے بیان کئے ہیں (i) ایک وہ ہدایت جو آدمی کی فطرت میں بھی ہے(ii)انسان کی فطرت میں سوچنے سمجھنے ،نیکی اور بدی کے درمیان فرق کرنے ،جو اس کے ذریعے علم حاصل کرنے،عقل کے ذریعے فیصلہ کرنے اور کسی نتیجہ تک پہنچنے کی صلاحیتیں (iii)وحی ۔ہدایت کیلئے دوشرائط: (1) ارادہ (2) کوشش۔باقی مراحل اللہ کے ذمے۔ہدایت دینا اندھے کی طرح ریوڑیاں بانٹنا نہیں۔رزق کا معاملہ جداہے (واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب)اللہ کے ہاں دنیا اور اس کے مال و متاع کی پرِ کاہ کے برابر اہمیت نہیں ۔ہدایت کی بڑی قدر و قیمت ہے (iv)ھدیٰ پر چلانے کے بعد جنت میں پہنچانا۔(خرم مراد)
ــــ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى،۔یہ وہی تنبیہ نسبتہً زوردار لفظوں میں ۔وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى۔ یہ مذکورہ تنبیہ پر مزید اضافہ ہے۔(تدبرقرآن)
18۔یہ امر یہاں واضح رہے کہ مقابلہ یہاں کم شقی اور زیادہ شقی یا زیادہ متقی اور کم متقی میں نہیں ہے بلکہ رسول کی تکذیب کرنے والوں اور اس کی تصدیق کرنے والوں میں ہے۔۔۔۔۔۔اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ دوزخ صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو زیادہ شقی ہوں گے، عام شقی دوزخ میں نہیں جائیں گے، لیکن یہ بات نہایت کمزور ہے۔ اگر اس کو صحیح مانیے تو ایک شخص اس آیت سے یہ استنباط بھی کر سکتا ہے کہ دوزخ سے صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو اعلیٰ درجہ کے متقی (اتقیٰ) ہوں گے، عام متقی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے یا یہ استدلال کر سکتا ہے کہ جنت کے حق دار صرف ’اتقیٰ‘ ہوں گے، عام متقی اس سے محروم رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں صحیح نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے بھی اس طرح کی کوئی بات کہی ہے ان کو غلط فہمی صرف آیات کا موقع و محل نہ سمجھنے سے پیش آئی ہے۔ ہم نے موقع و محل کی وضاحت کر دی ہے جس کے بعد اس طرح کی غلط فہمیوں کی راہ مسدود ہو گئی ہے۔ (تدبرقرآن)
19۔یہ اُس پرہیزگارآدمی کے خلوص کی مزید توضیح ہے کہ وہ اپنا مال جن لوگوں پر صرف کرتاہے ان کا کوئی احسان پہلےسے اُس پرنہ تھا کہ وہ اس کا بدلہ چکانے کیلئے یاآئندہ اُن سے مزید فائدہ اٹھانے کیلئے ان کو ہدئیے اور تحفے دے رہاہواور ان کی دعوتیں کررہاہو بلکہ وہ اپنے رب برتر کی رضا جوئی کیلئے ایسے لوگوں کی مدد کررہاہو جن کا نہ پہلے اس پر کوئی احسان تھا نہ آئندہ ان سے وہ کسی احسان کی توقع رکھتاہے۔اس کی بہترین مثال حضرت ابوبکرؓ کا طرز عمل ہے ۔(تفہیم القرآن)
20۔ حضرت ابن عباسؓ سے یہ قول مروی ہے کہ حضرت بلالؓ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کا مالک امیہ بن خلف ان کو طرح طرح سے ستاتا تھا۔حضرت ابوبکر نے منہ مانگی قیمت دے کر ان کو آزاد کروا دیا۔آپؓ کے والد ابو قحافہ کو جب علم ہوا کہ آپ کمزور غلاموں کو آزاد کرواتے ہیں تو انہوں نے کہا، بیٹے اگر تم طاقتور غلاموں کو آزاد کرواؤ تو وہ تمہارے کام آئیں گے۔ آپ نے جواب دیا، ابا جان میں تو اللہ کی رضا چاہتا ہوں۔(ضیاء القرآن)
ــــ وَجْهٌ چہرے کو کہتے ہیں ۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کے معنی خدا کی ذات ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی اللہ کی خوشنودی اور رضا کے ہیں ۔آپ ہم سے خوش ہوجائیےاور جو کام ہم نے کیا ہے اس کو دیکھ کر آپ کا چہر ہ کھل اٹھے۔حضرت عثمان غنی کے غلہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ مدینہ کے اندر بڑا زبردست قحط پڑا ۔روایت میں آتاہے کہ غلہ کے تاجر دس فیصد منافع تک آخر میں پہنچے اور پوچھا کہ مدینہ کا وہ کون ساتاجر ہے جو اس سے زیادہ قیمت دے رہاہے۔سیدنا عثمان نے فرمایا کہ ایک تاجر700 گنا دے رہاہے اور ایک ہزار اونٹ لیجاکر حضرت عمر کے سپرد کردیا ۔۔۔غزوۂ تبوک میں ایک صحابی کو دوصاع(سوا دوسیر یا اڑھائی سیر) کھجوریں مزدوری کے عوض ملیں اور اس نے آدھی جہاد فنڈ میں دے دیں۔(خرم مراد)
21۔ " وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى" ان دولفظوں کے اندر رب کریم نے جو کچھ بخش دیاہے اس کی تعبیر سے زبانِ قلم قاصر ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ تفسیر کبیر ہی میں قاضی ابوبکر باقلانی کی کتاب الامامۃ کے حوالے سے ہے کہ جس طرح آیت کریمہ: اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰہِالخ۔ (سورۂ دہر)حضرت علیؓ کے حق میں ہے، اسی طرح آیت کریمہ : " اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى" حضرت ابوبکرؓ کے حق میں ہے، اس طرح گویا دونوں بزرگان کے اخلاصِ کامل پر شہادت نص موجودہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ حضرت علیؓ پر مقامِ خشیت و خوف غالب ہے اور حضرت ابوبکرؓ پر مقامِ رغبت و شوق۔(کبیر، ج31/ ص:186)(تفیسر ماجدی)