95 - سورة التين (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 8

مضمون:بندوں کو نیکی اور بدی کا امتیاز بخشنے کے بعد عدل کا تقاضا یہ ہے کہ جزاو سزا کا دن آئے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول:سورۃ التین ،حضورؐ کے قیامِ مکہ کے پہلے دور (0تا3نبوی) میں نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی اور جب آپؐ پر اعلیٰ ادبی اسلوب میں مختصر ،محکم اور جامع سورتیں نازل کی جارہی تھیں۔

نظمِ کلام: سورۃ الملک،سورۃ الاعلیٰ


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ ﴿1﴾ وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ ﴿2﴾ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ ﴿3﴾ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ ﴿4﴾ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ ﴿5﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ ﴿6﴾ فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ ﴿7﴾ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ ﴿8ع التين 95﴾
1. انجیر کی قسم اور زیتون کی۔ 2. اور طور سینین کی۔ 3. اور اس امن والے شہر کی۔ 4. کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔ 5. پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا۔ 6. مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکے لیے بےانتہا اجر ہے۔ 7. تو (اے آدم زاد) پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے؟ 8. کیا خدا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟

تفسیر آیات

1۔ تین اور زیتون کے الفاظ کا مطلب ان پھلوں کی پیداوار کا علاقہ ہوسکتاہے اور وہ شام اور فلسطین کا علاقہ ہے۔(تفہیم القرآن)

ـــــ  اس سے معلوم ہواکہ تین سے مراد یا تو کوہِ جودی ہے یا اسی کے قریب کا کوئی دوسرا پہاڑ ۔تو رات میں ہے کہ طوفانِ نوح کے بعدبنی آدم یہیں سے ادھر ادھر متفرق ہوئے اور قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ کوہِ جودی کے پاس پیش آیا۔زیتون سے بھی زیتون کا درخت یا اس کا پھل مراد نہیں بلکہ جبلِ زیتون ہے جو حضرت عیسیٰ کی دعوت اور عبادت کے مرکز کی حیثیت سے معروف ہوااور انجیل میں جس کا ذکر باربار آیاہے۔سلف کے اقوال سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے ۔حضرت ابنِ عباسؓ اور حضرت کعبؓ سے روایت ہے کہ زیتون سے مراد بیت المقدس ہے اور قتادہ کہتے ہیں کہ زیتون وہ پہاڑ ہے جہاں بیت المقدس واقع ہے۔ جبلِ تین کی شہادت جزاپر:اس پہاڑ پر اللہ تعالیٰ کے قانونِ مکافات کے دو اہم واقعات پیش آئے۔ایک حضرت ِ آدمؑ کا واقعہ اور دوسرا حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کا واقعہ ۔یہاں وہ بات بھی یاد رکھئے جو تورات میں مذکور ہے کہ حضرت آدم و حواؑ نے جنت کی خلعت سے محروم ہونے کے بعد جس درخت کے پتوں سے اپنے تن کو ڈھانکا وہ انجیر کا درخت تھا۔اس دن اللہ نے ایک طرف حضرت آدمؑ سے ایک نعمت چھینی اور دوسری طرف ایک عظیم نعمت ان کو بخشی ۔چھینی اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے عہد کو فراموش کردیا تھا اور بخشی اس وجہ سے کہ غفلت کے بعد وہ متنبہ ہوگئے اور انہوں نے توبہ کی ۔جبل تین کے پاس جزا کا دوسرا واقعہ حضرت نوحؑ کے عہد میں پیش آیا جب اللہ تعالیٰ نے اسی پہاڑ کے پاس ظالموں کو تباہ کیا اور نیکو کاروں کو طوفانِ سے نجات دی اور برکت بخشی ۔کوہِ زیتون: اسی پہاڑ پر خدانے  حضرت عیسیٰؑ کو بزعمِ خویش صلیب پر چڑھانے کے جرم میں  اپنی شریعت یہود سے چھینی اور وہ سلسلئہ ابراہیمی کی دوسری شاخ کے حوالے کی۔(تدبرقر آن)

2۔ طورسینین کی شہادت جزاپر:یہی مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک مظلوم و مقہور قوم پر اپنی عنایت مبذول فرمائی اور اس کے صبر کے صلہ میں دشمن کے پنچہ سے اس کو نجات دیکر  اس کا سر اونچا کیا اور پھر اس کو ایک ایسی شریعت عطافرمائی جو منکروں اور دشمنوں کیلئے یکسر تازیانۂ عتاب تھی۔(تدبرقرآن)

3۔ بلد ِامین کی شہادت جزاپر ۔ بلد امین سے ظاہر ہے کہ مکہ ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک مامون گھربنایا ہے۔حضرت ابرہیم ؑ نے اس کیلئے رزق و امن کی  دعا فرمائی ۔(تدبرقرآن)

