96 - سورة العلق (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 19

مضمون:خداکی کھولی ہوئی ہدایت کی راہ کو قریش سرکشی اور تکذیب میں مبتلا ہوکر روکنا چاہتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: سورۂ العلق کی ابتدائی پانچ آیات سے رسول اللہ ؐ پر وحی کا آغاز ہوا(بخاری، عن عائشہؓ) یہ غالباً رمضان بمطابق 10 اگست 610ء کا واقعہ ہے ۔اس سورت کی آخری 14آیات دوسرے دور میں اعلانِ عام کے بعد ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئیں جب اس نے آپؐ کو حرم میں نماز سے روکا۔

نظمِ کلام:سورۃ الملک اور سورۃ الاعلیٰ۔۔۔۔(العلق اس سلسلہ کی آخری سورت)


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ ﴿1﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ ﴿2﴾ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ ﴿3﴾ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ ﴿4﴾ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ ﴿5﴾ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ ﴿6﴾ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ ﴿7﴾ اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ ﴿8﴾ اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ ﴿9﴾ عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ ﴿10﴾ اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ ﴿11﴾ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ ﴿12﴾ اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ ﴿13﴾ اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ ﴿14﴾ كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ ﴿15﴾ نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ ﴿16﴾ فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ ﴿17﴾ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ ﴿18﴾ كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ ﴿19ع العلق 96﴾
1. (اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ 2. جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ 3. پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ 4. جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ 5. اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا۔ 6. مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے۔ 7. جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے۔ 8. کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 9. بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ 10. (یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے۔ 11. بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو۔ 12. یا پرہیز گاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)۔ 13. اور دیکھو تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)۔ 14. کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے۔ 15. دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے۔ 16. یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال۔ 17. تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے۔ 18. ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے۔ 19. دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور قربِ (خدا) حاصل کرتے رہنا۔

تفسیر آیات

1۔ اصل ملکی شکل حضرت جبرائیلؑ ۔ایک سونے کی تختی پر پہلی پانچ آیات لکھی ہوئی ۔ محض زبانی نہیں بلکہ لکھی ہوئی چیز پڑھنے کو کہا ۔زبانی پڑھنے میں کیا دشواری؟ حضورؐ کی اپنی زبان میں ۔ماانا بقاری۔تیسرے دفعہ بھینچنے پر پڑھا ۔(بیان القرآن)

ـــــ  جبرائیل نے تین دفعہ آپؐ کو زور سے دبایا اور کہا اپنے رب کے نام کی برکت سے پڑھئیے ۔(تفسیر عثمانی)

ـــــ گھر لوٹے تو سارا واقعہ حضرت خدیجہؓ سے۔زمّلونی،زمّلونی (مجھ پر کپڑا ڈال دو) دہشت دور ہوئی ۔تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپؐ اندیشہ ہرگز نہ کریں بخدا اللہ آپؐ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔صلہ رحمی آپ کا شیوہ ہے، لوگوں کا بوجھ آپؐ برداشت کرتے ہیں ، ناداروں کی امداد کرتے ہیں،مہمان کی خاطر تواضع آپؐ کا شعار ہے ۔۔۔۔۔پھر آپ ؐ کو اپنے ہمراہ ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ (ضیاء القرآن)

ــــ اِقْرَاْ۔صرف اسی مفہوم میں نہیں آتا جس میں ایک استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے پڑھو یہ دوسروں کو بطریق دعوت سنانے کے معنی میں بھی آتاہے ۔فرمایا کہ اس کو خالق دوجہاں کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پیش کرو ۔یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن مجید براہِ راست اللہ کا کلام ہے ۔اس سے پہلے کسی کتاب کو یہ شرف حاصل نہیں کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ الفاظ پر مشتمل ہو اسلئے حضورؐ کو ہدایت ہوئی کہ اس کو اپنے خداوند کے نام سے پیش کرو۔(تدبرقرآن)

۔مطلقا ً " پیدا کیا "  فرمایا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اس سے خودبخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس رب کا نام لے کر پڑھو جو خالق ہے، جس نے ساری کائنات کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

