93 - سورة الضحى (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 11

مضمون: نبیؐ کو تسلی کہ ابتدائی مشکلات کے بعد آپ فائز المرام ہوں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول:سورۂ الضحیٰ ،قیام مکہ کے پہلے دور(0تا3نبوی)میں آپؐ پر نازل ہوئی  جب مختصر وقفے (فترۃ الوحی) کے بعد دوبارہ نزول کا سلسلہ شروع ہوا۔انقطاعِ وحی کا یہ دورانیہ کم و بیش 20،15 دن کا تھا ۔اس اثنا میں آپؐ پریشان ہوتے تو حضرت جبرائیل آکر آپ کو تسلّی دیتے کہ آپؐ رسول ِ برحق ہیں (بخاری)

نظمِ کلام: سورۂ الملک ،سورۂ الاعلیٰ ۔۔۔۔۔اگلی دوسورتوں (والضحیٰ اور الم نشرح میں رسول اللہؐ کو تسلی دی گئی ہے۔ ماضی کی شاندار عنایات کا تذکرہ اور مستقبل کی عظیم عنایات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ درآنحالیکہ اس کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا تھا۔اس عظیم الشان مستقبل کیلئے سماجی عدل اور اللہ سے مضبوط تعلق کو بنیاد بتایا گیاہے۔


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الضُّحٰىۙ ﴿1﴾ وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ ﴿2﴾ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ ﴿3﴾ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ ﴿4﴾ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ ﴿5﴾ اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ ﴿6﴾ وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ ﴿7﴾ وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ ﴿8﴾ فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ ﴿9﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ ﴿10﴾ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ ﴿11ع الضحى 93﴾
1. آفتاب کی روشنی کی قسم۔ 2. اور رات (کی تاریکی) کی] جب چھا جائے۔ 3. کہ (اے محمدﷺ) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا۔ 4. اور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے۔ 5. اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ 6. بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی)۔ 7. اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا۔ 8. اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔ 9. تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا۔ 10. اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا۔ 11. اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا۔

تفسیر آیات

1۔ وَ الضُّحٰى کے معنی دن کا وہ خاص وقت ہے جبکہ سورج چڑھ چکا ہو مگر زوال کو نہ پہنچا ہو(بعض اسے چاشت کا وقت بھی کہتے ہیں) (خرم مراد)

2۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ نے اپنی تفسیر ِ عزیزی میں لکھا ہے کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ضحیٰ سے مراد حضورؐ کی ولادت باسعادت کا دن اور لیل سے مراد شب ِ معراج ہے ،۔۔۔الضحیٰ حضورؐ کا رخِ انور۔لیل ،زلفِ عنبرین۔۔نورِ علم اور لیل حضور کا عفو و درگزر جس نے امت کے عیبوں کو ڈھانپ دیا۔۔۔حضورؐ کے ظاہری احوال اور احوالِ باطن۔(ضیاء القرآن)

ــــ  اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے کو سمجھا رہے ہیں کہ جس طرح دن اور رات میں تغیر و تبدل آنا فطری امر ہے ،راہِ حق میں مشکلات کے باوجود حق بہرحال غالب آکر رہے گا۔(خرم مراد)

ــــ  وَ الضُّحٰى۔ضحیٰ کے معنی اس وقت کے ہیں جب سورج کی روشنی اول اول خوب پھیل لیتی ہے، اُردو میں اسی کو دن چڑھے کا وقت کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس کا فارسی ترجمہ"وقت چاشت"کیا ہے۔اِذَا سَجٰى۔سجیٰ کے دومفہوم ہیں: ایک یہ کہ تاریکی خوب پھیل جائے اور سب چیزوں کو ڈھانپ لے، دوسرے یہ کہ اس میں جانداروں کے چلنے پھرنے،بولنے چالنے کی آوازیں رُک جائیں اور فضا سکون کی پیدا ہوجائے۔ لغت و تفسیر میں منقول یہ دونوں معنی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