1-3۔ چار قسموں (کوہِ جودی، کوہِ زیتون، کوہِ طور اور بلد الامین) کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے انتہائی مختصر الفاظ میں پوری تاریخ کے اہم واقعات کا ایک خوبصورت فریم بنادیا جس میں اپنی تعلیم کی تصویر کو فٹ کیا (یا  لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ)(خرم مراد)

4۔ مشر ق و مغرب کے تمام ماہرینِ نفسیات متفق ہیں کہ انسان میں کوئی اعلیٰ چیز ہے ہی نہیں (حیوانی جبلت اور خود غرضی غالب )۔ اس کے مقابلے میں قسم  کھاکر لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔سرشت کےاعتبارسے کمزورمگر فطرت کے لحاظ سے احسنِ تقویم ۔اسفل سافلین سے اوپر اٹھنے کیلئے محنت ۔ایمان ِ محکم  اور عملِ صالح۔(بیان القرآن)

 اک حسن کا دریا ہے                                               اک نورکا طوفاں ہے

اس پیکر خاکی میں                                                   یہ کون خراماں ہے  (انوار القرآن)

ــــ  اگر انسان کو بنظر ِ غائر دیکھا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ صوری اور معنوی حسن و کمال میں کوئی چیز بھی انسان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ گراں قیمت حیوان ،زور آور جانور، درندے ، پرندے، ہوائی اور آبی مخلوقات ،سب کی سب انسان کے سامنے سرافگندہ اور اس کے حکم سے سرتابی کی جرات نہیں کرسکتیں۔علامہ قرطبی نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی کو اپنی بیوی سے شدید محبت تھی ۔ایک دن اس سے کہا اگر تو چاند سے زیادہ خوبصورت نہ ہو تو تجھے تین طلاقیں۔بیوی اٹھی اور خاوند سے پردہ کر دیا کہ اب ہمارا ازدواجی تعلق منقطع ہے ۔ عیسیٰ بہت نادم ہوا اور صبح  سویرے خلیفہ منصور کے پاس پہنچا ۔ خلیفہ منصور نے فقہا سے پوچھا تو سب نے کہا کہ طلاق واقع ہو گئی۔ امام ابوحنیفہؒ کے ایک شاگرد  نے یہ آیت پڑھی۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ، اور کہا کہ انسان کو ہر چیز سے حسین تر بنایا گیا ہے(ضیاء القرآن)

ـــــ  احسن تقویم ہونے پر شہادت کیلئے ان مقامات کی قسم کھائی گئی ہے جو خدا کے پیغمبروں سے نسبت رکھتے ہیں (شام و فلسطین کا علاقہ جہاں حضرت ابرہیمؑ سے لیکر حضرت عیسیٰ تک انبیاء مبعوث ہوئے )۔انسان کو اس بہترین ساخت پر بنایا کہ اس میں انبیا پیدا ہوئے ۔(تفہیم القرآن)

4۔ یہ وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کیلئے مذکورہ بالا قسمیں کھائی گئی ہیں ۔ تقویم کا لغوی معنی تو کسی چیز کو سیدھا کرنے کے ہیں ۔پھر اس مفہوم سے ترقی کرکے یہ لفظ کسی شے کو کسی خاص مقصد کیلئے موزوں اور مناسب بنانے کے معنی میں استعمال ہواہے ۔انسان کو اللہ نے نہایت اعلیٰ مقصد (رب کے بتائے ہوئے صراطِ مستقیم پر چلنا )کیلئے بہترین صلاحیتوں سے آراستہ کیا۔۔۔۔۔۔انسان کے متعلق قرآن میں باربار یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ اس کو خدا نے عبث نہیں بلکہ ایک عظیم غایت (بِالْحَقِّ) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ غایت یہ ہے کہ اس دنیا کے دارالامتحان میں وہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کی باطل ترغیبات و ترہیبات سے بچتا ہوا زندگی کی اس صراط مستقیم پر گامزن رہے جو اس کے رب نے اس کے لیے کھولی ہے۔۔۔۔۔(تدبرقرآن)

5۔ انسان اپنی بچیوں کو زندہ مٹی میں دفن کردیتاہے ، قوم اور وطن سے غداری، سمگلر، انجینئر(ملک کی شاہراہوں ، پلوں اور ڈیموں کی تعمیر میں بددیانتی)،صنعتکار(اجناس ِ خوردنی اور ادویہ میں ملاوٹ ) تاجر (ذخیرہ اندوزی ) کیا وہ کتے اور خنزیر سے پست تر نہیں ۔جو شخص فسق و فجور کی غلاظتوں میں خوش رہتاہے ،گندگی میں جنم لینے والے کیڑوں سے وہ بہتر ہوسکتاہے؟۔(ضیاء القرآن)