2۔ انسان کی خلق کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی سے مقصود(i) جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ خون کی ایک حقیر پھٹکی کو عاقل و مدرک اور سمیع و بصیر انسان بنا کرکھڑا کردیتی ہے کیا اس کیلئے اس کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہوجائیگا۔(ii)انسان کی تخلیق میں خالق کی جو قدرتیں اور حکمتیں نمایاں ہیں وہ دلیل ہیں کہ یہ عبث اور بے غائت نہیں پیدا کیا گیا بلکہ روزحساب آنا اور جزاوسزا پانا یقینی ہے۔(ii)جس انسان کی پیدائش اتنے حقیر اور ذلیل عنصر سے ہوئی ہے اس کیْلئے زیبا نہیں کہ وہ اپنی پاکی و پاکدامنی یا اپنے حسب و نسب کی حکایت زیادہ بڑھائے اور غرور و استکبار کا مظاہرہ کرے ۔جس خالق نے انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا کیا وہ قادر ہے کہ اُسے دوبارہ پیدا کرے ۔اور اس کا محاسبہ کرے۔ (تدبرقرآن)

۔کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس حقیر حالت سے اس کی تخلیق کی ابتدا کر کے اسے پورا انسان بنایا۔ (تفہیم القرآن)

4۔ قریش اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کی قدر کریں کہ اس نے ان کی ہدایت کیلئے تعلیم بالقلم کا اہتمام فرمایا ۔دوسری آسمانی تعلیمات کے برعکس قرآن کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ اس کا ہر لفظ تو براہ راست نطق ِ الٰہی ہے ،پھر اس کو زبانی روایات پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس کو عین اللہ کے لفظوں میں اس کی ہدایت کے مطابق تحریری طور پر محفوظ کیا گیا ۔ اس اہتمام خاص کی طرف عَلَّمَ بِالْقَلَمِ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ عربوں پر ایک عظیم احسان ہوا۔(تدبرقرآن)

6۔ انہی واقعات پر اس سورۂ کا وہ حصہ نازل ہوا جو كَلَّااِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰى سے شروع ہوتاہے ۔قدرتی طورپر اس حصے کا مقام وہی ہونا چاہئیے تھا جو قرآن کی اس سورۃ میں رکھا گیا ہے کیونکہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد اسلام کا اولین اظہار حضورؐ نے نماز ہی سے کیا تھا اور کفار سے آپ ؐ کی مڈبھیڑ کا آغاز بھی اسی واقعہ سے ہواتھا۔(تفہیم القرآن)

7۔ مغربی تہذیب کی ساری بنیاد دراصل اسی ایک خیال کے اوپر مبنی ہے کہ اُس نے اپنے آپ کو "مستغنی" سمجھا ہے۔ استغنٰی ہی ہدایت سے بے نیازی کا سبب ہے اور پھر مال  اس کے اندر شامل ہے ۔بے حد دولت ۔سائنس و ٹیکنالوجی نہ فضلِ الٰہی ۔اس/ سورت میں دراصل وحی سے بے نیازی ، لاپرواہی اور بغاوت برتنے سے جو خرابی پیدا ہوتی ہے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔اس لئے فرمایا گیا کہ وہ طغیانی اختیار کرتاہے ،حدود سے نکلتاہے،اور حدود سے وہی نکلتاہے جو ہدایت سے بے نیاز ہواور اپنے آپ کو مستغنی سمجھے ۔(خرم مراد)

   8۔ ربک کا خطاب کس سے ہے؟ انسان سے (لوٹنا تو اسے اپنے رب کی ہی طرف ہے)حضورؐ سے (ان سب کو بلآخر تمہارے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے)  مخالفین سے تویہ ایک تادیب  یاڈانٹ ہے۔تمہیں ہدایت کو رد کرکے غافل نہیں ہونا چاہئیے ۔(خرم مراد)

9۔ الَّذِیْ سے ضروری نہیں کہ کوئی ایک معین شخص ہی مراد ہو۔آنحضرت ؐ کو نماز سے روکنے والا صرف ابوجہل ہی نہیں تھا بلکہ دوسرے گنڈے بھی تھے جو صرف حضوؐ ہی کی نمازوں میں مزاحم نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ کےد وسرے بندوں کے ساتھ بھی وہ اسی طرح کی بدتمیزی کرتے تھے۔(تدبرقرآن)

10۔ ابوجہل نے یہ گستاخانہ دعویٰ کیا کہ اگر حضورؐ نے خانہ کعبہ کے سامنے نماز پڑھی تو میں آپؐ کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا ۔اور بھی بہت ساری دھمکیاں دیں ۔یہ اس طرف اشارہ ہے ۔علامہ رازی ،علامہ آلوسی اور بہت سے مفسرین نے اس پر کلام کیا ہے کہ یہ ایک شخص کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو ایسا کرے ۔نماز کا مطلب صرف نماز نہیں بلکہ نماز اور نماز کی دعوت مراد ہے۔(خرم مراد)

12۔ امر کے معنی عربی زبان میں حکم کے بھی ہیں ،تعلیم کے بھی، سکھانے کے بھی اور کوئی بات بتانے کے بھی ۔شاہ عبدالقادر ؒ نے اس کا ترجمہ سکھلانا کرتے ہیں"یا سکھلانا ڈرکے کام"۔(خرم مراد)

