94 - سورة الشرح (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 8 |
مضمون: دعوت کی مشکلات کو درجہ بدرجہ عبور کرکے منزل ملے گی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: یہ سورۃ ،سورۂوالضحیٰ کے بعد قیام مکہ کے پہلے دور (0تا3 نبوی) میں آپؐ پر نازل ہوئی ۔جب مختصر وقفے (فترۃ الوحی) کے بعد دوبارہ نزول کا سلسلہ شروع ہوا۔
نظمِ کلام:سورۃ الملک، سورۃ الاعلیٰ، سورۃو الضحیٰ۔
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ ﴿1﴾ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ ﴿2﴾ الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ ﴿3﴾ وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ ﴿4﴾ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ ﴿5﴾ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ ﴿6﴾ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ ﴿7﴾ وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ ﴿8ع الشرح 94﴾ |
| 1. (اے محمدﷺ) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا)۔ 2. اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا۔ 3. جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی۔ 4. اور تمہارا ذکر بلند کیا۔ 5. ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ 6. (اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ 7. تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو۔ 8. اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو۔ |
تفسیر آیات
1۔ دعوت کے کام میں شدید مشکلات اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرکے تسلی دیتے ہوئے فرمایاکہ اے نبیؐ،کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں ؟پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟عربی زبان کے لحاظ سے شرحِ صدر کو کسی بھی شقِ صدر کے معنیٰ میں نہیں لیا جاسکتا۔علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا ہے :"محققین کے نزدیک اس آیت میں شرح صدر کو شقِ صدر پر محمول کرنا ایک کمزور بات ہے۔(تفہیم القرآن )
ــــ سینہ کو کھول دینے سے مقصود وہ بصیرت و معرفت پیدا کرنا ہے جو صحیح ایمان کا ثمرہ ہے اسی سے اللہ تعالیٰ پر وہ اعتماد و توکل پیدا ہوتاہے جو تمام قوت اور عزم کا سرچشمہ ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کے قلب میں اتنی وسعت اور کشادگی پیدا کی کہ وہ وحئ الٰہی کو جذب کرسکے اور پھر اسے اللہ کے بندوں تک ٹھیک ٹھیک پہنچاسکے۔اپنے منصب کے تقاضوں کیلئے جس تحمل ،بردباری ،قوتِ برداشت اور اعلیٰ ظرفی کی ضرورت تھی، وہ بھی اللہ نے آپؐ کے سینے میں پیدا کی،یہ بھی شرح ِ صدر تھا،حضورؐ کے قلب میں وسعت اور اپنے مشن کی تکمیل کیلئے شخصیت کی تعمیر کے تمام پہلو مجتمع کردئیے ۔احادیث کی بنیاد پر شقِ صدر کے حوالے سے ۔بچپن میں جب آپؐ دودھ پینے کیلئے حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس تھے،اس وقت آپؐ کا سینہ چاک کرکے اس میں سے تمام شیطانی وسوسوں اور غلط خیالات کو نکال دیا گیا ۔اس لئے آپؐ گناہوں سے پاک اور معصوم تھے۔اے نبی صرف خاص آپؐ کی منفعت ،بھلائی اور سہولت کیلئے ایسا کیا گیا کہ آپؐ کا سینہ کھول دیا گیا ۔لَکَ کا استعمال دراصل اس عنایت کو صرف آپؐ کیلئے مخصوص کرنیکوظاہر کرتاہے۔(خرم مراد)
ــــ مکی دور میں کافروں نے آپ پر سات مرتبہ قاتلانہ حملے کیے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے سورہ مائدہ آیت 67 کا حاشیہ)(تیسیر القرآن)