ــــ  مفسرین نے بالعموم اس کے دو معنی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر، یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لیے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لیے یہ سورة نازل ہوئی۔ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کے بعد جب انسان اپنے جسم اور ذہن کی طاقتوں کو برائی کے راستے میں استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے برائی ہی کی توفیق دیتا ہے اور گراتے گراتے اسے گراوٹ کی اس انتہا تک پہنچا دیتا ہے کہ کوئی مخلوق گراوٹ میں اس حد کو پہنچی ہوئی نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدے میں آتی ہے۔ حرص، طمع، خود غرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، غیظ و غضب اور ایسی ہی دوسری خصلتوں میں جو لوگ غرق ہوجاتے ہیں وہ اخلاقی حیثیت سے فی الواقع سب نیچوں سے نیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف اسی ایک بات کو لے لیجیے کہ ایک قوم جب دوسری قوم کی دشمنی میں اندھی ہوجاتی ہے تو کس طرح درندگی میں تمام درندوں کو مات دیتی ہے۔ درندہ صرف زخمی یا ہلاک کرتا ہے۔ مگر انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کو اذیت دینے کے لیے ایسے ایسے درد ناک طریقے اختراع کرتا ہے جن کا تصور بھی کبھی کسی درندے کے دماغ میں نہیں آسکتا۔ پھر یہ اپنی دشمنی اور انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے کمینہ پن کی اس انتہا کو پہنچتا ہے کہ عورتوں کے ننگے جلوس نکالتا ہے، ایک ایک عورت کو دس دس بیس بیس آدمی اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، باپوں اور بھائیوں اور شوہروں کے سامنے ان کے گھر کی عورتوں کی عصمت لوٹتے ہیں، بچوں کو ان کے ماں باپ کے سامنے قتل کرتے ہیں۔ ماؤں کو اپنے بچوں کا خون پینے پر مجبور کرتے ہیں، انسانوں کو زندہ جلاتے اور زندہ دفن کرتے ہیں۔ دنیا میں وحشی سے وحشی جانوروں کی بھی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس وحشت کا کسی درجہ میں بھی مقابلہ کرسکتی ہو۔(تفہیم القرآن)

ــــ اگر فحاشی اور بے حیائی پر اتر آئے (اربوں ڈالر کی بدکاری کی صنعت صرف امریکہ)، ظلم پر اتر آئے ،اپنے مقام سے گرنے پر اتر آئے تو اس گراوٹ کی مثال دوسرا کوئی حیوان نہیں پیش کرسکتا۔عربی گرائمر کے لحاظ سے دوسرا مفہوم جو خود نیچےگرے  تو ہم اسے نیچے سے نیچے گراتے چلے جاتے ہیں۔(خرم مراد)

6۔ زندگی کی ہر نعمت کے ساتھ یہ مرض لگاہواہے کہ وہْ ختم ہوجاتی ہے ۔جو آدمی اسفل سافلین یا نیچے گرنے کے راستے کی طرف جاتاہے تو وہ اس چیز کے پیچھے جاتاہے جو ختم ہونے والی ہے۔ اس کے مقابلے میں جو آدمی اوپر اٹھتاہے ،وہ درحقیقت اس چیز کو چھوڑتا ہے جو ختم ہونے والی ہے ۔اسے وہ عمر جاوداں (اجر غیرممنون)ملتی ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔(خرم مراد)

7۔اتنے بین اور واضح دلائل و شواہد کے باوجود آخر کس چیز (ما) نے لوگوں کو( آپکی ) نبی اکرمؐ کی اس دعوت کو جھٹلانے پر مجبور کیا ہے؟بعض لوگوں کی رائے میں اس کے مخاطب عام لوگ ہیں ۔ان سے سوال کیا گیا ہے کہ آخر کیا چیز ہے جو تمہیں آخرت اور جزا و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ یا مجبور کرتی ہے؟(خرم مراد)

8۔ حکم کا لفظ عربی زبان میں "ح،ک،م" سے مل کربنا ہے ۔اسی سے حکمت بھی نکلا ہے اور لفظ محکم بھی ۔ سارے داناؤں میں وہ سب سے بڑا دانا ہے۔وہ ایسی نادانی کا کام نہیں کرسکتاکہ احسن تقویم جیسی مخلوق کو بیدار کرے،نیکی و بدی کا شعور اور انتخاب دے اور کوئی جزا و سزا نہ رکھے ۔پھر وہ ذاتِ باری تعالیٰ اختیار سے بھی محروم نہیں (حاکم ہے)چنانچہ وہ حاکم سب سے بڑا  حاکم کیسے ہوسکتاہے جو انصاف نہ کرسکے اور اچھائی اور برائی کرنے والوں کے درمیان فرق نہ کرسکے ۔لہذا انسان کے احسن ِ تقویم پیدا ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ جزاو سز ا کا قانون نافذ ہو۔(خرم مراد)