98 - سورة البينة (مدنیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 8 |
مضمون: قرآن کے خلاف اہل کتاب اور مشرکین کے گٹھ جوڑ پر تبصرہ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
کلیدی مضامین: "البینۃ"سے مراد ،رسول اللہؐ ہیں، جو قرآنی دعوت پیش کررہے ہیں۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
البینہ: سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ابی بن کعب (جونہایت خوش الحان قاری تھے)سےفرمایا کہ:"اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں تمہیں "لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا"کی سورت پڑھ کرسناؤں"ابی بن کعبؓ کہنے لگے:"کیا اللہ تعالیٰ نے میرانام لے کر فرمایا؟"آپؐ نے فرمایا :"ہاں"پھر ابی بن کعبؓ نے کہا:"کیا اللہ تعالیٰ کے سامنے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ،میرا ذکر آیا؟ "آپؐ نے فرمایا "ہاں"یہ سن کر ابی بن کعبؓ کی آنکھوں سے (خوشی کے) آنسو بہنے لگے۔قتادہ کہتے ہیں،پھر آپؐ نے انہیں یہ سورت سنائی (بخاری۔کتاب التفسیر)(تیسیر القرآن)
شانِ نزول: سورۃ البّینہ اُن آخری سورتوں میں سے ہے جو وفات سے پہلے رسول اللہؐ پر نازل ہوئیں ۔اس کے بعد غالباً صرف سورۃ النصر نازل ہوئی اور چند متفرق آیات ۔حضرت ابراہیمؑ کی نسل کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور نبی اسماعیل کے بارے میں جو مقدمات سورۃ البقرہ اور سورۃ الانعام سے شروع ہوئے تھے ان کا حتمی نتیجہ اس سورت میں آگیا ۔
۔قرآنِ مجید کی ترتیب میں اس کو سورۃ علق اور سورۃ قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ سورۃ علق میں پہلی وحی درج کی گئی ہے۔ سورۃ قدر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی۔اوراس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ اس کتابِ پاک کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔ (تفہیم القرآن)
نظمِ کلام:سورۃ الملک
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ ﴿1﴾ رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ ﴿2﴾ فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ ﴿3﴾ وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ ﴿4﴾ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ ﴿5﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ ﴿6﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ ﴿7﴾ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ ۠ ﴿8ع البينة 98﴾ |
| 1. جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی۔ 2. (یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں۔ 3. جن میں (مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔ 4. اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد (ہوئے ہیں)۔ 5. اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ خدا کی عبادت کریں۔ (اور) یکسو ہو ں ۔اورنماز پڑھیں اور زکوٰة دیں اور یہی سچا دین ہے۔ 6. جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہیں۔ 7. (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام خلقت سے بہتر ہیں۔ 8. ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا۔ |
تفسیر آیات
1۔ کفر کی مختلف صورتیں اور مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ کی وضاحت (نیچے دی گئی تفہیم کی وضاحت تدبرسے مختلف)
