99 - سورة الزلزلة (مدنیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 8 |
مضمون: قیامت کے روز حقیر سے حقیر نیکی اور چھوٹی سے چھوٹی برائی تک کا محاسبہ ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: یہ سورت حضور کے قیام مکہ کے پہلے دور(0تا3نبوی) میں نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی۔اور آپؐ پر اعلیٰ ادبی اسلوب میں مختصر ، محکم اور جامع سورتیں نازل کی جارہی تھیں۔
نظمِ کلام:سورۂ الملک ۔۔۔۔۔اگلی پانچ سورتوں (العصر تک) میں مناظر قیامت اور احوال آخرت کے مختلف پہلو بیان کئے گئے ہیں۔
حضرت انسؓ اور ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے سورۃ الزلزال کو نصف القرآن ، سورۂ اخلاص کو ثلث القرآن اور سورۂ کافرون کو ربع قرآن فرمایا (ترمذی )) معارف القرآن(
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ ﴿1﴾ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ ﴿2﴾ وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ ﴿3﴾ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ ﴿4﴾ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ ﴿5﴾ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ ﴿6﴾ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ ﴿7﴾ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ ﴿8ع الزلزلة 99﴾ |
| 1. جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی۔ 2. اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی۔ 3. اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے؟ 4. اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی۔ 5. کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)۔ 6. اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔ 7. تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ 8. اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ |
تفسیر آیات
1۔ بعض مفسرین نے اس زلزے سے مراد وہ پہلا زلزلہ لیا ہے جس سے قیامت کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا یعنی جب ساری مخلوق ہلاک ہوجائے گی اور دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہوجائیگا۔ لیکن مفسرین کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جس سے قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔یعنی جب تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ زندہ ہوکر اٹھیں گے ۔یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے ۔(تفہیم القرآن)
ــــ زلزال آیا تو ہے فعل زلزلت کی تاکید کیلئے ۔ورنہ آیت کا صحیح زور سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس طرح جس طرح زمین کو ہلانےکا حق ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ زلزلے سے مراد صرف ایک دفعہ ہل جانے کے نہیں بلکہ کسی چیز میں حرکت اور اضطراب کا پایا جانا ہے ،یعنی کسی چیز کو پکڑ کر باربار ہلایا جائے۔عام طورپر اگر زمین کے ایک حصہ میں زلزلہ آجائے تو زبردست تباہی مچ جاتی ہے ۔یہاں منظریوں کھینچا جارہاہے کہ پوری زمین بری طرح ہل رہی ہے اور ڈول رہی ہے (اور زلزلوں پر زلزلے) اور پورا نظام درہم برہم ہورہاہے۔اس لئے اس نظام کا تباہ ہونا ضروری ہے جوکہ طبعی قوانین پر قائم ہے اور ایسے نظام کا قائم ہونا نازگزیرہے جوکہ اخلاقی قوانین پر قائم ہو۔ مثلاً اعمال کا تولا جانا اور میزان۔(خرم مراد)
2۔ ثقل کے معنی بار اور بوجھ کے ہیں ۔یہاں اس کا اول مصداق تو مردے ہیں جو زمین میں دفن ہیں اور قیامت کے دن زمین ان کو نکال باہر کرے گی لیکن لفظ عام ہے ۔اس وجہ سے اس سے وہ خزانے اور دفینے بھی مراد ہوسکتے ہیں اور ان جرائم کی یادگاریں بھی جن کا مجرموں نے ارتکاب کیا اور زمین میں ان کو چھپایا۔(تدبرقرآن)