3۔ جب وحی کا سلسلہ رک گیا تو آپؐ کو پریشانی ہوئی کہ کہیں میرا اللہ مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیا۔یہ اس سورۂ کی شانِ نزول ہے ۔مختلف مفسرین اور علماء نے جن میں امام ابن تیمیہ ؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ بھی شامل ہیں یہ لکھا ہے کہ جب کوئی واقعہ کسی آیت کی شانِ نزول میں بیان کیا جاتاہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب بنا بلکہ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس آیت کے مفہوم کا اطلاق اس واقعہ پر بھی ہوتاہے ۔شاہ ولی اللہ ؒ کے الفاظ بڑے قیمتی اور انقلابی ہیں کہ قرآن مجید کی شانِ نزول صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کو راہِ ہدات دکھانا چاہتاہے ۔اس کے باطل عقائد و نظریات اور افکار کی تردید کرنا چاہتاہے۔اور اسے راہ حق پر چلانا چاہتاہے ۔صرف اہلِ مکہ و مدینہ یا صحابہ کرامؓ کو ہی نہیں بلکہ ہر زمانے میں، ہرقوم کو راہِ حق دکھانا چاہتاہے۔۔۔۔ــــ وَدَّعَکَ کا مفہوم اردوزبان میں وداع سے اداہوتاہے۔یعنی نہ تمہارےرب نے تمہیں وداع کیا یا چھوڑا اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا۔)خرم مراد(

ــــ یہاں لفظ رَبُّکَ استعمال ہواہے ۔اس طرح اللہ نے تمہاری جسمانی اور روحانی دونوں طرح سے پرورش کی اور تمہیں اس مقامِ عظیم تک پہنچایا۔رب کی ربوبیت کا کمال دیکھنا ہو تو حضورؐ کی تربیت دیکھو اور ان کا اوجِ کمال اور اس کے مرحلے دیکھو۔(خرم مراد)

ــــ  ابنِ جُرَیح نے 12 روز ،کلبی نے 15 روز،ابنِ عباسؓ نے 25 روز ،سُدّیٰ اور مقاتل نے 40 روز مدت بیان کی ہے۔)تفہیم القرآن(

ـــــ  ضروری نہیں کہ کفار میں سے کسی کے اس طعنہ کے جواب میں کہ "اس شخص کو اس کے رب نے چھوڑ دیا" یہ آیت اتری ہو۔(تدبرقرآن)

ــــ اس سورت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی وحی آپؐ پر غار حرا میں نازل ہوئی جو سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ اس بار وحی کی کوفت کا تو یہ حال تھا کہ آپؐ نے گھر آکر سیدہ خدیجہؓ کو یہ واقعہ سنایا تو بتایا کہ"انی خشیت علی نفسی"کہ مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑگئےتھے اور لذت و سرور کا یہ حال تھاکہ آپ اس واقعہ کے بعد ہر وقت جبرائیلؑ کی آمد کے منتظر رہتے تھے لیکن وحی کچھ عرصہ کے لیے بند ہوگئی یہ عرصہ کتنا تھا؟اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں ۔کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ۔واللہ اعلم باصواب۔اسی وقفہ کو فترۃ الوحی کہتے ہیں۔ اس دوران آپ کو خود بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتاکہ کہیں میرا پروردگا مجھ سے ناراض تونہیں ہوگیا؟ اور کافر تو بہر حال ایسے موقع کی تلاش میں رہتے تھے  جس سے وہ اپنے اندر کا ابال نکال سکیں  جیساکہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے:۔جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہؐ کا مزاج ناساز ہوا اور دو تین راتیں (نماز تہجد کے لیے)اٹھ نہ سکے۔ایک عورت (عوراء بنت حرب،ابوسفیان کی بہن اور ابولہب کی بیوی)آپؐ کے پاس آئی اور کہنے لگی :محمدؐ ! میں سمجھتی ہوں کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑدیا ہے میں نے دوتین راتوں سے اسے تیرے پاس نہیں دیکھا"اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (بخاری۔کتاب التفسیر )(تیسیر القرآن)