ــــ اکثر مفسرین نے یہاں رسول اللہؐ کے واقعۂ شق صدر کا بھی ذکر کیا ہے، وہ روایت سلسلۂ سیرت میں جو مرتبہ بھی رکھتی ہو، بہر حال تفسیر آیت کی موقوف علیہ نہیں۔(تفسیر ماجدی)
2۔ ایک بوجھ تو آپؐ پر یہ تھا کہ آپؐ کو اس بات کی تلاش تھی کہ حق کیا ہے؟ایک بوجھ یہ بھی تھا کہ قوم جتنی بھی گمراہیوں ،خرابیوں اور بداعمالیوں میں مبتلا ہے اس کی اصلاح کیسے ہوسکے گی۔رسالت کا مشن آپؐ کے سپرد کیا گیا تو اسے پہنچانے کا احساس بھی ایک بوجھ تھا ۔نزولِ وحی خود اپنی جگہ ایک بوجھ تھا۔اگر سردی ہوتی تھی تو آپؐ کی پیشانی پر پسینہ آجاتاتھا ۔اس منصب اور مشن کے تقاضوں کا احساس بھی اپنی جگہ ایک بوجھ تھا جس کے نیچے آپؐ دبے جارہے تھے۔ وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ کے معنی وضع کرنے ، کم کرنے یا ہٹانے کے ہوتے ہیں ۔آپؐ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم و ستم (اس بوجھ کو بھی آپؐ کے سینے سے ہلکا کردیا۔آپؐ کو صبر و استقامت بخشی)۔(خرم مراد)
3۔ یہ وہی بارِ غم ہے جو بعثت سے پہلے آپؐ کے دل پر تھا کہ آپؐ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں و حیراں تھے۔ پھر جب اللہ نے آپؐ کو ہدایت دے دی تو اس پر مزید اضافہ اس بات سے ہواکہ آپؐ کی پوری قوم اس کی دشمن بن کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔قوم کی مخالفت کی وجہ سےآپؐ کو یہ احساس ہواکہ شاید آپ کی جدوجہد میں کوئی کمی یا خامی ہے۔(تدبرقرآن)
4۔/ آپؐ کے ذکر سے مراد دوچیزیں ہیں ۔آپؐ کا نامِ گرامی اور آپؐ کی دعوت ۔آپؐ کی اجتماعات میں دعوت اور مخالفین کی کوششوں کے نتیجے میں آپؐ کا نام عرب کے گوشے گوشے میں پھیل گیا ۔نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد آپؐ کا ذکر بلندہونا۔یورپ کا ایک مستشرق ہملٹن گب لکھتاہے کہ مکہ کے ایک یتیم بچے نے لاالٰہ الا اللہ کی ایک ایسی برقی آواز بلند کی کہ مکہ سے لوگ نکلے اور سوسال کے عرصہ میں سپین، ہندوستان، افریقہ اور چین تک پھیل گئے۔یوں وادیوں ، پہاڑوں، کھیت کھلیانوں، گھروں اور مساجد کے میناروں سے ہرجگہ اس یتیم بچے کا نام پکارا جانے لگا ۔ذات پاک پر درود و سلام اور اسکی محفلیں۔احادیث میں آتاہے کہ جبرئیل نے آکر حضورؐ کوبشارت دی کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جہاں میرا نام لیا جائے گا وہاں آپؐ کا نام بھی لیا جائے گا۔یورپی نومسلم محمد اسد : سب سے بڑی شہنشاہیت ، سلطنتِ روما کو اپنے عروج تک پہنچنے میں 600سوسال لگےمگر جب وہ بکھرنا شروع ہوئی تو صرف 100 سوسال میں بکھر کر ختم ہوگئی۔ اسلامی تہذیب کو دنیا بھر میں پھیلنے کیلئے 100 سوسال نہیں بلکہ صرف 60 سال لگے ۔جبکہ اس کے زوال کو ایک ہزار برس لگے۔مگر زوال کے بعد بھی آج مسلمان ایک امت ہیں اور مخالفین کیلئے خطرہ ۔(خرم مراد)
۔یہاں تین نعمتوں کا ذکر ہے شرح صدر، وضع وزر، رفع ذکر، ان تینوں کو تین جملوں میں ذکر فرمایا ہے اور سب میں فعل اور مفعول کے درمیان ایک حرف لَکَ یا عَنکَ لایا گیا ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت اور خاص عظمت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب کام آپ کی خاطرکئے گئے ہیں۔ (معارف القرآن)
6۔یہ تکرار محض تاکید کیلئے نہیں ۔ایک گھاٹی کسی نے پار کرلی تو یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ بس رب کی کسی نئی گھاٹی سے اس کو سابقہ پیش نہیں آنا بلکہ دوسری اور تیسری گھاٹی بھی ہے۔اس امتحان کی حکمت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ منافق اور مخلص ،راست باز و ریاکار میں امتیاز کرتاہے تاکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزاپالے۔(تدبرقرآن)