3۔ انسان پر جو خوف ،دہشت ،بے چینی اور بدحواسی طاری ہے ۔اس سارےمنظر کو ایک جملے میں بیان کردیا ۔اور انسان کہے گا کہ یہ اس کو کیا ہورہاہے ۔ (خرم مراد)
4۔ اس آیت کے مصداق سورۂ تکویر کی یہ آیت ہے : وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (81-10) "جب اعمال نامے کھولے جائیں گے" نشر کا ترجمہ یہ کیا جاتاہے کہ پھیلا دیا جائیگا۔ لیکن نشر کے معنی براڈ کاسٹ کے بھی ہوتے ہیں ۔سب کے سامنے نشر ہوں گے یا ان کی فلم چلے گی۔(خرم مراد)
5۔لفظ"وحی" یہاں ایما اور اشارہ کے مفہوم میں ہے۔ (تدبر قرآن)
6۔ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا ۔خاندان ،جتھے ، پارٹیاں ، قومیں، سب بکھر جائیں گے۔(تفہیم القرآن)
ــــ اَشْتَاتٌ کے معنی متفرق ،اکیلے اکیلے ،تنہا تنہا کے ہیں ، یعنی اس دن لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ اس کے اہلِ خاندان ہوں گے ،نہ اعزہ و اقربا، نہ اس کا جتھا ہوگا، نہ خدم و حشم، نہ املاک و جائیداد ، نہ اعوان و انصار، اور نہ مزعومہ شرکاء و شفعاء بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کی جواب دہی کیلئے تنہا حاضر ہوگا۔ ۔۔۔ـــ دوسرے مقامات میں یہی مضمون(مریم-95:19)،الانعام(4-94)۔۔۔۔ لِیُرَوْا اَعْمَالَهُمْ یہ غایت بیان ہوئی ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ حدیث میں آتاہے کہ جب مردہ قبرکی طرف جاتاہے تو اس کا مال بھی ساتھ جاتاہے اور اس کے احباب اور رشتہ دار بھی ،اعمال بھی ،باقی سب واپس، صرف اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں ۔ (خرم مراد)
7-8۔ چیونٹی کے انڈے سے جو بچہ نکلتاہے اُسے عربی میں ذرہ کہتے ہیں ۔(بیان القرآن)
7۔ اس ارشاد کا مطلب تو یہ ہے کہ آدمی کی ذرّہ برابرنیکی یا بدی بھی ایسی نہیں ہوگی جو اس کے نامۂ اعمال میں درج ہونے سے رہ گئی ہو۔لیکن جزاو سزا کا مفصل قانون حسب ذیل ہے(i)کافرو مشرک اور منافق کے اعمال (یعنی وہ اعمال جن کو نیکی سمجھا جاتاہے )ضائع کردئیے گئے (ii)بدی کی سزا اتنی ہی دی جائے گی جتنی بدی ہے مگر نیکیوں کی جزا اصل فعل سے زیادہ دی جائے گی۔(iii)مومن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کریں گے تو ان کے چھوٹے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔(iv) مومن صالح سے ہلکا حساب لیا جائے گا، اس کی برائیوں سے درگزر اور اس کے بہترین اعمال کے لحاظ سے اجر دیا جائے گا۔(تفہیم القرآن424-426)
7-8۔ یہ لیرواعمالھم کے اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ہرچھوٹی بڑی نیکی یا بدی اس کے سامنے آئے گی تو ضرور لیکن اس قاعدے کے مطابق آئیگی جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان فرمایا ہے ۔فلاں فلاں نیکیوں کو بدیوں کا کفارہ بنادیا ہے ۔اس کے وہ نیک کام اس کے فلاں برے اعمال و عقائد کے سبب سے حبط ہوگئے۔ سورۂ قارعۃ(101-6تا9) میں جو ضابطہ مقرر ہواہے۔جن کے پلڑے بھاری ہوں گے ،جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ (تدبرقرآن)
ــــ یہ آیت دراصل اس سورہ کا خلاصہ ہے بلکہ ایک مفسر کے الفاظ میں یہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے۔وہاں سونے چاندی کو اٹھا کر پھینک دیا جائے گا کہ ان کو کوئی وزن نہ ہوگا لیکن سچائی ، نیکی ، سخاوت کو قبول کیا جائے گا ۔سید قطب شہید فرماتے ہیں کہ یہ ترازو دنیا کے اندر تو نہیں پایا جاتا لیکن ایک جگہ ضرور پایا جاتاہے اور وہ جگہ ہے مومن کا دل۔مومن کےدل میں یہ ترازولٹکا ہوتاہے ادھر اللہ کو ناراض کرنے والی ذرا سی کوئی بات ہوئی اُدھر ترازومیں ارتعاش پیدا ہوجاتاہے ۔فوراً پتہ چل جاتاہے کہ کوئی غلط کام سرزد ہوگیا ہے ۔اللہ کو خوش کرنے والا کوئی کام ہو تو دل کے ترازومیں ایک خوشگوار احساس نمودار ہوجاتاہے۔(خرم مراد)