4۔ اس مفہوم میں دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں ۔آخرت کے لفظ میں دنیا (بعد کا دور) بھی آتی ہے اور مرنے کے بعد کی زندگی بھی۔آپؐ کی زندگی ہی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کرلیا۔مکہ ،جہاں سے آپ کو نکالاگیا،وہاں آپؐ فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے ۔عرب کی سرزمین مختلف ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی تھی،وہ ایک مضبوط قوم  بن گئی ۔عرب قوم ایک زندہ قوم بن کر اٹھی ۔لوگوں کے اخلاق و اطوار بدل گئے ۔حضورؐ کی صحبت اور تربیت سے اسلامی تعلیمات کی وجہ سے وہ اجڈ اور گنوار نہ رہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کے پیغام اور دعوت کو قبول ِ عام بخشا۔آپ کی شخصیت کی محبوبیت کو لوگوں کے دلوں میں قائم کیا اور اتنی بڑی کامیابی سے نوازا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔(خرم مراد)

5۔ فرمایا کہ عنقریب تمہارا رب دے گا اور تم نہال ہوجاؤگے ۔حاوی ہے  ان تمام فیروز مندیوں اور کامرانیوں پر جو بعد کے ادوار میں اسلام کو حاصل ہوئیں ۔(تدبرقرآن)

ــــ  یہ اللہ کے وہ وعدے تھے جن کی بناپر نبی اکرمؐ کے پیغام کو عام کرنےاور دعوت کا کام اس یقین اور ایمان کے ساتھ کررہے تھے کہ حق کا یہ پیغام عام ہوکررہے گا اور دنیا اس کے آگے جھک کر رہے گی۔مکہ کی پوری زندگی میں گنتی کے چند آدمی ایمان لائے تھے۔اُن پر بھی زندگی تنگ ۔حضرت بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹا کرگھسیٹا جاتاتھا ،حضرت خباب بن ارتؓ کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتاتھا یہاں تک کہ ان کے جسم کی چربی سے انگارے بجھ جاتے تھے۔سراقہ معافی مانگتاہے اور درخواست کرتاہےکہ مجھے پروانہ لکھ دیں ۔آپؐ لکھ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں سراقہ تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے گنگن ہوں گے ۔ذرا تصور کیجئے کہ جان کے لالے پڑے ہوئے اور کسریٰ کے خزانے ۔غزوۂ خندق میں ایک کدال پتھر پرمارتے ہیں ،قیصر کے خزانے،دوسری پر کسریٰ کے اور تیسری پریمن کے ۔۔۔۔آپؐ کو اور بھی اشارے ملتے تھے ،خواب اور کلامِ الٰہی کی صورت میں ۔ان محبت بھرے کلمات نے ان تمام خدشات کو دور کردیااور آپ کو اطمینان ہوگیا کہ میرا رب میرے ساتھ ہے۔(خرم مراد)

ــــ  پچھلی سورت میں وَلَسَوفَ یَرضیٰ ،اس سورت میں تَرضیٰ ۔پچھلی سورت میں صدیق اکبر ؓ کیلئے اس لئے غائبانہ خطاب (صیغہ واحد غائب)، اس سورت میں براہِ راست خطاب چونکہ آپؐ پر وحی نازل ہوتی تھی۔     (بیان القرآن)

7۔ اس صورت ِ حال نے آپؐ کو ایک شدید قسم کی ذہنی کشمکش میں ڈال دیاتھا۔ضال یہاں گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ جویائے راہ کے معنی میں ہے۔حضرات الانبیاء ؑ بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر ہوتے ہیں ۔گویا ایک شخص چور اہے پر کھڑا ہواور فیصلہ نہ کر پارہاہو کہ کس سمت میں قدم ]بڑھائے ۔بعثت سے پہلے غارِ حرا کی تنہائیوں میں آپؐ اپنی گتھیوں کو سلجھانے میں گُم رہے۔(تدبرقرآن)

8۔ غنا اور فقر کا جتنا تعلق مادی اسباب و وسائل سے ہے اس سے زیادہ قلب کے احوال سے ہے۔فرمانِ نبوی(الغنیٰ غنی النفس)  ۔جو حریص ہے اس کا کاسۂ گدائی کبھی نہیں بھرتا۔