۔یہاں کفر اپنے وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جن میں کافرانہ رویّہ کی مختلف صورتیں شامل ہیں۔ مثلاً کوئی اس معنی میں کافرتھا کہ سرےسے اللہ ہی کو نہ مانتاتھا ۔کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات یا خداکی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طورپر دوسروں کو شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت کرتا تھا۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتاتھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتاتھا۔کوئی خدا کو مانتاتھا مگر اس کے نبیوں کو نہیں مانتاتھا اور اُس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے۔کوئی کسی نبی کومانتاتھا اور کسی دوسرے نبی کا انکارکرتا تھا۔کوئی آخرت کا منکرتھا ۔غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں لوگ مبتلا تھے۔اور یہ جو فرمایا کہ "اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافرتھے"اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ کفرمیں مبتلا نہ تھے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں مبتلا ہونے والے دوگروہ تھے۔ایک اہل کتاب، دوسرے مشرکین ۔یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے لیے ہے۔جس طرح سورۂ حج آیت 30 میں فرمایا گیا فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں میں جو گندگی ہے اس سے بچو۔اسی طرح الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ کا مطلب بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہل کتاب اور مشرکین میں سے ہیں ،نہ یہ کہ ان دونوں گروہوں میں سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔یعنی ان کے اس حالت کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیل روشن آکر انہیں کفر کی ہی صورت کا غلط اور خلاف حق ہونا سمجھائے اور راہ راست کو واضح اور مدلل طریقے سے ان کے سامنے پیش کردے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دلیل روشن کے آجانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آجانے والے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں تو اس کا اس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی ان میں سے جو لوگ اپنے کفرپر قائم رہیں اس کی ذمہ داری پھر انہی پر ہے۔ )تفہیم القرآن(
ــــ ان دونوں گروہوں میں سب ایک ہی طرح کے نہیں تھے بلکہ ان میں ایسے سنجیدہ افراد بھی تھے جو اسلام لائے اور اگر اسلام نہیں لائے تو کم از کم اس معاملے میں وہ میانہ رو یا غیر جانبدار رہے ۔یہاں "مِنْ" اسی فرق کو ظاہر کرنے کیلئے آیا ہے ( یعنی تبعیض (بعض) کیلئے ہے)- بیّنہ کے معنی کھلی ہوئی نشانی کے ہیں جس سے مراد یہ تھی کہ ان کو کوئی واضح معجزہ دکھا دیا جائے (مثلاً براہِ راست کتاب ان پر اتاردی جائے۔النسا۔(4: 135)میں کہا گیا کہ حضرت ِ موسیٰ سے اس سے بھی بڑے معجزے کا مطالبہ کیا گیا کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ کو دکھاؤ۔ )تدبرقرآن(
ــــ اس سے یہ اصول بھی نکلتاہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی اگر کفر و شرک کی بیماریاں پھیل جاتی ہیں تو ان پر کافر اور مشرک ہونے کا فتویٰ فوراً لگانا صحیح روش نہیں قرآن مجید نے تو عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی علانیہ کافر و مشرک نہیں بلکہ اہل کتاب کہاہے۔(خرم مراد)
2۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو بذات خود ایک دلیل روشن کہا گیا ہے، اس لیے کہ آپ کی نبوت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی آپ کا امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی کتاب پیش کرنا، آپ کی تعلیم اور صحبت کے اثر سے ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں غیر معمولی انقلاب رونما ہوجانا، آپ کا بالکل معقول عقائد، نہایت ستھری عبادات، کمال درجہ کے پاکیزہ اخلاق، اور انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول و احکام کی تعلیم دینا، آپ کے قول اور عمل میں پوری پوری مطابقت کا پایا جانا، اور آپ کا ہر قسم کی مزاحمتوں اور مخالفتوں کے مقابلے میں انتہائی اولو العزمی کے ساتھ اپنی دعوت پر ثابت قدم رہنا، یہ ساری باتیں اس بات کی کھلی علامات تھیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (تفہیم القرآن)