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
- اس آیت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ عظمت و رفعت کیسے ملتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کیا قانون اور سنت ہے۔(خرم مراد)
۔لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
7-8۔ نبوت ملنے کے بعد نبی کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اللہ سے لو لگا کربیٹھے ۔جیسے ابتدائے نبوت میں حضرت موسیٰؑ کا اللہ سے کلام اور اس کی وجد آفرین کیفیت اور اس کے بعد دعوت کے مشکل لمحے۔۔۔۔علامہ اقبالؒ کے چوتھے لیکچر میں صوفی کا تذکرہ کہ حالتِ مراقبہ سے باجماعت نماز میں شامل ہونا ایسا ہی ہے کہ جیسے حضوری کی کیفیت سے نکال کر درباری کی کیفیت میں کھڑا کردیا۔۔۔۔فانصب کی حالت : مولانا روم ۔قطرہ صاف شفاف اٹھا ،برسا اور ہرچیز کی گندگی دھودی اور گندگی کو سمیٹ کر دریاؤں اور ندیوں سے ہوتاہواسمندر میں جاگرا اور پھر پاک صاف بخارات اٹھے اور قطرہ پاکیزہ و شستہ ہوگیا۔ آغاز قیام اللیل سے( یا حرا کی تنہائیوں سے) ،پھر اصلاحِ معاشرہ کی غلاظت اور جماعت کے دریا میں اور پھر وسیع اسلامی سلطنت کی محنت سے نکل کر( فارغ ہوکر )دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ (اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ)۔(بیان القرآن)
7-8۔ جب آپؐ ایک محنت یعنی دعوت ِ حق اور تبلیغ ِ احکام سے فارغ ہوں تو دوسری محنت کیلئے تیار ہوجائیےیعنی نماز، ذکراللہ اور توجہ الی اللہ بھی ضروری ہے۔(معارف القرآن)
ــــ فرمایا کہ دعوت کی مشکلات عبور کرکے جب اللہ کی نصرت بے نقاب ہوجائے ،مکہ فتح ہوجائے، دشمن گھٹنے ٹیک دیں اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں تو پھر رجوع الی اللہ کی آخری منزل کی تیاری کرو ۔ان آیات میں دوبشارتیں ۔(i)آپؐ تمام مشکلات کے بعد ،آخری منزل کی کامیابی کے بعد فارغ ہونے کا شرف حاصل کرینگے ۔(ii)کامیابی کی آخری منزل پر پہنچنے کے بعد کمر کھول دینے اور آرام کرنیکی بجائے لقائے رب کی تیاری ۔یہاں بات اجمال میں ہے تفصیل اس کی سورۂ نصر میں آئے گی۔(تدبرقرآن)
7-8۔ سورۂ ضحیٰ کی تینوں ہدایات کا تعلق اللہ کی مخلوق سے ہے ۔یتیم بھی مخلوق، سائل بھی مخلوق،نعمت کا اظہار بھی مخلوق کے ساتھ۔الم نشرح میں شرحِ صدر ،رفعِ ذکر اور بوجھ ہٹانے کی نعمتیں، خاص حضورؐ کیلئے اور اسی لئے اپنے رب کے ساتھ تعلق ۔فراغت۔ دنیوی اشغال سے فارغ ہوجانے سے مراد یہاں خالصتاً دنیاوی کاموں سے فارغ ہوجانانہیں بلکہ اس میں وہ دینی مشاغل بھی شامل ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے۔مثلاً لوگوں کے حقوق اداکرنا، اپنی روزی کمانا، بیوی بچوں کیساتھ زندگی بسر کرنا، دعوت کاکام کرنا اور اللہ کا پیغا م پہنچانا۔ جب آپؐ کا کام تقریباً مکمل ہوگیا تو حضورؐ رات رات بھر قیام فرمایا کرتے تھے اور آپؐ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟(خرم مراد)
8۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضورؐ کے ساتھ جتنے وعدے اور بشارتیں تھیں وہ ہرزمانے اور ہر دور کے مسلمانوں کیلئے ہیں جوبھی اللہ کے دین کیلئے کھڑا ہوجائیگا اللہ اس کے مرتبے اور کام کے لحاظ سے اسے شرحِ صدر عنایت کرے گا ،اسے دنیا کے اندر محبوب بھی بنائے گا اور اس کا بوجھ بھی ہلکا کرےگا۔اس کو اپنی دعوت اور مشن کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے اہلیت اور صلاحیت بھی دے گا۔(خرم مراد)