13۔ جو آدمی اللہ کے راستے سے روک رہاہے وہ اپنے زعم میں یہ سمجھتاہے کہ میں صحیح ہوں اور مجھے اس بات کا علم ہے کہ کیا صحیح ہے اور میں دراصل اس بات کی تعلیم دے رہاہوں جسے انسان کو اختیار کرنا چاہئیے ۔اگر اس کی یہ روش ہے تو کیا وہ نہیں سمجھتا کہ وہ غلط سمجھ رہاہے۔ اپنے بارے میں اسے غلط زعم ہے اور پھر اس زعم میں وہ حقیقت کو بھی جھٹلاتاہے اور یہ بھول جاتاہے کہ اللہ اُسے دیکھ رہاہے ۔(خرم مراد)

14۔یہ نہایت غضب آلودلہجہ میں سوال ہے کہ یہ اللہ کے رسول کو نماز سے روکتے ہیں۔ اگروہ ہدایت پر ہو اور تقویٰ کی بات بتارہاہو اور یہ سرکش تکذیب اور اعراض کررہے ہوں تب ان کی حرکتوں کا انجام کیا ہوگا؟(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ) ْ

15۔ یہ اس قسم کے سرکشوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید ہے ۔فرمایا گیا کہ اگر یہ ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کو چوٹی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔(تدبر قرآن)

۔یعنی یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد ﷺ نماز پڑھیں گے تو وہ ان کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا، یہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا۔ (تفہیم القرآن)

ــــ  جو اس کو پکڑ کر گھسیٹا جارہاہے یہ بے وجہ نہیں اور کسی کے ذہن میں بھی کہیں یہ خیال نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ جزاوسزا یوں ہی دےگا، کسی کو جنت دے دی ،کسی کو دوزخ میں جھونک دیا ۔(خرم مراد)

17۔ مکہ میں خانہ کعبہ میں ایک دارالندوہ تھا جہاں قریش کے سردار جمع ہوکر اجتماعی معاملات میں مشورے کیا کرتے تھے ۔اسلام کے خلاف مشورے  اور حضورؐ کو قتل کرنے کا آخری فیصلہ بھی یہیں ہوا تھا۔پھرنادیہ مجلس کے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگا،اور ٹولی او ر پارٹی کے معنوں میں بھی۔مطلب یہ کہ اپنے ساتھیوں کو ،اپنی ٹولی کو اور جوبھی ان کی قوت ہے اس کو جمع کرلیں۔جتنے مشورے دینے والے ہیں وہ بھی جمع ہوجائیں۔(خرم مراد)

18۔ زبانیہ کے اصل معنی تو دفاع کرنے والے کے ہیں لیکن یہ پولیس اور پیادوں کیلئے بھی استعمال ہوتاہے۔ اس لئے میں نے اس کا ترجمہ سرہنگوں کیا ہے۔ گویا خلائی ٹاسک فورس کے وہ کرّوبی ہیں جو خاص نوعیت کی وقتی مہمات پر بھیجے جاتے ہیں۔ (تدبرقرآن)

19۔ جب یہ سورۃ نازل ہورہی تھی اُ س وقت پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں اور جماعت کا نظام بھی نہیں تھا ،کوئی مسجد بھی نہیں تھی بلکہ اُس وقت لوگ راتوں کو نمازیں پڑھتے تھے یا دارارقم میں حضورؐ کے پاس جمع ہوکر قرآن پڑھتے تھے یا نمازیں پڑھتے تھے۔شروع میں یہی حکم تھا کہ راتوں کو کھڑے رہو ۔لہذا اس کا ایک مفہوم یہ ہے ۔اور سجدے کے بارے میں بخاری و مسلم کی حدیث ہے " بندہ اپنے رب کے سامنے سب سے زیادہ نزدیک اُس وقت ہوتاہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہو" بشرطیکہ ساری روح ، ساری شخصیت سمٹ کر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے۔ حضورؐ کے ایک غلام ثوبانؓ  نے خواہش کی کہ وہ جنت میں آپؐ کے پاس ہو ۔دیکھئے ان کی تمنائیں اور آرزوئیں ۔آپؐ نے فرمایا "اور کچھ نہیں "اس نے کہا"نہیں"آپؐ نے فرمایا  تو میری مدد کرو سجدوں کی کثرت سے ۔وَ اقْتَرِبْ ۔صحابہؓ کا سجدے سے قرب حاصل کرنا۔۔۔اور احد احد کی صدائیں ۔

              یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے                             ہزار سجدوں سے دیتاہے آدمی کو نجات(خرم مراد)