۔ مُطَہَّرَۃٌ کی صفت میں یہ مضمون مضمر ہے کہ یہ اوراق بالکل پاکیزہ اور اچھوتے ہوں ۔ خدا اور فرشتے کے سوا کسی جن و بشر نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔(تدبرقرآن)
ــــ صُحُفاًمُّطَهَّرَةً۔ کے دومطلب ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ جوقرآن وہ پیش کرتاہے ۔وہ ہرطرح کی تحریف ، اضافہ یا ترمیم اور حذف سے پاک ہے۔نیز وہ ہر قسم کی انسانی دستبرد سے پاک ہے۔ جبکہ اہل کتاب کی کتابوں میں تحریف بھی موجود ہے۔انسانوں کے اضافے بھی اور حذف بھی ۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم نہایت پاکیزہ ہے وہ کسی نبی کی سیرت و کردار کو داغدار نہیں بناتا جبکہ اہل کتاب نے بعض انبیاء کی سیرت پر گھناؤنے الزامات لگائے انہیں ان سے پاک کرتاہے۔(تیسیر القرآن)
3۔ مذکورہ شرط کے اوپر ایک مزید شرط یہ بھی کہ ان اوراق میں ادھر ادھر کی باتیں اور حکایتیں نہ ہوں بلکہ سیدھے ،قطعی اور واضح احکام ہوں کہ ان کو سن کر بے تکلف جان لیں کہ ان کا رب ان کو کن باتوں کا حکم دیتاہے اور کن باتوں سے روکتاہے ۔(تدبر قرآن)
ــــ کتب جمع ہے کتاب کی یہ لفظ قرآن میں شریعت کے معنوں میں بھی آیاہے (اور یہاں یہی معنیٰ ہیں) قیمۃ کے معنی سیدھے ،واضح اور قطعی کے ہیں۔یعنی ہمیں قطعی احکام بتائے جائیں ۔ہم غیر متعلق باتیں سننے کے خواہشمند نہیں (جس طرح تورات کے احکام عشرہ ،الواح میں ) (تدبرقرآن)
ــــ کتاب کا لفظ کئی معنوں میں قرآن مجید کیلئے اس سے پہلے تورات ،انجیل اور دیگر الہامی کتابوں کیلئے ،نوشتۂ تقدیر کیلئے، اعمال نامے کیلئے ،اللہ کے احکام کیلئے ،وغیرہ)(خرم مراد)
ــــ اس آیت کے دومطلب ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں ۔ایک یہ کہ قرآن کی ہرسورت ایک مستقل کتاب ہے اور یہ قرآن ایسی ہی 114 مستقل کتابوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی ایک ایک سورت اپنے موضوع و مضمون کے لحاظ سے مکمل ہے۔اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں سابقہ تمام کتب سماویہ کا خلاصہ یا جو باتیں دین کی اصل بنیادرہی ہیں سب ذکر کردی گئی ہیں۔(تیسیر القرآن)
4۔ حضرت شاہ عبدالعزیز نے یہاں البینہ کا مصداق حضرت عیسیٰ کو ٹھہرایا ہے ۔(تفسیر عثمانی)
ــــ یہ مطالبہ چونکہ اہل کتاب کی ایجادات میں سے تھا جو انہوں نے قریش کے لیڈروں کو اس لئے سکھایا تھاکہ وہ اس کو قرآن کے خلاف استعمال کریں۔اس وجہ سے جواب بھی انہی کو سامنے رکھ کر دیا گیا ۔فرمایا کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا بھی دیا جائے جب بھی یہ ماننے والی آسامی نہیں (ان کی تاریخ ۔حضرت عیسیٰ کے لاتعداد معجزے،تورات کے احکام عشرہ الواح پر لکھ کر، شریعت کا عہد ان سے لیتے ہوئے پہاڑ ان کے اوپر چھتری کی طرح ،صحرامیں سایہ اور من و سلویٰ ،اکٹھے بارہ چشمے ،اس کے برعکس ان کی وفاداری ، سامری سے ایک بچھڑا بنوایا (اس کی پوجا اور اس کو معبود ٹھہرایا)،ان کاانتشار) (تدبرقرآن)
ــــ حضرت موسی کے مندرجہ بالا معجزات کے علاوہ یہودیوں میں جب حضرت مسیح آئے تو ان کے معجزات (مردے زندہ کرنا ،مٹی کے پرندے بنا کر اڑانا، کوڑھی چلنےلگے، اندھے دیکھنے لگے، معذور صحت مند ہوگئے ۔استکبار ،کبر اور حسد کی وجہ سے یہودی نہ مانے)(خرم مراد)