ع۔                       کاسۂ چشمِ حریصاں پُرنہ شد

ــــ  جن لوگوں نے اس غنا کو تمام ترحضرت خدیجہ ؓ کے مال کا نتیجہ قرار دیاہے ان کی نظر صرف ظاہر پر ٹک گئی ۔(تدبرقرآن)

ــــ  عَائِلاً کے معنی ہیں وہ شخص جس کے پاس کوئی سرمایہ نہ ہو ،نادار اور کم مایہ ہو نیز عیال دار اور غریب بھی ۔اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ روحانی اور اخلاقی طورپر پیاسا ہو اور حق و صداقت کی تلاش میں ہو۔آپ ؐ نے تجارت شروع کی تو مالدار ہوگئے،عرب کی امیر ترین خاتون سے شادی۔ اصل دولت تو دل کی قناعت اور بے نیازی ۔ایک آدمی کے پاس دس لاکھ (خواہش کہ بیس لاکھ) تو وہ غنی نہیں، وہ تو پیسے کا بچاری ہے اور اپنے آپ کو غریب سمجھتاہے اور حرص میں مبتلا ہے۔ درحقیقت اللہ کو تو دل کی بے نیازی مطلوب ہے۔(خرم مراد)

۔یہ اسی بات کو جو اوپر آیت ۴ میں ارشاد ہوئی کہ تمہارا مستقبل ماضی سے بہتر ہو گا، مؤکد کرنے کے لیے خود حضور ہی کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف توجہ دلائی کہ غور کرو تو تمہیں اپنی ہی زندگی اس حقیقت کی نہایت عمدہ تفسیر نظر آئے گی۔ (تدبرِ قرآن)

9۔ غلاموں سے حسنِ سلوک اور ان کے حقوق پر اتنا زور دیا گیا کہ ہمارے ہاں غلام بادشاہِ وقت بن گئے۔برعظیم پاک و ہند میں خاندان ِ غلاماں نے حکمرانی کی ہے ۔(خرم مراد)

10۔ سَائِل  کے دومعنی ہیں ایک مانگنے والا اور دوسرا پوچھنے والا ۔اگر کوئی مانگنے والا ہویا ہدایت کا طلبگار دین کے متعلق سوال پوچھنے والا ،دونوں کو مت جھڑکو ۔(خرم مراد)

ــــ  ]یہ اس انعام کا حق بیان ہواہے جو اوپر وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کے الفاظ میں بیان ہوا۔(تدبرقرآن)

11۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق بیان ہواہے جو اوپر  وَ وَجَدَكَ عَآىٕلًا فَاَغْنٰى کے الفاظ میں بیان ہواہے۔صرف وہ غنا مراد نہیں جو حضورؐ کو حضرت خدیجہؓ کے مال سے حاصل ہوا بلکہ اصلاً اس سے دین کی وہ حکمت اور شریعت کی وہ دولت مراد ہے جس کی شان قرآن میں یہ بیان ہوئی۔وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا(البقرۃ:2-269)اور جس کو حکمت عطاہوئی اس کو خیر کثیر کا خزانہ بخشا گیا۔(تدبرقرآن)

ــــ  نعمت سے مراد ہدایت کی نعمت۔امتِ مسلمہ کی سربلندی کیلئے ویسے ہی وعدے جیسے نبی سے (مگر یقین تو ہو)دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو،تم ہی غالب رہوگے،اگر تم مومن ہو(آلِ عمران:139:3)وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بناچکاہے(النور۔55:24)گویا اگر تم دنیا میں ایمان اور عمل ِ صالح کا راستہ اختیار کرو گے تو زمین کی خلافت ہم ضرور تمہیں دیں گے بشرطیکہ تم کمزوروں کا حق نہ دباؤ،ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو،مانگنے والوں کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ اور خاص طورپر جولوگ حق کے متلاشی ہیں ،ان کے لئے قرآن بیان کرو،اسے آگے پہنچاؤ ،اس کی تبلیغ کرو،اپنی زبان اور عمل سے اور ہرطرح سے اس کی تحدیث ِ نعمت کرو۔(خرم مراد)