5۔ تورات میں قربانی کا ذکر آتاہے لیکن نماز کا ذکر بمنزلہ صفر ہے یہی حال زکوٰۃ کا بھی ہوا ۔رسمی طورپر تو وہ باقی رہی لیکن اس کے اصلی حقدار فقراء و غربا کی جگہ بنی لاوی کے علماء و فقہاء بن گئے۔ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ۔یہ جواب ہے ان کے اس مطالبے کا جو اوپر فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌ کے الفاظ میں نقل ہواہے۔ یہ احکام تو انہیں سیدھے اور فطری دین ،ملت ِ ابراہیم کے احکام کی حیثیت سے دئیے گئے تھے ۔اور یہ قرآن بھی ان کو انہی واضح اور قطعی باتوں کی طرف بلارہاہے ۔پھر یہ انکار کیوں کررہے ہیں (بوجہ ضد،حسد اور کبر)
ــــ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ اصل میں ذٰلِكَ دِیْنُ الْمِلَّۃِ الْقَیِّمَةِ ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ ملت ابراہیم کا تعارف قرآن میں جگہ جگہ ملۃ قیمۃ کی صفت سے کرایا گیا ہے۔(تدبر قرآن)
ــــ جو معجزات طلب کررہے تھے ان کے سامنے اب دین کے بنیادی مطالبات رکھے جارہے ہیں جو بہت صاف ،سیدھے اور مختصر ہیں ۔ان میں کوئی گنجلک ، پیچیدگی اور مشکل نہیں۔ مخلصین ہوں اور حنفاہوں ۔حنفا کے معنی یہ ہیں کہ جوسب سے کٹ کر صرف اللہ کا ہوجائے ۔نماز کا قائم کرنا دراصل قرآن مجید کی ایک اصطلاح ہے۔ یہ محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ نماز انسان کے جسم ، روح، ذہن، زبان، اور اپنی پوری شخصیت کو اللہ کی بندگی میں لاکر حاضر کردینے کا نام اور سپر ڈال دینے کانام ہے۔دراصل نماز اللہ کی بندگی اور اس سے تعلق ماپنے کا ایک عمدہ نمونہ اور پیمانہ ہے ۔یہ اس بات کیلئے تیار کرتی ہے کہ پوری زندگی اللہ کی بندگی میں بسر ہوتی چلی جائے۔ دین القیمۃ کے دومعنیٰ ہیں ۔ اس ملت کا دین جو ملت قیمۃ ہے ۔دوسرے معنی صفت موصوف کے لحاظ سے کہ یہی وہ مضبوط دین ہے۔(خرم مراد)
ــــ دین قیم کے تین اہم ارکان :۔ دین قیم بمعنی ایسا مستحکم اور قائم دین جو حضرت آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزمان تک ایک ہی رہاہے۔اس دین کے اہم اجزاء تین باتیں ہیں۔ایک یہ کہ اللہ اکیلے ہی کو خالق و مالک سمجھا جائے۔اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا شرک نہ کیا جائے ۔اس کے حکم اور قانون کو سب سے بالاتر سمجھا جائے اور اس کے قانون اور حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے حکم یا قانون کی پرواہ نہ کی جائے۔ اکیلے اسی کی عبادت کی جائے اور یکسو ہوکر کی جائے۔دوسری یہ کہ نماز کو ٹھیک طریقے سے باقاعدگی کے ساتھ ہمیشہ اداکیا جائے اور تیسری یہ کہ اپنے اموال میں سے زکوٰۃادا کی جائے۔واضح رہے نماز اور زکوٰۃ کو ٹھیک طورپر اور باقاعدگی کے ساتھ وہی اداکرسکتے ہیں جو عقیدہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ دوسرے نہیں کرسکتے۔منافق لوگ بھی نماز اور زکوٰۃ اداکیا کرتے تھے ۔مگر نمود و نمائش اور دکھلاوے کے لیے اور اپنی طبیعت پر بوجھ سمجھ کر ۔یہی تینوں باتیں اسلام کے تین اہم ابتدائی ارکان ہیں۔ روزہ اور حج بھی سابقہ امتوں پر فر ض تھے مگر اختصار کی وجہ سے اکثر مقامات پر ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ جیسے سورہ بقرہ کی ابتدامیں متقین کی تعریف میں بھی انہی تین اہم ارکان کا ذکر ہے۔روزہ اور حج کا نہیں ہے۔ اور یہی تین باتیں کسی کو ایک اسلامی مملکت میں شہریت کے حقوق عطاکرتی ہیں۔ جیسے سورہ توبہ کی آیت نمبر 11 میں فرمایا:"پھر اگر یہ مشرک شرک سے توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ اداکریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں"نیز رسول اللہؐ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا:"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ اداکریں۔ اگر وہ یہ شرائط تسلیم کرلیں تو ان کی جانیں مجھ سے محفوظ ہوجائیں گی۔ الا یہ کہ وہ اسلام کے کسی حق کےتحت اس حفاظت سے محروم کردیے جائیں ۔رہا ان کے باطن کا معاملہ تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔"(مسلم۔ کتاب الایمان۔باب الامر بقتال الناس)(تیسیر القرآن)
6۔ اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ (الاعراف:7-197) حضورؐ کے زمانے میں جو لوگ حق کا انکار کررہے تھے ان کے انکار کی ایک بڑی وجہ ان کا تکبر تھا ۔ ان کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا کہ ہم تو سردار ہیں ،ہمارے پاس مال و دولت ہے۔(خرم مراد)
ــــ کفر کے درجے:۔ کفر کے سودرجے ہیں اور ہردرجہ ایک دوسرے سے کم و بیش ہوتاہے۔مثلاً اللہ کی ذات کا سرے سے انکار کردینا بھی کفر ہے۔نماز کو عمداً چھوڑدینا بھی۔اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک جیسے تو نہیں ہوسکتے ۔یہود اللہ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں حتیٰ کہ آخرت پر بھی پورا پورا ایمان رکھتے تھے۔مگر ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں اور ہمیں بس چنددن ہی آگ چھوئے گی ۔تو اللہ نے ان کے اس عقیدہ کو بھی کفر سے تعبیر کیا ۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ ان کا کفر مشرکوں کے کفر سے کم تر درجے کا ہے جو سرے سے انسان کی دوبارہ زندگی کے قائل نہ تھے۔ اس آیت میں کفر کی سب قسمیں مراد ہیں۔(تیسیر القرآن)
8۔ اہل جنت سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ۔ ہم پر آپ کی لاتعداد نعمتیں ۔کیا میں تم کو اس سے بھی افضل اور بہتر نعمت دیدوں ،پھر فرمائیں گے کہ میں نے اپنی رضا تمہارے اوپر نازل کردی ۔اب کبھی تم سے ناراض نہ ہونگا۔(معارف القرآن)
ــــ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۔ خشیت اُس خوف کو نہیں کہا جاتا جو کسی دشمن ،درندے یاموذی چیز سے طبعاً ہوتاہے بلکہ خشیت اُس خوف کو کہتے ہیں جو کسی انتہائی عظمت و جلال سے پیدا ہوجس کا مقتضا یہ ہوتاہے کہ وہ ہر کام ہر حال میں اُس کی رضا جوئی کی فکر کرتاہے اور ناراضی کے شبہ سے بچتاہے ۔یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عبدِ کامل اور مقبول بناتی ہے۔(معارف القرآن)
ــــ اس کا ترجمہ عام طورپر یہ کیا جاتاہے کہ جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔دراصل نہر تو نیچے ہی بنی ہوتی ہے لیکن قرآن کا اس سے مطلب ہے کہ باغات کے درمیان نہریں بہہ رہی ہوں گی جس سے ان کی تازگی اور شادابی اور اس کا انتظام باغ کے اندر ہی ہے۔(خرم مراد)
ــــ خوف کسی اندیشے کا نام ہے ،کہ یہ نہ ہوجائے اور وہ نہ ہوجائے ۔خشیت وہ خوف اور ڈر ہے جو کسی کا جلال ،شان، عظمت اور کسی کا مقام و مرتبہ دیکھ کر دل میں پیدا ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے خشیت کا ذکر جہاں بھی کیا ہے وہاں اس کو اپنی صفتِ رحمان سے جوڑا ہے ۔ مثلاً سورۂ ق میں ہے جو بن دیکھے رحمٰن سے ڈرتاتھا اور دل گرویدہ لئے ہوئے آیا ہے (50-33)یہاں جو بات سمجھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنا یہ نہیں ہے کہ اس کے عذاب ، انتقام اور شدید پکڑ سے ڈراجائے بلکہ رحمٰن سے ڈرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نعمتوں کا احساس ہو اور پھر یہ ڈر لگارہے کہ اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو یہ نعمتیں مجھ سے چھن جائیں گی اور وہ مجھ سے ناراض ہوجائے گا اور قیامت کے دن اللہ کی عنایتیں مجھ پر نہیں ہونگی۔(خرم مراد)